Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 65

سورة بنی اسراءیل

اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنٌ ؕ وَ کَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیۡلًا ﴿۶۵﴾

Indeed, over My [believing] servants there is for you no authority. And sufficient is your Lord as Disposer of affairs.

میرے سچے بندوں پر تیرا کوئی قابو اور بس نہیں تیرا رب کار سازی کرنے والا کافی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ... Verily, My servants, you have no authority over them. Here Allah tells us that He supports His believing servants, and guards and protects them against the accursed Shaytan. Allah says: ... وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلً And All-Sufficient is your Lord as a Guardian. meaning, as a Protector, Supporter and Helper.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

65۔ 1 بندوں کی نسبت اپنی طرف کی، بطور شرف اور اعزاز کے ہے، جس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے خاص بندوں کو شیطان بہکانے میں ناکام رہتا ہے۔ 65۔ 2 یعنی جو صحیح معنوں میں اللہ کا بندہ بن جاتا ہے، اسی پر اعتماد اور توکل کرتا ہے تو اللہ بھی اس کا دوست اور کار ساز بن جاتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٤] شیطان کا داؤکن پر چلتا ہے ؟:۔ شیطان کا داؤ صرف ان لوگوں پر چلتا ہے جو ضعیف الاعتقاد اور پہلے ہی شیطانی عمل پر لیبک کہنے کے لیے تیار بیٹھے ہوتے ہیں اور جن کے لیے حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کے کئی دروازے کھلے ہوتے ہیں۔ ایک دروازے سے مقصد حل نہ ہو تو دوسرے دروازے پر چلے جاتے ہیں اور ان میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جو محض ظاہری اسباب پر تکیہ کرلیتے ہیں۔ ایسے لوگ فوراً شیطان کی چالوں میں پھنس جاتے ہیں۔ مگر جو لوگ صرف ایک اللہ پر نظر رکھتے اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں ان پر شیطان کا داؤ کارگر نہیں ہوسکتا۔ [٨٥] یعنی جو لوگ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں تو اللہ بھی ان کے کام ایسے حیرت انگیز طریقوں سے سنوارتا اور سیدھے کردیتا ہے جن کا انسان کو وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ بلکہ انسان خود بھی اللہ کی ایسی غیبی امداد پر حیران رہ جاتا ہے اور از راہ تشکر اللہ سے اس کی محبت اور اس پر بھروسہ پہلے سے بڑھ جاتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ ۭ ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اس سلسلۂ کلام کو سچے ایمان والوں کے اطمینان کے لیے اس بات پر ختم کیا کہ میرے خاص بندوں پر تو غالب نہیں آسکے گا، کیونکہ انھوں نے اپنا سب کچھ اپنے رب کے سپرد کردیا ہے اور رب تعالیٰ بہت کافی وکیل ہے۔ مزید دیکھیے سورة حجر (٤٢، ٤٣) اور سورة نحل (٩٨ تا ١٠٠) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ ۭ وَكَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيْلًا 65؀ عبد العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ سلط السَّلَاطَةُ : التّمكّن من القهر، يقال : سَلَّطْتُهُ فَتَسَلَّطَ ، قال تعالی: وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] ، وقال تعالی: وَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] ، ومنه سمّي السُّلْطَانُ ، والسُّلْطَانُ يقال في السَّلَاطَةِ ، نحو : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] ، ( س ل ط ) السلاطۃ اس کے معنی غلبہ حاصل کرنے کے ہیں اور سلطتہ فتسلط کے معنی ہیں میں نے اسے مقہود کیا تو وہ مقہود ہوگیا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کردتیاوَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے ۔ اور اسی سے بادشاہ کو سلطان ، ، کہا جاتا ہے ۔ اور سلطان کا لفظ تسلط اور غلبہ کے معنی میں بھی آتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے۔ كفى الكِفَايَةُ : ما فيه سدّ الخلّة وبلوغ المراد في الأمر . قال تعالی: وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتالَ [ الأحزاب/ 25] ، إِنَّا كَفَيْناكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ [ الحجر/ 95] . وقوله : وَكَفى بِاللَّهِ شَهِيداً [ النساء/ 79] قيل : معناه : كفى اللہ شهيدا، والباء زائدة . وقیل : معناه : اكْتَفِ بالله شهيدا «1» ، والکُفْيَةُ من القوت : ما فيه كِفَايَةٌ ، والجمع : كُفًى، ويقال : كَافِيكَ فلان من رجل، کقولک : حسبک من رجل . ( ک ف ی ) الکفایۃ وہ چیز جس سے ضرورت پوری اور مراد حاصل ہوجائے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتالَ [ الأحزاب/ 25] اور خدا مومنوں کے لئے جنگ کی ضرور یات کے سلسلہ میں کافی ہوا ۔ إِنَّا كَفَيْناكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ [ الحجر/ 95] ہم تمہیں ان لوگوں کے شر سے بچا نے کے لئے جو تم سے استہزا کرتے ہیں کافی ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَكَفى بِاللَّهِ شَهِيداً [ النساء/ 79] اور حق ظاہر کرنے کے لئے اللہ ہی کافی ہے میں بعض نے کہا ہے کہ باز زائد ہے اور آیت کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی گواہ ہونے کے لئے کافی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ با اصلی ہے اور آیت کے معنی یہ ہیں کہ گواہ ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ پر ہی اکتفاء کرو الکفیۃ من القرت غذا جو گذارہ کے لئے کافی ہو ۔ ج کفی محاورہ ہے ۔ کافیک فلان من رجل یعنی فلاں شخص تمہارے لئے کافی ہے اور یہ حسبک من رجل کے محاورہ کے ہم معنی ہے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ وكيل التَّوْكِيلُ : أن تعتمد علی غيرک وتجعله نائبا عنك، والوَكِيلُ فعیلٌ بمعنی المفعول . قال تعالی: وَكَفى بِاللَّهِ وَكِيلًا[ النساء/ 81] أي : اکتف به أن يتولّى أمرك، ( و ک ل) التوکیل کے معنی کسی پر اعتماد کر کے اسے اپنا نائب مقرر کرنے کے ہیں اور وکیل فعیل بمعنی مفعول کے وزن پر ہے ۔ قرآن میں : ۔ وَكَفى بِاللَّهِ وَكِيلًا[ النساء/ 81] اور خدا ہی کافی کار ساز ہے ۔ یعنی اپنے تمام کام اسی کے سپرد کر دیجئے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٥) میرے ان بندوں پر جو تجھ سے محفوظ ہیں تیرا بالکل قابو اور بس نہیں چلے گا اور آپ کے رب نے جو وعدے فرمائے ہیں وہ ان کا ذمہ دار اور کافی کار ساز ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٥ (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ) تم انسانوں کو بہکانے اور پھسلانے کے لیے جو کچھ کرسکتے ہو کرلو ان کے دلوں میں وسوسے ڈالو ان سے جھوٹے سچے وعدے کرو اور انہیں سبز باغ دکھاؤ۔ یہ تمام حربے تو تم استعمال کرسکتے ہو لیکن تمہیں یہ اختیار ہرگز نہیں ہوگا کہ تم میرے کسی بندے کو اس کی مرضی کے خلاف گمراہی کے راستے پر لے جاؤ۔ (وَكَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيْلًا) وہ بندے جو شیطان سے بچنا چاہیں گے اللہ ان کی مدد کرے گا اور جس کسی کا مدد گار اور کارساز اللہ ہو اسے کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں رہتی وہی اس کے لیے کافی ہوتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

80. It has two meanings: (1) You will have no power over human beings to force them to follow your way. What you are allowed to do is that you may delude them by false counsel and entice them by false promises, but they will have the option to follow or not to follow your counsel. You will not have the power over them to force them to follow your way against their will. (2) You will not succeed in alluring My righteous people. Though the weak minded will be enticed by you. My righteous people who are steadfast in My obedience will not succumb to you. 81. That is, those who will trust in Allah and believe in His guidance and help, will not stand in need of any other support in their trial by Satan for Allah will guide them, protect them and help them to be safe from his allurements. On the other hand, those people, who will place their trust in their own power or that of any other than Allah, will not come out successful in their trial by Satan.

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :80 اس کے دو مطلب ہیں ، اور دونوں اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں ۔ ایک یہ کہ میرے بندوں ، یعنی انسانوں پر تجھے یہ اقتدار حاصل نہ ہوگا کہ تو انہیں زبردستی اپنی راہ پر کھینچ لے جائے ۔ تو فقط بہکانے اور پھسلانے اور غلط مشورے دینے اور جھوٹے وعدے کرنے کا مجاز کیا جاتا ہے ۔ مگر تیری بات کو قبول کرنا یا نہ کرنا ان بندوں کا اپنا کام ہوگا ۔ تیرا ایسا تسلط ان پر نہ ہوگا کہ وہ تیری راہ پر جانا چا ہیں یا نہ چاہیں ، بہرحال تو ہاتھ پکڑ کر ان کو گھسیٹ لے جائے ۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ میرے خاص بندوں ، یعنی صالحین پر تیرا بس نہ چلے گا ۔ کمزور اور ضعیف الارادہ لوگ تو ضرور تیرے وعدوں سے دھوکا کھائیں گے ، مگر جو لوگ میری بندگی پر ثابت قدم ہوں ، وہ تیرے قابو میں نہ آسکیں گے ۔ سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :81 یعنی جو لوگ اللہ پر اعتماد کریں ، اور جن کا بھروسہ اسی کی رہنمائی اور توفیق اور مدد پر ہو ، ان کا بھروسہ ہرگز غلط ثابت نہ ہوگا ۔ انہیں کسی اور سہارے کی ضرورت نہ ہوگی ۔ اللہ ان کی ہدایت کے لیے بھی کافی ہوگا اور ان کی دست گیری و اعانت کے لیے بھی ۔ البتہ جن کا بھروسہ اپنی طاقت پر ہو ، یا اللہ کے سوا کسی اور پر ہو ، وہ اس آزمائش سے بخیریت نہ گزر سکیں گے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

38: ’’میرے بندوں‘‘ سے مراد وہ مخلص بندے ہیں جو اﷲ تعالیٰ کی فرماں برداری کی فکر رکھتے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:66) بربک۔ میں ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ہے۔ اور بعض کے نزدیک انسان کے لئے۔ بعض کے نزدیک جملہ سابقہ کی طرح یہ خطاب بھی شیطان سے ہے ! لیکن اول الذکر زیادہ صحیح ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یعنی میرے بندوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ گمراہ رف وہی ہوں گے جن کا ایمان کچا اور کمزور ہوگا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یہ بات کہ شیطان کو ابتداء کیسے معلوم ہوا کہ میں اغواء بنی آدم پر قادر ہوں، اس کا جواب یہ ہے کہ غالبا انسان کے قوی ترکیبیہ مختلفہ سے اس کو یہ ظن حاصل ہوا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان عبادی ………(٧١ : ٥٦) ” یقینا میرے بندوں پر تجھے کوئی اقتدار نہ ہوگا اور توکل کے لئے تیرا رب کافی ہے “۔ جب دل اللہ کے ساتھ جڑ جائیں گے ، اللہ کی بندگی میں مشغول ہوں گے ، جب انسان ایسی رسی تھام لیں گے جو مضبوط ہوگی اور جو ٹوٹنے والی نہ ہوگی۔ جب عالم بالا کی روح ان میں سرایت کر جائے گی تو اس وقت شیطان کی قوت کچھ کام نہ کرے گی۔ یہ دل محفوظ ہوں گے۔ ایسی روحیں اللہ کے نور سے منور ہوں گے اور ایسے لوگوں کا وکیل تمہارا رب ہوگا اور توکل اور بھروسے کے لئے وہ قابل اعتماد ذریعہ ہے۔ وہ بڑا ناصر اور مددگار ہے اور شیطان سے وہی بچانے والا ہے۔ یوں شیطان اپن وعدے اور اپنے چیلنج کو پورا کرنے میں لگ گیا ، بندوں کو ذلیل اور گمراہ کرنا شروع کردیا۔ لیکن اللہ کے بندوں اور عباد الرحمن کے قریب بھی وہ نہ بھٹک سکا ، کیونکہ ان پر اس کی ایک نہیں چلتی۔ یہ ہے وہ شیطانی منصوبہ جو اس نے انسانوں کے لئے علی الاعلان تیار کیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بعض لوگ اس قدر سادہ لوح ہیں کہ شیطان کی اطاعت اختیار کرتے ہیں۔ اس کی باتوں پر کان دھرتے ہیں۔ اللہ کی آواز اور پیغمبروں کی پکار پر کان نہیں دھرتے۔ حالانکہ اللہ ان کے لئے کریم و رحیم ہے۔ اور ان کو صحیح راہ بتلاتا ہے۔ ان کے لئے معیشت کے وسائل اللہ نے پیدا کیے ہیں۔ اللہ ہی ہے جو مشکلات اور کربناک حالات میں ان کی مدد کو پہنچتا ہے۔ اور ایسے حالات میں جب کہ انسان کسی دنیاوی مدد سے مایوس ہوتا ہے ، اللہ ان کی مدد کو پہنچتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا کہ (اِنَّ عَبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ) یہ بھی ابلیس کو خطاب ہے مطلب یہ ہے کہ تو بنی آدم کو بہکانے، ورغلانے اور راہ حق سے ہٹانے کی وہ سب تدبیریں کرلینا جو تو کرسکتا ہے لیکن تجھے ایسا کوئی اختیار نہیں دیا جا رہا ہے کہ تو انسانوں کو اپنی قوت سے مجبور کرکے کوئی کام کرالے تیری ساری تدبیروں اور شرارتوں کے باوجود سب اپنے عمل میں مختار رہیں گے (اور اسی اختیار کی وجہ سے ان کا مواخذہ ہوگا) سورة حجر میں فرمایا کہ (اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغٰوِیْنَ ) (بلاشبہ میرے بندوں پر تیرا تسلط نہیں ہوگا سوائے ان گمراہوں کے جو تیرا اتباع کریں) اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ شیطان کے پیچھے لگیں اور اپنے اختیار کو استعمال نہ کریں تو پھر ان پر شیطان کا تسلط ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے ایسا حال بن جاتا ہے کہ شیطان کے پھندے سے نہ نکلتے ہیں اور نہ نکلنا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جو سمجھ اور اختیار دیا تھا اسے اپنے نقصان ہی میں استعمال کرتے ہیں۔ (وَکَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیْلاً ) (اور تیرا رب کافی ہے کارساز) جو لوگ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں اخلاص کے ساتھ اعمال کرتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں شیطان کے کی دو مکر سے محفوظ رکھتا ہے اور وہ ان کے لیے کافی ہے قال القرطبی ای عاصما من القبول من ابلیس و حافظا من کیدہ وسوء مکرہ۔ فائدہ : مفسرین نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو ابلیس سے یہ فرمایا کہ جا تو ایسا ایسا کرلینا یہ ان چیزوں کی اباحت اور اجازت کے طور پر نہیں ہے جن کا یہاں ذکر ہوا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ شانہ منکرات اور فواحش اور کفر و شرک کی اجازت نہیں دیتا ابلیس سے جو کچھ خطاب فرمایا ہے یہ تہدید کے طور پر ہے، مطلب یہ ہے کہ تو جو کہتا ہے کہ میں اس نئی مخلوق کی ذریت پر قابو پالوں گا تو اپنی شقاوت میں ترقی کرتے ہوئے جو چاہے کرلینا تو ان سب کا مزہ چکھ لے گا جیسا کہ سورة ص میں فرمایا (لَاَمْلَءَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکَ وَمِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ اَجْمَعِیْنَ ) (تو اور تیرا اتباع کرنے والے سب سے جہنم کو بھردوں گا)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

61:۔ اے ابلیس ! تو اولاد آدم کو گمراہ کرنے اور انہیں شرک میں مبتلا کرنے کے لیے اپنے سارے ہتھکنڈے استعمال کرلے اور مکر و فریب کے تمام جال پھیلا لے مگر یاد رکھ میرے مخلص بندوں پر تیرا کوئی بس نہیں چل سکے گا۔ میں اپنے بندوں کے لیے کافی کارساز ہوں میرے جو بندے مجھ پر بھروسہ کرینگے اور تیرے مکر و فریب سے میری پناہ ڈھونڈیں گے میں انہیں تیرے دام تزویر سے محفوظ رکھوں گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

65 یقینا میرے خاص اور مخلص بندوں پر تیرا کوئی زور اور بس نہ چل سکے گا اور اے پیغمبر آپ کا پروردگار کافی کار ساز ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کے لئے کافی کار ساز ہے اس لئے ان کے مقابلے میں شیطان بےبس اور عاجز ہے۔