The Disbeliever's warning of the Day of Distress
Allah, the Exalted, says informing about the disbelievers on the Day of Resurrection that they will be made to have the clearest hearing and sight. This is as Allah says,
وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُواْ رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَأ أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا
And if you only could see when the criminals hang their heads before their Lord (saying): "Our Lord! We have now seen and heard." (32:12)
They will say that when it will not benefit them, nor will it be of any use to them. If they had used these senses properly before seeing the torment, then it would have brought them some benefit and saved them from the Allah's punishment.
This is why Allah says,
أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ
...
How clearly will they (disbelievers) see and hear,
This means that no one will hear and see better than they will.
...
يَوْمَ يَأْتُونَنَا
...
the day when they will appear before Us.
The Day of Resurrection.
...
لَكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ
...
But the wrongdoers today are...
now, in the life of this world,
...
فِي ضَلَلٍ مُّبِينٍ
...in plain error.
They do not hear, see or think. When they are requested to follow guidance, they are not guided and they succumb to those things that do not benefit them.
Then, Allah says,
قیامت کا دن دوزخیوں کے لئے یوم حسرت ۔
ارشاد ہے کہ آج دنیا میں یہ کفار آنکھیں بند کئے ہوئے اور کانوں میں جیسے ٹھونسے ہوئے ہیں ، لیکن قیامت کے دن ان کی آنکھیں خوب روشن ہوجائیں گی اور کان بھی خوب کھل جائیں گے ۔ جیسے فرمان الہٰی ہے ( وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ 12 ) 32- السجدة:12 ) کاش کہ تو دیکھتا جب یہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے شرمسار سرنگوں کھڑے ہوئے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھا سنا ۔ الخ پس اس دن نہ دیکھنا کام آئے نہ سننا نہ حسرت وافسوس کرنا نہ واویلا کرنا ۔ اگر یہ لوگ اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں سے دنیا میں کام لے کر اللہ کے دین کو مان لیتے تو آج انہیں حسرت وافسوس نہ کرنا پڑتا اس دن آنکھیں کھولیں گے اور آج اندھے بہرے بنے پھرتے ہیں نہ ہدایت کو طلب کرتے ہیں نہ دیکھتے ہیں نہ بھلی باتیں سنتے ہیں نہ مانتے ہیں ۔ مخلوق کو اس حسرت والے دن سے خبردار کر دیجئے جب کہ تمام کام فیصل کر دیے جائیں گے ، جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں بھیج دیے جائیں گے ۔ اس حسرت وندامت کے دن سے یہ آج غافل ہو رہے ہیں بلکہ ایمان ویقین بھی رکھتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنتیوں کے جنت میں اور دوزخیوں کے دوزخ میں چلے جانے کے بعدموت کو ایک بھیڑیے کی شکل میں لایا جائے گا اور جنت دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے گا پھر اہل جنت سے پوچھا جائے گا کہ اسے جانتے ہو ؟ وہ دیکھ کر کہیں گے کہ ہاں یہ موت ہے دوزخیوں سے بھی یہ سوال ہوگا اور وہ بھی یہی جواب دیں گے ۔ اب حکم ہوگا اور موت کو ذبح کر دیا جائے گا اور ندا کر دی جائے گی کہ اہل جنت تمہارے لئے ہمیشہ موت نہیں اور اہل جہنم تمہارے لئے بھی اب ہمیشہ موت نہیں ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت ( وانذرہم ) الخ ، تلاوت فرمائی ۔ اور آپ نے اشارہ کیا اور فرمایا اہل دنیا غفلت دنیا میں ہیں ( مسندامام احمد ) ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک واقعہ مطول بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ہر شخص اپنے دوزخ اور جنت کے گھر کو دیکھ رہا ہوگا وہ دن ہی حسرت و افسوس کاہے جہنمی اپنے جنتی گھر کو دیکھ رہا ہوگا اور اس سے کہاجاتا ہوگا کہ اگر تم عمل کرتے تو تمہیں یہ جگہ ملتی وہ حسرت وافسوس کرنے لگیں گے ادھر جنتیوں کو ان کا جہنم کا گھر دکھا کر فرمایا جائے گا کہ اگر اللہ کا احسان تم پر نہ ہوتا تو تم یہاں ہوتے ۔ اور روایت میں ہے کہ موت کو ذبح کرکے جب ہمیشہ کے لیے آواز لگادی جائے گی اس وقت جنتی تو اس قدر خوش ہوں گے کہ اگر اللہ نہ بچائے تو مارے خوشی کے مر جائیں اور جہنمی اس قدر رنجیدہ ہو کر چیخیں گے کہ اگر موت ہوتی تو ہلاک ہوجائیں ۔ پس اس آیت کا یہی مطلب ہے یہ وقت حسرت کا بھی ہوگا اور کام کے خاتمہ کا بھی یہی ہوگا ۔ پس اس آیت کا مطلب ہے یہ وقت حسرت بھی ہوگا اور کام کا بھی یہی ہوگا ۔ پس یوم الحسرت بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے چنانچہ اور آیت میں ہے ( اَنْ تَـقُوْلَ نَفْسٌ يّٰحَسْرَتٰى عَلٰي مَا فَرَّطْتُّ فِيْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَاِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ 56ۙ ) 39- الزمر:56 ) پھر بتایا کہ خالق مالک متصرف اللہ ہی ہے سب اسی کی ملکیت ہے اور سب کو فنا ہے باقی صرف اللہ تبارک وتعالیٰ جل شانہ ہی ہے کوئی ملکیت اور تصرف کا سچا دعویدار بجز اس کے کوئی نہیں تمام خلق کا وارث حاکم وہی ہے اس کی ذات ظلم سے پاک ہے خلیفہ اسلام امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے عبد الحمید بن عبدالرحمن کو کوفے میں خط لکھا ، جس میں لکھا حمد وصلوۃ کے بعد اللہ نے روز اول سے ہی ساری مخلوق پر فنا لکھ دی ہے ۔ سب کو اس کی طرف پہنچنا ہے ، اس نے اپنی نازل کردہ سچی کتاب میں جسے اپنے علم سے محفوظ کئے ہوئے ہے اور جس کی نگہبانی اپنے فرشتوں سے کرا رہا ہے لکھ دیا ہے کہ زمین کا اور اس کے اوپر جو ہیں ان کا وارث وہی ہے اور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے ۔