Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 66

سورة بنی اسراءیل

رَبُّکُمُ الَّذِیۡ یُزۡجِیۡ لَکُمُ الۡفُلۡکَ فِی الۡبَحۡرِ لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ اِنَّہٗ کَانَ بِکُمۡ رَحِیۡمًا ﴿۶۶﴾

It is your Lord who drives the ship for you through the sea that you may seek of His bounty. Indeed, He is ever, to you, Merciful.

تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا ہےکہ تم اس کا فضل تلاش کرو ۔ وہ تمہارے اوپر بہت ہی مہربان ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ships are a Sign of the Mercy of Allah Allah says; رَّبُّكُمُ الَّذِي يُزْجِي لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُواْ مِن فَضْلِهِ ... Your Lord is He Who drives the ship for you through the sea, in order that you may seek of His bounty. Allah tells us of His kindness towards His servants by subjugating for them ships on the sea. He makes it easy for them to use ships to serve their interests, seeking His bounty through trade between one region and another. He says: ... إِنَّهُ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا Truly, He is ever Most Merciful towards you. meaning, He does this for you out of His grace and mercy towards you.

آسانیاں ہی آسانیاں اللہ تعالیٰ اپنا احسان بناتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی آسانی اور سہولت کے لئے اور ان کی تجارت و سفر کے لئے دریاؤں میں کشتیاں چلا دی ہیں ، اس کے فضل و کرم لطف و رحم کا ایک نشان یہ بھی ہے کہ تم دور دراز ملکوں میں جا آ سکتے ہو اور خاص فضل یعنی اپنی روزیاں حاصل کر سکتے ہو ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

66۔ 1 یہ اس کا فضل اور رحمت ہی ہے کہ اس نے سمندر کو انسانوں کے تابع کردیا اور وہ اس پر کشتیاں اور جہاز چلا کر ایک ملک سے دوسرے ملک میں آتے جاتے اور کاروبار کرتے ہیں، نیز اس نے ان چیزوں کی طرف رہنمائی بھی فرمائی جن میں بندوں کے لئے منافع اور مصالح ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ ۔۔ : ” أَزْجٰی یُزْجِیْ إِزْجَاءً “ کا معنی آہستہ آہستہ چلانا ہے۔ ” أَزْجٰی فُلاَنٌ الإِْبِلَ “ فلاں نے اونٹوں کو آہستہ آہستہ ہانکا۔ بادلوں کو آہستہ آہستہ چلانے کے لیے بھی یہی لفظ استعمال ہوتا ہے۔ (دیکھیے نور : ٤٣) ” الْفُلْكَ “ واحد، جمع اور مذکر و مؤنث سب کے لیے یہی لفظ استعمال ہوتا ہے، بہت بڑی کشتی یعنی بحری جہاز۔ ” مِنْ فَضْلِهٖ “ قرآن مجید میں روزی کو اکثر فضل فرمایا ہے، کیونکہ دنیا میں جو بھی نعمتیں انسان کو میسر ہیں، یا آخرت میں عطا ہوں گی، وہ محض اللہ کا فضل ہیں، کسی کا اللہ پر کوئی حق واجب نہیں اور اگر کہیں بندوں کا حق کہا گیا ہے تو وہ بھی اللہ ہی کا فضل ہے کہ اس نے اسے اپنے ذمے لازم فرما لیا۔ زمین کا تقریباً ستر فیصد حصہ سمندر ہے، اس میں انسان کے کھانے پینے اور استعمال کے لیے بےحساب رزق موجود ہے۔ سمندر کے پانی میں ہزاروں ٹن وزنی جہاز اٹھانے کی صلاحیت اور صرف ہوا کے ذریعے سے جہازوں کو سیکڑوں ہزاروں میل دھکیل کرلے جانا صرف اللہ تعالیٰ کے مسخر کرنے کی وجہ سے ہے۔ اب اس کا مزید فضل ہوا تو انجن ایجاد ہوگئے، جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے (وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ) [ النحل : ٨ ] (اور وہ پیدا کرے گا جو تم نہیں جانتے) میں فرمایا ہے۔ اس میں مسلمانوں کو سمندر کے بیشمار منافع، مثلاً نہایت آسان اور کم خرچ ذریعے سے تعلیم، تجارت اور دوسرے مقاصد کے لیے سفر کی سہولت، گوشت، زینت کی اشیاء، معدنیات، گیس اور تیل وغیرہ حاصل کرنے کی ترغیب بھی ہے، جن سے کفار فائدہ اٹھا رہے ہیں، کیونکہ سمندروں پر ان کا غلبہ ہے اور ظاہر ہے تیس فیصد خشکی پر بھی وہی غالب ہوگا جو ستر فیصد سمندر پر غالب ہے اور امت مسلمہ بری و بحری جہاد چھوڑنے کی وجہ سے دین و دنیا دونوں میں پیچھے رہنے پر قانع ہوچکی ہے، حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی امت کو نشانہ بازی، شہ سواری اور تیراکی سیکھنے کی بہت ترغیب دلائی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سلسلہ صحیحہ (١؍٦٢٥، ح : ٣١٥) اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بعثت کا مقصد ہی اسلام کو تمام دنیا کے ادیان پر غالب کرنا بیان فرمایا۔ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِـيْمًا : سمندر میں جہازوں کو چلانے کی پہلی وجہ اللہ کے فضل کی تلاش بیان فرمائی، یہ دوسری وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ہمیشہ سے بیحد مہربان ہے۔ ہمیشہ کا مفہوم ” کَانَ “ سے ظاہر ہو رہا ہے۔ طنطاوی کے الفاظ ہیں : ” وَلِأَنَّہُ سُبْحَانَہُ کَانَ أَزَلاً وَ أَبَدًا بِکُمْ دَاءِمُ الرَّحْمَۃِ وَالرَّأْفَۃِ “ ” کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے اپنے بندوں کے ساتھ نرمی و رحمت کرنے والا ہے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر : سابقہ آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال تھا آیات مذکورہ میں یہی مضمون ایک خاص انداز سے بیان کیا گیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی بیشمار عظیم الشان نعمتیں جو انسانوں پر ہر وقت مبذول ہیں ان کو بیان کر کے یہ بتلانا منظور ہے کہ ان تمام نعمتوں کا بخشنے والا بجز ایک حق تعالیٰ کے کوئی نہیں ہوسکتا اور سب نعمتیں اس کی ہیں تو اس کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا بڑی گمراہی ہے ارشاد فرمایا کہ) تمہارا رب ایسا (منعم) ہے کہ تمہارے (نفع کے) لئے کشتی کو دریا میں لے چلتا ہے تاکہ تم اسکے ذریعہ رزق تلاش کرو ( اس میں اشارہ ہے کہ بحری سفر تجارت کے لئے عموما بڑے نفع کا سبب ہوتا ہے) بیشک وہ تمہارے حال پر بڑا مہربان ہے اور جب تم کو دریا میں کوئی تکلیف پہونچتی ہے (مثلا دریا کی موج اور ہوا کے طوفان سے غرق ہونے کا خطرہ) تو بجز خدا کے اور جس جس کی تم عبادت کرتے تھے سب غائب ہوجاتے ہیں (کہ نہ تمہیں خود ہی اس وقت ان کا خیال آتا ہے نہ ان کو پکارتے ہو اور پکارو بھی تو ان سے کسی امداد کی ذرہ برابر توقع نہیں یہ خود عملی طور پر تمہاری طرف توحید کا اقرار اور شرک کا ابطلال ہے) پھر جب تم کو خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو تم پھر اس سے رخ پھیر لیتے ہو اور انسان ہے بڑا ناشکر (کہ اتنی جلدی اللہ کے انعام اور اپنی الحاح وزاری کو بھول جاتا ہے اور تم جو خشکی میں پہنچ کر اس سے اپنا رخ پھیر لیتے ہو) تو کیا تم اس بات سے بےفکر ہوگئے کہ خدا تعالیٰ پھر تم کو خشکی میں لا کر ہی زمین میں دھنسا دے (مطلب یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک دریا اور خشکی میں کوئی فرق نہیں وہ جیسے دریا میں غرق کرسکتا ہے ایسا ہی خشکی میں بھی زمین میں دھنسا کر غرق کرسکتا ہے) یا تم پر کوئی ایسی سخت ہوا بھیج دے جو کنکر پتھر برسانے لگے (جیسا کہ قوم عاد ایسے ہی ہوا کے طوفان سے ہلاک کی گئی تھی) پھر تم کسی کو اپنا کار ساز خدا کے سوا نہ پاؤ یا تم اس سے بےفکر ہوگئے کہ خدا تعالیٰ پھر تم کو دریا ہی میں دربارہ لیجاوے پھر تم پر ہوا کا طوفان بھیج دے پھر تم کو تمہارے کفر کے سبب غرق کر دے پھر اس بات پر (یعنی غرق کردینے پر) کوئی ہمارا پیچھا کرنے والا بھی تم کو نہ ملے (جو ہم سے تمہارا بدلہ لے سکے) اور ہم نے اولاد آدم کو (مخصوص صفات دے کر) عزت دی اور ہم نے ان کو خشکی اور دریا میں (جانوروں اور کشتیوں پر) سوار کیا اور پاکیزہ نفیس چیزیں ان کو عطا فرمائیں اور ہم نے ان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر فوقیت دی

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ ۭ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِـيْمًا 66؀ زجا التَّزْجِيَةُ : دَفْعُ الشّيء لينساق، كَتَزْجِيَةِ ردیء البعیر، وتَزْجِيَةِ الرّيح السّحاب، قال : يُزْجِي سَحاباً [ النور/ 43] ، وقال : رَبُّكُمُ الَّذِي يُزْجِي لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ [ الإسراء/ 66] ، ومنه : رجل مُزْجًى، وأَزْجَيْتُ ردیء التّمر فَزَجَا، ومنه استعیر : زَجَا الخراج يَزْجُو، وخراج زَاجٍ ، وقول الشاعر : وحاجة غير مُزْجَاةٍ من الحاج أي : غير يسيرة، يمكن دفعها وسوقها لقلّة الاعتداد بها . ( ز ج و ) التزجیۃ کے معنی کسی چیز کو دفع کرنے کے ہیں تاکہ چل پڑے مثلا پچھلے سوار کا اونٹ کو چلانا یا ہوا ۔ کا بادلوں کو چلانا ۔ قرآن میں ہے : يُزْجِي سَحاباً [ النور/ 43]( اللہ ہی ) بادلوں کو ہنکاتا ہے رَبُّكُمُ الَّذِي يُزْجِي لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ [ الإسراء/ 66] جو تمہارے لئے ( سمندروں میں ) جہازوں کو چلاتا ہے ۔ اور اسی سے کہا جاتا ہے ۔ رجل مزجی ہنکایا ہوا آدمی یعنی کمزور اور ذلیل آدمی ۔ ازجیت ردی التمر میں نے ردی کھجوروں کو دور پھینک دیا اور زجا لازم ) ازجی ٰ کا مطاوع بن کر استعمال ہوتا ہے اور اسی سے استعارہ کے طور پر کہاجاتا ہے ۔ رجا الخزاج ( ن ) خراج کا سہولت سے جمع ہوجاتا ۔ اور ، ، خراج زاج ، ، اس خراچ کو کہتے ہیں جو معمولی ہونے کی وجہ سے سہولت سے جمع ہوجائے ۔ کسی شاعر نے کہا ہے ۔ (203) وجاجۃ غیر مزجاۃ عن الحاج اور حاجت مندوں کی بعض حاجتیں معمولی نہیں ہوتیں کہ انہیں پورا کیا جاسکے ۔ فلك الْفُلْكُ : السّفينة، ويستعمل ذلک للواحد والجمع، وتقدیراهما مختلفان، فإنّ الفُلْكَ إن کان واحدا کان کبناء قفل، وإن کان جمعا فکبناء حمر . قال تعالی: حَتَّى إِذا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ [يونس/ 22] ( ف ل ک ) الفلک کے معنی سفینہ یعنی کشتی کے ہیں اور یہ واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ لیکن دونوں میں اصل کے لحاظ سے اختلاف ہ فلک اگر مفرد کے لئے ہو تو یہ بروزن تفل ہوگا ۔ اور اگر بمعنی جمع ہو تو حمر کی طرح ہوگا ۔ قرآن میں ہے : حَتَّى إِذا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ [يونس/ 22] یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہوتے ہو۔ ابتغاء البَغْي : طلب تجاوز الاقتصاد فيما يتحرّى، تجاوزه أم لم يتجاوزه، فتارة يعتبر في القدر الذي هو الكمية، وتارة يعتبر في الوصف الذي هو الكيفية، يقال : بَغَيْتُ الشیء : إذا طلبت أكثر ما يجب، وابْتَغَيْتُ كذلك، قال اللہ عزّ وجل : لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ [ التوبة/ 48] ، وأمّا الابتغاء فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان الطلب لشیء محمود فالابتغاء فيه محمود نحو : ابْتِغاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ [ الإسراء/ 28] ، وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] ، ( ب غ ی ) البغی کے معنی کسی چیز کی طلب میں درمیانہ ردی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنا کے ہیں ۔ خواہ تجاوز کرسکے یا نہ اور بغی کا استعمال کیت اور کیفیت یعنی قدر وو صف دونوں کے متعلق ہوتا ہے ۔ کہا جاتا ۔ کسی چیز کے حاصل کرنے میں جائز حد سے تجاوز ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ [ التوبة/ 48 پہلے بھی طالب فسادر ہے ہیں ۔ الا بتغاء یہ خاص کر کوشش کے ساتھ کسی چیز کو طلب کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ اگر اچھی چیز کی طلب ہو تو یہ کوشش بھی محمود ہوگی ( ورنہ مذموم ) چناچہ فرمایا : ۔ { ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ } ( سورة الإسراء 28) اپنے پروردگار کی رحمت ( یعنی فراخ دستی ) کے انتظار میں ۔ وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] بلکہ اپنے خدا وندی اعلیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے دیتا ہے ۔ فضل الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر فعلی ثلاثة أضرب : فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات . وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله : وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] ، إلى قوله : تَفْضِيلًا وفضل من حيث الذّات، کفضل رجل علی آخر . فالأوّلان جوهريّان لا سبیل للناقص فيهما أن يزيل نقصه وأن يستفید الفضل، کالفرس والحمار لا يمكنهما أن يکتسبا الفضیلة التي خصّ بها الإنسان، والفضل الثالث قد يكون عرضيّا فيوجد السّبيل علی اکتسابه، ومن هذا النّوع التّفضیل المذکور في قوله : وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] ، لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] ، يعني : المال وما يکتسب، ( ف ض ل ) الفضل کے منعی کسی چیز کے اقتضا ( متوسط درجہ سے زیادہ ہونا کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے محمود جیسے علم وحلم وغیرہ کی زیادتی مذموم جیسے غصہ کا حد سے بڑھ جانا لیکن عام طور الفضل اچھی باتوں پر بولا جاتا ہے اور الفضول بری باتوں میں اور جب فضل کے منعی ایک چیز کے دوسری پر زیادتی کے ہوتے ہیں تو اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں ( ۔ ) بر تری بلحاظ جنس کے جیسے جنس حیوان کا جنس نباتات سے افضل ہونا ۔ ( 2 ) بر تری بلحاظ نوع کے جیسے نوع انسان کا دوسرے حیوانات سے بر تر ہونا جیسے فرمایا : ۔ وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت دی ۔ ( 3 ) فضیلت بلحاظ ذات مثلا ایک شخص کا دوسرے شخص سے بر تر ہونا اول الذکر دونوں قسم کی فضیلت بلحاظ جو ہر ہوتی ہے ۔ جن میں ادنیٰ ترقی کر کے اپنے سے اعلٰی کے درجہ کو حاصل نہیں کرسکتا مثلا گھوڑا اور گدھا کہ یہ دونوں انسان کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے ۔ البتہ تیسری قسم کی فضیلت من حیث الذات چونکہ کبھی عارضی ہوتی ہے اس لئے اس کا اکتساب عین ممکن ہے چناچہ آیات کریمہ : ۔ وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] اور خدا نے رزق ( دولت ) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ۔ لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل ( یعنی روزی تلاش کرو ۔ میں یہی تیسری قسم کی فضیلت مراد ہے جسے محنت اور سعی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ،

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٦) وہ ایسا غنی ہے کہ تمہارے نفع کے لیے کشتیوں کو چلاتا ہے تاکہ تم اس کے رزق کی یا یہ کہ اس کے علم کی تلاش کرو اور وہ عذاب کے مؤخر کرنے یا یہ کہ تم میں سے جو توبہ کرے اس کے حال پر بہت مہربان ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

82. This passage (Ayats 66-72) is closely connected with the previous one. It tells man that if he wants to protect himself from the allurements, temptations and false promises of Satan who has been his avowed enemy from the day of his creation, he should recognize his real Lord and be steadfast in His obedience. Satan intends to prove that man is not worthy of the honor with which Allah has blessed him. Therefore if he follows any other way he cannot escape the snares of Satan. In this passage, arguments of Tauhid have been put forward in order to make man steadfast in his faith and refrain from shirk. 83. That is, try to avail of the economic, social, educational and intellectual benefits which are provided by the sea voyages.

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :82 اوپر کے سلسلہ بیان سے اس کا تعلق سمجھنے کے لیے اس رکوع کے ابتدائی مضمون پر پھر ایک نگاہ ڈال لی جائے ۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ابلیس اول روز آفرنیش سے اولاد آدم کے پیچھے پڑا ہوا ہے تا کہ اس کو آرزؤوں اور تمناؤں اور جھوٹے وعدوں کے دام میں پھانس کر راہ راست سے ہٹا لے جائے اور یہ ثابت کر دے کہ وہ اس بزرگی کا مستحق نہی ہے جو اسے خدا نے عطا کی ہے ۔ اس خطرے سے اگر کوئی چیز انسان کو بچا سکتی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی بندگی پر ثابت قدم رہے اور ہدایت و اعانت کے لیے اسی کی طرف رجوع کرے اور اسی کو اپنا وکیل ( مدار توکل ) بنائے ۔ اس کے سوا دوسری جو راہ بھی انسان اختیار کرے گا ، شیطان کے پھندوں سے نہ بچ سکے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس تقریر سے یہ بات خود بخود نکل آئی کہ جو لوگ توحید کی دعوت کو رد کر رہے ہیں اور شرک پر اصرار کیے جاتے ہیں وہ دراصل آپ ہی اپنی تباہی کے درپے ہیں ۔ اسی مناسبت سے یہاں توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال کیا جا رہا ہے ۔ سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :83 یعنی ان معاشی اور تمدنی اور علمی و ذہنی فوائد سے متمتع ہونے کی کوشش کرو جو بحری سفروں سے حاصل ہوتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦٦:۔ اللہ پاک نے اوپر کی آیت میں بندوں کے کام بنانے کا ذکر فرما کر اب یہ باین کیا کہ تمہارا رب وہ ہے کہ تم مشرک ہو اور وہ تمہاری کشتیوں کو بڑے بڑے دریاؤں میں چلاتا ہے ہوا کہ موافق بنا دیتا ہے اور تم ان کشتیوں اور جہازوں میں بیٹھ کر اپنی روزی کی جستجو میں تجارت کے خیال سے ایک ملک سے دوسرے ملک میں جاتے ہو وہ کیسا تم پر مہربان ہے کہ تمہاری آسائش کے لیے یہ سامان بنا رکھا ہے اگر کشتیاں نہ پیدا کرتا جہاز رانی کا علم تمہیں نہ سکھاتا اور ہوا کو تمہارے مقصود کے موافق نہ کرتا تو تمہارا ایک شہر سے دوسرے شہر میں کشتی پر جانا سخت مشکل تھا پھر تمہاری تجارت اور کاروبار میں سخت ابتری پھیلتی غرض کہ اللہ پاک نے اس آیت میں اپنے بندوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ ہر کام میں خدا ہی پر بھروسہ کریں اور اسی کو کل امور میں کام بنانے والا سمجھیں اور خاص اسی کی بندگی کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں کیونکہ انسان کے فائدے اور نقصان میں سوا خدا کے اور کسی کو ذرہ برابر دخل نہیں ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرک لوگوں کے رزق کے انتظام میں کچھ خلل نہیں ڈالتا یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی بردباری ہے ١ ؎۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے یہ مشرکین مکہ اگرچہ کشتی کے ڈوبنے کے خوف سے خال اللہ کو اپنا معبود قرار دے کر خشکی میں آجانے کے بعد پھر شرک میں گرفتار ہوجاتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی بردباری سے ان لوگوں کے اس تجارت کے سفر میں کچھ خلل نہیں ڈالا۔ ١ ؎ تفسیر ہذاص ٥٠ ج ٣۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:66) یزجی۔ ازجی یزجی ازجاء (افعال) وہ چلاتا ہے وہ ہنکاتا ہے۔ التزجیۃ (تفعیل) کسی چیز کو دفع کرنا کہ چل پڑے۔ مثلاً پچھلے سوار کا اونٹ کو چلانا۔ یا ہوا کا بادلوں کو چلانا مثلاً ۔ یزجی سحابا۔ (24:43) (اللہ ہی) بادلوں کو ہنکاتا ہے۔ یزجی لکم الفلک فی البحر تمہارے لئے سمندروں میں جہازوں کو چلاتا ہے۔ زجی۔ زجو مادہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 روزی کو قرآن میں اکثر فضل فرمایا ہے۔ دنیا میں جو نعمتیں بھی انسان کو حاصل ہیں یہ محض اللہ کا فضل ہی ہے کسی استحقاق کی بنا پر نہیں ہے۔5 اس کی مہربانی نہ ہوتی تو تم نہ کبھی سمندر میں جہاز چلا سکتے اور نہ سوداگری کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ جاسکتے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت 66 تا 69 یزجی وہ چلاتا ہے۔ الضر مصیبت، نقصان۔ افامنتم کیا پھر تم مطمئن ہوگئے ؟ ۔ یخسف وہ دھنسا دیتا ہے۔ حاصباً پتھر برسانے والی آندھی۔ تارۃ اخری دوبارہ۔ قاصف سخت طوفانی ہوا۔ یغرق وہ غرق کرتا ہے۔ لاتجدوا تم نہ پاؤ گے۔ تبیع پیچھا کرنے والا۔ تشریح : آیت نمبر 66 تا 69 اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا ہے ” اگر تم میرا شکر کرو گے تو میں (دی گئی نعمتوں میں) اور اضافہ کرتا چلا جاؤں گا۔ اس کے برخلاف اگر میری نعمتوں کی ناشکری کی گئی تو پھر میری گرفتا ور پکڑ بہت سخت ہے۔ واقعتاً اگر غور کیا جائے تو انسانی وجود کی ابتداء سے لے کر زندگی کے آخری سانس تک اللہ اتنی نعمتوں سے نوازتا ہے جن کو شمار کرنا مشکل ہے۔ سورة رحمن میں ان بیشمار نعمتوں کو گنوا کر اکتیس (31) مرتبہ اس آیت کو دھرایا گیا ہے کہ ” اے جن و انسان تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟ “ سورۃ الاسراء کی ان آیات میں بھی چند نعمتوں کا ذکر کر کے اللہ نے یہی سوال کیا ہے کہ ایک زبردست سمندر جس میں بڑے بڑے جہازوں کی حیثیت تنکے سے زیادہ نہیں ہوتی اس میں موافق ہوائیں چلا کر ایک کنارے سے دور سے کنارے تک ان کشتیوں اور جہازوں کو کون چلاتا ہے ؟ اگر اللہ کی طرف سے یہ سہولتیں نہ ہوتیں تو انسان سمندر کے ذریعہ سامان تجارت ادھر ادھر کیسے لے جاسکتا تھا اور وہ نفع اور فائدے کیسے حاصل کرسکتا تھا جس پر قوموں کی زندگی کا دار و مدار ہے۔ فرمایا کہ انسان اگر اس پر ذرا بھی دیانت داری سے غور کرے تو اس کا دل پکار اٹھے گا کہ یہ سب کچھ اس اللہ کا کرم ہے جس کے ہاتھ میں کائنات کی ہر قوت و طاقت ہے۔ فرمایا کہ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی سمندر کی بپھری ہوئی موجوں میں گھر جاتا ہے اور اس کو اس طوفان بلاخیز سے نجات کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا تب وہ اپنے بتوں کو بھول کر صرف اللہ ہی کو پکارتا ہے اور پھر اللہ ہی اس طوفان سے نجات عطا فرماتا ہے۔ لیکن جب وہی انسان خشکی پر آجاتا ہے تو اللہ کو بھول کر پھر ” غیر اللہ “ سے اپنی امیدیں باندھ لیتا ہے اور شرک کرنے لگتا ہے۔ فرمایا یاد رکھو خشکی ہو یا تری ، فضا ہو یا ہوا ہر جگہ اسی ایک اللہ کی حکمرانی اور طقت و قوت ہے۔ اس کے علاوہ کسی کی کوئی قوت و طاقت نہیں ہے۔ فرمایا کہ اگر اللہ چاہے تو ناشکرے انسان کو بڑی سے بڑی سزا دے سکتا ہے۔ وہ زمین کے اندر دھنسا سکتا ہے کوئی آفت بھیج سکتا ہے۔ ایسی آندھی اور تیز ہوائیں بھیج سکتا ہے جس سے کنکر اور پتھر برسنے شروع ہوجائیں۔ پانی کے طوفان، زلزلوں اور آفتوں سے انسان کے بنائے ہوئے پورے نظام کو درہم برہم کرسکتا ہے۔ اگر وہ کسی عذاب یا مصیبت کو بھیجنا چاہے تو اس کو روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ یہ تو اس اللہ کا کرم ہے کہ وہ اپنے بندوں کی ہر بات پر اسی وقت گرفت نہیں کرتا بلکہ سنبھلنے، سوچنے اور صحیح فیصلہ کرنے کا موقع دیتا چلا جاتا ہے۔ لیکن جب انسان اللہ کی نافرمانیوں اور ناشکریوں کی حد تک ردیتا ہے تب اللہ کا قہر لمحوں میں سب کچھ تباہ و برباد کردیتا ہے اور انسان کی ساری تدبیریں مٹی کا ڈھیم ثابت ہوتی ہیں۔ خلاصیہ یہ ہے کہ انسان کو اللہ نے ہزاروں نعمتوں سے نوازا ہے اس پر اسے اس اللہ کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ اگر اس نے ناشکری کی روش اختیار کی تو اللہ اس سے نعمتوں کو چھین کر اس پر طرح طرح کے عذاب بھیج سکتا ہے۔ انسان کو اس سے بےفکر نہیں ہونا چاہئے کہ وہ اللہ ایک مصیبت سے نکال کر دوسری مرتبہ اسی مصیبت میں مبتلا نہیں کرسکتا۔ وہی سمندر جس میں ایک شخص اللہ سے دعائیں مانگ کر طوفان سے بچ کر خشکی پر آجاتا ہے وہ ان کی موجوں کو اس پر چڑھا کر یا اس کو سمندر میں دوبارہ لیجا کر اس کی ناشکری کی سزا دے سکتا ہے۔ وہ اپنے فیصلوں میں دوسروں کا محتاج نہیں ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے فیصلے کرتا ہے اور وہ اپنے فیصلوں کے لئے کسی کو جوابدہ بھی نہیں ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جو ذات اپنے بندوں کو شیطان کے تسلط سے محفوظ رکھتی ہے وہی تمہارا رب ہے جو تمہیں سمندر کی طغیانیوں سے بچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت وسطوت کا حوالہ دیتے ہوئے دلیل دیتا ہے کہ تمہارا رب وہ ہے جو تمہارے لیے سمندر میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو بیشک وہ تم پر بڑا مہر بان ہے۔ جب تمہیں سمندر میں کوئی پریشانی آتی ہے تو جنہیں تم مشکل کشا سمجھ کر پکارتے ہو۔ وہ تمہیں بھول جاتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ تمہیں خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو اپنے رب سے انحراف کرتے ہو وجہ یہ کہ انسان اپنے رب کا ناقدر دان اور ناشکرا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مرتبہ سمندر میں چلنے والی کشتیوں کو اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ سمندر کے سینے پر چلنے والی کشتیوں اور بڑے بڑے جہازوں کی طرف توجہ کی جائے تو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ جو پانی اپنے اوپر ایک سوئی کو برداشت نہیں کرتا۔ اسی پانی کی لہریں کشتیوں اور جہازوں کو ساحل مراد تک پہنچانے میں خدّام کا کام دیتی ہیں۔ کشتیاں اور بحری جہاز ٹنوں کے حساب سے بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں ‘ اور نقل وحمل کا یہ سب سے بڑا اور مفید ترین ذریعہ ہیں۔ ابتدائے آفرینش سے دنیا کی سب سے بڑی تجارت بحری راستوں کے ذریعے ہی ہورہی ہے اور قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ یہاں مشرک کی عادت بیان کی گئی ہے کہ وہ صرف انتہائی مشکل کے وقت اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتا ہے لیکن جب مشکل ٹل جاتی ہے تو پھر دوسروں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مشرک اللہ تعالیٰ کا ناقدر دان اور ناشکرا ہے اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا ہے۔ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور اس کے شکر گزار بندوں میں سے ہوجاؤ۔ مشرک کو جس طرح اللہ تعالیٰ کی قدر کرنی چاہیے تھی اس طرح نہیں کی۔ قیامت کے دن ساتوں زمینیں اور آسمان اللہ کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے اللہ لوگوں کے شرک کرنے سے پاک اور عالی مرتبت ہے۔ (الزمر : ٦٧) جہاں تک مشرکین مکہ کے عقیدہ کا تعلق ہے۔ ان کے بارے میں قرآن مجید بار با رگواہی دیتا ہے کہ وہ انتہائی مشکل کے وقت صرف ایک اللہ کو پکارا کرتے۔ جب انہیں مشکل سے نجات حاصل ہوتی تو پھر وہ اپنے بتوں اور دوسروں کے طفیل حرمت اور واسطے سے دعا کرتے تھے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے شرک قرار دیا ہے۔ افسوس آج بیشمار کلمہ پڑھنے والے حضرات انتہائی مشکل کے وقت بھی صرف اللہ سے براہ راست مانگنے کی بجائے اپنے فوت شدہ بزرگوں کی حرمت، طفیل، صدقہ اور وسیلہ سے مانگتے ہیں حالانکہ یہی وہ شرک کی عالمگیر قسم ہے جس سے انبیاء کرام لوگوں کو منع کرتے رہے ہیں۔ مسائل ١۔ اللہ ہی سمندروں میں کشتیوں کو چلانے والا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ بندوں کے ساتھ رحم فرمانے والا ہے۔ ٣۔ مشرک مشکل میں صرف اللہ تعالیٰ کو پکارتے تھے۔ ٤۔ انسان اپنے رب کانا شکرا ہے۔ ٥۔ نجات ملنے کے بعد مشرک اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سے اعراض کرتے تھے۔ تفسیر بالقرآن مشرک انتہائی مشکل کے وقت ایک اللہ کو پکارتا ہے : ١۔ جب دریا میں تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو تم اللہ کے سواسب کو بھول جاتے ہو۔ (بنی اسرائیل : ٦٧) ٢۔ انہوں نے خیال کیا کہ وہ گھیرے میں آگئے ہیں تو خالصتًا اللہ کو پکارتے ہیں۔ (یونس : ٢٢) ٣۔ جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خالصتًا اللہ کو پکارتے ہیں۔ (العنکبوت : ٦٥) ٤۔ جب انہیں موجیں سائبان کی طرح ڈھانپ لیتی ہیں تو خالص اللہ کو پکارتے ہیں۔ (لقمان : ٣٢) ٥۔ وہ زندہ ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں خالصتاً اسی کو پکارو۔ (المومن : ٦٥) ٦۔ انہیں صرف اسی بات کا حکم دیا گیا ہے کہ صرف ایک اللہ کو پکارو۔ (البینۃ : ٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہاں قرآن کریم ایک عجیب منظر کو ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ ایک کشتی ہے جو گہرے سمندروں میں چلتی ہے۔ اس سفر میں بعض نہایت ہی کر بناک مناظر آتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک منظر ہمارے سامنے ہے۔ سمندر کی گہرائیوں اور طلاطم مین انسان کے اندر کسی فوق الفطرت ہستی کا شعور بہت ہی پیدا ہوت ا ہے۔ سمندر کی تاریکیوں اور پہنائیوں میں جہاز لکڑی کا یا دھات کا ہو ایک چھوٹا سا نکتہ ہوتا ہے۔ جو سمندر کی پہاڑ جیسی لہروں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ موجیں اور طوفان اسے ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر دھکیلتے چلے جاتے ہیں۔ لوگ مارے کو ف کے اس نکتے جیسے چھوٹے سے جہاز سے چمٹے ہوتے ہیں۔ یہ وہ منظر ہے جس کا گہرا احساس ہر اس شخص کو ہوتا ہے جس نے کبھی بحری سفر کیا ہو اور اسے ایسے لمحات پیش آئے ہوں۔ دل خشک اور سانس رکی ہوئی ہوتی ہے اور ہر جھٹکے اور ہر زیروبم سے دل بیٹھتے جاتے ہیں۔ چھوٹا جہاز ہو یا بڑا سب میں ایسی ہی کیفیت ہوتی ہے۔ نہایت ہی بڑے بڑے بحری جہاز بھی بعض اوقات یوں نظر آتے ہیں جس طرح ایک نہایت ہی سخت طوفان بادو باراں میں ایک پرندے کا پر۔ اس منظر کی تعبیر نہایت ہی حساس انداز سے کی گئی ہے۔ دلوں پر اس کا گہرا اثر ہوتا ہے اور انسان کو یہ شعور ملتا ہے کہ خود اللہ تعالیٰ اس کشتی کو چلاتا ہے اور اسے رفتار دیتا ہے تاکہ وہ جہانوں میں چلیں اور اللہ کا فضل و کرم تلاش کریں۔ انہ کان بکم رحیما (٧١ : ٦٦) ” بیشک وہ تمہارے حال پر بہت ہی مہربان ہے “۔ کیونکہ سمندروں میں اللہ کا رحم و کرم سب کا مطلوب ہوتا ہے اور ہر سوار رحمت ربی کا طلبگار ہوتا ہے اور اس کا شعور اپنے اندر پاتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ تمہارے لیے سمندر میں کشتیاں جاری فرماتا ہے، وہ چاہے تو تمہیں زمین میں دھنسا دے یا سخت ہوا بھیج دے، بنی آدم کو ہم نے عزت دی، بحر و بر میں سفر کرایا، پاکیزہ کھانے کے لیے چیزیں دیں، اور ان کو بہت سی مخلوق پر فضیلت دی ان آیات میں اللہ جل شانہ نے اپنے بعض ان انعامات کا تذکرہ فرمایا جو بنی آدم پر ہیں اور انسانوں کی ناشکری کا بھی تذکرہ فرمایا اور یہ فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی ہے۔ اول تو کشتیوں کا ذکر فرمایا کہ تمہارا رب دریا میں کشتیوں کو چلاتا ہے یعنی ایسی ہوائیں چلاتا ہے جو کشتیوں کو لے کر چلتی ہیں۔ اور ہوا نہ ہو تو تم خود بھی کشتیوں کو اپنی تدبیروں سے چلا لیتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے الہام فرمائی ہیں کشتیوں کے ذریعے سمندروں میں سفر کرکے اور سمندروں کو عبور کرکے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرتے ہو اور سمندر کے اندر بھی ایسی چیزیں ہیں جو بنی آدم کے کام آتی ہیں۔ سمندر میں کھانے کی چیزیں بھی ہیں۔ اور ایسی چیزیں بھی ہیں جو دواؤں میں استعمال ہوتی ہیں۔ اور بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کو سمندروں سے نکال کر فروخت کرتے ہیں جو تحصیل مال کا ذریعہ ہیں نیز سمندر میں ایسی چیزیں بھی ہیں جن سے زیور بناتے ہیں۔ (لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ ) کے عموم میں یہ سب چیزیں آجاتی ہیں نیز سمندروں کو پار کرکے ایک کنارہ سے دوسرے کنارہ پر پہنچتے ہیں مال تجارت لے جاتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنے کا ذریعہ ہے۔ (اِنَّہٗ کَانَ بِکُمْ رَحِیْماً ) (بلاشبہ وہ تم پر مہربان ہے) اس نے خشکی میں اور سمندر میں تمہارے لیے رزق پیدا فرما دیا پھر تمہیں اس کے حاصل کرنے پر قدرت دی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

62:۔ یہ توحید پر پانچویں عقلی دلیل ہے۔ سمندروں اور دریاؤں میں تمہاری کشتیاں محض اپنی رحمت سے اللہ تعالیٰ ہی چلاتا اور طوفان سے بچا کر کنارے لگاتا ہے وہ تو ہر حال میں تم پر مہربان ہے۔ اور سمندروں اور دریاؤں میں وہی کارساز ہے تو خشکی میں بھی وہی کارساز ہے پھر اس کے سوا اوروں کو کیوں پکارتے ہو۔ ” واذا مسکم الضر “ یہ زجر ہے جب دریاؤں میں طوفان کا سامنا ہوتا ہے تو اپنے مزعومہ معبودوں کو چھوڑ کر خالص اللہ کو پکارتے ہو لیکن جب اللہ تعالیٰ تمہیں صحیح سلامت کنارے پر پہنچا دیتا ہے تو پھر شرک کرنے اور معبودان باطلہ کو کارساز سمجھنے لگتے ہو۔ یہ کس قدر ناشکری ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

66 لوگو تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے نفع کے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل یعنی روزی تلاش کرو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم پر بہت مہربان اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔ دریا اور سمندر ایک ملک کو دوسرے ملک کے ملنے میں حائل ہے قدرت نے کشتیوں کے سفر سے ایک ملک کا دوسرے ملک سے جوڑ لگا دیا ہے جس سے تجارت میں بڑی ترقی ہوتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اس کا فضل یعنی روزی، روزی کو قرآن کریم میں اکثر فضل فرمایا ہے فضل کے معنی زیادتی سو مسلمان کی بندگی ہے واسطے آخرت کے اور دنیا ملتی ہے بڑھتی میں کشتی ہانکتا ہے یعنی دریا میں اپنا زور نہیں چلتا بلی یا چپوپر مگر بادسو اسی کے اختیار میں ہے۔ 12