Surat Marium

Surah: 19

Verse: 39

سورة مريم

وَ اَنۡذِرۡہُمۡ یَوۡمَ الۡحَسۡرَۃِ اِذۡ قُضِیَ الۡاَمۡرُ ۘ وَ ہُمۡ فِیۡ غَفۡلَۃٍ وَّ ہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۳۹﴾

And warn them, [O Muhammad], of the Day of Regret, when the matter will be concluded; and [yet], they are in [a state of] heedlessness, and they do not believe.

تو انہیں اس رنج و افسوس کے دن کا ڈر سنا دے جبکہ کام انجام کو پہنچا دیا جائے گا اور یہ لوگ غفلت اور بے ایمانی میں ہی رہ جائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ ... And warn them of the Day of grief and regrets, warn the creation of the Day of Distress, ... إِذْ قُضِيَ الاَْمْرُ ... when the case has been decided, when the people of Paradise and the people of Hell will be sorted out, and everyone will reach his final abode which he was destined to remain in forever. ... وَهُمْ ... while (now) they are, today, in the present life of this world, ... فِي غَفْلَةٍ ... in a state of carelessness. with the warning of the Day of grief and regret, they are heedless. ... وَهُمْ لاَ يُوْمِنُونَ and they believe not. meaning they do not believe that it is true. Imam Ahmad recorded that Abu Sa`id said that the Messenger of Allah said, إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ يُجَاءُ بِالْمَوْتِ كَأَنَّهُ كَبْشٌ أَمْلَحُ فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَيُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا قَالَ فَيَشْرَيِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ وَيَقُولُونَ نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ قَالَ فَيُقَالُ يَاأَهْلَ النَّارِ هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا قَالَ فَيَشْرَيِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ وَيَقُولُونَ نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ قَالَ فَيُوْمَرُ بِهِ فَيُذْبَحُ قَالَ وَيُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ وَلاَا مَوْتَ وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ وَلاَا مَوْت When the people of Paradise enter Paradise and the people of the Hellfire enter the Hellfire, death will be brought in the form of a handsome ram and it will be placed between Paradise and the Hellfire. Then, it will be said, "O people of Paradise, do you know what this is?" Then, they will turn their gazes and look, and they will say, "Yes, this is death." Then, it will be said, "O people of the Hellfire, do you know what this is?" Then, they will turn their gazes and look, and they will say, "Yes, this is death." Then, the order will be given for it to be slaughtered and it will be said, "O people of Paradise, eternity and no more death, O people of Hellfire, eternity and no more death." Then the Messenger of Allah recited the Ayah, وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الاْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لاَأ يُوْمِنُونَ And warn them of the Day of grief and regret, when the case has been decided, while (now) they are in a state of carelessness, and they believe not. Then, the Messenger of Allah made a gesture with his hand and said, أَهْلُ الدُّنْيَا فِي غَفْلَةِ الدُّنْيَا The people of this life are in the state of heedlessness of this life. Thus recorded Imam Ahmad and it was also recorded by Al-Bukhari and Muslim in their Sahihs with wording similar to this. It is reported from Abdullah bin Mas`ud that he mentioned a story in which he said, "There is not a soul except that it will see a residence in Paradise and a residence in the Hellfire, and this will be the Day of distress. So the people of the Hellfire will see the residence that Allah prepared for them if they had believed. Then, it will be said to them, `If you had believed and worked righteous deeds, you would have had this, which you see in Paradise.' Then, they will be overcome with distress and grief. Likewise, the people of Paradise will see the residence that is in the Hellfire and it will be said to them, `If Allah had not bestowed His favor upon you (this would have been your place)."' Concerning Allah's statement, إِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الاَْرْضَ وَمَنْ عَلَيْهَا وَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

39۔ 1 روز قیامت کو یوم حسرت کہا، اس لئے کہ اس روز سب ہی حسرت کریں گے۔ بدکار حسرت کریں گے کہ کاش انہوں نے برائیاں نہ کی ہوتیں اور نیکوکار اس بات پر حسرت کریں گے کہ انہوں نے اور زیادہ نیکیاں کیوں نہیں کمائیں ؟ 39۔ 2 یعنی حساب کتاب کر کے صحیفے لپیٹ دیئے جائیں گے اور جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ اس کے بعد موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا اور جنت اور دوزخ کے درمیان کھڑا کردیا جائے گا، جنتیوں اور دوزخیوں دونوں سے پوچھا جائے گا، اسے پہچانتے ہو، یہ کیا ہے ؟ وہ کہیں گے، ہاں یہ موت ہے پھر ان کے سامنے اسے ذبح کردیا جائے گا اور اعلان کردیا جائے گا کہ اہل جنت ! تمہارے لئے جنت کی زندگی ہمیشہ کے لئے ہے، اب موت نہیں آئے گی۔ دوزخیوں سے کہا جائے گا۔ اے دوزخیو ! تمہارے لئے دوزخ کا عذاب دائمی ہے۔ اب موت نہیں آئے گی (صحیح بخاری)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٥] یوم حسرت۔ موت کو مینڈھے کی شکل میں ذبح کرنا ہے :۔ کافروں کے پچھتانے کے مواقع تو بہت ہوں گے۔ مگر آخری موقع غالبا ً وہ ہوگا جب اہل جنت کو جنت جانے کا اور اہل دوزخ کو دوزخ میں جانے کا فیصلہ سنا دیا جائے گا جیسا کہ درج ذیل حدیث میں آیا ہے : && سیدنا ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : (قیامت کے دن) موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لے کر آئیں گے۔ پھر ایک پکارنے والا پکارے گا : && اے اہل جنت !&& وہ ادھر دیکھیں گے تو فرشتہ کہے گا : && تم اس مینڈھے کو پہچانتے ہو ؟ && وہ کہیں گے && ہاں &&۔ یہ موت ہے اور ہم سب اس کا مزہ چکھ چکے ہیں && پھر وہ پکارے گا، && دوزخ والو !&& وہ لوگ بھی گردن اٹھا کر ادھر دیکھنے لگیں گے تو فرشتہ کہے گا :&& تم اس مینڈھے کو پہچانتے ہو ؟ && وہ کہیں گے : && ہاں ! یہ موت ہے، ہم سب اس کو دیکھ چکے ہیں &&۔ اس وقت وہ مینڈھا ذبح کردیا جائے گا۔ اس کے بعد وہ فرشتہ کہے گا : && جنت والو ! تمہیں ہمیشہ بہشت میں رہنا ہے اور دوزخ والو ! تمہیں بھی ہمیشہ دوزخ میں رہنا ہے۔ اب کسی کو موت نہیں آئے گی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی ( وَاَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ ۘ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ وَّهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ 39 ۔ ) 19 ۔ مریم :39) (بخاری۔ کتاب التفسیر، ترمذی، ابو اب التفسیر) اس دن کافر سب کچھ خوب دیکھ رہے ہوں گے اور سن بھی رہے ہوں گے مگر ہر طرف سے ناامید ہو کر حسرت سے اپنے ہاتھ کاٹیں گے۔ مگر اس وقت کچھ فائدہ نہ ہوگا &&

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ ۔۔ : مراد قیامت کا دن ہے جس میں حسرت اور پچھتاوے کے سوا کوئی چارۂ کار نہ ہوگا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة زمر (٥٦) ، انعام (٣١) اور بقرہ (١٦٧) ۔ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ ۘ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ ۔۔ : ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( یُؤْتٰی بالْمَوْتِ کَھَیْءَۃِ کَبْشٍ أَمْلَحَ فَیُنَادِيْ مُنَادٍ یَا أَھْلَ الْجَنَّۃِ ! فَیَشْرَءِبُّوْنََ وَ یَنْظُرُوْنَ فَیَقُوْلُ ھَلْ تَعْرِفُوْنَ ھٰذَا ؟ فَیَقُوْلُوْنَ نَعَمْ ھٰذَا الْمَوْتُ وَکُلُّھُمْ قَدْ رَاٰہُ ثُمَّ یُنَادِیْ یَا أَہْلَ النَّارِ ! فَیَشْرَءِبُّوْنَ وَ یَنْظُرُوْنَ فَیَقُوْلُ ہَلْ تَعْرِفُوْنَ ہٰذَا ؟ فَیَقُوْلُوْنَ نَعَمْ ، ہٰذَا الْمَوْتُ وَ کُلُّہُمْ قَدْ رَاٰہُ فَیُذْبَحُ ثُمَّ یَقُوْلُ یَا أَہْلَ الْجَنَّۃِ ! خُلُوْدٌ فَلَا مَوْتَ وَ یَا أَھْلَ النَّارِ ! خُلُوْدٌ فَلاَ مَوْتَ ، ثُمَّ قَرَأَ : (وَاَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ ) وَھٰؤُلَاءِ فِيْ غَفْلَۃٍ أَھْلُ الدُّنْیَا (وَّهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ ) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ عز وجل : ( و أنذرھم یوم الحسرۃ ): ٤٧٣٠ ] ” موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا، پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا : ” اے جنت والو ! “ تو وہ سر اٹھائیں گے اور دیکھیں گے۔ وہ کہے گا : ” کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟ “ وہ کہیں گے : ” ہاں ! یہ موت ہے “ اور وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے، پھر وہ آواز دے گا : ” اے آگ والو ! “ تو وہ سر اٹھائیں گے اور دیکھیں گے، وہ کہے گا : ” کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟ “ وہ کہیں گے : ” ہاں ! یہ موت ہے “ اور وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے تو اسے ذبح کردیا جائے گا۔ پھر وہ کہے گا : ” اے جنت والو ! (اب) ہمیشگی ہے، کوئی موت نہیں اور اے آگ والو ! (اب) ہمیشگی ہے، کوئی موت نہیں۔ “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی : (وَاَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ ۘ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ ) (اور انھیں پچھتاوے کے دن سے ڈرا جب فیصلہ کردیا جائے گا اور وہ سراسر غفلت میں ہیں) یعنی وہ سراسر دنیا کی غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔ “ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا موت کے ذبح کے ذکر کے بعد اس آیت کو پڑھنا دلیل ہے کہ ” قُضِيَ الْاَمْرُ “ (فیصلہ کردیے جانے) سے مراد موت کا ذبح کردیا جانا ہے۔ مسند احمد (٣؍٩، ح : ١١٠٧٢) میں اسی حدیث کے شروع میں ہے کہ جب (تمام) جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

يَوْمَ الْحَسْرَ‌ةِ (the Day of Remorse) in verse 39 refers to the Day of Judgment and has been called the Day of Remorse because on that day persons consigned to Hell as punishment for their evil deeds will regret their disregard of the righteous way of life, and wish that if they had lived the life of true believers, they too would have been in Paradise instead of being punished in Hell. Even those who have been rewarded with Paradise will feel a different kind of remorse. Al-Tabarani and Abu Ya` la have quoted the following saying of the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on the authority of Sayyidna Mu&adh (رض) . |"The people of Paradise will regret only one thing, namely those moments which were spent without the remembrance of Allah.|" And Al-Baghawi (رح) has narrated quoting Abu Hurairah (رض) that The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: |"Everyone will experience remorse and regret after death.|" The companions of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) asked him what would be that remorse and regret about? Then The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) explained that those who acted righteously will regret not having performed more righteous deeds which would have helped them attain a higher position in Paradise. On the other hand, the evil doers will repent their evil actions and sins. (Mazhari)

يَوْمَ الْحَسْرَةِ اس روز کو یوم الحسرت اس لئے کہا گیا ہے کہ اہل جہنم کو تو یہ حسرت ہونا ظاہر ہے کہ اگر وہ مومن صالح ہوتے تو ان کو جنت ملتی اب جہنم کے عذاب میں گرفتار ہیں۔ ایک خاص قسم کی حسرت اہل جنت کو بھی ہوگی جیسا کہ طبرانی اور ابو یعلی نے بروایت حضرت معاذ یہ حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اہل جنت کو کسی چیز پر حسرت نہ ہوگی بجز ان لمحات وقت کے جو بغیر ذکر اللہ کے گزر گئے۔ اور بغوی بروایت ابوہریرہ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہر مرنے والے کو حسرت و ندامت سے سابقہ پڑے گا۔ صحابہ کرام نے سوال کیا کہ یہ ندامت و حسرت کس بناء پر ہوگی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ نیک اعمال کرنے والے کو اس پر حسرت ہوگی کہ اور زیادہ نیک اعمال کیوں نہ کر لئے کہ اور زیادہ درجات جنت ملتے اور بدکار آدمی کو اس پر حسرت ہوگی کہ وہ اپنی بدکاری سے باز کیوں نہ آگیا۔ (مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَنْذِرْہُمْ يَوْمَ الْحَسْرَۃِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ۝ ٠ۘ وَہُمْ فِيْ غَفْلَۃٍ وَّہُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ۝ ٣٩ نذر وَالإِنْذارُ : إخبارٌ فيه تخویف، كما أنّ التّبشیر إخبار فيه سرور . قال تعالی: فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] والنَّذِيرُ : المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2] ( ن ذ ر ) النذر الا نذار کے معنی کسی خوفناک چیز سے آگاہ کرنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل تبشیر کے معنی کسی اچھی بات کی خوشخبری سنا نیکے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] سو میں نے تم کو بھڑکتی آگ سے متنبہ کردیا ۔ النذ یر کے معنی منذر یعنی ڈرانے والا ہیں ۔ اور اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں خوف پایا جائے خواہ وہ انسان ہو یا کوئی اور چیز چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ [ الأحقاف/ 9] اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے ۔ حسر الحسر : كشف الملبس عمّا عليه، يقال : حسرت عن الذراع، والحاسر : من لا درع عليه ولا مغفر، والمِحْسَرَة : المکنسة، وفلان کريم المَحْسَر، كناية عن المختبر، وناقة حَسِير : انحسر عنها اللحم والقوّة، ونوق حَسْرَى، والحاسر : المُعْيَا لانکشاف قواه، ويقال للمعیا حاسر ومحسور، أمّا الحاسر فتصوّرا أنّه قد حسر بنفسه قواه، وأما المحسور فتصوّرا أنّ التعب قد حسره، وقوله عزّ وجل : يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خاسِئاً وَهُوَ حَسِيرٌ [ الملک/ 4] ، يصحّ أن يكون بمعنی حاسر، وأن يكون بمعنی محسور، قال تعالی: فَتَقْعُدَ مَلُوماً مَحْسُوراً [ الإسراء/ 29] . والحَسْرةُ : الغمّ علی ما فاته والندم عليه، كأنه انحسر عنه الجهل الذي حمله علی ما ارتکبه، أو انحسر قواه من فرط غمّ ، أو أدركه إعياء من تدارک ما فرط منه، قال تعالی: لِيَجْعَلَ اللَّهُ ذلِكَ حَسْرَةً فِي قُلُوبِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، وَإِنَّهُ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكافِرِينَ [ الحاقة/ 50] ، وقال تعالی: يا حَسْرَتى عَلى ما فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ [ الزمر/ 56] ، وقال تعالی: كَذلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمالَهُمْ حَسَراتٍ عَلَيْهِمْ [ البقرة/ 167] ، وقوله تعالی: يا حَسْرَةً عَلَى الْعِبادِ [يس/ 30] ، وقوله تعالی: في وصف الملائكة : لا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبادَتِهِ وَلا يَسْتَحْسِرُونَ [ الأنبیاء/ 19] ، وذلک أبلغ من قولک : ( لا يحسرون) . ( ح س ر ) الحسر ( ن ض ) کے معنی کسی چیز کو ننگا کرنے اور حسرت عن الذارع میں نے آستین چڑھائی الحاسر بغیر زرہ مابغیر خود کے ۔ المحسرۃ فلان کریم الحسر کنایہ یعنی ناقۃ حسیر تھکی ہوئی اور کمزور اونٹنی جسکا گوشت اور قوت زائل ہوگئی ہو اس کی جمع حسریٰ ہے الحاسر ۔ تھکا ہوا ۔ کیونکہ اس کے قویٰ ظاہر ہوجاتے ہیں عاجز اور درماندہ کو حاسربھی کہتے ہیں اور محسورۃ بھی حاسرۃ تو اس تصور کے پیش نظر کہ اس نے خود اپنے قوٰی کو ننگا کردیا اور محسور اس تصور پر کہ درماندگی نے اس کے قویٰ کو ننگا دیا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خاسِئاً وَهُوَ حَسِيرٌ [ الملک/ 4] تو نظر ( ہر بار ) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی ۔ میں حسیر بمعنی حاسرۃ بھی ہوسکتا ہے اور کہ ملامت زدہ اور درماندہ ہوکر بیٹھ جاؤ ۔ الحسرۃ ۔ غم ۔ جو چیز ہاتھ سے نکل جائے اس پر پشیمان اور نادم ہونا گویا وہ جہالت اور غفلت جو اس کے ارتکاب کی باعث تھی وہ اس سے دیر ہوگئی یا فرط غم سے اس کے قوی ننگے ہوگئے یا اس کوتاہی کے تدارک سے اسے درماند گی نے پالیا قرآن میں ہے : ۔ لِيَجْعَلَ اللَّهُ ذلِكَ حَسْرَةً فِي قُلُوبِهِمْ [ آل عمران/ 156] ان باتوں سے مقصود یہ ہے کہ خدا ان لوگوں کے دلوں میں افسوس پیدا کردے ۔ وَإِنَّهُ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكافِرِينَ [ الحاقة/ 50] نیز یہ کافروں کے لئے ( موجب ) حسرت ہے ۔ يا حَسْرَتى عَلى ما فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ [ الزمر/ 56] اس تقصیر پر افسوس ہے جو میں نے خدا کے حق میں کی ۔ كَذلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمالَهُمْ حَسَراتٍ عَلَيْهِمْ [ البقرة/ 167] اسی طرح خدا ان کے اعمال انہیں حسرت بنا کر دکھائے گا ۔ يا حَسْرَةً عَلَى الْعِبادِ [يس/ 30] بندوں پر افسوس ہے اور فرشتوں کے متعلق فرمایا : ۔ لا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبادَتِهِ وَلا يَسْتَحْسِرُونَ [ الأنبیاء/ 19] وہ اس کی عبادت سے نہ کنیا تے ہیں اور نہ در ماندہ ہوتے ہیں ۔ اس میں سے زیادہ مبالغہ پایا جاتا ہے ۔ قضی الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی: وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک، ( ق ض ی ) القضاء کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ قضاء الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ غفل الغَفْلَةُ : سهو يعتري الإنسان من قلّة التّحفّظ والتّيقّظ، قال تعالی: لَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هذا[ ق/ 22] ( غ ف ل ) الغفلتہ ۔ اس سہو کو کہتے ہیں جو قلت تحفظ اور احتیاط کی بنا پر انسان کو عارض ہوجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هذا[ ق/ 22] بیشک تو اس سے غافل ہو رہا تھا أمن والإِيمان يستعمل تارة اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ويقال لكلّ واحد من الاعتقاد والقول الصدق والعمل الصالح : إيمان . قال تعالی: وَما کانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمانَكُمْ [ البقرة/ 143] أي : صلاتکم، وجعل الحیاء وإماطة الأذى من الإيمان قال تعالی: وَما أَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَنا وَلَوْ كُنَّا صادِقِينَ [يوسف/ 17] قيل : معناه : بمصدق لنا، إلا أنّ الإيمان هو التصدیق الذي معه أمن، وقوله تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيباً مِنَ الْكِتابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ [ النساء/ 51] فذلک مذکور علی سبیل الذم لهم، ( ا م ن ) الامن الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلما ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست (2 ۔ 62) میں امنوا کے یہی معنی ہیں اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید ہوۃ کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ اور کبھی ایمان کا لفظ بطور مدح استعمال ہوتا ہے اور اس سے حق کی تصدیق کرکے اس کا فرمانبردار ہوجانا مراد ہوتا ہے اور یہ چیز تصدیق بالقلب اقرار باللسان اور عمل بالجوارح سے حاصل ہوتی ہے اس لئے فرمایا ؛۔ { وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ } ( سورة الحدید 19) اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبر پر ایمان لائے ہیں روہی صدیق میں یہی وجہ ہے کہ اعتقاد قول صدق اور عمل صالح میں سے ہر ایک کو ایمان کہا گیا ہے چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَمَا كَانَ اللهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ } ( سورة البقرة 143) ۔ اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یوں ہی کھودے (2 ۔ 143) میں ایمان سے مراد نماز ہے اور (16) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حیا اور راستہ سے تکلیف کے دور کرنے کو جزو ایمان قرار دیا ہے اور حدیث جبرائیل میں آنحضرت نے چھ باتوں کو کو اصل ایمان کہا ہے اور آیت کریمہ ؛۔ { وَمَا أَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَنَا وَلَوْ كُنَّا صَادِقِينَ } ( سورة يوسف 17) اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے (12 ۔ 17) میں مومن بمعنی مصدق ہے ۔ لیکن ایمان اس تصدیق کو کہتے ہیں جس سے اطمینان قلب حاصل ہوجائے اور تردد جاتا رہے اور آیت کریمہ :۔ { أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ } ( سورة النساء 44 - 51) من ان کی مذمت کی ہے کہ وہ ان چیزوں سے امن و اطمینان حاصل کرنا چاہتے ہیں جو باعث امن نہیں ہوسکتیں کیونکہ انسان فطری طور پر کبھی بھی باطل پر مطمئن نہیں ہوسکتا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٩) اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان لوگوں کو پچھتاوے کے دن سے ڈرائیے جب کہ حساب و کتاب سے فراغت ہوجائے گی۔ اور جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل کر دے جائیں گے اور جنت دوزخ کے درمیان موت کو ذبح کردیا جائے گا اور وہ لوگ اس چیز سے نادانی اور غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم اور موت کے بعد پھر جی اٹھنے پر ایمان نہیں لاتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٩۔ ٤٠:۔ اوپر عیسائیوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں مشرکین مکہ کا ذکر فرمایا جس سے یہ بات جتلائی گئی ہے کہ جس طرح عیسائی لوگ اپنے آپ کو عیسیٰ (علیہ السلام) کا پیرو کہتے ہیں اور حقیقت میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے طریقہ کے بالکل برخلاف ہیں یہی حال ان مشرکین مکہ کا ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا پابند کہتے ہیں اور حقیقت میں ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ کے بالکل برخلاف ہیں کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) تو بت پرستی سے ایسے بیزار تھے کہ اسی پر ان کا اور ان کے باپ کا جھگڑا ہوا جس کا ذکر آگے آتا ہے اور ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ رات دن بت پرستی میں لگے ہوئے ہیں قیامت کے دن اس بت پرستی کی جو سزا ان کو بھگتنی پڑے گی اس سے بالکل غافل ہیں اور باوجود ہر وقت کی نصیحت کے اس شرک سے باز نہیں آئے اس لیے اے رسول اللہ کے تم اپنا کام کیے جاؤ کہ ان لوگوں کو اس دن کے پچھتاوے سے ڈراتے رہو اس پر جو لوگ شرک سے باز نہ آویں تو اس کا کچھ رنج نہ کرو ایک دن دنیا فنا ہونے والی ہے اور دنیا کے فنا ہوجانے کے بعد پھر دوبارہ زندہ ہو کر جب تمام دنیا کے لوگ سزا وجزا کے لیے ہمارے روبرو حاضر ہوں گے تو اس وقت یہ لوگ اپنے اس شرک کی سزا بھگت کر بہت پچھتاویں گے اس پچھتاوے کا ذکر سورة الانعام میں گزر چکا ہے کہ اس طرح کے لوگ اپنی دنیا کی غفلت کی گندگی پر پچھتا کر پھر دوبارہ دنیا میں آنے اور نیک عمل کرنے کی خواہش کریں گے مگر اس بےوقت کے بچھتانے اور بےموقع خواہش سے ان کو کچھ فائدہ نہیں صحیح بخاری مسلم اور ترمذی میں ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب جنت میں ہمیشہ رہنے والے جنتیوں اور دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے دوزخیوں کو یہ حکم سنا دیا جائے گا کہ اب جو جہاں وہیں رہے گا کبھی وہاں سے نہ نکلے گا اس وقت دوزخی لوگ اپنی دنیا کی غفلت کی زندگی پر بہت پچھتائیں گے ١ ؎۔ یہ حدیث فرما کر اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں آیتوں میں کی پہلی آیت پڑھی اس حدیث سے ایسے لوگوں کے پچھتاوے کے وقت کی تفسیر اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔ (١ ؎ تفسیر ابن کثیرص ١٢٢ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(19:39) یوم الحسرۃ۔ ای یوم القیامۃ۔ الحسرۃ مصدر ہے جس کے معنی ہیں غم۔ یا جو چیز ہاتھ سے نکل جائے اس پر پشیمان اور نادم ہونا۔ الحسر۔ (نصر۔ ضرب) کے معنی کسی چیز کو ننگا کرنے اور اس سے پردہ اٹھانے کے ہیں۔ جیسے حسرت عن الذراع میں نے آستین چڑھائی۔ اسی سے حسیر بمعنی حاسرتھ کی ہوئی۔ درماندہ۔ اس تصور کے پیش نظر کہ اس نے اپنے قوی کو ننگا کردیا۔ جیسے قرآن مجید میں ہے ینقلب الیک البصر وھو حسیر۔ (67:4) نظر (ہر بار) تیری طرف نکام اور تھک کر لوٹ آئے گی۔ انذرہم۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ہم۔ ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تو ان کو ڈرا ۔ اذ قضی الامر۔ جب ہر بات کا اخیر فیصلہ کردیا جائے گا۔ یعنی جب جنت اور دوزخ دونوں کا فیصلہ کردیا جائے گا۔ اہل جنت اور اہل دوزخ کو خلود کا حکم سنا کر موت کو ان کے سامنے ذبح کردیا جائے گا۔ اذ یا تو یوم کا بدل ہے یا الحسرۃ سے متعلق ہے۔ اور اس کا ظرف ہے۔ وہم فی غفلۃ وہم لا یؤمنون۔ یہ دونوں جملے یا تو انذرہم کے حال ہیں یعنی آپ انہیں ڈرائیے جب کہ ان کی حالت یہ ہے کہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ایمان نہیں لا رہے۔ یا ان دونوں جملوں کا عطف فی ضلال مبین پر ہے اور انذرہم۔۔ الامر جملہ معترضہ ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یعنی قیامت کے دن سے جس میں سوائے پچھتاوے اور حسرت کے کوئی چارہ کار نہ ہوگا۔ (ان یقول نفس یا حسرتا علی مافرطت فی جنب اللہ۔ 3 یعنی حساب و کتاب اور ثواب و عقاب کے متعلق فیصلہ کردیا جائے گا۔ مروی ہے کہ جب حشر کے روز دوزخ سے گنہگار مسلمانوں کو نکالا جائے گا تب کافر بھی اس توقع میں ہونگے لیکن جب موت کو مینڈھے کی شکل میں لا کر ذبح کردیا جائے گا تو اس وقت کافر تم واندوہ میں کھوکر رہ جائیں گے اور بالکل مایوس ہوجائیں گے۔ چناچہ آنحضرت نے یہ واقعہ ذکر فرماکر پھر یہ آیت تلاوت فرمائی یعنی ’ دقضی الامر “ سے مراد یہی فیصلہ ہے۔ (کبیر ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وانذر ھم یوم الحسرۃ (٩١ : ٩٣) ” اور ان کو پچھتاوے کے دن سے ڈرائو “۔ اس قدر حسرتیں ہوں گی کہ قیامت کا دن ہی حسرتوں کا دن ہوگا۔ حسرت کے سوا وہاں کچھ نہ وہ گا۔ میدان میں ہر طرف حسرت ہی حسرت ہوگی لیکن اس دن حسرت کرنا مفید مطلب نہ ہوگا۔ اذ قضی الامر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لایئو منون (٩١ : ٩٣) ” جب فیصلہ کردیا جائے اور یہ لوگ غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لارہے “۔ یہ لوگ ایمان نہیں لارہے لیکن قیامت کا دن ان کے کفر کے ساتھ ڑا ہوا ہے۔ جس غفلت میں یہ ڈوبے ہوئے ہیں اس کے ساتھ قیامت جڑی ہوئی ہے۔ ان کو اس دن سے ڈرائو جس میں شک نہیں ہے۔ کیونکہ زمین کے اوپر جو چیز اور جو انسان بھی ہیں وہ سب کے سب اللہ کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اللہ ہی سب کا وارث ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یوم الحسرۃ کی پریشانی (وَاَنْذِرْھُمْ یَوْمَ الْحَسْرَۃِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ ) (اور آپ انھیں حسرت کے دن سے ڈرایئے جبکہ فیصلہ کردیا جائے گا) (وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ وَّھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) (اور وہ غفلت میں ہیں اور وہ ایمان نہیں لائیں گے) ۔ اس آیت میں قیامت کے دن کو حسرت کا دن بتایا ہے اور فرمایا ہے کہ انھیں اس دن سے ڈراؤ۔ قیامت کا دن بڑی حسرت کا دن ہوگا، وہاں حاضر ہونے والے طرح طرح سے حسرت کریں گے ان میں سے ایک کی یہ حسرت ہوگی کہ کاش ہم واپس کردیئے جاتے اور تکذیب نہ کرتے (یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُکَذِّبَ بِاٰیَاتِ رَبِّنَا) اور اپنے بڑوں کے بارے میں کہیں گے کہ اگر ہم واپس ہوجاتے تو ان سے بیزاری ظاہر کردیتے۔ (لَوْ اَنَّ لَنَا کَرَّۃً فَنَتَبَرَّأَ مِنْھُمْ ) اور یوں بھی کہیں گے اگر ہم سنتے اور سمجھتے تو آج دوزخ والوں میں شمار نہ ہوتے (لَوْ کُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا کُنَّا فِیْ اَصْحَاب السَّعِیْرِ ) حسرتیں تو نہ جانے کتنی ہوں گی حدیث میں اس آیت کی تفسیر فرماتے ہوئے ایک خاص حسرت کا تذکرہ فرمایا ہے حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن موت کو چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا اور ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا اے جنت والو ! یہ سن کر وہ لوگ سر اٹھا کر دیکھیں گے ان سے پوچھا جائے گا کہ تم اسے پہچانتے ہو وہ کہیں گے یہ موت ہے اور یہ اس وجہ سے کہ ہر ایک موت کو دیکھ چکا تھا پھر منادی آواز دے گا اے دوزخ والو ! وہ لوگ بھی سر اٹھا کر دیکھیں گے ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم اسے پہچانتے ہو وہ کہیں گے کہ ہاں۔ اور ان میں بھی ہر شخص موت کو دیکھ چکا تھا اس کے بعد موت کو سب کے سامنے ذبح کردیا جائے گا (جو مینڈھے کی شکل میں ہوگی) اس کے بعد یہ اعلان ہوگا کہ اے جنت والو ! تمہیں اسی میں ہمیشہ رہنا ہے اب موت نہیں ہے اے جہنم والو ! تمہیں بھی اس میں ہمیشہ رہنا ہے اور اب موت نہیں ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آیت بالا تلاوت فرمائی (وَاَنْذِرْھُمْ یَوْمَ الْحَسْرَۃِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ وَّھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) (بخاری ص ٢٩١ ج ٢) سنن ترمذی میں ہے کہ جب موت کو دونوں فریق کی نظروں کے سامنے ذبح کردیا جائے گا تو اہل جنت کی خوشی اور اہل دوزخ کے رنج کا یہ عالم ہوگا کہ اگر کوئی شخص خوشی میں مرتا تو اس وقت جنت والے مرجاتے اور اگر کوئی شخص رنج کی وجہ سے مرتا تو دوزخ والے مرجاتے۔ سنن ابن ماجہ میں یوں ہے کہ موت کو پل صراط پر ذبح کردیا جائے گا۔ (الترغیب والترہیب ص ٥٤٤ ج ٤)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

39 اور اے پیغمبر آپ ان کو حسرت و پشیمانی کے دن سے ڈرا دیجیے جب کام کا آخری فیصلہ ہوجائے گا اور ان کا حال یہ ہے کہ یہ غفلت میں مبتلا ہیں اور یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ یعنی جس دن ہر ایک کا آخری فیصلہ ہوجائے گا اس دن دوزخیوں کو انتہائی حسرت و ندامت ہوگی اور جبکہ موت کے آنے کی بھی توقع نہ رہے اسی لئے اس دن کو یوم حسرت فرمایا۔ غرض ! اس حسرت و یاس کے دن یعنی قیامت سے ڈرائیے جبکہ اہل جہنم کا آخری فیصلہ کردیا جائے۔ یہ اس وقت غفلت میں اور بیخبر ی میں مبتلا ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔