Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 95

سورة النحل

وَ لَا تَشۡتَرُوۡا بِعَہۡدِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ اِنَّمَا عِنۡدَ اللّٰہِ ہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۹۵﴾

And do not exchange the covenant of Allah for a small price. Indeed, what is with Allah is best for you, if only you could know.

تم اللہ کے عہد کو تھوڑے مول کے بدلے نہ بیچ دیا کرو ۔ یاد رکھو اللہ کے پاس کی چیز ہی تمہارے لئے بہتر ہے بشرطیکہ تم میں علم ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلاَ تَشْتَرُواْ بِعَهْدِ اللّهِ ثَمَنًا قَلِيلً ... And do not use an oath by Allah for the purchase of little value. meaning, do not neglect an oath sworn in the Name of Allah for the sake of this world and its attractions, for they are few, and even if the son of Adam were to gain this world and all that is in it, that which is with Allah is better for him, ... إِنَّمَا عِندَ اللّهِ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ... what is with Allah is better for you if you only knew. i.e., the reward of Allah is better for the one who puts his hope in Him, believes in Him, seeks Him and fulfills his oaths in the hope of that which Allah has promised. This is why Allah says: ... إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٩] مفادات خواہ کتنے ہو ایفائے عہد کے مقابلہ میں ہیچ ہیں :۔ اللہ سے کیے ہوئے عہد سے مراد عہد الست بھی ہے اور ہر وہ عہد بھی جس میں اللہ کو درمیان میں لاکر، اسے شاہد اور ضامن بنا کر یا اس کی قسم کھا کر کیا گیا ہو اور اس عہد کو توڑنے کے عوض اگر تمہیں دنیا بھر کے مفادات اور مال و دولت بھی مل جائیں وہ تھوڑا اور ایفائے عہد کی ارفع قدر کے مقابلے میں ہیچ ہے۔ لہذا تمہیں دنیوی مفادات پر نظر رکھنے کی بجائے آخرت کے اجر پر نظر رکھنی چاہیے جو ان مفادات کے مقابلہ میں بدرجہا بہتر ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَـمَنًا قَلِيْلًا : اوپر کی آیات میں باہمی معاہدوں کی پابندی پر زور دیا، اب بتایا کہ ایمان لا کر جو اللہ سے عہد باندھا ہے اسے مت توڑو، یعنی مال کے طمع میں آ کر شریعت کی خلاف ورزی نہ کرو (جس میں باہمی معاہدوں کو توڑنا بھی ہے) جو مال خلاف شرع ہاتھ آئے وہ موجب وبال ہے۔ (موضح) کم قیمت سے مراد یہ نہیں کہ زیادہ قیمت لے لو، بلکہ مراد دنیا کا مال ہے، جو قلیل ہی ہے، خواہ پوری دنیا ہو، جیسا کہ فرمایا : (ۭ قُلْ مَتَاع الدُّنْيَا قَلِيْلٌ ) [ النساء : ٧٧ ] ” کہہ دے دنیا کا سامان بہت ہی تھوڑا ہے۔ “ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ : یہ ” اِنَّمَا “ کلمۂ حصر نہیں بلکہ ” اِنَّ مَا “ ہے، جو مصحف عثمانی کے رسم الخط کے مطابق اکٹھا لکھا گیا ہے۔ ” مَا “ موصولہ میں مقدر ضمیر کی تاکید ” انما “ کے ساتھ کرنے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا ہے، یعنی جو مال شریعت کے مطابق ہاتھ آئے وہی تمہارے حق میں بہتر ہے، دوسرا کوئی نہیں، جیسا کہ شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا تھا : (؀ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ) [ ھود : ٨٦ ] ” اللہ کا باقی بچا ہوا تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم مومن ہو۔ “ ” جو اللہ کے پاس ہے “ میں جنت بھی شامل ہے، کیونکہ وہ ہمیشہ رہنے والی ہے اور دنیا فانی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Accepting Bribe is Sternly Forbidden as It Breaks the Covenant of Allah Verse 95 which begins with the words: وَلَا تَشْتَرُ‌وا بِعَهْدِ اللَّـهِ ثَمَنًا قَلِيلًا (And do not take a paltry price against the pledge of Allah) that is, &do not break the Covenant of Allah for a paltry price.& Here, &a paltry price& refers to worldly life and its gains. No matter how major they may be yet, as com¬pared with the gains of the Hereafter, even the entire world and its en-tire wealth is nothing but paltry. Whoever opts for the gains of the mor¬tal world at the cost of the far superior returns in the Hereafter has struck a deal which will bring nothing but utter loss - because, selling off a blessing which is supreme and a wealth which is everlasting in exchange for something fast perishing and intrinsically low is what no sensible person would ever elect to do. Ibn ` Atiyyah said: If doing something is obligatory on a person, then, it is a Covenant of Allah due against him. He is responsible for it. And in the process of fulfilling this duty, the act of charging wages or something in return, and not doing what duty calls for without being first paid off in cash or kind, is what amounts to breaking the Covenant of Allah. Sim-ilarly, if not doing something is obligatory on a person, then, should that person do it against returns received from someone, that too will consti¬tute the breaking of the Covenant of Allah. This tells us that all prevailing kinds of bribery are unlawful. For example, a government servant who receives a salary for what he does has virtually given a pledge to Allah that he would perform the job assigned to him against the salary he receives. Now, if he goes about asking for some sort of return from someone in order to do that job, and keeps hedg¬ing and postponing the required action until he has that return, then, this official is breaking the Covenant of Allah. Similarly, doing someth¬ing for which the department has not empowered him, even doing it by accepting bribe, is also a breach of pledge. [ A1.-Bahr al-Muhit ] A Comprehensive Definition of Bribe The statement of Ibn ` Atiyyah quoted above also accomodates a fairly inclusive definition of bribe (Rishwat) which, in the words of Tafsir Al-Bahr al-Muhit, is as follows: اَخَذ الاموال علی فعل ما یجب علی الاٰخذ فعلہ او فعل ما یجب علیہ ترکہ Taking a return for not doing a job the doing of which is obliga¬tory on a person, or taking a return for doing a job not doing which is obligatory on a person, is what bribe is. [ A1-B4r al-Muhit, p. 533, v. 5] That the combined blessings of the whole world are paltry has been stated in the next verse (96) through the words: مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ وَمَا عِندَ اللَّـهِ بَاقٍ that is, &what is with you (meaning worldly gains; is to end; and what is with Allah Ta’ ala (meaning the reward and punishment of the Hereaft¬er) is to last forever&.

رشوت لینا سخت حرام اور اللہ سے عہد شکنی ہے : (آیت) وَلَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَـمَنًا قَلِيْلًا۔ یعنی اللہ کے عہد کو تھوڑی سی قیمت کے بدلے میں نہ توڑو یہاں تھوڑی سی قیمت سے مراد دنیا اور اس کے منافع ہیں وہ مقدار میں کتنے بھی بڑے ہوں آخرت کے منافع کے مقابلہ میں ساری دنیا اور اس کی ساری دولتیں بھی قلیل ہی ہیں جس نے آخرت کے بدلے میں دنیا لے لی اس نے انتہائی خسارہ کا سودا کیا ہے کہ ہمیشہ رہنے والی اعلیٰ ترین نعمت و دولت کو بہت جلد فنا ہونے والی گھٹیا قسم کی چیز کے عوض بیچ ڈالنا کوئی سمجھ بوجھ والا انسان گوارا نہیں کرسکتا۔ ابن عطیہ نے فرمایا کہ جس کام کا پورا کرنا کسی شخص کے ذمہ واجب ہو وہ اللہ کا عہد اس کے ذمہ ہے اس کے پورا کرنے پر کسی سے معاوضہ لینا اور بغیر لئے نہ کرنا اللہ کا عہد توڑنا ہے اسی طرح جس کا نہ کرنا کسی کے ذمہ واجب ہے کسی سے معاوضہ لے کر اس کو کردینا یہ بھی اللہ کا عہد توڑنا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رشوت کی مروجہ قسمیں سب حرام ہیں جیسے کوئی سرکاری ملازم کسی کام کی تنخواہ حکومت سے پاتا ہے تو اس نے اللہ سے عہد کرلیا ہے کہ یہ تنخواہ لے کر مفوضہ خدمت پوری کروں گا اب اگر وہ اس کے کرنے پر کسی سے معاوضہ مانگے اور بغیر معاوضہ اس کو ٹلائے تو یہ عہد اللہ تو توڑ رہا ہے اسی طرح جس کام کا اس کو محکمہ کی طرف سے اختیار نہیں اس کو رشوت لے کر ڈالنا بھی اللہ سے عہد شکنی ہے (بحرمحیط) اخذ الاموال علیٰ فعل ما یجب علی الاخذ فعلہ اوفعل ما یجب علیہ ترکہ : یعنی جس کام کا کرنا اس کے ذمہ واجب ہے اس کے کرنے پر معاوضہ لینا یا جس کام کا چھوڑنا اس کے ذمہ لازم ہے اس کے کرنے پر معاوضہ لینا رشوت ہے (تفسیر بحرمحیط ص ٥٣٣ ج ٥) اور پوری دنیا کی ساری نعمتوں کا قلیل ہونا اگلی آیت میں اس طرح بیان فرمایا (آیت) مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ یعنی جو کچھ تمہارے پاس ہے (مراد اس سے دنیوی منافع ہیں) وہ سب ختم اور فنا ہونے والا ہے او جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے (مراد اس سے آخرت کا ثواب و عذاب ہے) وہ ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَـمَنًا قَلِيْلًا ۭ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 95؀ شری الشِّرَاءُ والبیع يتلازمان، فَالْمُشْتَرِي دافع الثّمن، وآخذ المثمن، والبائع دافع المثمن، وآخذ الثّمن . هذا إذا کانت المبایعة والْمُشَارَاةُ بناضّ وسلعة، فأمّا إذا کانت بيع سلعة بسلعة صحّ أن يتصور کلّ واحد منهما مُشْتَرِياً وبائعا، ومن هذا الوجه صار لفظ البیع والشّراء يستعمل کلّ واحد منهما في موضع الآخر . وشَرَيْتُ بمعنی بعت أكثر، وابتعت بمعنی اشْتَرَيْتُ أكثر، قال اللہ تعالی: وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] ، أي : باعوه، ( ش ر ی ) شراء اور بیع دونوں لازم ملزوم ہیں ۔ کیونکہ مشتری کے معنی قیمت دے کر اس کے بدلے میں کوئی چیز لینے والے کے ہیں ۔ اور بائع اسے کہتے ہیں جو چیز دے کہ قیمت لے اور یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب ایک طرف سے نقدی اور دوسری طرف سے سامان ہو لیکن جب خریدو فروخت جنس کے عوض جنس ہو ۔ تو دونوں میں سے ہر ایک کو بائع اور مشتری تصور کرسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بیع اور شراء کے الفاظ ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے ہیں اور عام طور پر شربت بمعنی بعت اور ابتعت بمعنی اشتریت آتا ہے قرآن میں ہے ۔ وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] اور اس کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ ڈالا ۔ ثمن قوله تعالی: وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] . الثَّمَنُ : اسم لما يأخذه البائع في مقابلة البیع، عينا کان أو سلعة . وکل ما يحصل عوضا عن شيء فهو ثمنه . قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمانِهِمْ ثَمَناً قَلِيلًا [ آل عمران/ 77] ، ( ث م ن ) الثمن اصل میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو فروخت کرنے والا اپنی چیز کے عوض خریدار سے وصول کرتا ہے خواہ وہ زر نقد ہو یا سامان ۔ قرآن میں ہے :۔ وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] اور اسے تھوڑی سی قیمت یعنی چند درہموں پر بیچ ڈالا ۔ قل القِلَّةُ والکثرة يستعملان في الأعداد، كما أنّ العظم والصّغر يستعملان في الأجسام، ثم يستعار کلّ واحد من الکثرة والعظم، ومن القلّة والصّغر للآخر . وقوله تعالی: ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] ( ق ل ل ) القلۃ والکثرۃ بلحاظ اصل وضع کے صفات عدد سے ہیں جیسا کہ عظم اور صغر صفات اجسام سے ہیں بعد کثرت وقلت اور عظم وصغڑ میں سے ہر ایک دوسرے کی جگہ بطور استعارہ استعمال ہونے لگا ہے اور آیت کریمہ ؛ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہیں رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن ۔ میں قلیلا سے عرصہ قلیل مراد ہے ۔ خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» «3» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔ اور خیر دو قسم پر ہے ( 1 ) خیر مطلق جو ہر حال میں اور ہر ایک کے نزدیک پسندیدہ ہو جیسا کہ آنحضرت نے جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خیر نہیں ہے جس کے بعد آگ ہو اور وہ شر کچھ بھی شر نہیں سے جس کے بعد جنت حاصل ہوجائے ( 2 ) دوسری قسم خیر وشر مقید کی ہے ۔ یعنی وہ چیز جو ایک کے حق میں خیر اور دوسرے کے لئے شر ہو مثلا دولت کہ بسا اوقات یہ زید کے حق میں خیر اور عمر و کے حق میں شربن جاتی ہے ۔ اس بنا پر قرآن نے اسے خیر وشر دونوں سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] اگر وہ کچھ مال چھوڑ جاتے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٥) اور تم لوگ جھوٹی قسمیں کھا کر دنیا کا معمولی سا فائدہ مت حاصل کرو، تمہارے پاس جو متاع دنیوی ہے، اس سے ثواب آخرت کئی درجے بہتر ہے، جب کہ تم ثواب خداوندی کو سمجھنا چاہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ) تمہیں دنیا کے چھوٹے چھوٹے مفادات بہت عزیز ہیں اور ان حقیر مفادات کے لیے تم لوگ اللہ کی ہدایت کو ٹھکرا رہے ہو ‘ مگر تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اگر تم لوگ اس ہدایت کو قبول کرلو گے تو اللہ کے ہاں اخروی انعامات سے نوازے جاؤ گے۔ اللہ کے ہاں جنت کی دائمی نعمتیں تمہارے ان مفادات کے مقابلے میں کہیں بہتر ہیں جن کے ساتھ تم لوگ آج چمٹے ہوئے ہو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

96. That is, the covenant that you may make in the name of Allah as a representative of His religion. 97. It does not mean that they should barter away Allah’s covenant for some big gain. What it implies is that any worldly gain howsoever great is insignificant as compared with the worth of Allah’s covenant. Therefore, it will be a losing bargain to barter that away for any worldly gain, which is after all paltry.

سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :96 یعنی اس عہد کو جو تم نے اللہ کے نام پر کیا ہو ، یا دین الہٰی کے نمائندہ ہونے کی حیثیت سے کیا ہو ۔ سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :97 یہ مطلب نہیں ہے کہ اسے بڑے فائدے کے بدلے بیچ سکتے ہو ۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ دنیا کا جو فائدہ بھی ہے وہ اللہ کے عہد کی قیمت میں تھوڑا ہے ۔ اس لیے اس بیش بہا چیز کو اس چھوٹی چیز کے عوض بیچنا بہرحال خسارے کا سودا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:95) لا تشتروا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم مت خریدو۔ تم مت مول لو۔ اشتراء (افتعال) مصدر۔ انما۔ ای ان ما۔ بیشک۔ تحقیق۔ (جو بطور ثواب آخرت اللہ کے پاس ہے) ۔ ان۔ حرف مشبہ بالفعل ہے اور خبر کی تاکید اور تحقیق مزید کے لئے آتا ہے۔ حروف مشبہ بالفعل اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں۔ لیکن جب ان کے بعد ما کافّہ آجائے تو ان عمل نہیں کرتا۔ اور کلمہ حصر کے معنی دیتا ہے۔ جیسے انما المشرکون نجس۔ (9:28) مشرکین تو پلید ہیں یعنی نجاست تامہ تو مشرکین کے ساتھ مختص ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 اوپر کی آیتوں میں باہمی معاہدوں کی پابندی پر زور دیا۔ اب بتایا کہ ایمان لا کر جو اللہ تعالیٰ سے عہد باندھا ہے اس کے توڑنے سے بچو، یعنی مال کی طمع میں آ کر شریعت کی خلاف ورزی نہ کرو جو مال خلاف شرع ہاتھ آوے وہ موجب وبال ہے جو مال شریعت کے موافق ہاتھ آئے تمہارے حق میں وہی بہتر ہے۔ (موضح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولا تشروا بعھد اللہ ثمنا قلیلا انما عند اللہ ھو خیر لکم ان کنتم تعلمون (٦١ : ٥٩) ” اللہ کے عہد کو تھوڑے سے فائدے کے بدلے بیچ نہ ڈالو ، جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے ، اگر تم جانو “۔ پھر قرآن کریم یاد دلاتا ہے کہ لوگوں کے پاس جو کچھ ہے ، اگرچہ وہ ان کی ملکیت ہو ، وہ زائل ہونے والا ہے اور اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَھْدِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیْلًا) (اور اللہ کے عہد کے ذریعہ تھوڑی قیمت حاصل نہ کرو) (اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰہِ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ) (بلاشبہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ ) فائدہ : آیات بالا میں کئی طرح سے عہد پورا کرنے کا حکم فرمایا ہے اور نقض عہد کی مذمت کی ہے قرآن مجید میں دیگر مواقع میں بھی عہد پورا کرنے کا حکم فرمایا ہے سورة مائدہ کے شروع میں ہے۔ (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بالْعُقُوْدِ ) سورة الانعام میں فرمایا کہ (وَبِعَھْدِ اللّٰہِ اَوْفُوْا) اور سورة الاسراء میں فرمایا ہے۔ (وَ اَوْفُوْا بالْعَھْدِ اِنَّ الْعَھْدَ کَانَ مَسْءُوْلًا) (اور عہد پورا کرو بلاشبہ عہد کے بارے میں بازپرس ہوگی) درحقیقت عہد پورا کرنا بہت بڑی ایمانی ذمہ داری ہے اس میں لوگ دنیاوی مفاد اور منافع کے لیے کچے پڑجاتے ہیں۔ یہ جو فرمایا کہ (وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَھْدِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیْلًا) (اور اللہ کے عہد کے عوض تھوڑی قیمت حاصل نہ کرو) اس میں عہد کو توڑ کر دنیاوی منافع حاصل کرنے کی ممانعت فرمائی ہے، خواہ وہ منافع مال کی صورت میں ہوں یا جاہ کی صورت میں ہوں، علامہ قرطبی لکھتے ہیں۔ نھی عن الرشی واخذ الاموال علی نقض العھد ای لا تنقضوا عھودکم لعرض قلیل من الدنیا انفرادی یا اجتماعی طور پر جو عہد کیے گئے ہیں جن میں حلف اٹھایا جاتا ہے اور اللہ کا نام لیا جاتا ہے پھر ان کو مال یا منصب اور عہدہ کے لیے توڑ دیا جاتا ہے ان لوگوں کے لیے اس میں خصوصی تنبیہ فرمائی ہے، دنیا جتنی بھی زیادہ ہو آخرت کے مقابلہ میں قلیل ہے اور حقیر ہے اور ملتی بھی ہے تھوڑے سے دن کے لیے اس لیے ثمن قلیل یعنی تھوڑی قیمت فرمایا، الفاظ کے عموم میں ہر طرح کی رشوت لینے کی ممانعت آگئی، یہ ضروری نہیں ہے کہ رشوت میں مال ہی کا لین دین ہو دنیا کا نفع رشوت کے طور پر حاصل کیا جاسکتا ہے اور عام طور پر لوگ اس میں مبتلا ہوتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے لعن اللّٰہ الراشی والمرتشی والرائش یعنی الذی یمشی بینھما اللہ کی لعنت ہو رشوت لینے والے پر اور رشوت دینے والے پر اور ان کے درمیان واسطہ بننے والے پر۔ جو لوگ حکومت کے کسی جائز شعبہ میں کام کرنے پر مقرر ہیں اور ملازم ہیں یہ لوگ رشوت میں جو مال لیتے ہیں اگرچہ ہدیہ اور تحفہ ہی نام رکھ لیا جائے اس کا حرام ہونا تو ظاہر ہی ہے ان کی تنخواہ بھی حلال نہیں ہوتی کیونکہ انہیں جس کام کے لیے دفتر بٹھایا گیا ہے وہ کام نہیں کرتے اگر قانون کے مطابق کام کرتے ہیں تو کوئی رشوت نہیں دے گا اور اصول و قواعد کے خلاف کام کرنے سے مقررہ ذمہ داری پوری نہیں ہوتی اور اسی پر رشوت ملتی ہے جس کام کی تنخواہ لیتے ہیں وہ نہیں کرتے اور رشوت لے کر وہ کرتے ہیں جس کی اجازت نہیں ہے۔ آج کل عہد کو توڑ دینا معمولی سی بات بن کر رہ گئی ہے۔ سیاست کی دنیا میں تو عہد کرنا پھر مال اور کرسی کے لیے عہد توڑ دینا کوئی بات ہی نہیں ہے جدھر جاہ و مال کا فائدہ دیکھا ادھر ڈھل گئے۔ الیکشنوں سے پہلے اور اس کے بعد جو عہد ہوتے ہیں پھر جو ان کی مٹی خراب ہوتی ہے اخبارات کا مطالعہ کرنے والے ان سے ناواقف نہیں ہیں۔ رؤسا اور وزراء جو اللہ کا نام لے کر حلف اٹھاتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کے لیے اور مسلمانوں کے ملک کے لیے ہمدردانہ طور پر کام کریں گے وہ اپنے حلف میں کس قدر پورے اترتے ہیں جاننے والے جانتے ہیں، ملک اور قوم کے مفاد کی بجائے صرف اپنی کرسی سنبھالنے کی فکر میں رہنا اور اپنی جماعت اور اپنے رشتہ داروں کا نوازنا ہی مقصد بن کر رہ جاتا ہے۔ یہ ان لوگوں کا حال ہے جو اسلام کے دعویدار ہیں ذرا اپنے حالات کو قرآن مجید کے احکام سامنے رکھ کر پرکھ لیں۔ عہد کو پورا کرنے کی شریعت اسلامیہ میں بہت بڑی اہمیت ہے اور جس کی جتنی بڑی ذمہ داری ہے اور جتنا بڑا عہدہ ہے اس سے اسی قدر آخرت میں اس کی باز پرس ہوگی اور رسوائی کا سامنا ہوگا حضرت سعد (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن ہر دھوکہ دینے والے کا ایک جھنڈا ہوگا اور جتنا بڑا غدر تھا اسی قدر اونچا ہوگا جو اس کے پاخانہ کرنے کے مقام پر کھڑا کیا جائے گا مزید فرمایا کہ جو شخص عامتہ الناس کا امیر بنا کسی کا غدر اس کے غدر سے بڑھ کر نہیں ہے۔ حضرت معقل بن یسار (رض) سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہ جو بھی کوئی شخص مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں کا والی بنا (یعنی ان کی دیکھ بھال اس کے ذمہ کی گئی) پھر وہ اس حال میں مرگیا کہ وہ ان کے ساتھ خیانت کرنے والا تھا تو اللہ اس پر جنت حرام فرما دے گا۔ دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ جس کسی بندہ کو اللہ نے چند افراد کا نگہبان بنایا پھر اس نے ان لوگوں کی اچھی طرح خیر خواہی نہ کی تو جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٣٢١)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

79:۔ اسلام قبول کرنے کے بعد مشرکین کی ظاہری شان و شوکت، مال و دولت اور افراد کی کثرت کو دیکھ کر عہد اسلام کو مت توڑو کیونکہ یہ دنیا کا تمام ساز و سامان اور مال و دولت آخرت کے مقابلے میں نہایت حقیر اور بےوقعت ہے۔ اسلام پر قائم رہنے کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے یہاں تمہاری جو قدر و منزلت اور تمہارے لیے جو اجر وثواب ہے وہ اس دنیوی مال، سامان اور عیش سے کہیں بہتر ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

95 ۔ اور تم لوگ عہد خداوندی کے عوض اور جو عہد تم نے خدا تعالیٰ سے کیا اس کے بدلے میں دنیا کا تھوڑا سا فائدہ مت حاصل کیا کرو بلا شبہ جو عوض اور جو بالا اللہ تعالیٰ کے ہاں اور جو ذخیرہ آخرت اس کے پاس ہے وہ تمہارے لئے بدرجہا بہتر ہے اگر تم اس بات کو سمجھو۔ اوپر کی آیت میں باہمی عہد و پیماں کے نباہنے کی تاکید فرمائی اب اس عہد کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہر بندے کا عہد ہے۔ ثمن قلیل سے مراد دنیاوی فوائد ہیں دنیا خواہ کتنی ہی زائد ہو آخرت کے مقابلہ میں بہر حال کم بھی ہے اور فانی بھی ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلے مذکور تھا آس کے قول توڑنے کا اب ذکر ہے اللہ سے قول توڑنے کا یعنی مال کی طرح سے حکم شرع سے خلاف نہ کرو وہ مال و بال بدلا دے گا جو موافق شرع ہاتھ لگے وہی بہتر ہے تمہارے حق میں ۔ 12