The acceptance of His Supplication
This statement implies what is not mentioned, that his supplication was answered.
It was said to him,
يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَى
...
(Allah said:) "O Zakariyya! Verily, We give you the glad tidings of a son, whose name will be Yahya..."
Similarly Allah, the Exalted, said;
هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ قَالَ رَبِّ هَبْ لِى مِن لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَأءِ
فَنَادَتْهُ الْمَلَـيِكَةُ وَهُوَ قَايِمٌ يُصَلِّى فِى الْمِحْرَابِ أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَـى مُصَدِّقاً بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِّنَ الصَّـلِحِينَ
At that time Zakariyya invoked his Lord, saying: "O my Lord! Grant me from You, a good offspring. You are indeed the All-Hearer of invocation."
Then the angels called him, while he was standing in prayer in the Mihrab, (saying): "Allah gives you glad tidings of Yahya, confirming (believing in) the word from Allah, noble, keeping away from sexual relations with women, a Prophet, from among the righteous." (3:38-39)
Allah said,
...
لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِن قَبْلُ سَمِيًّا
We have given that name to none before (him).
Qatadah, Ibn Jurayj and Ibn Zayd said,
"This means that no one had this name before him."
Ibn Jarir preferred this interpretation, may Allah have mercy upon him.
دعا قبول ہوئی ۔
حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا مقبول ہوتی ہے اور فرمایا جاتا ہے کہ آپ ایک بچے کی خوشخبری سن لیں جس کا نام یحییٰ ہے جیسے اور آیت میں ہے ( ھُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهٗ 38 ) 3-آل عمران:38 ) ، میں حضرت زکریا علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اپنے پاس سے بہتری اولاد عطا فرما تو دعاؤں کا سننے والا ہے ۔ فرشتوں نے انہیں آواز دی اور وہ اس وقت کی نماز کی جگہ میں کھڑے تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے ایک کلمے کی بشارت دیتا ہے جو سردار ہو گا اور پاکباز ہوگا اور نبی ہو گا اور پورے نیک کار اعلیٰ درجے کے بھلے لوگوں میں سے ہوگا ۔ یہاں فرمایا کہ ان سے پہلے اس نام کا کوئی اور انسان نہیں ہوا ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مشابہ کوئی اور نہ ہوگا یہی معنی سمیا کے آیت ( هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِيًّا 65ۧ ) 19-مريم:65 ) میں ہے ۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اس سے پہلے کسی بانجھ عورت سے ایسی اولاد نہیں ہوئی ۔ حضرت زکریا کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوتی تھی ۔ آپ کی بیوی صاحبہ بھی شروع عمر سے بے اولاد تھیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سارہ علیہما السلام نے بھی بچے کے ہونے کی بشارت سن کر بیحد تعجب کیا تھا لیکن ان کے تعجب کی وجہ ان کا بے اولاد ہونا اور بانجھ ہونا نہ تھی ۔ بلکہ بہت زیادہ بڑھاپے میں اولاد کا ہونا یہ تعجب کی وجہ تھی اور حضرت زکریا علیہ السلام کے ہاں تو اس پورے بڑھاپے تک کوئی اولاد ہوئی نہ تھی اس لئے حضرت خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ مجھے اس انتہائی بڑھاپے میں تم اولاد کی خبر کیسے دے رہے ہو ؟ ورنہ اس سے تیرہ سال پہلے آپ کے ہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام ہوئے تھے آپ کی بیوی صاحبہ نے بھی خوشخبری کو سن کر تعجب سے کہا تھا کہ کیا اس بڑھے ہوئے بڑھاپے میں میرے ہاں اولاد ہوگی؟ ساتھ ہی میرے میاں بھی غایت درجے کے بوڑھے ہیں ۔ یہ تو سخت تر تعجب خیز چیز ہے ۔ یہ سن کر فرشتوں نے کہا کہ کیا تمہیں امر الہٰی سے تعجب ہے ؟ اے ابراہیم کے گھرانے والو تم پر اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہیں اللہ تعریفوں اور بزرگیوں والا ہے ۔