Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 33

سورة بنی اسراءیل

وَ لَا تَقۡتُلُوا النَّفۡسَ الَّتِیۡ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالۡحَقِّ ؕ وَ مَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِوَلِیِّہٖ سُلۡطٰنًا فَلَا یُسۡرِفۡ فِّی الۡقَتۡلِ ؕ اِنَّہٗ کَانَ مَنۡصُوۡرًا ﴿۳۳﴾

And do not kill the soul which Allah has forbidden, except by right. And whoever is killed unjustly - We have given his heir authority, but let him not exceed limits in [the matter of] taking life. Indeed, he has been supported [by the law].

اور کسی جان کو جس کا مارنا اللہ نے حرام کر دیا ہے ہرگز ناحق قتل نہ کرنا اور جو شخص مظلوم ہونے کی صورت میں مار ڈالا جائے ہم نے اس کے وارث کو طاقت دے رکھی ہے کہ پس اسے چاہیے کہ مار ڈالنے میں زیادتی نہ کرے بیشک وہ مدد کیا گیا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Prohibition of Unlawful Killing Allah forbids killing with no legitimate reason. وَلاَ تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللّهُ إِلاَّ بِالحَقِّ ... And do not kill anyone whose killing Allah has forbidden, except for a just cause. It was reported in the Two Sahihs that the Messenger of Allah said: لاَا يَحِلُّ دَمُ امْرِىءٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لاَا إِلَهَ إِلاَّ اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ إِلاَّ بِإِحْدَى ثَلَاثٍ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالزَّانِي الْمُحْصَنُ وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَة The blood of a Muslim who bears witness to La ilaha illallah and that Muhammad is the Messenger of Allah, is not permissible (to be shed) except in three cases: a soul for a soul (i.e., in the case of murder), an adulterer who is married, and a person who leaves his religion and deserts the Jama'ah. The following is recorded in the books of the Sunan: لَزَوَالُ الدُّنْيَا عِنْدَ اللهِ أَهْوَنُ مِنْ قَتْلِ مُسْلِم If the world were to be destroyed, it would be of less importance to Allah than the killing of a Muslim. ... وَمَن قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا ... And whoever is killed wrongfully, We have given his heir the authority. The authority is over the killer. The heir has the choice; if he wishes, he may have him killed in retaliation, or he may forgive him in return for the payment of the Diyah (blood money), or he may forgive him with no payment, as is reported in the Sunnah. The great scholar and Imam Ibn Abbas understood from the general meaning of this Ayah that Mu`awiyah should take power, because he was the heir of `Uthman, who had been killed wrongfully, may Allah be pleased with him, and Mu`awiyah did eventually take power, as Ibn Abbas said on the basis of this Ayah. This is one of the stranger of matters. ... فَلَ يُسْرِف فِّي الْقَتْلِ ... But let him not exceed limits in the matter of taking life. They said: this means the heir should not go to extremes in killing the killer, such as mutilating the body or taking revenge on persons other than the killer. ... إِنَّهُ كَانَ مَنْصُورًا Verily, he is helped. means, the heir is helped against the killer by the Shariah and by divine decree.

نا حق قتل بغیر حق شرعی کے کسی کو قتل کرنا حرام ہے ۔ بخاری مسلم میں ہے جو مسلمان اللہ کے واحد ہونے کی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے کی شہادت دیتا ہو اس کا قتل تین باتوں کے سوا حلال نہیں ۔ یا تو اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا شادی شدہ ہو اور پھر زنا کیا ہو یا دین کو چھوڑ کر جماعت کو چھوڑ دیا ہو ۔ سنن میں ہے ساری دنیا کا فنا ہو جانا اللہ کے نزدیک ایک مومن کی قتل سے زیادہ آسان ہے ۔ اگر کوئی شخص نا حق دوسرے کے ہاتھوں قتل کیا گیا ہے تو اس کے وارثوں کو اللہ تعالیٰ نے قتل پر غالب کر دیا ہے ۔ اسے قصاص لینے اور دیت لینے اور بالکل معاف کر دینے میں سے ایک کا اختیار ہے ۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس آیت کریمہ کے عموم سے حضرت معاویہ کی سلطنت پر استدلال کیا ہے کہ وہ بادشاہ بن جائیں گے اس لئے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ انتہائی مظلومی کے ساتھ شہید کئے گئے تھے ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قاتلان حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے طلب کرتے تھے کہ ان سے قصاص لیں اس لئے کہ یہ بھی اموی تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اموی تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس میں ذرا ڈھیل کررہے تھے ۔ ادھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مطالبہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ تھا کہ ملک شام ان کے سپرد کر دیں ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں تا وقتیکہ آپ قاتلان عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہ دیں میں ملک شام کو آپ کی زیر حکومت نہ کروں گا چنانچہ آپ نے مع کل اہل شام کے بیعت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انکار کر دیا ۔ اس جھگڑے نے طول پکڑا اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ شام کے حکمران بن گئے ۔ معجم طبرانی میں یہ روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رات کی گفتگو میں ایک دفعہ فرمایا کہ آج میں تمہیں ایک بات سناتا ہوں نہ تو وہ ایسی پوشیدہ ہے ، نہ ایسی علانیہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ جو کچھ کیا گیا ، اس وقت میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مشورہ دیا کہ آپ یکسوئی اختیار کرلیں ، واللہ اگر آپ کسی پتھر میں چھپے ہوئے ۔ ہوں گے تو نکال لئے جائیں گے لیکن انہوں نے میری نہ مانی ۔ اب ایک اور سنو اللہ کی قسم معاویہ تم پر بادشاہ ہو جائیں گے ، اس لئے کہ اللہ کا فرمان ہے ، جو مظلوم مار ڈالا جائے ، ہم اس کے وارثوں کو غلبہ اور طاقت دیتے ہیں ۔ پھر انہیں قتل کے بدلے میں قتل میں حد سے نہ گزرنا چاہئے الخ ۔ سنو یہ قریشی تو تمہیں فارس و روم کے طریقوں پر آمادہ کر دیں گے اور سنو تم پر نصاری اور یہود اور مجوسی کھڑے ہو جائیں گے اس وقت جس نے معروف کو تھام لیا اس نے نجات پا لی اور جس نے چھوڑ دیا اور افسوس کہ تم چھوڑنے والوں میں سے ہی ہو تو مثل ایک زمانے والوں کے ہوؤگے کہ وہ بھی ہلاک ہونے والوں میں ہلاک ہو گئے ۔ اب فرمایا ولی کو قتل کے بدلے میں حد سے نہ گزر جانا چاہئے کہ وہ قتل کے ساتھ مثلہ کرے ۔ کان ، ناک ، کاٹے یا قتل کے سوا اور سے بدلہ لے ۔ ولی مقتول شریعت ، غلبے اور مقدرت کے لحاظ سے ہر طرح مدد کیا گیا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

33۔ 1 حق کے ساتھ قتل کرنے کا مطلب قصاص میں قتل کرنا ہے، جس کو انسانی معاشرے کی زندگی اور امن و سکون کا باعث قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح شادی شدہ زانی اور مرتد کو قتل کرنے کا حکم ہے۔ 33۔ 2 یعنی مقتول کے وارثوں کو یہ حق یا غلبہ یا طاقت دی گئی ہے کہ وہ قاتل کو حاکم وقت کے شرعی فیصلہ کے بعد قصاص میں قتل کردیں یا اس سے دیت لے لیں یا معاف کردیں اور اگر قصاص ہی لینا ہے تو اس میں زیادتی نہ کریں کہ ایک کے بدلے میں دو یا تین چار کو مار دیں، یا اس کا مثلہ کر کے یا عذاب دے کر ماریں، مقتول کا وارث، مدد دیا گیا ہے، یعنی امرا و احکام کو اس کی مدد کرنے کی تاکید کی گئی ہے، اس لئے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے نہ یہ کہ زیادتی کا ارتکاب کر کے اللہ کی ناشکری کرے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٨] قتل بالحق اور بغیر الحق کی صورتیں :۔ قتل کے سلسلے میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ انفرادی طور پر کسی شخص کو کبھی بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اٹھ کر کسی کو قتل کر دے۔ الا یہ کہ کوئی ڈاکو وغیرہ اس پر حملہ آور ہو اور وہ اپنی مدافعت کرے جس میں ڈاکو مارا جائے۔ حتیٰ کہ انسان خود کشی بھی نہیں کرسکتا۔ کیونکہ اس کی اپنی جان کا بھی وہ خود مالک نہیں ہے کہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرے بلکہ خود کشی بھی ایسا ہی جرم ہے جیسے کسی دوسرے شخص کو قتل کرنا۔ اسی طرح اپنی اولاد کو قتل کرنا بھی، خواہ اس کی وجہ کوئی بھی ہو، جرم عظیم ہے۔ قصاص لینا حکومت کے واسطہ ہی سے ہوتا ہے خواہ یہ قصاص جان کا ہو یا جوارح کا۔ بہر صورت یہ مقدمہ عدالت میں پیش کیا جائے گا اور قتل بالحق ہمیشہ بالواسطہ یا بلاواسطہ اسلامی حکومت سے متعلق ہوتا ہے اور اس کی پانچ صورتیں ہیں۔ (١) اسلام کی راہ میں مزاحمت کرنے والوں سے جہاد کی صورت میں ہوتا ہے، (٢) اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والوں کا قتل، (٣) قصاص کی صورت میں، (٤) شادی شدہ مرد یا عورت اگر زنا کریں تو رجم کی صورت میں ان کو مار دیا جائے گا، (٥) مرتد کا قتل، اور سب قسم کے قتل حکومت سے متعلق ہیں۔ انفرادی طور پر کوئی شخص دوسرے کو قتل کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ [٣٩] مقتول کے ورثاء کے اختیارات :۔ یہ اختیار بھی اسے ذاتی طور پر نہیں بلکہ حکومت کی وساطت سے ہوگا کہ چاہے تو قصاص لے لے، چاہے تو خون بہا قبول کرلے اور چاہے تو بالکل ہی معاف کر دے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مقدمہ قتل کا اصل مدعی مقتول کا ولی ہوتا ہے نہ کہ خود حکومت یا سرکار۔ ہمارے ہاں مروجہ قانون تعزیرات کے مطابق قتل کا مقدمہ قابل راضی نامہ یا مصالحت نہیں ہے جبکہ اسلامی نقطہ ئنظر سے اصل مدعی مقتول کا ولی ہوتا ہے اور اسے یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی وقت بھی مصالحت یا راضی نامہ کرسکے۔ [٤٠] قصاص میں زیادتی کی صورتیں :۔ زیادتی کی کئی شکلیں ممکن ہیں۔ جیسے اصل قاتل کے بجائے کسی دوسرے کو پھنسا دے یا اصل قاتل مل نہیں رہا تو اس کے کسی رشتہ دار سے قصاص کی کوشش کرے یا دیدہ دانستہ کسی دوسرے کو بھی قتل کا ذمہ دار قرار دے۔ یا اگر حکومت مجرم کو قصاص کے لیے اس کے حوالہ کردے تو قصاص میں بہت زیادہ اذیتیں دے یا اگر غصہ کم نہ ہو تو بعد میں مثلہ وغیرہ کرے۔ وغیرہ وغیرہ۔ [٤١] یعنی حکومت اور افراد معاشرہ سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مقتول کے ولی کی حمایت کریں۔ نہ یہ کہ الٹا قاتل کی حمایت یا اس کی ہمدردی کرنے لگیں اور اس پر ترس کھانے لگیں اس طرح ظلم کا کبھی خاتمہ نہیں ہوسکتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ ۔۔ : انسانی جان اور عزت کی حفاظت کے لیے قتل اولاد اور زنا کے قریب جانے سے منع کرنے کے بعد اب کسی بھی شخص کو ناحق قتل کرنے سے منع فرمایا۔ قتل مسلم کب ناحق ہے اور کب حق ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( لَا یَحِلُّ دَمُ امْرِیءٍ مُسْلِمٍ یَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، وَ أَنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ إِلاَّ بِإِحْدٰی ثَلاَثٍ النَّفْسُ بالنَّفْسِ ، وَالثَّیِّبُ الزَّانِيْ ، وَالْمُفَارِقُ لِدِیْنِہِ التَّارِکُ لِلْجَمَاعَۃِ ) [ بخاری، الدیات، باب قول اللّٰہ تعالیٰ : ( إن النفس بالنفس۔۔ ) : ٦٨٧٨، عن عبد اللّٰہ بن مسعود (رض) ] ” کسی مسلمان کو، جو کلمہ ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ پڑھتا ہو، قتل کرنا حلال نہیں، مگر تین چیزوں میں سے کسی ایک کے ساتھ، جان کے بدلے جان، غیر کنوارا زانی اور اپنے دین کو ترک کرنے والا، جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والا۔ “ مگر یہ حصر حقیقی نہیں ہے، کیونکہ بعض دوسرے جرائم میں بھی قتل کا جواز ثابت ہے، مثلاً رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دینا اور محرم کے ساتھ نکاح کرنا وغیرہ۔ ( بخاری : ١٨٤٦۔ ابوداؤد : ٤٤٥٦) اس قتل میں خودکشی بھی داخل ہے، یعنی اپنے آپ کو قتل کرنا بھی جائز نہیں۔ (دیکھیے نساء : ٢٩) قتل عمد کی قباحت کے لیے ملاحظہ فرمائیں سورة نساء (٩٣) ۔ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهٖ سُلْطٰنًا : اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو ناحق قتل کردے تو مقتول کے ولی کو اللہ تعالیٰ نے پورا اختیار دیا ہے کہ چاہے تو قصاص لے لے، چاہے دیت لے لے، یا دیت کے بغیر معاف کر دے۔ ” سلطٰنا “ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلم حکمران پر لازم ہے کہ وہ اسے ان تینوں باتوں کا اختیار دے، پھر اگر وہ قصاص لینا چاہے تو اسے قصاص دلوائے، اگر قاتل یا اس کے ساتھی مزاحمت کریں تو شریعت کی بغاوت پر ان سے جنگ کرے۔ یہ قصاص معاشرے میں سے قتل ناحق کو ختم کرنے کا واحد طریقہ ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (١٧٨، ١٧٩) کفار کے معاشروں میں بدامنی اور بیشمار قتل قصاص نہ ہونے ہی کی وجہ سے ہیں۔ اب مسلم حکمرانوں نے بھی ایک آدھ کے علاوہ قصاص کے حکم اور اس کے شرعی طریقے کو چھوڑ کر کفار کا قانون اپنایا تو اس کے نتیجے میں وہ بھی امن کے بجائے خوف اور بدامنی کا شکار ہوگئے۔ کفار کے ملکوں کی طرح نہ وہاں کسی کی جان محفوظ ہے، نہ مال، نہ عزت وآبرو اور اسے ترقی قرار دیا جا رہا ہے۔ فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ : قصاص لیتے وقت قتل میں زیادتی یہ ہے کہ قاتل کے بجائے کسی اور کو قتل کر دے، یا قاتل کے ساتھ انھیں بھی قتل کرے جو قتل میں شریک نہیں ہیں، یا قتل سے پہلے مثلہ کرے، یعنی اس کے اعضا کاٹے یا مختلف طریقوں سے تکلیف دے دے کر مار دے۔ اس میں صرف یہ استثنا ہے کہ قاتل نے جس طریقے سے قتل کیا ہے اس طریقے سے اسے قتل کرسکتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (١٩٤) ، سورة نحل (١٢٦) اور سورة بقرہ کی آیات قصاص (١٧٨، ١٧٩) ۔ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا : یعنی مسلم حکومت اور تمام مسلمان اس کی مدد کریں گے، ان سب پر اس کی مدد لازم ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ بھی دنیا اور آخرت میں اس کی نصرت فرمائے گا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary This eighth injunction is about the prohibition of killing unjustly. Vir¬tually all groups, religions and sects of the world take it to be a grave crime. In Hadith, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said, |"The destruction of the en-tire world is lighter in the sight of Allah than the unjust killing of a be¬liever.|" In addition to this, some reports also carry the words: |"Even if the inhabitants of Allah&s seven heavens and seven earths were to join in the killing of a believer unjustly, He will put all of them into the Hell.|" (Ibn Majah with a chain classified as Hasan and al-Baihaqi - from Mazhari) And in another Hadith, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been reported to have said, |"Whoever abets in the killing of a believer by assisting the kill¬er even with one word will be brought before Allah Ta’ ala on the day of Resurrection. And written on his forehead shall be: آیس من رحمۃ اللہ (Deprived of the mercy of Allah). (Mazhari from Ibn Majah and Isbahani) And al-Baihaqi reports on the authority of Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas and Sayyidna Mu&wiyah (رض) that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said, |"Hopefully, Allah Ta` ala may forgive every sin except that of the person who died in the state of disbelief (kufr) or who killed a believer intentionally and unjustly.|" The meaning of Unjust Killing Imam al-Bukhari and Muslim have reported on the authority of Sayy¬idna ` Abdullah ibn Masud رضی اللہ تعالیٰ عنہما that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said, |"The blood of any Muslim who bears testimony that Allah is one and I am His Mes¬senger is not halal (lawful) except under three situations. (1) He has, despite being married, committed adultery (for his legal punishment is that he should be stoned to death). (2) He who has killed a person unjust¬ly [ for his punishment is that the waliyy (legal heir) of the person killed can get him killed under the law of qisas (even retaliation)]. (3) A person who has reneged [ as an apostate: murtadd ] from the religion of Islam (for he too is killed in punishment). Who has the right to take Qisas? It has been said in this verse that this is the right of the waliyy (legal heir) of the person killed. In the absence of a lineal waliyy, the head of the Islamic government will have this right - for, he too, in a way, is the waliyy of all Muslims. Therefore, in Islamic juristic terminology, the former is called real and the later, legal. Injustice is not answered by injustice, but by justice: So, be just even when punishing criminals The statement: فَلَا يُسْرِ‌ف فِّي الْقَتْلِ (&fala yusriffi al-qatl&: but he shall not cross the limit in the matter of taking life) is a special provision of Islam¬ic law the outcome of which is that it is not permissible to avenge injus¬tice by counter injustice. Even when retaliating, it is necessary to uphold the demand of justice. Until such time that the legal heir (waliyy) of the person killed upholds justice and seeks an even retaliation in favor of the person killed represented by him, through the legal provisions of Qisas, then, the law of the Shari` ah stands in his favor. The reason is that he is surely supported, and Allah Ta` a1 is the supporter. And in case, he is all blinded by the desire of revenge and exceeds the limits of Islamic legal retaliation, then he, instead of being the one oppressed (mazlum), became the oppressor (Zalim) while the oppressor (zalim) be-came the one oppressed by him (mazlum). Now things will stand reversed. Allah Ta` ala and His Law will not support him. Instead, it will support the other party and shield him from injustice. During the days of the Jahiliyyah, it was common practice of the Arabs that, in retaliation of a person killed, they would avenge him by killing anyone they could lay their hands on from among the family or friends of the killer. There were occasions when it would turn out that the person killed was someone notable among them. In that case, they would not take it as sufficient to kill only the killer in even retaliation for their man. In fact, to avenge one life, they would take the lives of two, three or many more men. Some of them would become so crazy in the heat of their passion for revenge that they would not be simply satis¬fied after having killed the killer. They went on to commit the horror of cutting off body parts such as the nose, ears etc. to serve as deterrents. All such actions are extra to the limits set by the Islamic Law of Even Re¬taliation (al-qisas), and are patently haram (unlawful). Therefore, such activities have been stopped by the proviso: I ) (but he shall not cross the limit in the matter of taking life). An anecdote worth remembering Someone accused Hajjaj ibn Yusuf before certain Mujtahid Imams. Hajjaj ibn Yusuf is the most notorious tyrant of Islamic history. Since, he has killed thousands of Sahabah and Tabi` in unjustly, therefore, it generally happens that people tend to overlook the evil lurking behind calling him evil. The pious elder before whom this accusation was lev¬eled against Hajjaj ibn Yusuf asked the accusers, |"Do you have any au¬thority or evidence to support your accusation?|" They said, |"No.|" Then he said, |"If Allah Ta’ ala will avenge the unjust killing of thousands of in-nocent people by Hajjaj ibn Yusuf, remember that anyone who is unjust to Hajjaj will also not be allowed to escape from that revenge. Allah Ta` la will wreak vengeance of Hajjaj from him too. There is no partisanship in the justice of Allah Ta` ala, therefore, it is not possible that He would release others to go about maligning His sinning servants by giv¬ing them a free hand to accuse and blame them at will.

خلاصہ تفسیر : اور جس شخص (کے قتل کرنے کو) اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے اس کو قتل مت کرو ہاں مگر حق پر (قتل کرنا درست ہے یعنی جب کسی شرعی حکم سے قتل کرنا واجب یا جائز ہوجائے تو وہ حرم اللہ میں داخل نہیں) اور جو شخص ناحق قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے وارث (حقیقی یا حکمی) کو اختیار دیا ہے (قصاص لینے کا) سو اس کو قتل کے بارے میں حد (شرع) سے تجاوز نہ کرنا چاہئے (یعنی قاتل پر قتل کا یقینی ثبوت ملے قتل نہ کرے اور اس کے اعزہ و اقارب وغیرہ کو جو قتل میں شریک نہیں ہیں محض جوش انتقام سے قتل نہ کرے اور اس کے اعزہ و اقارب وغیرہ کو جو قتل میں شریک نہیں ہیں محض جوش انتقام سے قتل نہ کرے اور قاتل کو بھی صرف قتل کرے ناک کان یا ہاتھ پاؤں وغیرہ کاٹ کر مثلہ نہ کرے کیونکہ) وہ شخص (قصاص میں حد سے تجاوز نہ کرنے کی صورت میں تو شرعا) مدد کے قابل ہے (اور اس نے زیادتی کی تو پھر فریق ثانی مظلوم ہو کر اللہ کی مدد کا مستحق ہوجائے گا اس لئے ولی مقتول کو چاہئے کہ وہ اپنے منصور حق ہونے کی قدر کرے حد سے بڑھ کر اس نعمت حق کو ضائع نہ کرے) معارف و مسائل : یہ آٹھواں حکم قتل ناحق کی حرمت کے بیان میں ہے جس کا جرم عظیم ہونا دنیا کی ساری ہی جماعتوں اور مذہبوں اور فرقوں میں مسلم ہے حدیث میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ ساری دنیا کی تباہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے اہوں (ہلکی) ہے کہ کسی مومن کو ناحق قتل کیا جائے (اور بعض روایات میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ) اگر اللہ تعالیٰ کے ساتوں آسمان اور ساتوں زمینوں کے باشندے کسی مومن کے قتل ناحق میں شریک ہوجائیں تو ان سب کو اللہ تعالیٰ جہنم میں داخل کردیں گے (ابن ماجہ بسند حسن والبیہقی از مظہری) اور ایک حدیث میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جس شخص نے کسی مسلمان کے قتل میں قاتل کی امداد ایک کلمہ سے بھی کی تو میدان حشر میں جب وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوگا اس کی پیشانی پر لکھا ہوگا (ائس من رحمۃ اللہ) (یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس کردیا گیا ہے) (مظہری از ابن ماجہ واصبہانی ) اور بیہقی نے بروایت حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) و حضرت معاویہ (رض) روایت کیا ہے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہر ایک گناہ کو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ معاف کر دے مگر وہ آدمی جو حالت کفر میں مر گیا یا جس نے جان بوجھ کر قصدا کسی مسلمان کو ناحق قتل کیا۔ قتل ناحق کی تفسیر : امام بخاری ومسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں جو اللہ کے ایک ہونے اور میرے رسول ہونے کی شہادت دیتا ہو بجز تین صورتوں کے ایک یہ کہ اس نے شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کیا ہو (کہ اس کی شرعی سزا یہ ہے کہ پتھراؤ کر کے اس کو مار دیا جائے) دوسرے وہ جس نے کسی انسان کو ناحق قتل کیا ہو (کہ اس کی سزاء یہ ہے کہ ولی مقتول اس کو قصاص میں قتل کرسکتا ہے) تیسرے وہ شخص جو دین اسلام سے مرتد ہوگیا ہو (کہ اس کی سزاء بھی قتل ہے) قصاص لینے کا حق کس کو ہے : آیت مذکور میں بتلایا گیا ہے کہ یہ حق مقتول کے ولی کا ہے اگر نسبی ولی کوئی موجود نہیں تو اسلامی حکومت کے سربراہ کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ بھی ایک حیثیت سے سب مسلمانوں کا ولی ہے اسی لئے خلاصہ تفسیر میں ولی حقیقی یا حکمی لکھا گیا ہے۔ ظلم کا جواب ظلم نہیں انصاف ہے مجرم کی سزا میں بھی انصاف کی رعایت : فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ اسلامی قانون کی ایک خاص ہدایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ظلم کا بدلہ ظلم سے لینا جائز نہیں بدلہ میں بھی انصاف کی رعایت لازمی ہے جب تک ولی مقتول انصاف کے ساتھ اپنے مقتول کا انتقام شرعی قصاص کے ساتھ لینا چاہئے تو قانون شریعت اس کے حق میں ہے یہ منصور حق ہے اللہ تعالیٰ اس کا مددگار ہے اور اگر اس نے جوش انتقام میں شرعی قصاص سے تجاوز کیا تو اب یہ مظلوم کے بجائے ظالم ہوگیا اور ظالم اس کا مظلوم بن گیا اب معاملہ برعکس ہوجائے گا اللہ تعالیٰ اور اس کا قانون اب اس کی مدد کرنے کے بجائے دوسرے فریق کی مدد کرے گا کہ اس کو ظلم سے بچائے گا۔ جاہلیت عرب میں یہ بات عام تھی کہ ایک شخص قتل ہوا تو اس کے بدلہ میں قاتل کے خاندان یا ساتھیوں میں جو بھی ہاتھ لگے اس کو قتل کردیتے تھے بعض جگہ یہ صورت ہوتی کہ جس کو قتل کیا گیا وہ قوم کا کوئی بڑا آدمی ہے تو اس کے بدلہ میں صرف ایک قاتل کو قصاصا قتل کرنا کافی نہ سمجھا جاتا تھا بلکہ ایک خون کے بدلہ دو تین یا اس سے بھی زیادہ آدمیوں کی جان لی جاتی تھی بعض لوگ جوش انتقام میں قاتل کے صرف قتل کرنے پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ اس کی ناک کان وغیرہ کاٹ کر مثلہ کردیتے تھے یہ سب چیزیں اسلامی قصاص کی حد سے زائد اور حرام ہیں اس لئے آیت فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ میں ان کو روکا گیا ہے۔ یاد رکھنے کے قابل ایک حکایت : بعض ائمہ مجتہدین کے سامنے کسی شخص نے حجاج بن یوسف پر کوئی الزام لگایا حجاج بن یوسف اسلامی تاریخ کا سب سے بڑا ظالم اور انتہائی بدنام شخص ہے جس نے ہزاروں صحابہ وتابعین کو ناحق قتل کیا ہے اس لئے عام طور پر اس کو برا کہنے کی برائی لوگوں کے ذہن میں نہیں رہتی جس بزرگ کے سامنے یہ الزام حجاج بن یوسف پر لگایا گیا انہوں نے الزام لگانے والے سے پوچھا کہ تمہارے پاس اس الزام کی کوئی سند یا شہادت موجود ہے انہوں نے کہا کہ نہیں آپ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ حجاج بن یوسف سے ہزاروں مقتولین بےگناہ کا انتقام لے گا تو یاد رکھو کہ جو شخص حجاج پر کوئی ظلم کرتا ہے اس کو بھی انتقام سے نہیں چھوڑا جائے گا حجاج کا بدلہ اللہ تعالیٰ اس سے بھی لیں گے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں کوئی جنبہ داری نہیں ہے کہ برے اور گناہگار بندوں پر دوسروں کو آزاد چھوڑ دیں اور وہ جو چاہیں الزام و اتہام لگا دیا کریں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ ۭ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ ۭ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا 33 ؀ حرم الحرام : الممنوع منه إمّا بتسخیر إلهي وإمّا بشريّ ، وإما بمنع قهريّ ، وإمّا بمنع من جهة العقل أو من جهة الشرع، أو من جهة من يرتسم أمره، فقوله تعالی: وَحَرَّمْنا عَلَيْهِ الْمَراضِعَ [ القصص/ 12] ، فذلک تحریم بتسخیر، وقد حمل علی ذلك : وَحَرامٌ عَلى قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها [ الأنبیاء/ 95] ، وقوله تعالی: فَإِنَّها مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ المائدة/ 26] ، وقیل : بل کان حراما عليهم من جهة القهر لا بالتسخیر الإلهي، وقوله تعالی: إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ [ المائدة/ 72] ، فهذا من جهة القهر بالمنع، وکذلک قوله تعالی: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُما عَلَى الْكافِرِينَ [ الأعراف/ 50] ، والمُحرَّم بالشرع : کتحریم بيع الطعام بالطعام متفاضلا، وقوله عزّ وجلّ : وَإِنْ يَأْتُوكُمْ أُساری تُفادُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْراجُهُمْ [ البقرة/ 85] ، فهذا کان محرّما عليهم بحکم شرعهم، ونحو قوله تعالی: قُلْ : لا أَجِدُ فِي ما أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّماً عَلى طاعِمٍ يَطْعَمُهُ ... الآية [ الأنعام/ 145] ، وَعَلَى الَّذِينَ هادُوا حَرَّمْنا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ [ الأنعام/ 146] ، وسوط مُحَرَّم : لم يدبغ جلده، كأنه لم يحلّ بالدباغ الذي اقتضاه قول النبي صلّى اللہ عليه وسلم : «أيّما إهاب دبغ فقد طهر» «1» . وقیل : بل المحرّم الذي لم يليّن، ( ح ر م ) الحرام وہ ہے جس سے روک دیا گیا ہو خواہ یہ ممانعت تسخیری یا جبری ، یا عقل کی رو س ہو اور یا پھر شرع کی جانب سے ہو اور یا اس شخص کی جانب سے ہو جو حکم شرع کو بجالاتا ہے پس آیت کریمہ ؛۔ وَحَرَّمْنا عَلَيْهِ الْمَراضِعَ [ القصص/ 12] اور ہم نے پہلے ہی سے اس پر ( دوائیوں کے ) دودھ حرام کردیتے تھے ۔ میں حرمت تسخیری مراد ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ وَحَرامٌ عَلى قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها [ الأنبیاء/ 95] اور جس بستی ( والوں ) کو ہم نے ہلاک کردیا محال ہے کہ ( وہ دنیا کی طرف رجوع کریں ۔ کو بھی اسی معنی پر حمل کیا گیا ہے اور بعض کے نزدیک آیت کریمہ ؛فَإِنَّها مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ المائدة/ 26] کہ وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لئے حرام کردیا گیا ۔ میں بھی تحریم تسخیری مراد ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ منع جبری پر محمول ہے اور آیت کریمہ :۔ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ [ المائدة/ 72] جو شخص خدا کے ساتھ شرگ کریگا ۔ خدا اس پر بہشت کو حرام کردے گا ۔ میں بھی حرمت جبری مراد ہے اسی طرح آیت :۔ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُما عَلَى الْكافِرِينَ [ الأعراف/ 50] کہ خدا نے بہشت کا پانی اور رزق کا فروں پر حرام کردیا ہے ۔ میں تحریم بواسطہ منع جبری ہے اور حرمت شرعی جیسے (77) آنحضرت نے طعام کی طعام کے ساتھ بیع میں تفاضل کو حرام قرار دیا ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛ وَإِنْ يَأْتُوكُمْ أُساری تُفادُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْراجُهُمْ [ البقرة/ 85] اور اگر وہ تمہارے پاس قید ہوکر آئیں تو بدلادے کر ان کو چھڑی ابھی لیتے ہو حالانکہ ان کے نکال دینا ہی تم پر حرام تھا ۔ میں بھی تحریم شرعی مراد ہے کیونکہ ان کی شریعت میں یہ چیزیں ان پر حرام کردی گئی ۔ تھیں ۔ نیز تحریم شرعی کے متعلق فرمایا ۔ قُلْ لا أَجِدُ فِي ما أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّماً عَلى طاعِمٍ يَطْعَمُهُ ... الآية [ الأنعام/ 145] الآیۃ کہو کہ ج و احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں ان کو کوئی چیز جسے کھانے والا حرام نہیں پاتا ۔ وَعَلَى الَّذِينَ هادُوا حَرَّمْنا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ [ الأنعام/ 146] اور یہودیوں پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیئے ۔ سوط محرم بےدباغت چمڑے کا گوڑا ۔ گویا دباغت سے وہ حلال نہیں ہوا جو کہ حدیث کل اھاب دبغ فقد طھر کا مقتضی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ محرم اس کوڑے کو کہتے ہیں ۔ جو نرم نہ کیا گیا ہو ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں سلط السَّلَاطَةُ : التّمكّن من القهر، يقال : سَلَّطْتُهُ فَتَسَلَّطَ ، قال تعالی: وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] ، وقال تعالی: وَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] ، ومنه سمّي السُّلْطَانُ ، والسُّلْطَانُ يقال في السَّلَاطَةِ ، نحو : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] ، ( س ل ط ) السلاطۃ اس کے معنی غلبہ حاصل کرنے کے ہیں اور سلطتہ فتسلط کے معنی ہیں میں نے اسے مقہود کیا تو وہ مقہود ہوگیا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کردتیاوَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے ۔ اور اسی سے بادشاہ کو سلطان ، ، کہا جاتا ہے ۔ اور سلطان کا لفظ تسلط اور غلبہ کے معنی میں بھی آتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے۔ سرف السَّرَفُ : تجاوز الحدّ في كلّ فعل يفعله الإنسان، وإن کان ذلک في الإنفاق أشهر . قال تعالی: وَالَّذِينَ إِذا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا[ الفرقان/ 67] ، وَلا تَأْكُلُوها إِسْرافاً وَبِداراً [ النساء/ 6] ، ويقال تارة اعتبارا بالقدر، وتارة بالکيفيّة، ولهذا قال سفیان : ( ما أنفقت في غير طاعة اللہ فهو سَرَفٌ ، وإن کان قلیلا) قال اللہ تعالی: وَلا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ [ الأنعام/ 141] ، وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحابُ النَّارِ [ غافر/ 43] ، أي : المتجاوزین الحدّ في أمورهم، وقال : إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ [ غافر/ 28] ، وسمّي قوم لوط مسرفین من حيث إنهم تعدّوا في وضع البذر في الحرث المخصوص له المعنيّ بقوله : نِساؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ [ البقرة/ 223] ، وقوله : يا عِبادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلى أَنْفُسِهِمْ [ الزمر/ 53] ، فتناول الإسراف في المال، وفي غيره . وقوله في القصاص : فَلا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ [ الإسراء/ 33] ، فسرفه أن يقتل غير قاتله، إمّا بالعدول عنه إلى من هو أشرف منه، أو بتجاوز قتل القاتل إلى غيره حسبما کانت الجاهلية تفعله، وقولهم : مررت بکم فَسَرِفْتُكُمْ أي : جهلتكم، من هذا، وذاک أنه تجاوز ما لم يكن حقّه أن يتجاوز فجهل، فلذلک فسّر به، والسُّرْفَةُ : دویبّة تأكل الورق، وسمّي بذلک لتصوّر معنی الإسراف منه، يقال : سُرِفَتِ الشجرةُ فهي مسروفة . ( س ر ف ) السرف کے معنی انسان کے کسی کام میں حد اعتدال سے تجاوز کر جانے کے ہیں مگر عام طور پر استعمال اتفاق یعنی خرچ کرنے میں حد سے تجاوز کرجانے پر ہوتا پے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَالَّذِينَ إِذا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا[ الفرقان/ 67] اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بیچا اڑاتے ہیں اور نہ تنگی کو کام میں لاتے ہیں ۔ وَلا تَأْكُلُوها إِسْرافاً وَبِداراً [ النساء/ 6] اور اس خوف سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے ( یعنی بڑی ہو کہ تم سے اپنا کا مال واپس لے لیں گے ) اسے فضول خرچی اور جلدی میں نہ اڑا دینا ۔ اور یہ یعنی بےجا سرف کرنا مقدار اور کیفیت دونوں کے لحاظ سے بولاجاتا ہے چناچہ حضرت سفیان ( ثوری ) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی میں ایک حبہ بھی صرف کیا جائے تو وہ اسراف میں داخل ہے ۔ قرآن میں ہے : وَلا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ [ الأنعام/ 141] اور بےجانہ اڑان کہ خدا بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا ۔ وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحابُ النَّارِ [ غافر/ 43] اور حد سے نکل جانے والے دوزخی ہیں ۔ یعنی جو اپنے امور میں احد اعتدال سے تجاوز کرتے ہیں إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ [ غافر/ 28] بیشک خدا اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جا حد سے نکل جانے والا ( اور ) جھوٹا ہے ۔ اور قوم لوط (علیہ السلام) کو بھی مسرفین ( حد سے تجاوز کرنے والے ) کیا گیا ۔ کیونکہ وہ بھی خلاف فطرف فعل کا ارتکاب کرکے جائز حدود سے تجاوز کرتے تھے اور عورت جسے آیت : نِساؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ [ البقرة/ 223] تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں ۔ میں حرث قرار دیا گیا ہے ۔ میں بیچ بونے کی بجائے اسے بےمحل ضائع کر ہے تھے اور آیت : يا عِبادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلى أَنْفُسِهِمْ [ الزمر/ 53] ( اے پیغمبر میری طرف سے لوگوں کو کہدد کہ ) اے میرے بندو جنوْں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی میں اسرفوا کا لفظ مال وغیرہ ہر قسم کے اسراف کو شامل ہے اور قصاص کے متعلق آیت : فَلا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ [ الإسراء/ 33] تو اس کا چاہئے کہ قتل ( کے قصاص ) میں زیادتی نہ کرے ۔ میں اسراف فی القتل یہ ہے کہ غیر قاتل کو قتل کرے اس کی دو صورتیں ہی ۔ مقتول سے بڑھ کر باشرف آدمی کو قتل کرنے کی کوشش کرے ۔ یا قاتل کے علاوہ دوسروں کو بھی قتل کرے جیسا کہ جاہلیت میں رواج تھا ۔ عام محاورہ ہے ۔ کہ تمہارے پاس سے بیخبر ی میں گزر گیا ۔ تو یہاں سرفت بمعنی جھلت کے ہے یعنی اس نے بیخبر ی میں اس حد سے تجاوز کیا جس سے اسے تجاوز نہیں کرنا چاہئے تھا اور یہی معنی جہالت کے ہیں ۔ السرفتہ ایک چھوٹا سا کیڑا جو درخت کے پتے کھا جاتا ہے ۔ اس میں اسراف کو تصور کر کے اسے سرفتہ کہا جاتا ہے پھر اس سے اشتقاق کر کے کہا جاتا ہے ۔ سرفت الشجرۃ درخت کرم خور دہ ہوگیا ۔ اور ایسے درخت کو سرقتہ ( کرم خوردہ ) کہا جاتا ہے ۔ نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] ( ن ص ر ) النصر والنصر کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قتل کی ممانعت قول باری ہے (ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق اور قتل کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ) اللہ تعالیٰ نے (الا بالحق) فرمایا اس لئے کہ قتل نفس حق نہ ہونے کے باوجود بھ یبعض دفعہ حق بن جاتا ہے جس کی صورتیں یہ ہیں۔ قصاص اور ارتداد کی بنا پر قتل اسی طرح غیر مسلموں سے قتال اور محاربت کی وجہ سے قتل، نیز محصن زانی کا رجم۔ مقتول کے قصاص کا حکم قول باری ہے (ومن قتل مظلوماً فقد جعلنا لولیہ سلطاناً اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے) حضرت ابن عباس ، سعید بن جبیر اور مجاہد سے مروی ہے کہ سلطان حجت کو کہتے ہیں جس طرح یہ قول باری ہے (اولیا تینی بسلطن مبین یا میرے سامنے کوئی واضح حجت اور دلیل پیش کرے) ضحاک کا قول ہے کہ سلطان سے مراد یہ ہے کہ مقتول کے ولی کو یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ چاہے تو قاتل کو قتل کر دے اور چاہے تو دیت قبول کرلے۔ نیز سلطان یعنی حاکم وقت کا یہ فرض ہے کہ وہ قاتل کو پکڑ کر ولی کے حوالے کر دے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سلطان ایک مجمل لفظ ہے اور معنی، مراد کو واضح کرنے کے لئے خود کفیل نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ ایک مشترک لفظ ہے جس کا کئی معانی پر اطلاق ہوتا ہے۔ اس کا ایک مفہوم حجت اور دلیل ہے، دوسرا مفہوم وہ سلطان اور حاکم ہے جو صاحب بست و کشاد ہوتا ہے تاہم سب کا اس پر اتفاق ہے کہ آیت میں اس سے قصاص مراد ہے اس طرح اس آیت کے ذریعہ قصاص ایک منطوق حکم قرار پا گیا۔ آیت کا مفہوم یہ ہوگا ہم نے مقتول کے ولی کو سلطان یعنی قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے۔ “ یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ آیت میں دیت مراد ہے۔ اس لئے ہم نے دیت کا اثبات نہیں کیا۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ قصاص مراد ہے تو ظاہر آیت اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اگر مقتول کے ورثاء ہیں کچھ بالغ ہوں اور کچھ نابالغ تو بالغ ورثاء نابالغ ورثاء کے بالغ ہونے سے پہلے قصاص لے سکتے ہیں اس لئے کہ ان میں سے ہر ایک ولی ہوتا ہے جبکہ نابالغ ورثاء میں سے کوئی بھی ولی نہیں بن سکتا۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر نابالغ ولی قاتل کو معاف کر دے تو اس کا یہ اقدام جائز نہیں ہوتا۔ امام ابوحنیفہ کا یہی قول ہے۔ امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک جب تک نابالغ ورثاء بالغ نہ ہوجائیں اس وقت تک بالغ ورثاء قاتل سے قصاص نہیں لے سکتے۔ جب وہ بالغ ہوجائیں تو پھر بالغ ورثاء کے ساتھ مل کر قاتل سے قصاص لیں گے یا معاف کردیں گے۔ ایک روایت کے مطابق امام محمد نے امام ابوحنیفہ کے قول کی طرف رجوع کرلیا تھا۔ قتل میں حد سے نہ گزرنا چاہیے قول باری ہے (فلا یسرف فی القتل۔ پس چاہیے کہ وہ قتل میں حد سے نہ گزرے) عطاء حسن مجاہد، سعید بن جبیر، ضحاک اور طلق بن جلیب سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ مقتول کا ولی، قاتل کے سوا کسی اور کو قتل نہ کرے نیز قاتل کا مثلہ بھی نہ کرے۔ اس لئے کہ عرب کے لوگ قاتل ہاتھ نہ آنے پر اس کے دوستوں اور رشتہ داروں میں سے جو بھی ہاتھ آ جاتا اسے قتل کردیتے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ولی کو قصاص لینے کا حق عطا کردیا تو اسے قتل میں حد سے گزرنے سے منع فرما دیا۔ انہی معنوں پر قول باری (کتب علیکم القصاص فی انقتلی الحر بالحر والعبد بالعبد والا نثی بالانثی مقتولین کا قصاص لنیا تم پر فرض کردیا گیا ہے۔ آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور مئونث کے بدلے مئونث) بھی محمول ہے اس لئے کہ زمانہ جاہلیت میں بعض قبائل کو بعض پر فوقیت حاصل تھی اگر ان کا کوئی غلام قتل ہوجاتا وہ اس کے بدلے میں قاتل کے قبیلے کا آزاد آدمی قتل کردیتے، اس کے سوا وہ کسی اور بات پر رضا مند نہ ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرما دیا کہ ولی قاتل کو قتل کرنے میں بایں معنی حد سے نہ گزرے کہ وہ قاتل کے سوا کسی اور کو قتل نہ کرے۔ ابوعبیدہ کا قول ہے کہ آیت زیر بحث میں بعض نے نہی کی بنا پر فعل کی مجزوم قرأت کی ہے اور بعض نے اسے مرفوع رکھا ہے کہ یہ مجازاً خبر ہے اور مفہوم یہ ہے کہ ” ولی کا قاتل کو قتل کردینا کوئی زیادتی نہیں ہے اس لئے کہ ولی کا اس کا حق حاصل ہوگیا تھا۔ مقتول منصور ہوگا قول باری ہے (انہ کان منصوراً ۔ اس کی مدد کی جائے گی) قتادہ کا قول ہے کہ ضمیر ولی کی طرف عائد ہے اور مجاہد کا قول ہے کہ یہ مقتول کی طرف راجع ہے۔ ایک قول کے مطابق اس کی یا تو دنیا میں مدد کی جائے گی یا آخرت میں۔ اس کی مدد کی یہ صورت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے یعنی ولی کو قصاص لینے کا حکم دیا ہے ایک اور قول کے مطابق اس کی مدد کی یہ صورت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور تمام مسلمانوں کو اس کی اعانت کا حکم دیا ہے۔ قول باری (فقد جعلنا لولیہ سلطاناً ) عورتوں کے لئے قصا ص کے اثبات کا مقتضی ہے۔ اس لئے یہاں ولی سے مراد وارث ہے جس طرح یہ ارشاد ہے (والمومنون والمومنات بعضھم اولیاء بعض۔ مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے ولی ہیں) نیز ارشاد ہے (ان الذین امنوا وھاجروا جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی) تاقول باری صاولئک بعضھم اولیاء بعض وہی دراصل ایک دوسرے کے ولی ہیں) نیز فرمایا (والذین امنوا ولم یھاجروا مالکم من ولایتھم من شیء حتی یھا جروا رہے وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے مگر ہجرت کر کے دارالاسلام میں ) آ نہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت کر کے نہ آ جائیں۔ ) اس حکم کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اس وقت تک کے لئے ان کے درمیان توارث کے اثبات کی نفی کردی جب تک وہ ہجرت کر کے نہ آ جائیں۔ پھر ارشاد ہوا (و اولوا الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ من المومنین والمھاجرین۔ اور اللہ کی کتاب میں خون کے رشتہ دار دوسرے مومنین اور مہاجرین کی بہ نسبت ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں) اللہ تعالیٰ نے خون کے رشتہ داروں کو ایک دوسرے کا ولی قرار دے کر ا ن کے مابین میراث کا اثبات کردیا۔ نیز فرمایا (والذین کفروا بعضھم اولیاء بعض کافر لوگ ایک دوسرے کے ولی ہیں) ولایت کا ذکر کر کے کافروں کے مابین تو وارث کا اثبات کردیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا (فقد جعلنا لولیہ سلطاناً ) تو یہ تمام ورثاء کے لئے قصاص لینے کے اثبات کا مقتضی ہوگیا۔ مقتول کا خون یعنی قصاص وراثت کے طور پر اس کے رشتہ داروں یعنی وارثوں کو مل جاتا ہے اس پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ خونبہا جو قصاص کا بدل ہوتا ہے وراثت کے طور پر ان مردوں اور عورتوں کو مل جاتا ہے جو اس کے وارث ہوتے ہیں۔ اگر عورتیں قصاص کی وارث نہ ہوتیں تو وہ اس کے بدل یعنی مال کی بھی وارث نہ ہوتیں۔ یہ بات کیسے درست ہوسکتی ہے کہ بعض ورثاء میت کی میراث کے بعض حصوں کے تو وارث قرار دیئے جائیں اور یعض دوسرے حصوں کے وارث نہ بن سکیں۔ یہ بات نہ صرف ظاہر کتاب کے خلاف ہے بلکہ اصول شرعیہ کے بھی خلاف ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ عورتوں کے ساتھ قصاص کے حق کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ قصاص لینا صر مردوں کا ح ہے لیکن اگر یہی قصاص دیت کی بنا پر مال میں تبدیل وہ جائے تو اس صورت میں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی اس مال کی وارث ہوں گی۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ قصاص کا حق ہر وارث کے لئے میراث میں اس کے حصے کی مقدار کے مطابق واجب ہوتا ہے خواہ یہ وارث مرد ہو یا عورت یا بچہ۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٣) اور جس مومن کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرما دیا ہے اس کو مت قتل کرو ہاں مگر حق پر جیسا کہ زانی کو رجم کردیا جائے اور قصاص میں قاتل کی اور حال ارتداد میں مرتد کی گردن اڑا دی جائے۔ اور جس شخص کو ناحق دانستہ قتل کردیا جائے تو ہم نے ولی مقتول کو قاتل کے قتل کے بارے میں حد شرعی تجاوز نہیں چاہے وہ قاتل کو قتل کردے اور اگر چاہے تو معاف کردے تو ولی مقتول کو قاتل کے قتل کے بارے میں حد شرعی تجاوز نہیں کرنا چاہیے یعنی غیر قاتل کو نہ قتل کرے یا یہ کہ ایک کے عوض دس کو نہ قتل کرے، وہ طرف داری کے قابل ہے کہ قاتل کو قتل کردیا جائے اور اس کو معاف نہ کیا جائے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٣ (وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ ) یہاں ” حق “ سے مراد چند وہ صورتیں ہیں جن میں انسانی جان کا قتل جائز ہے۔ ان میں خون کا بدلہ خون ‘ اسلامی ریاست میں مرتد کی سزا موت ، شادی شدہ زانی اور زانیہ کا رجم اور حربی کافر کا قتل شامل ہے۔ (وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهٖ سُلْطٰنًا) اسلامی قانون میں مقتول کے ورثاء کو اختیار ہے کہ وہ جان کے بدلے جان کی سزا پر اصرار کریں یا معاف کردیں یا پھر خون بہا لے لیں۔ یہ تینوں اختیارات مقتول کے ورثاء ہی کو حاصل ہیں۔ کسی عدالت یا سربراہ مملکت کو اس میں کچھ اختیار نہیں۔ (فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ ) یعنی جان کے بدلے جان کا فیصلہ ہو تو اس میں تجاوز کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ایک آدمی کے بدلے مخالف فریق کے زیادہ لوگ قتل کردیے جائیں طریقہ قتل میں کسی قسم کی زیادتی کی جائے یا کسی بھی انداز میں اپنے اس اختیار کا ناجائز استعمال کیا جائے۔ (اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا) قاتل کو پکڑنے اس پر مقدمہ چلانے اور انصاف دلانے تک کے طویل اور پیچیدہ عمل میں ہر مرحلے پر مقتول کے ورثاء کی مدد کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ قتل کے مقدمات میں ریاست یا حکومت مدعی نہیں بنے گی بلکہ مقتول کے ورثاء ہی مدعی ہوں گے۔ ہمارے ہاں جو ” سرکار بنام فلاں “ کے عنوان سے مقدمہ بنتا ہے وہ معاملہ سراسر غیر اسلامی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

33. “And do not kill a person” includes not only the prohibition of the killing of other souls but also his own soul as well for it is also included in the prohibition that immediately follows this command. Thus suicide is regarded as heinous a sin as murder. Some foolish people object to the prohibition of suicide saying that they themselves are the masters of their souls. Therefore, there is nothing wrong in killing one’s own self or in destroying one’s own property. They forget that every soul belongs to Allah, and none has any right to destroy it, nay, even to abuse it. For this world is a place of trial, where we should undergo the test up to the end of our lives in accordance with the will of Allah. It does not matter whether our circumstances are favorable or adverse for trial. Therefore, it would be wrong to run away from the place of test, not to speak of committing such a heinous crime as suicide (which Allah has prohibited) to escape it. For it means that the one who commits suicide tries to run away from small troubles and ignominies towards greater affliction and eternal torment and ignominy. 34. When the Islamic state was established, “killing by right” was confined to five cases only, namely to punish, (1) A willful murderer for retribution. (2) Opponents of the true religion during war. (3) Those who attempt to overthrow the Islamic system of government. (4) A man or woman guilty of adultery. (5) An apostate. 35. We have translated the Arabic word sultan as “the authority of retribution”. Here it stands for “a ground for legal action”. This also lays down the legal principle that in a case of murder, the real plaintiff is not the government but the guardian or the guardians of the murdered person who are authorized to pardon the murderer or receive blood money instead of taking his life. 36. Exceed limits in killing would be to kill more persons than the murderer or to kill the criminal by degrees with torment or to disfigure his dead body or to kill him after receiving blood money, etc. All these things have been forbidden. 37. It has not been defined how succor will be given because at the time of its revelation the Islamic state had not yet been established. After its establishment it was made clear that a guardian was not authorized to enforce retribution by murdering the criminal. The Islamic government alone is legally authorized to take retribution; therefore, succor for justice should be demanded only from it.

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :33 قتل نفس سے مراد صرف دوسرے انسان کا قتل ہی نہیں ہے ، بلکہ خود اپنے آپ کو قتل کرنا بھی ہے ۔ اس لیے کہ نفس ، جس کو اللہ نے ذی حرمت ٹھیرایا ہے ، اس کی تعریف میں دوسرے نفوس کی طرح انسان کا اپنا نفس بھی داخل ہے ۔ لہٰذا جتنا بڑا جرم اور گناہ قتل انسان ہے ، اتنا ہی بڑا جرم اور گناہ خود کشی بھی ہے ۔ آدمی کو بڑی غلط فہمیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنی جان کا مالک ، اور اپنی اس ملکیت کو باختیار خود تلف کر دینے کا مجاز سمجھتا ہے ۔ حالانکہ یہ جان اللہ کی ملکیت ہے ، اور ہم اس کے اتلاف تو درکنار ، اس کے کسی بے جا استعمال کے بھی مجاز نہیں ہیں ۔ دنیا کی اس امتحان گاہ میں اللہ تعالی جس طرح بھی ہمارا امتحان لے ، اسی طرح ہمیں آخر وقت تک امتحان دیتے رہنا چاہیے ، خواہ حالات امتحان اچھے ہوں یا برے ۔ اللہ کے دیے ہوئے وقت کو قصدا ختم کر کے امتحان گاہ سے بھاگ نکلنے کی کوشش بجائے خود غلط ہے ، کجا کہ یہ فرار بھی ایک ایسے جرم عظیم کے ذریعہ سے کیا جائے جسے اللہ نے صریح الفاظ میں حرام قرار دیا ہے ۔ اس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ آدمی دنیا کی چھوٹی چھوٹی تکلیفوں اور ذلتوں اور رسوائیوں سے بچ کر عظیم تر اور ابدی تکلیف و رسوائی کی طرف بھاگتا ہے ۔ سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :34 بعد میں اسلامی قانون نے قتل بالحق کو صرف پانچ صورتوں میں محدود کر دیا: ایک قتل عمد کے مجرم سے قصاص دوسرے دین حق کے راستے میں مزاحمت کرنے والوں سے جنگ ۔ تیسرے اسلامی نظام حکومت کو الٹنے کی سعی کرنے والوں کو سزا ۔ چوتھے شادی شدہ مرد یا عورت کو ارتکاب زنا کی سزا ۔ پانچویں ارتداد کی سزا ۔ صرف یہی پانچ صورتیں ہیں جن میں انسانی جان کی حرمت مرتفع ہو جاتی ہے اور اسے قتل کرنا جائز ہو جاتا ہے ۔ سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :35 اصل الفاظ ہیں” اس کے ولی کو ہم نے سلطان عطا کیا ہے“ ۔ سلطان سے مراد یہاں ” حجت “ ہے جس کی بنا پر وہ قصاص کا مطالبہ کر سکتا ہے ۔ اس سے اسلامی قانون کا یہ اصول نکلتا ہے کہ قتل کے مقدمے میں اصل مدعی حکومت نہیں بلکہ اولیائے مقتول ہیں ، اور وہ قاتل کو معاف کرنے اور قصاص کے بجائے خوں بہا لینے پر راضی ہو سکتے ہیں ۔ سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :36 قتل میں حد سے گزرنے کی متعدد صورتیں ہو سکتی ہیں اور وہ سب ممنوع ہیں ۔ مثلا جوش انتقام میں مجرم کے علاوہ دوسروں کو قتل کرنا ، یا مجرم کو عذاب دے دے کر مارنا ، یا مار دینے کے بعد اس کی نعش پر غصہ نکالنا ، یا خوں بہا لینے کے بعد پھر اسے قتل کرنا وغیرہ ۔ سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :37 چونکہ اس وقت تک اسلامی حکومت قائم نہ ہوئی تھی اس لیے اس بات کو نہیں کھولا گیا کہ اس کی مدد کون کریگا ۔ بعد میں جب اسلامی حکومت قائم ہوگئی تو یہ طے کر دیا گیا کہ اس کی مدد کرنا اس کے قبیلے یا اس کے حلیفوں کا کام نہیں بلکہ اسلامی حکومت اور اس کے نظام عدالت کا کام ہے ۔ کوئی شخص یا گروہ بطور خود قتل کا انتقام لینے کا مجاز نہیں ہے بلکہ یہ منصب اسلامی حکومت کا ہے کہ حصول انصاف کے لیے اس سے مدد مانگی جائے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

17: کسی کو قتل کرنے کا حق صرف چند صورتوں میں پہنچا ہے جن میں سے ایک اہم صورت کا ذکر اگلے جملے میں آرہا ہے اور وہ یہ کہ کسی شخص کو ظالمانہ طور پر قتل کردیا گیا ہو تو اس کے ولی یعنی وارثوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ بدلے میں عدالتی کارروائی کے بعد قاتل کو قتل کریں، یا کاروائیں، یا کروائیں، اس بدلے کو ’’ قصاص‘‘ کہا جاتا ہے۔ 18: قاتل کو قصاص میں قتل کروانے کا حق تو اولیاء مقتول کو حاصل ہے لیکن اس سے زیادہ کسی کارروائی کا حق نہیں ہے۔ چنانچہ ہاتھ پاؤں یا دوسرے اعضاء کو کاٹنا یا قتل کرنے کے لیے کوئی زیادہ تکلیف دہ طریقہ اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔ ایسا کوئی طریقہ اختیار کیا جائے تو اسے قرآن کریم نے حد سے تجاوز قرار دیا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:33) ولیہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا ولی ۔ اس کا وارث۔ جیسا کہ آیت شریف میں آیا ہے۔ ھب لی من لدنک ولیا (19:5) مجھے اپنے پاس سے وارث عطا فرما۔ قرآن مجید میں اور جگہ بمعنی مددگار۔ دوست ۔ رفیق بھی آیا ہے۔ سلطنا۔ برہان۔ دلیل۔ سند۔ اختیار۔ زور۔ قوت۔ حجت۔ حکومت۔ مادہ سلط۔ فقط جعلنا لولیہ سلطنا۔ تو ہم نے مقتول کے وارث کو (قصاص کے مطالبہ کا) حق دے دیا ہے ۔ لا یسرف۔ فعل نہی واحد مذکر غائب۔ ضمیر فاعل ولی کی طرف راجع ہے۔ فلا یسرف فی القتل پس اسے چاہیے کہ قتل کے باب میں حد سے آگے نہ بڑھے۔ یعنی قتل کا بدلہ اگر قتل ہی لینا ہے تو قاتل کے سوا دوسرے کو قتل نہ کرے۔ اور نہ ہی ایک قتل کے بدلہ میں ایک سے زیادہ مخالفین کو قتل کرے : انہ کان منصورا۔ ضرور اس کی مدد کی جائے گی۔ ہٗ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع کون ہے اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں : (1) اس کا مرجع مقتول ہے کہ دنیا میں اس کے قتل کا قصاص یا دیت دلانے میں اللہ تعالیٰ نے اس کے حق میں حکم فرمایا اور آخرت میں وہ ثواب کا حق دار ہوگا۔ (2) اس کا مرجع ولی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مقتول کا قصاص لینے کا اختیار دیا اور دوسروں کو قصاص حاصل کرنے میں اس کی مدد کرنے کا حکم دیا۔ (3) اس کا مرجع وہ مقتول ہے جسے ولی نے اسراف کا ارتکاب کرتے ہوئے قتل کردیا ہو۔ اس صورت میں مقتول ناحق کی امداد میں ولی مسرف پر قصاص یا دیت کی ادائیگی لازم آئے گی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 مراد ہے ہر اسنانی جان حتی کہ آدمی کی اپنی جان بھی اسلام نے خود کشی کو بھی حرار قرار دیا ہے۔ جیسا کہ متعدد احادیث میں وارد ہے۔4 جس کیلئے شریعت نے جان لینا جائز قرار دیا یہ۔ حدیث میں ہے : لایحل دم امری مسلم الاباحدی ثلاث النفس بالنفس والثیب الرزانی والتاروں ولدینہ کہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں ہے الایہ کہ قصاص میں قتل کیا جائے، یا شادی شدہ ہو کر زنا کرے۔ یا مرتد ہوجائے۔ مگر یہ حصر حقیقی نہیں ہے، بلکہ بعض دوسرے جرائم میں بھی قتل کا جواز ثابت ہے۔ (روح)5 مثلاً قاتل کو عذاب دے کر قتل کرے یا جوش انتقام میں اس کے عالوہ اس کے عزیزوں کو بھی مار ڈالے۔6 اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے قصاص کا قانون مقرر کیا ہے اور اسلامی حکومت کے کارفرمائوں کو اس کی مدد اور داد رسی کا حکم دیا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

9۔ یعنی جب وجوب یا اجاحت قتل کا کوئی سبب شرعی پایا جاوے تو قتل کرنا درست ہے، اور اس وقت وہ حرم اللہ میں داخل نہیں۔ 10۔ ولی سے مراد وہ شخص ہے جس کو حق قصاص ہو اور کوئی واراث ہو، تو وہ ورنہ سلطان۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قتل اولاد، زنا اور عفت گری سے روکنے کے بعد انسانی جان کے قتل سے روکا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ساری مخلوق میں انسان کو ظاہری اور جوہری صلاحیتوں کے لحاظ سے بہترین تخلیق فرما کر ارشاد فرمایا کہ میں نے انسان کو بحر و بر میں عزت و عظمت عنایت فرمائی ہے۔ (بنی اسرائیل : ٧٠) اس کے مقام و مرتبہ اور ہر طرح سے امن وامان قائم رکھنے کے لیے اس کو شرم و حیا اور عفت و عصمت کی رکھوالی کا حکم دیا اور یہ بھی حکم صادر فرمایا ہے کہ نفس انسانی کا احترام اور تحفظ ہونا چاہیے۔ کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ دوسرے کو جائز حق کے بغیر قتل کرے۔ (المائدہ : ٣٢) میں ارشاد فرمایا کہ جس نے کسی ایک کو قتل کیا گویا کہ اس نے سب لوگوں کو مار ڈالا اور جس نے کسی جان کو تحفظ دیا۔ گویا کہ اس نے سب لوگوں کو تحفظ فراہم کیا اور جس شخص کو ناحق قتل کیا گیا اس کے وارثوں کو پورا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اس کا بدلہ لیں یا معاف کردیں۔ یہ اختیار اللہ تعالیٰ نے انہیں دیا ہے۔ لہٰذا معاشرہ اور اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ بدلہ لینے میں اس کی مدد کرے۔ البتہ بدلہ لینے کی صورت میں انہیں کسی قسم کی زیادتی کرنے کا حق نہیں پہنچتا۔ زیادتی سے مراد ایک کے بدلے زیادہ لوگوں کو قتل کرنا۔ لاش کا مثلہ کرنا، اصل قاتل کی بجائے کسی دوسرے کو قتل کرنا، قتل کرتے وقت اذیتیں دینا۔ یاد رہے کہ مقتول کے وارث دیت لیں یا معاف کرسکتے ہیں۔ لیکن قصاص خود نہیں لے سکتے۔ قصاص حکومت کے ذریعہ ہی لیا جانا چاہیے۔ بصورت دیگر قتل در قتل کا سلسلہ چل نکلتا ہے۔ قرآن مجید نے لوگوں کو ہر قسم کی قتل و غارت سے منع کرتے ہوئے اِلَّا بالْحَقِّ کے الفاظ استعمال کیے ہیں جس کا معنٰی ہے کہ کچھ ایسے مجرم ہیں جن کی جان کو تحفظ نہیں دیا جاسکتا۔ کیونکہ ایسے لوگ معاشرے کی حیا اور امن وامان کے دشمن ہیں۔ انہیں کھلا چھوڑنا ملک و ملت کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں وہ درج ذیل پانچ جرم ہیں۔ ١۔ قتل کے بدلہ قتل کرنا البتہ مقتول کے وارث کو دیت لینے اور معاف کردینے کا پورا پورا حق ہے۔ یہ حق وارث کے بغیر کسی شخص اور حکومت کو حاصل نہیں ہوگا۔ ٢۔ شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنا۔ ٣۔ اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والا بھی قتل کیا جائے گا۔ ٤۔ دین اسلام سے مرتد ہونے والا واجب القتل ہوگا اس میں گستاخ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی شامل ہے۔ ٥۔ راہزنی اور اسلامی حکومت میں دنگاو فساد برپا کرنے والا بھی تہ تیغ کیا جائے گا۔ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو (رض) أَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَزَوَال الدُّنْیَا أَہْوَنُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الدیات، باب ماجاء فی تشدید قتل المؤمن ] ” عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ بیشک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی تباہی ایک مسلمان کو قتل کرنے سے زیادہکم درجہ رکھتی ہے۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَنَّہُ قَالَ الْکَبَاءِرُ الإِشْرَاک باللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَعُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ أَوْ قَتْلُ النَّفْسِ شُعْبَۃُ الشَّاکُّ وَالْیَمِیْنُ الْغَمُوْسُ ) [ رواہ أحمد ] ” عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا یا کسی جان کو قتل کرنا۔ کبیرہ گناہ ہیں راوی کو اس میں شک ہے، جھوٹی قسم کھانا۔ “ بھی ان میں شامل ہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسُعُوْدٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوْقٌ وَقتِاَلُہٗ کُفْرٌ ) [ رواہ البخاری : باب اتِّبَاعُ الْجَنَاءِزِ مِنَ الإِیمَانِ ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔ “ مسائل ١۔ کسی کو ناحق قتل نہیں کرنا چاہیے۔ ٢۔ مقتول کے وارث کو قصاص لینے کا حق حاصل ہوگا۔ ٣۔ مقتول کے وارث کو حد سے نہیں بڑھنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن قتل کا گناہ : ١۔ جس جان کو اللہ نے تحفظ دیا ہے اسے ناحق قتل نہیں کرنا چاہیے۔ (بنی اسرائیل : ٣٣) ٢۔ جس نے کسی کو بغیر حق کے قتل کردیا گویا کہ اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا۔ (المائدۃ : ٣٢) ٣۔ قابیل کو اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر ابھارا۔ اس نے قتل کردیا پس خسارہ پانے والا ہوا۔ (المائدۃ : ٣٠) ٤۔ جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرتا ہے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (النساء : ٩٣) ٥۔ کسی کو ناحق قتل نہ کرو۔ (الانعام : ١٥١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اسلام سلامتی کا دین ہے۔ اسلام میں شرک باللہ کے بعد سب سے بڑا جرم قتل ناحق ہے۔ زندگی دینے والا اللہ ہے ، اللہ کے سوا کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی سے اللہ کا یہ عطیہ سلب کرے ، الایہ کہ اللہ کے طے کردہ قوانین کے مطابق کسی کی زندگی لی جاسکتی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے بھی چند محدود جرائم پر انسانی جان لینے کی اجازت دی ہے۔ اور ان حدود میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔ یہ طے شدہ حدود کسی کی ذاتی رائے یا خواہش پر نہیں چھوڑ دئیے گئے۔ صحیحن میں ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” کوئی مسلمان جو کلمہ شہادت ادا کرتا ہے اور شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الہہ نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ اس کا قتل جائز نہیں ہے۔ مگر صرف تین صورتوں میں ، یہ کہ اس نے ناحق قتل کیا ہو ، وہ محصن ہو اور زنا کا ارتکاب کیا ہو ، یہ کہ وہ تارک دین ہو اور جماعت مسلمہ کو اس نے چھوڑ دیا ہو “۔ اسلام میں قتل نفس کی گنجائش کی پہلی صورت ہے کہ کسی نے قتل کا ارتکاب کیا ہو اور اس کے خلاف عدالت مجاز سے منصفانہ فیصلہ قصاص صادر ہوچکا ہو۔ اس کے بارے میں قرآن کریم کہتا ہے : ولکم فی القصاص حیاہ ” تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے “۔ اس طرح کہ نفاذ قصاص سے مجرموں کے ہاتھ پکڑے جاتے ہیں اور وہ پھر کسی زندہ شخص کی جان لینے سے باز رہتے ہیں۔ جب نظام قصاص موثر طر پر نافذ ہوتا ہے تو یہ دوسرے لوگوں کو اس قسم کے جرم کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ نیز اس طرح یہ بھی زندگی ہے کہ قاتل کے ورثاء ایک شخص کو قتل کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں اور وہ ایک قتل کے بدلے کئی لوگوں کا خون نہیں بہاتے۔ نہ وہ اس سلسلے کو جاری رکھتے ہیں۔ بعض اوقات لوگ سلسلہ قتل کو جاری رکھتے ہیں اور جانبین سے کئی قتل ہوجاتے ہیں۔ نیز نظام قصاص کے اجراء میں اس طرح بھی زندگی ہے کہ ہر شخص کی جان اپنی جگہ محفوظ ہوجاتی ہے اور اسے عدالت پر اعتماد ہوتا ہے۔ یوں پوری امت اور سوسائٹی مطمئن ہوتی اور امن و چین سے زندگی گزارتی ہے۔ قتل کی دوسری صورت مرتد کی ہے۔ یہ دراصل روحانی فساد اور طوائف الملوکی کے دفعیے کے لئے ضروری ہے۔ جب ایک شخص اپنی خوشی سے بغیر کسی جبر کے اسلام قبول کرتا ہے ، اسلامی جماعت میں داخل ہوتا ہے اور امت کا حصہ بن جاتا ہے اور امت اس کی ذات میں داخل ہوجاتی ہے ، وہ امت اسلامیہ کے رازوں اور بھیدوں سے واقف ہوجاتا ہے ، اور پھر وہ اگر امت کو چھوڑ کر مرتد ہوتا ہے کہ وہ اپنے اندر پائی جانے والی امت کو قتل کرتا ہے۔ اگر یہ شخص پہلے ہی اسلام میں داخل نہ ہوتا تو اسے کس نے مجبور کیا تھا۔ اگر وہ اہل کتاب میں سے تھا تو اسلام نے اس کی جان کی حفاظت کی ذمہ داری لی تھی اور اگر وہ مشرک تھا تو اسلام اسے پناہ دیتا تھا اور اسے اس کی جائے پناہ تک پہنچانے کی ذمہ داری لیتا تھا ، اس لئے اگر وہ اپنی خوشی سے اسلام میں داخل ہوا ہے تو اب اسے لازماً اسلام میں رہنا ہوگا ورنہ قتل مرتد کی سز اپائے گا۔ ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق (٧١ : ٣٣) ” اور جس نفس کا قتل اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہ کرو مگر حق کے ساتھ “۔ اور قتل مرتد بھی ایک حق ہے۔ تیسری قسم کا قتل یہ ہے کہ کوئی محصن زنا کا ارتکاب کرے۔ یہ فحاشی کی اشاعت ہے اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ تین اسباب ایسے ہیں جن کی وجہ سے اسلام میں سزائے موت دی جاسکتی ہے۔ ان تین اسباب کے بغیر ناحق کوئی کسی شخص کو قتل کرے گا تو پھر مقتول کے ورثاء کو اختیار ہوگا کہ قاتل کو بعد از ثبوت جرم قتل کردیں۔ پھر بھی اگر وہ چاہیں تو قتل کرادیں ، اگر چاہیں تو دیت لے کر معاف کردیں ، چاہیں تو بغیر دیت کے معاف کردیں۔ یہ اختیار مقتول کے ورثاء کا ہے کہ وہ سج طرح چاہیں فیصلہ کریں۔ لیکن ورثاء کو بھی قتل کا اختیار دینے کے ساتھ ساتھ ان پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے کہ وہ اس اختیار سے غلط فائدہ نہ اٹھائیں۔ قتل میں اسراف نہ کریں۔ اسراف یہ ہے کہ مقتول کے علاوہ اوروں کو قتل نہ کریں جیسا کہ زمانہ جاہلیت کے انتقام میں ہوتا تھا کہ قاتل کے بہن بھائی اور دوسرے رشتہ داروں کو بھی ناحق قتل کردیا جاتا۔ حالانکہ ان کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ ان کا قصور صرف یہ ہوتا کہ وہ قاتل کے افراد خاندان یا افراد قبیلہ ہیں۔ اس طرح مثلہ کرنے اور قتل میں ناجائز آلات استعمال کرنے کے سلسلے میں ممانعت کی گئی ہے۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسراف فی القتل کی تمام شطوں کی ممانعت کی ہے۔ فلا یسرف فی القتل انہ کان منصورا (٧١ : ٣٣) ” پس چاہیے کہ وہ قتل میں حد سے نہ گزرے بیشک اس کی مدد کی جائے گی “۔ اس کے بارے میں اللہ نے فیصلہ کردیا۔ دین اسلام اور اسلامی قانون اس کے حق کا موید ہے۔ اور حاکم وقت کا بھی فرض ہے کہ وہ مقتول کے ورثاء کی نصرت کرے۔ لہٰذا سے چاہیے کہ وہ قصاص لینے میں بھی انصاف کرے ، اس لئے کہ تمام اسلامی ادارے اس کے حامی و ناصر ہیں۔ یہ کیوں کہا گیا کہ قصاص لینے کا اختیار مقتول کے ورثاء کو دے دیا گیا ؟ جبکہ حکومت ، حکومتی اداروں اور تمام سوسائٹی کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ ورثائے مقتول کی نصرت کریں۔ یہ ایک نہایت ہی فطری عمل ہے ، اس طرح انسان کا جذبہ انتقام سرد پڑجاتا ہے اور مقتول کے ورثاء کے دلوں میں جذبہ انتقام کی موجوں میں ٹھہرائو پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ انتقام بعض اوقات اس قدر زدید ہوتا ہے کہ لوگ اس سے مغلوب ہو کر دائیں بائیں جو بھی سامنے آتا ہے اسے گاجر اور مولی کی طرح کاٹ دیتے ہیں لیکن جب ورثاء یہ محسوس کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قاتل کی زندگی ان کے اختیار میں دے دی ہے اور یہ کہ حاکم بھی ان کی امداد پر کمربستہ ہے۔ اور عدالت ان کی پشت پر ہے تو اس طرح اس کا جوش انتقام سرد پڑجاتا ہے اور وہ عدالت کے منصفانہ فیصلہ کا انتظار کرتا ہے اور قصاص پر اکتفاء کرتا ہے۔ انسان بہرحال انسان ہے اور اس کی فطرت کے اندر قصاص کا داعیہ موجود ہے۔ اور اسلام چونکہ دین فطرت اس لئے وہ انسان کی اس فطری خواہش کو پورا کرتا ہے اور محفوظ اور مامون حدود کے اندر اسے بدست خود انتقام لینے کی اجازت دیتا ہے۔ اسلام عفو و درگزر کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ وہ لوگوں کو اس پر آمادہ کرتا ہے کہ عفو و درگزر سے کام لیں اور اس پر اجر بھی دیتا ہے لیکن یہ سب کچھ حق قصاص عطا کرنے کے بعد۔ جب فیصلہ دے دیا جائے تو پھر یہ وارث یا وار ثان مقتول کا حق ہے کہ قصاص لیں ، دیت لیں یا بالکل عفو و درگزر سے کام لیں۔ ہاں اگر ان کے اند ریہ احساس ہو کہ انہیں عفود درگزر پر مجبور کیا گیا ہے تو اس صورت میں وہ پھر جذبات انتقام سے مغلوب ہوسکتے ہیں اور زیادتی کرسکتے ہیں۔ جان اور عزت کی حفاظت کے بعد اب روئے سخن مال یتیم اور عہد کی حفاظت کی طرف آتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

تیسرا حکم یہ فرمایا کہ اللہ نے جس جان کو قتل کرنے سے منع فرمایا اسے قتل مت کرو۔ جس کسی جان کا قتل کرنا شریعت اسلامیہ میں حلال نہیں ہے اس کا قتل کردینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ اور اس بارے میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں قتل کی بعض صورتوں میں قصاص اور بعض صورتوں میں دیت ہے اس کی تفصیلات سورة بقرہ کے اکیسویں رکوع میں اور سورة نساء کے تیرہویں رکوع میں اور سورة مائدہ کے ساتویں رکوع میں گزر چکی ہیں۔ (انوار البیان) سورۃ نساء میں قتل کی وعیدیں بھی مذکور ہیں۔ وہاں ہم نے متعدد احادیث کا ترجمہ بھی لکھا دیا ہے قتل نفس کی حرمت بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا (وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ ) (اور جو شخص ظلماً قتل کیا گیا اس کے ولی کے لیے ہم نے اختیار رکھا ہے سو وہ قتل کرنے میں حد سے آگے نہ بڑھے) کسی کے قتل کردینے پر جو عذاب ہے وہ آخرت سے متعلق ہے۔ اور دنیا میں جو اس کے بارے میں شرعی احکام ہیں ان کے مطابق مقتول کے ولی کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ شرعی اصول کے مطابق قتل کا ثبوت ہوجانے پر انہیں حدود پر رہے جو حدود اس کے لیے مقرر کردی گئی ہیں مثلاً قتل خطا میں دیت کے بجائے قاتل کو قتل نہ کرے اور قتل عمد میں جو شریعت نے قصاص لینے کا اختیار دیا ہے اسے قاتل تک ہی محدود رکھا جائے۔ جوش انتقام میں قاتل کے سوا کسی دوسرے شخص کو اس کے اعزہ واقربا میں سے قتل نہ کردے۔ نیز قاتل کے قتل کرنے میں زیادتی نہ کرے۔ مثلاً اس کے ہاتھ پاؤں، ناک نہ کاٹے، جسے مثلہ کرنا کہتے ہیں۔ (اِنَّہٗ کَانَ مَنْصُوْرًا) (بلاشبہ مقتول کے ولی کی مدد ہوگی) یعنی ولی مقتول حد شرعی کے اندر رہتے ہوئے قصاص لے گا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی مدد کی جائے گی۔ یعنی شریعت اسلامیہ اس کی مددگار ہوگی۔ اور اہل ایمان اصحاب اقتدار قصاص دلانے کے لیے راہ ہموار کریں گے اسے قصاص دلائیں گے۔ اس کا دوسرا رخ بھی سمجھ لینا چاہیے اور وہ یہ کہ اگر ولی مقتول حد سے بڑھ گیا تو اب یہ ظالم ہوگا اور معاملہ برعکس ہوجائے گا۔ اور اب شرعی قانون میں اس کا مواخذہ ہوگا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

33:۔ یہ تیسرا ظلم ہے۔ کسی کو ناحق قتل نہ کرو۔ ” و من قتل مظلوما الخ “ مقتول کا قصاص لینے کے بارے میں اولیائے مقتول کو ہدایت کی گئی کہ قصاص لینے میں حد شرعی سے تجاوز نہ کرو مثلاً ایک کے بدلے ایک سے زیادہ کو قتل نہ کرو اور نہ مقتول کو بےحرمت کرو جیسا کہ جاہلیت میں رواج تھا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

33 اور جس شخص کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے اس کو قتل نہ کرو مگر ہاں کسی شرعی حق کے ساتھ اور جو شخص ناحق قتل کردیا جائے تو ہم نے اس مقتول کے وارث کو قصاص لینے اور بدلہ لینے کا اختیار دیا ہے سو بدلہ لینے والے کو قتل کے بارے میں حد شرع سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے اور آگے نہیں نکلنا چاہئے کیونکہ وہ قصاص حاصل کرنے والا وارث مدد دیا گیا ہے اور اس کی طرف داری کی گئی ہے۔ بےگناہ کو قتل کرنے کی مذمت فرمائی اور بنی نوع انسان میں سے کسی انسان کو بلا وجہ قتل کرنے کی ممانعت فرمائی مگر حق پر قتل کرنا درست ہے اگر حق شرعی کی بنا پر اس کا قتل واجب یا مباح ہو مثلاً اس نے کسی کو بدون حق شرعی کے قتل کردیا ہو یا محصن ہو کر زنا کا ارتکاب کیا ہو یا جماعت اسلام سے خاج ہوگیا ہو تو ایسا شخص ” حرم اللہ “ میں داخل نہیں۔ پھر فرمایا اگر کوئی شخص ناحق قتل کردیا جائے تو حضرت حق کی جانب سے ورثائے مقتول کو قصاص لینے کا اختیار دیا ہے کہ وہ امیر یا اس کے نائب سے کہہ کر اپنا انتقام قاتل سے لے لیں لیکن بدلہ لیتے وقت ورثاء کو حد سے تجاوز نہ کرنا چاہئے۔ تجاوز یہی کہ کسی بےگناہ کو پھنسانے کی کوشش یا قتل کیا ہو ایک نے اور نام لے دیں ایک سے زائد کا یا قاتل کے ہاتھ پائوں کاٹنے لگیں اور قتل سے پہلے اور اذیتیں دینے لگیں یہ سب اسراف فی القتل ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حکام کو متنبہ کیا ہو کہ صرف قاتل سے انتقا م دلوائیں اور کسی قسم کی زیادتی نہ کریں۔ بہرحال ! اگر قاتل کا وارث حد شرع سے تجاوز نہ کرے تو وہ حمایت اور طرف داری کا مستحق ہے اور اگر زیادتی کرے گا تو پھر دوسرا فریق مدد اور طرفداری کے قابل ہوجائے گا۔ اس لئے جو شرعی مدد حاصل ہوتی ہے اور جو منصوریت ملی ہے اس کو زیادتی کر کے مقتول کو ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی ہر کسی کو لازم ہے کہ خون کا بدلہ دلانے میں مدد کرے نہ الٹا قاتل کی حمایت کرے اور وارث کو بھی چاہئے کہ ایک کے بدلے دو نہ مارے یا قاتل ہاتھ نہ لگا تو اس کے بیٹے بھائی کو نہ مارے۔ 2 ؎