Surat ul Kaahaf

Surah: 18

Verse: 79

سورة الكهف

اَمَّا السَّفِیۡنَۃُ فَکَانَتۡ لِمَسٰکِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ فِی الۡبَحۡرِ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِیۡبَہَا وَ کَانَ وَرَآءَہُمۡ مَّلِکٌ یَّاۡخُذُ کُلَّ سَفِیۡنَۃٍ غَصۡبًا ﴿۷۹﴾

As for the ship, it belonged to poor people working at sea. So I intended to cause defect in it as there was after them a king who seized every [good] ship by force.

کشتی تو چند مسکینوں کی تھی جو دریا میں کام کاج کرتے تھے ۔ میں نے اس میں کچھ توڑ پھوڑ کر نے کا ارادہ کر لیا کیونکہ ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک ( صحیح سالم ) کشتی کو جبراً ضبط کر لیتا تھا ۔

Word by Word by

Dr Farhat Hashmi

اَمَّا
رہی
السَّفِیۡنَۃُ
کشتی
فَکَانَتۡ
تو وہ تھی
لِمَسٰکِیۡنَ
مسکینوں کی
یَعۡمَلُوۡنَ
جو کام کرتے تھے
فِی الۡبَحۡرِ
دریا میں
فَاَرَدۡتُّ
تو میں نے چاہا
اَنۡ
کہ
اَعِیۡبَہَا
میں عیب دار کردوں اس کو
وَکَانَ
اور تھا
وَرَآءَہُمۡ
آگے ان کے
مَّلِکٌ
ایک بادشاہ
یَّاۡخُذُ
جو لے رہا تھا
کُلَّ
ہر
سَفِیۡنَۃٍ
کشتی کو
غَصۡبًا
ظلم/جبر سے
Word by Word by

Nighat Hashmi

اَمَّا
رہی
السَّفِیۡنَۃُ
کشتی
فَکَانَتۡ
تو وہ تھی
لِمَسٰکِیۡنَ
مسکینوں کی
یَعۡمَلُوۡنَ
وہ کام کرتے تھے
فِی الۡبَحۡرِ
سمندر میں
فَاَرَدۡتُّ
چنانچہ ارادہ کیا میں نے
اَنۡ
یہ کہ
اَعِیۡبَہَا
میں عیب دار کردوں اسے
وَکَانَ
اور تھا
وَرَآءَہُمۡ
ان کے آگے
مَّلِکٌ
ایسا بادشاہ
یَّاۡخُذُ
وہ لے لیتا تھا
کُلَّ
ہر
سَفِیۡنَۃٍ
کشتی کو
غَصۡبًا
زبردستی چھین کر
Translated by

Juna Garhi

As for the ship, it belonged to poor people working at sea. So I intended to cause defect in it as there was after them a king who seized every [good] ship by force.

کشتی تو چند مسکینوں کی تھی جو دریا میں کام کاج کرتے تھے ۔ میں نے اس میں کچھ توڑ پھوڑ کر نے کا ارادہ کر لیا کیونکہ ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک ( صحیح سالم ) کشتی کو جبراً ضبط کر لیتا تھا ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

کشتی کا معاملہ تو یہ تھا کہ وہ چند مسکینوں کی ملکیت تھی جو دریا پر محنت مزدوری کرتے تھے۔ میں نے چاہا کہ اس کشتی کو عیب دار کردوں کیونکہ ان کے آگے ایک ایسا بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

رہی کشتی،تووہ چندمسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے ،چنانچہ میں نے ارادہ کیاکہ میں اسے عیب دار کردوں اور ان کے آگے ایک ایسا بادشاہ تھاجوزبردستی ہرکشتی چھین لیتا تھا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

As for the boat, it belonged to some poor people who worked at sea. So I wanted to make it defective as there was a king across them who used to take every boat by force.

وہ جو کشتی تھی سو چند محتاجوں کی جو محنت کرتے تھے دریا میں سو میں نے چاہا کہ اس میں عیب ڈال دوں اور ان کے پرے تھا ایک بادشاہ جو لے لیتا تھا ہر کشتی کو چھین کر

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

جہاں تک اس کشتی کا معاملہ ہے تو وہ غریب لوگوں کی (ملکیت) تھی جو محنت کرتے تھے دریا میں تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو پکڑ رہا تھا ہر کشتی کو زبردستی

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

As for the boat it belonged to some poor people who worked on the river, and I desired to damage it for beyond them lay the dominion of a king who was wont to seize every boat by force.

اس کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے ۔ میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ، کیونکہ آگے ایک ایسے بادشاہ کا علاقہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

جہاں تک کشتی کا تعلق ہے وہ کچھ غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں مزدوری کرتے تھے ، میں نے چاہا کہ اس میں کوئی عیب پیدا کردوں ، ( کیونکہ ) ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر ( اچھی ) کشتی کو زبردستی چھین کر رکھ لیا کرتا تھا ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

وہ کشتی تو چند محتاجوں کی تھی جو سمندر میں مزدوری کرتے تھے۔ 3 میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اس لئے ایک تختہ نکال ڈالا کیونکہ ان کے آگے کی طرف ایک بادشاہ تھا (ظالم) جو ہر ایک کشتی کو زبردستی پکڑ لیتا 4

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

وہ جو کشتی تھی سو غریب لوگوں کی تھی دو دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں اور ان لوگوں سے آگے (دوسرے کنارے پر) ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی چھین رہا تھا

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

بہرحال وہ کشتی چند غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے۔ ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر (اچھی) کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔ میں نے چاہا کہ اس میں عیب ڈال دوں۔

Translated by

Fateh Muhammad Jalandhari

(کہ وہ جو) کشتی (تھی) غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت (کرکے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ) کرتے تھے۔ اور ان کے سامنے (کی طرف) ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں (تاکہ وہ اسے غصب نہ کرسکے)

Translated by

Abdul Majid Daryabadi

As for the boat, it belonged to poor men working in the sea, so I intended to damage it, for there was before them a prince taking every boat by force.

وہ جو کشتی تھی سو وہ (چند) غریبوں کی تھی کہ وہ دریا میں کام کرتے تھے ۔ سو میں نے چاہا کہ اس میں عیب پیدا کردوں اور ان کے آگے کی طرف ایک بادشاہ تھا ۔ جو ہر (بےعیب) کشتی کو زبردستی پکڑلیتا تھا ۔

Translated by

Amin Ahsan Islahi

کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند مسکینوں کی تھی جو دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے ۔ میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کردوں اور ان کے پرے ایک بادشاہ تھا جو تمام کشتیوں کو زبردستی ضبط کر رہا تھا ۔

Translated by

Mufti Naeem

جہاں تک کشتی کا تعلق ہے تو وہ چند مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام ( کرکے اپنی گزر اوقات ) کرتے تھے ، تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں ( اس کی وجہ یہ تھی کہ ) ان کے آگے ایک ( جابر ) بادشاہ تھا جو ہر ( سالم ) کشتی کو زبردستی چھین لیا کرتا تھا ۔

Translated by

Muhtrama Riffat Ijaz

جو کشتی تھی غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت کر کے روزی کماتے تھے اور ان کے سامنے ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا اس کو عیب دار کر دوں (تاکہ وہ اس کو چھین نہ سکے۔ )

Translated by

Mulana Ishaq Madni

سو وہ کشتی جو تھی، اس کا معاملہ یہ تھا کہ وہ کچھ غریب لوگوں کی تھی جو (اس کے ذریعے) اس سمندر میں محنت مزدوری کرتے تھے تو میں نے چاہا کہ میں اسے عیب دار کر دوں، کیونکہ ان کے آگے ایک ایسا (ظالم) بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔

Translated by

Noor ul Amin

کشتی کامعاملہ تویہ تھاکہ وہ چند مسکینوں کی ملکیت تھی جو دریا پر محنت مزدوری کرتے تھے میں نے چاہاکہ اس کشتی کو عیب دارکردوں کیونکہ ان کے آ گے ایک ایسابادشاہ تھاجو ہرکشتی کو زبردستی چھین لیتاتھا

Kanzul Eman by

Ahmad Raza Khan

وہ جو کشتی تھی وہ کچھ محتاجوں کی تھی ( ف۱٦۷ ) کہ دریا میں کام کرتے تھے ، تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں اور ان کے پیچھے ایک بادشاہ تھا ( ف۱٦۸ ) کہ ہر ثابت کشتی زبردستی چھین لیتا ( ف۱٦۹ )

Translated by

Tahir ul Qadri

وہ جو کشتی تھی سو وہ چند غریب لوگوں کی تھی وہ دریا میں محنت مزدوری کیا کرتے تھے پس میں نے ارادہ کیا کہ اسے عیب دار کر دوں اور ( اس کی وجہ یہ تھی کہ ) ان کے آگے ایک ( جابر ) بادشاہ ( کھڑا ) تھا جو ہر ( بے عیب ) کشتی کو زبردستی ( مالکوں سے بلامعاوضہ ) چھین رہا تھا

Translated by

Hussain Najfi

جہاں تک کشتی کا معاملہ ہے تو وہ چند مسکینوں کی تھی جو دریا پر کام کرتے تھے ۔ میں نے چاہا کہ اسے عیب دار بنا دوں کیونکہ ادھر ایک ( ظالم ) بادشاہ تھا جو ہر ( بے عیب ) کشتی پر زبردستی قبضہ کر لیتا تھا ۔

Translated by

Abdullah Yousuf Ali

"As for the boat, it belonged to certain men in dire want: they plied on the water: I but wished to render it unserviceable, for there was after them a certain king who seized on every boat by force.

Translated by

Muhammad Sarwar

"The boat belonged to some destitute people who were using it as a means of their living in the sea. The king had imposed a certain amount of tax on every undamaged boat. I damaged it so that they would not have to pay the tax.

Translated by

Safi ur Rehman Mubarakpuri

"As for the boat, it belonged to poor people working in the sea. So I wished to make a defective damage in it, as there was a king behind them who seized every boat by force."

Translated by

Muhammad Habib Shakir

As for the boat, it belonged to (some) poor men who worked on the river and I wished that I should damage it, and there was behind them a king who seized every boat by force.

Translated by

William Pickthall

As for the ship, it belonged to poor people working on the river, and I wished to mar it, for there was a king behind them who is taking every ship by force.

Translated by

Moulana Younas Palanpuri

वह जो नौका थी, कुछ निर्धन लोगों की थी जो दरिया में काम करते थे, तो मैंने चाहा कि उसे ऐबदार कर दूँ, क्योंकि आगे उन के परे एक सम्राट था, जो प्रत्येक नौका को ज़बरदस्ती छीन लेता था

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

وہ جو کشتی تھی سو چند آدمیوں کی تھی (اس کے ذریعہ سے) دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے سو میں نے چاہا کہ اس میں عیب ڈال دوں اور (وجہ اس کی یہ تھی کہ) ان لوگوں سے آگے کی طرف ایک (ظالم) بادشاہ تھا جو ہر (اچھی) کشتی کو زبردستی پکڑ رہا تھا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

اس کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں مزدوری کرتے تھے میں نے چاہا کہ اس میں نقص ڈال دوں کیونکہ آگے ایک ایسے بادشاہ کا علاقہ تھا جو اچھی کشتی کو زبردستی پکڑ رہا تھا۔ “ (٧٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے۔ میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں ، کیونکہ آگے ایک ایسے بادشاہ کا علاقہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے، سو میں نے کہا کہ اسے عیب والی کردوں، اور ان لوگوں کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو چھین لیا کرتا تھا

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

وہ جو کشتی تھی سو چند محتاجوں کی جو محنت کرتے تھے دریا میں   سو میں نے چاہا کہ اس میں عیب ڈال دوں اور ان کے پرے تھا ایک بادشاہ جو لے لیتا تھا ہر کشتی کو چھین کر

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

بہرحال وہ جو کشتی تھی وہ چند غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں اس سے محنت مزدوری کرتے تھے میں نے یہ ارادہ کیا کہ اس کشتی میں عیب پیدا کر دوں کیونکہ ان کے سامنے کی طرف ایک بادشاہ تھا جو ہر بےعیب کشتی کو زبردستی چھین لیا کرتا تھا۔