Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 53

سورة النحل

وَ مَا بِکُمۡ مِّنۡ نِّعۡمَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ثُمَّ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فَاِلَیۡہِ تَجۡئَرُوۡنَ ﴿ۚ۵۳﴾

And whatever you have of favor - it is from Allah . Then when adversity touches you, to Him you cry for help.

تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں سب اسی کی دی ہوئی ہیں ، اب بھی جب تمہیں کوئی مصیبت پیش آجائے تو اسی کی طرف نالہ اور فریاد کرتے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمَا بِكُم مِّن نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّهِ ... And whatever of blessings and good things you have, it is from Allah. Allah tells us that He is the One Who has the power to benefit and harm, and that the provisions, blessings, good health and help, His servants enjoy are from His bounty and graciousness towards them. ... ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْأَرُونَ Then, when harm touches you, to Him you cry aloud for help. meaning because you know that none has the power to remove that harm except for Him, so when you are harmed, you turn to ask Him for help and beg Him for aid. As Allah says: وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّـكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الاِنْسَـنُ كَفُورًا And when harm touches you at sea, those that you call upon vanish, except for Him. But when He brings you safe to land, you turn away. And man is ever ungrateful. (17:67) Here, Allah tells us: ثُمَّ إِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنكُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِّنكُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

53۔ 1 جب سب نعمتوں کا دینے والا صرف ایک اللہ ہے تو پھر عبادت کسی اور کی کیوں ؟ 53۔ 2 اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ایک ہونے کا عقیدہ قلب وجدان کی گہرائیوں میں راسخ ہے جو اس وقت ابھر کر سامنے آجاتا ہے جب ہر طرف سے مایوسی کے بادل گہرے ہوجاتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥١] صرف اللہ تعالیٰ کے حاجت روا اور مشکل کشا ہونے کی یہ صریح شہادت تمہارے اپنے اندر موجود ہے۔ سخت مصیبت کے وقت جب ہر قسم کے سہارے ٹوٹتے نظر آتے ہیں اور تھوڑی دیر کے لیے تمہاری اصل فطرت ابھر آتی ہے تو تم خالصتاً اللہ ہی کو پکارتے اور اسی کے سامنے فریاد کرنے لگتے ہو۔ کیونکہ انسان کی اصل فطرت اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کو مالک ذی اختیار نہیں جانتی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْهِ تَجْــــَٔــرُوْنَ ۔۔ :” نِّعْمَةٍ “ (نعمت) نکرہ ہونے کی وجہ سے عام تھی، ” مِّنْ “ کے ساتھ عموم کی مزید تاکید ہوگئی کہ جو بھی نعمت تمہارے پاس ہے، یعنی تمہارا وجود، صحت، عافیت، مال، غرض چھوٹی یا بڑی جو بھی نعمت ہے، وہ سب اللہ کی عطا کردہ ہے۔ ” تَجْــــَٔــرُوْنَ “ ” جَأَرَ یَجْأَرُ جُؤَارًا “ (ف) مدد طلب کرنے کے لیے اونچی آواز نکالنا، گڑ گڑانا۔ اصل میں یہ لفظ جنگلی جانوروں کے چیخنے چلانے کے لیے آتا ہے، جیسا کہ گائے کی آواز کے لیے ” خُوَارٌ“ ، بکری کے لیے ” ثُغَاءٌ“ اونٹ کے لیے ” رُغَاءٌ“ اور بھیڑیے اور کتے کے لیے ” عُوَاءٌ“ آتا ہے۔ ” فَتَمَتَّعُوْا “ سو تم فائدہ اٹھا لو، یہ امر ڈانٹنے کے لیے ہے۔ ان آیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة یونس (٢١ تا ٢٣) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْهِ تَجْــــَٔــرُوْنَ 53؀ۚ نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م ) النعمۃ اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی حالت کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے : ۔ جلسۃ ورکبۃ وغیرہ ذالک ۔ اور نعمۃ کے معنی تنعم یعنی آرام و آسائش کے ہیں اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو مرۃ ہے جو مرۃ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے : ۔ ضر بۃ وشتمۃ اور نعمۃ کا لفظ اسم جنس ہے جو قلیل وکثیر کیلئے استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو ۔ مسس المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى. نحو قوله : وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] ، ( م س س ) المس کے معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہیں لیکن گاہے لمس کیس چیز کی تلاش کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل جل بھی جائے ۔ اور مس کا لفظ ہر اس تکلیف کے لئے بول دیا جاتا ہے جو انسان تو پہنچے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] اور کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ۔۔ چھوہی نہیں سکے گی ضر الضُّرُّ : سوءُ الحال، إمّا في نفسه لقلّة العلم والفضل والعفّة، وإمّا في بدنه لعدم جارحة ونقص، وإمّا في حالة ظاهرة من قلّة مال وجاه، وقوله : فَكَشَفْنا ما بِهِ مِنْ ضُرٍّ [ الأنبیاء/ 84] ، فهو محتمل لثلاثتها، ( ض ر ر) الضر کے معنی بدحالی کے ہیں خواہ اس کا تعلق انسان کے نفس سے ہو جیسے علم وفضل اور عفت کی کمی اور خواہ بدن سے ہو جیسے کسی عضو کا ناقص ہونا یا قلت مال وجاہ کے سبب ظاہری حالت کا برا ہونا ۔ اور آیت کریمہ : فَكَشَفْنا ما بِهِ مِنْ ضُرٍّ [ الأنبیاء/ 84] اور جوان کو تکلیف تھی وہ دورکردی ۔ میں لفظ ضر سے تینوں معنی مراد ہوسکتے ہیں جأر قال تعالی: فَإِلَيْهِ تَجْئَرُونَ [ النحل/ 53] ، وقال تعالی: إِذا هُمْ يَجْأَرُونَ [ المؤمنون/ 64] ، لا تَجْأَرُوا الْيَوْمَ [ المؤمنون/ 65] ، جَأَرَ : إذا أفرط في الدعاء والتضرّع تشبيها بجؤار الوحشیات، کا لظباء ونحوها . ( ج ء ر ) الجئر ا ( ف ) کے اصل معنی وحشیات جیسے ہرن وغیرہ کے گھبراہٹ کے وقت زور سے آواز نکالنے اور چیخنے کے ہیں پھر تشبیہ کے طور پر وعا اور تضرع میں افراط اور مبالغہ کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ فَإِلَيْهِ تَجْئَرُونَ [ النحل/ 53] تو اسی کے سامنے آہ وگریہ کرتے ہو ۔ إِذا هُمْ يَجْأَرُونَ [ المؤمنون/ 64] تو اس وقت چلائیں گے ۔ لا تَجْأَرُوا الْيَوْمَ [ المؤمنون/ 65] آج مت چلاؤ ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٣) اور تمہارے پاس جو کچھ نعمت ہے وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے، ان بتوں کی طرف سے نہیں، پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ سے فریاد اور اس کے سامنے آہ وزاری کرتے ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٣ (وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْهِ تَجْــــَٔــرُوْنَ ) تکلیف کی کیفیت میں تم اللہ کو ہی یاد کرتے ہو اسی کی جناب میں گڑ گڑاتے آہ وزاری کرتے اور دعائیں مانگتے ہو۔ اس حالت میں تمہیں کوئی دوسرا معبود یاد نہیں آتا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

46. That is, the fact, that you run to Allah for help in your distress and not to anyone else, is a clear proof of the Oneness of Allah, which has been embedded in your own hearts. At the time of your affliction, your true nature, which had been suppressed by the gods you had forged, involuntarily comes to the surface and invokes Allah, for it knows no other god or lord or master, having any real power. (For further details please refer to (E.Ns 29 and 41 of Surah Al-Anaam).

سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :46 یعنی یہ توحید کی ایک صریح شہادت تمہارے اپنے نفس میں موجود ہے ۔ سخت مصیبت کے وقت جب تمام من گھڑت تصورات کا زنگ ہٹ جاتا ہے تو تھوڑی دیر کے لیے تمہاری اصل فطرت ابھر آتی ہے جو اللہ کے سوا کسی الٰہ ، کسی رب ، اور کسی مالک ذی اختیار کو نہیں جانتی ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ انعام حواشی نمبر ۲۹ و نمبر ٤۱ ۔ یونس ، حاشیہ نمبر ۳۱ ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:53) وما بکم من نعمۃ اور جو کچھ تمہارے پاس ہے نعمتوں میں سے۔ یعنی تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں۔ تجئرون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ جأر یجئر (فتح) جؤار۔ الجؤار کے اصلی معنی جنگلی جانوروں کے چلاّنے کے ہیں۔ بلند آواز سے مدد کے لئے پکارنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جأر (ج ء ر) مادہ۔ تجئرون تم گڑ گڑا کر چیخ چیخ کر مدد کے لئے اس کو پکارتے ہو۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے لا تجئروا الیوم انکم منا لا تنصرون (23:45) آج چلا چلا کر مدد کے لئے مت پکارو۔ ہماری طرف سے تمہاری مطلق مدد نہ ہوگی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

01۔ یعنی جیسا ڈرنے کے قابل سواخدا کے کوئی نہیں ایسا ہی نعمت دینے والا اور امید کے قابل بھی بجز خدا کے کوئی نہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَ مَا بِکُمْ مِّنْ نِّعْمَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ) (اور جو کچھ نعمتیں تمہارے پاس ہیں سب اللہ کی طرف سے ہیں) (ثُمَّ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فَاِلَیْہِ تَجْءَرُوْنَ ) (پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو اسی کی طرف متوجہ ہو کر گڑگڑاتے ہو اور فریاد کرتے ہو) جب ساری نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں اور دکھ تکلیف بھی اس کے سوا کوئی دور کرنے والا نہیں تو شرک کیوں کرتے ہو ؟ اس کے علاوہ دوسروں کی پوجا کرکے ہلاکت میں مبتلا نہ ہوں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

38:۔ یہ امتنان ہے بطور زجر۔ چاہئے تو یہ تھا کہ تمہاری امیدیں اور تمہارا خوف اللہ تعالیٰ ہی سے وابستہ ہوتا۔ کیونکہ دلائل سے ثابت ہوگیا کہ سب کچھ کرنیوالا اور سب کچھ دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے تم غور کرو تمہارے پاس جس قدر بھی نعمتیں ہیں وہ سب کی سب اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہیں اور جب تم پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہو۔ ” ” ثُمَّ اِذَا كشَف الخ “ پھر جب وہ اپنی مہربانی سے تمہاری مشکلات آسان اور اور تمہاری تکالیف دور فرما دیتا ہے تو تم میں سے بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے لگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کو غیر اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔ اگر اللہ نے فرزند عطا فرمادیا تو لگے کہنے فلاں بزرگ کی نذر مانی تھی اس لیے بیٹا ہوا یا فلاں بزرگ کے مزار سے مٹی لا کر مریض کو پلائی تھی تو وہ چنگا بھلا ہوگیا وغیرہ۔ والفریق ھنا ھم المشرکون المعتقدون حالۃ الرجاء ان الھتم تنفع و تضر و تشفی (بحر ج 5 ص 502) سید محمود آلوسی حنفی فرماتے ہیں کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ آجکل اپنی حاجتوں اور مصیبتوں میں غیر اللہ کی پناہ ڈھونڈتے ہیں ان کی گمراہی تو پہلے گمراہوں سے بھی بد تر ہے۔ وفی الایۃ ما یدل علی ان صنیع اکثر العوام الیوم من الجوار الی غیرہ تعالیٰ ممن لا یملک لہم بل ولا لنفسہ نفعاً ولا ضرا عند اصابۃ الضر لہم واعراضھم عن دعائہ تعالیٰ عند ذلک بالکلیۃ سفہ عظیم و ضلال جدید لکنہ اشد من الضلال القدیم (روح ج 14 ص 166) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

53 ۔ اور تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے اور جو نعمت بھی تم کو میسر ہے سو وہ اللہ تعالیٰ کی ہی طرف سے ہے پھر جب تم کو ذرا سی کوئی تکلیف اور سختی مس کرتی ہے اور پہنچتی ہے تو تم اسی کے آگے روتے اور گڑ گڑاتے ہو اور تم اسی سے فریاد کرتے ہو۔