80. It has two meanings: (1) You will have no power over human beings to force them to follow your way. What you are allowed to do is that you may delude them by false counsel and entice them by false promises, but they will have the option to follow or not to follow your counsel. You will not have the power over them to force them to follow your way against their will. (2) You will not succeed in alluring My righteous people. Though the weak minded will be enticed by you. My righteous people who are steadfast in My obedience will not succumb to you.
81. That is, those who will trust in Allah and believe in His guidance and help, will not stand in need of any other support in their trial by Satan for Allah will guide them, protect them and help them to be safe from his allurements. On the other hand, those people, who will place their trust in their own power or that of any other than Allah, will not come out successful in their trial by Satan.
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :80
اس کے دو مطلب ہیں ، اور دونوں اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں ۔ ایک یہ کہ میرے بندوں ، یعنی انسانوں پر تجھے یہ اقتدار حاصل نہ ہوگا کہ تو انہیں زبردستی اپنی راہ پر کھینچ لے جائے ۔ تو فقط بہکانے اور پھسلانے اور غلط مشورے دینے اور جھوٹے وعدے کرنے کا مجاز کیا جاتا ہے ۔ مگر تیری بات کو قبول کرنا یا نہ کرنا ان بندوں کا اپنا کام ہوگا ۔ تیرا ایسا تسلط ان پر نہ ہوگا کہ وہ تیری راہ پر جانا چا ہیں یا نہ چاہیں ، بہرحال تو ہاتھ پکڑ کر ان کو گھسیٹ لے جائے ۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ میرے خاص بندوں ، یعنی صالحین پر تیرا بس نہ چلے گا ۔ کمزور اور ضعیف الارادہ لوگ تو ضرور تیرے وعدوں سے دھوکا کھائیں گے ، مگر جو لوگ میری بندگی پر ثابت قدم ہوں ، وہ تیرے قابو میں نہ آسکیں گے ۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :81
یعنی جو لوگ اللہ پر اعتماد کریں ، اور جن کا بھروسہ اسی کی رہنمائی اور توفیق اور مدد پر ہو ، ان کا بھروسہ ہرگز غلط ثابت نہ ہوگا ۔ انہیں کسی اور سہارے کی ضرورت نہ ہوگی ۔ اللہ ان کی ہدایت کے لیے بھی کافی ہوگا اور ان کی دست گیری و اعانت کے لیے بھی ۔ البتہ جن کا بھروسہ اپنی طاقت پر ہو ، یا اللہ کے سوا کسی اور پر ہو ، وہ اس آزمائش سے بخیریت نہ گزر سکیں گے ۔