Surat ul Kaahaf

Surah: 18

Verse: 101

سورة الكهف

الَّذِیۡنَ کَانَتۡ اَعۡیُنُہُمۡ فِیۡ غِطَـآءٍ عَنۡ ذِکۡرِیۡ وَ کَانُوۡا لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ سَمۡعًا ﴿۱۰۱﴾٪  2

Those whose eyes had been within a cover [removed] from My remembrance, and they were not able to hear.

جن کی آنکھیں میری یاد سے پردے میں تھیں اور ( امر حق ) سن بھی نہیں سکتے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

الَّذِينَ كَانَتْ أَعْيُنُهُمْ فِي غِطَاء عَن ذِكْرِي ... (To) those whose eyes had been under a covering from My Reminder, meaning, they neglected it, turning a blind eye and a deaf ear to it, refusing to accept guidance and follow the truth. As Allah says: وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَاناً فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ And whosoever turns away blindly from the remembrance of the Most Gracious, We appoint for him a Shaytan to be a companion for him. (43:36) And here Allah says: ... وَكَانُوا لاَ يَسْتَطِيعُونَ سَمْعًا and they could not bear to hear (it). meaning, they did not understand the commands and prohibitions of Allah. Then He says:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٣] یعنی جس مقصد حقیقی کے لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں آنکھیں اور کان عطا کیے تھے۔ اس کے لیے ان لوگوں نے ان اعضاء سے کوئی کام نہ لیا اور وہ مقصد یہ تھا کہ آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا مشاہدہ کریں اور حق بات سننے کے لیے ان کے کان ہر وقت آمادہ ہوں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ۙالَّذِيْنَ كَانَتْ اَعْيُنُهُمْ ۔۔ : ” غِطَاۗءٍ “ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، معنی ہے سخت گاڑھا پردہ، یعنی اپنی عقل کی آنکھ نہ تھی کہ قدرتیں دیکھ کر یقین لاتے اور ضد کی وجہ سے کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہ تھے کہ سمجھانے سے سمجھ جاتے۔ مزید دیکھیے سورة ملک (١٠) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

الَّذِيْنَ كَانَتْ اَعْيُنُہُمْ فِيْ غِطَاۗءٍ عَنْ ذِكْرِيْ وَكَانُوْا لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَمْعًا۝ ١٠١ۧ عين العَيْنُ الجارحة . قال تعالی: وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ [ المائدة/ 45] ( ع ی ن ) العین کے معنی آنکھ کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ [ المائدة/ 45] آنکھ کے بدلے آنکھ ۔ لَطَمَسْنا عَلى أَعْيُنِهِمْ [يس/ 66] ان کی آنکھوں کو مٹا ( کر اندھا ) کردیں ۔ غطا الغِطَاءُ : ما يجعل فوق الشیء من طبق ونحوه، كما أنّ الغشاء ما يجعل فوق الشیء من لباس ونحوه، وقد استعیر للجهالة . قال تعالی: فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] . ( غ ط و ) الغطآ ء کے اصل معنی طباق وغیرہ کی قسم کی چیز کے ہیں جو کسی چیز پر بطور سر پوش کے رکھی جائے جیسا کہ غشاء لباس وغیرہ کی قسم کی چیز کو کہتے ہیں جسے کسی دوسرہ چیز کے اوپر ڈالا جائے اور بطور استعارہ غطاء کا لفظ ( بردہ) جہالت وغیرہ پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] ہم نے تجھ پر سے پردہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔ الاستطاعۃ . وَالاسْتِطَاعَةُ : استفالة من الطَّوْعِ ، وذلک وجود ما يصير به الفعل متأتّيا، الاسْتِطَاعَةُ أخصّ من القدرة . قال تعالی: لا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ [ الأنبیاء/ 43] ( ط و ع ) الطوع الاستطاعۃ ( استفعال ) یہ طوع سے استفعال کے وزن پر ہے اور اس کے معنی ہیں کسی کام کو سر انجام دینے کے لئے جن اسباب کی ضرورت ہوتی ہے ان سب کا موجہ ہونا ۔ اور استطاعت قدرت سے اخص ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ [ الأنبیاء/ 43] وہ نہ تو آپ اپنی مدد کرسکتے ہیں ۔ سمع السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا . ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] ، ( س م ع ) السمع ۔ قوت سامعہ ۔ کا ن میں ایک حاسہ کا نام ہے جس کے ذریعہ آوازوں کا اور اک ہوتا ہے اداس کے معنی سننا ( مصدر ) بھی آتے ہیں اور کبھی اس سے خود کان مراد لیا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ اور کبھی لفظ سماع کی طرح اس سے مصدر ی معنی مراد ہوتے ہیں ( یعنی سننا ) چناچہ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] وہ ( آسمائی باتوں کے ) سننے ( کے مقامات ) سے الگ کردیئے گئے ہیں ۔ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے ۔ اور کبھی سمع کے معنی فہم و تدبر اور کبھی طاعت بھی آجاتے ہیں مثلا تم کہو ۔ اسمع ما اقول لک میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو لم تسمع ماقلت لک تم نے میری بات سمجھی نہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ( یہ کلام ) ہم نے سن لیا ہے اگر چاہیں تو اسی طرح کا ( کلام ) ہم بھی کہدیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠١ (الَّذِيْنَ كَانَتْ اَعْيُنُهُمْ فِيْ غِطَاۗءٍ عَنْ ذِكْرِيْ وَكَانُوْا لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَمْعًا) وہ لوگ جو اندھے اور بہرے ہو کر دنیا سمیٹنے میں لگے ہوئے تھے حقیقی مسبب الاسباب کو بالکل فراموش کرچکے تھے صرف دنیوی اسباب و وسائل پر بھروسا کرتے تھے اور دنیا میں ان کی ساری تگ و دو مادی منفعت کے حصول کے لیے تھی۔ یہی مضمون اگلے (آخری) رکوع میں بہت تیکھے انداز میں آ رہا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(18:101) غطائ۔ ڈھکنا۔ سرپوش۔ جو طباق کی قسم میں سے ہو۔ کپڑے وغیرہ کا نہ ہو۔ مراد غفلت ۔ موٹا پردہ ۔ لباس وغیرہ قسم کی چیز کو غطائکہتے ہیں بطور استعارہ غطاء (پردہ) کا لفظ جہالت وغیرہ پر بولا جاتا ہے قرآن مجید میں اور جگہ ہے فکشفنا عنک غطاء ک فبصرک الیوم حدید (50:22) ہم نے تجھ پر سے پردہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے۔ کانت اعینہم فی غطاء عن ذکری۔ جن کی آنکھوں پر پردے پڑے تھے میری یاد سے ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 یعنی وہ میری نشانیاں دیکھ کر بھی ان سے کوئی نصیحت حاصل نہ کرتے تھے۔11 (شدت نفرت کی وجہ سے) یعنی وہ اس قدر ضد اور ہٹ دھرمی میں پڑے ہوئے تھے کہ ہمارا کلام سننے کو تیار نہ تھے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی امر حق کا ذرا ادراک کرنا نہ چاہتے تھے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(الَّذِیْنَ کَانَتْ اَعْیُنُھُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِکْرِیْ ) (جن کی آنکھوں پر میری یاد سے پردہ پڑا ہوا تھا) (وَ کَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا) (اور وہ سن بھی نہ سکتے تھے) چونکہ ذوالقرنین کا واقعہ قریش مکہ کے سوال پر بیان کیا گیا تھا اور یہ سوال انہیں یہودیوں نے سمجھایا تھا اور جواب ملنے پر بھی نہ مشرکین مکہ نے اسلام قبول کیا اور نہ یہود مدینہ نے اس لیے آخر میں ان کو قیامت کا دن یاد دلایا اور بتایا کہ ہم سب کو ایک ایک کرکے جمع کرلیں گے اور کوئی بچ کر نہ نکل سکے گا، کافر دوزخ میں جائیں گے۔ انہوں نے اپنی آنکھوں پر پردہ ڈال رکھا تھا اور حق سننے کو تیار نہ تھے اپنی قوت سامعہ اور باصرہ دونوں کو معطل کر رکھا تھا لہٰذا انہیں حق سے منہ موڑنے کی سزا ملے گی۔ قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کا نکلنا سورة انبیاء کی آیت شریفہ میں جو ہم نے اوپر نقل کی ہے اسے دوبارہ پڑھیے اور ترجمہ ذہن نشین کیجیے۔ (حَتّٰٓی اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ ھُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ ) یہاں تک کہ جب یاجوج ماجوج کھول دئیے جائیں گے اور وہ ہر اونچی جگہ سے جلدی جلدی نکل پڑیں گے۔ اس آیت میں قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کے نکلنے اور پھیل پڑنے کا ذکر ہے۔ صحیح مسلم صفحہ ٣٩٣ ج ٢ میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ قیامت اس وقت تک واقع نہ ہوگی جب تک کہ دس علامات کا ظہور نہ ہوجائے۔ (١) مشرق میں لوگوں کے زمین میں دھنس جانے کا واقعہ پیش آنا۔ (٢) اسی طرح مغرب میں زمین میں دھنس جانے کا واقعہ پیش آنا۔ (٣) جزیرہ عرب میں دھنس جانے کا واقعہ پیش آنا۔ (٤) دھواں ظاہر ہونا۔ (٥) دجال کا نکلنا۔ (٦) دابۃ الارض کا ظاہر ہونا۔ (یہ خاص قسم کا چوپایہ ہوگا جو زمین سے نکلے گا جس کا ذکر سورة نمل میں ہے۔ ) (٧) یاجوج ماجوج کا نکلنا۔ (٨) پچھم کی جانب سے سورج کا نکلنا۔ (٩) عدن کے درمیان سے ایک آگ کا نکلنا (جو لوگوں کو ان کے محشر کی طرف جمع کرے گی) (١٠) عیسیٰ (علیہ السلام) کا نازل ہونا۔ صحیح مسلم صفحہ ٤٠١ ج ٢ میں دجال کے قتل ہوجانے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لوگوں کے پاس پہنچ کر چہروں پر ہاتھ پھیرنے کا ذکر کرنے کے بعد یاجوج ماجوج کے نکلنے کا ذکر ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اسی حال میں (یعنی قتل دجال کے بعد لوگوں سے ملنے جلنے میں) ہوں گے کہ ان کی طرف اللہ پاک کی وحی آئے گی کہ بیشک میں اپنے ایسے بندوں کو نکالنے والا ہوں کہ کسی کو ان سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے، لہٰذا تم میرے (مومن) بندوں کو طور پر لے جاکر محفوظ کردو۔ (چنانچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مسلمانوں کو ساتھ لے کر طور پر تشریف لے جائیں گے) اور اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھیج دے گا۔ اور وہ ہر بلندی سے تیزی کے ساتھ دوڑ پڑیں گے۔ (ان کی کثرت کا یہ عالم ہوگا کہ) جب اگلا گروہ بحیرہ (لفظ بحیرہ بحرہ کی تصغیر ہے اور طبریہ اردن کے قصبات میں سے ایک قصبہ ہے وہاں ایک نہر ہے اسی کو بحیرہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ) صحیح مسلم میں یہ جو روایت ہے کہ یاجوج ماجوج کی جماعت کا پہلا حصہ بحیرہ طبریہ پر گزر جائے گا تو سارا پانی پی لے گا یہاں تک کہ پیچھے آنے والی انہیں میں کئی جماعتوں کے لوگ اسے دیکھیں گے تو یوں کہیں گے کہ یہاں کبھی پانی تھا۔ اس سے اردن والا بحیرہ طبریہ مراد ہے۔ (علامہ یاقوت حموی نے علامہ ازہری سے نقل کیا ہے کہ یہ بحیرہ دس میل لمبا اور چھ میل چوڑا ہے) اس کے پانی پر جب ان کا اگلا گروہ گزرے گا تو تمام پانی پی جائے گا (اور اسے خشک کردے گا) ان کے پچھلے لوگ اس تالاب پر گزریں گے تو کہیں گے کہ اس میں کبھی پانی ضرور تھا۔ اس کے بعد چلتے چلتے خمر پہاڑ تک پہنچیں گے جو بیت المقدس کا ایک پہاڑ ہے یہاں پہنچ کر کہیں گے ہم زمین والوں کو تو قتل کرچکے آؤ اب آسمان والوں کو قتل کریں چناچہ اپنے تیروں کو آسمان کی طرف پھینکیں گے جنہیں اللہ تعالیٰ (اپنی قدرت سے) خون میں ڈوبا ہوا واپس فرما دے گا۔ (یاجوج ماجوج زمین میں شر و فساد مچا رہے ہوں گے) اور اللہ کے نبی (حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے ساتھیوں کے ساتھ (کوہ طور پر) گھرے ہوئے ہوں گے حتیٰ کہ (اس قدر حاجت مند ہوں گے کہ) ان میں سے ایک شخص کے لیے بیل کی سری ان سو دیناروں سے بہتر ہوگی جو آج تم میں سے کسی کے پاس ہوں (پریشانی دور کرنے کے لیے) اللہ کے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی اللہ کی جناب میں گڑگڑائیں گے (اور یاجوج ماجوج کی ہلاکت کے لیے دعا کریں گے) چناچہ اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج پر (بکریوں اور اونٹوں کی ناک میں نکلنے والی) بیماری بھیج دے گا جسے اہل عرب نغف کہتے ہیں۔ یہ بیماری ان کی گردنوں میں نکل آئے گی اور وہ سب کے سب ایک ہی وقت میں مرجائیں گے جیسے ایک ہی شخص کو موت آئی ہو اور سب ایسے پڑے ہوئے ہوں گے جیسے کسی جانور نے پھاڑ ڈالے ہوں، ان کے مرجانے کے بعد اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی (کوہ طور سے) اتر کر زمین پر آئیں گے اور زمین پر بالشت بھر جگہ بھی ایسی نہ پائیں گے جو ان کی چربی اور بدبو سے خالی ہو، لہٰذا اللہ کے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی اللہ کی جناب میں گڑگڑائیں گے اور دعا کریں گے کہ اے اللہ ان کی چربی اور بدبو سے ہمیں محفوظ فرما دے، لہٰذا اللہ تعالیٰ بڑے بڑے پرندے بھیج دے گا جو لمبے لمبے اونٹوں کی گردنوں کے برابر ہوں گے یہ پرندے یاجوج ماجوج کی لاشوں کو اٹھا کر جہاں اللہ تعالیٰ چاہے گا پھینک دیں گے، پھر اللہ تعالیٰ بارش بھیج دے گا جس سے کوئی مٹی کا گھر اور کوئی خیمہ نہ بچے گا اور بارش ساری زمین کو دھو کر آئینہ کی طرح کردے گی۔ (لہٰذا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھی آرام سے زمین پر رہنے لگیں گے اور اللہ تعالیٰ کا ان پر بڑا فضل و کرم ہوگا) اور اس وقت زمین کو (اللہ تعالیٰ کی جانب سے) حکم دیا جائے گا کہ اپنے پھل اگا دے اور اپنی برکت واپس کردے چناچہ زمین خوب پھل اگائے گی اور وہ اپنی برکتیں باہر پھینک دے گی (جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ) ایک جماعت ایک انار کو کھایا کرے گی (کیونکہ انار بہت بڑا ہوگا) اور انار کے چھلکے کی چھتری بنا کر چلا کریں گے اور دودھ میں بھی برکت دیدی جائے گی حتیٰ کہ ایک اونٹنی کا دودھ بہت بڑی جماعت کے (پیٹ بھرنے کے لیے) کافی ہوگا اور ایک گائے کا دودھ ایک بڑے قبیلے کے لیے اور ایک بکری کا دودھ ایک چھوٹے قبیلہ کے لیے کافی ہوگا۔ مسلمان اسی عیش و آرام اور خیر و برکت میں زندگی گزار رہے ہوں گے کہ (قیامت بہت ہی قریب ہوجائے گی اور چونکہ قیامت کافروں ہی پر قائم ہوگی اس لیے) اچانک اللہ تعالیٰ ایک عمدہ ہوا بھیجے گا جو مسلمانوں کی بغلوں میں لگ کر ہر مومن اور مسلم کی روح قبض کرلے گی اور بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو گدھوں کی طرح (سب کے سامنے بےحیائی کے ساتھ) عورتوں سے زنا کریں گے انہیں پر قیامت قائم ہوگی۔ سورۃ الانبیاء کی آیت کے سیاق سے اور صحیح مسلم کی احادیث سے معلوم ہوا کہ یاجوج ماجوج کا نکلنا اور دنیا میں پھیل پڑنا یہ قیامت کے قریب ہوگا۔ صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوا کہ پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول ہوگا پھر دجال ظاہر ہوگا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اسے قتل کردیں گے اس کے بعد یاجوج ماجوج ظاہر ہوں گے۔ اس ترتیب کے خلاف جو شخص کوئی بات کہے گا وہ جھوٹا ہے۔ جب سے دنیا والوں نے تاریخ کی دنیا میں قدم رکھا ہے اور اپنے طور پر کچھ کتبات دیکھ کر، کچھ کھدائیاں کرکے، اور کچھ یہودیوں کی کتابیں پڑھ کر اور کچھ سنی ہوئی باتوں پر ایمان لاکر تاریخ پر کتابیں لکھ دی ہیں اس وقت سے لوگ کچھ ایسی باتیں کہنے لگے کہ یاجوج ماجوج کا خروج ہوچکا ہے یہ لوگ تاتاریوں اور مغربی اقوام کو یاجوج ماجوج کہنے لگے ہیں بلاشبہ تاتاریوں کا فتنہ بہت بڑا فتنہ تھا اور یورپین اقوام نے جو افریقہ اور ایشیا کے مختلف ممالک پر قبضہ کرنے کے لیے خون کے دریا بہائے ہیں اور اب آئینی اور قانونی رنگ میں فساد برپا کر رہے ہیں ان کا فتنہ بھی بہت بڑا ہے ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ لوگ یاجوج ماجوج میں سے ہوں کیونکہ بعض علمائے سلف نے ان کے بہت سے قبیلے بتائے ہیں۔ وفی عبد الرزاق عن قتادۃ ان یاجوج ماجوج اثنتان وعشرون قبیلۃ بنی ذوالقرنین السد علی احدی وعشرین وکانت واحدۃ منھم خارجۃ للغزو وفبقیت خارجۃ وسمیت الترک لذالک وقیل یاجوج من الترک وماجوج من الدیلم (روح المعانی ص ٣٨ ج ١٦) لیکن وہ خروج جس کا قرآن و حدیث میں ذکر ہے ابھی نہیں ہوا وہ قرب قیامت میں ہوگا۔ قرب قیامت کی دو صورتیں ہیں ایک یہ ہے کہ قیامت کے بالکل ہی قریب کسی علامت کا ظہور ہو اور دوسری صورت یہ ہے کہ اس وقت سے پہلے ہو۔ ابھی یعنی قیامت کے واقع ہونے میں دیر ہو۔ علامات قیامت تو عرصہ دراز سے شروع ہیں خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت بھی قیامت آنے کی خبر دیتی ہے آپ نے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے اور آپ نے شہادت کی اور بیچ کی انگلی کو ملا کر بتایا۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ٤٨٠) اور آپ کے بعد بھی بہت ساری نشانیاں ظاہر ہوچکی ہیں اور ظاہر ہو رہی ہیں یاجوج ماجوج کا خروج بہت دیر میں ہوگا جیسا کہ دنیا کے احوال بتا رہے ہیں۔ صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوا کہ یاجوج ماجوج جب نکلیں گے تو ان کا اول حصہ بحیرہ طبریہ کا سارا پانی پی جائے گا۔ اور وہ لوگ آسمان میں بھی تیر پھینکیں گے اور پھر وہ نغف بیماری بھیج کر ہلاک کردئیے جائیں گے اور ان کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ امن وامان سے رہیں گے اور زمین اپنی برکتیں نکال دے گی پھلوں میں اور دودھ میں خوب زیادہ برکت ہوگی۔ ظاہر ہے کہ یہ چیزیں ابھی وجود میں نہیں آئیں لہٰذا یاجوج ماجوج کا وہ ظہور بھی ابھی نہیں ہوا جس کا ذکر قیامت کے قریب ترین علامتوں کے ذیل میں کیا گیا ہے۔ سنن ابن ماجہ میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شب معراج میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بیان کیا کہ یاجوج ماجوج کی ہلاکت کے بعد ان کی لاشوں کو سمندر میں ڈال دیا جائے گا اور اس کے قریب ہی قیامت آنے ہی والی ہوگی۔ فعھد الی متی کان ذالک کانت الساعۃ من الناس کالحامل التی لا یدری اھلھا متی تفجأھم بولادھا (سنن ابن ماجہ باب فتنۃ الدجال و خروج عیسیٰ بن مریم و خروج یاجوج ماجوج) (مجھے بتایا گیا ہے کہ جب ایسا ہوگا تو لوگوں سے قیامت ایسے قریب ہوگی جیسے کوئی حمل والی عورت ہو جس کے دن پورے ہوچکے ہوں پتہ نہیں کہ وہ کب اچانک بچہ جن دے۔ ) قال صاحب مصباح الزجاجۃ ھذا اسناد صحیح و رجالہ ثقات۔ (صفحہ ٢٠٢ ج ٤) یاجوج ماجوج کی تعداد پھر صحیح بخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یاجوج ماجوج کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان کی تعداد کے حساب سے بھی ان لوگوں کا خروج ابھی نہیں ہوا۔ امام بخاری نے باب قصہ یاجوج ماجوج کے عنوان سے باب قائم کیا ہے جس میں سورة کہف اور سورة انبیاء کی آیات لکھنے کے بعد تین حدیثیں نقل کی ہیں ان میں سے ایک یہ حدیث ہے کہ قیامت کے دن آدم (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ (اپنی ذریت میں سے) دوزخ کا حصہ نکالو۔ وہ عرض کریں گے کہ وہ کتنا حصہ ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا کہ ہر ہزار سے نو سو ننانوے نکالو۔ (جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی ذریت میں سے ایک آدمی جنتی اور نو سو ننانوے دوزخی ہوں گے) یہ سن کر بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور حمل والی کا حمل ساقط ہوجائے گا۔ (یعنی اس موقع پر اگر حمل والیاں ہوں تو شدت فزع اور خوف کی وجہ سے ان کے حمل ساقط ہوجائیں گے) اور اے مخاطب تو لوگوں کو دیکھے گا کہ وہ بےہوش ہیں حالانکہ وہ بےہوش نہیں ہیں لیکن اللہ کا عذاب سخت ہوگا۔ صحابہ (رض) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہزار میں جو ایک جنتی ہوگا وہ ہم میں سے کون کون ہوگا آپ نے فرمایا کہ تم خوشخبری قبول کرلو کیونکہ (تمہارے اور یاجوج ماجوج کے درمیان تعداد کا تناسب یوں ہے کہ) تم سے ایک شخص اور یاجوج ماجوج میں سے ہزار شخص ہوں گے۔ (صحیح بخاری صفحہ ٤٧٢ ج ١) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یاجوج ماجوج بھی حضرت آدم (علیہ السلام) کی ذریت میں سے ہیں۔ حافظ ابن حجر (رض) نے حدیث بالا کی شرح لکھنے کے بعد لکھا ہے۔ (کہ یہاں اس حدیث کو امام بخاری نے ذکر کیا ہے اس میں یاجوج ماجوج کی کثرت تعداد کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے اور یہ امت ان کی بنسبت ١٠٠/١ کی نسبت رکھتی ہے) ظاہر ہے کہ اتنی بڑی بھاری تعداد میں ان قوموں کا ظہور نہیں ہوا جنہیں بعض لوگ یاجوج ماجوج کے ظہور موعود کا مصداق بتا رہے ہیں۔ یاجوج ماجوج کون ہیں اور کہاں ہیں مورخ ابن خلدون پانچویں اقلیم کے نویں حصہ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس حصہ میں ترکی قبائل کے شہر میں جو غز کے شہروں کے پچھم میں اور کیمیا کے شہروں کے مشرق میں ہیں۔ اور مشرق کی جانب سے جبل قوقیا اس کو گھیرے ہوئے ہیں جو یاجوج ماجوج کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ پھر چند سطروں کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ جزو چھٹی اقلیم کے نویں حصہ تک چلا گیا ہے اور وہیں پر سد (ذوالقرنین) ہے جیسا کہ ہم ذکر کریں گے اور اس میں سے ایک ٹکڑا باقی رہ گیا ہے جسے کوہ قوقیا نے احاطہ کر رکھا ہے جو اس جزو کے زاویہ شرقیہ شمالیہ کے قریب ہے اور جنوب کی طرف درازی میں چلا گیا اور یہ یاجوج ماجوج کے بلاد ہیں، پھر لکھا ہے کہ اسی پانچویں اقلیم کے دسویں حصہ میں یاجوج ماجوج کی سرزمین ہے جو اس سے متصل ہے (صفحہ ٧٦) پھر ساتویں اقلیم کے اجزاء بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس کے نویں حصہ غربی جانب خفشاح کے بلاد ہیں اور ان کو قفجق کہا جاتا ہے۔ اور اس کے درمیان میں یاجوج ماجوج کی دیوار ہے اور اسی جزو کے مشرقی کونے میں یاجوج کی سرزمین ہے جو سمندر کے کنارے کوہ قوقیا کے پیچھے ہے اس کا عرض کم ہے درازی زیادہ ہے۔ جبل قوقیا کا مشرق اور شمال کی جانب سے احاطہ کر رکھا ہے ابن خلدون کی تصریح سے یاجوج ماجوج کا علاقہ اور سد ذوالقرنین کا کچھ اتا پتا لگ جاتا ہے۔ سد ذوالقرنین کہاں ہے مورخین نے لکھا ہے کہ یہ یاجوج ماجوج کے فساد اور شرارتوں اور دیگر اقوام پر حملہ کرنے کے واقعات برابر پیش آتے رہتے تھے ان کے شر سے بچنے کے لیے ایک سے زیادہ دیواریں بنائی گئیں۔ ان میں سے زیادہ مشہور دیوار چین ہے۔ اس کا بانی تغفور چین کا بادشاہ بتایا جاتا ہے۔ لیکن دیوار چین وہ دیوار نہیں ہے جو ذوالقرنین نے بنائی تھی اس کے بارے میں تو تصریح ہے کہ لوہے اور تانبے سے بنائی گئی اور دیوار چین میں یہ بات نہیں ہے۔ دوسری دیوار وسط ایشیا میں بخارا اور ترمذ کے قریب واقع ہے اس کے محل وقوع کا نام دربند ہے۔ تیسری دیوار داغستان میں واقع ہے یہ دربند اور باب الابواب کے نام سے مشہور ہے۔ چوتھی دیوار اسی داغستانی دیوار کے مغرب میں ہے جو دو پہاڑوں کے درمیان ہے یہ چوتھی دیوار قفقاز یا کوہ قوقیا کے قریب ہے جیسا کہ ابن خلدون کے بیان سے معلوم ہوا بعض اہل تاریخ کا رجحان اس طرف ہے کہ یہی ذوالقرنین کی بنائی ہوئی ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ جو دیوار لوہے تانبے کی بنی ہوئی نہیں ہے وہ بہرحال حضرت ذوالقرنین کی بنائی ہوئی نہیں ہے یاقوت حموی نے معجم البلدان میں سد یاجوج ماجوج کا عنوان قائم کیا ہے اور اس میں تین صفحات خرچ کیے ہیں اور بہت سی عجیب باتیں لکھی ہیں اور یہ بھی لکھا ہے کہ واثق باللہ نے سلام کو اور پچاس آدمیوں کو اس کے ہمراہ بھیجا اور پچاس ہزار دینار بھی دئیے راستے میں فلک الحزر نے پانچ رہبر ساتھ کردئیے۔ چلتے چلتے ایسی جگہ پر پہنچے جہاں پر ایک چکنا پہاڑ تھا اور اس کے درمیان ایک ایسی وادی کا درہ تھا جس کا چوڑاؤ ایک سو پچاس ہاتھ تھا وہاں ایک دیوار بنی ہوئی تھی جس نے وادی کے دونوں جانب کو ملا رکھا تھا اور یہ دیوار لوہے کی اینٹوں کی تھی جو تانبے کے اندر غائب کی ہوئی تھی اس کی اونچائی پچاس ہاتھ تھی اور وہاں ایک لوہے کا دروازہ بھی تھا جس پر قفل پڑا ہوا تھا وہاں سے یہ لوگ شہر سرمن رای تک واپس آگئے یہ ان کا آٹھ ماہ کا سفر تھا۔ یہ ساری باتیں لکھنے کے بعد علامہ یاقوت لکھتے ہیں (میں نے سد ذوالقرنین کے بارے میں وہ لکھ دیا ہے جو کتابوں میں لکھا ہوا پایا اور اس میں سے میں کسی چیز کے بارے میں صحیح ہونے کا یقین نہیں کرتا کیونکہ روایات مختلف ہیں اور صحیح علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ سد ذوالقرنین موجود ہے اس کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ ) مفسر ابن کثیر نے بھی واثق باللہ کے بھیجے ہوئے اس وفد کا ذکر کیا اور مورخ ابن خلدون نے صفحہ ٧٩ میں اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن صاحب روح المعانی صفحہ ٤٢ فرماتے ہیں کہ ثقات المورخین علی تضعیفہ پھر لکھتے ہیں۔ وانہ عندی کذب لما فیہ مما تابی عند الآیۃ کما لا یخفی علی الواقف علیہ تفصیلا (میرے نزدیک یہ قصہ جھوٹ ہے کیونکہ اس میں وہ باتیں ہیں جو آیت کریمہ کی تصریح کے موافق نہیں ہیں جیسا کہ تفصیلی طور پر واقفیت رکھنے والے پر پوشیدہ نہیں) دور حاضر کے غیر مسلم مولفین جو ریسرچ کے نام سے کچھ نہ کچھ مخلوقات کی ٹوہ لگاتے ہیں اور جتنا معلوم ہوجائے اس کے علاوہ باقی کی نفی کردیتے ہیں یہ ان لوگوں کی جہالت ہے ان کا یہ کہنا کہ ہم بر اور بحر میں سب جگہ پھر چکے ہیں یہ دیوار نہیں ملی اس سے دیوار مذکور کا موجود نہ ہونا لازم نہیں آتا یہ ان لوگوں کا عدم العلم ہے جو علم العدم کو مستلزم نہیں۔ ہر جگہ پہنچ جانے کا دعویٰ ناقابل قبول ہے امریکہ، آسٹریلیا کے ظاہر ہونے سے پہلے انسان یہی سمجھتا تھا کہ ایشیا، افریقہ اور یورپ کے علاوہ کوئی براعظم نہیں ہے۔ پھر غلطی سے کو لمبس امریکہ کے کنارے پر پہنچ گیا تو اسے ہندوستان سمجھ کر اتر گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ ہندوستان نہیں بلکہ یہ ایک مستقل براعظم ہے پھر عرصہ دراز کے بعد آسٹریلیا کا ظہور ہوا اسی طرح سے یاجوج ماجوج کا علاقہ اور دیوار ذوالقرنین کا ان مفتشین کا علم نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ ان کا وجود ہی نہیں ہے۔ دیوار مذکور کہاں ہے اور یاجوج ماجوج کا کونسا علاقہ ہے اس کے جاننے پر کوئی اسلامی عقیدہ موقوف نہیں اور قرآن کی کسی آیت کا سمجھنا بھی اس پر موقف نہیں ہے مومن کا کام ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خبر پر ایمان لائے۔ واللّٰہ الھادی الی سبیل الرشاد یاجوج ماجوج غیر عربی کلمات ہیں یاجوج ماجوج کے بارے میں صاحب روح المعانی اور دیگر مفسرین و مورخین نے لکھا ہے کہ یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے یافث کی اولاد میں سے ہیں، لفظ یاجوج ماجوج کیا ہے ؟ اس کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ بعض محققین کا فرمانا ہے کہ کوہ قفقاز کے پیچھے یہ دونوں قبیلے رہتے ہیں ایک کا نام اقوق اور دوسرے کا ماقوق ہے۔ اہل عرب نے اس کو معرب کرلیا ہے پہلے لفظ کو یاجوج اور دوسرے لفظ کو ماجوج بنا لیا ہے اصل عجمی لفظ کیا تھا اس بارے میں دیگر اقوال بھی ہیں۔ کسی نے گاگ اور میگاگ کا معرب بتایا ہے اور کسی نے کہا ہے کہ کاس اور میکاس کا معرب ہے، کسی نے چین اور ماچین کو اصل لفظ بتایا ہے۔ جو بھی صورت حال ہو اتنا تو واضح ہے کہ یہ دونوں کلمات معرب ہیں عربی نہیں ہیں ان میں عدم انصراف ہے وہ عجمیت اور علم کی وجہ سے ہے۔ اور یہ بھی بعض مورخین نے احتمال پیدا کیا ہے کہ یہ اجج اور مجج سے مشتق ہیں یہ نکتہ بعد الوقوع معلوم ہوتا ہے جو لوگ ان دونوں کلمات کے عرب ہونے کے قائل ہیں جب ان کے سامنے غیر منصرف ہونے کا سوال آیا تو انہوں نے علمیت اور تانیث دو سبب مان لیے اور یوں فرما دیا کہ تانیث قبیلہ کے اعتبار سے ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب فائدہ : صحیح بخاری کی حدیث سے معلوم ہوا کہ یاجوج ماجوج بھی حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں اور سب سے زیادہ دوزخ میں جانے والے یہی ہیں اس پر حافظ ابن کثیر (رض) نے البدایۃ والنہایہ میں یہ اشکال کیا ہے کہ جب ان کے پاس کوئی نبی نہیں آیا تو وہ دوزخ میں کیسے جائیں گے پھر اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ (وَ مَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا) اس سے واضح ہوتا ہے کہ جو بھی کوئی شخص یا جماعت عذاب میں مبتلا ہوگی سب کے پاس کوئی نہ کوئی رسول ضرور بھیجا گیا ہے (البتہ اس رسول کے معنی میں عموم ہے خواہ اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول پہنچا ہو خواہ اس کے رسولوں میں سے کسی کا بھیجا ہوا قاصد آیا ہو) اور کسی جگہ رسول کا پہنچنا یا ان کے کسی قاصد کا پہنچنا یہ ہمارے علم میں ہونا ضروری نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کہاں کہاں ہے اسے اپنی مخلوق کا علم ہے اور اپنی مخلوق پر کس طرح پر حجت قائم فرمائی ہے وہ اس کو جانتا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

86:۔ یہ مشرکین کے اللہ کی توحید سے شدت اعراض سے کنایہ ہے۔ والمراد منہ شدۃ انصرافھم عن قبول الحق (کبیر ج 5 ص 758) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

10 1 وہ کافر جن کی آنکھیں ہمارے ذکر یعنی قرآن کریم سے پر دئہ غفلت میں تھیں اور وہ ہمارے کلا مکو سن بھی نہ سکتے تھے۔ یعنی آنکھوں پر غفلت کے پردے اور کانوں میں ثقل پھر ایمان کس طرح نصیب ہوتا ۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اپنی آنکھ نہ تھی کہ قدرتیں دیکھ کر یقین لا دیں اور کسی کی بات نہ سنتے ضد سے کہ سمجھائے سمجھیں 12 ذوالقرنین بادشاہ کے سلسلے میں متقدمین مفسرین کے باہمی اقوال مختلف ہیں۔ حضرات متاخرین نے اپنی تحقیق سے اس میں کچھ اور اضافہ کیا لیکن مسئلہ کو اور بھی الجھا دیا اور ہمارے زمانہ کے لوگوں نے تو یا جوج ماجوج اور سد اور ذوالقرنین کے واقعات میں ایسی ایسی تاویلات بعیدہ سے کام لیا کہ قرآن وحدیث کا مفہوم ہی مسخ کردیا اس بارے میں تین باتیں زیادہ موضوع بحث رہیں۔ اول یہ ذوالقرنین کو ن ہے دس کہاں ہے اور یاجوج ماجوج کون ہیں اور وہ آج کل کہاں ہیں ہم اس بارے میں ان اہل علم کی تحقیق کا ذکر کرتے ہیں جو اور حضرات سے راجح ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ان کی تحقیق احادیث صحیحہ اور قرآن کریم سے زیادہ قریب ہے۔ سکندر ذوالقرنین کے متعلق عام طور پر اہل تاریخ کا خیال ہے کہ یہ سکندر وہ ہے کہ جس کا پایہ تخت یونان تھا اور یہی اسکندریہ کا بانی تھا یہ سکندر حضرت مسیح (علیہ السلام) سے تقریباً تین سو برس پہلے ہوا تھا کسی نے کہا وہ ایک رومی جوان تھا کسی نے کہا اس کا نام عبداللہ بن ضحاک تھا لیکن سہیل (رح) نے فرمایا کہ دو ذوالقرنین ہوئے ایک وہ جو یونانی ہے اور ایک وہ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے میں ہوا ہے اور ملت ابراہیمی کا پیرو تھا اور حضرت ابراہیم پر ایمان لایا تھا۔ قرآن کریم میں جس ذوالقرنین کا ذکر ہے یہ وہی ذوالقرنین ہے۔ ابن کثیر نے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ البتہ امام رازی نے پہلے قول کو اختیار کیا ہے۔ (واللہ اعلم) یہ ذوالقرنین نبی ہو یا نہ ہو لیکن اس میں شک نہیں کہ وہ سکندر ایک صالح۔ دیندار مومن اور منصف مزاج بادشاہ تھا اور اس کے وزیر حضرت خضر تھے اور یونانی سکندر کافر اور اس کا وزیر ارسطو تھا اور کچھ تعجب نہیں کہ وہ ابراہیمی ذوالقرنین اولیاء اللہ میں سے ہو رہی ذوالقرنین کی سد اور دیوار جس کا ذکر قرآن کریم میں کیا گیا ہے اس کے متعلق قرآن وحدیث سے حسب ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ 1 وہ دیوار لوہوے کی ہے۔ 2 اس دیوار کے دونوں سرے دو طرفہ پہاڑ سے ملے ہوئے ہیں جیسا کہ ہم نے کہا تھا کہ وہ ایک پہاڑی ذرہ اور گھاٹی ہے جو اس دیوار سے بند کردی گئی ہے۔3 اس کا بنانے والا کوئی ذی مرتبت بادشاہ ہے۔ 4 اس دیوار کے اس پارجو یاجوج ماجوج ہیں وہ ابھی تک نہیں نکلے اور ظاہر نہیں ہوئے۔5 وہ لوگ ہر روز اس کو چھیلتے رہتے ہیں مگر ابھی تک کامیاب نہیں ہوئے صرف حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں ایک سوراخ اس میں ہوگیا تھا جس قدر وہ چھیلتے ہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ رات کو پھر اسی طرح کردی جاتی ہے۔ قریب قیامت میں شام کو انشاء اللہ کہہ کر جائیں گے اور وہ رات کو درست نہ ہوگی اور دوسرے روز اس کو توڑ کر نکل آئیں گے۔6 وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں نکلیں گے اور ان کی تعداد بہت زیادہ ہوگی اور طاقت میں بھی عام انسانوں سے بہت زیادہ ہوں گے۔7 وہ دفعتاً حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے مرجائیں گے اس وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ہمراہی طور پر پناہ گزیں ہوں گے اور دوسرے لوگ اپنے اپنے مکانوں میں بند ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ باوجود ترقی کے اور جغرافیائی تحقیق کے لوگ اس کا پتہ نہیں لگا سکے اور وہ ابھی تک پردہ اخفا میں ہے جو کچھ قرآن کریم نے فرمایا ہے اور جو کچھ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اس کی تصدیق کرنی اور اس پر ایمان رکھنا چاہئے۔