Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 58

سورة النحل

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمۡ بِالۡاُنۡثٰی ظَلَّ وَجۡہُہٗ مُسۡوَدًّا وَّ ہُوَ کَظِیۡمٌ ﴿ۚ۵۸﴾

And when one of them is informed of [the birth of] a female, his face becomes dark, and he suppresses grief.

ان میں سے جب کسی کو لڑکی ہونے کی خبر دی جائے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالاُنثَى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا ... And when the news of (the birth of) a female (child) is brought to any of them, his face becomes dark, meaning with distress and grief. ... وَهُوَ كَظِيمٌ and he is filled with inner grief! meaning he is silent because of the intensity of the grief he feels.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ ۔۔ : بشارت اچھی خبر جس سے بشرے پر خوشی کے آثار ظاہر ہوں، یہاں بطور استہزا ہے، جیسا کہ فرمایا : ( فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ) [ آل عمران : ٢١ ] ” سو انھیں ایک دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دے۔ “ ” ظَلَّ کَذَا “ وہ سارا دن اس طرح رہا۔ یہ ” صَارَ “ کے معنی میں بھی آتا ہے کہ وہ اس طرح ہوگیا۔ ” كَظِيْمٌ“ کا معنی ” کَتْمٌ“ (چھپانا) ہے، جیسا کہ فرمایا : ( وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ ) [ آل عمران : ١٣٤ ] ” اور غصے کو پی جانے والے۔ “ یہ ” کَظَمَ الْقِرْبَۃَ “ سے لیا گیا ہے۔ جب مشکیزہ پانی سے بھر جائے، پھر اس کا منہ باندھ دیں تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی پھٹ جائے گا، مراد غم سے بھرا ہوا ہے، یعنی لڑکی کی پیدائش کی خبر سن کر سارا دن غم کی وجہ سے اس کا منہ کالا رہتا ہے، مگر وہ غم سے بھرا ہونے کے باوجود اظہار نہیں کرتا۔ اپنے خیال میں اب وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا، اس لیے اس خوش خبری کو وہ اتنا برا سمجھتا ہے کہ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اور اسے سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کرے، آیا اسے اپنے پاس رکھے اور جاہل معاشرے کی نظر میں ذلیل ہو کر رہنا برداشت کرے یا اسے مٹی میں چھپا دے، یعنی زندہ دفن کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے خصوصاً متوجہ کرنے کے لیے فرمایا ” اَلَا “ سن لو، خبردار ہوجاؤ، یہ دونوں فیصلے ہی بہت برے ہیں۔ لڑکی کو حقیر اور ذلیل کر کے رکھنا بھی اور اسے زندہ درگور کرنا بھی۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد دینے یا نہ دینے کے متعلق چار قسمیں بنائیں، سب سے پہلے لڑکیوں کو اپنا ہبہ اور عطیہ قرار دیا، فرمایا : ( يَهَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ اِنَاثًا وَّيَهَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ الذُّكُوْرَ 49؀ۙ اَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّاِنَاثًا ۚ وَيَجْعَلُ مَنْ يَّشَاۗءُ عَــقِـيْمًا ۭ اِنَّهٗ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ ) [ الشورٰی : ٤٩، ٥٠ ] ” وہ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے، یا انھیں ملا کر بیٹے اور بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے، یقیناً وہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ “ اسلام میں بیٹیوں کی پرورش کا اجر بہت بیان کیا گیا، تفصیل کے لیے دیکھیے سورة شوریٰ کی آیت (٥٠) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary In these verses, two peculiar traits of the disbelievers of Arabia have been censured. To begin with, they would take the birth of a baby girl to be so bad that they would go about hiding from people to avoid being dis¬graced before them. This predicament would then throw them into a fix as to what they should do about it. Should they swallow their pride, em-brace the disgrace of becoming the father of a baby girl and resign to the disaster with patience, or just ditch it alive into the dust and get rid of it? Then, on top of it, they had turned so irrational that the child they did not like to have as their own, that they would be audacious enough to attribute to Allah Almighty by declaring that the angels were His daughters!

خلاصہ تفسیر : اور جب ان میں کسی کو بیٹی (پیدا ہونے) کی خبر دی جائے (جس کو اللہ کے لئے تجویز کرتے ہیں) تو (اس قدر ناراض ہو کہ) سارے دن اس کا چہرہ بےرونق رہے اور وہ دل ہی دل میں گھٹتا رہے (اور) جس چیز کی اس کو خبر دی گئی ہے (یعنی تولد دختر) اس کی عار سے لوگوں سے چھپا چھپا پھرے (اور دل میں اتار چڑھاؤ کرے کہ) آیا اس (مولود و جدید) کو ذلت (کی حالت) پر لئے رہے یا اس کو (زندہ یا مار کر) مٹی میں گاڑ دے خوب سن لو ان کی یہ تجویز بہت بری ہے (کہ اول تو خدا کے لئے ثابت کرنا یہی کس قدر بری بات ہے پھر اولاد بھی وہ جس کو خود اس قدر ذلیل وموجب عار سمجھیں پس) جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کی بری حالت ہے (دنیا میں بھی کہ ایسے جہل میں مبتلا ہیں اور آخرت میں بھی کہ مبتلائے عقوبت وذلت ہوں گے) اور اللہ تعالیٰ کے لئے تو بڑے اعلیٰ درجہ کے صفات ثابت ہیں (نہ وہ جو کہ یہ مشرکین بکتے ہیں) اور وہ بڑے زبردست ہیں (اگر ان کو دنیا میں شرک کی سزا دینا چاہیں تو کچھ مشکل نہیں لیکن ساتھ ہی) بڑی حکمت والے (بھی ہیں بمقتضائے حکمت بعد موت تک سزا کو مؤ خر فرما دیا ہے۔ ) معارف و مسائل : ان آیتوں میں کفار عرب کی دو خصلتوں پر مذمت کی گئی ہے کہ اول تو وہ اپنے گھر میں لڑکی پیدا ہونے کو اتنا برا سمجھتے ہیں کہ شرمندگی کے سبب لوگوں سے چھپتے پھریں اور اس سوچ میں پڑجائیں کہ لڑکی پیدا ہونے سے جو میری ذلت ہوچکی ہے اس پر صبر کروں یا اس کو زندہ درگور کر کے پیچھا چھڑاؤں اور اس پر مزید جہالت یہ ہے کہ جس اولاد کو اپنے لئے پسند نہ کریں اللہ جل شانہ کی طرف اسی کو منسوب کریں کہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیں

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّهُوَ كَظِيْمٌ 58؀ۚ بشر واستبشر : إذا وجد ما يبشّره من الفرح، قال تعالی: وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] ، وقال تعالی: وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] . ويقال للخبر السارّ : البِشارة والبُشْرَى، قال تعالی: هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ، وقال تعالی: لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] ، وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] ، يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] ، وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرى [ الأنفال/ 10] . ( ب ش ر ) البشر التبشیر کے معنی ہیں اس قسم کی خبر سنانا جسے سن کر چہرہ شدت فرحت سے نمٹما اٹھے ۔ مگر ان کے معافی میں قدر سے فرق پایا جاتا ہے ۔ تبیشتر میں کثرت کے معنی ملحوظ ہوتے ہیں ۔ اور بشرتہ ( مجرد ) عام ہے جو اچھی وبری دونوں قسم کی خبر پر بولا جاتا ہے ۔ اور البشرتہ احمدتہ کی طرح لازم ومتعدی آتا ہے جیسے : بشرتہ فابشر ( یعنی وہ خوش ہوا : اور آیت کریمہ : { إِنَّ اللهَ يُبَشِّرُكِ } ( سورة آل عمران 45) کہ خدا تم کو اپنی طرف سے بشارت دیتا ہے میں ایک قرآت نیز فرمایا : لا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ عَلِيمٍ قالَ : أَبَشَّرْتُمُونِي عَلى أَنْ مَسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ قالُوا : بَشَّرْناكَ بِالْحَقِّ [ الحجر/ 53- 54] مہمانوں نے کہا ڈریے نہیں ہم آپ کو ایک دانشمند بیٹے کی خوشخبری دیتے ہیں وہ بولے کہ جب بڑھاپے نے آپکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے اب کا ہے کی خوشخبری دیتے ہو انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں ۔ { فَبَشِّرْ عِبَادِ } ( سورة الزمر 17) تو میرے بندوں کو بشارت سنادو ۔ { فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ } ( سورة يس 11) سو اس کو مغفرت کے بشارت سنادو استبشر کے معنی خوش ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے ( اور شہید ہوکر ) ان میں شامل ہیں ہوسکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں ۔ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہورہے ہیں ۔ وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] اور اہل شہر ( لوط کے پاس ) خوش خوش ( دورے ) آئے ۔ اور خوش کن خبر کو بشارۃ اور بشرٰی کہا جاتا چناچہ فرمایا : هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی ۔ لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] اس دن گنہگاروں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں ہوگی ۔ وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری سے کرآئے ۔ يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] زہے قسمت یہ تو حسین ) لڑکا ہے ۔ وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرى [ الأنفال/ 10] اس مدد کو تو خدا نے تمہارے لئے رذریعہ بشارت ) بنایا وجه أصل الوجه الجارحة . قال تعالی: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] ( و ج ہ ) الوجہ کے اصل معیج چہرہ کے ہیں ۔ جمع وجوہ جیسے فرمایا : ۔ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] تو اپنے منہ اور ہاتھ دھو لیا کرو ۔ سود السَّوَادُ : اللّون المضادّ للبیاض، يقال : اسْوَدَّ واسْوَادَّ ، قال : يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ [ آل عمران/ 106] فابیضاض الوجوه عبارة عن المسرّة، واسْوِدَادُهَا عبارة عن المساءة، ونحوه : وَإِذا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنْثى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ [ النحل/ 58] ، وحمل بعضهم الابیضاض والاسوداد علی المحسوس، والأوّل أولی، لأنّ ذلک حاصل لهم سُوداً کانوا في الدّنيا أو بيضا، وعلی ذلک دلّ قوله في البیاض : وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ ناضِرَةٌ [ القیامة/ 22] ، وقوله : وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ باسِرَةٌ [ القیامة/ 24] ، وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْها غَبَرَةٌ تَرْهَقُها قَتَرَةٌ [ عبس/ 40- 41] ، وقال : وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ما لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ عاصِمٍ كَأَنَّما أُغْشِيَتْ وُجُوهُهُمْ قِطَعاً مِنَ اللَّيْلِ مُظْلِماً [يونس/ 27] ، وعلی هذا النحو ما روي «أنّ المؤمنین يحشرون غرّا محجّلين من آثار الوضوء» «1» ، ويعبّر بِالسَّوَادِ عن الشّخص المرئيّ من بعید، وعن سواد العین، قال بعضهم : لا يفارق سوادي سواده، أي : عيني شخصه، ويعبّر به عن الجماعة الكثيرة، نحو قولهم : ( عليكم بالسّواد الأعظم) «2» ، سَّيِّدُ : المتولّي للسّواد، أي : الجماعة الكثيرة، وينسب إلى ذلک فيقال : سيّد القوم، ولا يقال : سيّد الثّوب، وسيّد الفرس، ويقال : سَادَ القومَ يَسُودُهُمْ ، ولمّا کان من شرط المتولّي للجماعة أن يكون مهذّب النّفس قيل لكلّ من کان فاضلا في نفسه : سَيِّدٌ. وعلی ذلک قوله : وَسَيِّداً وَحَصُوراً [ آل عمران/ 39] ، وقوله : وَأَلْفَيا سَيِّدَها [يوسف/ 25] ، فسمّي الزّوج سَيِّداً لسیاسة زوجته، وقوله : رَبَّنا إِنَّا أَطَعْنا سادَتَنا [ الأحزاب/ 67] ، أي : ولاتنا وسَائِسِينَا . ( س و د ) السواد ( ضد بیاض ) سیاہ رنگ کو کہتے ہیں اور اسود ( افعلال ) واسواد ( افعیلال ) کے معنی کسی چیز کے سیاہ ہونے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ [ آل عمران/ 106] جس دن بہت سے منہ سفید ہوں گے اور بہت سے سیاہ ۔ تو چہروں کے سفید ہونے سے اظہار مسرت اور سیاہ ہونے سے اظہار غم مراد ہے ایطرح آیت : وَإِذا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنْثى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ [ النحل/ 58] حالانکہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی ( کے پیدا ہونے ) کی خوشخبری ملتی ہے تو اس کا منہ ( غم کے سبب ) کالا پڑجاتا ہے اور ( اس کے دل کو دیکھو تو ) وہ اندرہی خاک ہوجاتا ہے ۔ وہ بھی مسودا سے بھی مغموم ہونا ہی مراد ہے ۔ بعض نے آیت ۔ تبیض الخ میں حسی سفیدی اور سیاہی کے معنی مراد لئے ہیں ۔ لکین پہلا معنی زیادہ بہتر ہے کیونکہ یہ چیز تو قیامت کے دن اعمال کے اعتبار سے حاصل ہوگی عام اس سے کہ وہ دینا میں سیاہ فام ہوں یا سفید فام اور اسی سفیدی اور سیاہی کو دوسری آیات میں یوں فرمایا ہے : وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ ناضِرَةٌ [ القیامة/ 22] اس دن بہت سے منہ رونق دارہوں گے وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ باسِرَةٌ [ القیامة/ 24] اور بہت سے منہ اس روز اداس ہوں گے ۔ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْها غَبَرَةٌ تَرْهَقُها قَتَرَةٌ [ عبس/ 40- 41] اور کتنے منہ ہوں گے جن پر گرد پڑرہی ہوگی ( اور ) سیاہی چڑھ رہی ہوگی ۔ وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ما لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ عاصِمٍ كَأَنَّما أُغْشِيَتْ وُجُوهُهُمْ قِطَعاً مِنَ اللَّيْلِ مُظْلِماً [يونس/ 27] اور ان کے منہ پر ذلت چھائے گی اور کوئی ان کو خدا سے بچانے والا نہ ہوگا ان کے مونہوں ( سیاہی ) کا یہ عالم ہوگا کہ ان ہر گویا اندھیری رات کے ٹکڑے اوڑھا دئیے گئے ہیں ۔ اسی طرح مومنین کے متعلق حدیث میں آیا ہے یحشرون غرا محجلین من آثار الوضوء کہ قیامت کے دن آثار وضو سے ان کے پاتھ پاؤں اور چہرے چمک رہے ہوں گے ۔ اور دور سے جو چیز نظر پڑے اسے بھی سواد کہا جاتا ہے اسی طرح آنکھ کی سیاہی کو بھی سوادلعین سے تعبیر کرلیتے ہیں جیسا کہ کسی نے کہا ہے لایفارق سوادی سوادہ میری آنکھ اس کے شخص سے جدا نہیں ہوتی اور بڑی جماعت کو بھی سواد کہا جاتا ہے ۔ جیسا کہ مروی ہے : مسلمانوں کی بڑی جماعت کا ساتھ نہ چھوڑو ( نہ اس سے علیدگی اختیار کرو ) اور سید کے معنی بڑی جماعت کا سردار کے ہیں چناچہ اضافت کے وقت سیدالقوم تو کہا جاتا ہے ۔ مگر سید الثوب یا سیدالفرس نہیں بالو جاتا اور اسی سے سادا القوم یسودھم کا محاورہ ہے چونکہ قوم کے رئیس کا مہذب ہونا شرط ہے اس اعتبار ہر فاضل النفس آدمی سید کہا جاتا چناچہ آیت وَسَيِّداً وَحَصُوراً [ آل عمران/ 39] اور سردار ہوں گے اور عورت سے رغبت نہ رکھنے والے ۔ میں بھی سید کا لفظ اسی معنی پر محمول ہے ۔ اور آیت : وَأَلْفَيا سَيِّدَها [يوسف/ 25] اور دونوں کو عورت کا خاوند مل گیا ۔ میں خاوند کو سید کہا گیا ہے کیونکہ وہ بیوی کا نگران اور منتظم ہوتا ہے اور آیت : رَبَّنا إِنَّا أَطَعْنا سادَتَنا[ الأحزاب/ 67] اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا ۔ میں سادتنا سے دلاۃ اور حکام مراد ہیں ۔ كظم الْكَظْمُ : مخرج النّفس، يقال : أخذ بِكَظَمِهِ ، والْكُظُومُ : احتباس النّفس، ويعبّر به عن السّكوت کقولهم : فلان لا يتنفّس : إذا وصف بالمبالغة في السّكوت، وكُظِمَ فلان : حبس نفسه . قال تعالی: إِذْ نادی وَهُوَ مَكْظُومٌ [ القلم/ 48] ، وكَظْمُ الغَيْظِ : حبسه، قال : وَالْكاظِمِينَ الْغَيْظَ [ آل عمران/ 134] ( ک ظ م ) الکظم اصل میں مخروج النفس یعنی سانس کی نالي کو کہتے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے : ۔ احذ بکظمہ اس کی سانس کی نالي کو پکڑ لیا یعنی غم میں مبتلا کردیا ۔ الکظوم کے معنی سانس رکنے کے ہیں اور خاموش ہوجانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسا کہ انتہائی خا موشی کے معیس کو ظاہر کرنے کے لئے فلان لا یتنفس کہا جاتا ہے ۔ فلاں سانس نہین لیتا یعنی خا موش ہے ۔ کظم فلان اس کا سانس بند کردیا گیا ( مراد نہایت غمگین ہونا ) چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِذْ نادی وَهُوَ مَكْظُومٌ [ القلم/ 48] کہ انہوں نے خدا کو پکارا اور وہ غم) غصہ میں بھرے تھے ۔ اور کظلم الغیظ کے معنی غصہ روکنے کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ وَالْكاظِمِينَ الْغَيْظَ [ آل عمران/ 134] اور غصے کو در کتے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٨۔ ٥٩) اور جب ان میں سے کسی کی بیٹی کی پیدایش کی خبر دی جاتی ہے تو غم وناراضگی میں اس کے چہرے کا نور غائب اور وہ سیاہ چہرے اور دل ہی دل میں کڑہتا رہتا ہے اور لڑکی پیدا ہونے کی جو اس کو خبر دی گئی ہے، اس کے اظہار کو برا سمجھتے ہوئے لوگوں سے چھپائے پھرتا ہے اور سوچتا ہے آیا اس لڑکی کو ذلت وعار کی حالت میں لیے رہے یا اس کو مٹی میں زندہ درگور کر دے، اچھی طرح سن لو، ان کی یہ تجویز بہت ہی بری ہے، کہ اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں اور اپنے لیے لڑکوں کو پسند کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:58) ظل وجھہ مسودا۔ اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے۔ ظل فعل ناقص ہے۔ ظللت وظلت اصل میں اس کام کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو دن کے وقت کیا جائے جس طرح بات یبیت کا استعمال رات گذارنے یا رات کے وقت میں کسی کام کو کرنے کے لئے ہے۔ ظل وظلول مصدر باب سمع وفتح سے آتا ہے یہاں ظل بمعنی صار ہے ۔ ہوگیا۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ لیکن یہاں مضارع کے معنی دیتا ہے ” ہوجاتا ہے “۔ مسودا۔ اسم مفعول ۔ واحد مذکر۔ اسوداد مصدر (باب افعلال۔ سیاہ۔ غم کی وجہ سے) رنگ بگڑا ہوا۔ کظیم۔ صفت مشبہ۔ کظم و کظوم مصدر۔ سخت غمگین جو اپنے غم کو دبا کر رکھے اور ظاہر نہ کرے۔ الکاظم۔ روکنے والا۔ دبانے والا۔ کا ظم الغیظ غصہ کو پی جانے والا۔ غصہ کو روکنے والا۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے اذ نادی وھو مکظوم (68:48) جب اس نے (اپنے پروردگار کو) پکارا۔ اس حال میں کہ وہ غم میں گھٹ رہا تھا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 کہ یہ بن بلائی مصیبت کہاں سے آن پڑی ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

43:۔ یہ مشرکین کے مذکورہ بالا قول کا الزامی جواب ہے کہ ان کا اپنا حال تو یہ ہے کہ اگر کسی کے گھر لڑکی پیدا ہوجائے تو غم واندوہ کی وجہ سے اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے۔ ” یتوای من القوم الخ “ اور کئی کئی دن وہ لوگوں سے چھپا رہتا ہے اور مارے شرم کے کسی کو منہ نہیں دکھاتا اور پھر سوچتا ہے کہ کیا ذلت و رسوائی برداشت کر کے اسے زندہ رکھوں یا اسے زندہہی کو زمین میں دفن کردوں۔ ” الا ساء ما یحکمون “ یہ کس قدر بری اور شرمناک بات ہے کہ جس چیز کو وہ خود ناپسند کرتے ہیں اسے اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کرتے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

58 ۔ اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا چہرہ سیاہ اور بےرونق رہتا ہے اور وہ دل ہی دل میں گھٹتا رہتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسے گستاخ ہیں کہ اس کی طرف بیٹیاں منسوب کرتے ہیں اور خود ان کی حالت یہ ہے کہ جب ان میں سے کسی کو یہ خبر دی جائے کہ تمہارے ہاں بیٹی ہوئی ہے تو مارے رنج کے دن بھر اس کا منہ بگڑا رہتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹتا رہتا ہے اور سوچتا رہتا ہے کہ اب کیا کرنا چاہئے۔