Surat Marium

Surah: 19

Verse: 74

سورة مريم

وَ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا قَبۡلَہُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ ہُمۡ اَحۡسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءۡیًا ﴿۷۴﴾

And how many a generation have We destroyed before them who were better in possessions and [outward] appearance?

ہم تو ان سے پہلے بہت سی جماعتوں کو غارت کر چکے ہیں جو سازو سامان اور نام و نمود میں ان سے بڑھ چڑھ کر تھیں

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

This is why Allah refuted their doubts: وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ ... And how many a generations have We destroyed before them! This means, "How many nations and generations did We destroy of those who denied (this message) due to their disbelief." ... هُمْ أَحْسَنُ أَثَاثًا وَرِيْيًا who were better in wealth, goods and outward appearance. This means that they were better than these present people in wealth, possessions, looks and appearance. Al-A`mash reported from Abu Zibyan, who reported from Ibn Abbas that he said concerning the Ayah, خَيْرٌ مَّقَامًا وَأَحْسَنُ نَدِيًّا (best dwellings and finest Nadiyyan), "Position (Maqam) means home, Nadi means place of gathering, wealth refers to material possessions and outward appearance is how they look physically." Al-Awfi said that Ibn Abbas said, "Position (Maqam) means dwelling, Nadi means place of gathering and the blessing and happiness that they were living in. This is as Allah says about the people of Fir`awn when He destroyed them and related the story of their situation in the Qur'an, كَمْ تَرَكُواْ مِن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ How many gardens and springs that they (Fir`awn's people) left behind, and green crops and honored places (Maqam). (44:25-26) Therefore, position (Maqam) refers to their dwellings and splendid bounties, and Nadi is the places of gathering and meeting where they used to congregate. Allah said while relating the story to His Messenger of what happened with the people of Lut, وَتَأْتُونَ فِى نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ And practice Al-Munkar (evil deeds) in your meeting places (Nadiyakum). (29:29) The Arabs call a place of gathering a Nadi."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

74۔ 1 اللہ تعالیٰ نے فرمایا، دنیا کی یہ چیزیں ایسی نہیں ہیں کہ ان پر فخر اور ناز کیا جائے، یا ان کو دیکھ کر حق وباطل کا فیصلہ کیا جائے۔ یہ چیزیں تو تم سے پہلی امتوں کے پاس تھیں، لیکن تکذیب حق کی پاداش میں انھیں ہلاک کردیا گیا، دنیا کا یہ مال و اسباب انھیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٦] مال ودولت کے پیمانوں سے دوسروں کی قدرو قیمت متعین کرنا۔ مال ودولت کی فراوانی اللہ کی رضا کی دلیل نہیں :۔ یوم آخرت کا انکار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے کسی مقام پر تو کافر قرار دیا ہے اور کسی پر مشرک، مشرکین مکہ بھی آخرت کے منکر تھے۔ اس قسم کے منکروں اور دنیا دار لوگوں کا عمومی نظریہ یہی رہا ہے کہ اس دنیا میں مال و دولت کا مہیا ہونا اللہ تعالیٰ کی مہربانی کی دلیل ہے اور اسی مال و دولت اور جاہ کے پیمانوں سے لوگوں کی قیمت کا اندازہ لگاتے ہیں۔ اپنا بھی اور دوسروں کا بھی۔ مشرکین مکہ کا بھی یہی انداز فکر تھا۔ انھیں جب ان کے انجام سے مطلع کیا جاتا تو ان کا یہ جواب ہوتا تھا کہ ہمارے مکانات، فرنیچر، طرز بودو باش اور ہماری مجالس تم لوگوں سے بہتر نہیں ؟ اور اگر ہم باطل پر ہوتے جیسا کہ تم ہمیں کہتے ہو تو ہم تم سے ہر لحاظ سے بہتر کیسے ہوسکتے تھے ؟ ان لوگوں کے اس نظریہ کو رد کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ معیار ہی غلط ہے۔ اس لئے کہ جو قومیں تم سے پہلے ہم نے تباہ کی ہیں وہ تم سے شان و شوکت اور سازوسامان غرض ہر لحاظ سے بہتر تھیں اور ان پر عذاب الٰہی کا نزول ہی اس بات کی دلیل ہے کہ سازو سامان کی بہتری کے باوجود اللہ تعالیٰ ان سے ناراض تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ ۔۔ : ” اَثَاثًا “ گھر کا سازو سامان جس میں اونٹ، گھوڑے، بھیڑ بکریاں اور غلام وغیرہ بھی شامل ہیں۔ ” رِءْیاً “ ” رَأَیَ یَرَی “ (ف) کا مصدر ہے، بمعنی مفعول یعنی دیکھنے کی چیزیں۔ مصدری معنی بھی ہوسکتا ہے، جیسا کہ ترجمہ میں کیا گیا ہے۔ یعنی جب نافرمانی کے بعد ان سے کہیں بڑھ کر سازو سامان اور شان و شوکت والوں کو ان کی دنیوی خوش حالی ہمارے عذاب سے نہ بچا سکی تو یہ بےچارے کس شمار و قطار میں ہیں ؟ حقیقت میں دنیا کے ٹھاٹھ باٹ اور جاہ و جلال پر پھولنا اور نادار مسلمانوں کو حقیر جاننا پرلے درجے کی حماقت ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَكَمْ اَہْلَكْنَا قَبْلَہُمْ مِّنْ قَرْنٍ ہُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّرِءْيًا۝ ٧٤ هلك الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه : افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] - وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله : وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام . والثالث : الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ مخبرا عن الکفّار : وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] . ( ھ ل ک ) الھلاک یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ایک یہ کہ کسی چیز کا اپنے پاس سے جاتے رہنا خواہ وہ دوسرے کے پاس موجود ہو جیسے فرمایا : هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] ہائے میری سلطنت خاک میں مل گئی ۔ دوسرے یہ کہ کسی چیز میں خرابی اور تغیر پیدا ہوجانا جیسا کہ طعام ( کھانا ) کے خراب ہونے پر ھلک الطعام بولا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] اور کھیتی کو بر باد اور انسانوں اور حیوانوں کی نسل کو نابود کردی ۔ موت کے معنی میں جیسے فرمایا : ۔ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] اگر کوئی ایسا مرد جائے ۔ قرن والقَرْنُ : القوم المُقْتَرِنُونَ في زمن واحد، وجمعه قُرُونٌ. قال تعالی: وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ مِنْ قَبْلِكُمْ [يونس/ 13] ، ( ق ر ن ) قرن ایک زمانہ کے لوگ یا امت کو قرن کہا جاتا ہے اس کی جمع قرون ہے قرآن میں ہے : ۔ وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ مِنْ قَبْلِكُمْ [يونس/ 13] اور تم سے پہلے ہم کئی امتوں کو ۔ ہلاک کرچکے ہیں أث الأثاث : متاع البیت الکثير، وأصله من : أثّ أي : كثر وتکاثف . وقیل للمال کلّه إذا کثر : أثاث، ولا واحد له، کالمتاع، وجمعه أثاث ونساء أثایث : كثيرات للحمل، كأنّ عليهن أثاثاً ، وتأثّث فلان : أصاب أثاثاً. ( ا ث ث ) الاثاث ۔ و افررخت خانہ اصل میں یہ اث ( ن ) سے مشتق ہے کس کے معنی زیادہ اور گنجان ہونا کے ہیں ۔ پھر یہ لفظ ( اثاث ) ہر قسم کے فراواں مال پر بولاجانے لگا ہے اور متاع کی طرح اس کا بھی واحد نہیں آتا اس کی جمع اثاث ( بکسرالمزہ ) ہے ۔ نساء اثائث ۔ پر گوشت عورتیں گویا گوشت ان پر و افر سامان کی طرح چڑھا ہوا ہے تاثت فلان ۔ فلاں بہت زیادہ مالدار ہوگیا قرآن میں ہے :۔ { هُمْ أَحْسَنُ أَثَاثًا وَرِئْيًا } [ مریم : 74] و سازو سامان میں زیادہ تھے اور خوش منظر بھی { أَثَاثًا وَمَتَاعًا } [ النحل : 80] یعنی سازو سامان ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٤) اور ہم نے ان قریش سے پہلے ایسی بہت سی جماعتیں ہلاک کی ہیں جو مال و اولاد اور مجالس ومحافل میں ان سے کہیں زیادہ اچھے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٤ (وَکَمْ اَہْلَکْنَا قَبْلَہُمْ مِّنْ قَرْنٍ ہُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّرِءْیًا ) ” قریش مکہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ قوم ہود ( علیہ السلام) ‘ قوم صالح ( علیہ السلام) اور قوم شعیب ( علیہ السلام) جو اپنے اپنے رسول کی دعوت کو ٹھکرا کر ہلاکت سے دو چار ہوئیں وہ دنیوی شان و شوکت اور مال و اسباب کے اعتبار سے ان سے کہیں بڑھ کر تھیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(19:74) کم من قرب۔ کتنی ہی قومیں۔ یعنی بہت سی قومیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ۔ کم من فئۃ قلیلۃ (2:249) کتنے ہی چھوٹے گروہ غالب آئے کثیر التعداد گروہوں پر یا وکم قصمنا من قریۃ کانت ظالمۃ (21:11) اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو ستمگار تھیں ہلاک کر ڈالا۔ اثاثا۔ گھر کا اسباب ومال۔ گھر کا سازو سامان۔ رء یا۔ نمود۔ خود منظر۔ سامان آرائش وزیبائش رؤیۃ سے مشتق ہے بروزن فعل جیسے طحن۔ احسن اثاثا ورء یا۔ مال و اسباب اور نمائش و آرائش کے سازوسامان میں بڑھ چڑھ کر۔ بوجہ تمیز ہونے کے اثاثا و رء یا۔ منصوب ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 تو یہ کس شمارقطار میں ہیں۔ حقیقت میں دنیا کے ٹھاٹ بھاٹ اور جاہ و جلال پر پھولنا اور نادار مسلمانوں کو حقیر جاننا پر لے درجے کی حماقت ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : منکرین حق کو دنیوی وسائل ملنے کی وجہ۔ حق والوں کی اکثریت دنیا کی ترقی کے اعتبار سے منکرین حق سے پیچھے رہتی ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ حق والے شریعت کی حدود وقیود کے پابند ہوتے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں حق اور سچ کی پرواہ نہ کرنے والے دنیا کی ترقی میں آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اس ترقی کی وجہ سے وہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال اور معاملات پر راضی ہے جس وجہ سے اس نے ہمیں ترقی کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرمایا ہے کہ انھیں متنبہ فرما دیں۔ رب رحمٰن انھیں اس لیے ڈھیل دیے جا رہا ہے تاکہ قیامت یا اس سے پہلے ان سے جس عذاب کا وعدہ کیا ہے انہیں اس سے دوچار کرے۔ جب اللہ تعالیٰ کا وعدہ دنیا میں عذاب کی شکل میں یا قیامت کا دن آئے گا تو وہ ہر صورت دیکھ لیں گے کہ کون مقام اور افرادی قوت کے اعتبار سے کمزور ترین تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنے اسماء الحسنیٰ میں رحمٰن کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ اس کی شفقت اور مہربانی کا نتیجہ ہے کہ اس نے منکرین کو نہ صرف ڈھیل دے رکھی ہے بلکہ انھیں دنیاوی وسائل سے بھی مالا مال کیا ہے۔ جس کے بارے میں فرمایا ہے۔ یہ اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے اس کے سامنے تکبر کا اظہار اور ایمانداروں کے ساتھ ظلم کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِہٖ فَتَحْنَا عَلَیْھِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیْءٍ حَتّٰٓی اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰھُمْ بَغْتَۃً فَاِذَا ھُمْ مُّبْلِسُوْنَ ) [ الانعام : ٤٤] ” پھر جب وہ اس کو بھول گئے جو انہیں نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے یہاں تک کہ جب وہ ان چیزوں کے ساتھ خوش ہوگئے جو انہیں دی گئی تھیں ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا تو وہ ناامیدہوگے۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ہُرَیْرَۃَعَنْ رَسُول اللَّہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّہُ لَیَأْتِی الرَّجُلُ الْعَظِیم السَّمِینُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لاَ یَزِنُ عِنْدَ اللَّہِ جَنَاحَ بَعُوضَۃٍ وَقَالَ اقْرَءُ وا (فَلاَ نُقِیمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَزْنًا) [ رواہ البخاری : باب (أُولَءِکَ الَّذِینَ کَفَرُوا بآیَاتِ رَبِّہِمْ وَلِقَاءِہِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُہُمْ ) الآیَۃَ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : یقیناً روز قیامت ایک بڑا اور موٹا آدمی لایا جائے گا۔ لیکن اللہ کے ہاں اس کا مچھر کے پر کے برا بر بھی وزن نہ ہوگا۔ فرمایا : یہ آیت پڑھو ( قیامت کے دن ہم ان کافروں کے لیے ترازوقائم نہیں کریں گے) ۔ “ ” حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بازار کی ایک طرف سے داخل ہوئے آپ کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے آپ ایک مردہ بکری کے بچے کے پاس سے گزرے آپ نے اس کے ایک کان کو پکڑ کر پوچھا کون اسے ایک درہم کے بدلے لینا چاہے گا ؟ صحابہ کرام (رض) نے کہا : ہم اسے کسی چیز کے بدلے بھی لینا نہیں چاہتے اور ہم اس کا کیا کریں گے ؟ آپ نے فرمایا : کیا تم اسے پسند کرتے ہو کہ یہ بکری کا بچہ تمہارا ہوتا ؟ صحابہ کرام (رض) نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو کان چھوٹے ہونے کی وجہ سے اسے قبول نہ کیا جاتا۔ اب یہ مرا ہوا ہے تو ہم کیسے اسے پسند کریں گے۔ آپ نے فرمایا : جیسے تمہارے نزدیک یہ بکری کا مردہ بچہ بڑا ہی حقیر اور بےفائدہ ہے۔ اللہ کی قسم ! دنیا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ حقیر اور ذلیل ہے۔ “ [ رواہ مسلم : کتاب الزھد والرقائق ] مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ ایک وقت معیّن تک ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے۔ ٢۔ اللہ کے عذاب یا قیامت کے دن مجرموں کو معلوم ہوگا کہ ان کی کیا حیثیت ہے۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن منکرین کا حال : ١۔ ہم مجرموں سے انتقام لیا کرتے ہیں۔ ( سجدہ : ٢٢) ٢۔ قیامت کے دن منکرین کے لیے ہلاکت ہے۔ (الطور : ١١) ٣۔ منکرین کے لیے جہنم کا کھولتا ہوا پانی ہے۔ (الواقعۃ : ٩٢) ٤۔ جہنم میں جہنمی اس بات کا اقرار کریں گے کہ کاش عقل وفکر سے کام لیتے۔ ( الملک : ١٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ہوا یہ کہ ان کی اس شان و شوکت نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ ان کے زیب وزینت نے ان کو عذاب الہٰی سے نہ بچا یا۔ جب ان پر ہلاکت آئی تو یہ سب ظاہر داریاں مٹ گئیں۔ یادرکھو ‘ انسان بہت جلد بھول جاتا ہے۔ اگر وہ ذرا بھی تاریخ کے اسباق یاد کرتا اور ذرا بھی غور کرتا تو وہ ان ظاہر داریوں پر کبھی غرور نہ کرتا حالانکہ انسانی تاریخ میں جو اقوام ہلاک ہوئیں ‘ ان کی ہلاکتوں اور بربادیوں میں بہت بڑا سامان عبرت ہے۔ تاریخ انسانی انسان کے دامن کو پکڑ پکڑ کر اپنی طرف کھینچتی ہے کہ ذرا دیکھو ‘ خدا کے عذاب سے ڈرو ‘ اللہ کی پکڑ سے خوف کھائو۔ لیکن انسان ہے کہ سر نیچے کئے ہوئے اپنی غلط روش پر چل رہا ہے۔ وہ پیچھے کی طرف نہیں دیکھتا کہ آگے جاتے ہوئے ٹھوکروں سے بچے ‘ حالانکہ اقوام ماضی میں سے جن لوگوں کو ٹھوکر لگی وہ ان سے زیادہ صاحب قوت تھیں ‘ زیادہ دولت مند تھیں ‘ زیادہ آبادی والی تھیں۔ لیکن اس اچھٹتی نظر کے بعد قرآن مجید رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیتا ہے کہ ان لوگوں کے لئے یہ وجدانی اشارہ کافی نہیں ہے۔ ان کو چیلنج کے انداز میں کہو کہ اچھا جو گروہ گمراہی میں اور غلط راستے پر ہے ‘ اللہ اسے مزید گمراہ کرے اور وہ پہنچے اس انجام تک جو گمراہوں کا قدرتی انجام ہوتا ہے خواہ اس جہاں میں ایا آخرت میں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

51:۔ تخویف دنیوی۔ ” اَثَاثًا “ سازو سامان۔ ” رِءْيًا “ منظر۔ یہ دنیوی شان و شوکت پر ناز کرنے والے مشرکین مغرور نہ ہوں۔ ہم ان سے بھی زیادہ مال و دولت اور شان و شوکت والے قرنوں کے قرن تباہ و برباد کرچکے ہیں یہ بیچارے ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

74 اور ہم ان سے پہلے بہت سی قوموں اور گروہوں کو ہلاک و برباد کرچکے ہیں۔ جو باعتبار ساز و سامان اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور نمود کے اعتبار سے ان سے کہیں اچھے تھے۔ یعنی دنیوی ساز و سامان اور سوسائٹی کی بلندی اور ظاہری نمود و نمائش عذاب الٰہی کو نہیں روک سکتی جس طرح پہلی جماعتیں برباد ہوگئی ہیں اسی طرح تم بھی برباد کردیئے جائو گے حالانکہ وہ جماعتیں ان سے کہیں اچھی اور بہتر تھیں۔