Surat Marium

Surah: 19

Verse: 38

سورة مريم

اَسۡمِعۡ بِہِمۡ وَ اَبۡصِرۡ ۙ یَوۡمَ یَاۡتُوۡنَنَا لٰکِنِ الظّٰلِمُوۡنَ الۡیَوۡمَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۳۸﴾

How [clearly] they will hear and see the Day they come to Us, but the wrongdoers today are in clear error.

کیا خوب دیکھنے سننے والے ہونگے اس دن جبکہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے لیکن آج تو یہ ظالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Disbeliever's warning of the Day of Distress Allah, the Exalted, says informing about the disbelievers on the Day of Resurrection that they will be made to have the clearest hearing and sight. This is as Allah says, وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُواْ رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَأ أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا And if you only could see when the criminals hang their heads before their Lord (saying): "Our Lord! We have now seen and heard." (32:12) They will say that when it will not benefit them, nor will it be of any use to them. If they had used these senses properly before seeing the torment, then it would have brought them some benefit and saved them from the Allah's punishment. This is why Allah says, أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ ... How clearly will they (disbelievers) see and hear, This means that no one will hear and see better than they will. ... يَوْمَ يَأْتُونَنَا ... the day when they will appear before Us. The Day of Resurrection. ... لَكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ ... But the wrongdoers today are... now, in the life of this world, ... فِي ضَلَلٍ مُّبِينٍ ...in plain error. They do not hear, see or think. When they are requested to follow guidance, they are not guided and they succumb to those things that do not benefit them. Then, Allah says,

قیامت کا دن دوزخیوں کے لئے یوم حسرت ۔ ارشاد ہے کہ آج دنیا میں یہ کفار آنکھیں بند کئے ہوئے اور کانوں میں جیسے ٹھونسے ہوئے ہیں ، لیکن قیامت کے دن ان کی آنکھیں خوب روشن ہوجائیں گی اور کان بھی خوب کھل جائیں گے ۔ جیسے فرمان الہٰی ہے ( وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ 12 ؀ ) 32- السجدة:12 ) کاش کہ تو دیکھتا جب یہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے شرمسار سرنگوں کھڑے ہوئے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھا سنا ۔ الخ پس اس دن نہ دیکھنا کام آئے نہ سننا نہ حسرت وافسوس کرنا نہ واویلا کرنا ۔ اگر یہ لوگ اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں سے دنیا میں کام لے کر اللہ کے دین کو مان لیتے تو آج انہیں حسرت وافسوس نہ کرنا پڑتا اس دن آنکھیں کھولیں گے اور آج اندھے بہرے بنے پھرتے ہیں نہ ہدایت کو طلب کرتے ہیں نہ دیکھتے ہیں نہ بھلی باتیں سنتے ہیں نہ مانتے ہیں ۔ مخلوق کو اس حسرت والے دن سے خبردار کر دیجئے جب کہ تمام کام فیصل کر دیے جائیں گے ، جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں بھیج دیے جائیں گے ۔ اس حسرت وندامت کے دن سے یہ آج غافل ہو رہے ہیں بلکہ ایمان ویقین بھی رکھتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنتیوں کے جنت میں اور دوزخیوں کے دوزخ میں چلے جانے کے بعدموت کو ایک بھیڑیے کی شکل میں لایا جائے گا اور جنت دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے گا پھر اہل جنت سے پوچھا جائے گا کہ اسے جانتے ہو ؟ وہ دیکھ کر کہیں گے کہ ہاں یہ موت ہے دوزخیوں سے بھی یہ سوال ہوگا اور وہ بھی یہی جواب دیں گے ۔ اب حکم ہوگا اور موت کو ذبح کر دیا جائے گا اور ندا کر دی جائے گی کہ اہل جنت تمہارے لئے ہمیشہ موت نہیں اور اہل جہنم تمہارے لئے بھی اب ہمیشہ موت نہیں ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت ( وانذرہم ) الخ ، تلاوت فرمائی ۔ اور آپ نے اشارہ کیا اور فرمایا اہل دنیا غفلت دنیا میں ہیں ( مسندامام احمد ) ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک واقعہ مطول بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ہر شخص اپنے دوزخ اور جنت کے گھر کو دیکھ رہا ہوگا وہ دن ہی حسرت و افسوس کاہے جہنمی اپنے جنتی گھر کو دیکھ رہا ہوگا اور اس سے کہاجاتا ہوگا کہ اگر تم عمل کرتے تو تمہیں یہ جگہ ملتی وہ حسرت وافسوس کرنے لگیں گے ادھر جنتیوں کو ان کا جہنم کا گھر دکھا کر فرمایا جائے گا کہ اگر اللہ کا احسان تم پر نہ ہوتا تو تم یہاں ہوتے ۔ اور روایت میں ہے کہ موت کو ذبح کرکے جب ہمیشہ کے لیے آواز لگادی جائے گی اس وقت جنتی تو اس قدر خوش ہوں گے کہ اگر اللہ نہ بچائے تو مارے خوشی کے مر جائیں اور جہنمی اس قدر رنجیدہ ہو کر چیخیں گے کہ اگر موت ہوتی تو ہلاک ہوجائیں ۔ پس اس آیت کا یہی مطلب ہے یہ وقت حسرت کا بھی ہوگا اور کام کے خاتمہ کا بھی یہی ہوگا ۔ پس اس آیت کا مطلب ہے یہ وقت حسرت بھی ہوگا اور کام کا بھی یہی ہوگا ۔ پس یوم الحسرت بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے چنانچہ اور آیت میں ہے ( اَنْ تَـقُوْلَ نَفْسٌ يّٰحَسْرَتٰى عَلٰي مَا فَرَّطْتُّ فِيْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَاِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ 56؀ۙ ) 39- الزمر:56 ) پھر بتایا کہ خالق مالک متصرف اللہ ہی ہے سب اسی کی ملکیت ہے اور سب کو فنا ہے باقی صرف اللہ تبارک وتعالیٰ جل شانہ ہی ہے کوئی ملکیت اور تصرف کا سچا دعویدار بجز اس کے کوئی نہیں تمام خلق کا وارث حاکم وہی ہے اس کی ذات ظلم سے پاک ہے خلیفہ اسلام امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے عبد الحمید بن عبدالرحمن کو کوفے میں خط لکھا ، جس میں لکھا حمد وصلوۃ کے بعد اللہ نے روز اول سے ہی ساری مخلوق پر فنا لکھ دی ہے ۔ سب کو اس کی طرف پہنچنا ہے ، اس نے اپنی نازل کردہ سچی کتاب میں جسے اپنے علم سے محفوظ کئے ہوئے ہے اور جس کی نگہبانی اپنے فرشتوں سے کرا رہا ہے لکھ دیا ہے کہ زمین کا اور اس کے اوپر جو ہیں ان کا وارث وہی ہے اور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

38۔ 1 یہ تعجب کے صیغے ہیں یعنی دنیا میں تو یہ حق کے دیکھنے اور سننے سے اندھے اور بہرے رہے لیکن آخرت میں یہ کیا خوب دیکھنے اور سننے والے ہونگے ؟ لیکن وہاں یہ دیکھنا سننا کس کام کا ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٤] یعنی آج اس دنیا میں انھیں دیکھنے اور سننے کا فائدہ ہے مگر نہ دیکھتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔ مگر قیامت کے دن خوب دیکھ اور سن رہے ہوں گے مگر اس دن دیکھنے اور سننے کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ اس دن وہ ایسی ایسی باتیں سنیں گے جن سے ان کے جگر پھٹ جائیں گے اور ایسے منظر دیکھیں گے جن سے ان کے چہروں پر سیاہی اور مردنی چھا جائے گی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَسْمِعْ بِهِمْ وَاَبْصِرْ ۔۔ : یہ دونوں فعل تعجب ہیں۔ اللہ تعالیٰ تعجب سے فرماتے ہیں کہ جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے تو وہ کس قدر سننے والے اور کس قدر دیکھنے والے ہوں گے۔ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کے تعجب کرنے کو نہیں مانتے، کیونکہ تعجب تو انسان کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ انسان جیسا تو نہیں کہ تعجب کرے۔ اس لیے وہ اس کی تاویل کرتے ہیں کہ ان کی حالت ایسی ہوگی کہ اس پر تعجب کیا جائے، اگرچہ ان کی حالت واقعی ایسی ہوگی مگر جب انسان کے سننے، دیکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کو بھی سننے دیکھنے والا مانتے ہیں تو اس کے تعجب کرنے میں کیا تعجب ہے۔ ہاں انسان کا سننا، دیکھنا اور تعجب اس کی ہستی کے مطابق ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کا اس کی شان کے مطابق، جیسا کہ فرمایا : (لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ ) [ الشورٰی : ١١ ] ” اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ “ لطف کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تعجب کرنے کے منکر اس کے سمیع وبصیر ہونے اور دوسری صفات کے بھی منکر ہیں، مگر انکار ایسی تاویل کے پردے میں کرتے ہیں جو درحقیقت آیات و احادیث کی تحریف ہے۔ یعنی آج تو حق سے اندھے اور بہرے ہو رہے ہیں مگر آخرت میں ان کے کان اور آنکھیں خوب کھلی ہوں گی اور کہیں گے : (رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا ) [ السجدۃ : ١٢ ] ” اے ہمارے رب ! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا “ مگر اس وقت کا دیکھنا اور سننا کسی کام نہ آئے گا۔ ” الظّٰلِمُوْنَ “ پر الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ” یہ ظالم “ کیا گیا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَسْمِعْ بِہِمْ وَاَبْصِرْ۝ ٠ۙ يَوْمَ يَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْيَوْمَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۝ ٣٨ سمع السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا . ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] ، ( س م ع ) السمع ۔ قوت سامعہ ۔ کا ن میں ایک حاسہ کا نام ہے جس کے ذریعہ آوازوں کا اور اک ہوتا ہے اداس کے معنی سننا ( مصدر ) بھی آتے ہیں اور کبھی اس سے خود کان مراد لیا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ اور کبھی لفظ سماع کی طرح اس سے مصدر ی معنی مراد ہوتے ہیں ( یعنی سننا ) چناچہ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] وہ ( آسمائی باتوں کے ) سننے ( کے مقامات ) سے الگ کردیئے گئے ہیں ۔ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے ۔ اور کبھی سمع کے معنی فہم و تدبر اور کبھی طاعت بھی آجاتے ہیں مثلا تم کہو ۔ اسمع ما اقول لک میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو لم تسمع ماقلت لک تم نے میری بات سمجھی نہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ( یہ کلام ) ہم نے سن لیا ہے اگر چاہیں تو اسی طرح کا ( کلام ) ہم بھی کہدیں ۔ بصر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، نحو قوله تعالی: كَلَمْحِ الْبَصَرِ [ النحل/ 77] ، ووَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں جیسے فرمایا ؛کلمح البصر (54 ۔ 50) آنکھ کے جھپکنے کی طرح ۔ وَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] اور جب آنگھیں پھر گئیں ۔ نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٨) قیامت کے دن یہ لوگ کیسے کچھ سننے اور دیکھنے والے ہوجائیں گے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نہ اللہ ہیں اور نہ اللہ کے بیٹے اور اس کے شریک ہیں لیکن مشرکین آج دنیا میں اپنے اس قول کی بنا پر کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ ہیں اور اللہ کے بیٹے اور اس کے شریک ہیں کیسے کھلے کفر میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(19:38) اسمع بہم وابصر (بہم) افعال تعجب ہیں یعنی ما اسمعہم وما ابصرہم۔ کیا ہی خوب سننے والے ہوں گے وہ اور کیا ہی خوب دیکھنے والے۔ یعنی اس روز ان کی قوت شنوائی اور قوت بینائی بدرجہ اتم ہوگی۔ جیسا کہ سورة ق میں بھی یہی مضمون آیا ہے۔ فکشفنا عنک غطاءک فبصرک الیوم حدید۔ (50:22) سو ہم نے تجھ پر سے تیرا پردہ ہٹا دیا سو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے۔ یوم یا توننا۔ جس روز وہ ہمارے پاس آئیں گے۔ الیوم۔ آج کے دن۔ آج (یعنی یہاں اس دنیا میں آج یہ غفلت میں پڑے ہیں اور ایمان نہیں لا رہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی آج تو حق سے بہرے اور اندھے ہو رہے ہیں مگر آخرت میں ان کے کان اور آنکھیں خوب کھلی ہوں گی اور ربنا ابصرنا وسمعنا “ کہیں گے مگر اس وقت کا دیکھنا اور سننا کسی کام نہ آسکے گا۔ ) ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اسمع بھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فی ضلل مبین (٩١ : ٨٣) ” جب وہ ہمارے سامنے اضر ہوں گے اس روز تو ان کے کان بھی خوب سن رہے ہوں گے ‘ اور ان کی آنکھیں بھی خوب دیکھ رہی ہوں گی مگر آج یہ ظالم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں “۔ آج ان کی حالت یہ ہے کہ نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں جبکہ آج سننا اور دیکھنا ہدایت کا سبب بن سکتا ہے۔ لیکن جس دن سننا اور دیکھنا شرمندگی کا باعث ہوگا اس دن یہ خوب سن اور دیکھ رہے ہوں گے۔ اس دن یہ ایسی چیزیں دیکھیں گے جو دیکھنے کے قابل نہ ہوں گی اور ایسی چیزی سنیں گے جسے سننا نہ چاہیں گے۔ یہ ہوگا مشد عظیم کا دن۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (اَسْمِعْ بِھِِمْ وَاَبْصِرْ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا) (جس روز ہمارے پاس آئیں گے کیسے ہی سننے والے اور دیکھنے والے ہوں گے) یعنی قیامت کے دن حقائق پیش نظر ہوں گے جن چیزوں کی خبر دی گئی تھی وہ سامنے ہوں گے جن باتوں میں شک کرتے تھے وہ سامنے آجائیں گے جھٹلانے والا دانا بینا ہوجائیں گے اور تصدیق کرنے پر مجبور ہوں گے لیکن اس دن کی تصدیق معتبر نہ ہوگی لہٰذا اس تکذیب کی وجہ سے (جس پر دنیا میں اصرار کرتے رہے) دوزخ میں جائیں گے۔ (لٰکِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ) (لیکن ظالم آج کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں اس دنیا میں قبول حق پر راضی نہیں اور ہوش گوش کے باوجود کفر چھوڑنے اور ایمان قبول کرنے کے لیے تیار نہیں)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

29:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” اَسْمِعْ بِھِمْ وَ اَبْصِرْ الخ “ یہ دونوں فعل تعجب کے صیغے ہیں۔ یعنی یہ مشرکین آج تو شرک و کفر کی گمراہی میں اندھے اور بہرے ہورہے ہیں۔ لیکن قیامت کے دن ان کی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اور ان کی قوت سامعہ تیز ہوجائے گی۔ ” وَ اَنْذِرْھُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ الخ “ قیامت کے دن کو یوم الحسرت (افسوس کا دن) فرمایا۔ کیونکہ اس دن منکرین کو سخت افسوس ہوگا کہ انہوں نے دنیا میں حق کو کیوں قبول نہ کیا۔ اور غفلت اور لاپرواہی میں رہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

38 جس دن یہ لوگ ہمارے پاس آئیں گے یعنی سزا اور حساب و کتاب کی غرض سے اس دن کیسے دیکھنے والے اور کیسے کچھ سننے والے ہوں گے لیکن آج یہ ظالم لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ یعنی قیامت کے دن خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے کیونکہ وہ سب باتیں جو پیغمبر فرماتے تھے سامنے آجائیں گی مگر آج بدبخت ظالم صریح گمراہی میں مبتلا ہیں نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں۔