Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 79

سورة النحل

اَلَمۡ یَرَوۡا اِلَی الطَّیۡرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیۡ جَوِّ السَّمَآءِ ؕ مَا یُمۡسِکُہُنَّ اِلَّا اللّٰہُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۷۹﴾

Do they not see the birds controlled in the atmosphere of the sky? None holds them up except Allah . Indeed in that are signs for a people who believe.

کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا جو تابع فرمان ہو کر فضا میں ہیں ، جنہیں بجز اللہ تعالٰی کے کوئی اور تھامے ہوئے نہیں ، بیشک اس میں ایمان لانے والے لوگوں کیلئے بڑی نشانیاں ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

أَلَمْ يَرَوْاْ إِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرَاتٍ فِي جَوِّ السَّمَاء مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلاَّ اللّهُ ... Do they not see the birds held (flying) in the midst of the sky! None holds them up but Allah. Then Allah tells His servants to look at the birds held (flying) in the sky, between heaven and earth, and how He has caused them to fly with their wings in the sky. They are held up only by Him, it is He Who gave them the strength to do that, subjecting the air to carry them and support them. As Allah says in Surah Al-Mulk: أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَــفَّـتٍ وَيَقْبِضْنَ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلاَّ الرَّحْمَـنُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ بَصِيرٌ Do they not see the birds above them, spreading their wings out and folding them in None holds them up except the Most Gracious (Allah). Verily, He is the All-Seer of everything. (67:19) And here Allah says: ... إِنَّ فِي ذَلِكَ لاَيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُوْمِنُونَ Verily, in this are clear signs for people who believe.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

79۔ 1 یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے پرندوں کو اس طرح اڑنے کی اور ہواؤں کو انھیں اپنے دوش پر اٹھائے رکھنے کی طاقت بخشی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٠] ہوا میں تیرنے پھرنے والے پرندوں کی ساخت :۔ کوئی چیز فضا میں ٹھہر نہیں سکتی وہ ہوا کی لطافت اور زمین کی کشش ثقل کی وجہ سے زمین پر آگرتی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے پرندوں کے پروں اور ان کی دم کی ساخت میں کچھ ایسا توازن قائم کیا ہے کہ نہ زمین کی کشش ثقل انھیں اپنی طرف کھینچتی ہے اور نہ ہوا کی لطافت انھیں نیچے گراتی ہے اور فضا میں بےتکلف تیرتے پھرتے ہیں۔ پھر یہ فن انھیں سیکھنے کی بھی ضرورت نہیں۔ یہ سب باتیں ان کی فطرت میں رکھ دی گئی ہیں۔ پرندے جب اڑنے لگتے ہیں تو اپنے پروں کو پھڑ پھڑاتے اور پھیلاتے ہیں۔ پھر جب فضا میں پہنچ جاتے ہیں تو ضروری نہیں کہ وہ ہر وقت پروں کو پھیلائے رکھیں۔ وہ انھیں بند بھی کرلیتے ہیں لیکن پھر بھی گرتے نہیں۔ انسان نے پرندوں کی اڑان اور ان کی ساخت میں غور و فکر کرکے ہوائی جہاز تو ایجاد کرلیا۔ مگر جس ہستی نے ایسے طبعی قوانین بنادیئے ہیں جن کی بنا پر پرندے یا ہوائی جہاز فضا میں اڑتے پھرتے ہیں۔ اس ہستی کی معرفت حاصل کرنے کے لیے انسان نے کوئی کوشش نہ کی۔ [٨١] پرندوں کا توکل اور ان کا نکلنا :۔ آنکھیں، کان اور دل کا ذکر کرنے کے بعد پرندوں کا ذکر کرنے سے اس بات کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ ان تینوں چیزوں سے کام لے کر ہر جاندار اپنی معاش کی فکر کرتا ہے۔ انسان بھی اور پرندے بھی۔ ماں کے پیٹ سے کوئی کچھ بھی نہیں لاتا۔ اب انسان کا تو یہ حال ہے کہ وہ کسب معاش اور دنیوی کاروبار کے دھندوں میں ایسا مشغول ہوجاتا ہے کہ یہی چیزیں اسے اللہ پر ایمان لانے اور اس کا فرمانبردار بن کر رہنے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ حالانکہ اس کا رزق اللہ کے ذمہ ہے۔ اس لحاظ سے پرندے انسان سے بدرجہا بہتر ہیں۔ چناچہ سیدنا عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ && اگر تم اللہ پر ایسا توکل کرتے جیسا کرنے کا حق ہے تو تم کو بھی اسی طرح رزق دیا جاتا ہے جس طرح پرندوں کو دیا جاتا ہے۔ وہ صبح کو خالی پیٹ جاتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں && (ترمذی، ابو اب الزہد۔ باب ماجاء فی الزہادۃ فی الدینا)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ ۔۔ : ” الطَّيْرِ “ ” طَاءِرٌ“ کی جمع ہے، اڑنے والا، اگرچہ بعض لوگ ” فَاعِلٌ“ کی جمع ” فَعْلٌ“ کا انکار کرتے ہیں، مگر شنقیطی (رض) نے اس کی کئی مثالیں ذکر فرمائی ہیں، جیسا کہ ” صَاحِبٌ“ کی جمع ” صَحْبٌ۔ “ امرء القیس نے کہا ؂ وُقُوْفًا بِھَا صَحْبِيْ عَلَيَّ مَطِیَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ لَا تَھْلِکْ أَسًی وَ تَجَمَّلِ ” رَاکِبٌ“ کی جمع ” رَکْبٌ“ ، ” شَارِبٌ“ کی ” شَرْبٌ“ اور ” سَافِرٌ“ کی ” سَفْرٌ“ وغیرہ۔ کیا ان مشرکوں نے آسمان و زمین کے درمیان اڑتے ہوئے پرندوں پر غور نہیں کیا، وہ کون سی ہستی ہے جس نے ان کے پروں، بازوؤں اور دموں کی ساخت اڑنے کے قابل بنائی اور زمین و آسمان کے درمیان اڑتے ہوئے انھیں گرنے سے تھامے رکھا، کوئی دعوے دار ہی سامنے لائیں، پھر بھی یہ اللہ کے ساتھ شریک بنا رہے ہیں، سچ ہے کہ ان نشانیوں سے فائدہ وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو بات سمجھ جائیں تو مان لیں، جو ماننے پر آمادہ ہی نہ ہوں ان کے لیے ہر نشانی بےفائدہ ہے۔ مزید دیکھیے سورة ملک (١٩) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِيْ جَوِّ السَّمَاۗءِ ۭ مَا يُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ 79؀ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا طير الطَّائِرُ : كلُّ ذي جناحٍ يسبح في الهواء، يقال : طَارَ يَطِيرُ طَيَرَاناً ، وجمعُ الطَّائِرِ : طَيْرٌ «3» ، كرَاكِبٍ ورَكْبٍ. قال تعالی: وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ [ الأنعام/ 38] ، وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً [ ص/ 19] ، وَالطَّيْرُ صَافَّاتٍ [ النور/ 41] وَحُشِرَ لِسُلَيْمانَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالطَّيْرِ [ النمل/ 17] ، وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ [ النمل/ 20] ( ط ی ر ) الطائر ہر پر دار جانور جو فضا میں حرکت کرتا ہے طار یطیر طیرا نا پرند کا اڑنا ۔ الطیر ۔ یہ طائر کی جمع ہے جیسے راکب کی جمع رکب آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ [ الأنعام/ 38] یا پرند جو اپنے پر دل سے اڑتا ہے ۔ وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً [ ص/ 19] اور پرندوں کو بھی جو کہ جمع رہتے تھے ۔ وَالطَّيْرُ صَافَّاتٍ [ النور/ 41] اور پر پھیلائے ہوئے جانور بھی ۔ وَحُشِرَ لِسُلَيْمانَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالطَّيْرِ [ النمل/ 17] اور سلیمان کے لئے جنون اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے ۔ وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ [ النمل/ 20] انہوں نے جانوروں کا جائزہ لیا ۔ سخر التَّسْخِيرُ : سياقة إلى الغرض المختصّ قهرا، قال تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13] ( س خ ر ) التسخیر ( تفعیل ) کے معنی کسی کو کسی خاص مقصد کی طرف زبر دستی لیجانا کے ہیں قرآن میں ہے وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13] اور جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اس نے ( اپنے کرم سے ) ان سب کو تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ۔ جوَّ الجوّ : الهواء، قال اللہ تعالی: فِي جَوِّ السَّماءِ ما يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ [ النحل/ 79] ، واسم الیمامة جوّ ( ج وو ) الجو ۔ کے معنی فضا کے ہیں قرآن میں ہے : فِي جَوِّ السَّماءِ ما يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ [ النحل/ 79] کہ فضا میں ان کو خدا ہی تھامے رکھتا ہے ۔ اور یمامتہ کو جو بھی کہتے ہیں ۔ مسك إمساک الشیء : التعلّق به وحفظه . قال تعالی: فَإِمْساكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 229] ، وقال : وَيُمْسِكُ السَّماءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ [ الحج/ 65] ، أي : يحفظها، واستمسَكْتُ بالشیء : إذا تحرّيت الإمساک . قال تعالی: فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ [ الزخرف/ 43] ، وقال : أَمْ آتَيْناهُمْ كِتاباً مِنْ قَبْلِهِ فَهُمْ بِهِ مُسْتَمْسِكُونَ [ الزخرف/ 21] ، ويقال : تمَسَّكْتُ به ومسکت به، قال تعالی: وَلا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوافِرِ [ الممتحنة/ 10] . يقال : أَمْسَكْتُ عنه كذا، أي : منعته . قال : هُنَّ مُمْسِكاتُ رَحْمَتِهِ [ الزمر/ 38] ، وكنّي عن البخل بالإمساک . والمُسْكَةُ من الطعام والشراب : ما يُمْسِكُ الرّمقَ ، والمَسَكُ : الذَّبْلُ المشدود علی المعصم، والمَسْكُ : الجِلْدُ الممسکُ للبدن . ( م س ک ) امسک الشئی کے منعی کسی چیز سے چمٹ جانا اور اس کی حفاطت کرنا کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ فَإِمْساكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 229] پھر ( عورت کو ) یا تو بطریق شاہتہف نکاح میں رہنے دینا یا بھلائی کے ساتھ چھور دینا ہے ۔ وَيُمْسِكُ السَّماءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ [ الحج/ 65] اور وہ آسمان کو تھا مے رہتا ہے کہ زمین پر نہ گر پڑے ۔ استمسکت اشئی کے معنی کسی چیز کو پکڑنے اور تھامنے کا ارداہ کرنا کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ [ الزخرف/ 43] پس تمہاری طرف جو وحی کی گئی ہے اسے مضبوط پکرے رہو ۔ أَمْ آتَيْناهُمْ كِتاباً مِنْ قَبْلِهِ فَهُمْ بِهِ مُسْتَمْسِكُونَ [ الزخرف/ 21] یا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی تھی تو یہ اس سے ( سند ) پکڑتے ہیں ۔ محاورہ ہے : ۔ کیس چیز کو پکڑنا اور تھام لینا ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَلا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوافِرِ [ الممتحنة/ 10] اور کافر عورتوں کی ناموس قبضے میں نہ رکھو ( یعنی کفار کو واپس دے دو ۔ امسکت عنہ کذا کسی سے کوئی چیز روک لینا قرآن میں ہے : ۔ هُنَّ مُمْسِكاتُ رَحْمَتِهِ [ الزمر/ 38] تو وہ اس کی مہر بانی کو روک سکتے ہیں ۔ اور کنایہ کے طور پر امساک بمعنی بخل بھی آتا ہے اور مسلۃ من الطعام واشراب اس قدر کھانے یا پینے کو کہتے ہیں جس سے سد رہق ہوسکے ۔ المسک ( چوڑا ) ہاتھی دانت کا بنا ہوا زبور جو عورتیں کلائی میں پہنتی ہیں المسک کھال جو بدن کے دھا نچہ کو تھا مے رہتی ہے ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قوم القوم۔ یہ اصل میں صرف مردوں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11]

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٩) اے مکہ والو ! کیا تم نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ اس سے قدرت خداوندی اور اس کی توحید کو سمجھتے کہ وہ پرندے آسمان و زمین کے درمیان مسخر ہو کر اڑ رہے ہیں انکو اس اڑنے میں اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں تھامتا ، پرندوں کے فضا میں رکے رہنے میں ان لوگوں کے لیے جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ ہی تھام رہے ہیں، وحدانیت الہی کی چند نشانیاں ہیں اب مزید اپنے انعامات یاد دلاتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اس پر ایمان لائیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٩ (اَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِيْ جَوِّ السَّمَاۗءِ ۭ مَا يُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ ) یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے قانون کے مطابق یہ پرندے فضا میں تیر رہے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:79) مسخرات۔ اسم مفعول جمع مؤنث مسخرۃ واحد تسخیر (تفعیل) مصدر تابع۔ فرمانبردار بنائے گئے۔ مطیع۔ جو۔ فضائ۔ ہوا۔ اس کی جمع جواء اور اجواء ہے۔ یمسکہن۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ امساک (افعال) مصدر۔ روکنا۔ تھامے رکھنا۔ امساک کے اصل معنی کسی چیز سے چمٹ جانا اور اس کی حفاظت کرنا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 ان کے پروں بازوئوں اور (دموں) کی ساخت ایسی رکھی ہے کہ ہوا ان کا بوجھ اٹھا لیتی ہے اور وہ اس میں نہایت آسانی سے اڑتے رہتے ہیں۔ 9 یعنی بعض لوگ معاش کی فکر میں مشغول ہونے کی وجہ سے ایمان لانے سے رکے ہوئے ہیں۔ پس فرمایا کہ تم ماں کے پیٹ سے تو کچھ نہیں لائے۔ اسباب کمائی کان آنکھ دل اللہ نے دیئے ہیں اور اڑتے جانور ادھر میں کس کے بھروسے جیتے ہیں۔ (موضح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ چند نشانیاں اس لیے فرمایا کہ طیور کو خاص وضع پر پیدا کرنا جس سے اڑنا ممکن ہو ایک دلیل ہے پھر جو کو ایسے طور پر پیدا کرنا جس میں اڑنا ممکن ہو ایک دلیل ہے پھر بالفعل اس طیران کا وقوع ایک دلیل ہے اور جتنے اسباب کو طیران میں دخل ہے جس کی وجہ سے ثقل جسم ورقت قوام معاقع کا اثر طبعی ظاہر نہیں ہوا چونکہ وہ سب اللہ ہی کے پیدا کیے ہوئے ہیں پھر ان اسباب پر مسبب یعنی طیران کا مرتب ہوجانا یہ بھی مشییت الٰہی ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : پرندوں کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا حوالہ دے کر انسان کو ایمان لانے کی دعوت دی ہے۔ جانوروں اور پرندوں میں معاشرے کا وجود : (وَمَا مِنْ دَابَّۃٍ فِی الْأَرْضِ وَلَا طَاءِرٍ یَطِیْرُ بِجَنَاحَیْہِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُکُمْ مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتَابِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ إِلَی رَبِّہِمْ یُحْشَرُوْنَ )[ الانعام : ٣٨] ” زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو یہ سب تمہاری ہی طرح کی اقسام ہیں اور ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے پھر یہ سب اپنے رب کی طرف سمیٹے جاتے ہیں۔ “ جدیدتحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جانور اور پرندے بھی معاشروں کی شکل میں رہتے ہیں۔ مطلب یہ کہ ان میں بھی اجتماعی نظم وضبط ہوتا ہے اور مل جل کر رہتے ہیں اور اپنا اپنا کام کرتے ہیں۔ پرندوں کی پرواز : (أَلَمْ یَرَوْا إِلَی الطَّیْرِ مُسَخَّرَاتٍ فِی جَوِّ السَّمَاءِ مَا یُمْسِکُہُنَّ إِلَّا اللَّہُ إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآَیَاتٍ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُوْنَ )[ النحل : ٧٩] ” کیا ان لوگوں نے کبھی پرندوں کو نہیں دیکھا کہ فضائے آسمانی میں کس طرح مسخر ہیں۔ اللہ کے سوا کس نے ان کو تھام رکھا ہے۔ اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔ “ ایک اور آیت مبارکہ میں پرندوں پر کچھ اس انداز سے بات کی گئی ہے : (أَوَلَمْ یَرَوْا إِلَی الطَّیْرِ فَوْقَہُمْ صَافَّاتٍ وَیَقْبِضْنَ مَا یُمْسِکُہُنَّ إِلَّا الرَّحْمَنُ إِنَّہُ بِکُلِّ شَیْءٍ بَصِیْرٌ )[ الملک : ١٩] ” یہ لوگ اپنے اوپر اڑنے والے پرندوں کو پر پھیلاتے اور سکیڑتے نہیں دیکھتے ؟ رحمان کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھامے ہوئے ہو وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔ “ عربی لفظ ” امسک “ کا لغوی ترجمہ ” کسی کے ہاتھ میں ہاتھ دینا، روکنا، تھامنا، یا کسی کی کمر پکڑ لینا “ ہے۔ مذکورہ بالا آیت میں ” یُمسکُھُنَّ “ سے اس بات کا اظہار ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور اپنے اختیار سے پرندوں کو ہوا میں تھامے رکھتا ہے، ان آیات ربانی میں اس پر زور دیا گیا ہے کہ پرندوں کے طرز کا مکمل انحصار انہی قوانین پر ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے تخلیق فرمایا ہے۔ اور جنہیں ہم قوانین فطرت کے نام سے جانتے ہیں جدید سائنسی معلومات سے ثابت ہوچکا ہے کہ بعض پرندوں میں پرواز کی بےمثل اور بےعیب صلاحیت کا تعلق اس وسیع تر اور مجموعی منصوبہ بندی (پروگرامنگ) سے ہے جو ان کی حرکات و سکنات سے متعلق ہے۔ مثلاً ہزاروں میل دور تک نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی جینیاتی رموز (جینیٹک کو دز) میں ان کے سفر کی تمام تر تفصیلات و جزئیات موجود ہیں، جو ان پر ندوں کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ نہایت کم عمری میں بھی لمبے سفر کے کسی تجربے اور کسی رہنما کے بغیر ہزاروں میل کا فاصلہ طے کرلیں اور پیچیدہ راستوں سے پرواز کرتے چلے جائیں۔ بات صرف سفر کی یک طرفہ تکمیل ہی پر ختم نہیں ہوجاتی، بلکہ وہ ایک مخصوص تاریخ پر اپنے عارضی مسکن سے پرواز کرتے ہیں اور ہزاروں میل واپسی کا سفر کرکے ایک بار پھر اپنے گھونسلوں تک بالکل ٹھیک ٹھیک جا پہنچتے ہیں۔ پروفیسر ہیمبر گرنے اپنی کتاب ” پادر اینڈ فریجیلٹی “ میں ” مٹن برڈ “ نامی ایک پرندے کی مثال دی ہے جو بحرالکال کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ نقل مکانی کرنے والا یہ پرندہ ٠٠٠، ٢٤ (چوبیس ہزار) کلومیٹر کا فاصلہ ٨ کی شکل میں چکر لگا کر طے کرتا ہے۔ یہ اپنا سفر چھ ماہ میں پورا کرتا ہے اور مقام ابتداء تک زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے کی تاخیر سے واپس پہنچ جاتا ہے۔ ایسے کسی سفر کے لیے نہایت پیچیدہ معلومات کا ہونا ضروری ہے جو اس پرندے کے اعصابی خلیات میں محفوظ ہونی چاہیں۔ یعنی ایک باضابطہ ” پروگرام “ کی شکل میں پرندے کے جسم میں موجود اور ہمہ وقت دستیاب ہوتی ہے۔ اگر پرندے میں کوئی پروگرام ہے تو کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ اسے تشکیل دینے والا کوئی ” پروگرامز “ بھی یقیناً ہے ؟ (از : خطبات ڈاکٹر ذاکر نائیک) مسائل ١۔ پرندوں کو فضا میں ٹھہرانے والی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ٢۔ ایمانداروں کے لیے پرندوں میں بہت سی نشانیاں ہیں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

پرندے زمین و آسمان کی فضا میں مسخر ہیں۔ یہ اسی میں اڑتے پھرتے ہیں ، ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ منظر ہم بار بار دیکھتے ہیں اور بار بار دیکھنے کی وجہ سے اس کے اندر جو عجوبہ ہے ، وہ غیر محسوس ہوگیا ہے۔ اس کی طرف انسان کا دل و دماغ تب توجہ کرتا ہے جب وہ جاگنے والا ہو ، اور اس کو شاعرانہ قوت مشاہدہ دی گئی ہو۔ ایک شاعرانہ ظرف نگاہی رکھنے والا شخص تو اس پر ایک نظم اور قصیدہ لکھ سکتا ہے اور وہ بےساختہ اس قدیم ، مالوف اور جدید شاعرانہ منظر کو دیکھ کر یہ کہہ سکتا ہے۔ یا یمسکھن الا اللہ (٦١ : ٩٧) ” اللہ کے سوا کس نے انہیں تھام رکھا ہے “۔ یہ کس طرح ، پرندوں کی فطرت ہی ایسے اصولوں پر وضع کی گئی ، اس کے ارد گرد فضائی حالات اللہ نے ایسے بنائے کہ اس میں وہ اڑ سکیں اور زمین پر کسی بھی وقت نہ گریں۔ ان فی ذلک لایت لقوم یومنون (٦١ : ٩٧) ” اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں “۔ ایک قلب مومن اس کائنات کی عجائبات پر اسی طرح نظر دوڑاتا ہے جس طرح شاعر کسی چیز کی حقیقت تک پہنچ جاتا ہے اور اس کا شعور اور اس کا ضمیر ان مخلوقات کے حسن اور کمال کو محسوس کرتا ہے۔ پھر وہ اپنے احساس کی تعبیر نہایت ہی خوبصورتی سے کرتا ہے۔ ایمان کی شکل میں ، اللہ کی بندگی کی شکل میں اور اللہ کی ثنا اور تسبیح کی شکل میں۔ اہل ایمان میں سے اللہ نے جن لوگوں کو قادر الکلامی دی ہے ، وہ اللہ کی ان تخلیقات میں عجیب و غریب پہلو دیکھتے ہیں اور بیان کرتے ہیں۔ ایسے مومنین کی تخلیقات اس قدر گہری ہوتی ہیں کہ عام شاعر کی اس مقام تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(٢) پھر ارشاد فرمایا کہ کیا پرندوں کو نہیں دیکھتے جو آسمانی فضا میں مسخر ہیں ان کو نیچے گرنے سے کوئی چیز روکنے والی نہیں صرف اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت سے رکے ہوئے ہیں، اڑ رہے ہیں اور آگے بڑھ رہے ہیں حالانکہ بوجھ والے ہیں زمین کی کشش انہیں اپنی طرف نہیں کھینچ پاتی اگر کوئی شخص یوں کہے کہ پروں کی حرکت کی وجہ سے ہوا میں تموج اور تحریک ہے جس کی وجہ سے نہیں گرتے اس کا جواب یہ ہے کہ پروں میں یہ قوت اور ہوا میں یہ تحریک اور تموج کہاں سے آیا ؟ یہ بھی تو اللہ تعالیٰ ہی کا پیدا فرمایا ہوا ہے، ذرا انسان تو اڑ کے دیکھ لے اپنے ہاتھوں کو حرکت دے پھر دیکھے فضا میں ٹھہر سکتا ہے یا نہیں، اسی سے ہوائی جہاز کو بھی سمجھ لیں ہزاروں سال انسان کو پتہ ہی نہ تھا کوئی فضاء میں چلنے والی سواری وجود میں آسکتی ہے جب اللہ تعالیٰ شانہٗ نے دماغ میں ڈالا اور طریقہ بتایا تو اس کی مشین اور باڈی بنانے کے لائق ہوگئے، یہ تسخیر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جب اس کی تسخیر نہیں رہتی تو سارے آلات دھرے رہ جاتے ہیں، ہوشمند پائلٹ بےقابو ہوجاتا ہے اور جہاز گرپڑتا ہے۔ (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ) (بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

63:۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی ایک واضح دلیل ہے کہ اس نے جس طرح انسانوں کو مکتلف قوتیں بخشی ہیں اسی طرح اس نے پرندوں کو بھی ارنے کی طاقت دی ہے اور وہ اس کی قدرت سے فضائے آسمانی میں اڑتے پھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے تکوینی احکام کے تابع ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

79 ۔ کیا ان لوگوں نے ان پرندوں کے حال پر غور نہیں کیا جو فضائے آسمانی میں مسخر ہوتے ہیں ان پرندوں کو اس جگہ سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی روکتا نہیں اس امر مذکور ہیں ان لوگوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ۔ یعنی جسم ثقیل کا تقاضا ہے کہ پرندے زمین پر گرپڑیں لیکن قدرت نے ان کی ساخت اس طرح رکھی ہے کہ وہ ہوا میں اڑتے ہیں اور گرتے نہیں اس میں بھی اس کی وحدانیت کے دلائل ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایمان لانے میں بعض اٹکتے ہیں معاش کی فکر سے سو فرمایا کہ ماں کے پیٹ سے کوئی کچھ نہیں لاتا ، اسباب کمائی کے ، آنکھ کان دل اللہ ہی دیتا ہے اور اڑتے جانور ادھر میں کس کے سہارے رہتے ہیں ۔ 12