Surat Marium

Surah: 19

Verse: 98

سورة مريم

وَ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا قَبۡلَہُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ ؕ ہَلۡ تُحِسُّ مِنۡہُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَوۡ تَسۡمَعُ لَہُمۡ رِکۡزًا ﴿٪۹۸﴾  9 النصف

And how many have We destroyed before them of generations? Do you perceive of them anyone or hear from them a sound?

ہم نے ان سے پہلے بہت سی جماعتیں تباہ کر دی ہیں کیا ان میں سے ایک کی بھی آہٹ تو پاتا ہے یا ان کی آواز کی بھنک بھی تیرے کان میں پڑتی ہے؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ ... And how many a generation before them have We destroyed! means from the nations that disbelieved in the signs of Allah and rejected His Messengers. ... هَلْ تُحِسُّ مِنْهُم مِّنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا Can you find a single one of them or hear even a whisper of them! Meaning, `have you seen any of them or even heard a whisper from them.' Ibn Abbas, Abu Al-Aliyah, Ikrimah, Al-Hasan Al-Basri, Sa`id bin Jubayr, Ad-Dahhak and Ibn Zayd all said, "This means any sound." Al-Hasan and Qatadah both said that this means, "Do you see with your eye, or hear any sound!" This is the end of the Tafsir of Surah Maryam. All praises and thanks are due to Allah.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

98۔ 1 احساس کے معنی ہیں، حس کے ذریعے سے معلومات حاصل کرنا۔ یعنی کیا تو ان کو آنکھوں سے دیکھ سکتا یا ہاتھوں سے چھو سکتا ہے ؟ استفہام انکاری ہے۔ یعنی ان کا وجود ہی دنیا میں نہیں ہے کہ تو انھیں دیکھ یا چھو سکے یا دیکھ سکے یا اس کی ہلکی سی آواز ہی تجھے کہیں سے سنائی دے سکے۔ * حضرت عمر (رض) کے قبول اسلام کے متعدد اسباب بیان کئے گئے ہیں۔ بیض تاریخ وسیر کی روایتات میں اپنی بہن اور بہنوئی کے گھر میں سورة طہ کا سننا اور اس سے مثاثر ہونا بھی مذکور ہے۔ (فتح القدیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ ۔۔ : یہاں گزشتہ آیت میں مذکور سخت جھگڑالو قوم کو ان سے پہلی سخت جھگڑالو قوموں کی ہلاکت کا ذکر کرکے ڈرایا گیا ہے کہ ہم نے ان سے پہلے ایسی کتنی ہی سخت ضدی قوموں کو ہلاک کردیا۔ غور سے دیکھو ! ان میں سے کوئی تمہیں کہیں کھٹکتا ہے، یا اس کی بھنک ہی کان میں پڑتی ہے ؟ یہی حال اس زمانے کے کافروں کا ہونے والا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِ‌كْزًا |"Or hear from them even a whisper|" - 19:98. The word means a faint, unintelligible sound such as a death-rattle. The meaning of the verse is that there have been many kings who ruled vast empires, exercised unlimited authority and lived in great splendor, but when the wrath of Allah caught upon them for their sinful acts, they were annihilated in such a manner that not even a whisper or a feeble motion is now being heard of them. Alhamdulillah The Commentary on Surah Maryam Ends here.

اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا، رکز وہ مخفی آواز ہے جو سمجھ میں نہ آئے جیسے مرنے والے کی زبان لڑکھڑانے کے بعد جو آواز ہوتی ہے مطلب آیت کا یہ ہے کہ یہ سب حکومت و سلطنت والے اور شوکت و حشمت اور طاقت و قوت والے جب اللہ کے عذاب میں پکڑے گئے اور فنا کئے گئے تو ایسے ہوگئے کہ ان کی کوئی مخفی آواز اور حس و حرکت بھی سنائی نہیں دیتی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَكَمْ اَہْلَكْنَا قَبْلَہُمْ مِّنْ قَرْنٍ ۝ ٠ۭ ہَلْ تُـحِسُّ مِنْہُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَہُمْ رِكْزًا۝ ٩٨ۧ هلك الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه : افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] - وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله : وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام . والثالث : الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ مخبرا عن الکفّار : وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] . ( ھ ل ک ) الھلاک یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ایک یہ کہ کسی چیز کا اپنے پاس سے جاتے رہنا خواہ وہ دوسرے کے پاس موجود ہو جیسے فرمایا : هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] ہائے میری سلطنت خاک میں مل گئی ۔ دوسرے یہ کہ کسی چیز میں خرابی اور تغیر پیدا ہوجانا جیسا کہ طعام ( کھانا ) کے خراب ہونے پر ھلک الطعام بولا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] اور کھیتی کو بر باد اور انسانوں اور حیوانوں کی نسل کو نابود کردی ۔ موت کے معنی میں جیسے فرمایا : ۔ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] اگر کوئی ایسا مرد جائے ۔ قرن والقَرْنُ : القوم المُقْتَرِنُونَ في زمن واحد، وجمعه قُرُونٌ. قال تعالی: وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ مِنْ قَبْلِكُمْ [يونس/ 13] ، ( ق ر ن ) قرن ایک زمانہ کے لوگ یا امت کو قرن کہا جاتا ہے اس کی جمع قرون ہے قرآن میں ہے : ۔ وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ مِنْ قَبْلِكُمْ [يونس/ 13] اور تم سے پہلے ہم کئی امتوں کو ۔ ہلاک کرچکے ہیں حسس فحقیقته : أدركته بحاستي، وأحست مثله، لکن حذفت إحدی السینین تخفیفا نحو : ظلت، وقوله تعالی: فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسى مِنْهُمُ الْكُفْرَ [ آل عمران/ 52] ( ح س س ) احسستہ کے اصل معنی بھی کسی چیز کو محسوس کرنے کے ہیں اور احسنت بھی احسست ہی ہے مگر اس میں ایک سین کو تحقیقا حذف کردیا گیا ہے جیسا کہ ظلت ( میں ایک لام مخذوف ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسى مِنْهُمُ الْكُفْرَ [ آل عمران/ 52] جب عیسٰی ( (علیہ السلام) ) نے ان کی طرف سے نافرمانی ( اور نیت قتل ) دیکھی ۔ سمع السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا . ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] ، ( س م ع ) السمع ۔ قوت سامعہ ۔ کا ن میں ایک حاسہ کا نام ہے جس کے ذریعہ آوازوں کا اور اک ہوتا ہے اداس کے معنی سننا ( مصدر ) بھی آتے ہیں اور کبھی اس سے خود کان مراد لیا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ اور کبھی لفظ سماع کی طرح اس سے مصدر ی معنی مراد ہوتے ہیں ( یعنی سننا ) چناچہ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] وہ ( آسمائی باتوں کے ) سننے ( کے مقامات ) سے الگ کردیئے گئے ہیں ۔ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے ۔ اور کبھی سمع کے معنی فہم و تدبر اور کبھی طاعت بھی آجاتے ہیں مثلا تم کہو ۔ اسمع ما اقول لک میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو لم تسمع ماقلت لک تم نے میری بات سمجھی نہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ( یہ کلام ) ہم نے سن لیا ہے اگر چاہیں تو اسی طرح کا ( کلام ) ہم بھی کہدیں ۔ ركز الرِّكْزُ : الصّوت الخفيّ ، قال تعالی: هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزاً [ مریم/ 98] ، ورَكَزْتُ كذا، أي : دفنته دفنا خفيّا، ومنه : الرِّكَازُ للمال المدفون، إمّا بفعل آدميّ كالکنز، وإمّا بفعل إلهيّ کالمعدن، ويتناول الرِّكَازُ الأمرین، وفسّر قوله صلّى اللہ عليه وسلم : «وفي الرِّكَازِ الخمس» «1» ، بالأمرین جمیعا، ويقال رَكَزَ رمحه، ومَرْكَزُ الجند : محطّهم الذي فيه رَكَزُوا الرّماح . ( ر ک ز ) الرکز دھیمی آواز ( یا آہٹ ) کو کہتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزاً [ مریم/ 98] اب تم ان میں سے کسی کو ( بھی ) دیکھتے ہو یا ان کی بھنک بھی سنتے ہو ۔ اور رکزت کذا ۔ کے معنی ہیں میں نے اسے مخفی طور پر دفن کردیا اسی سے الرکاز ہے جس کے معنی دفینہ ہیں ۔ خواہ اسے کسی انسان نے دفن کیا ہو ، جیسے خزانہ وغیرہ یا قدرتی طور پر زمین کے اندر پایا جائے جیسے معدنیات اور الرکاز کا لفظ ان دونوں کو شامل ہے ۔ اور حدیث (159) وفی الرکاز الخمس ( رکاز میں خمس ہے ) میں رکاز کے دونوں معنی بیان کیے گئے ہیں ۔ عام محاورہ ہے :۔ رکز رمحہ اس نے اپنا نیزہ زمین میں گاڑ دیا اور فوج کی فرود گاہ کو مرکز کہا جاتا ہے کیونکہ وہ جہاں ڈیرہ ڈالتے ہیں ۔ وہاں زمین میں اپنے نیزے ( جھنڈے ) گاڑ دیتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٨) ان میں سے کسی کو دیکھتے ہیں یا ان میں سے کسی کی کوئی ہلکی آواز بھی سنتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩٨ (وَکَمْ اَہْلَکْنَا قَبْلَہُمْ مِّنْ قَرْنٍط ہَلْ تُحِسُّ مِنْہُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَہُمْ رِکْزًا ) ” کیا آج قوم ثمود کی کہیں آہٹ سنائی دیتی ہے ؟ یا قوم عاد کا کوئی نام و نشان نظر آتا ہے ؟ ماضی کی تمام نافرمان قوموں کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر کے نسیاً منسیاً کردیا گیا ہے۔ چناچہ قریش مکہّ جو آج کفر و سرکشی میں حد سے بڑھے جا رہے ہیں وہ بھی اسی انجام سے دو چار ہوسکتے ہیں۔ بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(19:98) تحس۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ احساس افعالمصدر تو محسوس کرتا ہے۔ تو آہٹ پاتا ہے۔ تو دیکھتا ہے۔ رکزا۔ کھٹکا ۔ آہٹ ۔ پوشیدہ آواز ۔ آہستہ آواز ۔ بھنک۔ اسم ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یہ کنایہ ہے بےنام و نشان ہونے سے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ ایک سخت جھٹکا ہے۔ اس کے بعد ایک مہیب سکوت اور خاموشی۔ گویا ہم تباہی اور ہلاکت کی وادی میں ہیں اور ان تمام وادویں کو ایک ایک کرکے دیکھ رہے ہیں جن کو صدیوں سے ہلاک و برباد کیا جاتارہا۔ ہلاکتوں کا یہ ایک طویل سلسلہ ہمارے پیش نظر ہے۔ ہمارا خیال ان اقوام کی زندگیوں ‘ ان کی ترقیوں اور رنگا رنگ سرگرمیوں کے ساتھ چلتا ہے۔ بڑے بڑے سہر اور ان میں آبادیاں اور پھر زندگی کی حرکت اور دوڑ دھوپ نظر آتی ہے اور پھر جب ان آبادیوں پر ‘ اللہ کی ہلاکت آتی ہے تو وہاں الو بولتا نظر آتا ہے۔ زندگی یکدم خاموش ہوجاتی ہے۔ ہر طرف موت ہی موت نظر آتی ہے۔ ہر طرف انسانی لاشیں ہیں ؟ ہڈیاں ہیں اور پھر سیاہ مٹی ہے ‘ نہ زندگی ہے ‘ نہ احساس ہے ‘ نہ حرکت ہے ‘ نہ آواز ہے ‘ ھل تحس منھم من احد (٩١ : ٨٩) ” ان میں سے کیا کسی کا احساس تم پاتے ہو “۔ کوئی نام و نشان ہے ؟ ذرا خوب دیکھو ان تہذیبوں کو ‘ اوتسمع لھم رکزا (٩١ : ٨٩) ” یا ان کی بھنک بھی کہیں سنائی دیتی ہے “۔ ذرا کان لگا کر سننے کی کوشش کرو ‘ یہ خوفناک خاموشی ‘ یہ مہیب سناٹا ‘ ذرا دیکھو ‘ یہاں اللہ وحدہ ‘ جی لایموت اور قہارو جبار کے سوا کوئی اور ہے ؟

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آخر میں فرمایا (وَ کَمْ اَھْلَکْنَا قَبْلَھُمْ مِّنْ قَرْنٍ ) (اور ہم نے اس سے پہلے کتنے ہی گروہوں کو ہلاک کردیا) (ھَلْ تُحِسُّ مِنْھُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَھُمْ رِکْزًا) (کیا آپ ان میں سے کسی کو دیکھتے ہیں یا ان میں سے کسی کی کوئی آہٹ سنتے ہیں) ۔ مطلب یہ ہے کہ تکذیب کرنے والی بہت سی امتیں اور جماعت گزر چکی ہیں جو اپنی نافرمانی کی پاداش میں ہلاک کی گئیں آج ان کی کوئی بات سننے میں نہیں آتی وہ کہاں ہیں دنیا میں کیسی کیسی بولیاں بولا کرتے تھے بڑے بڑے دعوے کرتے تھے ہر طرح کی بولتی بند ہوگئی اب نہ کہیں ان کی آواز ہے اور نہ کہیں آہٹ ہے قرآن کی تکذیب کرنے والوں کو ان ہلاک شدہ اقوام سے سبق لینا چاہیے۔ ولقد ثم تفسیر سورة مریم للثالث والعشرین من ذی الحجہ ١٤١٤ ھ من ھجری سیدنا خیرالامام علیہ وعلی الہ وصحبہ الصلوٰۃ والسلام والحمد للہ علی التمام

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

66:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ اس میں خطاب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے۔ تخویف مشرکین کے ضمن میںحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کی ہلاکت کا وعدہ بھی ہے۔ یعنی اس سے قبل ایسے بیشمار معاندین کو ہلاک کرچکے ہیں جن کا دنیا سے نام و نشان مٹ چکا ہے۔ اور ان کا ذکر اذکار بالکلیہ محو ہوچکا ہے، آپ کے دشمنوں کا بھی یہی حشر ہوگا۔ والمعنی اھلکنھم بالکلیۃ واستصلنا ھم بحیث لاتری منھم احدا ولا تسمع منھم صوتا خفیا فضلا عن غیرہ (روح ج 16 ص 144) ۔ سورة مریم میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1 ۔ ” کٓهٰیٰعٓصٓ۔ ذِکْرُ رَحْمَتِ رَبِّکَ عَبْدَهٗ زَکَرِیَّا “ الی آخر الایات۔ نفی تصرف از زکریا علیہ السلام۔ 2 ۔ ” اِنَّمَا اَنَا رَسُوْلُ رَبِّکِ لِاَھَبَ لَکِ غُلَامًا زَکِیًّا “ (رکوع 2) ۔ جبریل (علیہ السلام) متصرف نہ تھے محض پیغام رساں تھے۔ 3 ۔ ” مَا کَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ “ تا ” کُنْ فَیَکُوْنُ “ نفی شرک فی التصرف 4 ۔ ” وَاِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّکُمْ “ تا ” فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْ بَیْنِھِمْ “ مسئلہ توحید تو بالکل واضح ہے لیکن مشرک پیشواؤں نے اس میں اختلاف ڈال دیا۔ 5 ۔ ” وَاذْکُرق فِیْ الْکِتٰبِ اِبْرَاھِیْمَ “ (رکوع 3) تا ” خَرُّوْا سُجَّدًا وَّبُکِیًّا “ (رکوع 4) ۔ نفی الوہیت از انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام۔ 6 ۔ ” فَخَــلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَاتَّـبَعُوا الشَّهَوٰتِ “ (رکوع 4) مسئلہ توحید میں مشرک گدی نشینوں اور راہنماؤں نے اختلاف ڈالدیا۔ 7 ۔ ” وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ “ تا ” وَ مَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا “ (رکوع ) ۔ نفی الوہیت از ملائکہ۔ 8 ۔ ” رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ “ تا ” ھَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا “ نفی شرک فی التصرف۔ 9 ۔ ” وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِھَةً “ تا ” وَ یَکُوْنُوْنَ عَلَیْھِمْ ضِدًّا “ (رکوع 5) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ یہ آیت بزرگوں کی الوہیت کی نفی کر رہی ہے۔ 10 ۔ ” لَا یَمْلِکُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ الرَّحْمٰنِ عَھْدًا “ (رکوع 6) نفی شفاعت قہری۔ 11 ۔ ” وَ قَالُوْا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا “ تا ” اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا “ نفی شرک فی التصرف۔ شرک اتنا بڑا گناہ ہے کہ مشرک شرک کرکے نظام کائنات کو بگارنے کی کوشش کرتا ہے۔ 12 ۔ ” اِنْ کُلُّ مَنْ فیِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّا اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًا “ نفی الوہیت از انبیاء (علیہم السلام) و اولیاء واولیاء وملائ کہ کرام۔ سورة مریم ختم ہوئی

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

98 اور ہم ان سے پہلے بہت سی قوموں اور گروہوں کو تباہ ہلاک کرچکے ہیں سو کیا اے پیغمبر آپ ان ہلاک شدگان میں سے کسی کو دیکھتے اور کسی کی آہٹ پاتے ہیں یا آپ ان میں سے کسی کی ہلکی سی آواز اور بھننگ بھی سنتے ہیں۔ یعنی ایک ڈرانے کا طریقہ یہ بھی ہے کہ سرکش اور معاند قوموں کا انجام ان کو بتائو تاکہ یہ ان تباہ شدہ قوموں کے حالات سن کر عبرت پکڑیں جن کی نہ آج کوئی آواز ہے نہ کوئی آہٹ نہ وہ دیکھنے میں آتے ہیں اور نہ ان کی کوئی آواز سنائی دیتی ہو خواہ وہ آواز کتنی ہی ہلکی اور پست ہو۔ تم تفسیر سورة مریم