Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 103

سورة البقرة

وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ اٰمَنُوۡا وَ اتَّقَوۡا لَمَثُوۡبَۃٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ خَیۡرٌ ؕ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾٪  12

And if they had believed and feared Allah , then the reward from Allah would have been [far] better, if they only knew.

اگر یہ لوگ صاحب ایمان متقی بن جاتے تو اللہ تعالٰی کی طرف سے بہترین ثواب انہیں ملتا ، اگر یہ جانتے ہوتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And how bad indeed was that for which they sold their own selves, if they but knew. And if they had believed and guarded themselves from evil and kept their duty to Allah, far better would have been the reward from their Lord, if they but knew! Allah stated, وَلَبِيْسَ (And how bad) meaning, what they preferred, magic, instead of faith and following the Messenger, if they but comprehend the advice. وَلَوْ أَنَّهُمْ امَنُواْ واتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِّنْ عِندِ اللَّه خَيْرٌ And if they had believed and guarded themselves from evil and kept their duty to Allah, far better would have been the reward from their Lord, meaning, "Had they believed in Allah and His Messenger and avoided the prohibitions, then Allah's reward for these good deeds would have been better for them than what they chose and preferred for themselves." Similarly, Allah said, وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّهِ خَيْرٌ لِّمَنْ ءَامَنَ وَعَمِلَ صَـلِحاً وَلاَ يُلَقَّاهَأ إِلاَّ الصَّـبِرُونَ But those who had been given (religious) knowledge said: "Woe to you! The reward of Allah (in the Hereafter) is better for those who believe and do righteous good deeds, and this none shall attain except As-Sabirun (the patient in following the truth)." (28:80)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢٢] عالم بےعمل جاہل ہے :۔ پہلی آیت میں فرمایا کہ && یہود کو اس بات کا علم تھا اور اس آیت میں فرمایا && کاش وہ جانتے ہوتے۔ && اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی عالم اپنے علم کے خلاف گناہ کا کام کرتا ہے تو وہ درحقیقت عالم نہیں بلکہ جاہل ہے۔ لہذا وہ عالم کہلانے کا مستحق نہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَمَثُوْبَةٌ ) اس میں تنوین تقلیل کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ” تھوڑا ثواب “ کیا گیا ہے۔ پچھلی آیت میں ہے : ” وَلَقَدْ عَلِمُوْا “ یعنی یہود جانتے تھے، یہاں فرمایا : ( لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ )” کاش وہ جانتے ہوتے “ اس سے معلوم ہوا کہ علم پر عمل نہ کرنے والا درحقیقت عالم ہی نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَوْ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَمَثُوْبَۃٌ مِّنْ عِنْدِ اللہِ خَيْرٌ۝ ٠ ۭ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ۝ ١٠٣ ۧ لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، وَوَقاهُمْ عَذابَ الْجَحِيمِ [ الدخان/ 56] ، وَما لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ واقٍ [ الرعد/ 34] ، ما لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا واقٍ [ الرعد/ 37] ، قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ ناراً [ التحریم/ 6] ( و ق ی ) وقی ( ض ) وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] تو خدا ان کو بچا لیگا ۔ التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ وَوَقاهُمْ عَذابَ الْجَحِيمِ [ الدخان/ 56] اور خدا ان کو دوزخ کے عذاب سے بچالے گا ۔ وَما لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ واقٍ [ الرعد/ 34] اور ان خدا کے عذاب سے کوئی بھی بچانے والا نہیں ۔ ما لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا واقٍ [ الرعد/ 37] تو خدا کے سامنے نہ کوئی تمہارا مدد گار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا ۔ قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ ناراً [ التحریم/ 6] اپنے آپ کو اور اپنے اہل عیال کو آتش جہنم سے بچاؤ ۔ ثوب أصل الثَّوْب : رجوع الشیء إلى حالته الأولی التي کان عليها، أو إلى الحالة المقدّرة المقصودة بالفکرة، وهي الحالة المشار إليها بقولهم : أوّل الفکرة آخر العمل . فمن الرجوع إلى الحالة الأولی قولهم : ثَابَ فلان إلى داره، وثَابَتْ إِلَيَّ نفسي، وسمّي مکان المستسقي علی فم البئر مَثَابَة، ومن الرجوع إلى الحالة المقدرة المقصود بالفکرة الثوب، سمّي بذلک لرجوع الغزل إلى الحالة التي قدّرت له، وکذا ثواب العمل، وجمع الثوب أَثْوَاب وثِيَاب، وقوله تعالی: وَثِيابَكَ فَطَهِّرْ [ المدثر/ 4] ( ث و ب ) ثوب کا اصل معنی کسی چیز کے اپنی اصلی جو حالت مقدمہ اور مقصود ہوتی ہے اس تک پہنچ جانا کے ہیں ۔ چناچہ حکماء کے اس قول اول الفکرۃ اٰخرالعمل میں اسی حالت کی طرف اشارہ ہے یعنی آغاز فکر ہی انجام عمل بنتا ہے ۔ چناچہ اول معنی کے لحاظ سے کہا جاتا ہے ۔ شاب فلان الی درہ ۔ فلاں اپنے گھر کو لوٹ آیا ثابت الی نفسی میری سانس میری طرف ہوئی ۔ اور کنوئیں کے منہ پر جو پانی پلانے کی جگہ بنائی جاتی ہے اسے مثابۃ کہا جاتا ہے اور غور و فکر سے حالت مقدرہ مقصود تک پہنچ جانے کے اعتبار سے کپڑے کو ثوب کہاجاتا ہے کیونکہ سوت کاتنے سے عرض کپڑا بننا ہوتا ہے لہذا کپڑا بن جانے پر گویا سوت اپنی حالت مقصود ہ کی طرف لوٹ آتا ہے یہی معنی ثواب العمل کا ہے ۔ اور ثوب کی جمع اثواب وثیاب آتی ہے اور آیت کریمہ ؛۔ وَثِيابَكَ فَطَهِّرْ [ المدثر/ 4] اپنے کپڑوں کو پاک رکھو ۔ عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر) زیر بحث آیت میں مذکورہ ساحر کفر کے اسم کا مستحق ہے۔ اس کی دلیل یہ قول باری ہے : واتبعوا ماتتلوا الشیاطین علی ملک سلیمان وما کفر سلیمان (اور وہ ان چیزوں کی پیروی کرنے لگے جو شیاطین سلیمان کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے حالانکہ سلیمان نے کبھی کفر نہیں کیا) یعنی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے عہد میں۔ یہ بات حضرات مفسرین سے مروی ہے قول باری تتلوا اس کا مفہوم ہے۔” خبر دیتے اور پڑھتے تھے۔ “ قول باری : وما کفر سلیمان ولکن الشیاطین کفروا (حالانکہ سلیمان نے کفر نہیں کیا، کفر کے مرتکب تو یہ شیاطین ہوئے تھے۔ ) اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ شیاطین حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے نام سے جن باتوں کی خبر دیتے اور جس جادوگری کا دعویٰ کرتے تھے وہ کفر کی صورت تھی، اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے اس کی نفی کردی اور سا پر عمل کرنے والے شیاطین پر کفر کا حکم عائد کردیا۔ اور اس پر اپنے اس قول کو عطف کیا۔ وما انزل علی الملکین ببابل ھاروت و ماروت وما یعلمان من احد حتی یقولآ انما نحن فتنہ فلا تکفر (وہ پیچھے پڑے اس چیز کے جو بایل میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر نازل کی گئی تھی حالانکہ وہ (فرشتے) جب بھی کسی کو اس کی تعلیم دیتے تھے تو پہلے صاف طور پر متنبہ کردیا کرتے تھے کہ ” دیکھو، ہم محض ایک آزمائش ہیں، تو کفر میں مبتلا نہ ہو۔ ) یہاں اللہ تعالیٰ نے ان دونوںں فرشتوں کے بارے میں بتادیا کہ وہ جس شخص کو اس کی تعلیم دیتے اس سے پہلے کہتے کہ ” اس جادو کے عمل اور اس کے اعتقاد کے ذریعے کفر نہ کر “ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس کا عمل کرنا نیز اعتقاد رکھنا کف رہے۔ پھر فرمایا : ولقد علموا لمن اشتراہ مالہ فی الاخرۃ من خلاق (اور انہیں خوب معلوم تھا کہ جو اس چیز کا خریدا رہنا اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے) یعنی جو شخص اللہ کے دین کے بدلے جادوگری لے لے آخرت میں اس کے لئے کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ پھر فرمایا : ولبئس ماشروابہ انفسھم لوکانوا یعلمون، ولوا انھم امنوا واتقوآ لمثوبۃ من عند اللہ خیر لو کانوا یعلمون۔ (کتنی بری متاع تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا۔ کاش انہیں معلوم ہوتا۔ اگر وہ ایمان اور تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ کے ہاں اس کا جو بدلہ ملتا وہ ان کے لئے زیادہ بہتر تھا، کاش انہیں خبر ہوتی۔ ) اللہ تعالیٰ نے جادوگری کو ایمان کے ضد قمرار دیا کیونکہ اس نے ایمان کو جادوگری کے بالمقابل کردیا اور یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ جادوگر کافر ہے اور جب اس کا کفر ثابت ہوگیا تو اگر وہ اس سے پہلے مسلمان ہو یا کسی وقت اس کی طرف سے اسلام کا اظہار ہوا ہو تو وہ جادوگری کی بنا پر کافر ہو کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد :” جو شخص اپنا دین بدل ڈالے اسے قتل کردو۔ “ کے تحت قتل کا مستحق قرار پائے گا۔ امام ابوحنیفہ نے حسن بن زیاد کی روایت کے مطابق فرمایا ہے کہ اسے قتل کردیا جائے گا اور سا کی توبہ تسلیم نہیں کی جائے گی اور ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے اصحاب میں سے کسی نے حسن کی مذکورہ روایت کی مخالفت کی ہے۔ امام ابو یوسف نے روایت بیان کی ہے کہ امام ابوحنیفہ نے ساحر اور مرتد کے درمیان فرق کیا ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ساحر اپنے کفر کے ساتھ فساد فی الارض کی سعی کو شامل کرلیتا ہے۔ یہاں اگر کوئی کہے کہ آپ گلا گھونٹنے والے نیز محارب پر صرف اس وقت قتل کا حکم عائد کرتے ہیں جب وہ قتل کا ارتکاب کریں۔ یہی حکم آپ جادوگر پر کیوں نہیں عائد کرتے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ دونوں کے مابین اس اعتبار سے فرق ہے کہ گلا گھونٹنے والا نیز محارب ارتکاب قتل سے پہلے اور نہ ہی اس کے بعد کفر کرتے ہیں اس لئے وہ قتل کے سزا وار نہیں ہوں گے۔ بشرطیکہ ان سے کوئی ایسا سبب وجود میں نہ آئے جس کی بنا پر انہیں قتل کا مستحق گردانا جائے۔ رہ گیا جادو گر تو وہ اپین جادوگری کی بنا پر قتل کا سزا وار ہوجائے گا خواہ وہ اپنے جادو سے کسی کو قتل کرے یا نہ کرے، اپنے کفر کے ساتھ وہ چونکہ زمین میں فساد مچانے والا بھی ہوگا، اس لئے اس کے قتل کا وجوب حد کے طور پر ہوگا اور یہ حدتوبہ کی بنا پر اس سے ساقط نہیں ہوگی جس طرح محارب اگر قتل کا مستحق ہوجائے تو توبہ کی بنا پر اس کی یہ سزا ساقط نہیں ہوتی۔ مذکورہ محارب کے ساتھ جادوگر کی مشابہت اس حکم میں ہوتی ہے کہ اس کا قتل اس کی حد کی بنا پر ہوتا ہے جسے تو یہ بھی اس سے دور نہیں کرسکتی۔ جادوگر مرتد سے اس جہت کے اندر مختلف ہوتا ہے کہ مرتد اپنے کفر پر ڈٹے رہنے کی بنا پر قتل کا مستحق ہوتا ہے اور جب وہ کفر ترک کر کے اسلام کی طرف منتقل ہوجاتا ہے تو اس سے کفر اور قتل کی سزا دونوں زائل ہوجاتے ہیں۔ احناف نے ذمی ساحر اور مسلمان ساحر کے درمیان فرق نہیں کیا ہے۔ جس طرح ذمی محارب اور مسلمان محارب کے درمیا ن محاربت کی سزا کے استحقاق کے حکم میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جادوگرنی کو قتل کی سزا نہیں دی جاتی کیونکہ ان حضرات کے نزدیک محارب عورت کو حد میں قتل نہیں کیا جاتا، بلکہ صرف قصاص میں قتل کیا جاتا ہے، جادوگر کی توبہ قبول نہ کرنے کے سلسلے میں امام ابوحنیفہ کے قول کی ایک وجہ وہ ہے جس کا ذکر الطحاوی نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں سلیمان بن شعیب نے اپنے والد سے اور انہوں نے امام ابو یوسف سے بیان کیا ہے کہ امام ابوحنیفہ نے فرمایا :” اس شخص کو قتل کردو جو خفیہ طور پر زندیق ہو کیونکہ اس کی توبہ کا علم نہیں ہوسکتا۔ “ امام ابو یوسف نے اس کے خلاف کوئی قول نقل نہیں کیا اور اس پر جادو گر کے مسئلے کی بنیاد درست ہے کیونکہ جادوگر خفیہ طور پر کافر ہوتا ہے۔ اس لئے وہ زندیق کی طرح ہے۔ اس بنا پر یہ واجب ہ گا کہ اس کی توبہ قبول نہ کی جائے۔ اوپر ہم نے الطحاوی کی جس روایت کا ذکر کیا ہے اسے راوی شعیب نے نوادر کے اندر بیان کیا ہے اور ان نوادر کے متعلق شعیب کا کہنا ہے کہ امام ابو یوسف نے انہیں اپنے امالی میں داخل کیا تھا۔ (استاد اپنے شاگردوں کو جو روایتیں اور مسائل لکھوائے انہیں امالی کہا جاتا ہے۔ مترجم) اگر کوئی شخص یہاں یہ کہے کہ بنا بریں ذمی ساحر کو قتل نہیں کیا جانا چاہیے اس لئے کہ اس کا کفر ظاہر ہوتا ہے اور کفر کی بنا پر وہ قتل کا سزاوار نہیں ہوتا تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ جس کفر پر ہم نے اسے برقرار رہنے دیا ہے یہ وہ کفر ہے جس کا اظہار اس نے ہم سے کیا تھا۔ لیکن اپنی جادوگری کی بنا پر وہ جس کفر کا مرتکب ہوا ہے اس پر اسے برقرار نہیں رکھا گیا تھا اور ہم نے اس پر برقرار رہنے کی ذمہ داری نہیں اٹھائی تھی۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر ذمی جادوگر جزیہ دے کر اپنی جادوگری پر برقرار رہنے کی ہم سے درخواست کرے تو اس کی یہ درخواست قبول نہیں کریں گے اور اسے اس پر برقرار رہنے نہیں دیں گے۔ ذمی جادوگر اور مسلمان جادوگر کے درمیا ناس اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہے۔ نیز اگر ذمی جادوگر اپنے کفر کی بنا پر قتل کا سزاوار نہیں ہوگا تو بھی زمین پر فساد مچانے کی سعی کرنے کی بنا پر وہ اس کا سزاوار بن جائے گا جس طرح محاربین اس کے سزا وار بن جاتے ہیں۔ زندیق کی توبہ قبول نہ کرنے کے سلسلے میں احناف کا قول ہے کہ اسماعیلی فرقہ سے تعلق رکھنے والوں اور دیگر تمام ملحدین کی بھی توبہ قبول نہ کی جائے جن کے بارے میں کفر کے اعتقاد کا علم ہوجائے جس طرح دیگر تمام زنا دقہ کی توبہ قبول نہیں کی جاتی اور انہیں اظہار توبہ کے باوجود قتل کردیا جاتا ہے۔ ساحر کے قتل کے وجوب پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے جس کی روایت ابن قانع نے کی ہے انہیں بشربن موسیٰ نے ، انہیں ابن الاصبحانی نے، انہیں ابو معاویہ نے اسماعیل بن مسلم سے، انہوںں نے الحسن بن جندب سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ساحر کی حدیہ ہے کہ اسے تلوار کی ضرب لگائی جائے :” کوفہ میں حضرت جندب نے گورنر ولید بن عقبہ کے سامنے ایک جادوگر کو قتل کردیا تھا۔ یہ بڑا مشہور واقعہ ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا درج بالا ارشاد دو باتوں پر دلالت کرتا ہے، ایک بات تو یہ ہے کہ جادوگر کا قتل واجب ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ سزا حد کے طور پر دی جائے گی اور اسے توبہ بھی زائل نہیں کرسکے گی۔ ہم نے بیان کردیا ہے کہ جادوگر کا قتل محارب کے قتل کی طرح ہے۔ حسن بن زیاد کی بیان کردہ روایت کے مطابق احناف نے کہا ہے کہ اگر جادو گر کہے کہ ” میں جادوگر تھا “ اور یہ ثابت ہوجائے کہ اسے قتل نہیں کیا ج اسکتا جس طرح ایک شخص یہ اقرار کرے کہ وہ محارب تھا لیکن اب وہ توبہ کر کے آیا ہے، تو اس صورت میں اسے قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ محابہ بین کے بارے میں قول باری ہے : الا الذین تابوا من قبل ان تقدروا علیھم فاعلموا ان اللہ غفور رحیم (مگر وہ لوگ جو اس سے پہلے توبہ کرلیں کہ تم ان پر قابو پائو تو جان لو کہ اللہ غفور رحیم ہے) یہاں اللہ تعالیٰ نے قابو میں آنے سے پہلے توبہ کرلینے والے محارب کو ان لوگوں سے مستثنیٰ کردیا ہے جن پر اس نے حد واجب کی ہے جس کا ذکر آیت میں ہے۔ قول باری ہے : انما جزاء الذین یحاربون اللہ و رسولہ ویسعون فی الارض فساداً ۔ (جو کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لئے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں ان کی سزا یہ ہے کہ … ) تا آخر آیت ، اس قول باری کے ظاہر سے ساحر کو حد میں قتل کردینے پر استدلال کیا جاتا ہے کیونکہ وہ جادو کا عمل کر کے، نیز لوگوں کو اس کی طرف راغب کر کے اور اپنے کفر کے ساتھ ان کا ایمان خراب کرنے کے لئے ان لوگوں میں شامل ہوجاتا ہے جو زمین میں فساد برپا کرنے کے لئے تگ و دو کرتے ہیں۔ امام مالک نے جادوگر کو زندیق کے درجے میں رکھا ہے اور اس کی توبہ اسی طرح ناقابل قبول قرار دی ہے جس طرح زندیق کی توبہ ناقابل قبول ہے، تاہم انہوں نے ذمی جادوگر کو واجب القتل قرار نہیں دیا ہے، سا لئے کہ وہ اپنے کفر کی بنا پر قتل کا سزا وار نہیں ہوتا۔ جب ہم نے اسے اسی کے کفر پر برقرار رہنے دیا ہے، تو اسے جادوگری کی بن اپر بھی قتل نہیں کیا جائے گا الآیہ کہ وہ اپنے جادو سے مسلمانوں کو نقصان پہنچائے۔ ایسی صورت میں وہ نقض عہد کا مرتکب قرار پائے گا اور حربی کی طرح قتل کا سزاوار بنے گا۔ ہم پہلے ہی ذمی جادوگر کی زندیق کے ساتھ اس امر کے اندر موافقفت بیان کر آئے ہیں کہ وہ خفیہ طور پر کفر اپنا لیتا ہے اور جزیہ یا کسی اور چیز کے عوض اسے جادوگری پر برقرار رہنے دینا جائز نہیں ہوتا اس لئے ذمی جادوگر اور مدعی اسلام جادوگر کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ ایک اور جہت سے ذمی جادوگر محارب جیسا ہوتا ہے اس لئے اہل ذمہ اور مسلمانی کا دعویٰ کرنے والے جادوگروں کے حکم میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔ جہاں تک اس مسئلے میں امام شافعی کے قول کا تعلق ہے تو ہم نے پہلے ہی بیان کردیا ہے کہ ان کا یہ قول سلف کے اقوال کے دائرے سے خارج ہے، اس لئے کہ ان میں سے کسی نے بھی اس امر کا اعتبار نہیں کیا ہے کہ جادوگر اگر اپنے جادو سے کسی کو قتل کر دیتو پھر اسے قتل کیا جائے گا۔ بلکہ ان حضرات نے جادوگر کے ساتھ جادوگری کا نام چپک جانے کے ساتھ علی الاطلاق اسے واجب القتل قرار دیا ہے۔ امام شافعی نے فرمایا ہے کہ جادوگر اگر کسی اور کو قتل کر دے تو پھر اسے قتل کیا جائے گا۔ ان کی یہ بات دو میں سے ایک وجہ سے خالی نہیں ہے۔ یا تو وہ جادوگر کے لئے اس امر کو روا رکھتے ہیں کہ وہ دوسرے شخص کو ہاتھ لگائے بغیر نیز اس کے لئے قتل کا کوئی سبب پیدا کئے بغیر اسے قتل کرسکتا ہے جیسا کہ جادوگروں کا بھی یہی دعویٰ ہے۔ اگر بات یہ ہے تو یہ انتہائی گھنائونی اور قابل نفرت بات ہے۔ اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا علم رکھنے والا کوئی شخص بھی جادوگروں کے ایسے عمل کو گوارا نہیں کرسکتا کیونکہ ہم نے جادو کے معنی بیان کرتے ہئے بتادیا ہے کہ اسباب کے بغیر افعال وجود میں لانا ابنیاء (علیہم السلام) کی نشانی ہے۔ دوسرے یہ کہ امام شافعی جادو گر کے لئے مذکورہ امر ادویات وغیرہ پلانے کی جہت سے روا رکھتے ہیں۔ اگر امام شافعی کے مذکورہ بالا قول سے ان کی مراد یہی ہی تو اس صورت میں اگر کوئی شخص کسی تک ایک دوا پہنچانے کی کچھ اس طرح تدبیر کرے کہ مذکورہ شخص وہ دوا پی لے اور پی کر مر جائیتو تدبیر کرنے والے پر اس کی دیت لازم نہیں ہونی چاہیے ، کیونکہ مذکورہ دوا اس نے خود پی کر اپنی جان کو نقصان پہنچایا ہے جس طرح یہ صورت کہ ایک شخص کسی کو ایک تلوار پکڑا دے اور وہ اس تلوار سے اپنی جان لے لے۔ اگر دوا پلانے والے نے پینے والے کے منہ میں دوا ڈال دی ہو جبکہ اس نے اپنے اختیار سے اسے نہ پیا ہو، تو یہ بات صرف اکراہ کی حالت ہی میں پیش آسکتی ہے ۔ اگر امام شافعی کی مراد یہی صورت ہو تو پھر اس میں ساحر اور غیر ساحر دونوں یکساں ہوں گے۔ امام شافعی کا قول ہے : اگر ساحر کہے کہ میں اپنے جادو کے عمل میں کبھی کامیاب ہوجاتا ہوں اور کبھی ناکام، تاہم یہ شخص میرے جادو کے عمل سے مراد ہے۔ تو اس صورت میں اس پر متوفی کی دیت ملازم ہوگی۔ ایک بےمعنی بات ہے، اس لئے کہ اگر کوئی شخص کسی کو ل ہے کے ہتھیار سے زخمی کر دے اور اسے جیسے زخم سے بعض دفعہ مجروح مرجاتا ہو اور بعض دفعہ مرتاز ہو تو جارح پر بہرصورت قصاص کا لزوم ہوجائے گا۔ اس بنا پر امام شافعی نے جس طرح لوہے کے ہتھیار سے کئے جانے والے جرم پر قصاص واجب کردیا ہے۔ اسی طرح جادوگر کے عمل پر بھی انہیں قصاص واجب کردینا چاہیے تھا۔ جادوگر کے اس اقرار کے بعد کہ : یہ شخص میرے جادو کے عمل سے مرا ہے اس کا یہ قول کہ میں اپنے جادو کے عمل میں کبھی کامیاب ہ وجات اہوں اور کبھی ناکام “ یعنی میرا معمول کبھی مرجاتا ہے اور کبھی نہیں مرتا، اس سے قصاص ٹل جانے کی علت نہیں بن سکتا کیونکہ یہ علت لوہے کے ہتھیار سے زخمی کرنے والے شخص کے جرم کے اندر بھی موجود ہے۔ اگر کوئی کہے کہ امام شافعی نے جادو گر کے عمل کو شبہ عمد اور لاٹھی یا طمانچے کی ضرب کے بمنزل ہقرار دیا ہے جو کبھی جان لیوا ہوتی ہے اور کبھی جان لیوا انہیں ہوتی تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ جادو کے عمل سے ہونے والا قتل لوہے کے ہتھیار سے ہونے والے قتل کی بہ نسبت لاٹھی اور طمانچے کے ذریعے ہونے والے قتل سے زیادہ مشابہ کیوں ہوگیا ؟ اگر دونوں کے درمیان اس جہت سے فرق رکھا جائے کہ یہ ہتھیار ہے اور وہ ہتھیار نہیں ہے، تو پھر امام شافعی پر یہ کہنا لازم ہوگا کہ ہر ایسا قتل جو ہتھیار کے ذریعے نہ کیا گیا ہو اس کے مرتکب سے قصاص نہ لیا جائے، اس سے امام شافعی پر لازم آئے گا کہ وہ ایجاب قصاص کے اندر صرف ہتھیار کا اعتبار کریں۔ ان کا قول : اگر جادوگر کہے کہ میرے جادو سے میرا معمول بیمار تو تو پڑگیا تھا لیکن اس سے وہ مرا نہیں، تو اس کے اولیاء کو قسم دلائی جائے گی وہ کہیں یہ اس جادو وہی سے مراد ہے۔ “ بظاہر یہ بات جنابیات کے اس احکام کے خلاف ہے، اس لئے کہ اگر کوئی شخص کسی کو زخمی کر دے اور پھر وہ صاحب فراش ہو کر مرجائے تو زخمی کرنے والے پر متوفی کی جنایت لازم ہوجائے گی اور اس پر یہ حکم عائد کیا جائے گا کہ اس کی موت زخمی ہونے کے وقت ہی واقع ہوگئی تھی، اس کے اولیاء سے قسم لینے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ اولیاء سے قسم نہ لینے کی یہ بات امام شافعی پر ساعر کے سلسلے میں بھی لازم آتی ہے۔ جب ساحر یہ اقرار کرلے کہ مسحور اس کے سحر کی وجہ سے بیمار ہوگیا تھا۔ اگر یہاں یہ کہا جائے کہ ہم بھی یہی بات اس شخص کے بارے میں کہتے ہیں جو زخموں کی وجہ سے بیمار پڑگیا ہو اور صاحب فراش ہو کر وفات پا گیا ہو تو ایسی صورت میں آ کر اس کی موت کے سبب کے بارے میں اختلاف ہوجائے تو اس وقت تک اس پر قتل ہو کر مرنے کا حکم عائد نہیں کیا جائے گا جب تک اس کے اولیاء سے اس سلسلے میں قسم نہیں لے لی جائے گی۔ اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ پھر آپ کو یہی بات اس صورت میں بھی کہنی چاہیے جب ایک شخص کسی کو تلوار کی ایک ضرب لگائے اور پھر پے در پے ضرب لگا کر اسے قتل کر دے اور بعد میں کہے کہ ” دوسری ضرب لگانے سے پہلے ہی مقتول اپنی فلاں بیماری کی وجہ سے مرگیا تھا یا اللہ تعالیٰ نے ہی اسے قتل کردیا تھا اور یہ میری ضرب سے نہیں مرا تھا۔ “ تو ایسی صورت میں اس کے اولیاء سے قسم لی جائے، حالانکہ کسی کا بھی یہ قول نہیں ہے۔ یہی صورت ساحر کے سلسلے میں زیر بحث مسئلے کی ہے جس کا ذکر ہم نے گزشتہ سطور میں کیا ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ہم نے جادو کے معنی اور فقہاء کے اختلاف کے موضوع پر کافی گفتگو کرلی ہے۔ اب ہم زیر بحث آیت کے معانی اور مقتضاد پر گفتگو کریں گے۔ قول باری : واتبعوا ما تتلوا الشیاطین علی ملک سکیما ان کی تفسیر کے سلسلے میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ آیت میں مذکورہ لوگوں سے مرا وہ یہود ہیں جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانوں میں تھے۔ ابن جریج اور ابن اسحاق سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ الربیع بن انس اور السدی نے کہا ہے کہ اس سے وہ یہود مراد ہیں جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں تھے اور وہ بھی جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمان میں تھے۔ کیونکہ جادو کی پیروی کرنے والے یہود حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے سے لے کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے زمانے تک موجود رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان یہودیوں کے بارے میں جنہوں نے قرآن کو قبول نہیں کیا، بلکہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انکار اور کفر کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن کو کتاب اللہ نہیں مانا۔ یہ بتادیا کہ انہوں نے ان چیزوں کی پیروی کی جو شیاطین حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے۔ شیاطین سے مراد شیاطین جن و انس ہیں۔ قول باری : تتلوا کے معنی ہیں خبر دیتے اور پڑھتے تھے۔ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں۔” پیروی کرتے تھے۔ “ اس لئے کہ تالی (فعل تلایتلوا کا اسم فاعل) تابع ہوتا ہے۔ قول باری علی ملک سلیمان کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ” حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں ایک تفسیر کے مطابق اس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت کا نام لے کر ۔ “ ایک اور قول کے مطابق مفہوم یہ ہے کہ ” شیاطین حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے منسوب ک رکے جھوٹی باتیں کہتے تھے۔ “ اس لئے کہ خبر اگر جھوٹ ہو تو کہا جاتا ہے : تلا علیہ اس نے اس کے ذمہ ڈال کر بات کی۔ اور اگر خبر سچ ہو تو کہا جاتا ہے : تلاعنہ اس نے اس کی طرف سے بات کی۔ اور اگر ابہام ہو تو اس میں جھوٹ اور سچ دونوں کا احتمال ہوتا ہے۔ ارشاد باری ہے : ام تقولون علی اللہ مالا تعلمون (یا یہ بات ہے کہ تم اللہ کے ذمے ڈال کر ایسی باتیں کہہ دیتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے) یہود حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف جادو کی نسبت کر کے یہ دعویٰ کرتے کہ ان کی سلطنت جادو پر قائم تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اس سے مبرا قرار دیا۔ یہ بات حضرت ابن عباس ، سعید بن جبیر اور قتادہ سے منقول ہے۔ محمد بن اسحاق نے کہا ہے کہ یہود کے بعض احبار یعنی علماء نے کہا کہ :” لوگو، تمہیں یہ سن کر تعجب نہیں ہوتا کہ محمد ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) دعویٰ کرتے ہیں کہ سلیمان (علیہ السلام) نبی تھے، بخدا وہ تو محض ایک جادوگر تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : وما کفر سلیمان سلیمان نے کفر نہیں کیا۔ ایک قول کے مطابق یہود نے جادو کی نسبت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف صرف اس بنا پر کی کہ ان کی یہ بات لوگوں کے اندر ان کی جادو کی قبولیت کا ذریعہ بن جائے اور ان پر ان لوگوں کا جادو چل جائے۔ ایک اور قول کے مطابق حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جادو سے متعلقہ تمام کتابیں اکٹھی کر کے انہیں اپنے تخت کے نیچے یا اپنے خزانے میں دفن کردیا تھا، تاکہ لوگوں کو جادو کا عمل کرنے سے روک دیا جائے۔ پھر جب آپ کی وفات ہوگئی تو مدفون کتابیں برآمد کرلی گئیں۔ اور یہ دیکھ کر شیاطین نے کہا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت جادو پر قائم تھی۔ یہ بات یہودیوں میں پھیل گئی اور انہوں نے اسے قبول کرتے ہوئے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف جادو کی نسبت کردی۔ یہاں شیاطین سے شیاطین الانس مراد لینا جائز ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ شیاطین نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی زندگی میں لاعلمی میں جادو کی ان کتابوں کو ان کے تخت کے نیچے دفن کردیا ہو اور پھر ا ن کی وفات کے بعد یہ جادو ان کی طرف منسوب کردیا ہو اور یہ سارا کام شیاطین الانس نے کیا ہو، یعنی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی وفات کے بعد ان شیاطین نیجادو کی یہ تمام کتابیں برآمد کر کے لوگوں کو اس وہم میں مبتلا کردیا ہو کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جادو کا یہ سارا عمل کیا تھا۔ قول باری ہے : وما انزل علی المکین ببابل ھاروت وماروت (اور وہ ان چیزوں کے پیچھے پڑگئے جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر نازل کی گئی تھیں۔ آیت میں مذکور لفظ : ملکین کی قرأت لام کے زبر اور اس کی زیر کے ساتھ کی گئی ہے۔ جن حضرات نے پہلی قرأت کی ہے انہوں نے ہاروت اور ماروت کو فرشتوں میں شمار کیا ہے اور جنہوں نے دوسری قرأت اختیار کی ہے انہوں نے انہیں فرشتوں میں شمار نہیں کیا۔ ضحاک سے مروی ہے کہ ہاروت اور ماروت اہل بابل کے دوسردار تھے۔ یہ دونوں قراتیں صحیح ہیں اور ان میں کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ اللہ سبحانہ نے ان دونوں مذکورہ سرداروں کے زمانے میں اس بنا پر دو فرشتے نازل کئے ہوں کہ ان سرداروں پر جادو کا غلبہ ہوگیا تھا اور لوگ ان کی باتوں سے دھوکے میں آ گئے تھے اور ا ن کی باتیں قبول کرلی تھیں۔ اس وضاحت کے تحت اگر یہ بات تسلیم کرلی جائے کہ نازل شدہ دونوں فرشتے ان دونوں سرداروں نیز تمام دوسرے لوگوں کو جادو کے معنی، جادوگروں کی خرق عادات باتوں کی حقیقت اور ان کے کفر کو واضح کرنے اور لوگوں کو اس سے آگاہ کرنے پر مامور تھے تو پھر ہمارے لئے یہ کہنا جائز ہے کہ قول باری : وما انزل علی الملکین کی پہلی قرأت کے تحت دو فرشتے تھے جن پر وہ باتیں نازل کی گئی تھیں جن کی طرف آیت میں اشارہ ہے اور دوسری قرأت کے تحت مذکورہ باتیں دو انسانوں پر نازل کی گئی تھیں کیونکہ مذکورہ دونوں فرشتے ان دونوں افراد کو جادو کے معنی اور اس کی حقیقت سے آگاہ کرنے پر مامور تھے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : ونزلنا علیک الکتب تبیاناً لکل شیء (اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کتاب میں ہر چیز کا بیان بنا کر نازل کیا) اور دوسری جگہ فرمایا : قولوا امنا باللہ وما انزل الینا (کہو ہم الل ہپر اور اس کتاب پر ایمان لائے جو ہماری طرف نازل کی گئی) اللہ نے کبھی انزال کی اضافت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کی اور کبھی اس کی اضافت مرسل الیہم کی طرف کی۔ اللہ نے مذکورہ دونوں سرداروں کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا حالانکہ دونوں فرشتے عوام الناس کو جادو کی حقیقت سے آگاہ کرنے پر مامور تھے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام الناس ان دونوں سرداروں کے تابع تھے اس لئے جادو کے معانی نیز اس کے بطلان پر دلالت کی بلیغ ترین صورت یہی تھی کہ دونوں سرداروں کو خصوصیت کے ساتھ مذکورہ حقائق سے اگٓاہ کردیا جائے تاکہ عوام الناس ان کی پیروی کرتے ہوئے ان حقائق سے اگٓاہ ہوجائیں۔ جس طرح حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہا السلام) کو ارشاد ہوا : اذھبا الی فرعون انہ طغی، فقولا لہ قولاً لینا لعلہ یتذکروا و یخشی (تم دونوں فرعون کی طرف جائو، وہ سرکش ہوگیا ہے، اس سے جا کر نرم بات کرو شاید وہ نصیحت پکڑے یا ڈر جائے) حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہا السلام) فرعون کی پوری رعایا کی طرف اسی طرح رسول بنا کر بھیجے گئے تھے جس طرح خود اس کی طرف، لیکن خطاب کو اس کے ساتھ مخصوص کردیا گیا کیونکہ یہ طریقہ اسے اور اس کی رعایا کو اسلام یعنی خدا کی فرمانبرداری کی طرف بلانے کے سلسلے میں زیادہ منافع تھا۔ اسی طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیصر و کسریٰ کو اسلام کے دعوت نامے بھیجے اور ان میں ان کی رعایا کا ذکر چھوڑ دیا۔ حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو پوری انسانیت کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ وجہ اس کی یہی تھی کہ رعایا راعی یعنی بادشاہ کے تابع ہوتی ہے۔ اس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسرائے ایران کے نام مرسلہ دعوت نامے میں فرمایا تھا : ” مسلمان ہو جائو بچ جائو گے ورنہ تمام مجوسیوں کا گناہ تم پر پڑے گا۔ “ قیصر روم کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکھا تھا : مسلمان ہو جائو بچ جائو گے ورنہ تمام کاشتکاروں کا گناہ تم پر پڑے گا۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد کا مفہوم یہ تھا کہ اگر تم ایمان لے آئو گے تو تمہاری رعایا تمہاری پیروی میں مسلمان ہوجائے گی اور اگر تم ایمان نہیں لائو گے تو رعایا تمہارے خوف سے اسلام کی دعوت کو قبول نہیں کرے گا۔ دراصل اسلام اور کفر کے اندر تمہاری رعایا تمہارے تابع ہے۔ “ اللہ سبحانہ ، نے اہل بابل کے دوسرداروں کی طرف ہی دو فرشتے بھیجے جس طرح یہ ارشاد باری ہے : اللہ یصطفی من الملائکۃ رسلاً و من الناس ( اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں میں سے رسول منتخب کرلیتا ہے۔ ) اگر یہ کہا جائے کہ ملائکہ کس طرح ان کی طرف بھیجے جاسکتے ہیں ؟ تو جو با میں کہا جائے گا کہ یہ بات جائز اور عام ہے اس لئے کہ اللہ سبحانہ، کبھی تو فرشتوں میں سے بعض کو بعض کی طرف اسی طرح بھیجتا ہے جس طرح انہیں ابنیاء کی طرف ارسال کرتا تھا ۔ ایسی صورت میں وہ ان فرشتوں کے اجسام کو مکشوف کر کے انہیں انسانی ہئیت عطا کردیتا ہے ، تاکہ بنی آدم ان سے بدک کر دور نہ ہوجائیں ، چناچہ ارشاد باری ہے : ولو جعلناہ ملکا لجعلنا ہ رجلاً (اگر ہم اسے یعنی پیغمبر کو فرشتہ بناتے تو اسے مرد کی شکل ہی دیتے۔ ) قول باری ہے : یعلمون الناس السحر و ما انزل علی المکین اس کا مفہوم یہ ہے اللہ سبحانہ نے دو فرشتے بھیجے تاکہ وہ لوگوں کو سحر کے معانی اور اصل حقیقت سے آگاہ کر کے انہیں بتادیں کہ جادوگری کفر، ملمع کاری اور جھوٹ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور اس طرح لوگ جادوگری سے مجتنب ہو جائں جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے ابنیاء کی زبانی تمام مخطور بات و محرمات بیان فرما دیے تاکہ لوگ ان سے اجتناب کریں اور ان کے قریب بھی نہ پھٹکیں ۔ چونکہ جادوگری کفر، ملمع کاری نیز دھوکا دہی تھی اور اس زمانے کے لوگ اس کے دھوکے میں آ کر جادوگروں کے ان دعوئوں کی تصدیق کرتے تھے جو وہ اپنے متعلق کرتے تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے مذکورہ دونوں فرشتوں کی زبانی لوگوں سے جادو کی حقیقت بیان کردی تاکہ ہر فرشتے ان سے جہالت کا پردہ ہٹا کر انہیں جادو کے دھوکے میں آنے سے روک دیں۔ قول باری ہے : وھدیناہ النجدین اور ہم نے اسے دونوں راستے بتا دیے ) یعنی ہم نے بھلائی اور برائی کی راہیں واضح کردیں تاکہ انسان بھلائی کی راہ منتخب کرلے اور برائی کی راہ سے اجتناب کرے۔ حضرت عمر (رض) سے کہا گیا کہ :” فلاں شخص برائی کو نہیں پہچانتا۔ “ تو آپ نے فرمایا : ” پھر وہ اس قابل ہے کہ برائی میں گرپڑے۔ “ جادو کے معانی بیان کرنے اور اس سے روکنے اور کفر کی تما م صورتیں نیز مائوں اور بہنوں کی تحریم اور زنا کاری، شراب نوشی اور سود خوری کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے اس لئے کہ مخطورات و ممنوعات سے اجتنبا کے بیان کی غرض وہی ہے جو بھلائی کے بیان کی ہے۔ اس لئے کہ ایک شخص کو جب تک بھلائی کا علم نہیں ہوگا اس وقت تک وہ اسے بروئے کار لانے کے مرحلے تک نہیں پہنچ سکے گا۔ اس لئے جس طرح طاعات و واجبات کو اختیار کرنے کا بیان واجب ہے اسی طرح برائی کا بیان بھی واجب ہے تاکہ سننے والا اس سے اجتناب کرسکے۔ جب تک اسے برائی کا علم نہیں ہوگا اس وقت تک وہ اسے ترک کرنے اور اس سے مجتنب رہنے کے مرحلیت ک نہیں پہنچ سکے گا۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ قول باری : وما انزل علی الملکین کا مفہوم یہ ہے کہ شیاطین نے مذکورہ فرشتوں پر نازل ہونے والی باتوں کے بارے میں اسی طرح کذب بیانی کی تھی جس طرح انہوں نے حضرت سلیمان لعیہ السلام کے بارے میں کذب بیانی سے کام لیا تھا، نیز یہ کہ یہ شیاطین جس جادو کا تذکرہ کرتے تھے وہ ان دونوں فرشتوں پر نازل نہیں ہوا تھا۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ قو ل باری :” فیتعلمون منھما کا مفہوم ” سحر اور کفر میں سے “ ہے کیو کہ قول باری : ولکن الشیاطین کفروا کفر کو متضمن ہے اس لئے ضمیر سحر اور کفر کی طرف راجع ہوگی جس طرح یہ قول باری ہے : سیذکر من یخشی ویتجنبھا الاشقی (جو شخص ڈرتا ہے وہ نصیحت حاصل کرے گا اور اس نصیحت سے وہ پہلو تہی کرے گا جو بدبخت ہے) ان کے قول کے مطابق ارشاد باری : وما یعدمان من احد کا مفہوم یہ ہے کہ مذکورہ دونوں فرشتے کسی کو جادو کی تعلیم نہیں دیتے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اس بات میں کوتاہی نہیں کرتے تھے کہ جب تک اس کے روکنے میں وہ انتہائی کوشش نہ کرلیتے اور یہ نہ کہہ دیتے کہ : انما نحن فتنہ فلاتکفر اس وقت تک وہ اس کی تعلیم نہ دیتے۔ ہمارے مذکورہ دوست کو درج بالا آیات کی اس تاویل پر صرف اس بات نے مجبور کردیا کہ انہیں یہ چیز انتہائی ناپسند تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تو جادو اور جادوگر کی اس قدر مذمت کی ہے اور دوسری طرف وہ یہی جادو دونوں فرشتوں پر نازل کر دے، لیکن ہمارے دوست کی یہ سوچ اس نتیجے کی موجب نہیں ہے جو انہوں نے نکالا ہے۔ اس لئے کہ قابل مذمت وہ شخص ہے جو جادو کا عمل کرے ، وہ شخص قابل مذمت نہیں ہے جو لوگوں کے سامنے جادو کی حقیقت بیان کر کے انہیں اس سے روکے جس طرح کوئی شخص جادو کی حقیقت کا علم رکھتا ہو تو اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ یہ حقیقت ان لوگوں سے بیان کرے جو اس سے ناواقف ہوں اور انہیں اس سے روکے، تاکہ وہ اس کی حقیقت سے واقف ہو کر اس سے مجتنب رہیں۔ یہ بات تو ان فرائض میں داخل ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہم پر لازم کردیا ہے، یعنی اگر ہم دیکھیں کہ ایک شخص جادو کی ملمع کاری کے ذریعے لوگوں کو دھوکا دے رہا ہے تو ہم پر فرض ہوگا کہ ہم اس کی جعلسازی سے دھوکا کھانے والوں کو آگاہ کریں۔ قول باری ہے : انما نحن فتنۃ فلا تکفر۔ فتنہ یعنی آزمائش وہ چیز ہے جس کے ذریعے ایک امر کی بھلائی اور برائی ظاہر ہوجائے۔ عرب کہت یہیں : فتنت الذھب۔ یہ فقرہ اس وقت کہا جاتا ہے جب آپ سونے کو آگ پر رکھیں ، تاکہ اس کا کھوٹا یا کھرا ہونا معلوم ہوجائے۔ اختیار کے لفظ کا بھی یہی مفہوم ہے، اختیار یعنی آزمانے کے ذریعے اصل حالت ظاہر ہوجاتی ہے۔ قرآن مجید میں اس مقام کے سوا دوسرے مقامات میں فتنہ کا لفظ عذاب کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً یہ قول باری : ذوقوا فتنتکم (تم اپنے عذاب کا مزہ چکھو) چونکہ مذکورہ فرشتے لوگوں کے سامنے جادو کی حقیقت ظاہر کردیتے تھے اس لئے وہ کہتے کہ ” ہم تو آزمائش ہیں۔ “ قتادہ نے کہا ہے کہ آیت کا مفہوم ہے :” ہم تو فتنہ یعنی امحتان ہیں۔ “ ا س مفہوم کی بھی گنجائش ہے۔ “ اس لئے کہ اللہ کے انبیاء اور اس کے رسول ان قوموں کے لئے اس کی آزمائش ہوتے ہیں جن کی طرف انہیں میعوث کیا جاتا ہے۔ تاکہ اللہ ان کا یہ امتحان لے کر ان میں سے بہتر عمل کس کا ہے۔ ہوسکتا ہے آیت میں مراد یہ ہو کہ ہم آزمائش اور امتحان ہیں اس لئے ہ جو شخص ان دونوں فرشتوں سے جادو سیکھتا اس کے لئے اسے برائی میں استعمال کرنا ممکن ہوتا اور اس طرح وہ برائی میں مبتلا ہونے سے محفوظ نہ ہوتا اور یہی بات اس کے لئے دوسری عبادتوں کی طرح پرکھ بن جاتی ہے۔ دونوں فرشتوں کا یہ کہنا کہ تو کفر نہ کر۔ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ جادو کا عمل کفر ہے، کیونکہ یہ دونوں فرشتے کسی کو جادو کی اس لئے تعلیم دیتے تھے کہ وہ اس کا عمل نہ کرے، اس لئے کہ وہ اسے بتاتے کہ جادو کیا ہے اور حیلے بازی نیز کرتب بازی کس طرح ہوتی ہے تاکہ وہ جادوگری سے اجتنبا کرے اور عوام الناس کے سامنے اس کا مظاہرہ نہ کرے نہ یہ کہے کہ جادو انبیاء (علیہم السلام) کے معجزات کی قسم ہے۔ قول باری : فیتعلمون منھما مایفرقون بہ بین المرء وزجہ (پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیز سیکھتے تھے جس سے شوہر اور اس کی بیوی میں جدائی ڈال دیں) میں دو طریقوں سے جدائی ڈالنے کا احتمال بیان ہوا ہے۔ ایک تو یہ کہ سننے والا جادو پر عمل کرتا اور کفر میں مبتلا ہوجاتا اور ارتداد کی وجہ سے اس کے اور اس کی مسلمان بیوی کے درمیان علیحدہ ہوجاتی ۔ دوسرے یہ کہ جادو سیکھنے والا میاں بیوی کے درمیان چغل خوری اور لگائی بجھائی کر کے ایک کو دوسرے کے خلاف بھڑکانے کا اور تعلقات خراب کرنے کی سعی کرتا اور اس طرح شوہر کو اس مقا مپر پہنچ ایدتا جہاں وہ ان باطل باتوں کو حق سمجھ بیٹھتا اور پھر بیوی سے علیحدگی اختیار کرلیتا۔ قول باری ہے : وما ھم بضارین بہ من احد الا باذن اللہ (ظاہر تھا کہ اذن الٰہی کے بغیر وہ اسے ذریعے سے کسی کو بھی ضرر نہ پہنچا سکتے تھے) یہاں اذن کا لفظ علم کے معنوں میں ہے۔ اگر یہ لفظ حرف ڈال کے سکون کے ساتھ پڑھا جائے تو اسم ہوگا اور اگر حرف ڈال کر متحرک پڑھا جائے تو پھر مصدر ہوگا جس طرح کہا جاتا ہے : حذر الرجل حذراً فھو حذر (آدمی ڈر گیا۔ وہ ڈرنے والا ہے) اور فقرے میں پہلا لفظ حذر مصدر اور دوسرا اسم ہے۔ آیت میں مذکورہ لفظ کا تلفظ دو طریقوں سے ہوتا ہے جس طرح شبہ اور شبہ نیز، مثل اور مثل کا تلفظ ہے۔ ایک قول کے مطابق (الا باذن اللہ) کا مفہوم تخلیتہ “ بھی ہے ، یعنی راستے سہ ہٹ جانا۔ حسن بصری کا قول ہے :” اللہ تعالیٰ جس شخص کو چاہتا ہے جادو کے اثرات سے محفوظ رکھتا ہے اور پھر جادو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور جس شخص کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے اس کے اور جادو کے درمیان سے ہٹ جاتا ہے اور پھر جادو سے اسے نقصان پہنچ جاتا ہے۔ قول باری ہے : ولقد علموا لمن اشتراہ مالہ فی الاخرۃ من خلاق (اور انہیں خوب معلوم تھا کہ جو اس چیز کا خریدار بنا اس کے لئے) آخرت میں کوئی حصہ نہیں) ایک قول کے مطابق اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس شخص نے اللہ کے دین بدلے جادو کو اپنا لیا اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں یعنی خیر میں اس کا حصہ حسن بصری کے قول کے مطابق اس کا کوئی دین نہیں۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جادو کا عمل کرنا اور جادو قبول کرنا کفر ہے۔ قول باری : ولبئس ماشروابہ انفسھم (کتنی بری متاع تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا ) ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم ہے جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو فروخت کردیا۔ جس طرح شاعر کا یہ شعر ہے۔ وشریت برداً لیتنی من بعد بردکنت ھامہ (میں نے چادر فروخت کردی، کاش کہ چادر کے بعد میں اس کا خواہشمند ہوجاتا) یہاں ” شریت “ بمعنی بعتہ ہے، یعنی میں نے اسے فروخت کردیا۔ آیت سے بھی اس بات کی تاکید ہوتی ہے کہ جادو قبول کرنا اور اس پر عمل کرنا کفر ہے۔ اسی طرح یہ قول باری ہے : ولوانھم امنوا وتقوا (اگر وہ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے) یہ قول باری بھی مذکورہ بالا بات کا مقتضی ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٣) اور اگر یہ یہودی قرآن کریم اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں اور یہودی مذہب اور جادوگری سے توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کے بدلے میں جو انہیں ثواب ملے گا وہ اس یہودیت اور جادوگری سے اچھا ہے۔ کاش یہ اللہ تعالیٰ کے صلہ کی تصدیق کریں لیکن یہ نہ اس کو سمجھتے ہیں نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ ایک یہ بھی تفسیر کی گئی ہے کہ یہ لوگ اپنی کتابوں کے ذریعے اس کی سچائی اور حقانیت سے اچھی طرح واقف ہیں (مگر اس کے باوجود اسے تسلیم نہیں کرتے)

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:103) ولو انھم امنوا۔ (ای امنوا بالرسول اوبما انزل الیہ او بالتورۃ) واؤ عاطفہ ہے لو انھم امنوا۔ جملہ شرطیہ اور واتقوا کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور یہ بھی جملہ شرطیہ دوم ہے۔ اور وجملہ لمثوبۃ من عند اللہ خیر۔ جواب شرط ہے اصل اس کی یوں ہوگی۔ ولو انھم امنوا واتقوا لا ثیبوا مثوبۃ من عند اللہ خیرا مما شروا بہ انفسھم اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو وہ ضرور صلہ پاتے خدا کے ہاں سے جو اس چیز سے بہتر ہوتا جس کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا۔ لمثوبۃ میں لام تاکید کے لئے ہے۔ مثوبۃ۔ ثوب سے ہے جس کے معنی کسی چیز کے اپنی اصلی حالت کی طرف لوٹ آنے کے ہیں۔ یا غور و فکر سے جو حالت مقدر اور مقصود ہوتی ہے اس تک پہنچ جانے کے ہیں۔ اول الذکر کی مثال ثانی فلان الی دارہ۔ فلاں اپنے گھر لوٹ آیا۔ یا ثابت الی نفسی میری سانس میری طرف لوٹ آئی۔ مؤخر الذکر کی مثال ثوب ہے۔ کیونکہ صو وت کاتنے سے مقصود کپڑا بننا ہے لہذا کپڑا بن جانے پر گویا سوت اپنی حالت مقصود کی طرف لوٹ آتا ہے۔ یہاں مثوبۃ بمعنی اچھا بدلہ۔ ثواب، جزاء ہے۔ خیر یہاں بطور صیغہ افعل التفضیل ہے۔ مفضل علیہ (سحر) کو یا تو اس لئے حذف کیا گیا کہ مفضل کو مفضل علیہ سے اس قدر عالی سمجھا کہ مفضل علیہ سے اس کو کسی قسم کی مناسبت ہو۔ یا اس واسطے کہ تخصیص کسی شے کی نہ رہے۔ تفضیل کل ہوجائے اور معلوم ہوجائے کہ مفضل جملہ اشیاء سے بہتر ہے ۔ لو کانوا یعلمون۔ آیت سابقہ ملاحظہ ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وَلَوْ أَنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ خَيْرٌ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ (١٠٣) ” اگر وہ ایمان اور تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ کے ہاں اس کا جو بدلہ ملتا ، وہ ان کے لئے زیادہ بہتر تھا ، کاش انہیں خبر ہوتی ! “ یہ بات تو ان لوگوں پر بھی صادق آتی ہے جو بابل میں ہاروت وماروت سے جادو سیکھتے تھے ، ان پر بھی صادق آتی ہے جو ان باتوں کی پیروی کرتے تھے جنہیں شیاطین حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت کا نام لے کر پیش کرتے تھے اور یہ لوگ یہودی تھے جنہوں نے اللہ کی کتاب کو تو پس پشت ڈال دیا اور ان خرافات اور مذمومات کی پابندی اپنے اوپر لازم کردی۔ یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس جادو کی حقیقت پر بھی قدرے روشنی ڈال دی جائے جس کے پیچھے یہ یہودی پڑگئے تھے اور جس کے ذریعے یہ لوگ میاں اور بیوی میں ناچاقی پیدا کرتے تھے اور اس کی وجہ سے انہوں نے کتاب الٰہی تک کو پس پشت ڈال دیا تھا۔ یہ بات ہمارے دور میں بھی بارہا مشاہدے میں آتی رہتی ہے کہ بعض لوگ اپنے اندر ایسی معجزانہ خصائص رکھتے ہیں کہ سائنس آج تک ان کی کوئی علمی توجیہ نہیں کرسکتی ۔ ایسے عجائبات کے لئے لوگوں نے ، مختلف نام تو تجویز کر رکھے ہیں ، تاہم ان کی حقیقت کا تعین ابھی تک نہیں کیا جاسکا۔ اور ابھی تک وہ عجوبہ ہی ہیں ۔ مثلاً ٹیلی پیتھی یعنی دور سے خیالات کا اخذ کرنا ، اس کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایک آدمی ایک ایسے فاصلے سے ، جہاں تک نہ اس کی نظر پہنچتی ہے اور نہ آواز ، ایک آدمی کو بلاتا ہے اور اس سے خیالات اخذ کرتا ہے اور ان دونوں کے درمیان طویل فاصلے حائل نہیں ہوتے ۔ پھر مقناطیسی تنویم کا عمل بھی قابل غور ہے ۔ یہ کیوں کر ممکن ہوجاتا ہے۔ ایک ارادہ دوسرے پر ناقابل ادراک طریقے سے استیلاء حاصل کرلیتا ہے اور ایک فکردوسری فکر کے ساتھ کس طرح مطابقت اختیار کرلیتی ہے کہ ایک دوسرے کی طرف خیالات منتقل کرتی چلی جاتی ہے اور دوسری اس سے اخذ کرتی چلی جاتی ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا متاثرہ شخص ایک کھلی کتاب پڑھ رہا ہے۔ آج تک سائنس اس سلسلے میں جو کچھ کرسکی ہے وہ صرف یہ ہے کہ اس نے ان حقائق کا اعتراف کرکے ان کے لئے کچھ نام تجویز کرلئے ہیں لیکن سائنس آج تک اس بات کا جواب نہیں سے سکی کہ ان کی حقیقت کیا ہے ؟ نیز سائنس کے پاس اس کا جواب نہیں ہے کہ یہ عمل کیسے مکمل ہوتا ہے ؟ ان حقائق کے علاوہ بھی بعض ایسی چیزیں ہیں جن کے تسلیم کرنے میں سائنس کو ابھی تامل ہے ۔ یا تو اس لئے کہ ابھی تک ان کے بارے میں اس قدر مشاہدات جمع نہیں ہوئے جن کے ذریعے وہ اس میدان میں کوئی تجربہ کرسکے ۔ خود سچے خوابوں کو معاملہ بھی بڑا عجیب ہے ۔ فرائڈ جو ہر روحانی قوت کا بڑی شدت سے انکار کرتا ہے ، وہ بھی ان کا انکار نہیں کرسکا ۔ خواب کے ذریعے ہمیں مستقبل کی تاریکیوں میں ہونے والے واقعات کا اشارہ کیسے مل جاتا ہے ؟ اور پھر طویل عرصہ نہیں گزرتا کہ وہ اشارہ واقعات کی صورت اختیار کرلیتا ہے ۔ یہی معاملہ انسان کے ان خفیہ احساسات کا ہے ، جن کا ابھی تک وہ کوئی نام بھی تجویز نہیں کرسکا ۔ بعض اوقات انسان یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے ؟ کوئی آنے والا ہے ؟ اور اس کے بعد یہ متوقع امر کسی نہ کسی صورت میں وقوع پذیر ہوجاتا ہے۔ لہٰذا یہ محض ہٹ دھرمی ہے کہ انسان محض بےتکلفی میں ان نامعلوم حقائق کا انکار کردے ، صرف اس لئے کہ سائنس کی رسائی ابھی ایسے وسائل تک نہیں ہوسکی جن کے ذریعے وہ اس میدان میں کوئی تجربہ کرسکے ۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان دنیا کے تمام خرافات کو بےچون وچرامانتا چلاجائے ، ہر فسانے پر ایمان لاتا چلا جائے ، بلکہ صحیح اور معتدل روش یہ ہے کہ ایسے نامعلوم حقائق کے بارے میں انسان ایک لچک دار اور معتدل موقف اختیار کرے ۔ نہ سو فیصدی ان کا انکار کرنا درست ہے اور نہ ہی بےچون وچرا تسلیم کرلینا معقول ہے ۔ اس درمیانی روش کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انسان کے علم ، ادراک کے جو ابتدائی ذرائع اس وقت حاصل ہیں جب ان میں انسان مزید ترقی کرے گا تو اس کے لئے ایسے حقائق کا معلوم کرلینا ممکن ہوجائے گا ۔ لہٰذا انسان کو یہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ اس کا علم محدود ہے ۔ اور بعض حقائق ایسے بھی ہیں جو اس کے حیطہ ادراک سے باہر ہیں ، اسے اپنی حدود کو پہچاننا چاہئے اور نامعلوم حقائق کا بھی کچھ لحاظ رکھنا چاہئے۔ جادوگری کی نوعیت بھی کچھ ایسی ہی ہے ۔ شیاطین کی جانب سے جو القاء بدکردار لوگوں کو ہوتا ہے ، وہ بھی فوق الادراک امور میں سے ہے۔ اس کی متعدد شکلوں میں سے ایک یہ ہے کہ جادوگر انسانوں کے حواس اور خیالات پر اثر انداز ہونے کی قدرت رکھتا ہے ۔ کبھی اس کا اثر ٹھوس چیزوں اور اجسام پر بھی ہوتا ہے ۔ البتہ قرآن کریم میں فرعون کے جادوگروں کی جس سحرکاری کا ذکر ہے ، وہ محض نظربندی اور نظر فریبی ہی تھی ، دراصل اس سے کسی چیز کی حقیقت میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہوتی تھی۔ یُخَیَّلُ اِلَیہِ مِن سَحرِھِم اِنَّھَا تَسعٰی ” ان کی جادوگری کی وجہ سے ، اس کو ایسامعلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ چل رہی ہیں ۔ “ ہوسکتا ہے کہ وہ لوگ اپنی جادوگری کے ایسے اثرات استعمال کرکے میاں بیوی اور دوست اور دوست کے تفریق ڈالتے ہوں ، کیونکہ جب انسان کسی چیز سے متاثر ہوتا ہے ، اس انفعال کی مطابقت میں اس سے بعض حرکات سرزد ہوجاتی ہیں ، لیکن جیسا کہ کہا گیا وسائل واسباب اور ان کے تنائج اور مسببات کا سلسلہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے سوا کام نہیں کرسکتا ۔ قدرتی طور پر یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ دوفرشتے ہاروت وماروت کون تھے ؟ اور تاریخ کے کس دور میں وہ بابل میں گزرے ہیں ؟ اس سوال کی تشریح قرآن نے اس ضروری نہیں سمجھی کہ ان فرشتوں کا قصہ یہودیوں کے درمیان عام طور پر معروف تھا ، اور جب قرآن کریم نے انہیں یہ قصہ سنایا تو انہوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ کئی ایسے واقعات جو اس وقت قرآن کریم کے مخاطبین کے ہاں مشہور ومعروف تھے ۔ انہیں قرآن کریم نے اجمال کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ کیونکہ قرآن کریم کا مقصد صرف اشارے ہی سے پورا ہوجاتا تھا اور قصہ گوئی قرآن کے پیش نظر تھی ہی نہیں ۔ فی ظلال القرآن میں ، ہم وہ تمام تفصیلات اور رطب ویابس روایات درج نہیں کرنا چاہتے جو ان فرشتوں کے بارے میں مشہور ہیں ۔ کیونکہ تفاسیر میں ان کے بارے میں مواد پایا جاتا ہے ، یا جو روایات معقول ہیں ان میں کوئی روایت ثقہ نہیں ہے۔ انسانیت اپنی طویل ترین تاریخ میں متعدد آزمائشوں اور ابتلاؤں سے دوچارہوتی رہی ہے۔ یہ آزمائشیں اور ابتلائیں ، مختلف ادوار میں انسانیت کی ذہنی سطح اور اس وقت کے ماحول کی مناسبت سے مختلف نوعیت اختیار کرتی رہی ہیں ۔ اب یہ آزمائش اگر کسی وقت دو فرشتوں کی صورت میں یا دو فرشتہ سیرت انسانوں کی صورت میں آئی ہے تو یہ کوئی تعجب انگیز اور انوکھی بات نہیں ہے۔ کیونکہ انسانیت پر جو آزمائشیں آتی رہی ہیں وہ کئی قسم کی عجیب و غریب اور خارق العادۃ بھی ہوتی رہی ہیں ، بالخصوص اس دور میں جبکہ انسانیت فکر وادراک کی دنیا میں ترقی کی ابتدائی منازل طے کررہی تھی اور وہم وجہالت کی تاریک رات میں سماوی روشنی کے پیچھے چل رہی تھی۔ نیز ان آیات میں جو محکم اور واضح ہدایات دی گئی ہیں ہمارے لئے وہی کافی ہیں ۔ اور اگر کوئی چیز متشابہ اور ناقابل فہم ہے تو اس کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ بالخصوص اب جبکہ ہم اس ماحول سے بہت دور جانکلے ہیں ۔ جہاں ایسے واقعات پیش آئے تھے ۔ بس ہمارے لئے یہی جان لینا کافی ہے کہ بنی اسرائیل جادوگری اور دوسری موہوم اور لایعنی باتوں کے پیچھے پڑ کر گمراہ ہوگئے تھے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی سچی اور یقینی ہدایات کو پس پشت ڈال دیا تھا اور یہ کہ عمل سحر ایک کفریہ عمل ہے ۔ اور جو لوگ ایسے اعمال کریں ان کے لئے دار آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا ۔ اور وہ ان تمام بھلائیوں اور خیرات سے محروم ہوجائیں گے جو ان کے لئے وہاں اللہ تعالیٰ کی جانب سے تیار کی گئی ہیں۔ درس ٦ ایک نظر میں اس سبق میں یہودی سازشوں اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان ریشہ دوانیوں کو مزید کھولا جاتا ہے ۔ اسلامی جماعت کو ان کی چالوں اور حیلوں سے خبردار کیا جاتا ہے جو یہودی اسلام کے خلاف استعمال کرتے تھے ۔ نیز بتایا جاتا ہے کہ ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف کس قدر بغض وحسد پایا جاتا ہے اور وہ امت مسلمہ کو نقصان پہنچانے اور ان کے خلاف سازشیں تیار کرنے میں کس طرح رات دن مصروف عمل ہیں ۔ اس لئے مسلمانوں کو اپنی بول چال اور اپنے طرز عمل میں ان دشمنان اسلام ، کفار اہل کتاب کے ساتھ ہر قسم کا تشبہ کرنے سے روکا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کو یہودیوں کے اقوال اور افعال اور پالیسیوں کے حقیقی اسباب بتائے جاتے ہیں ۔ مسلمانوں کے اتحاد ویکجہتی کے خلاف وہ جو سازشیں ، جو فتنہ انگیزیاں اور جو فریب کاریاں کررہے تھے ، انہیں واضح طور پر بیان کیا جاتا ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں نے اسلامی معاشرے کی تشکیل جدید اور نئے حالات اور تقاضوں کے مطابق بعض شرعی احکامات اور تکالیف میں رد وبدل اور نسخ جیسے مسائل کی آڑ لے کر مکروہ پروپیگنڈے کا طوفان برپا کیا تھا ۔ انہوں نے جو گہری سازشیں مرتب کی تھی اس کے ذریعے وہ ان احکامات اور تکالیف کے منبع یعنی ذات باری تعالیٰ اور اس کی جانب سے وحی الٰہی کے نزول کی بابت مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے چاہتے تھے ۔ وہ مسلمانوں سے کہتے تھے ” اگر یہ وحی منجانب اللہ ہوتی تو سابقہ احکامات میں ردوبدل اور انہیں منسوخ کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ “ یہودی پہلے بھی ایسے پروپیگنڈے کرتے رہتے تھے لیکن جب ہجرت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ١٦ مہینے بعد تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تو ان لوگوں نے اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کا ایک عظیم طوفان برپا کردیا ۔ ہجرت کے بعد ایک عرصے تک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، یہودیوں کے قبلہ ” بیت المقدس “ ہی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے اور اس امر سے یہودی یہ استدلال کرتے تھے کہ بس قبلہ حق اور دین حق تو انہی کا دین اور قبلہ ہیں لہٰذا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دلی خواہش یہ تھی کہ مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس سے تبدیل ہوکر ، بیت الحرام ہوجائے ۔ البتہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی اس کا اظہار نہ کیا تھا لیکن اس پورے عرصے میں یہ خواہش بدستور آپ کے دل میں موجود رہی اور اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس خواہش کے مطابق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پسندیدہ قبلہ ہی کو مسلمانوں کا قبلہ بنادیا جیسا کہ آئندہ صفحات میں تفصیلات مذکور ہیں ۔ بنی اسرائیل چونکہ اس بات کو اچھی طرح محسوس کررہے تھے کہ تحویل قبلہ کے نتیجہ میں اسلام کے مقابلے میں ان کے دین کی ایک ظاہری برتری بھی ختم ہوجائے گی ۔ اور آئندہ اسے اپنے دین کی برتری کے لئے دلیل کے طور پر استعمال نہ کرسکیں گے لہٰذا اس مرحلے پر انہوں نے اسلامی صفوں انتشار پھیلانے اور وحی الٰہی کے من جانب اللہ کے نزول کے بارے میں اہل ایمان کے عقائد کے اندرشکوک و شبہات پیدا کرنے کی خاطر زبردست پروپیگنڈہ شروع کردیا ۔ ان کی یہ سازش اس قدر گہری تھی کہ اس میں انہوں نے مسلمانوں کے بنیادی عقیدے اور قرآن کے من جانب اللہ ہونے پر کلہاڑا چلانے کی کوشش کی تھی۔ وہ مسلمانوں سے جو کچھ کہتے تھے اس کا خلاصہ یہ تھا ” اگر بیت المقدس کی طرف چہرہ کرکے نماز پڑھنا باطل اور خلاف حق تھا تو ١٦ ماہ تک تمہاری تمام نمازیں ضائع ہوگئیں۔ اور اگر یہ فعل برحق تھا تو پھر تبدیلی کیوں ہوئی ؟ مقصد یہ تھا کہ اب تک انہوں نے جو نمازیں ادا کیں اس کا انہیں کوئی ثواب نہ ملے گا اور یہ کہ حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قیادت کوئی حکیمانہ قیادت نہیں ہے ۔ (نعوذ باللہ) “ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض مسلمانوں پر اس پروپیگنڈے کے برے اثرات پڑنے لگے تھے ۔ اس لئے وہ نہایت قلق اور بےچینی سے اس کے متعلق نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوالات بھی کرنے لگے تھے ۔ کیونکہ یہ واقعہ اس غیر معمولی تھا اور دلوں میں اس قدر خلش پیدا ہوگئی کہ اس کے ہوتے ہوئے اسلامی قیادت پر اطمینان کی فضاقائم نہیں رہ سکتی تھی ۔ نہ اسلامی عقائد کے منبع و ماخذ پر مکمل اعتماد رہ سکتا تھا۔ اس لئے مسلمان بھی اس کی حکمت اور اس کے بارے میں اطمینان بخش دلائل پوچھنے لگے تھے ۔ یہ تھی وہ فضا جس میں قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوئیں ۔ ان میں بتایا گیا کہ احکامات میں نسخ ایک گہری حکمت پر مبنی ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے زیادہ بہتر احکامات نازل فرماتے ہیں ۔ ایسے احکامات جو نئے حالات میں مسلمانوں کے لئے زیاہ مفید ہیں ۔ کیونکہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کن حالات میں کیا حکم بہتر ہے ۔ ساتھ ہی مسلمانوں کو اس امر سے بھی خبردار کردیا جاتا ہے کہ یہودیوں کا اصل مقصد اور کوشش صرف یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو ایمان لانے کے بعد دوبارہ کافر بناکر چھوڑدیں کیونکہ ان کو یہ حسد کھائے جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وحی الٰہی جیسا فضل وکرم اور اعزازِ عظیم مسلمانوں کو کیوں بخشا ؟ کیونکہ اللہ نے اپنی آخری کتاب مسلمانوں پر نازل کردی ہے اور ان کے مقابلے میں یہ عظیم ذمہ داری کیوں ان کے سپرد کردی ہے ۔ قرآن کریم یہاں اس بات کو کھول کر بیان کرتا ہے کہ یہودیوں کی ان تما فتنہ سامانیوں کے پیچھے کون سا خفیہ مقصد کام کررہا ہے ۔ اس موقع پر قرآن کریم ان کے اس جھوٹے دعویٰ کا بھی مضحکہ اڑاتا ہے کہ جنت تو صرف ان کے لئے مخصوص ہے ۔ قرآن کریم ان کی آپس کی الزام تراشیوں کو بھی نقل کردیتا ہے کہ یہودی کہتے ہیں ” نصرانیوں کے دین کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ “ اور نصرانی کہتے ہیں ” یہودیوں کے دین کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ “ اور مشرکین آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کرتے ہیں ” دونوں باطل پر ہیں۔ “ قرآن کریم تحویل قبلہ کے معاملے میں ان کی بدنیتی اور خفیہ سازشوں کے راز کو یوں کھولتا ہے کہ بیت اللہ توروئے زمین پر اللہ کی پہلی عبادت گاہ ہے اور اس کی طرف چہرہ کرکے نماز پڑھنے سے لوگوں کو روک کر یہودی اللہ کی مساجد اور عبادت گاہوں کو خراب کرنے کے لئے ایسے جرم کے مرتکب ہورہے ہیں جو خود ان کے نزدیک بھی بہت بڑا جرم ہے ۔ غرض اس پورے سبق میں یہی مضمون آکر تک بیان کیا گیا ہے اور آخر میں مسلمانوں کے سامنے یہودیوں اور نصرانیوں کے اس مقصد کو واضح طور پر رکھ دیا گیا ہے ۔ جوان تمام کاروائیوں سے ان کے پیش نظر ہوتا ہے ۔ یعنی مسلمانوں کو اپنے اس دین حق سے پھیر کر اپنے دین پر لے آنا ۔ قرآن کہتا ہے کہ اہل کتاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس وقت تک راضی نہیں ہوسکتے جب تک آپ ان کی ملت کے پیرو نہ بن جائیں ۔ جب تک آپ ان کی یہ آرزو پوری نہ کریں گے ، مکر و فریب اور جھوٹے پروپیگنڈے کی اس جنگ کو آخری وقت تک جاری رکھیں گے ۔ ان کی تمام فتنہ انگیزیوں ، فریب کاریوں اور ان کی جانب سے پیش کئے جانے والے تمام کھوکھلے دلائل کے پس پشت بس یہی ایک مقصد کارفرما ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

200 اگر یہ یہودی اللہ کے آخری رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن پر ایمان لے آتے اور جادو کو چھوڑ کر قرآن کے مطابق عمل کرتے۔ یہ ان معاندین کے لیے ترغیب ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کی انتہائی رحمت و شفقت ہے کہ وہ ایسے سرکشوں اور ضدیوں کے یے بھی رشدوہدایت کی تمام راہیں کھولتا ہے۔ لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَيْرٌ ۭ۔ یہ معنیً لَوْ کا جواب ہے۔ یعنی اگر وہ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو انہیں اللہ کی طرف سے اجر ملتا اور اللہ کا ثواب یقیناً سحر اور کفر سے بہتر ہے۔ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ ۔ کاش کہ وہ اس حقیقت کو جانتے ہوتے۔ یہاں تک تو یہودیوں کے شبہات کا جواب تھا۔ اب آگے مسلمانوں کو یہودیوں کے ہتھکنڈوں اور ان کے ناپاک عزائم سے آگاہ کیا گیا ہے۔ یہودی تحریف وتلبیس کے ماہر تو تھے ہی جس کی قرآن نے بھی شبہات دی ہے اور خود موجودہ تورات بھی ان کی تحریف اور تلبیسِ حق کا ایک عظیم شاہکار ہے۔ یہودیوں نے سوچا کہ مسلمانوں میں علانیہ طور پر اور براہ راست شرک کا داخل کرنا تو بہت مشکل ہے لہذا کسی تدبیر اور سازش سے کام لینا چاہئے۔ مسلمان آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی توجہ اپنی طرف منعطف کرانے کے لیے لفظ راعنا استعمال کرتے تھے اس لفظ کے چونکہ دو معنی تھے ایک صحیح اور ایک موہم شرک اس لیے منافقین یہود نے بھی آپ کی مجلس میں حاضر ہو کر آپ کو راعنا کے لفظ سے مخاطب کرنا شروع کردیا۔ بظاہر اس لفظ کے معنی بہت عمدہ تھے یعنی ہمارا بھی خیال فرمائیے۔ یہودیوں نے سوچا کہ جب یہ لفط مسلمانوں میں رائج ہوچکا ہے تو ہمیں اس سے اپنا مطلب نکالنا چاہیے۔ کیونکہ اس لفظ کے دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ ہماری نگہبانی اور حفاظت فرمائیے۔ راعنا فی اللغۃ ارعنا ولنرعک لان المفاعلۃ من اثنین فتکون من رعاک اللہ ای احفظنا ولنحفظک وارقبنا ولنرقبک (قرطبی ص 57 ج 2) اس لفظ سے ان کا مقصد مسلمانوں میں غیر اللہ کے حافظ وناصر ہونے کا خیال ڈالنا تھا تاکہ غیر شعوری طور پر مسلمانوں میں شرک کا عقیدہ رائج ہوجائے تو اللہ تعالیٰ نے ایسے موہم شرک لفظ سے منع فرمادیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ موہم شرک الفاظ کا استعمال جائز نہیں۔ ان سے ہر حال میں اجتناب ہی کرنا چاہیے۔ جیسا کہ آج کل بعض جاہلوں میں اسی قسم کے موہم شرک الفاظ رائج ہیں۔ مثلا، جیسا کہ اللہ اور اس کے رسول نے چاہا، اور، یا پیر استاد، اور، یارسول اللہ، اور، یا خواجہ معین الدین اجمیری، وغیرہ وغیرہ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اور اگر یہ یہودی ایمان لے اتٓے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے اور اس قسم کی حرکات شنیعہ اور بد اعمالیاں ترک کردیتے تو خدا تعالیٰ کے ہاں ان کا معاوضہ اور بدلہ ان باتوں سے بدرجہا بہتر ہوتا جن میں وہ مبتلا ہیں کاش ان کو اتنی سمجھ ہوتی۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ یہودی جو دنیا کے لالچ اور پیغمبر آخر الزماں کی عداوت میں ہر قسم کی بد اعمالی کا ارتکاب کرتے پھرتے ہیں۔ اگر خدا کے آخری نبی پر ایمان لے آتے اور ان بد اعمالیوں سے پرہیز کرتے تو اللہ کے ہاں جو کچھ اس کا معاوضہ ملتا وہ اس فائدہ سے کہیں زیادہ ہوتا جس کو وہ سحر اور کفر کے ذریعہ حاصل کر رہے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی یہود نے اپنے دین اور کتاب کا علم چھوڑدیا اور لگے تلاش میں اعمال سحر کے اور سحر لوگوں میں دو طرف سے آیا ایک حضرت سلیمان کے عہد میں آدمی اور شیطان ملے رہتے تھے۔ ان شیطانوں سے سیکھا اور یہود اس کو نسبت کرتے تھے۔ حضرت سلیمان کی طرف کہ ہم کو ان سے پہنچا ہے اور جن و انس پر ان کی حکومت اسی جادو کے زور سے تھی سو اللہ تعالیٰ نے بیان کردیا کہ یہ کام کفر کا ہے سلیمان کا کام نہیں اس کے عہد میں شیطانوں نے سکھایا ہے اور دوسرے ہاروت و ماروت کی طرف سے وہ شہر بابل میں دو فرشتے تھے جو بصورت آدمی رہتے تھے۔ ان کو علم سحر معلوم تھا جو کوئی طالب اس کا جاتا اول کہہ دیتے کہ اس میں ایمان جاتا رہے گا۔ پھر اگر وہ چاہتا تو سکھا دیتے۔ اللہ تعالیٰ کو آزمائش منظور تھی۔ سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایسے علموں سے آخرت کا کچھ فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہے اور دنیا میں بھی ضرر پاتے ہیں اور بغیر حکم خدا کے کچھ نہیں کرسکتے اور علم دین اور علم کتاب سیکھتے تو اللہ کے ہاں ثواب پاتے۔ (موضح القرآن) یہود کی عام حالت یہ تھی کہ وہ کوئی نہ کوئی شرارت کرتے ہی رہتے تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں انہوں نے ایک اور شرارت شروع کی۔ مجلس میں شریک ہونے والوں کا قاعدہ تھا کہ جب کوئی بات سمجھ میں نہ آتی تھی تو کہا کرتے تھے اس کو پھر فرما دیجیے یا ہماری رعایت کیجیے یا ہمارا انتظار کیجیے یا ہماری طرف بھی ملاحظہ فرمائیے۔ بہرحال اس قسم کے جملے بولا کرتے تھے یہودی تو ذومعنی الفاظ بولنے کے عادی تھے۔ انہوں نے اپنی زبان میں سے گالی اور برائی کا ایک کلمہ ایسا نکالا کہ عبرانی میں تو اس کے معنی گالی تھے اور عربی میں اس کے معنی رعایت کرنے اور لحاظ رکھنے کے تھے۔ وہ لفظ تھا راعناً اس لفظ کو یہ حضور کی مجلس میں تقریر کے دوران میں بولتے مسلمان سمجھتے کہ یہ بھی ہماری طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی طرف مخاطب کرنی کی غرض سے بولتے ہیں تاکہ سرکار تقریر میں ان کا بھی لحاظ رکھیں اس لئے مسلمان بھی راعنا کہنے لگے۔ آگے کی آیت میں اس کا رد فرماتے ہیں اور مسلمانوں کو دوسرا لفظ تعلیم فرماتے ہیں۔ (تسہیل)