Surat Marium

Surah: 19

Verse: 7

سورة مريم

یٰزَکَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمِ ۣ اسۡمُہٗ یَحۡیٰی ۙ لَمۡ نَجۡعَلۡ لَّہٗ مِنۡ قَبۡلُ سَمِیًّا ﴿۷﴾

[He was told], "O Zechariah, indeed We give you good tidings of a boy whose name will be John. We have not assigned to any before [this] name."

اے زکریا! ہم تجھے ایک بچے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحیی ہے ہم نے اس سے پہلے اس کا ہم نام بھی کسی کو نہیں کیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The acceptance of His Supplication This statement implies what is not mentioned, that his supplication was answered. It was said to him, يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَى ... (Allah said:) "O Zakariyya! Verily, We give you the glad tidings of a son, whose name will be Yahya..." Similarly Allah, the Exalted, said; هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ قَالَ رَبِّ هَبْ لِى مِن لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَأءِ فَنَادَتْهُ الْمَلَـيِكَةُ وَهُوَ قَايِمٌ يُصَلِّى فِى الْمِحْرَابِ أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَـى مُصَدِّقاً بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِّنَ الصَّـلِحِينَ At that time Zakariyya invoked his Lord, saying: "O my Lord! Grant me from You, a good offspring. You are indeed the All-Hearer of invocation." Then the angels called him, while he was standing in prayer in the Mihrab, (saying): "Allah gives you glad tidings of Yahya, confirming (believing in) the word from Allah, noble, keeping away from sexual relations with women, a Prophet, from among the righteous." (3:38-39) Allah said, ... لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِن قَبْلُ سَمِيًّا We have given that name to none before (him). Qatadah, Ibn Jurayj and Ibn Zayd said, "This means that no one had this name before him." Ibn Jarir preferred this interpretation, may Allah have mercy upon him.

دعا قبول ہوئی ۔ حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا مقبول ہوتی ہے اور فرمایا جاتا ہے کہ آپ ایک بچے کی خوشخبری سن لیں جس کا نام یحییٰ ہے جیسے اور آیت میں ہے ( ھُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهٗ 38؀ ) 3-آل عمران:38 ) ، میں حضرت زکریا علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اپنے پاس سے بہتری اولاد عطا فرما تو دعاؤں کا سننے والا ہے ۔ فرشتوں نے انہیں آواز دی اور وہ اس وقت کی نماز کی جگہ میں کھڑے تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے ایک کلمے کی بشارت دیتا ہے جو سردار ہو گا اور پاکباز ہوگا اور نبی ہو گا اور پورے نیک کار اعلیٰ درجے کے بھلے لوگوں میں سے ہوگا ۔ یہاں فرمایا کہ ان سے پہلے اس نام کا کوئی اور انسان نہیں ہوا ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مشابہ کوئی اور نہ ہوگا یہی معنی سمیا کے آیت ( هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِيًّا 65؀ۧ ) 19-مريم:65 ) میں ہے ۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اس سے پہلے کسی بانجھ عورت سے ایسی اولاد نہیں ہوئی ۔ حضرت زکریا کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوتی تھی ۔ آپ کی بیوی صاحبہ بھی شروع عمر سے بے اولاد تھیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سارہ علیہما السلام نے بھی بچے کے ہونے کی بشارت سن کر بیحد تعجب کیا تھا لیکن ان کے تعجب کی وجہ ان کا بے اولاد ہونا اور بانجھ ہونا نہ تھی ۔ بلکہ بہت زیادہ بڑھاپے میں اولاد کا ہونا یہ تعجب کی وجہ تھی اور حضرت زکریا علیہ السلام کے ہاں تو اس پورے بڑھاپے تک کوئی اولاد ہوئی نہ تھی اس لئے حضرت خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ مجھے اس انتہائی بڑھاپے میں تم اولاد کی خبر کیسے دے رہے ہو ؟ ورنہ اس سے تیرہ سال پہلے آپ کے ہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام ہوئے تھے آپ کی بیوی صاحبہ نے بھی خوشخبری کو سن کر تعجب سے کہا تھا کہ کیا اس بڑھے ہوئے بڑھاپے میں میرے ہاں اولاد ہوگی؟ ساتھ ہی میرے میاں بھی غایت درجے کے بوڑھے ہیں ۔ یہ تو سخت تر تعجب خیز چیز ہے ۔ یہ سن کر فرشتوں نے کہا کہ کیا تمہیں امر الہٰی سے تعجب ہے ؟ اے ابراہیم کے گھرانے والو تم پر اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہیں اللہ تعریفوں اور بزرگیوں والا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

7۔ 1 اللہ تعالیٰ نے نہ صرف دعا قبول فرمائی بلکہ اس کا نام بھی تجویز فرما دیا

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩] یحییٰ اللہ کا اپنا تجویز کردہ نام :۔ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول کرکے بیٹے کی بشارت دی تو ساتھ ہی نام بھی خود ہی تجویز فرما دیا اور نام بھی ایسا انوکھا کہ پہلے کسی آدمی کا یہ نام نہیں رکھا گیا تھا۔ یحییٰ : دعائیہ نام ہے یعنی اللہ کرے تادیر زندہ رہے۔ جیسے ہمارے ہاں جیونا یا جیونی نام رکھتے ہیں اور عرب میں عائش اور عائشہ، نیز اسم بمعنی صفت بھی ہوسکتا ہے جیسے وللّٰہ الاسماء الحسنیٰ کے معنی && اللہ کے بہترین نام && بھی ہوسکتے ہیں اور && بہترین صفات && بھی، اس لحاظ سے اس کا معنی یہ ہوگا کہ ایسی اچھی سیرت والاآدمی پہلے کوئی نہیں ہوا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يٰزَكَرِيَّآ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِۨ اسْمُهٗ يَحْــيٰى۔۔ : یہ بشارت دوران نماز ہی فرشتوں کے ذریعے سے مل گئی تھی۔ دیکھیے سورة آل عمران (٣٩) اس میں یحییٰ (علیہ السلام) کی فضیلت دو پہلوؤں سے بیان کی گئی ہے، ایک یہ کہ ان کا نام اللہ تعالیٰ نے خود رکھا، دوسرے یہ کہ ان کا نام ایسا رکھا جو اس سے پہلے کسی کا نہیں تھا۔ عربی زبان میں ” يَحْــيٰى“ کا معنی ” زندہ رہے “ ہے۔ 3 اس سے معلوم ہوا کہ پیدائش سے پہلے بھی بچے کا نام رکھا جاسکتا ہے، ساتویں دن نام رکھنے کا حکم آخری حد ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

لم نجعَل لَّہ مِن قَبلُ سَمِیاً |"We did not create any one before him of the same name.|" - 19:7. The word سَمِی means |"person having the same name.|" It also means |"similar.|" If the first meaning is adopted here then it would suggest that no one else had the name Yahya before him. This fact also suggests that he possessed certain special attributes which were not granted to anyone else before him. And if we take the second meaning of the word سَمِی then it will mean that some of his attributes and situations were such that they were peculiar to him and were not shared by any other prophet, and that he was unique in the possession of those special attributes, for instance his self abnegation and denial of worldly comforts (حصُور). However, it does not necessarily follow that he was superior to all the prophets who preceded him, for the superiority of Sayyidna Ibrahim Khalilullah (علیہ السلام) and Sayyidna Musa Kalimullah (علیہ السلام) over him is established and well known. (Mazhari)

لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا :، لفظ سمی کے معنے ہمنام کے بھی آتے ہیں، اور مثل ومشابہ کے بھی، اس جگہ اگر پہلے معنے مراد لئے جاویں تو مطلب واضح ہے کہ ان سے پہلے یحییٰ نام کسی شخص کا نہیں ہوا تھا۔ یہ نام کی یکتائی اور امتیاز بھی بعض خاص صفات میں انکی یکتائی کیطرف مشیر تھی اسلئے اس کو ان صفات اور حالات ان کے ایسے ہیں جو پچھلے انبیاء میں سے کسی میں نہ تھے ان صفات خاصہ میں وہ بےمثل تھے۔ مثلا ان کا حصور ہونا وغیرہ اسلئے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یحییٰ (علیہ السلام) پچھلے سارے انبیاء سے مطلقا افضل ہوں کیونکہ ان میں حضرت خلیل اللہ اور حضرت کلیم اللہ کا ان سے افضل ہونا مسلم و معروف ہے۔ (مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰزَكَرِيَّآ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِۨ اسْمُہٗ يَحْــيٰى۝ ٠ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا۝ ٧ بشر واستبشر : إذا وجد ما يبشّره من الفرح، قال تعالی: وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] ، وقال تعالی: وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] . ويقال للخبر السارّ : البِشارة والبُشْرَى، قال تعالی: هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ، وقال تعالی: لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] ، وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] ، يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] ، وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرى [ الأنفال/ 10] . ( ب ش ر ) البشر التبشیر کے معنی ہیں اس قسم کی خبر سنانا جسے سن کر چہرہ شدت فرحت سے نمٹما اٹھے ۔ مگر ان کے معافی میں قدر سے فرق پایا جاتا ہے ۔ تبیشتر میں کثرت کے معنی ملحوظ ہوتے ہیں ۔ اور بشرتہ ( مجرد ) عام ہے جو اچھی وبری دونوں قسم کی خبر پر بولا جاتا ہے ۔ اور البشرتہ احمدتہ کی طرح لازم ومتعدی آتا ہے جیسے : بشرتہ فابشر ( یعنی وہ خوش ہوا : اور آیت کریمہ : { إِنَّ اللهَ يُبَشِّرُكِ } ( سورة آل عمران 45) کہ خدا تم کو اپنی طرف سے بشارت دیتا ہے میں ایک قرآت نیز فرمایا : لا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ عَلِيمٍ قالَ : أَبَشَّرْتُمُونِي عَلى أَنْ مَسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ قالُوا : بَشَّرْناكَ بِالْحَقِّ [ الحجر/ 53- 54] مہمانوں نے کہا ڈریے نہیں ہم آپ کو ایک دانشمند بیٹے کی خوشخبری دیتے ہیں وہ بولے کہ جب بڑھاپے نے آپکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے اب کا ہے کی خوشخبری دیتے ہو انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں ۔ { فَبَشِّرْ عِبَادِ } ( سورة الزمر 17) تو میرے بندوں کو بشارت سنادو ۔ { فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ } ( سورة يس 11) سو اس کو مغفرت کے بشارت سنادو استبشر کے معنی خوش ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے ( اور شہید ہوکر ) ان میں شامل ہیں ہوسکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں ۔ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہورہے ہیں ۔ وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] اور اہل شہر ( لوط کے پاس ) خوش خوش ( دورے ) آئے ۔ اور خوش کن خبر کو بشارۃ اور بشرٰی کہا جاتا چناچہ فرمایا : هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی ۔ لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] اس دن گنہگاروں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں ہوگی ۔ وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری سے کرآئے ۔ يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] زہے قسمت یہ تو حسین ) لڑکا ہے ۔ وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرى [ الأنفال/ 10] اس مدد کو تو خدا نے تمہارے لئے رذریعہ بشارت ) بنایا غلم الْغُلَامُ الطّارّ «3» الشّارب . يقال : غُلَامٌ بيّن الغُلُومَةِ والغُلُومِيَّةِ. قال تعالی: أَنَّى يَكُونُ لِي غُلامٌ [ آل عمران/ 40] ، وَأَمَّا الْغُلامُ فَكانَ أَبَواهُ مُؤْمِنَيْنِ [ الكهف/ 80] ، وقال : وَأَمَّا الْجِدارُ فَكانَ لِغُلامَيْنِ [يوسف/ 19] ، وقال في قصة يوسف : هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] ، والجمع : غِلْمَةٌ وغِلْمَانٌ ، واغْتَلَمَ الْغُلَامُ :إذا بلغ حدّ الغلومة، ولمّا کان من بلغ هذا الحدّ كثيرا ما يغلب عليه الشّبق قيل للشّبق : غِلْمَةٌ ، واغْتَلَمَ الفحلُ. ( غ ل م ) الغلام اس لڑکے کو کہتے ہیں جس کی مسیں بھیگ چکی ہوں محاورہ ہے غلام بین الغلومۃ والغیو میۃ لڑکا جو بھر پور جوانی کی عمر میں ہو۔ کی عمر میں ہو قرآن پاک میں ہے : أَنَّى يَكُونُ لِي غُلامٌ [ آل عمران/ 40] میرے ہاں لڑکا کیونکہ ہوگا ۔ وَأَمَّا الْغُلامُ فَكانَ أَبَواهُ مُؤْمِنَيْنِ [ الكهف/ 80] اور وہ لڑکا تھا اس کے ماں باپ دونوں مومن تھے ۔ وَأَمَّا الْجِدارُ فَكانَ لِغُلامَيْنِ [يوسف/ 19] اور جو دیورار تھی سو وہ دو لڑکوں کی تھی ۔ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قصہ میں فرمایا : هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] یہ تو نہایت حسین ) لڑکا ہے ۔ غلام کی جمع غلمۃ وغلمان آتی ہے ۔ اور اغتلم الغلام کے معنی ہیں لڑکا بالغ ہوگیا ۔ عام طور پر چونکہ اس عمر میں جنسی خواہش کا غلبہ ہوجاتا ہے اس لئے غلمۃ کا لفظ جنسی خواہش کی شدت پر بولا جاتا ہے ۔ اور اغتلم الفحل کے معنی ہیں سانڈ جنسی خواہش سے مغلوب ہوگیا ۔ اسْمُ والِاسْمُ : ما يعرف به ذات الشیء، وأصله سِمْوٌ ، بدلالة قولهم : أسماء وسُمَيٌّ ، وأصله من السُّمُوِّ وهو الذي به رفع ذکر الْمُسَمَّى فيعرف به، قال اللہ : بِسْمِ اللَّهِ [ الفاتحة/ 1] ، وقال : ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها [هود/ 41] ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ [ النمل/ 30] ، وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ [ البقرة/ 31] ، أي : لألفاظ والمعاني مفرداتها ومرکّباتها . وبیان ذلک أنّ الاسم يستعمل علی ضربین : أحدهما : بحسب الوضع الاصطلاحيّ ، وذلک هو في المخبر عنه نحو : رجل وفرس . والثاني : بحسب الوضع الأوّليّ. ويقال ذلک للأنواع الثلاثة المخبر عنه، والخبر عنه، والرّابط بينهما المسمّى بالحرف، وهذا هو المراد بالآية، لأنّ آدم عليه السلام کما علم الاسم علم الفعل، والحرف، ولا يعرف الإنسان الاسم فيكون عارفا لمسمّاه إذا عرض عليه المسمّى، إلا إذا عرف ذاته . ألا تری أنّا لو علمنا أَسَامِيَ أشياء بالهنديّة، أو بالرّوميّة، ولم نعرف صورة ما له تلک الأسماء لم نعرف الْمُسَمَّيَاتِ إذا شاهدناها بمعرفتنا الأسماء المجرّدة، بل کنّا عارفین بأصوات مجرّدة، فثبت أنّ معرفة الأسماء لا تحصل إلا بمعرفة المسمّى، و حصول صورته في الضّمير، فإذا المراد بقوله : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] ، الأنواع الثلاثة من الکلام وصور المسمّيات في ذواتها، وقوله : ما تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْماءً سَمَّيْتُمُوها [يوسف/ 40] ، فمعناه أنّ الأسماء التي تذکرونها ليس لها مسمّيات، وإنما هي أسماء علی غير مسمّى إذ کان حقیقة ما يعتقدون في الأصنام بحسب تلک الأسماء غير موجود فيها، وقوله : وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ [ الرعد/ 33] ، فلیس المراد أن يذکروا أساميها نحو اللّات والعزّى، وإنما المعنی إظهار تحقیق ما تدعونه إلها، وأنه هل يوجد معاني تلک الأسماء فيها، ولهذا قال بعده : أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِما لا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ [ الرعد/ 33] ، وقوله : تَبارَكَ اسْمُ رَبِّكَ [ الرحمن/ 78] ، أي : البرکة والنّعمة الفائضة في صفاته إذا اعتبرت، وذلک نحو : الكريم والعلیم والباري، والرّحمن الرّحيم، وقال : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى [ الأعلی/ 1] ، وَلِلَّهِ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الأعراف/ 180] ، وقوله : اسْمُهُ يَحْيى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا [ مریم/ 7] ، لَيُسَمُّونَ الْمَلائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثى [ النجم/ 27] ، أي : يقولون للملائكة بنات الله، وقوله : هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] أي : نظیرا له يستحقّ اسمه، وموصوفا يستحقّ صفته علی التّحقیق، ولیس المعنی هل تجد من يتسمّى باسمه إذ کان کثير من أسمائه قد يطلق علی غيره، لکن ليس معناه إذا استعمل فيه كما کان معناه إذا استعمل في غيره . الاسم کسی چیز کی علامت جس سے اسے پہچانا جائے ۔ یہ اصل میں سمو ہے کیونکہ اس کی جمع اسماء اور تصغیر سمی آتی ہے ۔ اور اسم کو اسم اس لئے کہتے ہیں کہ اس سے مسمیٰ کا ذکر بلند ہوتا ہے اور اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها [هود/ 41] اور ( نوح (علیہ السلام) نے ) کہا کہ خدا کا نام لے کر ( کہ اس کے ہاتھ میں ) اس کا چلنا ( ہے ) سوار ہوجاؤ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ [ النمل/ 30] وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے ) کہ شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے ۔ اور آیت : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ [ البقرة/ 31] اور اس آدم کو سب ( چیزوں کے ) نام سکھائے ۔ میں اسماء سے یہاں الفاظ و معانی دونوں مراد ہیں ۔ خواہ مفردہوں خواہ مرکب اس اجمال کی تفصیل یہ ہے ۔ کہ لفظ اسم دو طرح استعمال ہوتا ہے ۔ ایک اصطلاحی معنی میں اور اس صورت میں ہمیشہ مخبر عنہ بنتا ہے ۔ جیسے رجل وفرس دوم وضع اول کے لحاظ سے اس اعتبار سے ( کلمہ کی ) انواع ثلاثہ یعنی مخبر عنہ ( اسم ) خبر اور رابطہ ( حرف ) تینوں پر اس معنی مراد ہیں ۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) نے جس طرح اسماء کی تعلیم حاصل کی تھی ۔ اسی طرح افعال وحروف کا علم بھی نہیں حاصل ہوگیا تھا اور یہ ظاہر ہے کہ جب تک کسی چیز کی ذات کا علم حاصل نہ ہو محض نام کے جاننے سے انسان اسے دیکھ کر پہچان نہیں سکتا ہے مثلا اگر ہم ہندی یا رومی زبان میں چند چیزوں کے نام حفظ کرلیں تو ان چیزوں کے اسماء کے جاننے سے ہم ان کے مسمیات کو نہیں پہچان سکیں گے ۔ بلکہ ہمار علم انہیں چند اصوات تک محدود رہے گا اس سے ثابت ہوا کہ اسماء کی معرفت مسمیات کی معرفت کو مستلزم نہیں ہے اور نہ ہی محض اسم سے مسمی ٰ کی صورت ذہن میں حاصل ہوسکتی ہے ۔ لہذا آیت : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] میں اسماء سے کلام کی انواع ثلاثہ اور صورۃ مسمیات بمع ان کی ذوات کے مراد ہیں اور آیت ما تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْماءً سَمَّيْتُمُوها [يوسف/ 40] جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے رکھ لئے ہیں ۔ کے معنی یہ ہیں ک جن اسماء کی تم پرستش کرتے ہو ان کے مسمیات نہیں ہیں ۔ کیونکہ و اصنام ان اوصاف سے عاری تھے ۔ جن کا کہ وہ ان اسماء کے اعتبار سے ان کے متعلق اعتقاد رکھتے تھے ۔ اور آیت : وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ [ الرعد/ 33] اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کر رکھے ہیں ۔ ان سے کہو کہ ( ذرا ) انکے نام تولو ۔ میں سموھم سے یہ مراد نہیں ہے کہ لات ، عزی وغیرہ ان کے نام بیان کرو بلکہ آیت کے معنی پر ہیں کہ جن کو تم الاۃ ( معبود ) کہتے ہو ان کے متعلق تحقیق کرکے یہ تو بتاؤ کہ آیا ان میں ان اسماء کے معانی بھی پائے جاتے ہیں ۔ جن کے ساتھ تم انہیں موسوم کرتے ہو ( یعنی نہیں ) اسی لئے اس کے بعد فرمایا أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِما لا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ [ الرعد/ 33] ( کہ ) کیا تم اسے ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کو وہ زمین میں ( کہیں بھی ) معلوم نہیں کرتا یا ( محض ) ظاہری ( باطل اور جھوٹی ) بات کی ( تقلید کرتے ہو ۔ ) اور آیت : تَبارَكَ اسْمُ رَبِّكَ [ الرحمن/ 78] تمہارے پروردگار ۔۔ کا نام برا بابر کت ہے ۔ میں اسم رب کے بابرکت ہونے کے معنی یہ ہیں ک اس کی صفات ۔ الکریم ۔ العلیم ۔ الباری ۔ الرحمن الرحیم کے ذکر میں برکت اور نعمت پائی جاتی ہے جیسا ک دوسری جگہ فرمایا : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى [ الأعلی/ 1] ( اے پیغمبر ) اپنے پروردگار جلیل الشان کے نام کی تسبیح کرو ۔ وَلِلَّهِ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الأعراف/ 180] اور خدا کے نام سب اچھے ہی اچھے ہیں ۔ اور آیت : اسْمُهُ يَحْيى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا[ مریم/ 7] اسمہ یحیٰ لم نجعل لہ من قبل سمیا َ (719) جس کا نام یحیٰ ہے ۔ اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخص پیدا نہیں کیا ۔ میں سمیا کے معنی ہم نام ، ، کے ہیں اور آیت :۔ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا[ مریم/ 65] بھلا تم اس کا کوئی ہم نام جانتے ہو ۔ میں سمیا کے معنی نظیر کے ہیں یعنی کیا اس کی کوئی نظیر ہے جو اس نام کی مستحق ہوا اور حقیقتا اللہ کی صفات کے ساتھ متصف ہو اور اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ کیا تم کسی بھی پاتے ہو جو اس کے نام سے موسوم ہوکیون کہ ایسے تو اللہ تعالیٰ کے بہت سے اسماء ہیں جن کا غیر اللہ پر بھی اطلاق ہوسکتا ہے یا ہوتا ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ ان سے معافی بھی وہی مراد ہوں جو اللہ تعالیٰ پر اطلاق کے وقت ہوتے ہیں ۔ اور آیت : لَيُسَمُّونَ الْمَلائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثى[ النجم/ 27] اور وہ فرشتوں کو ( خدا کی ) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ میں لڑکیوں کے نام سے موسوم کرنے کے معنی یہ ہیں ۔ کہ وہ فرشتوں کو بنات اللہ کہتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧) چناچہ اللہ کی طرف سے جبریل (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا اے زکریا (علیہ السلام) ہم تمہیں ایک فرزند کی بشارت دیتے ہیں جن کا نام یحییٰ ہے کہ ان کی وجہ سے ان کی والدہ کا رحم زندہ ہوا اور ہم نے زکریا (علیہ السلام) کو یحییٰ (علیہ السلام) سے پہلے کوئی اولاد نہیں دی تھی یا کہ یحییٰ (علیہ السلام) سے پہلے یحییٰ (علیہ السلام) نام کا اور کوئی نہیں تھا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧ (یٰزَکَرِیَّآ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمِ نِ اسْمُہٗ یَحْیٰیلا لَمْ نَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا) اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس کا کوئی نظیر نہیں بنایا ‘ یعنی اس جیسی صفات کسی میں پیدا نہیں کیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

5. In Luke the words are: There is none of thy kindred that is called by this name. (1: 61).

سورة مَرْیَم حاشیہ نمبر :5 لوقا کی انجیل میں الفاظ یہ ہیں :تیرے کنبے میں کسی کا یہ نام نہیں ( 61:1 )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٧۔ ١١۔ اتنی عبارت یہاں گویا اور ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی اور حکم ہوا کہ ہم تم کو لڑکے ہونے کی خوشی سناتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے اب آگے حضرت زکریا (علیہ السلام) کے تعجب کا بیان ہے کہ جب ان کی دعا قبول ہوئی اور لڑکے ہونے کی ان کو خبر سنائی گئی تو اس سے وہ بہت خوش ہوئے اور لڑکے کے ہونے کی کیفیت کا سوال کیا یہ تعجب زکریا ( علیہ السلام) کو اس سبب سے ہوا کہ بیوی بانجھ اور بوڑھی تھی اور آپ بھی اس قدر بوڑھے ہوگئے کہ ہاتھ پیر اکڑ گئے تھے کیونکہ اب تو بوڑھے باپ اور بانجھ ماں موجود ہیں اس صاحب قدرت نے تو انسان کو ایسی حالت میں پیدا کیا کہ جب انسان کچھ بھی نہیں تھا ترمذی ابوداؤد اور صحیح ابن حبان کے حوالہ سے ابو موسیٰ (رض) اشعری کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے ١ ؎ کہ آدم ( علیہ السلام) کے پتلے کی مٹی میں اللہ نے تمام اولاد آدم کے پتلوں کی مٹی جگہ جگہ سے لی ہے جس سے سلسلہ بسلسلہ اولاد آدم (علیہ السلام) کی پیدائش اس طرح ہوچکی آتی ہے کہ کوئی گورا ہے اور کوئی کالا اس حدیث سے (وقد خلقتک من قبل ولم تک شیئا) کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس صاحب قدرت نے انسان کی پیدائش کی ابتدا ایسی حالت سے کی ہے کہ جب انسان کچھ بھی نہیں تھا اس صاحب قدرت کے آگے بوڑھے باپ اور بانجھ ماں سے لڑکے کا پیدا کردینا کچھ مشکل نہیں ہے اور عرب لوگ العود العاقی سوکھی لکڑی کو کہتے ہیں اس لیے (وقد بلغت من الکبر عتیا) کا مطلب یہ ہے کہ بڑھاپے کے سبب سے سارا بدن سوجھ کر بالکل ڈھانچ ہوگیا ہڈی سے چمڑا الگ ہوگیا۔ شاہ صاحب نے اکڑنے کے لفظ سے اسی مطلب کو ادا کیا ہے ان آیتوں میں یحییٰ (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی خوش خبری کا جو ذکر ہے اس سے زکریا ( علیہ السلام) کو یہ تو معلوم ہوگیا تھا کہ ان کی دعا قبول ہوگئی مگر یہ نہیں معلوم ہوا تھا کہ اس قبولیت کا ظہور کب تک ہوگا اس لیے زکریا (علیہ السلام) نے قبولیت کے ظہور کی نشانی اللہ تعالیٰ سے پوچھی اور اللہ تعالیٰ نے جو نشانی اس کی بتلائی اسی کا ذکر آگے کی دونوں آیتوں میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اپنی بی بی کے حاملہ ہونے کے وقت اے زکریا باوجود تندرست ہونے کے تین راتوں تک تم سوائے تسبیح و تہلیل کے کس سے اور کچھ بات نہ کرسکو گے وقت مقررہ پر زکریا ( علیہ السلام) اپنے حجرہ سے جو نکلے تو قوم کے لوگوں سے بات نہ کرسکے اس لیے انہوں نے صبح وشام یاد الٰہی کا حکم قوم کے لوگوں کو اشارہ سے سمجھایا اب مدت حمل کے بعد یحییٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے جن کا ذکر آگے آتا ہے۔ ١ ؎ دیکھیے ج ٣ ص ٢٩١

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(19:7) سمیا۔ ہم نام شریکا لہ فی الاسم جو نام میں اس کا شریک ہو آیت کے شروع میں فاجاب اللہ دعاء ہ وقالمقدر ہے

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 اس میں حضرت یحییٰ کی فضیلت دو پہلوئوں سے بیان کی گی ہے۔ ایک یہ کہ ان کا نام اللہ تعالیٰ نے خود رکھا اور دوسرے یہ کہ ان کا نام ایسا رکھا جو ان سے پہلے کسی نبی کا نہیں تھا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ یعنی جس علم و عمل کی تم دعا کرتے ہو وہ تو اس فرزند کو ضرور ہی عطا کریں گے، اور مزید برآں کچھ اوصاف خاصہ بھی عنایت کئے جاویں گے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی اور انھیں فی الفور یحییٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری دی گئی، حضرت زکریا کا نشانی طلب کرنا۔ سورۃ آل عمران میں ذکر ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کے ذریعہ یحییٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری سنائی گئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اولاد دینے والا نہیں اور زکریا (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ملائکہ نے یحییٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری دی تھی۔ اس لیے یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے زکریا (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری دی اور اس کا نام یحییٰ رکھا۔ اس سے پہلے اس نام کا کوئی شخص نہیں ہوا۔ جب زکریا (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری ملی تو عرض کرنے لگے میرے رب ! میرے ہاں کس طرح بیٹا ہوگا جبکہ میں اور میری بیوی صحت کے اعتبار سے اولاد جنم دینے کے قابل نہیں ہیں۔ میں بڑھاپے کی آخری حد کو پہنچ چکا ہوں۔ یہاں تک کہ میری ہڈیاں کھوکھلی ہوچکی ہیں اور میرے بال سفیدی سے چمک رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب ارشاد فرمایا کہ اے میرے بندے زکریا ! کیا تو نے اپنے آپ پر غور نہیں کیا کہ میں نے تجھے پیدا کیا ہے جبکہ تیرا ذکر اور وجود ہی نہیں تھا۔ بیشک تو اور تیری بیوی بچہ جنم دینے کے قابل نہیں لیکن میرے لیے تجھے بچہ عنایت کرنا کوئی مشکل نہیں۔ کیونکہ میں خالق کل اور مسبب الاسباب ہوں۔ مخلوق اور اسباب میرے محتاج ہیں میں مخلوق اور اسباب کا محتاج نہیں ہوں۔ بیٹے کی خوشخبری دیتے۔ ہوئے ناصرف اللہ تعالیٰ نے اس کا نام یحییٰ بتلایا بلکہ یہ بھی وضاحت فرمائی کہ اس سے پہلے آج تک یہ کسی کا نام نہیں رکھا گیا۔ سَمِیًّا کا لفظ اوصاف کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) کو بیٹے کا نام بتلانے کے ساتھ اس کے بڑے بڑے اوصاف سے بھی آگاہ کردیا گیا۔ یاد رہے کہ عربی میں غلام کے چار مشہور معانی ہیں۔ ١۔ بیٹا۔ ٢۔ نوعمر لڑکا۔ ٣۔ زر خرید آدمی غلام۔ ٤۔ تابع دار انبیاء کرام (علیہ السلام) اللہ کے بندے اور انسان ہوتے ہیں۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) بھی اللہ کے نبی ہونے کے ساتھ ایک انسان ہی تھے۔ جو کام انسان کی سوچ سے ماورا اور اس کے خیال میں ناممکن ہو۔ اس کے بارے میں اسے خوشخبری دی جائے تو وہ اس کے ظہور کے قرائن اور شواہد کا طلب گار ہوتا ہے تاکہ اس کی طبیعت اسے قبول کرنے کے لیے آمادہ اور دل کی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ اس پر یقین آجائے۔ اس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حوالے سے بھی موجود ہے۔ جب انھوں نے عرض کی کہ میرے رب ! آپ کس طرح مردوں کو زندہ کریں گے ؟ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اے ابراہیم ! کیا تو بھی ایمان نہیں رکھتا ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواباً عرض کیا ” کیوں نہیں “ میرا پوری طرح ایمان ہے کہ آپ مردوں کو زندہ کرسکتے ہیں اور کریں گے لیکن میں نے اپنے دل کے اطمینان کے لیے یہ عرض کی ہے۔ جس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو چار مختلف پرندے اپنے ساتھ مانوس کرنے کے بعد انھیں ذبح کرکے ان کا گوشت پہاڑ کی مختلف جگہوں پر رکھنے کا حکم ہوا۔ جس کی تفصیل دیکھنے کے لیے سورة البقرۃ آیت ٢٦٠ کی تلاوت کیجیے۔ ایسی ہی کیفیت میں حضرت زکریا (علیہ السلام) نے بیٹے کی ولادت کی نشانی عطا کرنے کی درخواست کی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا کہ بچے کی ولادت کی نشانی یہ ہے کہ آپ تین راتیں تندرست ہونے کے باوجود بات چیت نہیں کرسکیں گے لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ کی صبح و شام خوب حمد وثناء کریں۔ سورة آل عمران میں تین ایام کا ذکر ہے کہ آپ تین دن رات تک اشارے کے سوا بات نہیں کر پائیں گے۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ جب زکریا (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری دی گئی تو اسی رات اللہ تعالیٰ نے ان کی بیوی کو صاحب امید کردیا قرآن مجید کے الفاظ سے یہ مفہوم اخذ کیا جاسکتا ہے کہ جو نہی زکریا (علیہ السلام) کی اہلیہ صاحب امید ہوئیں تو اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا کی تین دن کے لیے زبان بند کردی تاکہ زکریا (علیہ السلام) بیٹے کی خوشخبری پاکر تین دن تک معمولات سے ہٹ کر اپنے رب کی غیر معمولی حمد وثناء اور اس کا شکر ادا کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ کے ذکر و فکر کی فضیلت : (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِيِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَال اللّٰہُ تَعَالٰی أَنَا مَعَ عَبْدِيْ حَیْثُمَا ذَکَرَنِيْ وَتَحَرَّکَتْ بِيْ شَفَتَاہُ ) [ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ لاتحرک بہ لسانک الخ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں جب اس کے ہونٹ میرے ذکر میں حرکت کریں اور وہ جہاں کہیں بھی میرا ذکر کرے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کسی سبب کے بغیر سب کچھ کرسکتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ سے اس کی قدرت کی نشانی طلب کرنا جائز ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ اولاد اور کوئی نعمت عطا فرمائے تو اس کی حمد وشکر کرنا چاہیے۔ ٤۔ انسان کو صرف اللہ تعالیٰ سے ہی مانگنا چاہیے اس کے علاوہ کوئی کچھ نہیں دے سکتا۔ تفسیر بالقرآن یحییٰ ( علیہ السلام) کے اوصاف حمیدہ : ١۔ ہم نے اسے لڑکپن میں دانائی عطا فرمائی تھی اور اپنی جناب سے پاکیزگی اور شفقت عطا فرمائی تھی وہ پرہیزگار تھے اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے، سرکش اور نافرمان نہ تھے۔ (مریم : ١٢ تا ١٤) ٢۔ یقیناً اللہ تجھے یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے جو عیسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کریں گے، سردار ہوں گے اور عورتوں سے رغبت نہ رکھنے والے، نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔ (آل عمران : ٣٩) ٣۔ زکریا، یحییٰ ، عیسیٰ اور الیاس سب کے سب نیکوکاروں میں سے تھے۔ (الانعام : ٨٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قبولیت دعا کے اس لمحے کی تصویر کشی نہایت ہی مہربانی ، محبت اور رضا کی فضا میں ہے۔ عالم بالا سے رب ذوالجلال خود اپنے بندے کو پکارتے ہیں یزکریا (اے زکریا) اور پکارتے ہی اسے خوشخبری دے دی جاتی ہے۔ انا نبشرک بغلم (٩١ : ٨) ” ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔ “ اب اللہ ان پر مہربانی کی انتہا کردیتے ہیں کہ لڑکے کا نام بھی عالم بالا سے تجویز ہوتا ہے۔ اسمہ یحی (٩١ : ٨) ” جس کا نام یحییٰ ہوگا۔ ‘ اور پھر یہ کہ اس سے قبل یہ نام کسی فرد بشر کا نہیں رکھا گیا۔ لم نجعل لہ من قبل سمیاً (٩١ : ٨) ” اس نام کا کوئی آدمی اس سے پہلے پیدا نہیں کیا۔ یہ اللہ کے کرم کا فیض اور بارش ہے ، اسے اللہ اپنے اس بندے پر نچھاور کر رہا ہے جس نے اسے نہایت ہی عاجزی سے پکارا۔ تنہئای میں پکارا ، اپنا سینہ کھول کر رب کے سامنے رکھ دیا کہ اسے ڈر گئیا ہے۔ اپنا مسئلہ اللہ کے سامنے رکھا۔ اس دعا پر ان کو جس چیز نے مجبور کیا تھا وہ یہ تھی کہ انہیں اپنے عزیزوں اور ساتھیوں سے خطرہ لاحق تھا کہ وہ اسلامی نظریہ حیات کی امانت اور مالی انتظام اچھی طرح نہ کرسکیں گے۔ اللہ نے ان پر فضل کیا اور ان کی خواہش پوری کردی اور ان کو راضی کردیا۔ ان کی دعا چونکہ فوری طور پر منظور ہوگئی ، ان کی خواہش اولاد کا جوش فوراً ٹھنڈا ہوگیا ، امید کی حرارت یقین میں بدل گئی۔ وہ اچانک ایک واقعی صورتحال سے دوچار ہوگئے کہ عملاً اب یہ کام کس طرح ہوگا۔ وہ تو سوکھا بوڑھا ہے ، ہڈیاں ڈھیلی پڑگئی ہیں ، سر سفید ہے۔ پھر بیوی بانجھ ہے ، جوانی میں اس سے کوئی اولاد نہیں ہوئی ، اب کس طرح وہ بچہ دے گی۔ اس لئے مزید طلب اطمینان قدرتی ہے۔ لہٰذا وہ معلوم کرتے ہیں کہ اس بچے کا ذریعہ کون اور کیا ہوگا ؟

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

بیٹے کے لیے زکریا (علیہ السلام) کی دعا اور یحییٰ (علیہ السلام) کی ولادت حضرت زکریا (علیہ السلام) انبیاء بنی اسرائیل میں سے تھے جب ان کی عمر خوب زیادہ ہوگئی بال اچھی طرح سفید ہوگئے تو یہ خیال ہوا کہ میرے دنیا سے چلے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی کتاب توریت شریف اور دینی علوم و اعمال کو کون سنبھالے گا اور ان کی تبلیغ و ترویج میں کون لگے گا خاندان میں جو لوگ تھے ان سے اندیشہ تھا کہ دین کو ضائع کردیں، چونکہ اب تک ان کے ہاں کوئی ایسا لڑکا نہ تھا جو آپ کے علوم اور حکمت اور اعمال دینیہ کا وارث ہوتا لہٰذا انھوں نے اللہ جل شانہ کی بارگاہ میں خفیہ طور سے دعا کی (جیسا کہ دعا کا ادب ہے) کہ اے میرے رب میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں سر میں خوب سفیدی آگئی (اندازہ ہے کہ اب میرا چل چلاؤ ہے) اگر میں اسی حالت میں دنیا سے چلا گیا کہ کوئی میرا دینی وارث نہیں ہے اور ساتھ ہی مجھے اپنے موالی (یعنی چچا کے بیٹوں) سے خوف ہے کہ دین کو محفوظ نہ رکھیں گے تو دینی علوم و اعمال کا بقا کس طرح رہے گا ؟ لہٰذا آپ مجھے ایک بیٹا عنایت فرمایئے، جو میرا ولی ہو وہ میرا بھی وارث ہو اور یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کا بھی وارث ہو اور آپ اس سے راضی ہوں۔ میرے بڑھاپے کا تو یہ حال ہے جو اوپر بیان کیا اور میری بیوی بانجھ ہے تاہم مجھے آپ بیٹا عطا فرما ہی دیں اور ساتھ ہی یوں بھی عرض کیا کہ میں کبھی دعا کر کے محروم نہیں رہا آپ نے ہمیشہ میری دعا قبول فرمائی ہے یہ دعا بھی قبول فرمایئے۔ اپنی میراث سے میراث نبوت اور میراث علم مراد ہے اور آل یعقوب کی میراث سے دینی سیادت مراد ہے حضرت زکریا (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے نبی تو تھے ہی اپنے زمانہ کے احبار کے سردار بھی تھے مطلب یہ تھا کہ یہ علمی اور عملی سرداری جو ہمارے خاندان میں جاری ہے یہ باقی رہے۔ قال البغوی فی معالم التنزیل والمعنی انہ خاف تضییع بنی عمہ دین اللہ وتغییر احکامہ علی ما کان شاھدہ من بنی اسرائیل من تبدیل الدین و قتل الانبیاء فسال ربہ ولدا صالحا یا منہ علی امتہ و یرث نبوتہ و عملہ لئلا یضیع الدین اللہ تعالیٰ شانہ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور بشارت دے دی کہ ہم تمہیں ایسا لڑکا دیں گے جس کا نام یحییٰ ہوگا اور اس سے پہلے ہم نے اس کا کوئی ہم نام پیدا نہیں کیا۔ (لَمْ نَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا) کا ترجمہ بعض مفسرین نے شبیھا و مثیلا کیا ہے کہ اس سے پہلے ہم نے اس جیسا لڑکا پیدا نہیں کیا اور بعض حضرات نے فرمایا ہے اس سے سید اور حصور ہونا مراد ہے جس کا سورة آل عمران میں ذکر ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

7 جواب دیا گیا اے زکریا ہم تجھ کو ایک ایسے لڑکے کی خوشخبری اور بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا اس سے پہلے ہم نے کسی کو اس ہمنام نہیں بنایا اور ہمنام نہیں پیدا کیا۔ یعنی دعا قبول ہونے کی بشارت دی گئی اور اس کے پیدا ہونے سے پہلے کوئی اس کا ہمنام یا ہم صفت نہیں کیا یا خاص اوصاف میں وہ یگانہ ہوگا اس سے پہلے کوئی اور ان اوصاف خاصہ سے متصف نہ ہوا ہوگا۔ حضرت یحییٰ کی ولادت سے قبل ان کا نام بھی تجویز کردیا گیا۔