Surat Marium

Surah: 19

Verse: 96

سورة مريم

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجۡعَلُ لَہُمُ الرَّحۡمٰنُ وُدًّا ﴿۹۶﴾

Indeed, those who have believed and done righteous deeds - the Most Merciful will appoint for them affection.

بیشک جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے شائستہ اعمال کیے ہیں ان کے لئے اللہ رحمٰن محبت پیدا کر دے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah places Love of the Righteous People in the Hearts Allah said; إِنَّ الَّذِينَ امَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا Verily, those who believe and work deeds of righteousness, the Most Gracious will bestow love for them. Allah, the Exalted, informs about His believing servants, who work righteous deeds -- deeds that He is pleased with because they are in accordance with the legislation of Muhammad -- that He plants love for them in the hearts of His righteous servants. This is something that is absolutely necessary and there is no avoiding it. This has been reported in authentic Hadiths of the Messenger of Allah in various different ways. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said, إِنَّ اللهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَقَالَ يَا جِبْرِيلُ إِنِّي أُحِبُّ فُلَنًا فَأَحِبَّهُ قَالَ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ قَالَ ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ قَالَ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الاْاَرْضِ وَإِنَّ اللهَ إِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَقَالَ يَا جِبْرِيلُ إِنِّي أُبْغِضُ فُلَإنًا فَأَبْغِضْهُ قَالَ فَيُبْغِضُهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللهَ يُبْغِضُ فُلَنًا فَأَبْغِضُوهُ قَالَ فَيُبْغِضُهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْبَغْضَاءُ فِي الاَْرْض Verily, whenever Allah loves a servant of His, He calls Jibril and says, "O Jibril, verily I love so-and-so, so love him." Thus, Jibril will love him. Then, he (Jibril) will call out to the dwellers of the heavens, "Verily, Allah loves so-and-so, so you too must love him." Then the dwellers of the heavens love him and he will be given acceptance in the earth. Whenever Allah hates a servant of His, He calls Jibril and says, "O Jibril, verily I hate so-and-so, so hate him." Thus, Jibril will hate him. Then, he (Jibril) will call out amongst the dwellers of the heavens, "Verily, Allah hates so-and-so, so you too must hate him." Then the dwellers of the heavens hate him and hatred for him will be placed in the earth. Al-Bukhari and Muslim reported narrations similar to this. Ibn Abi Hatim recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said, إِذَا أَحَبَّ اللهُ عَبْدًا نَادَى جِبْرِيلَ إِنِّي قَدْ أَحْبَبْتُ فُلَنًا فَأَحِبَّهُ فَيُنَادِي فِي السَّمَاءِ ثُمَّ يُنْزِلُ لَهُ الْمَحَبَّةَ فِي أَهْلِ الاَْرْضِ فَذَلِكَ قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الَّذِينَ امَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا Whenever Allah loves a servant of His, He calls Jibril (saying), "Verily, I love so-and-so, so love him." Then, Jibril calls out into the heavens and love for him descends among the people of the earth. That is the meaning of the statement of Allah, the Mighty and Sublime: Verily, those who believe and work deeds of righteousness, the Most Gracious will bestow love for them. This was also reported by Muslim and At-Tirmidhi and At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih." The Qur'an descended to give Glad Tidings and to warn Allah said;

اللہ تعالیٰ کا امین فرشتہ ۔ فرمان ہے کہ جن کے دلوں میں توحید رچی ہوئی ہے اور جن کے اعمال میں سنت کانور ہے ضروری بات ہے کہ ہم اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کردیں گے ۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں فلاں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی فلاں انسان سے محبت رکھ ۔ اللہ کا یہ امین فرشتہ بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے پھر آسمانوں کے فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس کی مقبولیت زمین پراتاری جاتی ہے اور جب کسی بندے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوجاتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ اس سے میں ناخوش ہوں تو بھی اس سے عداوت رکھ حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی اس کے دشمن بن جاتے ہیں پھر آسمانوں میں ندا کر دیتے ہیں کہ فلاں دشمن الہٰی تم سب اس سے بیزار رہنا چنانچہ آسمان والے اس سے بگڑتے بیٹھتے ہیں پھر وہی غضب اور ناراضگی زمین پر نازل ہوتی ہے ۔ ( بخاری مسلم وغیرہ ) مسند احمد میں ہے کہ جو بندہ اپنے مولا کی مرضی کا طالب ہو جاتا ہے اور اس کی خوشی کے کاموں میں مشغول ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ عزوجل جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ میرا فلاں بندہ مجھے خوش کرنا چاہتا ہے سنو میں اس سے خوش ہوگیا میں نے اپنی رحمتیں اس پر نازل کرنی شروع کر دیں ۔ پس حضرت جبرائیل علیہ السلام ندا کرتے ہیں کہ فلاں پر رحمت الہٰی ہو گئی پھر حاملان عرش بھی یہی منادی کرتے ہیں پھر ان کے پاس والے غرض ساتوں آسمانوں میں یہ آواز گونج جاتی ہے پھر زمین پر اس کی مقبولیت اترتی ہے ۔ یہ حدیث غریب ہے ایسی ہی ایک اور حدیث بھی مسند احمد میں غرابت والی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ محبت اور شہرت کسی کی برائی یا بھلائی کے ساتھ آسمانوں سے اللہ کی جانب سے اترتی ہے ۔ ابن ابی حاتم میں اسی قسم کی حدیث کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس آیت قرآنی کو پڑھنا بھی مروی ہے ۔ پس مطلب آیت کا یہ ہوا کہ نیک عمل کرنے والے ایمانداروں سے اللہ خود محبت کرتا ہے اور زمین پر بھی ان کی محبت اور مقبولیت اتاری جاتی ہے ۔ مومن ان سے محبت کرنے لگتے ہیں ان کا ذکر خیر ہوتا ہے اور ان کی موت کے بعد بھی ان کی بہترین شہرت باقی رہتی ہے ۔ مصرم بن حبان کہتے ہیں کہ جو بندہ سچے اور مخلص دل سے اللہ کی طرف جھکتا ہے اللہ تعالیٰ مومنوں کے دلوں کو اس کی طرف جھکا دیتا ہے وہ اس سے محبت اور پیار کرنے لگتے ہیں ۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے بندہ جو بھلائی برائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کی چادر اوڑھا دیتا ہے حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ارادہ کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح سے کروں گا کہ تمام لوگوں میں میری نیکی کی شہرت ہوجائے اب وہ عبادت الہی کی طرف جھک پڑا جب دیکھو نماز میں ۔ مسجد میں سب سے اول آئے اور سب کے بعد جائے اسی طرح سات ماہ اسے گزر گئے لیکن اس نے جب بھی سنا یہی سنا کہ لوگ اسے ریا کار کہتے ہیں اس نے یہ حالت دیکھ کر اب اپنے جی میں عہد کر لیا کہ میں صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے عمل کروں گا کسی عمل میں تو نہ بڑھا لیکن خلوص کے ساتھ اعمال شروع کردئے نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں میں ہر شخص کی زبان سے نکلنے لگا کہ اللہ تعالیٰ فلان شخص پر رحم فرمائے اب تو وہ واقعی اللہ والا بن گیا ہے پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی ۔ ابن جریر میں ہے کہ یہ آیت حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہجرت کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن یہ قول درست نہیں اس لئے کہ یہ پوری سورت مکے میں نازل ہوئی ہے ہجرت کے بعد اس سورت کی کسی آیت کا نازل ہونا ثابت نہیں ۔ اور جو اثر امام صاحب نے وارد کیا ہے وہ سندا بھی صحیح نہیں واللہ اعلم ۔ ہم نے قرآن کو اے نبی تیری زبان میں یعنی عربی زبان میں بالکل آسان کر کے نازل فرمایا ہے جو فصاحت وبلاغت والی بہترین زبان ہے تاکہ تو انہیں جو اللہ کا خوف رکھتے ہیں ، دلوں میں ایمان اور ظاہر میں نیک اعمال رکھتے ہیں ، اللہ کی بشارتیں سنادے اور جو حق سے ہٹے ہوئے باطل پر مٹے ہوئے استقامت سے دور خود بنیی میں مخمور جھگڑالو جھوٹے اندھے بہرے فاسق فاجر ظالم گنہگار بد کردار ہیں انہیں اللہ کی پکڑ سے اور اس کے عذاب سے متنبہ کر دے جیسے قریش کے کفار وغیرہ ۔ بہت سی امتوں کو جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا تھا نبیوں کا انکار کیا تھا ہم نے ہلاک کر دیا ۔ جن میں سے ایک بھی باقی نہیں بچا ایک کی آواز بھی دنیا میں نہیں رہی رکز کے لفظی معنی ہلکی اور دھیمی آواز کے ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

96۔ 1 یعنی دنیا میں لوگوں کے دلوں میں اس کی نیکی اور پارسائی کی وجہ سے محبت پیدا کر دے گا، جیسا کہ حدیث میں آتا ہے ' جب اللہ تعالیٰ کسی (نیک) بندے کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے تو اللہ جبرائیل (علیہ السلام) کو کہتا ہے، میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔ پس جبرائیل (علیہ السلام) بھی اس سے محبت کرنی شروع کردیتے ہیں پھر جبرائیل (علیہ السلام) آسمان میں منادی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے، پس تمام آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر زمین میں اس کے لئے قبولیت اور پذیرائی رکھ دی جاتی ہے ' (صحیح بخاری) ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٢] انبیاء اور صالحین سے لوگ محبت اور بدکرداروں سے نفرت کیوں کرتے ہیں ؟:۔ یہ آیت اس دور میں نازل ہوئی جب صحابہ کرام (رض) مجبور و مقہور تھے۔ قریشی سرداروں کے ہاتھوں ستم رسیدہ تھے اور ان کی نگاہوں میں حقیر تھے۔ اس آیت میں ان کے لئے ایک بہت بڑی خوشخبری بھی ہے اور پیشین گوئی بھی پھر ایک وقت آیا جب صحابہ کرام (رض) کو اللہ تعالیٰ نے وہ عزت عطا فرمائی کہ سارا جہان ان سے محبت رکھنے اور ان کے گن گانے لگا۔ آج تک یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ یہ بات صرف صحابہ کرام (رض) سے ہی مخصوص نہیں بلکہ جو بھی ایماندار اعمال صالحہ بجا لائے گا۔ ابتداء ً خواہ لوگ اس کی طرف متوجہ نہ ہوں یا اسے اس راہ میں تکلیفیں بھی پہنچیں لیکن جلد ہی اللہ تعالیٰ انھیں عزت بخشیں گے اور لوگوں میں ان کی مقبولیت اور محبت پیدا ہوجائے گی۔ اس کے برعکس بےایمان اور بدکردار لوگوں کی خواہ ابتدا میں کتنی ہی عزت ہو لیکن وہ با لآخر لوگوں کی نظروں سے گرجاتے ہیں۔ اور لوگ ان سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ یہ سب کچھ کیسے اور کیوں ہوتا ہے اس کی تفسیر درج ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے : && سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتے ہیں تو جبریل کو پکار کر کہتے ہیں کہ میں فلاں بندے سے محبت رکھتا ہوں تم بھی اس سے محبت رکھو۔ پھر جبریل آسمان میں پکارتے ہیں۔ پھر اہل زمین میں اس کی محبت نازل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا یہی مطلب ہے اور جب اللہ کسی بندے سے ناراض ہوجاتے ہیں تو جبریل سے کہتے ہیں : میں فلاں بندے سے ناراض ہوں تم بھی اس سے ناراض ہوجاؤ۔ پھر یہی بغض اس کے لئے اہل زمین میں نازل کیا جاتا ہے && (ترمذی، ابو اب التفسیر)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا : ” وُدٌّ“ اور ” حُبٌّ“ ہم معنی ہیں۔ ” وُدًّا “ کی تنوین تعظیم کے لیے ہے۔ کافروں کے برے عقائد و اعمال اور ان کے انجام بد کا ذکر کرنے کے بعد ایمان اور عمل صالح والوں پر اپنے انعامات کا ذکر فرمایا۔ اس آیت کے تین معنی ہوسکتے ہیں اور تینوں درست ہیں، جن کی قرآن و حدیث سے تائید ہوتی ہے۔ اللہ کے کلام سے بڑھ کر جامع کلام کوئی نہیں کہ جس کے تھوڑے سے کلمات میں بہت سے معانی جمع ہیں۔ پہلا معنی یہ ہے کہ جو لوگ صدق دل سے ایمان لائے اور انھوں نے اس دعویٰ کی تصدیق کے لیے کتاب و سنت کے مطابق اخلاص کے ساتھ عمل کیے (کیونکہ عمل صالح کے تین اجزا ہیں : ایمان، اخلاص اور اتباع کتاب و سنت) تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایمان والوں کے دلوں میں ان کے لیے عظیم محبت رکھ دے گا، جب کہ دشمنوں کے دلوں میں ان کی ہیبت اور رعب ڈال دے گا، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رعب ایک مہینے کی مسافت پر دور دشمن پر پڑجاتا تھا۔ اصبہانی نے فرمایا کہ یہ محبت انھیں لوگوں کی محبت حاصل کرنے کی کسی کوشش یا لوگوں کی دوستی کے اسباب میں سے کسی سبب، مثلاً قرابت، کسی پر احسان، مروت یا خوش اخلاقی وغیرہ کے بغیر محض رحمٰن کی عنایت سے حاصل ہوتی ہے (جن لوگوں سے وہ ملا بھی نہیں ہوتا وہ بھی اس سے محبت رکھتے ہیں) ۔ (بقاعی) صفت رحمٰن اور دلوں میں محبت پیدا کرنے کے درمیان مناسبت بالکل واضح ہے۔ قرآن مجید میں اس کی مثال موسیٰ (علیہ السلام) کو محبوب خلائق بنانا ہے، فرمایا : (وَاَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ ) [ طٰہٰ : ٣٩ ] ” اور میں نے تجھ پر اپنی طرف سے عظیم محبت ڈال دی۔ “ اسی طرح ” رَبُّنَا اللّٰه “ (ہمارا رب اللہ ہی ہے) کہہ کر استقامت اختیار کرنے والوں کو فرشتے بشارت دیتے ہیں : (نَحْنُ اَوْلِيٰۗــؤُكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ) [ حٰمٓ السجدۃ : ٣١ ] ” ہم تمہارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی۔ “ اور ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِذَا أَحَبَّ اللّٰہُ الْعَبْدَ نَادَی جِبْرِیْلَ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحْبِبْہُ فَیُحِبُّہٗ جِبْرِیْلُ فَیُنَادِیْ جِبْرِیْلُ فِیْ أَھْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبُّوْہٗ فَیُحِبُّہٗ أَھْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ یُوْضَعُ لَہٗ الْقَبُوْلُ فِي الْأَرْضِ ) [ بخاري، بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ صلوات اللہ علیہم : ٣٢٥٩، ٧٤٨٥ ] ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل کو بلاتا ہے (اور کہتا ہے کہ) بیشک اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تو بھی اس سے محبت کر، تو جبریل بھی اس سے محبت کرتا ہے اور آسمان والوں میں اعلان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں سے محبت کرتا ہے، اس لیے تم سب اس سے محبت کرو، تو آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ “ صحیح مسلم میں مزید یہ الفاظ ہیں : ( وَإِذَا أَبْغَضَ اللّٰہُ عَبْدًا دَعَا جِبْرَءِیْلَ فَیَقُوْلُ إِنِّيْ أُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضْہُ ، قَالَ : فَیُبْغِضُہُ جِبْرَءِیْلُ ، ثُمَّ یُنَادِيْ فِيْ أَھْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللّٰہَ یُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضُوْہُ ، قَالَ فَیُبْغِضُوْنَہُ ، ثُمَّ تُوْضَعُ لَہُ الْبَغْضَاءُ فِي الْأَرْضِ ) ” اور جب وہ کسی بندے سے بغض رکھتا ہے تو جبریل کو بلاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں فلاں سے بغض رکھتا ہوں، تم بھی اس سے بغض رکھو۔ “ فرمایا : ” تو جبریل اس سے بغض رکھتا ہے، پھر وہ آسمان والوں میں اعلان کردیتا ہے کہ اللہ فلاں سے بغض رکھتا ہے، اس لیے تم بھی اس سے بغض رکھو۔ “ فرمایا : ” تو وہ اس سے بغض رکھتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین میں دلی دشمنی رکھ دی جاتی ہے۔ “ [ مسلم، البر والصلۃ، باب إذا أحب اللہ عبدا، أمر جبرئیل۔۔ : ٢٦٣٧ ] واضح رہے کہ یہ آیت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی جہاں مسلمان انتہائی مظلومیت و کس مپرسی کی زندگی بسر کر رہے تھے، گویا اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا کہ عنقریب حالات بدلیں گے (لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوں گے) اور تم ذلیل و رسوا ہونے کے بجائے محبوب خلائق بن کر زندگی گزارو گے۔ چناچہ یہ وعدہ پورا ہوا اور رہتی دنیا تک لوگوں کے دلوں میں صحابہ کرام (رض) کی وہ محبت پیدا ہوئی جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ دوسرا معنی اس آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان اور عمل صالح والوں کے لیے آپس میں محبت پیدا فرما دے گا، جو پہلے جانی دشمن تھے ایمان کے بعد دلی دوست بن جائیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( ۭهُوَ الَّذِيْٓ اَيَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَبِالْمُؤْمِنِيْنَ 62؀ۙ وَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ ۭ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَيْنَهُمْ ۭاِنَّهٗ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ ) [ الأنفال : ٦٢، ٦٣ ] ” وہی ہے جس نے تجھے اپنی مدد کے ساتھ اور مومنوں کے ساتھ قوت بخشی اور ان کے دلوں کے درمیان الفت ڈال دی۔ اگر تو زمین میں جو کچھ ہے، سب خرچ کردیتا ان کے دلوں میں الفت نہ ڈالتا اور لیکن اللہ نے ان کے درمیان الفت ڈال دی، بیشک وہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ “ یہ رحمٰن کی اس رحمت ہی کا نتیجہ ہے کہ مدتوں لڑنے والے اوس و خزرج بھائی بھائی بن گئے، حبش کے بلال، روم کے صہیب، ایران کے سلمان، مدینہ کے انصار اور مکہ کے قریش آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور ” اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ“ کا عملی نقشہ دنیا کے سامنے آگیا۔ اگر ان کی کوئی باہمی رنجش رہ بھی گئی تو اللہ تعالیٰ نے جنت میں جانے سے پہلے اسے دور کرنے کا وعدہ فرمایا۔ دیکھیے سورة حجر (٤٧) جیسا کہ اوپر گزرا، یہ محبت ایمان داروں کے دلوں میں پیدا ہوتی ہے، کفار کے دلوں میں نہیں، اس کی مثال ثمامہ بن اثال اور ہند بنت عتبہ (رض) ہیں جنھوں نے شہادت دی کہ اسلام لانے سے پہلے ان کے نزدیک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ مبغوض کوئی نہ تھا، لیکن پھر ایمان لانے کے بعد آپ سے بڑھ کر محبوب کوئی نہ تھا۔ تیسرا معنی یہ ہے کہ ” وُدًّا “ مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، محبوب چیز، یعنی ایمان اور عمل صالح والے جو چیز محبوب رکھیں گے، پسند کریں گے رحمٰن جنت میں انھیں وہی عطا فرمائے گا، جیسا کہ فرمایا : (وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْٓ اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ ) [ حٰآ السجدۃ : ٣١ ] ” اور تمہارے لیے اس (جنت) میں وہ کچھ ہے جو تمہارے دل چاہیں گے اور تمہارے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو تم مانگو گے۔ “ یہ معنی ابومسلم نے بیان فرمایا ہے۔ (قاسمی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّ‌حْمَـٰنُ وُدًّا |"For them the Rahman (All-Merciful) will create love.|" - 19:96. It means that for those who are steadfast in their faith in Him, Allah creates an environment of friendship and love for each other, which consequently promotes mutual amity and goodwill among the true Muslims. Furthermore, by their conduct and behavior they command the admiration and respect of all those with whom they come into contact. Bukhari, Tirmidhi and others have related on the authority of Sayyidna Abu Hurairah (رض) that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) once said that when Allah Ta’ ala is pleased with someone He says to Jibra&il (علیہ السلام) ، |"I am pleased with so and so and I desire that you too should show favour to him.|" Jibra&l (علیہ السلام) makes an announcement to this effect in all the skies so that their residents begin to harbor a liking for that person. Then this love descends upon the earth and the people of the earth also begin to love him. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) then quoted this verse. (Ruh ul-Ma’ ani). إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّ‌حْمَـٰنُ وُدًّا |"Surely those who believe and do the righteous deeds, for them the Rahman (All-Merciful) will create love.|" - 19:96. Haram bin Hayyan has said that when a person devotes himself wholly towards Allah He fills the hearts of all believers with love for him. (Qurtubi) When Sayyidna Ibrahim Khalilullah (علیہ السلام) ، planned to go back to Syria, after leaving behind his wife Hajira and his baby son Sayyidna Isma` i1 (علیہ السلام) in the desert enclosed by the barren hills of Makkah in accordance with the command of Allah, he also prayed for both of them with the following words فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ |"So make hearts of a number of people yearn toward them.|" - 14:37. The prayer was granted so that even after the lapse of many millennia people all over the world entertain great love for Makkah and its inhabitants. They visit the place in large numbers, and not only incur heavy expenditure but also endure great hardships while making the journey.

سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا، یعنی ایمان اور عمل صالح پر قائم رہنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ کردیتے ہیں دوستی اور محبت، یعنی ایمان اور عمل صالح جب مکمل ہوں اور بیرونی عوارض سے خالی ہوں تو ان کا خاصہ یہ ہے کہ مومنین صالحین کے درمیان آپس میں بھی الفت و محبت ہوجاتی ہے۔ ایک نیک صالح آدمی دوسرے نیک آدمی سے مانوس ہوتا ہے اور دوسرے تمام لوگوں اور مخلوقات کے دلوں میں بھی اللہ تعالیٰ ان کی محبت پیدا فرما دیتے ہیں۔ بخاری، مسلم، ترمذی، وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ حق تعالیٰ جب کسی بندے کو پسند فرماتے ہیں تو جبرئیل امین سے کہتے ہیں کہ میں فلاں آدمی سے محبت کرتا ہوں تم بھی ان سے محبت کرو۔ جبرئیل امین سارے آسمانوں میں اس کی منادی کرتے ہیں اور سب آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر یہ محبت زمین پر نازل ہوتی ہے (تو زمین والے بھی سب اس محبوب خدا سے محبت کرنے لگتے ہیں) اور فرمایا کہ قرآن کریم کی یہ آیت اس پر شاہد ہے یعنی (آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا (روح المعانی) اور ہرم بن حیان نے فرمایا کہ جو شخص اپنے پورے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ تمام اہل ایمان کے دل اس کی طرف متوجہ فرما دیتے ہیں۔ (قرطبی) حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰة والسلام نے جب اپنی اہلیہ ہاجرہ اور شیر خوار صاحبزادہ اسماعیل (علیہ السلام) کو مکہ کے خشک پہاڑوں کے درمیان ریگستان میں بحکم خدا تعالیٰ چھوڑ کر ملک شام واپس جانے کا ارادہ فرمایا تو ان کے لئے بھی دعا مانگی تھی (آیت) فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ یعنی یا اللہ میرے بےکس اہل و عیال کے لئے آپ کچھ لوگوں کے قلوب کو مائل اور متوجہ فرما دیجئے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہزاروں سال گزر چکے ہیں کہ مکہ اور اہل مکہ کی محبت ساری دنیا کے دلوں میں بھر دی گئی ہے اور دنیا کے ہر گوشے سے بڑی بڑی محنت و مشقت اٹھا کر اور عمر بھر کی کمائی خرچ کر کے لوگ پہنچتے رہتے ہیں اور دنیا کے ہر گوشہ کی چیزیں مکہ معظمہ کے بازار میں دستیاب ہوتی ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَيَجْعَلُ لَہُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا۝ ٩٦ أمن والإِيمان يستعمل تارة اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ويقال لكلّ واحد من الاعتقاد والقول الصدق والعمل الصالح : إيمان . قال تعالی: وَما کانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمانَكُمْ [ البقرة/ 143] أي : صلاتکم، وجعل الحیاء وإماطة الأذى من الإيمان قال تعالی: وَما أَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَنا وَلَوْ كُنَّا صادِقِينَ [يوسف/ 17] قيل : معناه : بمصدق لنا، إلا أنّ الإيمان هو التصدیق الذي معه أمن، وقوله تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيباً مِنَ الْكِتابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ [ النساء/ 51] فذلک مذکور علی سبیل الذم لهم، ( ا م ن ) الامن الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلما ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست (2 ۔ 62) میں امنوا کے یہی معنی ہیں اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید ہوۃ کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ اور کبھی ایمان کا لفظ بطور مدح استعمال ہوتا ہے اور اس سے حق کی تصدیق کرکے اس کا فرمانبردار ہوجانا مراد ہوتا ہے اور یہ چیز تصدیق بالقلب اقرار باللسان اور عمل بالجوارح سے حاصل ہوتی ہے اس لئے فرمایا ؛۔ { وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ } ( سورة الحدید 19) اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبر پر ایمان لائے ہیں روہی صدیق میں یہی وجہ ہے کہ اعتقاد قول صدق اور عمل صالح میں سے ہر ایک کو ایمان کہا گیا ہے چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَمَا كَانَ اللهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ } ( سورة البقرة 143) ۔ اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یوں ہی کھودے (2 ۔ 143) میں ایمان سے مراد نماز ہے اور (16) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حیا اور راستہ سے تکلیف کے دور کرنے کو جزو ایمان قرار دیا ہے اور حدیث جبرائیل میں آنحضرت نے چھ باتوں کو کو اصل ایمان کہا ہے اور آیت کریمہ ؛۔ { وَمَا أَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَنَا وَلَوْ كُنَّا صَادِقِينَ } ( سورة يوسف 17) اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے (12 ۔ 17) میں مومن بمعنی مصدق ہے ۔ لیکن ایمان اس تصدیق کو کہتے ہیں جس سے اطمینان قلب حاصل ہوجائے اور تردد جاتا رہے اور آیت کریمہ :۔ { أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ } ( سورة النساء 44 - 51) من ان کی مذمت کی ہے کہ وہ ان چیزوں سے امن و اطمینان حاصل کرنا چاہتے ہیں جو باعث امن نہیں ہوسکتیں کیونکہ انسان فطری طور پر کبھی بھی باطل پر مطمئن نہیں ہوسکتا ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے ودد الودّ : محبّة الشیء، وتمنّي كونه، ويستعمل في كلّ واحد من المعنيين علی أن التّمنّي يتضمّن معنی الودّ ، لأنّ التّمنّي هو تشهّي حصول ما تَوَدُّهُ ، وقوله تعالی: وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] ( و د د ) الود ۔ کے معنی کسی چیز سے محبت اور اس کے ہونے کی تمنا کرنا کے ہیں یہ لفظ ان دونوں معنوں میں الگ الگ بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ کسی چیز کی تمنا اس کی محبت کے معنی کو متضمعن ہوتی ہے ۔ کیونکہ تمنا کے معنی کسی محبوب چیز کی آرزو کرنا کے ہوتے ہیں ۔ اور آیت : ۔ وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کردی ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (ان الذین امنوا وعملوا الصلحات سیجعل لھم الرحمٰن وداً ۔ یقینا جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور عمل صالح کر رہے ہیں عنقریب رحمان ا ن کے دلوں میں محبت پیدا کر دے گا) ان کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک تو یہ کہ آخرت میں یہ ایک دوسرے سے اسی طرح محبت کریں گے جس طرح والد کو اپنی اولاد سے محبت ہوتی ہے۔ دوسرا قول حضرت ابن عباس اور مجاہد کا ہے کہ دنیا کے اندر محبت پیدا کر دے گا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٦) بیشک جو لوگ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور اچھے کام کیے تو اللہ تعالیٰ ان سے محبت فرمائے گا اور ان کے لیے مومنین کے دلوں میں خاص طور پر محبت پیدا کر دے گا۔ شان نزول ( آیت) ”۔ ان الذین وعملوا الصلحت “۔ (الخ) ابن جریر (رح) نے عبدالرحمن بن عوف سے روایت کیا ہے کہ جب انہوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو مکہ مکرمہ سے اپنے ساتھیوں کی جدائی کی وجہ سے جن میں سے شیبہ، عتبہ، امیہ بن خلف تھے، افسوس ہوا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے اللہ تعالیٰ ان کے لیے محبت پیدا کر دے گا یعنی مسلمانوں کے دلوں میں ان کے لیے محبت پیدا کر دے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩٦ (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَہُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا ) ” یہ فرمان مکہ کے کٹھن حالات میں مؤمنین کے لیے ایک خوش خبری تھی کہ بلاشبہ ابھی اہل ایمان کے لیے بہت مشکل وقت ہے ‘ انہیں ہر طرف سے مخالفت اور طعن وتشنیع کا سامنا ہے ‘ لیکن بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب یہی لوگ محبوبان خلائق ہوں گے۔ ابوبکر (رض) کی شخصیت پر لوگ عقیدت و محبت کے پھول نچھاور کریں گے ‘ اور بلال (رض) کی تعظیم و تکریم دلوں پر راج کرے گی۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ” جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو وہ جبرائیل ( علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے : مجھے اپنے فلاں بندے سے محبت ہے ‘ لہٰذا تم بھی اسے محبوب رکھو۔ چناچہ جبرائیل اسے محبوب رکھتے ہیں ‘ پھر وہ آسمان میں اعلان کردیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص کو محبوب رکھتا ہے ‘ پس تم سب بھی اس کو محبوب رکھو۔ چناچہ آسمان والے اس سے محبت کرنے لگ جاتے ہیں “۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” پھر اس کی مقبولیت زمین میں رکھ دی جاتی ہے۔ “ (١) یعنی اہل زمین کے دلوں میں اس کی محبت ڈال دی جاتی ہے اور اس طرح اللہ کا محبوب بندہ خلق خدا کا بھی محبوب بن جاتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

53. This is to comfort the righteous people who were being persecuted and insulted in the streets of Makkah. They are being assured that the time is coming near when the people will honor and love them because of their righteous deeds and good conduct. Hearts will be attracted towards them and the world will hold them in high esteem. And this will happen according to a universal principle. Those who are wicked, proud and haughty and try to rule over the people with falsehood and hypocrisy can never captivate the hearts of the people. On the other hand, those who invite the people to the right way with truth, honesty, sincerity and good conduct succeed in winning their hearts in the end, even though at first they might have to face the indifference and opposition of the dishonest people. 97. So, We have only made this (Quran) easy in your tongue that you may give good tidings therewith to those who are righteous, and warn with it a contentious people.

سورة مَرْیَم حاشیہ نمبر :53 یعنی آج مکے کی گلیوں میں وہ ذلیل و رسوا کیے جارہے ہیں ۔ مگر یہ حالت دیر پا نہیں ہے ۔ قریب ہے وہ وقت جبکہ اپنے اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ کی وجہ سے وہ محبوب خلائق ہو کر رہیں گے ۔ دل ان کی طرف کھنچیں گے ۔ دنیا ان کے آگے پلکیں بچھائے گی ۔ فسق و فجور ، رعونت اور کبر ، جھوٹ اور ریا کاری کے بل پر جو سیادت قیادت چلتی ہو وہ گردنوں کو چاہے جھکالے ، دلوں کو مسخر نہیں کر سکتی ۔ اس کے برعکس جو لوگ صداقت ، دیانت ، اخلاص اور حسن اخلاق کے ساتھ راہ راست کی طرف دعوت دیں ، ان سے اول چاہے دنیا کتنی ہی اپرائے ، آخر کار وہ دلوں کو موہ لیتے ہیں اور بد دیانت لوگوں کا جھوٹ زیادہ دیر تک ان کا راستہ روکے نہیں رہ سکتا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

37: یعنی اس وقت تو مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ کفار ان کی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں۔ لیکن عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب مخلوق خدا کے دلوں میں ان مسلمانوں کی محبت پیدا ہوجائے گی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٩٦:۔ اوپر کی آیت میں متقی لوگوں کے ساتھ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جو محبت کرے گا اس کا ذکر گزر چکا ہے کہ قبروں سے ان کو اللہ تعالیٰ مہمانوں کی سی خاطر داری سے اٹھائے گا اس کے علاوہ نیک لوگوں سے جب اللہ محبت کرنے لگتا ہے تو ایسے نیک لوگوں کی طرف تمام مخلوق الٰہی کے دل مائل ہوجاتے ہیں اور دنیا بھر ایسے لوگوں کو عزیز رکھنے لگتی ہے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس شخص سے اللہ تعالیٰ کو محبت ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ جبرئیل (علیہ السلام) کو جتلا دیتا ہے کہ مجھ کو فلاں بندہ سے محبت ہے جبرئیل اس بات کی تمام آسمانوں میں شہرت کردیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں بندہ سے محبت رکھتا ہے اس سے تمام آسمان کے فرشتے اس شخص سے محبت کرنے لگتے ہیں اور زمین پر بھی لوگوں کے دلوں میں ایک توقیر اور محبت اس شخص کی طرف سے پیدا ہوجاتی ہے ١ ؎۔ یہ تو ایماندار نیک عمل لوگوں کی دنیا کی عزت اور قبروں سے اٹھنے کے وقت کی عزت کا حال ہوا اس کے بعد قیامت کے دن ان کی یہ عزت ہوگی کہ اللہ کے فرشتوں اور رسولوں کی طرح یہ متقی لوگ بھی گناہ گار کلمہ گو لوگوں کی شفاعت کریں گے اور ان کی شفاعت منظور ہو کر بہت سے کلمہ گو گناہ گار جنت میں داخل ہوں گے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری کی جس شفاعت کی حدیث کا ذکر اوپر گزرا اس میں نیک لوگوں کی شفاعت کا ذکر تفصیل سے ہے ٢ ؎۔ ١ ؎ تفسیر ابن کیثرص ١٣٩ ج ٣۔ ٢ ؎ صحیح بخاری ص ١١٠٧ ج ٢ باب قول اللہ وجوہ یومئذ ناضرۃ الخ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(19:96) ودا۔ محبت۔ یسرناہ۔ ہم نے اسے آسان کردیا ہے۔ تیسیر تفعیل مصدر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ۔ سے مراد القرآن ہے۔ بلسانک۔ تیری زبان میں۔ ای بلسانک العربی المبین۔ لدا۔ بہت جھگڑالو۔ جمع اس کا واحد الد ہے اس کا مادہ لدد ہے۔ گردن کے دائیں بائیں پہلو کو لددکہتے ہیں۔ شدید اللدد وہ شخص جس کی گردن کو کوئی پھیر نہ سکے۔ مراد وہ آدمی جس کو اس کے ارادہ سے باز نہ رکھا جاسکے۔ جس کو کوئی راستی پر نہ لاسکے۔ لد اس نے سخت جھگڑا کیا۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے وھوالد الخصام (2:2040) اور وہ سخت جھگڑالو ہے۔ قوما لداجھگڑالو لوگ۔ جھگڑالو قوم

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 کافروں کے قبائح کو بیان کرنے کے بعد اب مومنین کے بعض مخصوص اعزا بیان فرمائے۔” ان کی محبت (لوگوں کے دلوں میں) ڈال دیگا۔ “ یعنی بدون کسی کوشش اور اسباب محبت کی مزاوات کے (شوکانی) جیسا کہ ایک حدیث میں ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرئیل کو آواز دے کر فرماتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو وہ آسمان میں اس کا اعلان کردیتے ہیں پھر وہ زمین والوں کے دلوں میں بھی اس کی محبت ڈال دیتاے۔ (بخاری مسلم بروایت ابوہریرہ) واضح رہے کہ یہ آیت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی جہاں مسلمان انتہائی مظلومی و کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے تھے، گویا اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا کہ عنقریب حالات بدلیں گے، اور تم ذلیل و رسوا ہونے کی بجائے محبوب خلائق بن کر زندگی گزارو گے چناچہ یہ وعدہ پورا ہوا اور ہستی دنیا تک لوگوں کے دلوں میں صحابہ کرام کی وہ محبت پیدا ہوئی جس کی نظیر ملنی مشکلے۔ (رض) وار ضا ھم (کذا فی الوحیدی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے کسی کو بغض نہ ہوگا بلکہ مقصود یہ ہے کہ عام خلائق جن کا نہ کوئی نفع اس مومن سے وابستہ ہے نہ کوئی ضرر وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مجرم قیامت کے دن اکیلے اکیلے اپنے رب کے حضور پیش ہونگے اور ان کے درمیان کسی قسم کی کوئی محبت اور تعلق باقی نہیں رہے گا وہ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں ان کے مقابلے میں مومنوں کے دل میں محبت پیدا کردی جائے گی۔ قرآن مجید اپنے مؤثر ترین انداز کے مطابق یہاں بھی کفار اور مشرکین کے کردار اور انجام کا ذکر کرنے کے بعد ایماندار بندوں کا کردار اور ان کا صلہ ذکر کرتا ہے۔ ایمان سے مراد خالی خولی دعویٰ نہیں بلکہ ایمان ایک جامع لفظ ہے جس کا مختصر مفہوم یہ ہے کہ انسان عقیدہ توحید، سرور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو عالم کی اطاعت اور آخرت پر یقین رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرئے۔ اس لیے قرآن مجید ایمان کے ساتھ صالح اعمال کا اکثر ذکر کرتا ہے۔ جو لوگ اس طرح کا ایمان اور کردار اختیار کریں گے۔ بہت جلد اللہ تعالیٰ انھیں اپنی محبت کے دامن میں جگہ دے گا۔ بعض اہل علم نے اس کا یہ مفہوم بھی لینے کی کوشش کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت پیدا کرے گا۔ گرائمر کے اعتبار سے اس کی گنجائش نہ بھی ہو۔ لیکن حقیقی ایماندار اور باکردار لوگوں کے درمیان محبت ہونا لازم اور فطری بات ہے۔ ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو پسند کرتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں فلاں آدمی سے محبت کرتا ہوں، تم بھی اس سے محبت کرو۔ راوی بیان کرتا ہے : پھر جبرائیل (علیہ السلام) اس شخص سے محبت کرتے ہیں اس کے بعد آسمان پر اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ سب اس کے ساتھ محبت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے۔ آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں اس کے بعد زمین میں بھی اس کی محبت بڑھ جاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو برا سمجھتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) کو بلا کر حکم دیتا ہے کہ میں فلاں شخص کو برا سمجھتا ہوں تم بھی اسے برا جانو۔ راوی نے بیان کیا ‘ پھر جبرائیل (علیہ السلام) اسے برا سمجھتے ہیں اور پھر آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص کو برا جانتا ہے تم بھی اس سے بغض رکھو۔ چناچہ وہ اس سے بغض کرنا شروع کردیتے ہیں پھر زمین میں اس کے لیے نفرت پھیلا دی جاتی ہے۔ “ [ رواہ مسلم : باب إِذَا أَحَبَّ اللَّہُ عَبْدًا حَبَّبَہُ إِلَی عِبَادِہِ ] مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ صحیح عقیدہ اور صالح کردار اختیار کرنے والوں کے ساتھ محبت کرتا ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہاں محبتوں کے تحفے فضا کو معطر بنا دیتے ہیں۔ اللہ کی رضا مندی کی روح انسانی نفوس کے اندر سرایت کرج اتی ہے۔ عالم بالا میں اس روح کا دور دورہ ہوتا ہے۔ پھر یہ روح زمین پر اترتی ہے اور لوگوں میں پھییل جاتی ہے۔ تمام فضا ‘ پوری سوسائٹی اور پوری زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) کو بلاتا ہے اور کہتا ہے جبرائیل ! میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں ‘ پس تم بھی اس سے محبت رکھو۔ فرمایا تو جبرائیل اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ پھر آسمان والوں میں منادی کی جاتی ہے کہ سنو ‘ اللہ فلاں سے محبت کرتا ہے ‘ اس سے محبت رکھو ‘ تو اہل سماء اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ اس کی بعد اس شخصیت کو زمین پر قبول عام حاصل ہوجاتا ہے اور جب اللہ کسی بندے سے نفرت کرتا ہے تو جبرائیل کو بلاکر کہہ دیتا ہے میں فلاں سے نفرت کرتا ہوں تو بھی اس سے بغض رکھو ‘ تو جبرایل اس سے بغض رکھتے ہیں ‘ پھر آسمان والوں میں منادی کردی جاتی ہے کہ اللہ فلاں سے بغض رکھتا ہے ‘ تم بھی اس سے دشمنی کرو ‘ پس تمام اہل آسمان اس سے دشمنی کرتے ہیں۔ اس کے بعد پوری زمین میں اس کے ساتھ نفرت رکھ دی جاتی ہے۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ مومنینو متقین کے لئے یہ قرآن خوشخبری اور منکرین اور مخاصمت کرنے والوں کے لئے ڈر اوا ہے اور یہ خوشخبری اور ڈراوا قرآن کریم کے اولین مقاصد میں سے ہے۔ اللہ نے عربوں کے سامنے پیش کرنے کے لئے قرآن کریم کو عربی میں نازل کیا تاکہ وہ اسے پڑھیں اور رسول انہیں پڑھ کر سنائیں اور ان کو ڈرائیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل ایمان کا اکرام، قرآن مجید کی تیسیر، ہلاک شدہ امتوں کی بربادی کا اجمالی تذکرہ پہلی آیت میں اہل ایمان کی ایک فضیلت بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَھُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا) بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے اللہ تعالیٰ ان کے لیے محبت پیدا فرما دے گا یعنی تمام فرشتے جو آسمانوں کے رہنے والے ہیں اور تمام مومن بندے جو زمین پر رہتے اور بستے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے قلوب میں ان حضرات کی محبت ڈال دے گا اور یہ اللہ کی محبت کے بغیر نہیں ہوسکتا اللہ تعالیٰ خود بھی ان سے محبت فرمائے گا اور اپنے نیک بندوں کے دلوں میں بھی ان کی محبت ڈال دے گا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندہ سے محبت فرماتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں فلاں بندہ سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو لہٰذا وہ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر جبرائیل (علیہ السلام) آسمان میں پکار کر اعلان کردیتے ہیں کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت فرماتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو لہٰذا آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس کے لیے زمین میں مقبولیت رکھ دی جاتی ہے یعنی اہل زمین بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ (اس سے صالحین مراد ہیں اگر کافر و فاسق صالحین سے محبت نہ کریں تو اہل ایمان ان سے بےنیاز ہیں) پھر فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے بغض رکھتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں فلاں سے بغض رکھتا ہوں لہٰذا تم بھی اس سے بغض رکھو لہٰذا جبریل بھی اس سے بغض رکھنے لگتے ہیں پھر وہ آسمان والوں میں نداء دے دیتے ہیں کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کو فلاں شخص مبغوض ہے لہٰذا تم اس سے بغض رکھو اس پر آسمان والے اس سے بغض رکھنے لگتے ہیں پھر اس کے لیے زمین میں بغض ہی رکھ دیا جاتا ہے۔ (صحیح مسلم ص ٣٣١ ج ٢) مفسر ابن کثیر (رض) نے حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ (سَیَجْعَلُ لَھُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا) میں یہی بات بتائی ہے کہ رحمن جل شانہ لوگوں کے دلوں میں صالحین کی محبت ڈال دیتا ہے نیز انھوں نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں مسلمانوں کے دلوں میں ان حضرات کی محبت ڈال دے گا اور رزق عطا فرمائے گا اور حسن اخلاق اور احسن اعمال اور اچھا تذکرہ نصیب فرمائے گا۔ حضرت حسن بصری (رح) نے فرمایا کہ ایک شخص نے یہ طے کیا کہ میں ایسی عبادت کروں گا جس کا چرچہ ہوگا وہ ہمیشہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتا رہتا تھا اور سب سے پہلے مسجد میں داخل ہوتا اور سب سے آخر میں نکلتا سات مہینے اسی طرح گزر گئے لیکن حال یہ تھا کہ جب کبھی لوگوں پر گزرتا تو لوگ کہتے کہ دیکھو یہ ریاکار جا رہا ہے جب اس نے یہ ماجرا دیکھا تو اپنے نفس سے کہا کہ دیکھ اس طرح سے تو تیری شہرت برائی سے ہی ہو رہی ہے اب نیت کو پلٹنا چاہیے اللہ تعالیٰ ہی کی رضا مطلوب ہونی چاہیے جب اس نے نیت پلٹ دی اور عبادت میں اسی طرح لگا رہا تو جدھر جاتا لوگ کہتے تھے کہ اس پر اللہ کی رحمت ہو، حضرت حسن نے یہ واقعہ نقل کر کے آیت بالا (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ الخ) تلاوت فرمائی، حضرت عثمان بن عفان (رض) نے فرمایا کہ جو بھی کوئی بندہ اچھا یا برا کوئی بھی عمل کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کے عمل کی چادر ضرور پہنا دیتا ہے۔ (ابن کثیر ص ١٤٠ ج ٣) مطلب یہ ہے کہ اصحاب خیر کی خیر کے ساتھ شہرت ہوگی اور اصحاب شر کا شر کے ساتھ تذکرہ ہوگا۔ جن حضرات نے اللہ کے لیے عمل کیا اور اللہ ہی کے لیے محنتیں کیں سیکڑوں سال گزر جانے پر بھی آج تک مومنین کے دلوں میں ان کی محبت ہے اور ان کے اچھے کارناموں کا تذکرہ ہے ان کے برخلاف جو لوگ دنیا دار صاحب اقتدار تھے لیکن پرہیزگار نہ تھے اور جو لوگ مالدار تھے اعمال صالحہ سے خالی تھے ان لوگوں کو عموماً برائی سے یاد کیا جاتا ہے مومن بندوں کو چاہیے کہ صرف اللہ ہی کے لیے عمل کریں، تذکرہ خیر ہی سے ہوگا اہل ایمان اس سے محبت کریں گے جو طالب دنیا ہوا وہ تو خسران عظیم میں چلا گیا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

64:۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے دلوں میں اپنی محبت ڈال دے گا یا خود ان سے محبت کریگا۔ یا لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت ڈال دے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

96 بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے اور نیک عمل کے پابند رہے تو رحمان ان کے لئے محبت پیدا کر دے گا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی ان سے محبت کرے گا یا ان کے دل میں اپنی محبت پیدا کرے گا یا خلق کے دل میں ان کی محبت ڈالے گا۔ 12 خلاصہ ! یہ کہ جو لوگ ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ کی پابندی کرتے ہیں ان کو علاوہ بیشمار نعمتوں کے یہ بہت بڑی نعمت عطا کی جاتی ہے کہ ان کے ساتھ محبوبیت کا سلوک اور برتائوہوتا ہے یہ مرتبہ بہت بلند ہے۔