Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 63

سورة بنی اسراءیل

قَالَ اذۡہَبۡ فَمَنۡ تَبِعَکَ مِنۡہُمۡ فَاِنَّ جَہَنَّمَ جَزَآؤُکُمۡ جَزَآءً مَّوۡفُوۡرًا ﴿۶۳﴾

[ Allah ] said, "Go, for whoever of them follows you, indeed Hell will be the recompense of you - an ample recompense.

ارشاد ہوا کہ جا ان میں سے جو بھی تیرا تابعدار ہو جائے گا تو تم سب کی سزا جہنم ہے جو پورا پورا بدلہ ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

When Iblis asked for respite, قَالَ اذْهَبْ ... (Allah) said: `Go, (I will give you respite).' According to another Ayah (Allah) said: قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ إِلَى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ Verily, you are of those allowed respite till the Day of the time appointed. (38:80-81) Then Allah warned him and those who follow him among the progeny of Adam about Hell: قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاوُكُمْ جَزَاء ... (Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all), meaning, for your deeds. ... جَزَاء مَّوْفُورًا an ample recompense. Mujahid said, "Sufficient recompense." Qatadah said, "It will be abundant for you and will not be decreased for you."

شیطانی آواز کا بہکاوا ابلیس نے اللہ سے مہلت چاہی ، اللہ تعالیٰ نے منظور فرما لی اور ارشاد ہوا کہ وقت معلوم تک مہلت ہے ، تیری اور تیرے تابعداروں کی برائیوں کے بدلہ جہنم ہے ، جو پوری سزا ہے ۔ اپنی آواز سے بہکا سکے بہکا لے یعنی گانے اور تماشوں سے انہیں بہکاتا پھر ۔ جو بھی اللہ کی نافرمانی کی طرف بلانے والی صدا ہو وہ شیطانی آواز ہے ۔ اسی طرح تو اپنے پیادے اور سوار لگ کر جس پر تجھ سے حملہ ہو سکے ۔ حملہ کر لے ۔ رجل جمع ہے راجل کی جیسے رکب جمع راکب کی اور صحب جمع ہے صاحب کی ۔ مطلب یہ ہے کہ جس قدر تجھ سے ہو سکے ان پر اپنا تسلط اور اقتدار جما ۔ یہ امر قدری ہے نہ کہ حکم ۔ شیطانوں کی یہی خصلت ہے کہ وہ بندگان رب کو بھڑکاتے اور بہکاتے رہتے ہیں ۔ انہیں گناہوں پر آمادہ کرتے رہتے ہیں ۔ اللہ کی معصیت میں جو سواری پر ہو اور پیدل ہو ، وہ شیطانی لشکر میں ہے ، ایسے جن بھی ہیں اور انسان بھی ہیں ، جو اس کے مطیع ہیں ۔ جب کسی پر آوازیں اٹھائی جائیں تو عرب کہتے ہیں اجلب فلان علی فلان آپ کا یہ فرمان کہ گھوڑ دوڑ میں جلب نہیں ، وہ بھی اسی سے ماخوذ ہے ۔ جبلہ کا اشتقاق بھی اسی سے ہے یعنی آوازوں کا بلند ہونا ۔ ان کے مال اور اولاد میں بھی تو شریک رہ ۔ یعنی اللہ کی نافرمانیوں میں ان کا مال خرچ کرا ، سود خواری ان سے کرا ۔ برائی سے مال جمع کریں اور حرام کاریوں میں خرچ کریں ۔ حلال جانوروں کو اپنی خواہش سے حرام قرار دیں وغیرہ ۔ اولاد میں شرکت یہ ہے مثلا زنا کاری جس سے اولاد ہو ۔ جو اولاد بچپن میں بوجہ بےوقوفی ان کے ماں باپ نے زندہ درگور کر دی ہو یا مار ڈالی ہو یا اسے یہودی نصرانی مجوسی وغیرہ بنا دیا ہو ۔ اولادوں کے نام عبد الحارث ، عبد الشمس اور فلاں رکھا ہو ۔ غرض کسی صورت میں بھی شیطان کو اس میں داخل کیا ہو ، یا اس کو ساتھ کیا ہو ، یہی شیطان کی شرکت ہے ۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ اللہ عز و جل فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو ایک طرف موحد پیدا کیا پھر شیطان نے آ کر انہیں بہکا دیا اور حلال چیزیں حرام کر دیں ۔ بخاری و مسلم میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم میں سے جو اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرے یہ پڑھ لے دعا ( اللہم جنبنا الشیطان وجنب الشیطان ما رزقتنا ) یعنی یا اللہ تو ہمیں شیطان سے بچا اور اسے بھی جو تو ہمیں عطا فرمائے ۔ تو اگر اس میں کوئی بچہ اللہ کی طرف سے ٹھیر جائے گا تو اسے ہرگز ہرگز کبھی بھی شیطان کوئی ضرر نہ پہنچا سکے گا ۔ پھر فرماتا ہے کہ جا تو انہیں دھوکے کے جھوٹے وعدے دیا کر ، چنانچہ قیامت کے دن یہ خود کہے گا کہ اللہ کے وعدے تو سب سچے تھے اور میرے وعدے سب غلط تھے ۔ پھر فرماتا ہے کہ میرے مومن بندے میری حفاظت میں ہیں ، میں انہیں شیطان رجیم سے بچاتا رہوں گا ۔ اللہ کی وکالت اس کی حفاظت اس کی نصرت اس کی تائید بندوں کو کافی ہے مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مومن اپنے شیطان پر اس طرح قابو پالیتا ہے جیسے وہ شخص جو کسی جانور کو لگام چڑھائے ہوئے ہو ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ ۔۔ : شیطان کی درخواست قبول ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ نافرمان کی دعا بھی قبول کرلیتا ہے اور اس بات کی بھی کہ دعا کی قبولیت اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی علامت نہیں، بلکہ بعض اوقات وہ ناراضگی کی وجہ سے دعا قبول کرلیتا ہے، مثلاً حرام کمائی اور عشق و بدکاری میں کامیابی کی دعا قبول ہونا رضائے الٰہی کی دلیل نہیں، بلکہ اس کے عذاب کا پیش خیمہ ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاۗؤُكُمْ جَزَاۗءً مَّوْفُوْرًا 63؀ ذهب الذَّهَبُ معروف، وربما قيل ذَهَبَةٌ ، ويستعمل ذلک في الأعيان والمعاني، قال اللہ تعالی: وَقالَ إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] ، ( ذ ھ ب ) الذھب ذھب ( ف) بالشیء واذھبتہ لے جانا ۔ یہ اعیان ومعانی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلك قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے جهنم جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ معرّب جهنام «1» ، وقال أبو مسلم : كهنّام «2» ، والله أعلم . ( ج ھ ن م ) جھنم ۔ دوزخ کا نام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اصل فارسی لفظ جنام سے معرب ہی واللہ علم ۔ جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکیگا ۔ الجزاء ( اسم ) کسی چیز کا بدلہ جو کافی ہو جیسے خیر کا بدلہ خیر سے اور شر کا بدلہ شر سے دیا جائے ۔ کہا جاتا ہے ۔ جزیتہ کذا بکذا میں نے فلاں کو اس ک عمل کا ایسا بدلہ دیا قرآن میں ہے :۔ وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، اور یہ آں شخص کا بدلہ ہے چو پاک ہوا ۔ وفر الوَفْرُ : المال التّامّ. يقال : وَفَرْتُ كذا : تمّمته وكمّلته، أَفِرُهُ وَفْراً ووُفُوراً وفِرَةً ووَفَّرْتُهُ علی التّكثير . قال تعالی: فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزاؤُكُمْ جَزاءً مَوْفُوراً [ الإسراء/ 63] ووَفَرْتُ عرضَهُ : إذا لم تنتقصه، وأرضٌ في نبتها وَفْرَةٌ: إذا کان تامّا، ورأيت فلانا ذا وَفَارَةٍ. أي : تامّ المروءة والعقل، والوَافِرُ : ضربٌ من الشِّعْر . ( و ف ر ) الوفر ۔ مال کثیر کو کہتے ہیں جس میں کسی چیز کی کمی نہ ہو اور فرقہ ( س) وفرا ووفورا و فرۃ کے معنی کسی چیز کو پورا کرنے کے ہیں ۔ اور وفرتہ ( تفعیل ) تکثیر کے لئے آیا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزاؤُكُمْ جَزاءً مَوْفُوراً [ الإسراء/ 63] تو تم سب کی سزا جہنم ہے ( اور وہ ) پوری پوری سزاء ہے ) وفرت عرضہ میں نے اس کی عزت کو کم نہیں کیا ۔ ارض فی نب تھا وفرۃ وہ زمین جس میں پوری طرح گھاس جمی ہوئی ہو ۔ رایت فلانا ذاوفارۃ میں نے فلاں کو عقل ومروت میں کامل پایا ۔ الوافر ۔ علم عروض کی اصطلاح میں ایک بحر کا نام ہے ( جس میں مفاعلتن چھ بار آتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٣) اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا یہ بات کان کھول کر سن لے جو ان میں سے تیرے طریقہ پر چلے گا تو تم سب کی پوری سزا جہنم ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦٣۔ ٦٥:۔ جب شیطان نے اللہ پاک سے بنی آدم کے بہکانے کی درخواست کی تو اللہ پاک نے اس کی درخواست کو قبول کیا اور جس وقت اسرائیل پہلی دفعہ صور پھونکیں گے اس وقت تک شیطان کو مہلت دی گئی اس کی غرض یہ تھی کہ نفخہ ثانیہ تک مہلت مل جاتی ‘ کیونکہ نفخہ ثانیہ کے بعد پھر کسی کو موت نہیں ہے مگر اللہ پاک نے اس مدت کی مہلت نہیں دی اور شیطان اور شیطان کی پیروی کرنیوالوں کے لیے جہنم کی سزا مقرر کر کے فرما دیا کہ جہاں تک تیرا زور چلے اور جتنا تجھ سے ممکن ہو بنی آدم کو بہکا اور کجرو بنا اور خدا کی نافرمانی کی طرف ان کو بلا پھر فرمایا کہ بنی آدم کے بہکانے کے واسطے چاہے تو اپنے سوار اور پیادوں کو چڑھا لا مطلب یہ ہے کہ جتنی تجھ کو قدرت ہو اتنا مکر و فریب کر کے ان کو بہکا یہ امر دارصل دھمکانے کے واسطے ہے جس طرح یوں کہا کرتے ہیں کہ اچھا جا جو کچھ تجھ سے بن سکے کر اور فرمایا کہ جا ان کے مال واولاد میں شراکت کر شراکت مال کی تو یہ ہے کہ مال اس طرح پر حاصل کیا ہو جس میں شرع کی مخالفت پائی ہو اور خرچ بھی ایسے ہی موقع ومحل پر کیا جائے جس میں اجازت شرعی نہیں ہے اور اولاد میں شیطان کی شراکت یہ ہے کہ مثلا ان کے نام ایسے رکھنا جو شرع میں ناجائز ہیں جیسے عبد الحارث وغیرہ یا ان کو خلاف شرع باتوں سے نہ روکنا۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابویرہ (رض) سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شیطان آدمی کے دل میں یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ سب چیزیں تو اللہ نے پیدا کیں لیکن یہ نہیں معلوم ہوا کہ اللہ کو کس نے پیدا کیا ١ ؎۔ قل اعوذ برب الناس میں آوے گا کہ وسوسہ کے معنے اس دبی ہوئی ہلکی آواز کے ہیں جس آواز سے شیطان آدمی کے دل کے پاس گنگنا کر آدمی کو بہکاتا ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے جابر بن عبداللہ (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے ٢ ؎۔ شیطان اپنا تخت سمندر کے پانی پر بچھا کر خود تو اس تخت پر بیٹھ جاتا ہے اور اپنے شیاطینوں کو اولاد آدم کے بہکانے کے لیے بھیج دیتا ہے۔ آیتوں میں شیطان کی آواز اور اس کے سوار اور پیادوں کا جو ذکر ہے اس کا مطلب ان حدیثوں سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شیطان دبی آواز سے آدمی کے دل میں وسوسہ ڈالنے کے لیے اپنے شیاطینوں کو سوار پیدل جس طرح مناسب سمجھتا ہے بھیجتا رہتا ہے۔ سورة ابراہیم ( علیہ السلام) میں گذر چکا ہے کہ قیامت کے دن شیطان اس بات کا اقرار کرے گا کہ جن وعدوں سے وہ دنیا میں لوگوں کو بہکاتا تھا اس کے وہ سب وعدے جھوٹے ہیں۔ ترمذی نسائی صحیح ابن خزیمہ اور مستدرک حاکم کی روایت سے حارث (رض) اشعری کی صحیح حدیث ایک جگہ گز چکی ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس طرح کسی مضبوط قلعہ میں چلے جانے سے کوئی لشکر دشمن کے حملہ سے محفوظ ہوجاتا ہے اسی طرح یاد الٰہی میں مصروف رہنے والے نیک لوگ شیطان کے پھندے سے بچے رہتے ہیں ٣ ؎۔ کیونکہ ذکر الٰہی سے شیطان دور بھاگتا ہے۔ یہ حدیث آخری آیت کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یاد الٰہی میں مصروف رہنے والے بندے اللہ سے نزدیک اور شیطان کی حکومت سے دور رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا ہر ایک نیک ارادہ پورا کر کے عقبیٰ کے اجر کا ان کا ہر ایک کام بنا دیتا ہے۔ ١ ؎ مشکوٰۃ ص ١٨ باب فی الوسوستہ۔ ٢ ؎ تفسیر ہذاص ٢٩٤ ج ٣۔ ٣ ؎ تفسیر مذاص ٣٦٨‘ ٣٦٩ ج ٣۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:63) اذھب۔ امر، واحد مذکر حاضر۔ تو جا۔ چلا جا۔ ای اذھب وافعل ما ترید۔ جا چلا جا۔ اور کر دیکھ جو تو چاہتا ہے۔ جزاء موفورا۔ موصوف صفت، پوری پوری سزا۔ موفورا۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ وفر سے بمعنی بہت ہونا۔ زیادہ ہونا۔ پورا ہونا۔ جزاء بوجہ مصدر کے منصوب ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ ابلیس نے گستاخی اور بغاوت کی حدیں پھیلانگتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اے رب ! تیری عزت کی قسم میں چند مخلص لوگوں کے علاوہ سب کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ رب ذوالجلال نے ارشاد فرمایا۔ ٹھیک ہے۔ لیکن میرا فرمان بھی سچ اور اٹل ہے کہ میں تجھے اور تیری تابعداری کرنے والوں کو جہنم میں داخل کروں گا (آ : ٨٢ تا ٨٥) اللہ تعالیٰ نے فرمایا میری بارگاہ سے نکل جا۔ تو ہمیشہ کے لیے راندہ درگاہ ہوا اور تجھ پر قیامت تک پھٹکار برستی رہے گی۔ (الحجر : ٣٤، ٣٥) رب ذوالجلال نے یہ بھی ارشاد فرمایا۔ اے ابلیس ! تو نکل جا، جو شخص تیری پیروی کرے گا اس کی سزا جہنم ہوگی۔ جس میں سب کو پوری پوری سزا ملے گی۔ اے ابلیس ! تجھے اختیار دیا جاتا ہے۔ ان میں سے جس کو چاہے اپنی آواز کے ذریعے بہکا لے۔ اپنے پیادوں اور سواروں کے ساتھ چڑھائی کرلے اور ان کے مال اور اولاد میں شریک ہوجا، ان سے وعدہ وعید کر تیرے وعدے مکروفریب کے سوا کچھ نہیں ہوں گے۔ لیکن یاد رکھنا میرے بندوں پر تیرا تسلط قائم نہیں ہو سکے گا۔ کیونکہ تیرا رب ان کا وکیل اور کفیل ہے۔ یہاں شیطان کے ہتھکنڈوں سے بچ نکلنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے قرار دیا ہے۔ جن کی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے ہوتے ہیں۔ مخلص کا معنیٰ ہے ” وفادار، صاف دل، سچا انسان “ (القاموس) کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بندے ان اوصاف حمیدہ کے حامل ہوتے ہیں۔ اس لیے انہیں شیطان مستقل طور پر نہیں بہکا سکتا۔ اسی بناء پر شیطان نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کہا تھا کہ تیرے مخلص بندوں کے سوا میں سب کو گمراہ کردوں گا۔ (الحجر : ٤٠، آ : ٨٣) شیطان کو راندہ درگاہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ” وَاسْتَفْزِزْ “ کا لفظ استعمال فرمایا۔ جس کا معنیٰ ہے ” جوش دلانا، پریشان اور خوفزدہ کرنا، ذلیل سمجھنا اور کرنا “ قرآن مجید کی بلاغت پر قربان جائیں کہ ایک ہی لفظ میں شیطان کے ہتھکنڈوں کو بیان کردیا ہے۔ شیطان، انسان کو جوش دلا کر قتل و غارت کرواتا ہے۔ جذباتی بنا کر بدکاری میں مبتلا کرتا ہے۔ اشتعال دلا کر جو چاہے انسان سے فعل سرزد کروا لیتا ہے۔ اگر جوش سے کام نہ بنتا ہو۔ تو وہ کسی چیز کے چھن جانے کا خوف دلاتا ہے۔ یہ سارے کام انسان سے اس لیے کرواتا ہے کہ شیطان پہلے دن سے انسان کو حقیر سمجھتا ہے اور اس کو ذلیل کرنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا۔ شیطان گانا بجانا، بےحیائی کی باتوں اور ہر قسم کے دھوکہ فریب سے انسان کو گمراہ کرتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔” تو اپنے پیادوں اور لشکروں کے ذریعے زور لگا کر لوگوں کے مال اور اولاد میں شریک ہوجا۔ “ کیونکہ ظاہر ہے کہ انسان سواری استعمال کرتا ہے یہاں سے ثابت ہوتا ہے شیطان انسان کو گمراہ کرنے کے لیے ہر قسم کے ذرائع استعمال کرتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ شیطان صرف جنات سے ہی نہیں ہوتے بلکہ انسانوں سے بھی ہوتے ہیں۔ جن سے پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۔ مَلِکِ النَّاسِ ۔إِلٰہِ النَّاسِ ۔ مِنْ شَرِّالْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ۔ الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ ۔ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ ۔ )[ الناس : ١ تا ٦] ” آپ کہہ دیجیے کہ میں لوگوں کے رب کی پناہ مانگتا ہوں، جو لوگوں کا بادشاہ ہے، جو لوگوں کا اِلٰہ ہے، وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے، جو (وسوسہ ڈال کر) پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے وہ جنوں اور انسانوں میں سے ہے۔ “ مال میں شریک ہونے کا معنیٰ یہ ہے کہ انسان اپنا مال بےحیائی، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، شرک کی حمایت اور اس کے مرکزوں پر خرچ کرنے کے ساتھ فضول کاموں پر خرچ کرے۔ اولاد میں شریک کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی اولاد دے سکتا ہے یا اولاد دینے میں پیروں، فقیروں اور مزارات کا بھی عمل دخل ہے۔ اولاد کی پیدائش کے بعد انہیں مزارات کے نام منسوب کرنا یا ان کا نام ” پیراں دتہ “ یا کسی بت کے نام پر نام رکھنا۔ اولاد میں شیطان کو شریک کرنا ہے۔ اولاد کو برے کاموں میں لگانا یا اس کو شرک و بدعت اور بےحیائی کا ماحول دینا۔ یہ بھی اولاد میں شیطان کو شریک کرنا ہے۔ (وَقُلْ رَبِّ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ ہَمَزَات الشَّیَاطِیْنِ ۔ وَأَعُوذُ بِکَ رَبِّ أَنْ یَحْضُرُوْنِ ) [ المومنون : ٩٧۔ ٩٨] ” کہہ دیجیے اے میرے پروردگار ! میں شیاطین کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں۔ “ مسائل ١۔ شیطان کے تابعدار کی سزا جہنم ہے۔ ٢۔ شیطان کے پیرو کار کو پوری پوری سزا دی جائے گی۔ ٣۔ شیطان کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک مہلت دی۔ ٤۔ شیطان انسان سے جھوٹے وعدے کرتا ہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے شیطان کے قابو میں نہیں آتے۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے کافی ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے کافی ہے : ١۔ میرے بندوں پر شیطان کی کوئی دلیل کار گر نہ ہوگی تیرا رب تجھے کافی ہے۔ (بنی اسرائیل : ٦٥) ٢۔ اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے، اللہ ولی اور مددگارکافی ہے۔ (النساء : ٤٥) ٣۔ ان سے اعراض کیجیے اور اللہ پر توکل کیجیے اللہ ہی کارساز کافی ہے۔ (النساء : ١٣٢) ٤۔ اللہ ہی کے لیے آسمان و زمین کی بادشاہت ہے اور اللہ ہی کارساز کافی ہے۔ (النساء : ١٧١) ٥۔ اللہ پر توکل کیجیے، اللہ ہی کارساز کافی ہے۔ (الاحزاب : ٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قال……(٧١ : ٣٢) ” اللہ نے فرمایا ، اچھا تو جا ، ان میں سے جو بھی تیری پیروی کریں تجھ سمیت ان کے لئے جہنم ہی بھرپور جزاء ہے “۔ جائو جو کرنا چاہتے ہو کرو ، تمہیں اجازت ہے جس قدر لوگوں کو گمراہ کرسکتے ہو کرو ، اس نے ان کو بھی عقل و ارادے کا ہتھیار دے دیا ہے۔ انکو بھی یہ قوت و اختیار حاصل ہے کہ وہ تیرے مطیع فرمان ہوجائیں یا تم سے اعراض کریں۔ فمن تبعک (٧١ : ٣٢) ” ان میں سے جو تیری پیروی کرے گا “۔ یعنی اپنی ذات کے اندر گمراہی کی استعداد کو زیادہ کرتے ہوئے اور ہدایت کی استعداد کو کمزور کرتے ہوئے ، اللہ کی پکار سے اعراض کرتے ہوئے اور شیطان کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے ، اس کائنات میں موجود اللہ کی تکوینی آیات و دلائل سے منہ موڑتے ہوئے اور پھر رسولوں کی دی ہوئی آیات ور معجزات سے منہ پھیرتے ہوئے۔ فان ……(٧١ : ٣٦) ” تو پھر جہنم تم سب کے لئے بھرپور جزاء ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

60:۔ اللہ نے فرمایا جا تجھے مہلت ہے لیکن تیری اور تیری پیروی کرنے والوں کی جزاء جہنم ہے ” واستفزز من استطعت الخ “ جا انہیں ہر طرح سے گمراہ کرنے کی کوشش کر دیکھ۔ ” بصوتک “ طبلہ سارنگی اور دیگر آلات لہو ولعب۔ مجاھد الغناء والمزامیر واللھو۔ الضحاک۔ صوت المزمار (قرطبی ج 10 ص 288) ۔ ان شیطانی اوزاروں سے ان کو پھسلا لے۔ ” و اجلب علیھم الخ “ اور اپنے پیادوں اور سواروں کیساتھ ان پر حملہ کرنے یعنی انہیں راہ ھق سے گمراہ کرنے کے لیے ہر وہ مکر و فریب استعمال کرلے جو تو کرسکتا ہے۔ فالمعنی اجمع علیھم کل ما تقدر علیہ من مکایدک (قرطبی) ” و شارکھم الخ “ اور ان کے مال و اولاد میں اپنا حصہ مقرر کرا کر انہیں شرک پر آمادہ کرنے کی کوشش کرلے مال میں شرک سے غیر اللہ کی نذریں نیازیں اور غیر اللہ کے نام کی تحری میں مراد ہیں اور اولاد میں شرکت یہ ہے کہ اولاد کے عطیہ کو غیر اللہ کی طرف منسوب کیا جائے یہ چونکہ سب شیطانی اغواء سے ہوتا ہے اس لیے اسے شیطان کا حصہ قرار دیا گیا۔ حضرت شاہ عبدالقادر فرماتے ہیں ” مال میں شرک کہ بتوں کی نیاز اپنے مال میں فرض سمجھتے ہیں اور اولاد میں یہ کہ ایک کو بتاتے ہیں فلانے کا بخشا ہے دوسرا فلانے کا بخشا “۔ حضرت ابن عباس قتادہ اور عطاء سے منقول ہے کہ شارکھم فی الاموال ھو ماکان المشرکون یحرمونہ من الانعام کالبحیرۃ والسائبۃ والوصیلۃ والحام وقال الضحاک وماکانوا یذبحونہ لالھتہم (مظہری ج 5 ص 456 وقرطبی) اور اولاد میں شرکت کے بارے میں حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ھو تسمیۃ الاولاد عبدالحارث وعبد الشمس عبدالعزی عبد الدار ونحوھا (مظھری) ۔ ” و عدھم “ اور ان کو طرح طرح کے سبز باغ دکھا لے اور جھوٹی آرزوؤں اور بےاصل تمناؤں کے چکر میں انہیں ڈال لے۔ مثلاً یہ بزرگانِ دین جن کو تم پوجتے ہو اور جن کی نذریں نیازیں دیتے ہو قیامت کے دن یہ تمہارے کام آئیں گے اور اللہ کے عذاب سے تمہیں چھڑا لیں گے وغیرہ وغیرہ۔ ” و ما یعدھم الشیطان “ یہ ادخال الٰہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شیطانی وعدوں کی حقیقت کو ظاہر فرمایا کہ وہ سراسر سراب و فریب اور بےحقیقت ہیں اے اولادِ آدم ! ان پر بھروسہ نہ کربیٹھنا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

63 ارشاد ہوا جاتو جو کرنا چاہے وہ کر پھر اولاد آدم میں سے جو شخص تیری پیروی کرے گا تو تم سب کی سزا جہنم ہے جو پوری سزا ہے۔ یعنی جو ہو سکے وہ کرلے ہم نے تیری اور تیرے متبعین کی سزا جہنم رکھی ہے جو پوری اور ہمیشہ کی سزا ہے۔ 12