| Perfect Tense | Imperfect Tense | Imperative | Active Participle | Passive Participle | Noun Form |
فَسَدَ |
يَفْسُدُ |
اُفْسُدْ |
فَاسِدْ |
- |
فَسَاد/فُسُوْد |
اَلْفَسَادُ یہ فَسَدَ (ن) اَلشَّیُٔ فَھُوَ فَاسِدٌ کا مصدر ہے اور اس کے معنی کسی چیز کے حداعتدال سے تجاوز کرجانا کے ہیں۔ عام اس سے کہ وہ تجاوز کم ہو یا زیادہ یہ اصل میں صلاح کی ضد ہے اور نفس، بدن اور ہر اس چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو حالت استقامت سے نکل چکی ہو اور اَفْسَدَہٗ کے معنی کسی چیز کا توازن بگاڑنے کے ہیں۔ قرآن پاک میں ہے: (لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الۡاَرۡضُ) (۲۳:۷۱) تو آسمان و زمین … سب درہم برہم ہوجائیں۔ (لَوۡ کَانَ فِیۡہِمَاۤ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا) (۲۱:۲۲) اگر آسمان و زمین میں خدا کے سوا اور معبود ہوتے تو زمین و آسمان درہم برہم ہوجاتے۔ (ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ) (۳۰:۴۱) خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا۔ (وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الۡفَسَادَ ) (۲:۲۰۵) اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا۔ (وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ لَا تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ ) (۲:۱۱) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ ڈالو۔ (اَلَاۤ اِنَّہُمۡ ہُمُ الۡمُفۡسِدُوۡنَ ) (۲:۱۲) دیکھو! یہ بلاشبہ مفسد ہیں۔ (لِیُفۡسِدَ فِیۡہَا وَ یُہۡلِکَ الۡحَرۡثَ وَ النَّسۡلَ) (۲:۲۰۵) تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو اور (انسانوں اور حیوانوں کی) نسل کو نابود کردے۔ (اِنَّ الۡمُلُوۡکَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡیَۃً اَفۡسَدُوۡہَا ) (۲۷:۳۴) کہ بادشاہ جب کسی شہر میں داحل ہوتے ہیں تو اس کو تباہ کردیتے ہیں۔ (اِنَّ اللّٰہَ لَا یُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِیۡنَ) (۱۰:۸۱) بے شک خدا شریروں کے کام سنوارا نہیں کرتا۔ (وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ الۡمُفۡسِدَ مِنَ الۡمُصۡلِحِ) (۲:۲۲۰) اور خدا خوب جانتا ہے کہ خرابی کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون۔
Surah:17Verse:4 |
البتہ تم ضرور فساد کرو گے
"Surely you will cause corruption
|
|
Surah:26Verse:152 |
جو فساد کرتے ہیں
spread corruption
|
|
Surah:27Verse:34 |
فساد کرتے ہیں وہ اس میں
they ruin it
|
|
Surah:27Verse:48 |
وہ فساد کرتے تھے
they were spreading corruption
|
|
Surah:47Verse:22 |
تم فساد کرو گے
you cause corruption
|