Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 105

سورة البقرة

مَا یَوَدُّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ وَ لَا الۡمُشۡرِکِیۡنَ اَنۡ یُّنَزَّلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡ خَیۡرٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۱۰۵﴾

Neither those who disbelieve from the People of the Scripture nor the polytheists wish that any good should be sent down to you from your Lord. But Allah selects for His mercy whom He wills, and Allah is the possessor of great bounty.

نہ تو اہل کتاب کے کافر اور نہ مشرکین چاہتے ہیں کہ تم پر تمہارے رب کی کوئی بھلائی نازل ہو ( ان کے اس حسد سے کیا ہوا ) اللہ تعالٰی جسے چاہے اپنی رحمت خصوصیت سے عطا فرمائے ، اللہ تعالٰی بڑے فضل والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

مَّا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلاَ الْمُشْرِكِينَ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْكُم مِّنْ خَيْرٍ مِّن رَّبِّكُمْ ... Neither those who disbelieve among the People of the Scripture (Jews and Christians) nor Al-Mushrikin (the idolaters), like that there should be sent down unto you any good from your Lord. Allah described the deep enmity that the disbelieving polytheists and People of the Scripture, whom Allah warned against imitating, have against the believers, so that Muslims should sever all friendship with them. Also, Allah mentioned what He granted the believers of the perfect Law that He legislated for their Prophet Muhammad. Allah said, ... وَاللّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَن يَشَاء وَاللّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ But Allah chooses for His mercy whom He wills. And Allah is the Owner of great bounty. (2:105)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢٤] یہود اور مشرکوں کا مسلمانوں کے مقابلہ میں گٹھ جوڑ :۔ یہودیوں کو اصل تکلیف تو یہ تھی کہ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان میں کیوں مبعوث نہیں ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اولاد اسماعیل سے اور ایسی قوم میں پیدا ہوئے جنہیں یہود اپنے سے بہت کمتر اور حقیر سمجھتے تھے اور مشرکوں کو یہ تکلیف تھی کہ آپ خالصتاً ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے۔ جس کی زد ان پر، ان کے معبودوں پر، ان کے آباؤ اجداد پر اور ان کی چودھراہٹ پر پڑتی تھی۔ لہذا یہود اور مشرکین دونوں ہی پیغمبر اسلام، اسلام اور مسلمانوں کے شدید دشمن تھے۔ وہ مسلمانوں کے لیے کوئی بھلائی کی بات کیسے گوارا کرسکتے تھے، اور یہاں بھلائی اور رحمت سے مراد بالخصوص وہ احکام الہٰی ہیں جو مسلمانوں کی طرف نازل کئے جا رہے تھے۔ لہذا یہ دونوں فریق مسلمانوں کے خلاف متحد ہوجاتے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاللّٰهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ مشرکین عرب کے نزدیک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک عام آدمی تھے اور وہ اپنے کسی عظیم سردار کے بجائے ایک عام آدمی پر وحی کا نزول ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ دیکھیے الزخرف (٣١) اور اہل کتاب اللہ کی اس رحمت کو اپنی نسل سے باہر نہیں دیکھ سکتے تھے۔ فرمایا کہ اللہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہے خاص کرے۔ یہاں رحمت سے مراد نبوت ہے، جو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہے، وہ نہ کسی کی عظمت کی بنیاد پر ملتی ہے، نہ نسل پر اور نہ کسی کے کسب، محنت اور چلہ کشی پر، جیسا کہ قادیانی دجال کا کہنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اَللّٰهُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ ۭ ) [ الحج : ٧٥ ] ” اللہ فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے چنتا ہے اور لوگوں میں سے بھی۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The previous verse told us how the Jews behaved towards the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ; the present verse speaks of their behaviour towards Muslims in general. Some of the Jews used to assure the Muslims of their sincerity towards them, and to pretend that they would very much have liked the Muslims to. have received from Allah religious doctrines and commandments superior to what they themselves had received, so that they too could accept them, but unfortunately Islam did not seem to be a better religion. The Holy Qur&an refutes their claim to be the well-wishers of the Muslims, and declares that the infidels, whether they be the Jews or the associators, are so jealous of Muslims that they can never like the idea of their receiving from Allah any kind of blessing whatsoever. Of course, this jealousy can do no harm to the Muslims, for Allah is Beneficent and All-Powerful, and can shower his special blessings on whomsoever He chooses. These Jews used to make two claims -- firstly, that Judaism was a better religion than Islam; secondly, that they were the well-wishers of the Muslims. They could not establish the first of these claims on the basis of any valid argument, and it remained an empty assertion. Moreover, the difference between Islam and Judaism does not primarily depend on the question of one being better than the other. For, when something new comes to abrogate something older, the latter is automatically given up -- and Allah has sent Islam to abrogate all the earlier religions. The fact being so obvious, the Holy Qur&an says nothing in refutation of the first claim, and takes up only the second. The mushrikin مشرکین (associators) have been mentioned here along with the Jews for the sake of emphasis, and to point out that Jews cannot be the well-wishers of Muslims any more than mushrikin مشرکین can -- the two being alike in their hatred of Muslims.

خلاصہ تفسیر : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ یہود کا جو برتاؤ تھا وہ اوپر کی آیت میں بیان کیا گیا اب اس آیت میں یہود کا برتاؤ مسلمان کے ساتھ بیان کیا جارہا ہے کہ (بعضے یہودی بعض مسلمانوں سے کہنے لگے کہ بخدا ہم دل سے تمہارے خیرخواہ ہیں، اور ہزار جان سے پسند کرتے ہیں کہ تم کو دینی احکام ہمارے دینی احکام سے بہتر عنایت ہوں تو ہم بھی ان کو قبول کریں مگر کیا کیا جائے کہ تمہارا دین ہمارے دین سے اچھا ثابت نہیں ہوا، حق تعالیٰ اس دعویٰ خیرخواہی کی تکذیب فرماتے ہیں کہ) ذرا بھی پسند نہیں کرتے کافر لوگ (خواہ) ان اہل کتاب میں سے (ہوں) اور (خواہ) مشرکین میں سے اس امر کو کہ تم کو تمہارے پروردگار کی طرف سے کسی طرح کی بہتری (بھی) نصیب ہو اور (ان کے حسد سے کچھ بھی نہیں ہوتا کیونکہ) اللہ تعالیٰ اپنی رحمت (و عنایت) کے ساتھ جس کو منظور ہوتا ہے مخصوص فرما لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل (کرنے) والے ہیں، فائدہ : ان یہودیوں کے دو دعوے تھے اول یہودیت کا بہتر ہونا اسلام سے دوسرے ان کا خیرخواہ ہونا تو اول دعوے کو تو یہ ثابت نہیں کرسکے نرے دعوے سے کیا ہوتا ہے اور پھر دعویٰ ہے بھی فضول سی بات کیونکہ جب ناسخ آتا ہے تو منسوخ ترک کردیا جاتا ہے، افضل غیر افضل کے فرق پر موقوف نہیں لہذا بوجہ ظاہر اور کھلی ہوئی بات ہونے کے اس کا جواب یہاں ذکر نہیں کیا گیا، صرف دوسرے دعویٰ خیر خواہی ہی پر کلام کیا گیا ہے اور اہل کتاب کے ساتھ مشرکین کا ذکر مضمون کو قوی اور مؤ کد کرنے کے لئے کیا گیا کہ جس طرح مشرکین یقیناً تمہارے خیرخواہ نہیں اسی طرح ان کو بھی سمجھو،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ وَلَا الْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يُّنَزَّلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ خَيْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ۝ ٠ ۭ وَاللہُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ يَّشَاۗءُ۝ ٠ ۭ وَاللہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ۝ ١٠٥ ودد الودّ : محبّة الشیء، وتمنّي كونه، ويستعمل في كلّ واحد من المعنيين علی أن التّمنّي يتضمّن معنی الودّ ، لأنّ التّمنّي هو تشهّي حصول ما تَوَدُّهُ ، وقوله تعالی: وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] ( و د د ) الود ۔ کے معنی کسی چیز سے محبت اور اس کے ہونے کی تمنا کرنا کے ہیں یہ لفظ ان دونوں معنوں میں الگ الگ بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ کسی چیز کی تمنا اس کی محبت کے معنی کو متضمعن ہوتی ہے ۔ کیونکہ تمنا کے معنی کسی محبوب چیز کی آرزو کرنا کے ہوتے ہیں ۔ اور آیت : ۔ وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کردی ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ شرك وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان : أحدهما : الشِّرْكُ العظیم، وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ، والثاني : الشِّرْكُ الصّغير، وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] ، ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ دین میں شریک دو قسم پر ہے ۔ شرک عظیم یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا اور اشراک فلان باللہ کے معنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے ہیں اور یہ سب سے بڑا کفر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے ۔ دوم شرک صغیر کو کسی کام میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی جوش کرنے کی کوشش کرنا اسی کا دوسرا نام ریا اور نفاق ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] تو اس ( بچے ) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں ۔ خدا کا ( رتبہ ) اس سے بلند ہے ۔ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» «3» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔ اور خیر دو قسم پر ہے ( 1 ) خیر مطلق جو ہر حال میں اور ہر ایک کے نزدیک پسندیدہ ہو جیسا کہ آنحضرت نے جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خیر نہیں ہے جس کے بعد آگ ہو اور وہ شر کچھ بھی شر نہیں سے جس کے بعد جنت حاصل ہوجائے ( 2 ) دوسری قسم خیر وشر مقید کی ہے ۔ یعنی وہ چیز جو ایک کے حق میں خیر اور دوسرے کے لئے شر ہو مثلا دولت کہ بسا اوقات یہ زید کے حق میں خیر اور عمر و کے حق میں شربن جاتی ہے ۔ اس بنا پر قرآن نے اسے خیر وشر دونوں سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] اگر وہ کچھ مال چھوڑ جاتے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ خص التّخصیص والاختصاص والخصوصيّة والتّخصّص : تفرّد بعض الشیء بما لا يشارکه فيه الجملة، وذلک خلاف العموم، والتّعمّم، والتّعمیم، وخُصَّان الرّجل : من يختصّه بضرب من الکرامة، والْخاصَّةُ : ضدّ العامّة، قال تعالی: وَاتَّقُوا فِتْنَةً لا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً [ الأنفال/ 25] ، أي : بل تعمّكم، وقد خَصَّهُ بکذا يخصّه، واختصّه يختصّه، قال : يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشاءُ [ آل عمران/ 74] ، وخُصَاصُ البیت : فرجة، وعبّر عن الفقر الذي لم يسدّ بالخصاصة، كما عبّر عنه بالخلّة، قال : وَيُؤْثِرُونَ عَلى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كانَ بِهِمْ خَصاصَةٌ [ الحشر/ 9] ، وإن شئت قلت من الخصاص، والخُصُّ : بيت من قصب أو شجر، وذلک لما يرى فيه من الخصاصة . ( خ ص ص ) التخصیص والاختصاص والخصومیۃ والتخصیص کسی چیز کے بعض افرادکو دوسروں سے الگ کرکے ان کے ساتھ خصوصی برتاؤ کرنا یہ ۔ المعمو والتعمم والتعمیم کی ضد ہے ۔ خصان الرجل ۔ جن پر خصوصی نوازش کرتا ہو۔ الخاصۃ ۔ یہ عامۃ کی ضد ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَاتَّقُوا فِتْنَةً لا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً [ الأنفال/ 25] اور اس فتنے سے ڈر و وجو خصوصیت کے ساتھ انہیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں گنہگار ہیں یعنی ) بلکہ سب پر واقع ہوگا ۔ خصہ بکذا واختصہ ۔ کسی کو کسی چیز کے ساتھ مختص کرنا ۔ قرآن میں ہے :۔ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشاءُ [ آل عمران/ 74] جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت سے خاص کرلیتا ہے ۔ خصاص البیت مکان میں شگاف کو کہتے ہیں ۔ اسی سے خصاصۃ اس فقر اور احتیاج کو کہتے ہیں جو ختم نہ ہوئی ہو ۔ اس قسم کے فقر کو خلۃ کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَيُؤْثِرُونَ عَلى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كانَ بِهِمْ خَصاصَةٌ [ الحشر/ 9] اور ان کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی ہو ۔ لہذا آپ اسے خصاص سے ماخوذ قرار دے سکتے ہیں ۔ الخص ۔ بانس یا لکڑی کا جھونپڑ اور اسے خص اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں جھرکے نظر آتے ہیں ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے ) شاء والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] ، ومعلوم أنه قد يحصل العسر والتّظالم فيما بين الناس، قالوا : ومن الفرق بينهما أنّ إرادةالإنسان قد تحصل من غير أن تتقدّمها إرادة الله، فإنّ الإنسان قد يريد أن لا يموت، ويأبى اللہ ذلك، ومشيئته لا تکون إلّا بعد مشيئته لقوله : وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] ، روي أنّه لما نزل قوله : لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] ، قال الکفّار : الأمر إلينا إن شئنا استقمنا، وإن شئنا لم نستقم، فأنزل اللہ تعالیٰ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ وقال بعضهم : لولا أن الأمور کلّها موقوفة علی مشيئة اللہ تعالی، وأنّ أفعالنا معلّقة بها وموقوفة عليها لما أجمع الناس علی تعلیق الاستثناء به في جمیع أفعالنا نحو : سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] ، سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] ، يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] ، ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] ، قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] ، وَما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ، وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] . ( ش ی ء ) الشیئ المشیئۃ اکثر متکلمین کے نزدیک مشیئت اور ارادہ ایک ہی صفت کے دو نام ہیں لیکن بعض کے نزدیک دونوں میں فرق سے ( 1 ) مشیئت کے اصل معنی کسی چیز کی ایجاد یا کسی چیز کو پا لینے کے ہیں ۔ اگرچہ عرف میں مشیئت ارادہ کی جگہ استعمال ہوتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے معنی اشیاء کو موجود کرنے کے ہیں اور لوگوں کی مشیئت کے معنی کسی چیز کو پالینے کے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کو چاہنا چونکہ اس کے وجود کو مقتضی ہوتا ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے ۔ ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہ چاہے نہیں ہوتا ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کا ارادہ کرنا اس کے حتمی وجود کو نہیں چاہتا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا ۔ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ یہ واقعہ ہے کہ لوگوں میں عسرۃ اور ظلم پائے جاتے ہیں ۔ ( 2 ) اور ارادہ میں دوسرا فرق یہ ہے کہ انسان کا ارادہ تو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر ہوسکتا ہے مثلا انسان چاہتا ہے کہ اسے موت نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو مار لیتا ہے ۔ لیکن مشیئت انسانی مشئیت الہیٰ کے بغیروجود ہیں نہیں آسکتی جیسے فرمایا : ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] اور تم کچھ بھی نہیں چاہتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے ایک روایت ہے کہ جب آیت : ۔ لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] یعنی اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے ۔ نازل ہوئی تو کفار نے کہا ہے یہ معاملہ تو ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم چاہیں تو استقامت اختیار کریں اور چاہیں تو انکار کردیں اس پر آیت کریمہ ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ «1» نازل ہوئی ۔ بعض نے کہا ہے کہ اگر تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیئت پر موقوف نہ ہوتے اور ہمارے افعال اس پر معلق اور منحصر نہ ہوتے تو لوگ تمام افعال انسانیہ میں انشاء اللہ کے ذریعہ اشتشناء کی تعلیق پر متفق نہیں ہوسکتے تھے ۔ قرآن میں ہے : ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّه مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پائے گا ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے ۔ يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] اگر اس کو خدا چاہے گا تو نازل کریگا ۔ ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] مصر میں داخل ہوجائیے خدا نے چاہا تو ۔۔۔۔۔۔۔ قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] کہدو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے وما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّہُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ہمیں شایان نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو ( ہم مجبور ہیں ) ۔ وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کروں گا مگر ان شاء اللہ کہہ کر یعنی اگر خدا چاہے ۔ ذو ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع۔ وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] والثاني في لفظ ذو : لغة لطيّئ، يستعملونه استعمال الذي، ويجعل في الرفع، والنصب والجرّ ، والجمع، والتأنيث علی لفظ واحد ( ذ و ) ذو ( والا ۔ صاحب ) یہ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ( 1) اول یہ کہ اسماء اجناس وانوع کے ساتھ توصیف کے لئے اسے ذریعہ بنایا جاتا ہے ۔ اس صورت میں اسم ضمیر کیطرف مضاف نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ اسم ظاہر کی طرف مضاف ہوتا ہے اور اس کا تنثیہ جمع بھی آتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہرابان ہے ۔ ( 2 ) دوم بنی طیی ذوبمعنی الذی استعمال کرتے ہیں اور یہ رفعی نصبی جری جمع اور تانیث کی صورت میں ایک ہی حالت پر رہتا ہے فضل الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر فعلی ثلاثة أضرب : فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات . وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله : وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] ، إلى قوله : تَفْضِيلًا وفضل من حيث الذّات، کفضل رجل علی آخر . فالأوّلان جوهريّان لا سبیل للناقص فيهما أن يزيل نقصه وأن يستفید الفضل، کالفرس والحمار لا يمكنهما أن يکتسبا الفضیلة التي خصّ بها الإنسان، والفضل الثالث قد يكون عرضيّا فيوجد السّبيل علی اکتسابه، ومن هذا النّوع التّفضیل المذکور في قوله : وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] ، لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] ، يعني : المال وما يکتسب، ( ف ض ل ) الفضل کے منعی کسی چیز کے اقتضا ( متوسط درجہ سے زیادہ ہونا کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے محمود جیسے علم وحلم وغیرہ کی زیادتی مذموم جیسے غصہ کا حد سے بڑھ جانا لیکن عام طور الفضل اچھی باتوں پر بولا جاتا ہے اور الفضول بری باتوں میں اور جب فضل کے منعی ایک چیز کے دوسری پر زیادتی کے ہوتے ہیں تو اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں ( ۔ ) بر تری بلحاظ جنس کے جیسے جنس حیوان کا جنس نباتات سے افضل ہونا ۔ ( 2 ) بر تری بلحاظ نوع کے جیسے نوع انسان کا دوسرے حیوانات سے بر تر ہونا جیسے فرمایا : ۔ وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت دی ۔ ( 3 ) فضیلت بلحاظ ذات مثلا ایک شخص کا دوسرے شخص سے بر تر ہونا اول الذکر دونوں قسم کی فضیلت بلحاظ جو ہر ہوتی ہے ۔ جن میں ادنیٰ ترقی کر کے اپنے سے اعلٰی کے درجہ کو حاصل نہیں کرسکتا مثلا گھوڑا اور گدھا کہ یہ دونوں انسان کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے ۔ البتہ تیسری قسم کی فضیلت من حیث الذات چونکہ کبھی عارضی ہوتی ہے اس لئے اس کا اکتساب عین ممکن ہے چناچہ آیات کریمہ : ۔ وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] اور خدا نے رزق ( دولت ) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ۔ لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل ( یعنی روزی تلاش کرو ۔ میں یہی تیسری قسم کی فضیلت مراد ہے جسے محنت اور سعی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٥) کعب بن اشرف یہودی اور اس کے ساتھی اور مشرکین عرب میں سے ابوجہل اور اس کی جماعت ہرگز یہ برداشت نہیں کرتی کہ اللہ تعالیٰ جبرئیل امین (علیہ السلام) کے ذریعہ سے تمہارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نبوت، اسلام اور کتاب اللہ کی بھلائیاں اتارے اور اللہ تعالیٰ اپنے دین نبوت، اسلام اور اپنی کتاب کے نازل کرنے کے لیے جو اس کا اصل ہوتا ہے یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتخاب فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نبوت واسلام کی بدولت بہت ہی عظیم الشان فضل فرماتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠٥ (مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ وَلاَ الْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ ط) ۔ جن لوگوں نے دعوت حق کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے ‘ خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکین مکہ میں سے ‘ وہ اس بات پر حسد کی آگ میں جل رہے ہیں کہ یہ کلام پاک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کیوں نازل ہوگیا اور خاتم النبییّن کا یہ منصب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ کو کیوں مل گیا۔ وہ نہیں چاہتے کہ اللہ کی طرف سے کوئی بھی خیر آپ کو ملے۔ (وَاللّٰہُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآءُ ط) ۔ یہ تو اس کا اختیار اور اس کا فیصلہ ہے۔ (وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ) ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:105) ما یود۔ ما نافیہ ہے۔ یود۔ مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ مودۃ مصدر باب سمع۔ نہیں پسند کرتے۔ نہیں چاہتے ہیں۔ من بیانیہ ہے۔ اور ولا المشرکین میں واؤ عاطفہ اور لا زائدہ ہے ان ینزل میں ان مصدر ہے۔ ینزل۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ تنزیل (تفعیل) مصدر سے بمعنی نازل کیا جانا۔ ان ینزل علیکم من خیر من ربکم یہ جملہ مفعول ہے یود کا۔ ترجمہ یہ ہوگا۔ وہ لوگ جو کافر ہیں کتاب والے ہوں یا مشرک تمہارے رب کی طرف سے تم پر کسی بھلائی کے نازل کئے جانے پر خوش نہیں ہیں۔ واللہ میں واؤ حالیہ ہے۔ یختص۔ مضارع واحد مذکر غائب ۔ اختصاص (افتعال) مصدر سے۔ وہ خاص کرتا ہے۔ وہ مخصوص کرتا ہے۔ ترجمہ : حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے جسے چاہے مخصوص کرلے۔ ذوالفضل العظیم۔ ذوا مضاف۔ الفضل موصوف العظیم۔ صفت۔ موصوف وصفت مل کر مضاف الیہ۔ عظیم فضل والا۔ بڑے ہی فضل کا مالک۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ بعض یہود بعض مسلمانوں سے کہنے لگے کہ بخدا ہم دل سے تمہارے خیرخواہ ہیں مگر تمہارا دین ہمارے دین سے اچھاثابت نہیں ہوا حق تعالیٰ اس دعوے خیرخواہی کی تکذیب اس آیت میں فرماتے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب کی ساری خرابیوں کی جڑ یہ ہے کہ وہ کسی طرح بھی مسلمانوں کو ملنے والی بھلائی کو پسند نہیں کرتے اس کے لیے وہ ہر جرم کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں گستاخیاں بھی کرتے رہتے ہیں۔ قرآن مجید مسلمانوں کو باربار باور کرواتا ہے کہ اہل کتاب اور مشرکوں کو اپنا خیر خواہ اور دوست نہ سمجھو کیونکہ ان کی سر توڑ کوشش اور دلی خواہش ہے کہ مسلمانوں کو کوئی بھلائی حاصل نہ ہوسکے۔ اسی منفی سوچ کے پیش نظر وہ اس فکر میں رہتے ہیں کہ جہاں تک ہوسکے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جائے۔ حالانکہ چاہیے تو یہ تھا کہ اہل کتاب مذہب کے دعوے دار ہونے کے پیش نظر مسلمانوں کے ہمدرد اور ان کے قریب ہوتے لیکن ان کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ یہ لوگ ہر آڑے وقت میں مسلمانوں کا ساتھ دینے کی بجائے کفار اور مشرکوں کا ساتھ دیا کرتے ہیں۔ تاریخ عالم اٹھا کر دیکھیں کہ اہل کتاب نے ہمیشہ مسلمانوں کے مقابلے میں کفار اور مشرکین کا ساتھ دیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان امریکہ کے زیادہ قریب رہا ہے۔ اور ہر آڑے وقت میں امریکہ کی حمایت کی لیکن پاکستان پر جب مشکل وقت آیا تو امریکہ نے ہمیشہ ہندوستان کا ساتھ دیا ہے۔ اس سے ارباب سیاست کو قرآنی حقائق کا اندازہ کرنا چاہیے۔ لہٰذا امت مسلمہ کو آگاہ کیا جارہا ہے کہ تمہیں ایسے لوگوں سے چوکس اور چوکنا رہنا چاہیے جو تمہیں ہر وقت نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں۔ اس فرمان میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کو اپنی رحمت کے ساتھ مخصوص فرمالیا تھا۔ اس لیے اب اہل کتاب کی سازشیں، کفار اور مشرکوں کی شرارتیں مسلمانوں کو چنداں نقصان نہیں پہنچا سکتیں کیونکہ جس پر اللہ تعالیٰ فضل فرمانے کا فیصلہ فرما لیتا ہے دنیا کی کوئی طاقت اس کے فضل اور فیصلے کے درمیان رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ رحمت سے مراد بعض اہل علم نے نبوت لی ہے کہ اہل کتاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نبی ہونا پسند نہیں کرتے حالانکہ نبوت کا انتخاب اللہ تعالیٰ کی رحمت کا اختصاص ہے وہ جسے چاہے نبوت کے لیے منتخب فرمائے۔ اب سلسلہ نبوت حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قیامت تک ختم ہوچکا ہے۔ مسائل ١۔ یہود و نصاریٰ اور مشرک نہیں چاہتے کہ مسلمانوں پر خیر نازل ہو۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ صاحب فضل وکرم ہے جسے چاہتا ہے، اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اللہ تعالیٰ یہاں اہل کتاب اور مشرکین دونوں کو کافروں کے زمرے میں داخل فرماتے ہیں ۔ کیونکہ یہ دونوں طبقے نبی آخرالزمان کی رسالت کے منکر تھے ، لہٰذا اس پہلو سے وہ دونوں ایک حیثیت رکھتے ہیں اور دونوں کے دل مسلمانوں کے حسد اور بغض سے بھرے ہوتے ہیں ، یہ دونوں نہیں چاہتے کہ مسلمانوں کو کوئی بھلائی نصیب ہو ۔ وہ مسلمانوں کی جس چیز سے بہت جل بھن گئے ہیں وہ ان کا دین ہے ۔ ان کو یہ بات کھلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں چھوڑ کر اس بھلائی کے لئے مسلمانوں کو کیوں منتخب فرمایا۔ ان پر قرآن کی صورت میں وحی الٰہی کیوں نازل ہوئی ، انہیں اس انعام واکرام سے کیوں نوازا گیا ۔ اور کائنات کی عظیم ترین امانت ، یعنی اسلامی نظریہ حیات کا محافظ مسلمانوں کو کیوں قرار دیا گیا ۔ اس سے پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یہ لوگ اس بات کے ہرگز روادار نہیں تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے کسی اور بندے کو بھی نواز دے ۔ اس سلسلے میں ان کی تنگ دلی اس حد کو جاپہنچی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پیغام وحی لے کر آنے کی وجہ سے یہ لوگ حضرت جبریل (علیہ السلام) کے بھی دشمن ہوگئے ہیں ۔ حالانکہ وَاللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ ” اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے چن لیتا ہے ۔ “ نیز صرف اللہ ہی اس بات کو جانتا ہے کہ اس کی اس امانت و رسالت کا بہترین مہبط کہاں ہے ؟ اب اگر اللہ تعالیٰ نے یہ پیغام حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اتارا ہے اور مسلمان اس پر ایمان لاتے ہیں تو اللہ کے علم میں یہ بات موجود تھی کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مؤمنین اس بار امانت کو اٹھانے کے اہل ہیں وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ (١٠٥) ” اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ “ نبوت اور رسالت کی نعمت سے کوئی بڑی نعمت نہیں ہے ، اور دولت ایمان سے بڑی کوئی دولت نہیں ہے اور دعوت اسلامی کے اعزاز سے کوئی بڑا اعزاز نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو یہاں یہ احساس دلانا چاہتا ہے اور ان کے اندر یہ شعور اجاگر کرنا چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک عظیم احسان اور فضل وکرم کیا ہے ۔ اس سے پہلے مسلمانوں کو یہ تصور دلایا گیا تھا کہ مسلمانوں پر اللہ کے ان احسانات کی وجہ سے کفار کے دل کینہ اور حسد سے جل بھن گئے ہیں ۔ لہٰذا انہیں ان سے چوکنا رہنا چاہئے ۔ اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ مسلمان ان سے محتاط رہیں اور یہودی سازشیوں کے مقابلے میں ان کا شعور تیز رہے ۔ یہودیوں کی وسوسہ اندازی اور تشکیک کے مقابلے میں مسلمانوں کے اندر اس قسم کے احساس و شعور کو بیدار کرنا ضروری تھا ، کیونکہ یہ لوگ اس وقت بھی اور اس کے بعد آج تک مسلمانوں کے دل و دماغ میں سے اس نظریہ حیات پر ایمان کمزور کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ یہ دولت ایمان ہی تھی جس کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے ساتھ حسد کرتے تھے ۔ کیونکہ اس کی وجہ سے مسلمان ان سے ممتاز اور برتر ہوگئے تھے ۔ جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ۔ یہودیوں کے اس حملے کا آغاز قرآن کریم کی بعض آیات اور احکامات کی تنسیخ سے ہوا تھا۔ بالخصوص جب بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی قبلے کی تحویل کا حکم نازل ہوا۔ یہ واقعہ ایسا تھا جس کی وجہ سے یہودی اپنے دعوائے برتری کے اہم ثبوت سے محروم ہوگئے تھے اور انہوں نے یہ مذموم پروپیگنڈا تیز تر کردیا تھا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ! مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ(١٠٦) یہ آیات تحویل قبلہ کے موقعہ پر نازل ہوئی ہیں ، جیسا کہ ان آیات کے بعد سیاق کلام سے بھی معلوم ہوتا ہے ۔ یا اس سے مراد وہ جزوی تبدیلیاں ہوں جو جماعت مسلمہ کی ہدایت کے لئے مختلف حالات میں احکامات قرآنی اور ہدایات الٰہی میں کی جارہی تھیں یا اس سے مراد قرآن کریم کی وہ مجموعی تبدیلیاں ہوں جو تورات وانجیل کے مقابلے میں قرآن نے کیں حالانکہ مجموعی لحاظ سے قرآن نے ان کتابوں کو کتب برحق کہا تھا۔ ان میں سے کوئی ایک مراد ہو یا تینوں مراد ہوں جنہیں یہودیوں نے اس وقت تحریک اسلامی کے خلاف پروپیگنڈے اور مسلمانوں کے اندر شبہات پھیلانے کی خاطر استعمال کیا تھا اور اسلام کے مرکزی عقائد پر حملے شروع کردئیے تھے ۔ بہرحال مراد جو بھی ہو قرآن کریم اس اس موقع پر احکامات میں تبدیلی اور نسخ کے بارے میں واضح یدایات دے دیتا ہے ۔ اور یہودیوں کی ان تمام وسوسہ اندازیوں اور نکتہ چینیوں کا خاتمہ کردیتا ہے جو وہ حسب عادت مختلف طریقوں سے ، اسلامی نظریہ حیات کے خلاف کرتے رہتے تھے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ زمانہ ٔ رسالت کے دوران ہدایات واحکامات میں جزوی تبدیلی خود انسانوں کی بھلائی کے لئے کی جاتی ہے ۔ اور ہر تبدیلی بدلے ہوئے حالات میں انسانیت کی بہتری ہی کے لئے کی جاتی ہے کیونکہ اللہ ہی انسانوں کا خالق ہے ۔ اسی نے رسول بھیجے ہیں ۔ وہی ان احکامات کا نازل کرنے والا ہے ۔ اور یہ سب کچھ اس کے مقررہ پروگرام کے مطابق ہوتا ہے۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کسی آیت کو منسوخ کردیتا ہے یا بھلا دیتا ہے ۔ آیت سے مراد پڑھی جانے والی آیات قرآن ہو جو احکامات پر مشتمل ہوتی ہے۔ یا اس سے مراد وہ علامت یا طبعی معجزات اور خارق عادات وقعات ہوں جن کا صدور مختلف حالات میں پیغمبروں کے ہاتھوں ہوا کرتا تھا۔ اور بعد میں یہ آیات ومعجزات لپیٹ دیئے جاتے تھے ۔ جو بھی مراد ہو ، اللہ تعالیٰ وہ کسی چیز کے معاملے میں بےبس نہیں ہے ۔ زمین و آسمان کے تمام امور اس کے دست قدرت میں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہودیوں اور مشرکوں کو یہ گوارا نہیں کہ مسلمانوں پر کوئی خیر نازل ہو جب مسلمان یہودیوں سے کہتے تھے کہ تم اسلام قبول کرو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لاؤ تو وہ کہتے تھے کہ تم جس دین کی طرف بلاتے ہو ہمارے دین سے بہتر نہیں ہے اور ہماری خواہش ہے کہ تمہارا دین بہتر ہوتا تو ہم اس کا اتباع کرلیتے ان کی تردید میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور بتایا کہ اے مسلمانو ! ان کو یہ پسند نہیں ہے کہ تم کو کسی طرح کی خیر نصیب ہو، یہودی تو اس حسد میں مرے جا رہے ہیں کہ نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے کیوں آیا اور حضرت اسحاق کی اولاد میں سے کیوں نہ ہوا اور مشرکین اس لیے ناراض ہیں کہ حضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو دین پیش فرمایا وہ ان کی خواہشوں کے خلاف ہے ان کو توحید پسند نہیں۔ اپنے بنائے ہوئے معبودوں سے محبت ہے جب ان کی تردید کی جاتی ہے تو انہیں برا معلوم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے یہود اور مشرکین کی تردید فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے خیالات کا پابند نہیں وہ جسے چاہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر دے، وہ جسے چاہے نبوت سے سرفراز فرمائے اور جسے چاہے ہدایت دے۔ اس میں کسی کو اعتراض کرنے اور حسد کرنے کا کوئی حق نہیں۔ (من معالم التنزیل ص ١٠٣ ص ١، روح المعانی ص ٣٥٠ ج ١) مفسر ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت شریفہ میں اہل کتاب اور مشرکین کی سخت دشمنی کا ذکر فرمایا ہے تاکہ اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان مودت اور محبت بالکل منقطع ہوجائے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے اس انعام کو بیان فرمایا جو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعہ مومنین کو عطا فرمایا یعنی شریعت کاملہ عطا فرمائی (مَنْ یَّشَاءُ ) کا عموم خود آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے متبعین سب کو شامل ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

202 یَوَدُّ وَدٌّ سے ہے سے ہے جس کے معنی چاہنے اور پسند کرنے کے ہیں۔ اور مِنْ اَھْلِ الکْکِتٰب میں من بیانیہ ہے اور وَلَا الْمُشْرِکِیْنَ کا عطف اَھْلِ الْکِتٰب پر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کافروں کی دو قسمیں ہیں۔ ایک اہل کتاب، دوسرے مشرکین اور اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ تمام اہل کتاب کافر ہیں جب تک وہ آخری رسول اور آخری کتاب پر ایمان نہ لائیں اس وقت تک وہ مسلمان نہیں ہوسکتے۔ من الاولی للبیان لان الذین کفرو جنس تحتہ نوعان اھل الکتب والمشرکون (مدارک ص 53 ج 1، کبیر ص 657 ج 1) اور خَیْرٌ کو بعض مفسرین نے بعض معانی کے ساتھ مخصوص کیا ہے مگر بہتر یہ ہے کہ اسے عام رہنے دیا جائے تاکہ وہ تمام انواع خیر کو شامل ہوجائے او عام فی انواع الخیر کلھالان المذکورین لا یودون تنزیل جمیع ذلک علی المومنین عداوۃ وحسدا وخوفا من فوات الدراسۃ وزوال الریاسۃ (ورح ص 350 ج 1) اب آیت کا مفہوم یہ ہوا کہ یہودیوں کے خبث باطن اور تمہاری بد خواہی کا یہ حال ہے کہ ایک طرف تو وہ تمہیں گمراہ کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور وہ یہودی اور اسی طرح نصاریٰ اور مشرکین اس بات کو قطعاً پسند نہیں کرتے کہ تم پر اللہ کی طرف سے کوئی انعام واکرام یا کسی قسم کی بہتری اور بھلائی نازل ہو۔ وہ ہرگز یہ نہیں چاہتے کہ تم پر قرآن نازل ہو تمہیں دشمنوں کے مقابلہ میں فتح حاصل ہو یا کسی قسم کا کوئی فائدہ اور نفع پہنچے۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ تمام انواع خیر کے مستحق ہم ہی ہیں۔ اور ان کی یہ خواہش محض عداوت اور بغض وحسد پر مبنی تھی۔ نیز انہیں یہ خطرہ تھا کہ اگر مسلمانوں پر وحی نازل ہوگئی تو ہمارے مدرسے اور ہماری آمدنی کی دکانیں بند ہوجائیں گی اور ہماری شان و شوکت خاک میں مل جائے گی۔ 203 یہاں بھی لفظ رحمت عام ہے اور ان تمام انواع ِ رحمت کو شامل ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے کسی بھی وقت اپنے بندوں کو نوازا ہے۔ الرحمۃ فی ھذہ الایۃ عامۃ لجمیع انواعھا قد منح اللہ بھا عبادہ قدیما وجدیدا (قرطبی ص 61 ج 2) اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون اس کی رحمت کا مستحق ہے اور جسے وہ چاہتا ہے اپنی نوازشات کے لیے منتخب کرلیتا ہے، لوگوں کی خواہشات کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ بعض مفسرین نے خیر اور رحمت سے وحی مراد لی ہے اور مطلب یہ بیان کیا ہے کہ پہلے انبیا بنی اسرائیل میں پیدا ہوتے رہے۔ جب آخری رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی اسمعیل سے پیدا ہوئے تو یہودیوں نے تعصب اور حسد کی وجہ سے اسے ناپسند کیا۔ وقیل معنی الایۃ ان اللہ تعالیٰ بعث الانبیا من والد اسحاق فلما بعث النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) من ولد اسمعیل لم یقع ذالک بود الیہود ومحبتھم (معالم ص 79 ج 1) لیکن مشرکین کے بغض وحسد کیلئے یہ وجہ موزوں نہیں بلکہ یہ چیز تو ان کے لیے باعث فخر ہے کیونکہ وہ سب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل سے تھے۔ ۭوَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ ۔ اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم تو وسیع ہے اس لیے بعض کی محرومی اس کی مشیت اور حکمت کے تحت ہے نہ کہ اس کے فضل اور مہربانی کی کمی کی وجہ سے۔ وان حرمان بعض عبادہ لیس لضیق فضلہ بل لمشیتہ وما عرف فیہ من حکمتہ (روح ص 351 ج 1) یہود و نصاریٰ اور مشرکین کو اصل عداوت تو دعوت توحید سے تھی اور وہ اس عداوت کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتے تھے۔ کبھی تو راعنا جیسے موہم شرک الفاظ مسلمانوں کی زبانوں سے کہلا کر ان میں شرک داخل کرنے کی کوشش کرتے اور کبھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف غلط پروپیگنڈہ اور بےجا اعتراضات کرتے۔ کبھی کہتے یہ لوگ اس قابل نہیں کہ اللہ کی طرف سے ان پر وحی یا کوئی بھلائی نازل ہو اور کبھی کہتے کہ اگر یہ قرآن خدا کا کلام ہے تو اس کے احکام کیوں بدلتے رہتے ہیں ؟ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کو ایک حکم دیتا ہے پھر اس کے خلاف دوسرا حکم صادر کردیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ محمد کا اپنا کلام ہے خدا کا کلام نہیں۔ نزلت لما قال المشرکون او الیہود الا ترون الی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بامر اصحابہ بامر ثم ینھاھم عنہ ویامرھم بخلافہ۔۔۔ ما ھذا الا کلام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ویقول من تلقائ نفسہ (روح ص 351 ج 1) اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے غلط پروپیگنڈے کا جواب دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر اور مالک ومختار ہے اور جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 کافروں کو یہ بات ذرا بھی نہیں بھائی خواہ وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکوں میں سے ہوں اور وہ بالکل اس امر کو پسند نہیں کرتے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے کوئی بھالئیا ور بہتری تم پر نازل کی جائے حالانکہ یہ چیز ان کی خواہش پر موقوف نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور عنایت سے جس کو چاہتا ہے مختص کرلیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل کا صاحب اور مالک ہے۔ (تیسیر) یعنی اہل کتاب کو اصالتاً اور مشرکوں کو تبعاً یہ امر ناگوار ہے کہ تم کو نبوت یا وحی یا اور کسی قسم کی نصرت و فتح وغیرہ حاصل ہو۔ یہود کو تو اہل کتاب ہونے کی وجہ سے حسد اور جلن تھی اور چونکہ مشرک صاحب کتاب نہیں تھے لیکن ان کو بھی اہل کتاب کی دیکھا دیکھی یہ ناگوار تھا کہ مسلمانوں کو فتح حاصل ہو یا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں اپنی رحمت یعنی نبوت یا علم یا وحی یا اور کسی قسم کی فتح و نصرت کسی سے دریافت کر کے نہیں دیا کرتا بلکہ اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا ہوں اس رحمت کے لئے مخصوص کرلیتا ہوں۔ اگٓے ان اہل کتاب کے ایک اور اعتراض کا جواب ہے قرآن کا جب کوئی حکم اٹھا لیا جاتا یا کسی آیت کی بجائے دوسری آیت نازل ہوجاتی تو کہتے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے سوچ سمجھ کر کیوں نہیں کوئی حکم دیا جو اب اس کو اٹھانا پڑا اور اس کی جگہ دوسرا حکم بھیجا یہ اعتراض ممکن ہے اہل کتاب نے کیا ہو یا مشرکوں اور اہل کتاب نے مل کر کیا ہو بعض لوگوں نے قبہل کی تحویل اور تبدیل کے متعلق اس اعتراض کا ذکر کیا ہے۔ بہرحال آگے کی آیتوں میں اس اعتراض کا جواب ہے۔ (تسہیل)