82. This passage (Ayats 66-72) is closely connected with the previous one. It tells man that if he wants to protect himself from the allurements, temptations and false promises of Satan who has been his avowed enemy from the day of his creation, he should recognize his real Lord and be steadfast in His obedience. Satan intends to prove that man is not worthy of the honor with which Allah has blessed him. Therefore if he follows any other way he cannot escape the snares of Satan.
In this passage, arguments of Tauhid have been put forward in order to make man steadfast in his faith and refrain from shirk.
83. That is, try to avail of the economic, social, educational and intellectual benefits which are provided by the sea voyages.
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :82
اوپر کے سلسلہ بیان سے اس کا تعلق سمجھنے کے لیے اس رکوع کے ابتدائی مضمون پر پھر ایک نگاہ ڈال لی جائے ۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ابلیس اول روز آفرنیش سے اولاد آدم کے پیچھے پڑا ہوا ہے تا کہ اس کو آرزؤوں اور تمناؤں اور جھوٹے وعدوں کے دام میں پھانس کر راہ راست سے ہٹا لے جائے اور یہ ثابت کر دے کہ وہ اس بزرگی کا مستحق نہی ہے جو اسے خدا نے عطا کی ہے ۔ اس خطرے سے اگر کوئی چیز انسان کو بچا سکتی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی بندگی پر ثابت قدم رہے اور ہدایت و اعانت کے لیے اسی کی طرف رجوع کرے اور اسی کو اپنا وکیل ( مدار توکل ) بنائے ۔ اس کے سوا دوسری جو راہ بھی انسان اختیار کرے گا ، شیطان کے پھندوں سے نہ بچ سکے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس تقریر سے یہ بات خود بخود نکل آئی کہ جو لوگ توحید کی دعوت کو رد کر رہے ہیں اور شرک پر اصرار کیے جاتے ہیں وہ دراصل آپ ہی اپنی تباہی کے درپے ہیں ۔ اسی مناسبت سے یہاں توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال کیا جا رہا ہے ۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :83
یعنی ان معاشی اور تمدنی اور علمی و ذہنی فوائد سے متمتع ہونے کی کوشش کرو جو بحری سفروں سے حاصل ہوتے ہیں ۔