Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 54

سورة النحل

ثُمَّ اِذَا کَشَفَ الضُّرَّ عَنۡکُمۡ اِذَا فَرِیۡقٌ مِّنۡکُمۡ بِرَبِّہِمۡ یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۙ۵۴﴾

Then when He removes the adversity from you, at once a party of you associates others with their Lord

اور جہاں اس نے وہ مصیبت تم سے دفع کر دی تم میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگ جاتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُوْنَ 54؀ۙ كشف كَشَفْتُ الثّوب عن الوجه وغیره، ويقال : كَشَفَ غمّه . قال تعالی: وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلا کاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ [ الأنعام/ 17] ( ک ش ف ) الکشف كَشَفْتُ الثّوب عن الوجه وغیره، کا مصدر ہے جس کے معنی چہرہ وغیرہ سے پر دہ اٹھا نا کے ہیں ۔ اور مجازا غم وانداز ہ کے دور کرنے پر بھی بولا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلا کاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ [ الأنعام/ 17] اور خدا تم کو سختی پہچائے تو اس کے سوا کوئی دور کرنے والا نہیں ہے ۔ فریق والفَرِيقُ : الجماعة المتفرّقة عن آخرین، قال : وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقاً يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتابِ [ آل عمران/ 78] ( ف ر ق ) الفریق اور فریق اس جماعت کو کہتے ہیں جو دوسروں سے الگ ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقاً يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتابِ [ آل عمران/ 78] اور اہل کتاب میں بعض ایسے ہیں کہ کتاب تو راہ کو زبان مروڑ مروڑ کر پڑھتے ہیں ۔ شرك وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان : أحدهما : الشِّرْكُ العظیم، وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ، والثاني : الشِّرْكُ الصّغير، وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] ، ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ دین میں شریک دو قسم پر ہے ۔ شرک عظیم یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا اور اشراک فلان باللہ کے معنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے ہیں اور یہ سب سے بڑا کفر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے ۔ دوم شرک صغیر کو کسی کام میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی جوش کرنے کی کوشش کرنا اسی کا دوسرا نام ریا اور نفاق ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] تو اس ( بچے ) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں ۔ خدا کا ( رتبہ ) اس سے بلند ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٤) پھر جب اللہ تعالیٰ تکلیف کو دور کردیتے ہیں تو تم میں سے ایک جماعت اپنے رب کے ساتھ بتوں کو شریک کرنا شروع کردیتی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

47. That is, at the time of showing gratitude to Allah for removing his affliction, he begins to make offerings also to some god, goddess or saint to show that Allah’s kindness to him was due to the intercession of his patron, for he imagines that otherwise Allah would not have removed his distress.

سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :47 یعنی اللہ کے شکریہ کے ساتھ ساتھ کسی بزرگ یا کسی دیوی یا دیوتا کے شکریے کی بھی نیازیں اور نذریں چڑھانی شروع کر دیتا ہے ۔ اور اپنی بات بات سے یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کے نزدیک اللہ کی اس مہربانی میں ان حضرات کی مہربانی کا بھی دخل تھا ، بلکہ اللہ ہرگز مہربانی نہ کرتا اگر وہ حضرات مہربان ہو کر اللہ کو مہربانی پر آمادہ نہ کرتے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:54) کشف۔ ماضی (بمعنی حال) واحد مذکر غائب (باب ضرب) وہ دور کردیتا ہے وہ ہٹا دیتا ہے، زائل کردیتا ہے۔ الکشف مصدر جس کے معنی ہیں چہرہ وغیرہ سے پردہ اٹھانا مجازاً غم و اندوہ یا تکلیف کے دور کرنے پر بھی بولا جاتا ہے۔ اذا۔۔ اذا کشف میں شرطیہ ہے بمعنی جب اور اذا فریق میں اذا فجائیہ ہے۔ یعنی اچانک۔ یکایک۔ فورًا۔ یک لخت۔ تو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 بعض اپنے مالک کا شکر بجالانے کے ساتھ ساتھ کسی دیوی دیوتا یا کسی بزرگ کے شکر یہ کی بھی نیازیں اور نذریں چڑھانا شروع کردیتے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ ایک جماعت اس لیے کہا گیا کہ بعض اس حالت کو یاد رکھ کر توحید و ایمان پر قائم ہوجاتے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(ثُمَّ اِذَا کَشَفَ الضُّرَّ عَنْکُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْکُمْ بِرَبِّھِمْ یُشْرِکُوْنَ ) (پھر جب اللہ تعالیٰ مصیبت کو دور فرما دیتا ہے تو تمہیں میں سے ایک جماعت کا یہ حال ہے کہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں) اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں جس میں یہ بھی ہے کہ اس کی عطا فرمودہ نعمتوں کو گناہوں میں استعمال کرتے ہیں شرک کے کاموں میں خرچ کرتے ہیں۔ بتوں پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں اور بتوں کے لیے حصے مقرر کرتے ہیں جس کی کچھ تفسیر سورة انعام میں گزر چکی ہے، ظاہر ہے کہ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اپنی ذات کو عذاب میں دھکیلنے کا کام کرتے ہیں،

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

54 ۔ پھر جب وہ اللہ تعالیٰ اس سختی کو تم سے ہٹا لیتا ہے اور کھول دیتا ہے تب ہی تم میں کی ایک جماعت اور ایک بڑا فریق اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔