Surat Marium

Surah: 19

Verse: 40

سورة مريم

اِنَّا نَحۡنُ نَرِثُ الۡاَرۡضَ وَ مَنۡ عَلَیۡہَا وَ اِلَیۡنَا یُرۡجَعُوۡنَ ﴿۴۰﴾٪  5

Indeed, it is We who will inherit the earth and whoever is on it, and to Us they will be returned.

خود زمین کے اور تمام زمین والوں کے وارث ہم ہی ہونگے اور سب لوگ ہماری ہی طرف لوٹا کر لائے جائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Verily, We will inherit the earth and whatsoever is thereon. And to Us they all shall be returned. Allah is informing that He is the Creator, the Owner and the Controller of all matters. All of the creation will be destroyed and only He, the Most High and Most Holy, will remain. There is no one who can claim absolute ownership and control of affairs besides Him. He is the Inheritor of all His creation. He is the Eternal, Who will remain after they are gone and He is the Judge of their affairs. Therefore, no soul will be done any injustice, nor wronged even the weight of a mosquito or an atom. Ibn Abi Hatim recorded that Hazm bin Abi Hazm Al-Quta`i said, "Umar bin Abdul-Aziz wrote to Abdul-Hamid bin Abdur-Rahman, who was the governor of Kufah: `Thus, to proceed: Verily, Allah prescribed death for His creatures when He created them and He determined their final destination. He said in that which He revealed in His truthful Book, which He guarded with His knowledge and made His angels testify to its preservation, that He will inherit the earth and all who are on it, and they will all be returned to Him."'

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٦] یعنی اس دن نہ کسی کا ملک باقی رہے گا نہ ملک باقی رہے گی۔ ہر چیز براہ راست مالک حقیقی کی طرف لوٹ جائے گی۔ وہی علی الاطلاق ہر چیز کا مالک و مختار ہوگا۔ اور وہی ہر چیز کا وارث ہوگا۔ ملک وملک کے لمبے چوڑے دعویٰ رکھنے والے وہاں خالی ہاتھ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ ۔۔ : اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کا اظہار کرتے ہوئے اپنا ذکر تین دفعہ جمع متکلم کی ضمیر سے کیا ہے۔ دنیا کے بادشاہ بھی حکم دیتے وقت یا اپنی شان و شوکت کے اظہار کے وقت کہا کرتے ہیں کہ ” ہم حکم دیتے ہیں “ ” ہم یہ کریں گے “ وغیرہ، حالانکہ وہ اکیلے حکم دے رہے ہوتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ جس کی عظمت کی کوئی حد نہیں، اکیلا ہونے کے باوجود اپنی عظمت کے اظہار کے لیے کیوں نہ فرمائے گا کہ بیشک ہم، ہم ہی زمین کے وارث ہوں گے۔ اردو ترجمے میں ” ہی “ کا لفظ تیسرے ” ہم “ کی جگہ لگایا گیا ہے، جو لفظ ” نَرِثُ “ میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سب فنا ہوجائیں گے اور ہمارے سوا ان کا وارث (پیچھے رہنے والا) کوئی نہ ہوگا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَمَنْ عَلَيْہَا وَاِلَيْنَا يُرْجَعُوْنَ۝ ٤٠ۧ ورث الوِرَاثَةُ والإِرْثُ : انتقال قنية إليك عن غيرک من غير عقد، ولا ما يجري مجری العقد، وسمّي بذلک المنتقل عن الميّت فيقال للقنيةِ المَوْرُوثَةِ : مِيرَاثٌ وإِرْثٌ. وتُرَاثٌ أصله وُرَاثٌ ، فقلبت الواو ألفا وتاء، قال تعالی: وَتَأْكُلُونَ التُّراثَ [ الفجر/ 19] وقال عليه الصلاة والسلام : «اثبتوا علی مشاعرکم فإنّكم علی إِرْثِ أبيكم» «2» أي : أصله وبقيّته، قال الشاعر : 461- فينظر في صحف کالرّيا ... ط فيهنّ إِرْثٌ کتاب محيّ «3» ويقال : وَرِثْتُ مالًا عن زيد، ووَرِثْتُ زيداً : قال تعالی: وَوَرِثَ سُلَيْمانُ داوُدَ [ النمل/ 16] ، وَوَرِثَهُ أَبَواهُ [ النساء/ 11] ، وَعَلَى الْوارِثِ مِثْلُ ذلِكَ [ البقرة/ 233] ويقال : أَوْرَثَنِي الميّتُ كذا، وقال : وَإِنْ كانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلالَةً [ النساء/ 12] وأَوْرَثَنِي اللهُ كذا، قال : وَأَوْرَثْناها بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 59] ، وَأَوْرَثْناها قَوْماً آخَرِينَ [ الدخان/ 28] ، وَأَوْرَثَكُمْ أَرْضَهُمْ [ الأحزاب/ 27] ، وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الآية [ الأعراف/ 137] ، وقال : يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّساءَ كَرْهاً [ النساء/ 19] ويقال لكلّ من حصل له شيء من غير تعب : قد وَرِثَ كذا، ويقال لمن خُوِّلَ شيئا مهنّئا : أُورِثَ ، قال تعالی: وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي أُورِثْتُمُوها[ الزخرف/ 72] ، أُولئِكَ هُمُ الْوارِثُونَ الَّذِينَ يَرِثُونَ [ المؤمنون/ 10- 11] وقوله : وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ [ مریم/ 6] فإنه يعني وِرَاثَةَ النّبوّةِ والعلمِ ، والفضیلةِ دون المال، فالمال لا قدر له عند الأنبیاء حتی يتنافسوا فيه، بل قلّما يقتنون المال ويملکونه، ألا تری أنه قال عليه الصلاة ( ور ث ) الوارثۃ ولا رث کے معنی عقد شرعی یا جو عقد کے قائم مقام ہے اوکے بغیر کسی چیز کے ایک عقد کے قائم مقام ہے کے بغیر کسی چیز کے ایک شخص کی ملکیت سے نکل کر دسرے کی ملکیت میں چلے جانا کئے ہیں اسی سے میت کی جانب سے جو مال ورثاء کی طرف منتقل ہوتا ہے اسے اذث تراث اور کیراث کہا جاتا ہے اور تراث اصل میں وراث ہے واؤ مضموم کے شروع میں آنے کی وجہ سے اسے تا سے تبدیل کرلو اسے چناچہ قرآن میں سے ۔ وَتَأْكُلُونَ التُّراثَ [ الفجر/ 19] اور حج کے موقعہ پر آنحضرت نے فرمایا : ۔ کہ اپنے مشاعر ( مواضع نسکہ ) پر ٹھہرے رہو تم اپنے باپ ( ابراہیم کے ورثہ پر ہو ۔ تو یہاں ارث کے معنی اصل اور بقیہ نشان کے ہیں ۔۔ شاعر نے کہا ہے ( 446 ) فینظر فی صحف کالریا فیھن ارث کتاب محی وہ صحیفوں میں تالت باندھنے والے کی طرح غور کرتا ہے جن میں کہ مٹی ہوئی کتابت کا بقیہ ہے ۔ اور محاورہ میں ورث مالا عن زید وو رثت زیدا ( میں زید کا وارث بنا دونوں طرح بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَوَرِثَ سُلَيْمانُ داوُدَ [ النمل/ 16] اور سلیمان داؤد کے قائم مقام ہوئے ۔ وَوَرِثَهُ أَبَواهُ [ النساء/ 11] اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں ۔ وَعَلَى الْوارِثِ مِثْلُ ذلِكَ [ البقرة/ 233] اور اسی طرح نان ونفقہ بچے کے وارث کے ذمہ ہے يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّساءَ كَرْهاً [ النساء/ 19] مومنوں تم کو جائز نہیں ہے کہ زبر دستی عورتوں کے وارث بن جاؤ ۔ اور اوثنی المیت کذا کے معنی ہیں میت نے مجھے اتنے مال کا وارث بنایا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَإِنْ كانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلالَةً [ النساء/ 12] اور اگر ایسے مرد یا عورت کی میراث ہو جس کے نہ باپ ہو نہ بیٹا ۔ اور اور ثنی اللہ کذا کے معنی کسی چیز کا وارث بنا دینے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے وَأَوْرَثْناها بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 59] اور بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث بنایا ۔ وَأَوْرَثْناها قَوْماً آخَرِينَ [ الدخان/ 28] اور ان کی زمین کا تم کو وارث بنایا : ۔ وَأَوْرَثَكُمْ أَرْضَهُمْ [ الأحزاب/ 27] اور جو لوگ ( کمزور سمجھے جاتے تھے ان کو وارث کردیا ۔ وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الآية [ الأعراف/ 137] ہر وہ چیز جو بلا محنت ومشقت حاصل ہوجائے اس کے متعلق ورث کذا کہتے ہیں اور جب کسی کو خوشگوار چیز بطور دی جانے تو اورث کہا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي أُورِثْتُمُوها[ الزخرف/ 72] اور یہ جنت جس کے تم مالک کردیئے گئے ہو رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٠) اور ہم تمام زمین اور اہل زمین کے مالک ہیں یعنی آخر ایک دن سب مریں گے اور سب کے ہم ہی وارث ہیں، ہم مارتے اور زندہ کرتے ہیں اور قیامت کے دن یہ سب ہمارے ہی پاس لوٹائے جائیں گے، پھر م ان کو ان کے اعمال کی جزا دیں گے یعنی نیکی کے بدلے نیکی اور برائی کے بدلے برائی پائیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٠ (اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَمَنْ عَلَیْہَا) اس دن روئے زمین کی حکمرانی اور دنیوی مال و متاع کی ملکیت کے عارضی دعویدار سب کے سب ختم ہوجائیں گے اور اس سب کچھ کی وراثت ظاہری طور پر بھی ہمیں منتقل ہوجائے گی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

25. Here the address which was meant to be delivered before King Negus and his courtiers comes to an end. In the introduction to this Surah, we have already stated the historical background of this address. In order to form an idea of its great significance, it should be kept in mind that: (a) This address was sent down at the time when the persecuted Muslims of Makkah were going to migrate to a Christian kingdom so that they may present before the Christians the true Islamic creed about Prophet Jesus (peace be upon him). This shows that the Muslims under no circumstances should conceal the truth, (b) It shows a most wonderful moral courage of the Muslim migrants to Habash that they recited this address in the royal court at the critical moment, when the courtiers who had been bribed were bent on handing them over to their enemies. They indeed were faced with the real threat that this frank Islamic criticism of the basic articles of the Christian faith might turn the king against them and he might hand them over to the Quraish. But in spite of this, they presented the whole truth before the king without the least hesitation.

سورة مَرْیَم حاشیہ نمبر :25 یہاں وہ تقریر ختم ہوتی ہے جو عیسائیوں کو سنانے کے لیئے نازل فرمائی گئی تھی ۔ اس تقریر کی عظمت کا صحیح اندازہ اسی وقت ہو سکتا ہے جبکہ آدمی اس کو پڑھتے وقت وہ تاریخی پس منظر نگاہ میں رکھے جو ہم نے اس سورے کے درمیان میں کیا ہے ۔ یہ تقریر اس موقع پر نازل ہوئی تھی جبکہ مکے کے مظلوم مسلمان ایک عیسائی سلطنت میں پناہ لینے کے لیئے جار ہے تھے ، اور اس غرض کے لیئے نازل کی گئی تھی کہ جب وہاں مسیح کے متعلق اسلامی عقائد کا سوال چھڑے تو یہ سرکاری بیان عیسائیوں کو سنا دیا جائے ۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت اس امر کا ہو سکتا ہے کہ اسلام نے مسلمانوں کو کسی حال میں بھی حق و صداقت کے معاملے میں مداہنت برتنا نہیں سکھایا ہے ۔ پھر وہ سچے مسلمان جو حبش کی طرف ہجرت کر کے گئے تھے ، ان کی قوت ایمانی بھی حیرت انگیز ہے کہ انہوں نے عین دربار شاہی میں ایسے نازک موقع پر اٹھ کر یہ تقریر سنا دی جبکہ نجاشی کے تمام اہل دربار رشوت کھا کر انہیں ان کے دشمنوں کے سپرد کردینے پر تل گئے تھے ۔ اس وقت اس امر کا پورا خطرہ تھا ۔ کہ مسیحیت کے بنیادی عقائد پر اسلام کا یہ بے لاگ تبصرہ سن کر نجاشی بھی بگڑ جائے گا اور ان مظلوم مسلمانوں کو قریش کے قصائیوں کے حوالے کر دے گا ۔ مگر اس کے باوجود انہوں نے کلمہ حق پیش میں ذرہ برابر تامل نہ کیا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی سب مرجائیں گے اور ہمارے سو ان کا کوئی وارث پیچھے رہنے والا نہ ہوگا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (اِنَّا نَحْنُ نَرْثُ الْاَرْضَ وَمَنْ عَلَیْھَا وَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ ) بلاشبہ زمین اور زمین پر جو کچھ ہے ہم اس کے وارث ہوں گے یعنی اہل دنیا سب ختم ہوجائیں گے جو مجازی مالک ہیں ان میں سے کسی کی کوئی ملکیت باقی نہیں رہے گی۔ اللہ تعالیٰ جو مالک حقیقی ہے صرف اسی کی ملکیت حقیقیہ باقی رہ جائے گی دنیا والے مر کر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹ کر جائیں گے جو کچھ دنیا میں کمایا تھا یہیں چھوڑیں گے اعمال لے کر حاضر ہوں گے اور انھیں پر فیصلے ہوں گے قال صاحب الروح ای یردون الی الجزاء لا الی غیرنا استقلالا او اشتراکا۔ (ص ٩٥ ج ١٦) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کا عقیدہ رکھنے والوں کی تردید حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ میں یہ جو فرمایا (وَاَوْصَانِیْ بْالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ مَا دُمْتُ حَیًّا) اس سے بعض ملحدین یہ استدلال کرتے ہیں کہ ان کی وفات ہوگئی (یہ لوگ آسمان پر اٹھائے جانے اور دنیا میں واپس تشریف لانے کے منکر ہیں) ان جاہلوں کو شیطان نے سمجھایا ہے کہ (مَا دُمْتُ حَیًّا) سے یہ معلوم ہو رہا ہے کہ وہ وفات پا گئے یہ ان لوگوں کی جہالت ہے آیت سے تو یہ معلوم ہو رہا ہے کہ وہ زندہ ہیں اور ایسا وقت آئے گا جس میں وہ زکوٰۃ ادا کریں گے جب تک وہ دنیا میں تھے اس وقت تک ان کی مال والی زندگی نہیں تھی جب قیامت کے قریب آسمان سے تشریف لائیں گے اس وقت صاحب مال ہوں گے زکوٰۃ ادا کریں گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

30:۔ اس سے مراد یہ ہے کہ نفخہ اولیٰ کے وقت سارا نظام عالم اور پوری دنیا تباہ و برباد ہوجائے گی اور اللہ کے سوا کوئی باقی نہیں رہے گا۔ پھر نفخہ ثانیہ کے بعد تمام انسانوں کی خداوند تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہوگی۔ مشرکین اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں ان کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوگا اس لیے وہ ہرگز پکارے جانے کے لائق نہیں ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

40 اور بلاشبہ تمام زمین اور زمین کے اوپر رہنے والوں کے ہم ہی وارث اور مالک ہیں اور سب ہماری طرف لوٹائے جائیں گے۔ یعنی آج ایمان نہیں لاتے لیکن ایک دن یہ سب مریں گے اور وہی باقی رہ جائے گا اس لئے تمام زمین کا وارث اور مالک وہی ہے اور سب کا مرجع اور بازگشت اسی کی طرف ہے نہ کسی کا ملک رہے گا نہ کسی کی ملک باقی رہے گی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جب تک حشر کا دن ہے دوزخ سے مسلمان نکل نکل کر بہشت میں جاویں گے تب تک کافر بھی توقع میں ہوں گے پھر موت کو مینڈھے کی صورت لا کر دوزخ بہشت کے بیچ سب کو دکھا کر ذبح کریں گے اور پکاریں گے کہ بہشتی بہشت میں اور دوزخی دوزخ میں رہ پڑے ہمیشہ کو وہ دن ہے کہ کافر ناامید ہوں گے۔ 12