Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 61

سورة بنی اسراءیل

وَ اِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ قَالَ ءَاَسۡجُدُ لِمَنۡ خَلَقۡتَ طِیۡنًا ﴿ۚ۶۱﴾

And [mention] when We said to the angles, "Prostrate to Adam," and they prostrated, except for Iblees. He said, "Should I prostrate to one You created from clay?"

جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے کیا اس نے کہا کہ کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Story of Adam and Iblis Allah tells: وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَليِكَةِ اسْجُدُواْ لادَمَ فَسَجَدُواْ إَلاَّ إِبْلِيسَ ... And (remember) when We said to the angels: "Prostrate yourselves unto Adam." They prostrated themselves except Iblis. Allah mentions here the enmity of Iblis, may the curse of Allah be upon him and his progeny. This is an ancient hatred, dating from the time that Allah created Adam, when He commanded the angels to prostrate to Adam, and all of them prostrated except Iblis, who was too arrogant and he haughtily refused to prostrate to him. He said in a tone indicating contempt: ... قَالَ أَأَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِينًا He said: "Shall I prostrate myself to one whom You created from clay!" According to another Ayah, he said: أَنَاْ خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ I am better than he. You created me from fire, and You created him from clay. (7:12) He also said, speaking to the Lord with disbelief and insolence, but the Lord bore it patiently: قَالَ أَرَأَيْتَكَ هَـذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ ...

ابلیس کی قدیمی دشمنی ابلیس کی قدیمی عداوت سے انسان کو اگاہ کیا جا رہا ہے کہ وہ باپ حضرت آدم علیہ السلام کا کھلا دشمن تھا ، اس کی اولاد برابر اسی طرح تمہاری دشمن ہے ، سجدے کا حکم سن کر سب فرشتوں نے تو سر جھکا دیا لیکن اس نے تکبر جتایا ، اسے حقیر سمجھا اور صاف انکار کر دیا کہ ناممکن ہے کہ میرا سر کسی مٹی سے بنے ہوئے کے سامنے جھکے ، میں اس سے کہیں افضل ہوں ، میں آگ ہوں یہ خاک ہے ۔ پھر اس کی ڈھٹائی دیکھیے کہ اللہ جل و علی کے دربار میں گستاخانہ لہجے سے کہتا ہے کہ اچھا اسے اگر تو نے مجھ پر فضیلت دی تو کیا ہوا میں بھی اس کی اولاد کو برباد کر کے ہی چھوڑوں گا ، سب کو اپنا تابعدار بنا لوں گا اور بہکا دوں گا ، بس تھوڑے سے میرے پھندے سے چھوٹ جائیں گے باقی سب کو غارت کر دوں گا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ۧوَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ ۔۔ : مہائمی (رض) نے فرمایا کہ اس آیت میں اشارہ ہے کہ گزشتہ آیت میں مذکور کفار کی سرکشی کی اصل وجہ شیطان کی پیروی ہے، کیونکہ وہ بھی تکبر اور سرکشی ہی کی وجہ سے راندۂ درگاہ ہوا تھا، اس لیے آگے اس کے آدم (علیہ السلام) کو بہکانے کا ذکر فرمایا۔ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ ۔۔ : اس سجدے کی حقیقت اور ابلیس کے بہتر ہونے کے دعوے کے متعلق دیکھیے سورة بقرہ (٣٤) ، سورة اعراف (١١) اور اس کے بعد کی آیات۔ ” طِیْنَاً “ اصل میں ” مِنْ طِیْنٍ “ تھا، ” مِنْ “ حذف ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگیا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر : اور (وہ وقت یاد رکھنے کے قابل ہے) جبکہ ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ان سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے (نہ کیا اور) کہا کہ کیا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جس کو آپ نے مٹی سے بنایا ہے (اس پر مردود ہوگیا اس وقت) کہنے لگا کہ اس شخص کو جو آپ نے مجھ پر فوقیت دی ہے (اسی بناء پر اس کو سجدہ کرنے کا مجھے حکم دیا ہے) تو بھلا بتلائیے تو (اس میں کیا فضیلت ہے جس کی وجہ سے میں مردود ہوا) اگر آپ نے (میری درخواست کے مطابق) مجھ کو قیامت کے زمانے تک (موت سے) مہلت دے دیتو میں (بھی) بجز قدر قلیل لوگوں کو (جو مخلصین ہوں گے باقی) اس کی تمام اولاد کو اپنے قابو میں کرلوں گا (یعنی گمراہ کر دوں گا) ارشاد ہوا جا (جو تجھ سے ہو سکے کرلے) جو شخص (ان میں سے تیرے ساتھ ہو لے گا تو تم سب کی سزا جہنم ہے پوری سزاء اور ان میں سے جس پر تیرا قابو چلے اپنی چیخ پکار سے (یعنی اغوا اور وسوسہ سے) اس کا قدم (راہ راست سے) اکھاڑ دینا اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لانا (کہ تیرا سارا لشکر مل کر گمراہ کرنے میں خوب زور لگاوے) اور ان کے مال اور اولاد میں اپنا ساجھا کرلینا (یعنی مال و اولاد کو گمراہی کا ذریعہ بنادینا جیسا کہ اس کا مشاہدہ ہوا) اور ان سے (جھوٹے جھوٹے) وعدے کرنا (کہ قیامت میں گناہ پر مواخذہ نہ ہوگا اور یہ سب باتیں شیطان کو بطور زجر و تنبیہ کے کہی گئی ہیں) اور شیطان ان لوگوں سے بالکل جھوٹے وعدے کرتا ہے (یہ بطور جملہ معترضہ کے تھا آگے پھر شیطان کو خطاب ہے) میرے خاص بندوں پر تیرا قابو نہ چلے گا اور (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا قابو مخلصین پر کیونکر چلے کہ) آپ کا رب (ان کا) کار ساز کافی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ ۭ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِيْنًا 61۝ۚ ملك ( فرشته) وأما المَلَكُ فالنحویون جعلوه من لفظ الملائكة، وجعل المیم فيه زائدة . وقال بعض المحقّقين : هو من المِلك، قال : والمتولّي من الملائكة شيئا من السّياسات يقال له : ملک بالفتح، ومن البشر يقال له : ملک بالکسر، فكلّ مَلَكٍ ملائكة ولیس کلّ ملائكة ملکاقال : وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] ، عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] ( م ل ک ) الملک الملک علمائے نحو اس لفظ کو ملا ئکۃ سے ماخوذ مانتے ہیں اور اس کی میم کو زائد بناتے ہیں لیکن بعض محقیقن نے اسے ملک سے مشتق مانا ہے اور کہا ہے کہ جو فرشتہ کائنات کا انتظام کرتا ہے اسے فتحہ لام کے ساتھ ملک کہا جاتا ہے اور انسان کو ملک ہیں معلوم ہوا کہ ملک تو ملا ئکۃ میں ہے لیکن کل ملا ئکۃ ملک نہیں ہو بلکہ ملک کا لفظ فرشتوں پر بولا جاتا ہے کی طرف کہ آیات ۔ وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] اور فرشتے اس کے کناروں پر اتر آئیں گے ۔ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] اور ان باتوں کے بھی پیچھے لگ گئے جو دو فرشتوں پر اتری تھیں ۔ سجد السُّجُودُ أصله : التّطامن «3» والتّذلّل، وجعل ذلک عبارة عن التّذلّل لله وعبادته، وهو عامّ في الإنسان، والحیوانات، والجمادات، وذلک ضربان : سجود باختیار، ولیس ذلک إلا للإنسان، وبه يستحقّ الثواب، نحو قوله : فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] ، أي : تذللوا له، وسجود تسخیر، وهو للإنسان، والحیوانات، والنّبات، وعلی ذلک قوله : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] ( س ج د ) السجود ( ن ) اسکے اصل معنی فرو تنی اور عاجزی کرنے کے ہیں اور اللہ کے سامنے عاجزی اور اس کی عبادت کرنے کو سجود کہا جاتا ہے اور یہ انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ( کیونکہ ) سجود کی دو قسمیں ہیں ۔ سجود اختیاری جو انسان کے ساتھ خاص ہے اور اسی سے وہ ثواب الہی کا مستحق ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] سو اللہ کے لئے سجدہ کرو اور اسی کی ) عبادت کرو ۔ سجود تسخیر ی جو انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] اور فرشتے ) جو آسمانوں میں ہیں اور جو ( انسان ) زمین میں ہیں ۔ چار ونا چار اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں ) بلس الإِبْلَاس : الحزن المعترض من شدة البأس، يقال : أَبْلَسَ ، ومنه اشتق إبلیس فيما قيل . قال عزّ وجلّ : وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُونَ [ الروم/ 12] ، وقال تعالی: أَخَذْناهُمْ بَغْتَةً فَإِذا هُمْ مُبْلِسُونَ [ الأنعام/ 44] ، وقال تعالی: وَإِنْ كانُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمُبْلِسِينَ [ الروم/ 49] . ولمّا کان المبلس کثيرا ما يلزم السکوت وينسی ما يعنيه قيل : أَبْلَسَ فلان : إذا سکت وإذا انقطعت حجّته، وأَبْلَسَتِ الناقة فهي مِبْلَاس : إذا لم ترع من شدة الضبعة . وأمّا البَلَاس : للمسح، ففارسيّ معرّب «1» . ( ب ل س ) الا بلاس ( افعال ) کے معنی سخت نا امیدی کے باعث غمگین ہونے کے ہیں ۔ ابلیس وہ مایوس ہونے کی وجہ سے مغمون ہوا بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اسی سے ابلیس مشتق ہے ۔ قرآن میں ہے : وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُونَ [ الروم/ 12] اور جس دن قیامت بر پا ہوگی گنہگار مایوس مغموم ہوجائیں گے ۔ أَخَذْناهُمْ بَغْتَةً فَإِذا هُمْ مُبْلِسُونَ [ الأنعام/ 44] توہم نے ان کو نا گہاں پکڑلیا اور وہ اس میں وقت مایوس ہوکر رہ گئے ۔ وَإِنْ كانُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمُبْلِسِينَ [ الروم/ 49] اور بیشتر تو وہ مینہ کے اترنے سے پہلے ناامید ہو رہے تھے ۔ اور عام طور پر غم اور مایوسی کی وجہ سے انسان خاموش رہتا ہے اور اسے کچھ سوجھائی نہیں دیتا اس لئے ابلس فلان کے معنی خاموشی اور دلیل سے عاجز ہونے ب کے ہیں ۔ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے طين الطِّينُ : التّراب والماء المختلط، وقد يسمّى بذلک وإن زال عنه قوّة الماء قال تعالی: مِنْ طِينٍ لازِبٍ [ الصافات/ 11] ، يقال : طِنْتُ كذا، وطَيَّنْتُهُ. قال تعالی: خَلَقْتَنِي مِنْ نارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ [ ص/ 76] ، وقوله تعالی: فَأَوْقِدْ لِي يا هامانُ عَلَى الطِّينِ [ القصص/ 38] . ( ط ی ن ) الطین ۔ پانی میں ملی ہوئی مٹی کو کہتے ہیں گو اس سے پانی کا اثر زائل ہی کیوں نہ ہوجائے اور طنت کذا وطینتہ کے معنی دیوار وغیرہ کو گارے سے لینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ مِنْ طِينٍ لازِبٍ [ الصافات/ 11] چپکنے والی مٹی سے ۔ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ [ ص/ 76] اور اسے مٹی سے بنایا ۔ فَأَوْقِدْ لِي يا هامانُ عَلَى الطِّينِ [ القصص/ 38] ہامان امیر لئے گارے کو آگ لگو اکر اینٹیں تیار کرواؤ

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦١) وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب کہ ہم نے ان فرشتوں سے بھی کہا جو کہ زمین پر تھے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ تحیت کرو، ابلیس کہنے لگا کیا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جس کو آپ نے مٹی سے بنایا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِيْنًا) حضرت آدم اور ابلیس کا یہ قصہ یہاں چوتھی مرتبہ بیان ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے سورة البقرۃ رکوع ٤ ‘ سورة الاعراف رکوع ٢ اور سورة الحجر رکوع ٣ میں اس قصے کا ذکر ہوچکا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

73. That is, We showed you such things during the Miraj so that they should have the first hand knowledge of the reality from a truthful and honest man like you and be warned by it to the right way. They, however, began to make fun of you, though We had already warned them through you that their evil ways would force them to eat of the Az-zaqqum. Instead of this they began to scoff at you, saying, just consider the logic of this man. On the one hand, he says that there is an awful fire burning in Hell and, on the other, he says that trees are growing in it. 74. Please also refer to (Surah Al-Baqarah, Ayats 30-39); (Surah An-Nisa, Ayats 117-122); (Surah Al-Aaraf, Ayats 11- 25); (Surah Ibrahim, Ayat 22); (Surah Al-Hijr, Ayats 26-43). This story has been cited here to impress upon the disbelievers that their attitude of arrogance and indifference towards Allah is exactly the same as was adopted by Satan. As a matter of fact, they were following Satan who is the avowed enemy of man, and were being entangled in the snare spread by him who had challenged the progeny of Adam at the very beginning of human history that he would allure and ruin them.

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :74 تقابل کے لیے ملاحظہ ہو البقرہ آیات ۳۰ تا ۳۹ ، النساء آیات ١١۷ ۔ ١۲١ ، الاعراف آیات ١١ ۔ ۲۵ ، الحجر آیات ۲٦ ۔ ٤۲ ، اور ابراہیم آیت ۲۲ ۔ اس سلسلہ کلام میں یہ قصہ دراصل یہ بات ذہن نشین کرنے کے لیے بیان کیا جا رہا ہے کہ اللہ کے مقابلے میں ان کافروں کا یہ تمرد ، اور تنبیہات سے ان کی یہ بے اعتنائی ، اور کجروی پر ان کا یہ اصرار ٹھیک ٹھیک اس شیطان کی پیروی ہے جو ازل سے انسان کا دشمن ہے ، اور اس روش کو اختیار کر کے درحقیقت یہ لوگ اس جال میں پھنس رہے ہیں جس میں اولاد آدم کو پھانس کر تباہ کر دینے کے لیے شیطان نے آغاز تاریخ انسانی میں چلینج کیا تھا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦١۔ ٦٢:۔ یہ قصہ قرآن میں سات جگہ آیا ہے اول سورة بقرہ میں پھر سورة اعراف میں اور پھر سورة حجر میں اور اس سورة بنی اسرائیل میں اور سورة کہف اور سورة طہ اور سورة ص میں۔ حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ اللہ پاک نے جس وقت حضرت آدم ( علیہ السلام) کو پیدا کیا تو فرشتوں کو حکم دیا کہ تم سب کے سب حضرت آدم ( علیہ السلام) کو سجدہ کرو اور ابلیس بھی قوم جنات میں سے ایک مقرب فرشتہ ہوگیا تھا اس نے اپنے کو بڑا جانا اور حضرت آدم ( علیہ السلام) کو حقیر سمجھ کر سجدہ کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ یا اللہ تو نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کو خاک سے پیدا کیا ہے اور میری پیدائش آگ خاک سے لطیف ہے اس لیے جوہر کثیف کو جوہر لطیف پر کسی طرح فضیلت نہیں ہوسکتی مگر اللہ پاک نے ابلیس کے اس بیہودہ قیاس کا کچھ جواب نہ دیا کیونکہ اس نے اپنے پیدا کرنے والے پر اعتراض کیا تھا اس کو حقیر جان کر چھوڑ دیا اور اسی نافرمانی اور عدول حکمی کی وجہ سے فرشتوں کی صف سے اس کو نکال دیا اور مردود درگاہ بنا دیا پھر اس نے قسم کھائی کہ میں اولاد آدم کو قیامت تک گمراہ اور نافرمان کروں گا اللہ پاک سے مہلت چاہی اور فقط اپنے گمان ہی گمان پر بنی آدم کے ورغلانے کا بیڑا اس نے اٹھا لیا اللہ پاک نے بھی اس کو مہلت دی اور فرما دیا کہ جو میرے خاص بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں چلے گا یہی معنی ہیں الا قلیلا کے جس گروہ پر شیطان کا کچھ تسلط نہیں ہوتا وہ گروہ انبیاء کا ہے اور امت کے اولیاء اور صالحین بھی اس کے دھوکے سے علیحدہ رہتے ہی ان کے علاوہ ہر شخص کے دل میں گھس کر شیطان طرح طرح کا وسوسہ ڈال ڈال کر صراط مستقیم سے ان کو بہکاتا ہے اور طرح طرح کے مکرو فریب سے انسان کو اپنے قبضہ میں لاتا ہے اور جو دعویٰ اس نے آدم ( علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت میں کیا تھا اس کے پورا کرنے میں کچھ کمی نہیں کرتا اللہ اس کے شر سے بچائے۔ حسن بصری ابن سیرین اور اکثر سلف کا قول ہے کہ آدم (علیہ السلام) کو قبلہ ٹھہرا کر اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنے کو یہ حکم تھا۔ معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی اور ابوداؤد میں ابوموسیٰ اشعری (رض) کی حدیث ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمام زمین کی مٹی لی ہے اسی واسطے ان کی اولاد میں کوئی گورا ہے کوئی کالا ہے۔ مسند امام احمد اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ابوسعید (رض) بخاری کی صحیح حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے ١ ؎۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ مہلت کے منظور ہوجانے کے بعد شیطان نے جب اللہ تعالیٰ کے روبرو اولاد آدم ( علیہ السلام) کے بہکانے کی قسم کھائی تو اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے جاہ و جلال کی قسم کھا کر توبہ و استغفار کرنے والے گناہ گاروں کے گناہ معاف فرما دینے کا وعدہ فرمایا اس حدیت کو آیت کی تفسیر میں یہ دخل ہے کہ اس سے مہلت کے بعد کا حال اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت عائشہ (رض) کی حدیث سورة الاعراف میں گزر چکی ہے ٢ ؎۔ جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فرشتے نور سے پیدا کیے گئے اور شیطان آگ کے شعلے اور فرشتے نور سے پیدا کیے گئے ہیں، ان حدیثوں سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ آدم (علیہ السلام) کا پتلا مٹی سے بنایا گیا ہے اور شیطان آگ کے شعلے اور فرشتے نور سے پیدا کیے گئے ہیں اس لیے شیطان فرشتوں میں سے نہیں ہے کیونکہ نور میں اور آگ کے شعلہ میں بڑا فرق ہے اسی واسطے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرشتوں اور شیطان کی پیدائش کا جدا جدا ذکر فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے صحیح قول کے موافق لاحتنکن کے معنے غلبہ حاصل کرنے کے ہیں ٣ ؎ اسی قول کا ترجمہ ڈھانٹی دینے کا کیا گیا ہے جس کا مطلت غلبہ حاصل کرنے کا ہے۔ ١ ؎ مثلا تفسیر ہذاص ٢٩٤ ج ٣۔ ٢ ؎ تفسیر ہذاص ٢٣٤۔ ٢٣٥ ج ٢۔ ٣ ؎ تفسیر بان کثیرص ٤٩ ج ٣۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:61) طینا۔ ای من طین۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٧) اسرارومعارف آج جو تکبر انہوں نے اختیار کیا ہے یہ شیطان نے کیا تھا اور گمراہ ہوا یہ لوگ بھی اس کی باتوں میں آگئے اس کا واقعہ یہ ہوا کہ جب ہم نے سب فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے جو انہیں میں موجود تھا اور اسے بھی یہ حکم شامل تھا مگر وہ کہنے لگا بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جسے تو نے اے اللہ مٹی سے پیدا کیا ہے میں اس کے سامنے سجدہ کروں یعنی خود کو اس سے بڑا سمجھا اور اسی تکبر میں اللہ جل جلالہ کے حکم کو بھی ماننے سے انکار کردیا ، بلکہ دل کی بات زبان پر لے آیا اور کہنے لگا کہ آپ نے اس شخص کو مجھ پر فضیلت دے دی ، یعنی یہ تو ابھی بنا اور مجھے سجدے کرتے اور عبادت کرتے عرصہ بیت گیا پھر بھلا اسے مجھ پر فضیلت دینا کیسے درست ہو سکتا ہے گویا اللہ کی تقسیم پر معترض ہوا جیسے انہیں اس بات پر اعتراض ہے کہ اللہ جل جلالہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبوت سے کیوں سرفراز فرمایا ۔ کہنے لگا کہ اے اللہ اگر مجھے روز قیامت تک زندگی اور مہلت دی جائے تو میں اس کی نسل اور اولاد سے مقابلہ کروں گا اور انہیں گمراہ کروں گا ہاں اگر تھوڑے بہت بچ جائیں تو الگ بات ہے ورنہ میں ان سب سے تیرا در چھڑا کر انہیں اپنے آگے جھکا لوں گا ، تو ارشاد ہوا جا اور یہ بھی کر کے دیکھ لے مگر سن لے کہ جو کوئی تیری بات مانے گا اور انسانی عظمت کھو کر تیری غلامی کرے گا وہ تمہارے سمیت جہنم میں جائے گا اور اس ظلم کی پوری پوری سزا پائے گا ، تجھے افسوس نہ رہنا چاہئے اپنے سوار اور پیادے یعنی لاؤ لشکر سمیت ان پر چڑھائی کر دے ، انہیں اپنی آواز سے گمراہ کرنے کی سعی کر اور ان کے مال میں شراکت کرلے ان کی اولادوں میں حصہ داری بنا لے اور انہیں جھوٹے وعدوں سے بہلا پھسلا کر گمراہ کرنے کی کوشش کر واقعی شیطان اپنے ماننے والوں سے جو وعدہ کرتا ہے وہ محض دھوکا اور فریب ہوتا ہے ۔ (شیطان کی آواز اور لاؤ لشکر کیا ہے) صاحب تفسیر قرطبی (رح) فرماتے ہیں حضرت ابن عباس (رض) کا ارشاد ہے کہ گانا بجانا اور گانے بجانے کے آلات یعنی مزا میر ہی شیطان کی صوت ہیں اسی لیے یہ سب شرعا حرام ہے اگرچہ جدید تہذیب میں اسے روح کی غذا کا نام دیا گیا ہے مگر یہ روح کے لیے زہر قاتل ہے اور جو ایسا کہتے ہیں وہ روح کے بارے کچھ نہیں جانتے بلکہ یہ سرتال نفس انسانی کے سفلی جذبات کو بھڑکانے کا سبب بنتے ہیں ، اور یہ جدید دانشور اسی نفس کو روح کا نام دے کر جذبات کو ابھارنے والی آواز کو اس کی غذا قرار دے رہی ہیں حالانکہ روح کو غذا ملے تو انسان جذبات سے مغلوب نہیں ہوتا بلکہ جذبات پر قابو پانے کی صلاحیت حاصل کرتا ہے ، اللہ جل جلالہ معاف کرے جہلانے مزامیر اور گانے بجانے کو قوالی شریف کہہ کر مذہبی تقدس بھی دے دیا ہے جو بہت بڑی زیادتی ہے ۔ اور شیطان کے سوار اور پیادے سے مراد تو اس کے ماننے والوں کے لشکر ہیں جن میں اس کی اولاد اس کے پیروکار جن اور اس کے متبعین انسان سب شامل ہیں ، آج کے لشکر تو اقوام مغرب ہیں جو محض چند ٹکوں کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے ممالک اور اقوام کو جنگ کی ہولناکیوں میں دھکیل دیتے ہیں ۔ (مال اور اولاد میں شیطان کی شراکت) جو مال بھی ناجائز ذرائع سے جمع کیا جائے اس میں ابلیس کی شراکت واضح کہ اس کے کہنے پر خرچ کیا گیا ۔ ایسے ہی حصول اولاد کے لیے غیر شرعی طریقے اختیار کرنا یا غیر شرعی رسومات ادا کرنا یا ناجائز اولاد کا ہونا شیطان کی شراکت ہے ، اور یہ ناجائز ذرائع اختیار کرنا یا مشرکانہ رسومات کیسے درست ہو سکتی ہیں جبکہ سب اختیار اللہ کو ہے جس نے تمہارے لیے سمندروں پر جہازوں میں سواری کرنا آسان بنا دیا تاکہ تم اپنے رزق کے ذرائع پیدا کرسکو وہ تو تم پر حد درجہ مہربان ہے کہ تمہیں ان امور کی عقل اور قوت کار عطا کی اور خود تمہارا عمل گواہ ہے کہ سمندر میں جب کبھی تمہیں طوفان آگھیریں تو تم اپنے فرض کردہ باطل معبودوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ کے نام کی دہائی دیتے ہو کہ عرب ایسا ہی کرتے تھے خود ان کے خیال میں بتوں کا بس صرف خشکی پر چلتا تھا پھر جب اللہ جل جلالہ تمہیں ان مصائب سے بچا کر لاتا ہے تو خشکی پر پہنچ کر تم اس کی اطاعت سے روگردانی کرنے لگتے ہو ، انسان بھی کس قدرنا شکرا ہے ، کیا تم یہ نہیں سوچتے کہ اللہ قادر ہے اور خشکی پر پہنچ کر تم اس کی گرفت سے دور نہیں ہو گے بلکہ وہ چاہے تو خشکی میں ہی غرق کر دے اور زمین میں دھنسا دے یا آندھی اور طوفان مسلط کرکے تباہ کر دے اور تمہیں کوئی مددگار میسر نہ ہو سکے ، یا اس بات سے بھی بےخوف ہوجاتے ہو کہ تمہیں پھر سے سمندروں میں لے جائے اور سمندری طوفانوں کی نذر کر دے ایسے حالات پیدا فرما دے کہ تمہیں پھر بحری سفر پر جانا پڑجائے اور وہاں طوفان تمہیں تمہارے کفر کی وجہ سے غرق کرکے تباہ کر دے اور اس کی بارگاہ میں تو تمہاری بات کرنے والا بھی کوئی نہ ہو کہ تمہاری حمایت میں منہ کھولنے کی جرات کرے ،۔ ہمارا احسان دیکھو کہ ہم نے اولاد آدم کو بزرگی اور عظمت بخشی اسے سمندروں اور خشکی پر بےپناہ اختیار واقتدار دیا اور بہترین کھانے عطا فرمائے غرض اپنی بےحساب مخلوق پر اسے فضیلت بخشی ۔ (کرامت بنی آدم) سب سے بڑی عظمت آدمیت نور نبوت ہے جو انسانوں کے علاوہ کسی بھی مخلوق کو عطا نہ ہوا اور یہی نور انسانوں کے دلوں کو روشن کرکے انہیں جمال باری کو اپنی حیثیت کے مطابق دیکھنے کی سکت اور نتیجے میں عشق وطلب عطا کرتا ہے اور مادی اعتبار سے بھی جسمانی ساخت قد کاٹھ اور اعضاء اور اعضاء کی کارکردگی میں عقل و شعور اور فہم و فراست میں اور طرح طرح کے کھانے بنانے اور آرام کے اسباب ایجاد کرنے میں ہر طرح سے انسان کو دوسرے حیوانات پر بہت بڑی فضیلت ہے اور روحانی اعتبار سے تخلیق پر سبقت لے گیا ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 65 طین مٹی۔ کر مت تو نے عزت دی۔ احتکن جڑیں اکھاڑ دوں گا۔ موفور بھرپور، پوری طرح۔ استفزز پھسلا لے، آمادہ کرلے۔ اجلب چڑھا کرلے آ۔ خیل گھوڑے ، سوار۔ رجل پیادے، پاؤں۔ غرور دھوکہ، فریب ۔ تشریح :- آیت نمبر 61 تا 65 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں زندگی کی سچائیوں کو کہانیوں اور قصوں کے طور پر بیان نہیں کیا بلکہ عبرت و نصیحت کے پہلوؤں کو اجاگر کرنے اور عملی زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے واقعہ کے صرف اسی پہلو کو بیان کیا ہے جس کی اس موقع پر ضرورت ہوتی ہے۔ چناچہ حضرت آدم اور شیطان کے واقعہ کو سورة نبی اسرائیل کے علاوہ چھ اور بڑی سورتوں میں بیان کیا گیا ہے۔ ان میں سورة البقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة کہف، سورة طہ اور سورة ص ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے پہلے مخاطب مکہ مکرمہ کے لوگوں اور قیامت تک آنے والوں کو اس بات سے آگاہ فرمایا ہے کہ شیطان انسان کا پہلے دن سے دشمن ہے۔ اس نے اللہ کے بندوں کو اللہ کی راہ سے بھٹکانے کی قسم کھا رکھی ہے۔ شیطان انسان کا ازلی دشمن محض اپنے تکبر و غرور، ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے تمام فرشتوں اور ان کے سردار شیطان سے یہ فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو تو اس نے نہایت غرور وتکبر کا انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ میں انسان کے سامنے نہیں جھک سکتا کیونکہ میں اس سے کہیں برتر اور اعلیٰ ہوں اور کہنے لگا کہ اگر مجھے قیامت تک مہلت دی جائے تو میں اس کو ثابت کر کے دکھا سکتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو مہلت دے کر قیامت تک کے لئے اپنی بارگاہ سے نکال دیا اور فرما دیا کہ اے شیطان تیرا قابو اور تیرے فریب کا جادو ان لوگوں پر نہ چل سکے گا جو میرے فرماں بردار اور نیک بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان سے فرما دیا کہ تجھے مکمل آزادی ہے کہ جس پر بھی تیرا بس اور قابو چلتا ہے اس پر اپنے لشکروں کو چڑھا کرلے آ۔ لوگوں کے جان و مال میں شرک کے ہزاروں انگارے بھر دے لیکن تو دیکھے گا کہ میرے مخلص بندے تیرے جال سے صاف نکل جائیں گے اور ساری دنیا کو چھوڑ کر جب وہ میرے اوپر بھروسہ کریں گے تو میری رحمت ان گرتے ہوئے لوگوں کو سنبھلا لے گی کیونکہ میرے علاوہ بھروسہ کرنے کے لئے کوئی دوسری ذات نہیں ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے صاف صاف فرما دیا کہ زندگی کے دو ہی راستے ہیں ایک تو حق و صداقت کی راہ میں چلنے کا اور اس میں ہمت و طاقت سے صبر و تحمل کا طریقہ اختیار کرنا اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ کرنا ہے اور دوسرا راستہ شیطان کا وہ راستہ ہے جس میں وہ جھوٹ اور فریب کے بہت خوش نما جال پھیلا کر انسانوں کو صراف مستقیم سے دور کردیتا ہے۔ اللہ نے ایمان اور کفر کے دونوں راستے کھلے رکھ دیئے ہیں۔ اب یہ انسانوں پر ہے کہ وہ ان دونوں راستوں میں سے کس راستہ کو اختیار کر کے اپنے لئے جنت یا جہنم کو چنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو راستے دکھا دیئے ہیں اب اگر وہ چاہے تو شکر (ایمان و عمل صالح) کا راستہ اختیار کرلے اور چاہے تو انکار (کفر و شرک اور گناہوں کا) کی راہ پر چل پڑے۔ لیکن دونوں راستوں کو دکھانے کے بعد دونوں کا انجام بھی بتا دیا کہ جو لوگ ایمان و عمل صالح اور شکر و اطاعت کے راستے پر چلیں گے ان کے لئے نہ صرف آخرت کی ہر طرح کی کامیابیاں ہیں بلکہ ان لوگوں کی دنیا بھی درست ہوجائے گی اور آخرت بھی۔ اس کے برخلاف جن لوگوں نے کفر و شرک اور گناہوں کے راستے کا انتخاب کرلیا وہ حق اور سچائی کے راستے سے اسی قدر دور ہو کر اپنے ہاتھوں اپنی آخرت اور دنیا دونوں کو ضائع کر بیٹھیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ دنیا میں جدوجہد کر کے دنیا کے اسباب راحت کو اپنے آس پاس جمع کرلیں لیکن آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ اللہ کے بندوں کی دنیا اور آخرت دونوں ہی برباد ہوجائیں۔ لیکن اللہ کا یہ بہت بڑا کرم ہے کہ وہ اپنے بندوں کو شیطان کے جال سے بچانے کے لئے اپنے نیک بندوں کو ان کی اصلاح کے لئے ہر زمانہ میں بھیجتا رہا ہے۔ اللہ نے پہلے اپنے نبیوں اور رسولوں کو بھیجا پھر جب اللہ نے اپنے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیج دیا تو اب آپ کے بعد کوئی اور نبی اور رسول نہیں آئے گا لیکن اللہ کی اطاعت و فرماں برداری پر چلانے کے لئے علماء امت کو امت کی اصلاح کے لئے اٹھاتا رہے گا۔ چونکہ قرآن و سنت کی تعلیمات کی حفاظت کا اللہ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ قیامت تک خود ان کی نگرانی اور حفاظت فرمائے گا اس لئے اب کسی نئے نبی اور رسول کی ضروتر باقی نہیں رہی صرف وہ تعلیمات جن کو نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لے کر آئے ہیں ساری دنیا میں پھیلانے کے لئے علماء امت اور بزرگان دین اپنی اپنی ہمت کے مطابق خدمات سرانجام دیتے رہیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ علماء امت نے ہر دور میں اللہ کے دین کی سربلندی اور اس کی طرف اٹھنے والے ہاتھوں کا مقابلہ کیا ہے اور انشاء اللہ یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی سربلندی کی یہ سعادت عطا فرمائے اور ہم سے دین کی عظمت کا کام لے لے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ اس پر مردود و مطرود ہوا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : کفار کی قرآن مجید سے عداوت اور بغاوت شیطان کی پیروی کی وجہ سے ہے۔ شیطان اپنے رب کا سب سے بڑاباغی اور نافرمان ہے۔ جس کی واضح اور پہلی دلیل حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیق آدم سے پہلے ملائکہ کے سامنے اعلان فرمایا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ ملائکہ نے عرض کی کیا آپ زمین میں اس شخص کو خلیفہ بنائیں گے جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا ؟ ہم تیری حمد وثناء کے ساتھ تسبیح و تقدیس بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو کچھ میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرما کر تمام چیزوں کے نام بتلائے پھر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے کرکے ارشاد فرمایا۔ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان چیزوں کے نام بتلاؤ۔ ملائکہ نے عرض کی اے اللہ ! تیری ذات پاک ہے ہمیں تو اتنا ہی علم ہے جتنا آپ نے ہمیں سکھایا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں تو ہر بات کو جاننے والا ہے اور تیرے ہر حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ تم ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ جب آدم (علیہ السلام) نے ان چیزوں کے نام بتا دئیے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ملائکہ سے فرمایا۔ کیا میں نے تمہیں نہیں فرمایا تھا کہ میں ہی زمین و آسمانوں کے غیب کو جانتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے جو تم ظاہر کررہے ہو اور جو تم چھپاتے ہو۔ اس کے بعد ملائکہ کو حکم دیا کہ تم آدم کو سجدہ کرو۔ ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا۔ ابلیس نے تکبر اور انکار کیا۔ وہ انکار کرنے والوں میں ہوا۔ (البقرۃ : ٣٠ تا ٣٤) ابلیس نے کفر وتکبر کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ کیا میں اس شخص کو سجدہ کروں ؟ جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ تو نے اس کو مجھ پر فضلیت دی ہے۔ بلکہ اس سے بڑھ کر کہنے لگا کہ میں آدم سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔ (بنی اسرائیل : ٦١) اس کے بعد ابلیس اللہ تعالیٰ کے سامنے گستاخی کرتے ہوئے یہ بھی کہتا ہے کہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ میں آدم کو سجدہ کروں۔ تو نے آدم کو سیاہ اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ملائکہ کی طرح ابلیس بھی اپنے رب کے سامنے معذرت خواہ ہوتا۔ لیکن وہ حسدوبغض کی وجہ سے بغاوت پہ بغاوت کرتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ اس نے یہ جسارت بھی کر ڈالی کہ اگر مجھے قیامت تک مہلت دے تو میں چند لوگوں کو چھوڑ کر آدم کی تمام اولاد کو گمراہ کردوں گا۔ ابلیس کا انکار تکبر اور حسد کی وجہ سے تھا۔ تکبر وہ بری چیز ہے کہ جس سے انسان کے تمام اعمال غارت ہوجاتے ہیں اور انسان دنیا میں ہی ذلت و رسوائی سے دوچار ہوجاتا ہے۔۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ ٢۔ شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو تکبر کی بناء پر سجدہ کرنے سے انکار کیا۔ ٣۔ شیطان نے قیامت تک اللہ تعالیٰ سے مہلت مانگی، جو اسے دے دی گئی۔ ٤۔ شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد کو گمراہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شیطان کی گستاخیاں : ١۔ جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس اس سے انکاری ہوا۔ (بنی اسرائیل : ٦١) ٢۔ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے انکار کیا۔ (الحجر : ٣٠۔ ٣١) ٣۔ کہنے لگا کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ (بنی اسرائیل : ٦١) ٤۔ شیطان نے کہا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔ (الاعراف : ١٢) ٥۔ اگر تو مجھے قیامت تک مہلت دے تو میں تھوڑے لوگوں کے علاوہ اس کی اولاد کی جڑ کاٹتا رہوں گا۔ (بنی اسرائیل : ٦٢) ٦۔ شیطان نے کہا تو نے مجھے اس کی وجہ سے گمراہ کیا ہے میں بھی ان کے راستے میں بیٹھوں گا۔ (الاعراف : ١٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہاں بتایا جاتا ہے کہ گمراہ لوگوں کی گمراہی کا اصل سبب کیا ہوتا ہے۔ چناچہ قصہ آدم و ابلیس کا یہ منظر یہاں پیش کیا جاتا ہے ، تاکہ وہ لوگ جو گمراہی کے اصل اسباب معلوم کرنا چاہتے ہیں ان کو معلوم ہوجائے کہ یہ اسباب کیا ہیں اور یہ کہ شیطان ان کا بنیادی دشمن ہے۔ یہ ان کے جد امجد کا بھی دشمن تھا ، یوں انسانوں کے ابو الاباء کا رشتہ بتا کر انہیں ڈرایا جاتا ہے کہ شیطان ان کا جدی دشمن ہے۔ واذ قلنا للملئکۃ اسجدو……(٧١ : ١٦) ” اور یاد کرو جب ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو ، تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ اس نے کہا :” میں اس جو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے بنایا ہے “۔ یہ کبر کی وجہ سے شیطان کے حسد کا ظہور ہے کہ وہ مٹی کو تو دیکھتا ہے لیکن یہ نہیں دیکھتا کہ اس مٹی میں اللہ نے اپنی روح پھونکی ہوئی ہے۔ یہاں ابلیس بنی آدم کی کمزوریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ مٹی سے تخلیق کردہ یہ مخلوق بڑی آسانی سے گمراہ کی جاسکتی ہے۔ وہ بڑے غرور سے کہتا ہے :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے کا حکم سننے پر ابلیس کا جواب دینا کیا میں اسے سجدہ کروں جو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے ؟ پھر بنی آدم کو بہکانے کا عزم ظاہر کرنا، اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ جن پر تیرا قابو چل سکے ان پر قابو کرلینا اللہ تعالیٰ نے جنات کو انسان سے پہلے پیدا فرمایا تھا جنات کی تخلیق آگ سے ہوئی تھی اور آدم کو (جو سارے انسانوں کے باپ ہیں) مٹی سے پیدا فرمایا ابلیس جنات میں سے تھا یہ عالم بالا میں فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا اور عبادت الٰہی اس کا شغل تھا اللہ تعالیٰ شانہ نے آدم (علیہ السلام) میں روح ڈالنے کے بعد تمام فرشتوں کو اور ابلیس کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں (یہ سجدہ تعظیمی تھا جو سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت میں منسوخ ہے) حکم سن کر سارے فرشتوں نے تو آدم کو سجدہ کرلیا لیکن ابلیس نے سجدہ نہیں کیا جب اللہ تعالیٰ نے سوال فرمایا (مَا مَنَعَکَ اَنْ تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُکَ ) (کہ تجھے سجدہ سے کیا چیز مانع تھی جب میں نے تجھے سجدہ کا حکم دیا) اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم ہی کو غلط بتادیا اور اعتراض کر بیٹھا، کہنے لگا کہ مجھے آپ نے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا میں اس سے افضل ہوں آپ نے اسے مجھ پر فضیلت دیدی اسے مسجود بنا دیا اور مجھے حکم دیدیا کہ میں اسے سجدہ کروں افضل اپنے کمتر کو سجدہ کیوں کرے آپ کا یہ حکم دینا ہی حکمت کے خلاف ہے۔ ابلیس کی حکم عدولی بےادبی اور بدتمیزی کی وجہ سے اسے ملعون قرار دیدیا اور عالم بالا سے ذلت کے ساتھ نکالا گیا (جس کی تفصیل سورة اعراف رکوع ٢ میں اور سورة ص رکوع ٥ میں مذکور ہے۔ ) جب شیطان مردود ہوگیا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے اول تو قیامت تک زندہ رہنے کی مہلت طلب کی اس پر اللہ تعالیٰ نے اسے ایک وقت معلوم کے دن تک مہلت دیدی اب تو وہ اللہ کی عزت کی قسم کھا کر کہنے لگا کہ میں ان سب کو گمراہ کروں گا بجز آپ کے ان بندوں کے جو منتخب کرلیے گئے ہوں (یہ تفصیل سورة ص میں ہے) یہاں سورة بنی اسرائیل میں یوں ہے کہ ابلیس نے اللہ تعالیٰ کے فرمان کو حکمت کے خلاف بتانے کے بعد یوں کہا (لَءِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَاَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہٗٓ اِلَّا قَلِیْلًا) (آپ نے مجھے قیامت کے دن تک مہلت دیدی تو میں اس کی ساری ذریت کو بجز تھوڑے سے افراد کے اپنے قابو میں کرلوں گا) یہ وہی تھوڑے سے افراد ہیں جن کا استثناء سورة حجر اور سورة ص میں مذکور ہے ابلیس نے (اِلَّا عِبَادَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ ) کہہ کر استثناء کردیا تھا اس نے اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ اور منتخب بندوں کو گمراہ کرنے سے اسی وقت ہار مان لی تھی جب اس نے بنی آدم کو گمراہ کرنے کی قسم کھائی تھی ابلیس کو یہ معلوم تھا کہ یہ نئی مخلوق جو پیدا کی گئی ہے اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں خلافت دینے کے لیے وجود بخشا ہے لہٰذا ان میں ایسے افراد ضرور ہونگے جو کار خلافت سنبھالیں گے اور اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہونگے۔ جب شیطان نے بنی آدم کو بہکانے کی قسم کھالی تو اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ جا اپنی کوششیں کرلینا جو لوگ تیرے پیچھے لگیں گے وہ اور تو سب کو جہنم میں داخل کردوں گا سورة ص میں فرمایا (لَاَمْلَءَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکَ وَمِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ اَجْمَعِیْنَ ) (یہ بات ضروری ہے کہ تو اور تیرے پیچھے چلنے والے سب کو دوزخ میں بھر دوں گا) اور یہاں سورة اسراء میں فرمایا (فَاِنَّ جَھَنَّمَ جَزَآؤُکُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا) (تو اور جو لوگ تیرا اتباع کریں سب کی سزا جہنم ہے یہ جزا پوری اور بھرپور ہوگی)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

59:۔ قصہ آدم و ابلیس ذکر کر کے بتایا گیا کہ شیطان تمہارا پرانا دشمن ہے اس لیے مکر و فریب سے خبردار رہنا، اس کی پیروی کر کے شرک میں مبتلا نہ ہوجانا معجزہ اسراء اس لیے ظاہر کیا گیا تاکہ تم مسئلہ توحید کو مان لو مگر دیکھنا شیطان سے ہوشیار رہنا مبادا وہ تمہارے دلوں میں وسوسے اور شبہات ڈال کر تمہیں راہ توحید سے بہکا دے ” قال ارایتک الخ “ اس سے آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد سے شیطان کی انتہائی دشمنی ظاہر ہوتی ہے۔ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے کہا اے اللہ ! اگر تو مجھے قیامت تک مہلت عطا کرے تو میں یہ آدم جس کو تو نے مجھ پر برتری اور بزرگی دی ہے اس کی اولاد کو گمراہ کر کے اس کا ستیا ناس کردوں اور بہت ہی کم لوگ میرے مکر و فریب سے محفوظ رہیں۔ ” لاحتنکن لاستاصلنھم باغرائھم “ (مدارک) یعنی گمراہ کر کے انہیں تباہ کردوں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

6 1 اور وہ وقت قابل ذکر ہے جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ تم آدم (علیہ السلام) کے روبرو اور آدم کے سامنے سجدہ کرو تو ان سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدہ نہیں کیا اور کہنے لگا کیا میں اس کو سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی سے بنایا ہے۔ یہ واقعہ کئی جگہ قرآن کریم میں گزر چکا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اللہ کے حکم میں شبہے نکالنے کافروں کے وہی چال ہے ابلیس کی۔ 12