| Perfect Tense | Imperfect Tense | Imperative | Active Participle | Passive Participle | Noun Form |
--- |
--- |
--- |
--- |
--- |
--- |
اَلثُّبُوْرُ: (مصدرن) کے معنی ہلاک ہونے یا (زخم کے) خراب ہونے کے ہیں اور اَلْمُثابِرُ کسی کام کو مسلسل کرنے والا) ثَابَرْتُ عَلَی الْاَمْرِ سے (اسم فاعل کا صیغہ) ہے۔ جس کے معنی کسی کام کو مسلسل کرنا کے ہیں۔ قرآن پاک میں ہے: (دَعَوۡا ہُنَالِکَ ثُبُوۡرًا …لَا تَدۡعُوا الۡیَوۡمَ ثُبُوۡرًا وَّاحِدًا وَّ ادۡعُوۡا ثُبُوۡرًا کَثِیۡرًا) (۲۵:۱۳،۱۴) تو وہاں ہلاکت کو پکاریں گے، آج ایک ہی ہلاکت کو نہ پکارو، بہت سی ہلاکتوں کو پکارو۔ اور آیت کریمہ: (وَ اِنِّیۡ لَاَظُنُّکَ یٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُوۡرًا) (۱۷:۱۰۲) اے فرعون! میں خیال کرتا ہوں کہ تم ہلاک ہوجاؤگے۔ میں ابن عباسؓ نے مَثْبُوْرًا کے معنی ناقص العقل کیے ہیں کیونکہ نقصانِ عقل سب سے بڑی ہلاکت ہے۔ ثَبِیْرُ مکہ کی ایک پہاڑی کا نام۔
Surah:17Verse:102 |
ہلاک ہونے والا
(you are) destroyed"
|