Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 101

سورة البقرة

وَ لَمَّا جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمۡ نَبَذَ فَرِیۡقٌ مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ ٭ۙ کِتٰبَ اللّٰہِ وَرَآءَ ظُہُوۡرِہِمۡ کَاَنَّہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾۫

And when a messenger from Allah came to them confirming that which was with them, a party of those who had been given the Scripture threw the Scripture of Allah behind their backs as if they did not know [what it contained].

جب کبھی ان کے پاس اللہ کا کوئی رسول ان کی کتاب کی تصدیق کرنے والا آیا ، ان اہل کتاب کے ایک فرقہ نے اللہ کی کتاب کو اس طرح پیٹھ پیچھے ڈال دیا گو جانتے ہی نہ تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And when there came to them a Messenger from Allah (i.e. Muhammad) confirming what was with them, a party of those who were given the Scripture threw away the Book of Allah behind their backs as if they did not know! As-Suddi commented on, وَلَمَّا جَاءهُمْ رَسُولٌ مِّنْ عِندِ اللّهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ (And when there came to them a Messenger from Allah (i.e. Muhammad) confirming what was with them), "When Muhammad came to them, they wanted to contradict and dispute with him using the Tawrah. However, the Tawrah and the Qur'an affirmed each other. So the Jews gave up on using the Torah, and took to the Book of Asaf, and the magic of Harut and Marut, which indeed did not conform to the Qur'an. Hence Allah's statement, كَأَنَّهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ (As if they did not know!)." Also, Qatadah said that Allah's statement, كَأَنَّهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ (As if they did not know!) means, "They knew the truth but abandoned it, hid it and denied the fact that they even had it." Magic existed before Suleiman (Solomon) Allah tells;

جادو اور شعر کبھی شیاطین کا نام لے کر شیطانی کام سے بھی لوگ کرتے ہیں کبھی دواؤں وغیرہ کے ذریعہ سے بھی جادو کیا جاتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق کہ بعض بیان جادو ہیں دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ بطور تعریف کے آپ نے فرمایا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ بطور مذمت کے یہ ارشاد ہوا ہو کہ وہ اپنی غلط بات اس طرح بیان کرتا ہے کہ سچ معلوم ہوتی ہے جیسے ایک اور حدیث میں ہے کہ کبھی میرے پاس تم مقدمہ لے کر آتے ہو تو ایک اپنی چرب زبانی سے اپنے غلط دعویٰ کو صحیح ثابت کر دیتا ہے وزیر ابو المظفر یحییٰ بن محمد بن ہبیر رحمتہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب الاشراف علی مذاہب الاشراف میں سحر کے باپ میں کہا ہے کہ اجماع ہے کہ جادو ایک حقیقت ہے لیکن ابو حنیفہ اس کے قائل نہیں جادو کے سیکھنے والے اور اسے استعمال میں لانے والے کو امام ابو حنیفہ امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ تو کافر بتاتے ہیں امام ابو حنیفہ کے بعض شاگردوں کا قول ہے کہ اگر جادو کو بچاؤ کے لئے سیکھے تو کافر نہیں ہوتا ہاں جو اس کا اعتقاد رکھے اور نفع دینے والا سمجھے ۔ وہ کافر ہے ۔ اور اسی طرح جو یہ خیال کرتا ہے کہ شیاطین یہ کام کرتے ہیں اور اتنی قدرت رکھتے ہیں وہ بھی کافر ہے ۔ امام شافعی فرماتے ہیں جادوگر سے دریافت کیا جائے اگر وہ بابل والوں کا سا عقیدہ رکھتا ہو اور سات سیارہ ستاروں کو تاثیر پیدا کرنے والا جانتا ہو تو کافر ہے اور اگر یہ نہ ہو تو بھی اگر جادو کو جائز جانتا ہو تو بھی کافر ہے امام مالک اور امام احمد کا قول یہ بھی ہے کہ جادوگر نے جب جادو کیا اور جادو کو استعمال میں لایا وہیں اسے قتل کر دیا جائے امام شافعی اور امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ اس کا قتل بوجہ حد کے ہے مگر امام شافعی کا بیان ہے کہ بوجہ قصاص کے ہے امام مالک امام ابو حنفیہ اور ایک مشہور قول میں امام احمد کا فرمان ہے کہ جادوگر سے توبہ بھی نہ کرائی جائے اس کی توبہ سے اس پر سے حد نہیں ہٹے گی اور امام شافعی کا قول ہے کہ اس کی توبہ مقبول ہو گی ۔ امام احمد کا ہی صحیح قول ہے ۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ اہل کتاب کا جادوگر بھی امام ابو حنیفہ کے نزدیک قتل کر دیا جائے گا لیکن تینوں اور اماموں کا مذہب اس کے برخلاف ہے لبید ین اعصم یہودی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا تھا اور آپ نے اس کے قتل کرنے کو نہیں فرمایا اگر کوئی مسلمان عورت جادوگرنی ہو تو اس کے بارے میں امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ وہ قید کر دی جائے اور تینوں کہتے ہیں اسے بھی مرد کی طرح قتل کر دیا جائے واللہ اعلم حضرت زہری کا قول ہے کہ مسلمان جادوگر قتل کر دیا جائے اور مشرک قتل نہ کیا جائے ۔ امام مالک فرماتے ہیں اگر ذمی کے جادو سے کوئی مر جائے تو ذمی کو بھی مار ڈالنا چاہئے یہ بھی آپ سے مروی ہے کہ پہلے تو اسے کہا جائے کہ توبہ کر اگر وہ کر لے اور اسلام قبول کرے تو خیر ورنہ قتل کر دیا ائے اور یہ بھی آپ سے مروی ہے کہ اگرچہ اسلام قبول کر لے تاہم قتل کر دیا جائے اس جادوگر کو جس کے جادو میں شرکیہ الفاظ ہوں اسے چاروں امام کافر کہتے ہیں کیونکہ قرآن میں ہے فلاتکفر امام مالک فرماتے ہیں جب اس پر غلبہ پا لیا جائے پھر وہ توبہ کرے تو توبہ قبول نہیں ہو گی جس طرح زندیق کی توبہ قبول نہیں ہو گی ہاں اس سے پہلے اگر توبہ کر لے تو قبول ہو گی اگر اس کے جادو سے کوئی مر گیا پھر تو بہر صورت مارا جائے گا امام شافعی فرماتے ہیں اگر وہ کہے کہ میں نے اس پر جادو مار ڈالنے کے لئے نہیں کیا تو قتل کی خطا کی دیت ( جرمانہ ) لے لیا جائے ۔ جادوگر سے اس کے جادو کو اتروانے کی حضرت سعید بن مسیب نے اجازت دی ہے جیسے صحیح بخاری شریف میں ہے عامر شعبی بھی اس میں کوئی حرج نہیں بتلاتے لیکن خواجہ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ اسے مکروہ بتاتے ہیں ۔ حضرت عائشہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا تھا کہا آپ کیوں جادو کو افشاء نہیں کرتے؟ تو آپ نے فرمایا مجھے تو اللہ تعالیٰ نے شفا دے دی اور میں لوگوں پر برائی افشاء کرنے سے ڈرتا ہوں ۔ حضرت وہب فرماتے ہیں بیری کے سات پتے لے کر سل بٹے پر کوٹ لئے جائیں اور پانی ملا لیا جائے پھر آیت الکرسی پڑھ کر اس پر دم کر دیا جائے اور جس پر جادو کیا گیا ہے اسے تین گھونٹ پلا دیا جائے اور باقی پانی سے غسل کر دیا جائے انشاء اللہ جادو کا اثر جاتا رہے گا یہ عمل خصوصیت سے اس شخص کے لئے بہت ہی اچھا ہے جو اپنی بیوی سے روک دیا گیا ہو جادو کو دور کرنے اور اس کے اثر کو زائل کرنے کے لئے سب سے اعلیٰ چیز آیت ( قل اعوذ برب الناس ) اور آیت ( قل اعوذب برب الفلق ) کی سورتیں ہیں حدیث میں ہے کہ ان جیسا کوئی تعویذ نہیں اسی طرح آیت الکرسی بھی شیطان کو دفع کرنے میں اعلیٰ درجہ کی چیز ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

101۔ 1 اللہ تعالیٰ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کرتے ہوئے فرما رہا ہے کہ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہت سی آیات بیّنات عطا کی ہیں، جن کو دیکھ کر یہود کو بھی ایمان لے آنا چاہیے تھا۔ علاوہ ازیں خود ان کی کتاب تورات میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف کا ذکر اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا عہد موجود ہے، لیکن انہوں نے پہلے بھی کسی عہد کی کب پرواہ کی ہے جو اس عہد کی وہ کریں گے ؟ عہد شکنی ان کے گروہ کی ہمیشہ عادت رہی ہے۔ حتٰی کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو بھی اس طرح پس پشت ڈال دیا، جیسے وہ اسے جانتے ہی نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١٧] یہود کا آیات کو پس پشت ڈال دینا :۔ یہاں دوبارہ یہود کے اس کردار پر گرفت کی گئی ہے کہ تورات میں مذکور نشانیوں کے مطابق یہود نے نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پوری طرح پہچان تو لیا۔ مگر ایمان لانے سے انکار کرنے کے بعد انہوں نے اس کتاب کے ان حصوں کو یوں فراموش کردیا جیسے وہ انہیں کبھی جانتے ہی نہ تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

3 یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں وہ تمام اوصاف موجود تھے جو تورات اور دوسری آسمانی کتب ” لِّمَا مَعَھُمْ “ میں نبی آخر الزمان کے مذکور تھے۔ اس اعتبار سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تورات اور ان کے پاس موجود دوسری آسمانی کتب ” لِّمَا مَعَھُمْ “ کے پوری طرح مصداق تھے، مگر یہود کی بدنصیبی کہ جب آپ ان کے پاس آئے تو انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلا کر تورات کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا، گویا انھیں اپنی کتاب کا بھی پتا نہیں۔ (ابن کثیر)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The previous verse had told us how the breaking of pledges and disobedience had become a regular habit with the Jews. The present verse gives us the latest instance, which is the most relevant to the context. The Torah had already given the Jews the good tidings of the coming of the Holy Prophet . When he actually came with all signs which the Torah had indicated, thus confirming the Sacred Book of the Jews, a large number of them refused to accept him as a prophet. In doing this, they were, in fact, denying the Torah itself, and behaving as if they know nothing of the prophecy, or even the Torah being a Book of Allah. Thus, they were being guilty of infidelity (Kufr) even in terms of the Torah itself.

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَمَّا جَاۗءَھُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ نَبَذَ فَرِيْـقٌ مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ۝ ٠ ۤۙ كِتٰبَ اللہِ وَرَاۗءَ ظُہُوْرِھِمْ كَاَنَّھُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۝ ١٠١ ۡ لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ اسم ظرف ک طورپر استعمال ہوتا ہے ۔ اور یہ قرآن میں بکژت آیا ہے ۔ جیسے فرمایا : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] جب خوشخبری دینے والا آپہنچا۔ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] وقال : وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفاً [ المرسلات/ 1] ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ ۔ وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفاً [ المرسلات/ 1] قسم ہے ان فرشتوں کی جو پیام الہی دے کر بھیجے جاتے ہیں عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو وراء ( وَرَاءُ ) إذا قيل : وَرَاءُ زيدٍ كذا، فإنه يقال لمن خلفه . نحو قوله تعالی: وَمِنْ وَراءِ إِسْحاقَ يَعْقُوبَ [هود/ 71] ، ( و ر ی ) واریت الورآء کے معنی خلف یعنی پچھلی جانب کے ہیں مثلا جو زہد کے پیچھے یا بعد میں آئے اس کے متعلق ورآء زید کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ وَراءِ إِسْحاقَ يَعْقُوبَ [هود/ 71] اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوش خبری دی ۔ ظهر الظَّهْرُ الجارحةُ ، وجمعه ظُهُورٌ. قال عزّ وجل : وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتابَهُ وَراءَ ظَهْرِهِ [ الانشقاق/ 10] ( ظ ھ ر ) الظھر کے معنی پیٹھ اور پشت کے ہیں اس کی جمع ظھور آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتابَهُ وَراءَ ظَهْرِهِ [ الانشقاق/ 10] اور جس کا نام اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائیگا علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠١) اور جس وقت ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایسا رسول آتا ہے جو ان صفات واوصاف کا مالک ہوتا ہے جن ان کی کتاب میں تذکرہ ہے تو یہ اہل کتاب توریت کو اپنے پس پشت ڈال دیتے ہیں اور توریت میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جو صفات اور آپ کے اوصاف کا ذکر ہے، ان پر ایمان نہیں لاتے اور نہ کسی کے سامنے ان کو بیان کرتے ہیں۔ ان جاہل یہودیوں نے تمام انبیاکرام کی کتابوں کو پس پشت ڈال دیا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠١ (وَلَمَّا جَآءَ ‘ ہُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ) (مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمْ ) (نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ ق کِتٰبَ اللّٰہِ وَرَآءَ ظُہُوْرِہِمْ ) (کَاَنَّہُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ) ۔ علماء یہود نے نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد کی پیشین گوئیاں چھپانے کی خاطر خود تورات کو پس پشت ڈال دیا اور بالکل انجانے سے ہو کر رہ گئے۔ ان کے عوام پوچھتے ہوں گے کہ کیا یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر تم کیا کرتے تھے ؟ لیکن یہ جواب میں کہتے کہ یقین سے نہیں کہہ سکتے ‘ ابھی تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو ! انہوں نے ایسا رویہ اپنا لیا جیسے انہیں کچھ علم نہیں ہے۔ اب ایک اور حقیقت نوٹ کیجیے۔ جب کسی مسلمان امت میں دین کی اصل حقیقت اور اصل تعلیمات سے بعد پیدا ہوتا ہے تو لوگوں کا رجحان جادو ‘ ٹونے ‘ ٹوٹکے ‘ تعویذ اور عملیات وغیرہ کی طرف ہوجاتا ہے۔ اللہ کی کتاب تو ہدایت کا سرچشمہ بن کر اتری تھی ‘ لیکن یہ اس کو اپنی دنیوی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بناتے ہیں۔ چناچہ دشمن کو زیر کرنے اور محبوب کو قدموں میں گرانے کے لیے عملیات قرآنی کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یہ دھندے ہمارے ہاں بھی خوب چل رہے ہیں اور شاید سب سے زیادہ منفعت بخش کاروبار یہی ہے ‘ جس میں نہ تو کوئی محنت کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی سرمایہ کاری کی۔ بنی اسرائیل کا بھی یہی حال تھا کہ وہ دین کی اصل حقیقت کو چھوڑ کر جادو کے پیچھے چل پڑے تھے۔ فرمایا :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:101) لما جب۔ لما کئی طرح سے استعمال ہوتا ہے۔ (1) بطور حرف شرط۔ اس صورت میں ماضی کے دو و جملوں پر آتا ہے مثلاً آیت ہذا کہ ماضی کے دو جملوں جاء ہم رسول ۔۔ نبذ فریق جو بالترتیب جملہ شرطیہ، جملہ جزائیہ ہیں۔ یا اور جگہ قرآن مجید میں ہے فلما نجکم الی البر اعرضتم (17:67) پھر جب وہ (ڈوبنے سے) بچا کر تم کو خشکی کی طرف لے آیا تم نے منہ پھیرلیا۔ جب کے معنی میں اسم ظرف بھی ہے۔ ای۔ اذ (2) بطور حرف استثناء بمعنی الا مگر۔ مثلاً ان کل نفس لما علیہا حافظ (86:4) کوئی نفس نہیں مگر اس پر نگران (فرشتہ) مامور ہے (3) حرف جازم فعل، مضارع پر داخل ہوکر اس کو جزم دیتا ہے اور مضارع کو ماضی منفی مؤکد کردیتا ہے۔ (ا) ماضی فعل کی نفی زمانہ حال تک باستمرار چلی آتی ہے۔ (ب) جس فعل کی نفی ہوتی ہے اس کے ثبوت (یعنی ہوجانے) کی توقع رہتی ہے۔ مثلاً (1) بل لما یذوفوا عذاب (38:8) بلکہ انہوں نے میرے عذاب کا مزہ ابھی تک چکھا ہی نہیں (گو ان کو یہ مزہ چکھنا متوقع ہے) (2) ولما یدخل الایمان فی قلوبکم (49:14) اور ایمان تو ہنوز تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا و (گو اس کا تمہارے دلوں میں داخل ہونا متوقع ہے) (3) لما یہ لم یلم (باب نصر) کا مصدر بھی ہے۔ اپنا اور دوسروں کا حصہ کھا لینا لممت اجمع۔ میں نے سب سمیٹ لیا۔ قرآن مجید میں ہے وتاکلون التراث اکلالما (90:19) اور تم میراث کے مال کو سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔ (نیز ملاحظہ ہو 2:214) لما جاء ۔۔ ما معہم۔ جملہ شرطیہ اور بنذ فریق ۔۔ ظھورہم جواب شرط اور کا لہم لا یعلمون موضع حال میں ہے مصدق۔ صفت ہے رسول کی۔ ما معھم۔ موصول وصلہ مل کر مجرور ہے لام حرف جار کا ۔ اور مجرور مل کر متعلق مصدق کا۔ کانھم لا یعلمون ۔ کان حرف مشبہ بالفعل ۔ ھم اس کا اسم لا یعلمون فعل بافعل ہے ۔ فعل اپنے فاعل کے ساتھ مل کر جملہ فعلیہ خبر یہ ہو کر کان کی خبر۔ کان اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہوکر فریق سے حال ہے۔ گویا وہ جانتے ہی نہیں۔ ورائ۔ اصل میں مصدر ہے جس کو بطور ظرف استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی اضافت فاعل کی طرف بھی ہوتی ہے اور مفعول کی طرف بھی۔ اس کا معنی ہے آڑ۔ حد فاصل۔ کسی چیز کا آگے یا پیچھے ہونا۔ علاوہ اور سوا ہونا۔ کتب اللہ وراء ظھورھم۔ انہوں نے کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا۔ یعنی قابل اعتنا نہ سمجھتے ہوئے اس پر عمل نہ کیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ج 6 یعنی تورات اور دیگر آسمانی کتب لما معھم) میں نبی آخرالز مان کے جو اوصاف مذکور تھے وہ سب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں موجود تھے۔ اس اعتبار سے آنحضرت تورات اور مامعھم کے مصداق تھے مگر یہود کی بدنصیبی کہ انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کر کے تورات کو پس پشت ڈال دیا۔ گو یا اپنی کتاب کا بھی پتہ نہیں۔ (ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ ہے صفت ایک شریف ، راستباز اور اصول پرست جماعت کی ۔ اس سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہوجاتی ہے کہ بدکردار یہودیوں کے اخلاق اور راستباز مسلمانوں کے اخلاق کے درمیان کیا فرق ہوتا ہے ۔ وَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِيقٌ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ كِتَابَ اللَّهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لا يَعْلَمُونَ (١٠١) ” اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی رسول اس کتاب کی تصدیق وتائید کرتا ہوا آیا جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی تو ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتاب اللہ کو اس طرح پس پشت ڈالا کہ وہ گویا وہ کچھ جانتے ہی نہیں۔ “ یہ وعدہ خلافی کی ایک مثال ہے جس کا ارتکاب ان میں سے ایک فریق نے کیا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے جو عہد لیا تھا اس کی ایک شق یہ بھی ہے کہ آئندہ جو بھی رسول بھیجے جائیں گے تم ان پر ایمان لاؤگے ۔ ان کا احترام کروگے اور ان کی مدد کروگے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے نبی آخرالزمان کے ذریعے ان کے پاس اپنی کتاب (قرآن) کو بھیجا تو ان اہل کتاب میں سے ایک فریق نے اسے پس پشت ڈال دیا ۔ اس طرح انہوں نے ایک تو ایسی کتاب الٰہی کا انکار کیا جو خود ان کے پاس تھی اور جس کے اندر حضور کے بارے میں پیشن گوئیاں موجود تھیں ۔ اور انہوں نے ان پیشن گوئیوں کو پس پشت ڈالا اور دوسرے رسول اللہ پر جو نئی کتاب اتری اسے بھی پس پشت ڈال دیا۔ اس آیت میں اہل کتاب پر ایک لطیف طنز بھی مقصود ہے۔ یعنی کتاب اللہ کو مشرکین رد کردیتے تو ان سے یہ کوئی امر مستعبد نہ تھا لیکن ان بدبختوں نے اہل کتاب ہوتے ہوئے بھی سے رد کردیا ۔ وہ رسالت اور رسولوں سے اچھی طرح واقف تھے ۔ ہمیشہ ہدایت کے سرچشموں سے وہ وابستہ رہے ۔ ہمیشہ روشنی ان کی نظروں میں رہی لیکن صاحب ہدایت اور صاحب بصیرت ہوتے ہوئے انہوں نے کیا کیا ؟ کتاب الٰہی کو پشت ڈال دیا یعنی انہوں نے کتاب کا انکار کیا اور اس پر عمل کرنا چھوڑ دیا ۔ انہوں نے کتاب اللہ کو اپنی فکر اور اپنی زندگی سے خارج کردیا۔ یہاں قرآن کریم نے ان کے انکار اور بےعملی کے ذہنی مفہوم کو ایک خالص حسی انداز میں پیش فرمایا ہے۔ ذہنی مفہوم اب ایک معنویت کے دائرے سے نکل کر محسوسات کے دائرے میں آجاتا ہے ۔ ان کے اس عمل کو ایک محسوس جسمانی حرکت سے تعبیر کیا گیا اور اس کی ایسی قبیح اور بدشکل تصویر کھینچی جاتی ہے کہ اس سے انکار جحود ٹپکے پڑتے ہیں ۔ اس تصور میں وہ نہایت ہی غلیظ القلب اور احمق نظر آتے ہیں ۔ گستاخی اور گندگی اور ذلت کا مجسمہ نظر آتے ہیں ۔ اس تصویر کشی سے انسانی تخیل ایک شدید حرکت کو دیکھتا ہے گویا کچھ ہاتھ حرکت میں آتے ہیں اور کتاب الٰہی کو پش پشت ڈال دیتے ہیں ۔ ایسی کتاب کی تکذیب کے بعد خود اس وحی کی تصدیق کررہی تھی جو ان کے پاس موجود تھی ، پھر کیا ہوا ؟ غالبًا انہوں نے اس ناقابل شکست سچائی کو قبول کرلیا ہوگا یا اس کے برعکس انہوں نے خود اس ہدایت ہی کا دامن تھام لیا ہوگا جس کی تصدیق یہ قرآن کریم بھی کررہا تھا۔ وہ خود بھی اس پر ایمان لائے ہوئے تھے۔ ہرگز نہیں ! نہ صرف یہ کہ انہوں نے ان میں سے کوئی ایک معقول روش اختیار کی بلکہ انہوں نے اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈالا اور ایسی ناقابل فہم موہوم اعجوبوں اور دقیانوسی باتوں کے پیچھے پڑگئے ۔ جن کی کوئی حقیقت نہ تھی نہ وہ باتیں کسی یقینی اساس پر مبنی تھیں ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل کتاب نے کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا اس آیت شریفہ میں یہودیوں کی اس بات کا ذکر ہے کہ جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم المرتبہ رسول آیا یعنی حضرت محمد مصطفیٰ خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس رسول نے اس کتاب کی تصدیق بھی کی جسے یہود مانتے تھے اور اس کو اللہ کی کتاب جانتے تھے (یعنی توریت شریف) تو ان لوگوں نے دونوں کتابوں میں مطابقت ہوتے ہوئے اللہ کی کتاب توریت شریف کو پس پشت ڈال دیا۔ قرآن کو تو قبول کیا ہی نہیں اور توریت شریف کے بھی منحرف ہوگئے اور اس میں جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات بیان کی گئی تھیں۔ ان کے اظہار کے بجائے ان کو پوشیدہ کرلیا اور اس سے منکر اور منحرف ہوئے کہ گویا وہ جانتے ہی نہیں ہیں کہ توریت اللہ کی کتاب ہے اور انہیں پتہ ہی نہیں ہے کہ اس میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے دلائل موجود ہیں۔ (کذافی الروح ص ٣٣٦ ج ١)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

دوسرے شبہ کا جواب :۔ 192 رسول سے مراد حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ جب ان اسرائیلیوں کے پاس خدا کا پیغمبر ایسا پیغام لے کر آیا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور تورات کی تصدیق کرتا ہے اور جو دعوت توحید اور اصول دین انہوں نے بیان کیے ہیں ان کی تائید و توثیق کرتا ہے۔ صدق مافیھا من قواعد التوحید و اصول الدین واخبار الامم والمواعظ والحکم (روح ص 336 ج 1) نَبَذَ فَرِيْقٌ مِّنَ الَّذِيْنَ ۔ یہ لَمَّا کا جواب ہے اور الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ ۔ سے مراد یہی یہودی ہیں اور كِتٰبَ اللّٰهِ ۔ سے تورات مراد ہے اور نَبَذَ کا مفعول ہے یعنی جب اللہ کا سچا پیغمبر تورات کی تصدیق کرتا ہوا ان کے پاس آیا تو ان تورات پر ایمان کے دعویداروں نے تورات کے احکام کو ٹھکرا دیا اور ان کی ذرا پروا نہ کی۔ تورات میں اس سے آخری نبی کے ظہور کی پیشگوئی اور آپ کی صفات و علامات موجود تھیں اور تورات میں یہ حکم بھی موجود تھا کہ جب یہ نبی ظاہر ہو تو اس پر ایمان لانا۔ اور یہودیوں کے علما اچھی طرح جانتے تھے کہ تورات میں جس پیغمبر کا ذکر ہے وہ آپ ہی ہیں مگر اس کے باوجود آپ کو نہ مانا اور تورات کے حکم کو پس پشت ڈال دیا۔ كَاَنَّھُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ۔ انہوں نے تورات کے حکم کی اس طرح لاپرواہی کی اور اسے اس طرح ٹھکرا دیا گویا کہ وہ جانتے ہی نہیں ہیں کہ وہ اللہ کی کتاب ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اور بلاشبہ ہم نے آپ کی جانب بہت سے دلائل واضح نازل فرمائے ہیں اور ایسے دلائل وبراہین کا کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا مگر وہی شخص جو نافرمانی اور عدول حکمی کا عادی ہو اور کیا یہ امر واقعہ نہیں ہے کہ جب کبھی بھی ان لوگوں نے کوئی عہد کیا تو ان ہی میں سے ایک جماعت نے اس عہد کو توڑ پھینکا بلکہ ان میں اکثر تو ایسے ہیں کہ وہ اس عہد کا یقین ہی نہیں رکھتے اور جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ رسول تشریف لائے جو اس کتاب کی جوان کے پاس ہے تصدیق بھی فرماتے ہیں تو ان ہی اہل کتاب میں سے ایک فریق نے اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی توریت کو اس پس پشت ڈال دیا کہ گویا ان کو بالکل اس کتاب کے احکام کا علم ہی نہیں ۔ (تیسیر) یہود عام طور سے دلیل مانگا کرتے تھے ارشاد ہوا اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے تو آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جو دلائل واضحہ اور براہین ساطعہ سے لبریز ہے اور اس کا ایک ایک لفظ اعجاز ہے کوئی ہوشمند جس میں ذرا سی بھی قابلیت ہو ایسے محکم دلائل کا منکر نہیں ہوسکتا مگر ہاں ایسے فاسق ہی ان دلائل کا انکار کرسکتے ہیں جو نافرمانی کے عادی ہوچکے ہوں اور ان یہود کی حالت تو یہ ہے کہ جب کبھی انہوں نے کوئی عہد کیا ہوگا تب ہی ان ہی میں سے کسی نہ کسی فریق نے اس کو توڑاہو گا۔ ان کی عادت ہی یہ ہے کہ ان تسلیم شدہ عہود و مواثیق کو توڑتے رہے ہیں جو ان کو بھی تسلیم تھے بلکہ ان میں سے اکثر تو ایسے ہیں کہ جو ان عہد و پیمان کا یقین بھی نہیں رکھتے۔ یہی حالت آج اس عہد کی کر رہے ہیں جو یہ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں کرچکے ہیں کہ آج توریت الٰہی کو ایسا پشت ڈال دیا ہے جیسا اس کو جانتے ہی نہیں آخر توریت میں ان کا ذکر موجود ہے اور ان کو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ توریت کا مصدق ہوگا اور جب وہی مصدق آیا تو انہوں نے اس کو نہیں مانا اور اپنی کتاب تک کو فراموش کردیا۔ خلاصہ یہ ہوا کہ قرآن تو قرآن یہ تو توریت کے بھی منکر ہیں آگے ان کی اور حرکات کفر یہ کا بیان فرماتے ہیں۔ (تسہیل)