اس سورت کی فضیلت کا بیان خصوصا اس کی اور آخر کی دس آیتوں کی فضیلت کا بیان اور یہ کہ یہ سورت فتنہ دجال سے محفوظ رکھنے والی ہے ۔
مسند احمد میں ہے کہ ایک صحابی نے اس کی تلاوت شروع کی ان کے گھر میں ایک جانور تھا اس نے اچھلنا بدکنا شروع کر دیا صحابی نے جو غور سے دیکھا تو انہیں سائبان کی طرح کا ایک بادل نظر پڑا جس نے ان پر سایہ کر رکھا تھا انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ نے فرمایا پڑھتے رہو یہ ہے وہ سکینہ جو اللہ کی طرف سے قرآن کی تلاوت پڑ نازل ہوتا ہے ۔ بخاری میں تین آیتوں کا بیان ہے ۔ مسلم میں آخری دس آیتوں کا ذکر ہے نسائی میں دس آیتوں کو مطلق بیان کیا گیا ہے ۔ مسند احمد میں ہے جو شخص اس سورہ کہف کا اول آخر پڑھ لے اس کے لئے اس کے پاؤں سے سر تک نور ہو گا اور جو اس ساری سورت کو پڑھے اسے زمین سے آسمان تک کا نور ملے گا ۔ ایک غریب سند سے ابن مردویہ میں ہے کہ جمعہ کے دن جو شخص سورہ کہف پڑھ لے اس کے پیر کے تلووں سے لے کر آسمان کی بلندی تک کا نور ملے گا جو قیامت کے دن خوب روشن ہو گا اور دوسرے جمعہ تک کے اس کے سارے گناہ معاف ہو جائیں گے ۔ اس حدیث کے مرفوع ہو نے میں نظر ہے ۔ زیادہ اچھا تو اس کا موقوف ہونا ہی ہے ۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس نے سورہ کہف جمعہ کے دن پڑھ لی اس کے پاس سے لے کر بیت اللہ شریف تک نورانیت ہو جاتی ہے ۔ مستدرک حاکم میں مرفوعا مروی ہے کہ جس نے سورہ کہف جمعہ کے دن پڑھی اس کے لئے وہ جمعہ کے درمیان تک نور کی روشنی رہتی ہے ۔ بیہقی میں ہے کہ جس نے سورہ کہف اسی طرح پڑھی جس طرح نازل ہوئی ہے اس کے لئے قیامت کے دن نور ہو گا ۔ حافظ ضیاء مقدسی کی کتاب المختارہ میں ہے جو شخص جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کر لے گا وہ آٹھ دن تک ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رہے گا یہاں تک کہ اگر دجال بھی اس عرصہ میں نکلے تو وہ اس سے بھی بچا دیا جائے گا