The root of this word, its grammatical form, and every other place in the Quran where the same root is used - with each of those verses one click away.
اَلْھَشْمُ: اصل میں سوکھی یا نرم چیز کے توڑنے پر بولا جاتا ہے۔چنانچہ قرآن پاک میں ہے: ۔ (فَاَصۡبَحَ ہَشِیۡمًا تَذۡرُوۡہُ الرِّیٰحُ) (۱۸۔۴۵) پھر وہ چورا چورا ہوگئی کہ ہوائیں اسے اڑاتی پھرتی ہیں۔ (فَکَانُوۡا کَہَشِیۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ) (۵۴۔۳۱) تو وہ ایسے ہوگئی جیسے باڑ والے کی سوکھی اور ٹوٹی ہوئی باڑ اور ہڈی وغیرہ (سخت چیز) کے توڑنے پر ہَشْمٌ بولا جاتا ہے اور اسی سے ھَشَمْتُ الْخُبْزَ کا محاورہ ہے جس کے معنی سوکھی روٹی کو توڑ کر ثرید بنانے کے ہیں۔شاعر نے کہا ہے (1) (۴۵۳) عمرو…عجاف) عمروالعلا نے خشک سالی کے زمانہ میں اپنی قوم کو ثرید کھلایا جبکہ مکہ مکرمہ کے سردار قحط سالی کی وجہ سے دبلے ہورہے تھے۔ ھَاشِمَۃٌ: سرکا زخم جس سے کھوپڑی کی ہڈی ٹوٹ جائے۔اِھْتَشَمَ کُلَّ مَافِیْ صَدْعَ النَّاقَۃِ اونٹنی کے پستانوں سے تمام دودھ نچوڑلیا۔محاورہ ہے۔تَھَشَّمَ فُلَانٌ عَلٰی فُلَانِ: کسی پر مہربان ہونا۔
2 results