Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 116

سورة البقرة

وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا ۙ سُبۡحٰنَہٗ ؕ بَلۡ لَّہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ کُلٌّ لَّہٗ قٰنِتُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾

They say, " Allah has taken a son." Exalted is He! Rather, to Him belongs whatever is in the heavens and the earth. All are devoutly obedient to Him,

یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کی اولاد ہے ، ( نہیں بلکہ ) وہ پاک ہے زمین اور آسمان کی تمام مخلوق اس کی ملکیت میں ہے اور ہر ایک اس کا فرما نبردار ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Refuting the Claim that Allah has begotten a Son Allah said, وَقَالُواْ اتَّخَذَ اللّهُ وَلَدًا ... And they (Jews, Christians and pagans) say: Allah has begotten a son (children or offspring), This and the following Ayat refute the Christians, may Allah curse them, and their like among the Jews and the Arab idolators, who claimed that the angels are Allah's daughters. Allah refuted all of them in their claim that He had begotten a son. Allah said, ... سُبْحَانَهُ ... Glory is to Him. meaning, He is holier and more perfect than such claim; ... بَل لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضِ ... Nay, to Him belongs all that is in the heavens and on earth, meaning, the truth is not as the disbelievers claimed, rather, Allah's is the kingdom of the heavens and earth and whatever and whoever is in, on and between them. Allah is the Supreme Authority in the heavens and earth, and He is the Creator, Provider and Sustainer Who decides all the affairs of the creation as He wills. All creatures are Allah's servants and are owned by Him. Therefore, how could one of them be His son The son of any being is born out of two comparable beings. Allah has no equal or rival sharing His grace and greatness, so how can He have a son when He has no wife Allah said, بَدِيعُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ أَنَّى يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُنْ لَّهُ صَـحِبَةٌ وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ وهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ He is the Originator of the heavens and the earth. How can He have children when He has no wife He created all things and He is the Knower of everything! (6:101) وَقَالُواْ اتَّخَذَ الرَّحْمَـنُ وَلَداً لَقَدْ جِيْتُمْ شَيْياً إِدّاً تَكَادُ السَّمَـوَتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الاٌّرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدّاً أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَـنِ وَلَداً وَمَا يَنبَغِى لِلرَّحْمَـنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَداً إِن كُلُّ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ إِلاَّ اتِى الرَّحْمَـنِ عَبْداً قَدْ أَحْصَـهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدّاً كُلُّهُمْ ءَاتِيهِ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ فَرْداً And they say: "The Most Gracious (Allah) has begotten a son (offspring or children)." Indeed you have brought forth (said) a terrible evil thing. Whereby the heavens are almost torn, and the earth is split asunder, and the mountains fall in ruins. That they ascribe a son (or offspring or children) to the Most Gracious (Allah). But it is not suitable for (the majesty of) the Most Gracious (Allah) that He should beget a son (or offspring or children). There is none in the heavens and the earth but comes unto the Most Gracious (Allah) as a servant. Verily, He knows each one of them, and has counted them a full counting. And everyone of them will come to Him alone on the Day of Resurrection (without any helper, or protector or defender). (19:88-95) and, قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَّهُ كُفُواً أَحَدٌ Say: "He is Allah (the) One, Allah the Samad (the Self- Sufficient, upon whom all depend), He begets not, nor was He begotten, and there is none comparable to Him." (112:1-4) In these Ayat, Allah stated that He is the Supreme Master Whom there is no equal or rival, everything and everyone was created by Him, so how can He have a son from among them This is why, in the Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Ibn Abbas said that the Prophet said, قَالَ اللهُ تَعَالَى كَذّبَنِي ابْنُ ادَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذلِكَ وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذلِكَ فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ فَيَزْعُمُ أَنِّي لاَأ أَقْدِرُ أَنْ أُعِيدَهُ كَمَا كَانَ وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ لِي وَلَدًا فَسُبْحَانِي أَنْ أَتَّخِذَ صَاحِبَةً أَوْ وَلَدًا Allah said, `The son of Adam has denied Me, and that is not his right. He has insulted Me, and that is not his right. As for the denial of Me, he claimed that I am unable to bring him back as he used to be (resurrect him). As for his insulting Me, he claimed that I have a son. All praise is due to Me, it is unbefitting that I should have a wife or a son.' This Hadith was recorded by Al-Bukhari. It is recorded in the Two Sahihs that the Messenger of Allah said, لاَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى سَمِعَهُ مِنَ اللهِ إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ لَهُ وَلَدًا وَهُوَ يَرْزُقُهُمْ وَيُعَافِيهِم No one is more patient when hearing an insult than Allah. They attribute a son to Him, yet He still gives them sustenance and health. Everything is within Allah's Grasp Allah said, ... كُلٌّ لَّهُ قَانِتُونَ and all are Qanitun to Him. Ibn Abi Hatim said that Abu Sa`id Al-Ashaj informed them that Asbat informed them from Mutarrif, from Atiyah, from Ibn Abbas who said that, قَانِتِينَ (Qantin) means, they pray to Him. Ikrimah and Abu Malik also said that, كُلٌّ لَّهُ قَانِتُونَ (and all are Qanitun to Him), means, bound to Him in servitude to Him. Sa`id bin Jubayr said that Qanitun is sincerity. Ar-Rabi bin Anas said that, كُلٌّ لَّهُ قَانِتُونَ (all are Qanitun to Him) means, "Standing up - before Him - on the Day of Resurrection." Also, As-Suddi said that, كُلٌّ لَّهُ قَانِتُونَ (and all are Qanitun to Him) means, "Obedient on the Day of Resurrection." Khasif said that Mujahid said that, كُلٌّ لَّهُ قَانِتُونَ (and all are Qanitun to Him) means, "Obedient. He says, `Be a human' and he becomes a human." He also said, "(Allah says,) `Be a donkey' and it becomes a donkey." Also, Ibn Abi Najih said that Mujahid said that, كُلٌّ لَّهُ قَانِتُونَ (and all are Qanitun to Him), means, obedient. Mujahid also said, "The obedience of the disbeliever occurs when his shadow prostrates, while he hates that." Mujahid's statement, which Ibn Jarir preferred, combines all the meanings, and that is that Qunut means obedience and submission to Allah. There are two categories of Qunut: legislated and destined, for Allah said, وَللَّهِ يَسْجُدُ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَظِلَـلُهُم بِالْغُدُوِّ وَالاٌّصَالِ And unto Allah (alone) falls in prostration whoever is in the heavens and the earth, willingly or unwillingly, and so do their shadows in the mornings and in the (late) afternoons. (13:15) The Meaning of Badi` Allah said,

اللہ ہی مقتدر اعلیٰ ہے کے دلائل یہ اور اس کے ساتھ کی آیت نصرانیوں کے رد میں ہے اور اس طرح ان جیسے یہود و مشرکین کی تردید میں ہے جو اللہ کی اولاد بتاتے تھے ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین و آسمان وغیرہ تمام چیزوں کا تو اللہ مالک ہے ان کا پیدا کرنے والا انہیں روزیاں دینے والا ان کے اندازے مقرر کرنے والا انہیں قبضہ میں رکھنے والا ان میں ہر تغیر و تبدل کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھلا اس مخلوق میں سے کوئی اس کی اولاد کیسے ہو سکتا ہے؟ نہ عزیز اور نہ ہی عیسیٰ اللہ کے بیٹے بن سکتے ہیں جیسے کہ یہود و نصاریٰ کا خیال تھا نہ فرشتے اس کی بیٹیاں بن سکتے ہیں جیسے کہ مشرکین عرب کا خیال تھا ۔ اس لئے دو برابر کی مناسبت رکھنے والے ہم جنس سے اولاد ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا نہ کوئی نظیر نہ اس کی عظمت و کبریائی میں اس کا کوئی شریک نہ اس کی جنس کا کوئی اور وہ تو آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کرنے والا ہے اس کی اولاد کیسے ہو گی؟ اس کی کوئی بیوی بھی نہیں وہ چیز کا خالق اور ہر چیز کا عالم ہے یہ لوگ رحمٰن کی اولاد بتاتے ہیں یہ کتنی بےمعنی اور بیہودہ بےتکی بات تم کہتے ہو؟ اتنی بری بات زبان سے نکالتے ہو کہ اس سے آسمانوں کا پھٹ جانا اور زمین کا شق ہو جانا اور پہاڑوں کا ریزہ ریز ہو جانا ممکن ہے ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ صاحب اولاد ہے اللہ کی اولاد تو کوئی ہو ہی نہیں سکتی اس کے سوا جو بھی ہے سب اس کی ہی ملکیت ہے زمین و آسمان کی تمام ہستیاں اس کی غلامی میں ظاہر ہونے والی ہیں جنہیں ایک ایک کر کے اس نے گھیر رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے ان میں سے ہر ایک اس کے پاس قیامت والے دن تنہا تنہا پیش ہونے والی ہے پس غلام اولاد نہیں بن سکتا ملکیت اور ولدیت دو مختلف اور متضاد حیثیتیں ہیں دوسری جگہ پوری سورت میں اس کی نفی فرمائی ارشاد ہوا آیت ( قل ھو اللہ احد اللہ الصمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد ) کہ دو کہ اللہ ایک ہی ہے اللہ بے نیاز ہے اس کی نہ اولاد ہے نہ ماں باپ اس کا ہم جنس کوئی نہیں ان آیتوں اور ان جیسی اور آیتوں میں اس خالق کائنات نے اپنی تسبیح و تقدیس بیان کی اور اپنا بے نظیر بے مثل اور لا شریک ہونا ثابت کیا اور ان مشرکین کے اس گندے عقیدے کو باطل قرار دیا اور بتایا کہ وہ تو سب کا خالق و رب ہے پھر اس کی اولاد بیٹے بیٹیاں کہاں سے ہوں گی؟ سورۃ بقرہ کی اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری شریف کی ایک قدسی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم جھٹلاتا ہے اسے یہ لائق نہ تھا مجھے وہ گالیاں دیتا ہے اسے یہ نہیں چاہیے تھا اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ وہ خیال کر بیٹھتا ہے کہ میں اسے مار ڈالنے کے بعد پھر زندہ کرنے پر قادر نہیں ہوں اور اس کا گالیاں دینا یہ ہے کہ وہ میری اولاد بتاتا ہے حالانکہ میں پاک ہوں اور میری اولاد اور بیوی ہو اس سے بہت بلند و بالا ہوں یہی حدیث دوسری سندوں سے اور کتابوں میں بھی با اختلاف الفاظ مروی ہے صحیین میں ہے حضور علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں بری باتیں سن کر صبر کرنے میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی کامل نہیں ۔ لوگ اس کی اولاد بتائیں اور وہ انہیں رزق و عافیت دیتا رہے پھر فرمایا ہر چیز اس کی اطاعت گزار ہے اس کی غلامی کا اقرار کئے ہوئے ہے اس کے لئے مخلص ۔ اس کی سرکار میں قیامت کے روز دست بستہ کھڑی ہونے والی اور دنیا میں بھی عبادت گزار ہے جس کو کہے یوں ہو جاؤ یا اس طرح بن ۔ فوراً وہ اسی طرح ہو جاتی اور بن جاتی ہے ۔ اس طرح ہر ایک اس کے سامنے پست و مطیع ہے کفار نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے مطیع ہیں ہر موجود کے سائے اللہ کے سامنے جھکتے رہتے ہیں ، قرآن نے اور جگہ فرمایا آیت ( وللہ یسجد ) الخ آسمان و زمین کی کل چیزیں خوشی ناخوشی اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں ان کے سائے صبح شام جھکتے رہتے ہیں ایک حدیث میں مروی ہے کہ جہاں کہیں قرآن میں قنوت کا لفظ ہے وہاں مراد اطاعت ہے لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں ممکن ہے صحابی کا یا اور کسی کا کلام ہو اس سند سے اور آیتوں کی تفسیر بھی مرفوعاً مروی ہے لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ یہ ضعیف ہے کوئی شخص اس سے دھوکہ میں نہ پڑے واللہ اعلم ۔ پھر فرمایا وہ آسمان و زمین کو بغیر کسی سابقہ نمونہ کے پہلی ہی بار کی پیدائش میں پیدا کرنے والا ہے لغت میں بدعت کے معنی نو پیدا کرنے نیا بنانے کے ہیں حدیث میں ہے ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے یہ تو شرعی بدعت ہے کبھی بدعت کا اطلاق صرف لغتہً ہوتا ہے شرعاً مراد نہیں ہوتی ۔ جیسے حضرت عمر نے لوگوں کو نماز تراویح پر جمع کیا اور پھر اسے اسی طرح جاری دیکھ کر فرمایا تھا اچھی بدعت ہے بدیع کا منبع سے تصرف کیا گیا ہے جیسے مولم سے الیم اور مسمیع سے سمیع معنی متبدع کے انشا اور نو پیدا کرنے والے کے ہیں بغیر مثال بغیر نمونہ اور بغیر پہلی پیدائش کے پیدا کرنے والے بدعتی کو اس لئے بدعتی کہا جاتا ہے کہ وہ بھی اللہ کے دین میں وہ کام یا وہ طریقہ ایجاد کرتا ہے جو اس سے پہلے شریعت میں نہ ہو اسی طرح کسی نئی بات کے پیدا کرنے والے کو عرب مبتدع کہتے ہیں امام ابن جریر فرماتے ہیں مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے وہ آسمان و زمین کی تمام چیزوں کا مالک ہے ہر چیز اس کی وحدانیت کی دلیل ہے ہر چیز اس کی اطاعت گزاری کا اقرار کرتی ہے ۔ سب کا پیدا کرنے والا ، بنانے والا ، موجود کرنے والا ، بغیر اصل اور مثال کے انہیں وجود میں لانے والا ، ایک وہی رب العلمین ہے اس کی گواہی ہر چیز دیتی ہے خود مسیح علیہ السلام بھی اس کے گواہ اور بیان کرنے والے ہیں جس رب نے ان تمام چیزوں کو بغیر نمونے کے اور بغیر مادے اور اصل کے پیدا کیا اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی بےباپ پیدا کر دیا پھر کوئی وجہ نہیں کہ انہیں تم خواہ مخواہ اللہ کا بیٹا مان لو پھر فرمایا اس اللہ کی قدرت سلطنت سطوت و شوکت ایسی ہے کہ جس چیز کو جس طرح کی بنانا اور پیدا کرنا چاہئے اسے کہ دیتا ہے کہ اس طرح کی اور ایسی ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتی ہے جیسے فرمایا آیت ( اِنَّمَآ اَمْرُهٗٓ اِذَآ اَرَادَ شَـيْـــــًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ ) 36 ۔ یس:82 ) دوسری جگہ فرمایا آیت ( اِنَّمَا قَوْلُــنَا لِشَيْءٍ اِذَآ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ ) 16 ۔ النحل:40 ) اور ارشاد ہوتا ہے آیت ( وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ ) 54 ۔ القمر:50 ) شاعر کہتا ہے ۔ اذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولتہ فیکون مطلب اس کا ہے کہ ادھر کسی چیز کا اللہ نے ارادہ فرمایا اس نے کہا ہو جا وہیں وہ ہو گیا اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں پس مندرجہ بالا آیت میں عیسائیوں کو نہایت لطیف پیرا یہ ہیں یہ بھی سمجھا دیا گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اسی کن کے کہنے سے پیدا ہوئے ہیں دسری جگہ صاف صاف فرما دیا آیت ( اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ ۭخَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ ) 3 ۔ آل عمران:59 ) یعنی حضرت عیسیٰ کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت آدم جیسی ہے جنہیں مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا ہو جا وہ ہو گئے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٣٧] یہود کہتے ہیں کہ عزیر (علیہ السلام) اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) اللہ کا بیٹا ہے۔ اور مشرکین کہتے ہیں کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اس کی تردید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آسمانوں، اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کی ملک اور وہ ان کا مالک ہے۔ لہذا تمام اشیاء مملوک ہوئیں اور بیٹا شریک ہوتا ہے مملوک نہیں ہوتا۔ لہذا اللہ کی اولاد ہونا ناممکن ٹھہرا، اور ایک حدیث صحیح قدسی میں وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ بنو آدم نے مجھے جھٹلایا اور گالی دی۔ اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ میں اسے دوبارہ پیدا نہ کرسکوں گا اور اسکا گالی دینا یہ ہے جو اس نے میرے لیے بیوی اور بیٹا تجویز کیا۔ (بخاری، کتاب التفسیر، تفسیر سورة اخلاص)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اللہ کی مسجدوں سے روکنے والوں کا یہ ایک اور ظلم بیان فرمایا کہ انھوں نے کہا، اللہ نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے۔ چناچہ یہود نے عزیر (علیہ السلام) کو اور نصاریٰ نے مسیح (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قراردیا، اسی طرح مشرکین عرب نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے کئی طرح سے اس کا رد فرمایا، پہلے ” سبحانہ “ کے ساتھ کہ اولاد تو محتاجی کی دلیل ہے اور اللہ اس سے پاک ہے۔ (دیکھیے سورة بنی اسرائیل : ١١١) ۔ دوسرے یہ کہ اللہ آسمان و زمین کا مالک ہے، جس میں عزیر (علیہ السلام) ، مسیح (علیہ السلام) اور فرشتے سب شامل ہیں۔ مالک اور مملوک باپ بیٹا کیسے ہوسکتے ہیں ! بیٹا تو باپ کا مملوک بن بھی جائے تو خود بخود آزاد ہوجاتا ہے۔ تیسرا یہ کہ بیٹا سرکشی بھی کرسکتا ہے، جب کہ آسمان و زمین میں رہنے والے سب اللہ کے فرمان کے تابع ہیں، ان کا سانس بھی اس کے حکم کے بغیر نہیں چلتا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

As the Holy Qur&an reports in some other verses, some of the Jews called the Prophet Uzayr (علیہ السلام) (Ezra) the son of God, as did the Christians in the case of Sayyidna ` Isa (Jesus علیہ السلام)~ and most of them still do, while the mushrikin مشرکین of Makkah considered the angels to be the daughters of God. These two verses show the absurdity of such assertions. For, even on rational grounds, it is totally impossible that God should have offspring. Were it at all possible, the situation would necessarily involve either of the two alternative characteristics -- the offspring would belong either to the same genus as the father does, or to a different genus. If it belongs to a different genus, that obviously is a defect, while God should in order to be God, be free of all defects -- as reason itself requires, and as Verse 116 affirms. If the offspring belongs to the same genus, that too is a contradiction in terms, for God has no equal and no existent can belong to the same genus as He does. Let us explain what we mean. God alone is the Necessary Being (Al-Dhat al-Wajib الذات الواجب ), and hence necessarily carries within Himself the Attributes of Perfection which are peculiar to Him alone and which cannot exist in any one other than God. Now, if we deny a necessary attribute to a certain being, we automatically deny the existence of that being. So, no one other than God can be a necessary being. Insofar as |"necessity|" is in itself the essence of the Ultimate Reality, or an inalienable quality of the Ultimate Reality, anyone other than God cannot share the Reality with Him. Hence, it would be a plain and simple contradiction in terms of claim that anyone other than God can belong to the same genus. Having refuted the false claims of the Jews, the Christians and the mushrikin, the two verses proceed to demonstrate how and why the Attributes of Perfection are peculiar to Allah Himself and Him alone. Firstly, all that exists in heaven or earth belongs to Allah. Secondly, everything is also subservient to Him -- in the sense that no one can interfere with His omnipotence (for example, with His power to create a.nd to destroy), even if some men may be lax in obeying the injunctions of the Shari&ah. Thirdly, He is the Creator and the Inventor of the skies and of the earth. Fourthly, His power of creation is so mighty that when He wishes to do something (for example, wishes to create something), He does not need any instruments or helpers -- all that He does is to say, |"Be|", and the thing becomes what He wishes it to be. These four qualities are not to be found in anyone other than Allah. In fact, even those who attributed offspring to Him, believed in this truth. Thus, their claims to the contrary stand finally refuted. The two verses give rise to certain other important considerations. (1) If Allah has chosen to assign certain tasks to certain angels (for example, sending down rain or bringing to the creatures their nourishment), or has chosen to employ causes, materials or physical forces in order to produce certain effects, He has done so in His wisdom. So, it is neither permissible nor proper that men should look upon these angels or causes or physical forces as being effective agents in themselves, and turn to them for help in their need. (2) The commentator al-Baydawi has remarked that, Allah being the First Cause of the things, the earlier Shari&ahs had allowed the use of the title |"Father|" for Him, but that the ignorant misunderstood and distorted the sense of |"Fatherhood|" so badly that to entertain such a belief or to apply this title to Allah has now been declared to be an act of infidelity (Kufr). As this practice ` can lead to all kinds of doctrinal disorders, it is no longer permissible to employ this particular word or a similar expression with reference to Allah.31 31. As for creation taking place through the Divine Command, |"Be|", we would like to add a note, following the example of Maulana Ashraf ` Ali Thanavi (رح) in his |"Bayan a1-Qur&an|", for the benefit of those who happen to be interested in Western philosophy, or in Christian theology, or, worst of all, in the writings of the Orientalists and their translations of Sufi texts. Let us begin by saying that it is a mystery -- and we are using the word |"mystery|", not in the debased and the modern sense, but in the original meaning of the term which implies that certain realities are altogether beyond the reach of human understanding, and that certain other realities cannot and must not, even when partially or wholly understood, be given out to those who have no aptitude for receiving them, and that with regard to them it is advisable |"to keep one&s lips closed.|" In these matters, when and what one chooses to reveal is ultimately not the question of liberalism or democratism or egalitarianism, but that of |"spiritual etiquette.|" Having repeated the warning given by Maulana Thanavi himself, we shall do no more than explaining what |"Bayan al-Qur&an|" says on the subject. Regarding this particular mystery, there is a difference of approach between the two groups of the Mutakallimin متکلمین (the masters of al-1lm al-Kalam العلم الکلام or dialectical theology). According to the Asha&ri group, |"Be, and it comes to be|" (Kun fa Yakun کن فیکون ) is a metaphorical or allegorical expression. That is to say, the phrase does not signify that Allah actually addressed an existent and commanded it |"to be|", but it is an allegorical illustration of His omnipotence, suggesting that there is no interval between an act of will on His part and its realization. The commentator al-Baydawi has adopted this view. But, according to the Maturidi group, the phrase literally means what it says. This approach to the subject, however, produces a difficult problem. A command is given only to an existent. If a thing does not exist at all, how can Allah address it? On the other hand, if a thing does already exist, it is superfluous to command it |"to be.|" The problem can easily be resolved if we keep two considerations in mind. Firstly, this command does not belong to the order of Tashri&: (تشریع : legislation) which requires the addressee to exist in actual fact and to possess understanding; it belongs to the order of Takwin :(تکوین : creation) which is concerned with giving existence to non-existents. This explanation, in its turn, brings us into the thick of a controversy that has muddled a great deal of Western philosophy and theology. We refer to the question of |"creation arising out of nothingness|" (Ex Nihilo), and the second of our two considerations will clarify it. It is usual enough to place |"existence|" Wujud وجود ) in opposition to |"nothingness or non-existence|" (عدم ` adam ). But it has also been said that non-existence does not exist. For, Allah is omniscient, and Divine Knowledge comprehends everything that has been, or is, or will be, so that what does not yet exist according to our reckoning does already exist in Divine Knowledge. To use a different expression, everything past, present or future has its |"pure|" and |"subtle|" counterpart in Divine Knowledge. If Western terminology should be more easily comprehensible to some of our readers, we can call these Prototypes, Numbers, or Essences, or Ideas or Archetypes, but each time we will have to give a more refined and a higher signification to these terms than Pythagoras or Plato ever did. The Sufis, however, call them |"Al-A` yan al-Thabitah.|" With the help of this explanation we can see that when Allah wishes to create a thing, He commands its Essence, which already exists in His Knowledge, |"to be|", and it |"comes to be|" --that is to say, comes to be actualised in the world. Thus, |"creation|" does not arise out of |"nothingness.|" Before a thing comes to exist as an |"actuality|" in the world, it already exists as a |"potentiality|" in Divine Knowledge. It is this |"potentiality|" to which the Divine Command |"Be|" is addressed. Hence, it is equally true to say that Essences do not exist, and to say that Essences do exist. The first statement pertains to the knowledge of the creatures, and the second to the Divine Knowledge. At the end, we shall again insist that no good can come out of unnecessarily meddling with such delicate questions, especially if the purpose is no more than to seek a new sensation.

خلاصہ تفسیر : (بعض یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے تھے اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور مشرکین عرب ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں جیسا مختلف آیات میں ان اقوال کی خبر دی گئی ہے حق تعالیٰ اس قول کی قباحت اور بطلان کا بیان فرماتے ہیں، یعنی) اور یہ لوگ (مختلف عنوان سے) کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اولاد رکھتا ہے سبحان اللہ (کیا مہمل بات ہے) بلکہ (ان کے تو اولاد ہونا عقلاً ممکن نہیں کیونکہ دو حال سے خالی نہیں یا تو اولاد غیر جنس ہوگی اور یا ہم جنس ہوگی اگر غیر جنس ہو تب تو ناجنس اولاد ہونا عیب ہے اور حق تعالیٰ عیب پاک ہیں عقلا بھی جیسا مسلم ہے اور نقلاً بھی جیسا سبحانہ مذکور کا بھی مدلول ہے اور اگر ہم جنس ہو تو اس لئے باطل ہے کہ حق تعالیٰ کا کوئی ہم جنس نہیں کیونکہ جو صفات کمال لوازم ذات واجبہ سے ہیں وہ اللہ کے ساتھ مخصوص اور غیر اللہ میں معدوم ہیں اور لازم کی نفی ملزوم کی نفی کی دلیل ہے اس لئے غیر اللہ ذات واجب نہ ہوگا اور وجوب خود عین حقیقت یا لازم حقیقت ہے پس کوئی غیر اللہ اللہ کے ساتھ حقیقت میں شریک نہ ہوا لہذا ہم جنس ہونا بھی باطل ہوگیا اب صفات کمال صرف حق تعالیٰ ہی کے ساتھ مختص ہونے کی دلیلیں مذکور ہوتی ہیں اول یہ کہ) خاص اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں (موجودات) ہیں ( اور دوسرے یہ کہ مملوک ہونے کے ساتھ) سب ان کے محکوم (بھی) ہیں (بایں معنی کہ ان کے تصرفات قدرت جیسے مارنا جلانا وغیرہ کو کوئی نہیں ہٹا سکتا گو احکام شرعیہ کو کوئی ٹال دے اور تیسرے یہ کہ حق تعالیٰ ) موجد (بھی) ہیں آسمانوں اور زمین کے اور (چوتھے یہ ایجاد کی بھی قدرت ایسی عظیم وعجیب ہے کہ) جب کسی کام کا (مثلا پیدا ہی کرنا ہے) پورا کرنا چاہتے ہیں تو بس (اتنی بات ہے کہ) اس کو (اتنا) فرما دیتے ہیں کہ ہوجا بس وہ (اسی طرح) ہوجاتا ہے (ان کو آلات و اسباب اور صناعوں اور معینوں کی ضرورت نہیں پڑتی اور یہ چاروں امر بجز حق تعالیٰ کے کسی میں نہیں پائے جاتے اور یہ مدعیان اولاد کے بھی مسلمات سے تھا پس دلیل سے مقدمہ اختصاص بھی ثابت ہو کر حجت تمام ہوگئی) فوائد : ١۔ خاص خاص کاموں پر خاص خاص ملائکہ کو مقرر کرنا مثلاً بارش، رزق وغیرہ اور اسی طرح اسباب اور مواد اور قوی سے کام لینا یہ سب کسی حکمت خداوندی پر مبنی ہوتا ہے اس لئے نہیں کہ لوگ انہیں اسباب وقوات کو حاجت روا مان کر استعانت ومدد کے طبگار ہوں، ٢۔ بیضاوی نے کہا ہے کہ پہلی شرائع میں اللہ تعالیٰ کو سبب اول ہونے کی وجہ سے باپ کہا کرتے تھے جاہلوں نے ولادت کے معنی سمجھ لئے اس لئے یہ عقیدہ رکھنا یا ایسا کہنا کفر قرار دیا گیا دفع فساد کی مصلحت سے اب ایسے لفظ کے استعمال کی بالکل اجازت نہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالُوا اتَّخَذَ اللہُ وَلَدًا۝ ٠ ۙ سُبْحٰنَہٗ۝ ٠ ۭ بَلْ لَّہٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ ٠ ۭ كُلٌّ لَّہٗ قٰنِتُوْنَ۝ ١١٦ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ ولد الوَلَدُ : المَوْلُودُ. يقال للواحد والجمع والصّغير والکبير . قال اللہ تعالی: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] ( و ل د ) الولد ۔ جو جنا گیا ہو یہ لفظ واحد جمع مذکر مونث چھوٹے بڑے سب پر بولاجاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] اور اگر اولاد نہ ہو ۔ سبحان و ( سُبْحَانَ ) أصله مصدر نحو : غفران، قال فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] ، وسُبْحانَكَ لا عِلْمَ لَنا [ البقرة/ 32] ، وقول الشاعرسبحان من علقمة الفاخر «1» قيل : تقدیره سبحان علقمة علی طریق التّهكّم، فزاد فيه ( من) ردّا إلى أصله «2» ، وقیل : أراد سبحان اللہ من أجل علقمة، فحذف المضاف إليه . والسُّبُّوحُ القدّوس من أسماء اللہ تعالیٰ «3» ، ولیس في کلامهم فعّول سواهما «4» ، وقد يفتحان، نحو : كلّوب وسمّور، والسُّبْحَةُ : التّسبیح، وقد يقال للخرزات التي بها يسبّح : سبحة . ( س ب ح ) السبح ۔ سبحان یہ اصل میں غفران کی طرح مصدر ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] سو جس وقت تم لوگوں کو شام ہو اللہ کی تسبیح بیان کرو ۔ تو پاک ذات ) ہے ہم کو کچھ معلوم نہیں ۔ شاعر نے کہا ہے ۔ ( سریع) (218) سبحان من علقمۃ الفاخر سبحان اللہ علقمہ بھی فخر کرتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں سبحان علقمۃ ہے اس میں معنی اضافت کو ظاہر کرنے کے لئے زائد ہے اور علقمۃ کی طرف سبحان کی اضافت بطور تہکم ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں ، ، سبحان اللہ من اجل علقمۃ ہے اس صورت میں اس کا مضاف الیہ محذوف ہوگا ۔ السبوح القدوس یہ اسماء حسنیٰ سے ہے اور عربی زبان میں فعول کے وزن پر صرف یہ دو کلمے ہی آتے ہیں اور ان کو فاء کلمہ کی فتح کے ساتھ بھی پڑھا جاتا ہے جیسے کلوب وسمود السبحۃ بمعنی تسبیح ہے اور ان منکوں کو بھی سبحۃ کہاجاتا ہے جن پر تسبیح پڑھی جاتی ہے ۔ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ قنت القُنُوتُ : لزوم الطّاعة مع الخضوع، وفسّر بكلّ واحد منهما في قوله تعالی: وَقُومُوا لِلَّهِ قانِتِينَ [ البقرة/ 238] ، وقوله تعالی: كُلٌّ لَهُ قانِتُونَ [ الروم/ 26] قيل : خاضعون، وقیل : طائعون، وقیل : ساکتون ولم يعن به كلّ السّكوت، وإنما عني به ما قال عليه الصلاة والسلام : «إنّ هذه الصّلاة لا يصحّ فيها شيء من کلام الآدميّين، إنّما هي قرآن وتسبیح» «1» ، وعلی هذا قيل : أيّ الصلاة أفضل ؟ فقال : «طول القُنُوتِ» «2» أي : الاشتغال بالعبادة ورفض کلّ ما سواه . وقال تعالی: إِنَّ إِبْراهِيمَ كانَ أُمَّةً قانِتاً [ النحل/ 120] ، وَكانَتْ مِنَ الْقانِتِينَ [ التحریم/ 12] ، أَمَّنْ هُوَ قانِتٌ آناءَ اللَّيْلِ ساجِداً وَقائِماً [ الزمر/ 9] ، اقْنُتِي لِرَبِّكِ [ آل عمران/ 43] ، وَمَنْ يَقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ [ الأحزاب/ 31] ، وقال : وَالْقانِتِينَ وَالْقانِتاتِ [ الأحزاب/ 35] ، فَالصَّالِحاتُ قانِتاتٌ [ النساء/ 34] . ( ق ن ت ) القنوت ( ن ) کے معنی خضوع کے ساتھ اطاعت کا التزام کرنے کے ہیں اس بناء پر آیت کریمہ : وَقُومُوا لِلَّهِ قانِتِينَ [ البقرة/ 238] اور خدا کے آگے ادب کھڑے رہا کرو ۔ میں برض نے قانیتین کے معنی طائعین کئے ہیں یعنی اطاعت کی ھالت میں اور بعض نے خاضعین یعنی خشوع و خضوع کے ساتھ اسی طرح آیت کریمہ كُلٌّ لَهُ قانِتُونَ [ الروم/ 26] سب اس کے فرمانبردار ہیں ۔ میں بعض نے قنتون کے معنی خاضعون کئے ہیں اور بعض نے طائعون ( فرمانبرادار اور بعض نے ساکتون یعنی خاموش اور چپ چاپ اور اس سے بالکل خاموش ہوکر کھڑے رہنا مراد نہیں ہے بلکہ عبادت گذاری میں خاموشی سے ان کی مراد یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ( 87 ) کہ نماز ( تلاوت قرآن اور اللہ کی تسبیح وتحمید کا نام ہے اور اس میں کسی طرح کی انسانی گفتگو جائز نہیں ہے ۔ اسی بناء پر جب آپ سے پوچھا گیا کہ کونسی نماز افضل تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ( 88 ) طول القنوت یعنی عبادت میں ہمہ تن منصروف ہوجانا اور اس کے ماسوا ست توجہ پھیرلینا قرآن میں ہے ۔ إِنَّ إِبْراهِيمَ كانَ أُمَّةً قانِتاً [ النحل/ 120] بت شک حضرت ابراھیم لوگوں کے امام اور خدا کے فرمابنرداری تھے ۔ اور مریم (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : وَكانَتْ مِنَ الْقانِتِينَ [ التحریم/ 12] اور فرمانبرداری میں سے تھیں ۔ أَمَّنْ هُوَ قانِتٌ آناءَ اللَّيْلِ ساجِداً وَقائِماً [ الزمر/ 9] یا وہ جو رات کے وقتقں میں زمین پریشانی رکھ کر اور کھڑے ہوکر عبادت کرتا ہے ۔ اقْنُتِي لِرَبِّكِ [ آل عمران/ 43] اپنے پروردگار کی فرمانبرداری کرنا ۔ وَمَنْ يَقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ [ الأحزاب/ 31] اور جو تم میں سے خدا اور اسکے رسول کی فرمنبردار رہے گی ۔ وَالْقانِتِينَ وَالْقانِتاتِ [ الأحزاب/ 35] اور فرمانبرداری مرد اور فرمانبردار عورتیں ۔ فَالصَّالِحاتُ قانِتاتٌ [ النساء/ 34] تو جو نیک بیبیاں ہیں وہ مردوں کے حکم پر چلتی ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے : وقال اتخذ اللہ ولداً سبحانہ بل لہ ما فی السموت والارض (ان کا قول ہے کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ اللہ پاک ہے۔ ان باتوں سے، اصل حقیقت یہ ہے کہ زمین اور آسمانوں کی تمام موجودات اس کی ملک ہیں) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس آیت میں اس امر پر دلالت موجود ہے کہ انسان کی اپنے بیٹے پر ملکیت باقی نہیں رہتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قول : بل لہ ما فی السموت والارض سے ملکیت کے اثبات کے ذریعے ولد کی نفی کردی، یعنی بیٹا اللہ کی ملکیت ہوتا ہے اللہ کا بیٹا نہیں ہوتا۔ یہ آیت اس قول باری کی نظیر ہے : وما ینبغی للرحمن ان یتخذ ولداً ان کل من فی السموت والارض الا اتی الرحمٰن عبداً (رحمٰن کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔ زمین اور آسمانوں کے اندر جو بھی ہیں سب اس کے حضور بندوں کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں) یہ بات اس امر کی مقتضی ہے کہ باپ جب اپنے بیٹے کا مالک بن جائے تو وہ اس پر آزاد ہوجائے گا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس جیسا حکم والد کے بارے میں جاری کیا ہے جب بیٹا اس کا مالک بن جائے۔ چناچہ آپ نے فرمایا :” کوئی بیٹا اپنے باپ کو اس کے احسانات کا بدلہ نہیں دے سکتا۔ الا یہ کہ وہ اسے مملوک پائے اور پھر اسے خرید کر آزاد کردے۔ “ اس طرح آیت اس امر کی مقتضی ہے کہ باپ جب اپنے بیٹے کا مالک بنے تو وہ اس پر آزاد ہوجائے گا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد اس امر کا مقتضی ہے کہ بیٹا جب اپنے باپ کا مالک بنے تو وہ اس پر آزاد ہوجائے گا۔ بعض بےعلم لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ اگر بیٹا اپنے باپ کا مالک بن جائے تو وہ اس وقت تک اس پر آزاد نہیں ہوگا جب تک بیٹا اسے آزاد نہ کرے کیونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :” وہ اسے خرید لے اور پھر آزاد کر دے۔ “ یہ بات ملکیت کے بعد ایک نئے عتق کی مقتضی ہے جو لغت اور عرف کے اعتبار سے لفظ کے حکم سے جہالت پر مبنی ہے۔ کیونکہ مذکورہ الفاظ سے یہ مفہوم سمجھ میں آتا ہے کہ :” بیٹا اسے خریدے اور آزاد کر دے۔ “ اس لئے کہ آپ نے یہ بتادیا کہ اس کی خریداری اس کے عتق کی موجب ہے۔ یہ بات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد کی طرح ہے : لوگ دو ٹولیوں میں اپنے گھروں سے صبح کے وقت نکلتے ہیں۔ ایک وہ ہوتا ہے جو اپنی ذات فروخت کر کے اسے ہلاک کردیتا ہے اور ایک وہ ہوتا ہے جو اپنی ذات خرید کر کے اسے آزاد کردیتا ہے۔ “ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ وہ خریداری کے ذریعے اسے آزاد کردیتا ہے۔ نہ کہ اس کے بعد نئے سرے سے آزادی دے کر اسے آزاد ١ ؎ غلام بیٹے کا مالک بن جانا مراد ہے۔ اسی طرح باپ کا مالک بن جانے سے غلام باپ کا مالک بن جانا مراد ہے (ادارہ) کرتا ١ ؎ ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١٦) اب یہود اور نصاری کا مقالہ بیان کررہے ہیں کہ یہود حضرت عزیر کو حق تعالیٰ کا بیٹا اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات اولاد اور شریک سے پاک ہے، جیسا تم کہتے ہو ایسا نہیں ہے بلکہ زمین و آسمان میں جتنی بھی مخلوق ہے وہ سب کی سب اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہے، سب کے سب اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کی توحید کے قائل ہیں، زمین و آسمان کے وجود اور اس کی مثال سے پہلے حق تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١٦ (وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًالا سُبْحٰنَہٗ ط) ظاہر بات ہے یہاں پھر اہل مکہ ہی کی طرف اشارہ ہو رہا ہے جن کا یہ قول تھا کہ اللہ نے اپنے لیے اولاد اختیار کی ہے۔ وہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ نصاریٰ کہتے تھے کہ مسیح (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں ‘ اور یہودیوں کا بھی ایک گروہ ایسا تھا جو حضرت عزیر ( علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتا تھا۔ (بَلْ لَّہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط) سب مخلوق اور مملوک ہیں ‘ خالق اور مالک صرف وہ ہے ۔ (کُلٌّ لَّہٗ قٰنِتُوْنَ ) ۔ بڑے سے بڑا رسول ہو یا بڑے سے بڑا ولی یا بڑے سے بڑا فرشتہ یا بڑے بڑے اجرام سماویہ ‘ سب اسی کے حکم کے پابند ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(116 ۔ 117) ۔ یہود حضرت عزیر کو نصاری حضرت عیسیٰ کا بیٹا اور مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان سب کو جھٹلایا۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ باپ اور اولاد میں کچھ مناسبت ضرور ہے۔ اللہ کی ذات پاک تو نرالی ہے۔ زمین آسمان عزیر۔ مسیح۔ ملائکہ سب کچھ اس کا پیدا کیا ہوا عالم ہے۔ خالق اور مخلوق میں کیا مناسب ہے جو مخلوقات میں سے کسی کو اس ذات پاک کی بی بی اور کسی کی اولاد قرار دیا جاوے اس طرح کی بات کا منہ سے نکالنا اس طرح کا ایک بہتان ہے جس سے آسمان پھٹ کر گرے تو گر سکتا ہے پہاڑ جگہ سے ہل جاویں تو ہل سکتے ہیں۔ صحیحین اور صحیح بخاری وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان نے مجھ کو جھٹلایا اور مجھ کو گالیاں دیں جھٹلایا تو یوں کہ میں نے اپنے کلام میں اس کو ایک دفعہ مار کر پھر جلانے کی خبر دیتا ہوں اور وہ اس بات بات کو جھٹلاتا ہے اور گالیاں یہ دیں کہ وہ مجھ کو صاحب اولاد قرار دیتا ہے۔ پھر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ بڑا برد بار ہے لوگ اس کو بیٹا بیٹی ٹھہراتے ہیں اور وہ ان کو رزق اور تندرستی دیتا ہے ١۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:116) اتخذ۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ اس نے اختیار کیا۔ اس نے پسند کیا۔ ولدا۔ اسم جنس۔ کوئی بچہ۔ لڑکا ہو یا لڑکی۔ اولاد۔ سبحنہ۔ سبحن پاک ہے۔ نصب ۔ نیز مفرد کی طرف اضافت اس کی لازم ہے ۔ خواہ مفرد اسم ظاہر ہو۔ جیسے سبحان اللہ۔ (اللہ پاک ہے) یا اسم ضمیر ہو جیسے سبحنہ وہ پاک ہے۔ سبحنک تو پاک ہے۔ سبحن مصدر ہے جس کے فعل کو کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔ بل۔ حرف اضراب ہے یہ نہیں جو پہلے جملہ میں کہا گیا (کہ اس کی اولاد ہے) بلکہ سچ بات یہ ہے کہ اگلے جملہ میں بیان ہو رہی ہے۔ یعنی جو کچھ آسمانوں اور زمین میں سے سب اسی کا ہے (نیز ملاحظہ ہو 2:135) قانتون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ قانت واحد۔ اطاعت کرنے والے۔ فرمانبردار۔ حکم بجالانے والے۔ التنوت (باب نصر) جس کے معنی خضوع کے ساتھ اطاعت کا التزام کرنا ہے۔ اسی سے دعائے قنوت ہے۔ اللہ کے حضور اپنی فرمانبرادی کا اظہار۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 اس آیت میں اور اس سے اگلی آیت میں یہو دونصاری اور مشرکین کی تردید ہے جنہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت عزیر (علیہ السلام) اور فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دے رکھا تھا اور بتایا کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور اس کے فرنبردار بندے اللہ تعالیٰ اس قسم کی نسبت سے پاک اور منزہ ہے۔ (ابن کثیر) قنوت کے معنی کے لیے دیکھئے آیت 238 ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جب زمین و آسمان کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ تو اسے اولاد کی کیا ضرورت وہ تو کن کہتا ہے اور ہر چیز اس کی مرضی کے مطابق معرض وجود میں آجاتی اور اس کی غلامی میں لگ جاتی ہے۔ اولاد کی حاجت انسان کو ہے اللہ تعالیٰ ان حاجات اور کمزوریوں سے پاک ہے۔ سلسلۂ کلام سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ یہود و نصاریٰ انبیاء کے گستاخ، دین کے لیے ننگ و عار ‘ عبادت خانوں کی بےرونقی کا باعث اور اللہ تعالیٰ کی توہین کرنے والے ہیں۔ جس کی بنا پر یہودیوں نے جناب عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہا اور عیسائیوں نے اس میں اضافہ کرتے ہوئے حضرت مریم کو خدا کی بیوی اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کا بیٹا ٹھہرایا۔ مشرکین مکہ نے بتوں کو خدا کا اوتار تصور کیا اور کچھ اقوام نے ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔ یہاں اس بات کی سختی کے ساتھ تردید کی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں وہ اس کمزوری سے بالکل مبرّا اور پاک ہے کیونکہ اولاد سلسلۂ نسب کے تسلسل کے لیے ضروری ‘ انسان کی ضرورت اور اس کی طبعی محبت کا تقاضا ہے۔ آدمی کی اولاد نہ ہو تو وہ اپنے گھر ہی میں ویرانی، بےرونقی اور تنہائی محسوس کرتا ہے اور اپنے آپ کو کمزور اور بےسہارا سمجھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو ان تمام کمزوریوں سے مبرّا ہے۔ اسے کسی لحاظ سے بھی نہ سہارے کی ضرورت ہے اور نہ ہی اسے تنہائی اور کمزوری کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی وہ کسی کی محبت میں مبتلا ہے۔ حاکم کل اور قادر مطلق ہے۔ کیونکہ جو کچھ زمین و آسمانوں میں ہے ہر چیز اس کی غلام اور تابع فرمان ہے۔ اس نے زمین و آسمان کو بغیر نقشے اور میٹریل کے پیدا کیا وہ تو صرف اتنا حکم دیتا ہے کہ ہو جاوہ چیز ٹھیک ٹھیک اس کے حکم کے مطابق معرض وجود میں آجاتی ہے۔ اس سے ان اقوام اور سائنسدانوں کے نظریے کی تردید ہوتی ہے جن کا کہنا ہے کہ روح اور مادہ تو پہلے ہی موجود چلا آ رہا ہے۔ خدا تو صرف اسے ایک شکل اور وجود دینے والا ہے۔ (قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَال اللّٰہُ کَذَّبَنِی ابْنُ آدَمَ وَلَمْ یَکُنْ لَہٗ ذٰلِکَ وَشَتَمَنِیْ وَلَمْ یَکُنْ لَہٗ ذٰلِکَ فَأَمَّا تَکْذِیْبُہٗ إِیَّایَ فَقَوْلُہٗ لَنْ یُعِیْدَنِیْ کَمَا بَدَأَنِیْ وَلَیْسَ أَوَّلُ الْخَلْقِ بِأَھْوَنَ عَلَیَّ مِنْ إِعَادَتِہٖ وَأَمَّا شَتْمُہٗ إِیَّایَ فَقَوْلُہُ اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا وَأَنَاالْأَحَدُ الصَّمَدُ لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُوْلَدْوَلَمْ یَکُنْ لِیْ کُفْءًا أَحَدٌ) [ رواہ البخاری : کتاب تفسیر القرآن، باب یقال لاینون أحد أي واحد ] ” نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم جھٹلاتا ہے یہ اس کے لیے جائز نہیں۔ وہ مجھے برا کہتا ہے اسے یہ بھی زیب نہیں دیتا۔ اس کا یہ کہنا کہ جس طرح اللہ نے مجھے پیدا کیا ہے دوبارہ ہرگز نہیں لوٹائے گا مجھے جھٹلانے کے مترادف ہے حالانکہ پہلی بار پیدا کرنا دوسری بار لوٹانے سے مجھ پر بھاری نہیں۔ ابن آدم کا یہ کہنا کہ اللہ کی اولاد ہے مجھے برا کہنا ہے حالانکہ میں ایک اور بےنیاز ہوں نہ میں والد ہوں اور نہ ہی مولود اور نہ ہی کوئی میرا ہمسر ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کو اولاد کی ضرورت نہیں کیونکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی ملک اور تابعدار ہے۔ ٢۔ ہر کام اس کے ” کن “ کہنے سے ہوجاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ ایک ہے : ١۔ اللہ اولاد سے پاک ہے۔ (الانعام : ١٠١) ٢۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اور مریم [ اِلٰہ نہیں اللہ کے بندے تھے۔ (المائدۃ : ٧٥) ٣۔ اللہ کی اولاد قرار دینا سنگین ترین جرم ہے۔ (مریم : ٩١، ٩٢) ٤۔ اللہ تعالیٰ کو کسی نے جنم نہیں دیا نہ اس نے کسی کو جنم دیا ہے۔ (الاخلاص : ٣) زمین و آسمان کی تخلیق : ١۔ اللہ تعالیٰ نے بغیر نمونے کے زمین و آسمان بنائے۔ (البقرۃ : ١١٧) ٢۔ اللہ تعالیٰ نے سات آسمان اور سات زمینیں بنائیں۔ (البقرۃ : ٢٩) ٣۔ اس نے آسمان و زمین کو برابر کیا۔ (البقرۃ : ٢٩) ٤۔ آسمان کو چھت اور زمین کو فرش بنایا۔ (البقرۃ : ٢٢) ٥۔ زمین اور آسمانوں کو چھ دنوں میں بنایا۔ (الاعراف : ٥٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ قول کہ ” اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے ۔ “ یہ صرف عیسائیوں کا ہی عقیدہ نہیں جو وہ حضرت مسیح کے بارے میں رکھتے تھے بلکہ خود یہودی بھی حضرت عزیر کی ابنیت کے قائل تھے ۔ اور یہی عقیدہ مشرکین مکہ اللہ کے فرشتوں کے بارے میں رکھتے تھے ۔ قرآن کریم نے یہاں ان فرقوں کے عقیدے کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔ کیونکہ یہاں اجمالی بحث مطلوب تھی ۔ یہاں اجمالاً ان تین فرقوں کی طرف اشارہ مطلوب تھا جو اس وقت جزیرہ عرب میں تحریک اسلامی کا راستہ روکے کھڑے تھے ۔ تعجب ہے کہ آج بھی عالم اسلام میں اسلام کی راہ یہی تین فرقے روکے کھڑے ہیں ۔ یہودی بین الاقوامی صہیونیت کے روپ میں ، عیسائی بین الاقوامی صلیبیت کی شکل میں اور عرب عالمی کمیونزم کی شکل میں ہیں ۔ یہ آخری یعنی کمیونزم اس وقت کے ” عربی شرک “ سے زیادہ شدید کفر ہے ۔ اس مشترکہ خصوصیت کے بیان سے یہودیوں اور عیسائیوں کا یہ دعویٰ خود بخود رد ہوجاتا ہے کہ صرف وہی اہل ہدایت ہیں کیونکہ ہدایت کے اصل عقیدے میں وہ مشرکین کے ہم مشرب ہیں۔ ان کے تصور الٰہ کے دوسرے سقیم وفاسد پہلو کے بیان سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ اپنے بارے میں ان کے مذکورہ بالاسقیم تصور سے اپنی پاکی اور براءت کا اعلان کرتا ہے اور یہ بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوقات کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے ؟ سُبْحَانَهُ بَلْ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ كُلٌّ لَهُ قَانِتُونَ (١١٦) بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ” اللہ پاک ہے ان باتوں سے اصل حقیقت یہ ہے کہ زمین و آسمان کی تمام موجودات اس کی ملک ہیں ، سب کے سب ان کے مطیع فرمان ہیں ، وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے ، اور جس بات کا وہ فیصلہ کرتا ہے ، اس کے لئے بس یہ حکم دیتا ہے کہ ” ہوجا “ اور وہ ” ہوجاتی ہے ۔ “ اس آیت میں ، اسلامی نقطہ نظر سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا خالد تجریدی تصور بیان کیا گیا ہے ۔ یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ اور اس کی مخلوق کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے ؟ نیز اللہ کی ذات سے اس کا ئنات کا صدور کیونکر ہوا ؟ ان تمام امور کے بارے میں جو تصور پیش کیا گیا ہے وہ ان کے بارے میں تمام دوسرے تصورات کے نسبت اعلیٰ وارفع ہے ۔ یہ کائنات اللہ کی ذات والاصفات سے کیونکر صادر ہوئی ؟ بس اللہ نے ارادہ کیا اور وہ وجود میں آگئی ” کُن “ کہنے کی دیر تھی کہ ” فَیَکُونُ “ (وہ ہوگئی) ۔ یعنی کسی ہونے والی چیز کی طرف ارادہ الٰہی کی توجہ ہی امر کے لئے کافی ہے کہ وہ فی الفور وجود میں آجائے ۔ اسی صورت اور شکل میں جو اس کے لئے مقرر اور متعین ہے ۔ اس عمل میں کسی واسطے اور کسی مادی قوت کی کوئی ضرورت پیش نہیں آتی ۔ اب سوال یہ ہے کہ ارادہ الٰہی کسی مخلوق کے ساتھ کیونکر وابستہ ہوجاتا ہے ؟ اور اس کے نتیجے میں مخلوق کس طرح وجود میں آجاتی ہے ؟ تو اس کی حقیقت سے ہم واقف نہیں ہوسکتے ۔ کیونکہ یہ ایک ایسا راز ہے جو انسانی ادراک کے سربستہ ہے ۔ اس لئے کہ انسان کی ادراکی قوت ابھی تک اس راز کی متحمل نہیں ہے۔ ازروئے خلقت انسان کی ادراکی قوت کو اس راز کے معلوم کرنے کا اس لئے متحمل نہیں بنایا گیا کہ انسان کی تخلیق ، جس مقصد کے لئے ہوئی ہے ، اس کی ادائیگی کے سلسلے میں اسے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ تخلیق انسان کا کیا مقصد ہے ؟ زمین میں فریضہ خلافت کی ادائیگی اور زمین کے اندر تعمیر و ترقی ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے قوانین قدرت کے اتنے ہی راز بتائے ہیں جن کی اسے ضرورت تھی اور جن کے بغیر وہ اپنے فرائض منصبی ادا نہیں کرسکتا تھا۔ اور جن کے ذریعے انسان کے لئے خزائن الارض سے انتفاع ممکن ہوا۔ دوسری طرف اسے ایسے رازوں سے بیخبر رکھا گیا جن کا مقصد تخلیق انسانیت یعنی خلافت کبریٰ کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا۔ اس سلسلے میں دوسرے فلسفے اس بھٹکے کہ انہیں کہیں بھی روشنی کی کرن نظر نہ آئی ۔ وہ بےسود ان اسرا و رموز کے حل کے پیچھے پڑے رہے ۔ انہوں نے ایسے مفروضے قائم کئے جو محض انسانی ادراک کی پیداوار تھے ۔ حالانکہ انسانی ادراک اپنی خلقت ہی کے اعتبار سے اس قابل نہیں کہ وہ ان فوق الطبیعاتی مفروضات پر غور کرسکے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی ادراک کو سرے سے وہ ذرائع ہی نہیں دئیے جن کے ذریعے وہ ان بھیدوں تک پہنچ سکے ۔ چناچہ اگر غور کیا جائے تو تمام فلسفیانہ افکار میں سے اعلیٰ ترین افکار بھی ایسے مضحکہ انگیز ہیں کہ انہیں دیکھ کر ایک عام انسان بھی حیران رہ جاتا ہے اور سوچنے لگتا ہے کہ ایک فلسفی اور ذہین شخص ان نتائج تک کیونکر پہنچا ۔ یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ ان فلسفوں کے پیش کرنے والوں نے انسانی ادراک کو اس کی فطری حدود سے آگے بڑھایا اور اسے ان فوق الطبیعاتی مسائل میں استعمال کیا جن میں اس کی کوئی مجال نہ تھی ۔ اس لئے وہ کسی قابل اطمینان نتیجے تک نہ پہنچ سکے ۔ بلکہ ان کے نتائج کی فکر اس شخص کی نظر میں کوئی وقعت نہیں رکھتے جو اسلامی نظریہ حیات پر ایمان رکھتا ہو اور اس کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کررہا ہو ۔ اسلام نے اپنے معتقدین کو بغیر واضح حجت کے ان اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے سے محفوظ کردیا ہے۔ اس لئے وہ بنیادی طور پر غلط طریق فکر کی راہ سے مابعد الطبیعاتی مسائل کے حل کی ناکام کوشش ہی نہیں کرتے ۔ مابعد ادوار میں مسلمانوں میں سے جن متفلسفوں نے ، یونانی فلسفے سے متاثر ہوکر فلسفیانہ مفروضات کے مطابق سوچنا شروع کیا ، وہ بےحد الجھن اور غلط مبحث کا شکار ہوئے ۔ جیسا کہ ان سے پہلے ان کے اساتذہ یونانی فلسفی شکار ہوئے تھے ۔ ان مسلم فلسفیوں نے اسلامی نظام فکر میں وہ مسائل داخل کردئیے جو اس کے مزاج ہی کے خلاف تھے ۔ اور انہیں اسلامی نظریہ حیات کی حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا ۔ غرض جب بھی انسان نے اپنی عقل وفکر کو اپنی حدود سے آگے بڑھایا اور اپنے مزاج اور خلقت کے خلاف استعمال کیا اس کا انجام یہی رہا ۔ بَلْ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ كُلٌّ لَهُ قَانِتُونَ ” اصل حقیقت یہ ہے کہ زمین و آسمان کی تمام موجودات اس کی ملک ہیں ۔ سب کے سب اس کے مطیع فرمان ہیں ۔ “

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنے والوں کی گمراہی اس آیت شریفہ میں مشرکین کا یہ قول نقل فرمایا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں پھر فوراً ہی سُبْحَانَہٗ فرما کر ان کی تردید کی اور خالق ومالک جل و علیٰ کی تنزیہہ بیان فرمائی، اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنے کا شرکیہ عقیدہ یہود میں بھی رہا ہے کیونکہ وہ حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتاتے تھے۔ اور نصرانیوں کے بارے میں تو سبھی جانتے ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتاتے ہیں۔ سورة توبہ میں ہے : (وَ قَالَتِ الْیَھُوْدُ عُزَیْرُنِ ابْنُ اللّٰہِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَی الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰہِ ) اور مشرکین عرب کا عقیدہ تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا (اَفَاَصْفٰکُمْ رَبُّکُمْ بالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلآءِکَۃِ اِنَاثًا اِنَّکُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا) (کیا تمہارے رب نے تم کو تو بیٹوں کے ساتھ خاص کیا اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنا لیا، بیشک تم بڑی بےجا بات کہتے ہو) ۔ اور سورة زخرف میں فرمایا (وَجَعَلُوا الْمَلآءِکَۃَ الَّذِیْنَ ھُمْ عِبَاد الرَّحْمٰنِ اِِنَاثًا اَشَہِدُوْا خَلْقَہُمْ سَتُکْتَبُ شَہَادَتُہُمْ وَیُسْءَلُوْنَ ) (اور انہوں نے فرشتوں کو جو کہ خدا کے بندے ہیں۔ عورت قرار دے رکھا ہے، کیا ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے ان کا یہ دعویٰ لکھ لیا جائے گا اور ان سے باز پرس ہوگی) ۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ اس عقیدہ کی تردید فرمائی اور سورة اخلاص میں واضح طور پر فرمایا ہے۔ (وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ) کہ اس نے نہ کسی کو جنا نہ وہ کسی سے جنا گیا اور کوئی بھی اس کے برابر نہیں۔ سورة انعام میں فرمایا : (وَ جَعَلُوْا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَھُمْ وَ خَرَقُوْا لَہٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍ بِغَیْرِ عِلْمٍ سُبْحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یَصِفُوْنَ* بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَنّٰی یَکُوْنُ لَہٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَکُنْ لَّہٗ صَاحِبَۃٌ وَ خَلَقَ کُلَّ شَیْءٍ وَ ھُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ) ” اور لوگوں نے جنات کو اللہ کا شریک قرار دے رکھا ہے حالانکہ ان کو خدا نے پیدا کیا اور ان لوگوں نے اللہ کے لیے بیٹے اور بیٹیاں محض بلا سند تراش رکھی ہیں وہ پاک اور برتر ہے ان باتوں سے جن کو یہ لوگ بیان کرتے ہیں وہ آسمان اور زمین کا موجد ہے۔ اللہ کے اولاد کہاں ہوسکتی ہے حالانکہ اس کے کوئی ساتھ والی نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا کیا اور وہ ہر چیز جانتا ہے۔ “ سورۃ مریم میں فرمایا : (وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا* لَقَدْ جِءْتُمْ شَیْءًا اِدًّا* تَکَاد السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ ھَدًّا* اَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنِ وَلَدًا* وَ مَا یَنْبَغِیْ للرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا اِنْ کُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًا) ” اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد اختیار کی ہے۔ تم بہت زیادہ بری بات لے کر آئے۔ کچھ بعید نہیں کہ آسمان پھٹ پڑیں اور زمین کے ٹکڑے اڑ جائیں اور پہاڑ ٹوٹ کر گرپڑیں اس بات سے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت کرتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ کے شایان شان نہیں کہ وہ اولاد اختیار کرے جتنے بھی کچھ آسمانوں اور زمین میں ہیں سب خدا تعالیٰ کے رو برو بندے بنے ہوئے حاضر ہوتے ہیں۔ “ حضرت ابو ہریرۃ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان نے مجھے جھٹلایا حالانکہ اس کے لیے ایسا کرنا درست نہ تھا اور اس نے مجھے گالی دی حالانکہ اس کے لیے ایسا کرنا درست نہ تھا اس کا جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میں (موت دے کر) دوبارہ اسے زندہ نہ کروں گا جیسا کہ میں نے اسے شروع میں پیدا کیا اور اس کا گالی دینا یہ ہے کہ وہ یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صاحب اولاد ہوگیا حالانکہ میں بےنیاز ہوں نہ میں نے کسی کو جنا اور نہ میں جنا گیا اور نہ کوئی میرے برابر ہے۔ ( صحیح بخاری ص ٧٤٤ ج ٢) ان آیات سے اور حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنا اللہ تعالیٰ کو بہت ہی زیادہ ناگوار ہے اور یہ بہت بڑا کفر ہے اور بہت بڑا شرک ہے۔ یہ ایسی چیز ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا حلم نہ ہو اور اس کا مخلوق کے ساتھ مہربانی کا برتاؤ نہ ہو تو اس شرک کی وجہ سے آسمان و زمین کے ٹکڑے ہوجائیں اور پہاڑ گرپڑیں۔ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی حلیم نہیں : حضرت ابو موسیٰ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تکلیف دینے والی باتیں سن کر صبر کرنے میں اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے لوگ اللہ کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں وہ پھر بھی ان کو عافیت دیتا ہے اور رزق عطا فرماتا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ١٣ از بخاری و مسلم) تکلیف تو جسم اور جان کو ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ مخلوق کی مشابہت سے پاک ہے۔ لیکن لوگوں کی باتیں ایسی ہیں جو تکلیف دینے والی ہیں۔ اور ان سے اللہ تعالیٰ کو سخت ناگواری اور بیزاری ہے۔ پھر بھی وہ زندہ رکھتا ہے رزق اور عافیت دیتا ہے اور عذاب دینے میں جلدی نہیں فرماتا۔ اصحاب دنیا میں کسی ذرا سے صاحب اقتدار کو بھی کوئی ناگواری کی بات کہہ دی جائے تو وہ بہت جلد سزا دینے کو تیار ہوجاتا ہے۔ پھر فرمایا (بَلْ لَّہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ کُلُّ لَّہٗ قٰنِتُوْنَ ) کہ جو بھی کچھ آسمانوں میں اور زمین میں موجود ہے یہ سب اللہ کی مخلوق ہے اور مملوک ہے اور سب اس کے بندے ہیں اور سب اس کے فرمانبردار ہیں۔ خالق اور مخلوق کے درمیان اور مالک اور مملوک کے درمیان اور عابد و معبود کے درمیان کوئی نسبی رشتہ نہیں ہوسکتا۔ رشتہ کے لیے ہم جنس ہونا ضروری ہے۔ لہٰذا خالق تعالیٰ شانہٗ کی کوئی اولاد ہونا ہی محال ہے اس کے لیے اولاد تجویز کرنا اس کے لیے عیب تجویز کرنا ہے اور اس کی ذات کو محتاج بتانا ہے اور اس کے لیے برابر کا تجویز کرنا ہے اور وہ ان سب باتوں سے پاک ہے۔ بلند وبالا ہے اسی لیے حدیث شریف میں فرمایا کہ اللہ کے لیے اولاد تجویز کرنا اس کو گالی دینا ہے یعنی اس کی ذات کو ایسی چیز سے متصف کرنا ہے جو اس کے لیے نقص اور عیب کی چیز ہے۔ پھر فرمایا : (بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ) ۔ (الآیۃ) یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو بلا مثال پیدا فرمایا اور نظام محکم کا ان کو پابند بنایا سب اس کے حکم تکوینی کے پابند ہیں وہ جیسے چاہتا ہے تصرف فرماتا ہے۔ وہ (فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ) ہے۔ وہ صفت انفعال سے متصف نہیں ہے اور جب کسی کے اولاد ہوتی ہے تو اس میں سے اولاد منفصل یعنی جدا ہوتی ہے اور یہ سراپا صفت انفعال ہے جس سے اللہ جل شانہٗ منزہ اور پاک ہے اور برتر ہے۔ ( من روح المعانی ص ٢٦٨ ج ١) پھر فرمایا (وَ اِذَا قَضآی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ ) (اور جب وہ کسی امر کا فیصلہ فرماتا ہے تو فرما دیتا ہے کہ ہوجا، پس اس کا وجود ہوجاتا ہے۔ ) اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ملہ کا بیان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ کسی بھی چیز کے پیدا فرمانے کے لیے اسباب اور آلات کا محتاج نہیں ہے۔ کسی چیز کے وجود میں آنے کے لیے اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہی کافی ہے جس طرح اسے اسباب اور آلات کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح معین اور مددگار کی بھی ضرورت نہیں۔ اولاد کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کاموں میں کچھ مدد کرے یا باپ کی موت کے بعد اس کا قائم مقام ہو۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ ازلی اور ابدی ہے۔ اسے کسی اولاد کی ضرورت نہیں۔ جو اس کی جگہ قائم مقام ہو اور اس کی قدرت بھی کامل ہے۔ محض اس کے ارادہ سے سب کچھ ہوجاتا ہے۔ یہ جو فرمایا کہ کسی چیز کے پیدا فرمانے کے لیے اللہ جل شانہٗ کن فرما دیتا ہے۔ اس کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ کلام حقیقت پر محمول ہے اور واقعتہً اللہ تعالیٰ کلمہ کن فرماتے ہیں جس سے اس چیز کا وجود ہوجاتا ہے جس کے وجود میں لانے کے لیے یہ کلمہ فرماتے ہیں۔ بعض لوگوں نے اس پر یہ اشکال کیا ہے کہ جو چیز ابھی موجود نہیں۔ اس کو کیوں کر خطاب کیا جاتا ہے۔ اس اشکال کی کوئی حیثیت نہیں۔ کیونکہ خطاب کرنے کے لیے اس چیز کا علم ہونا کافی ہے۔۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ لفظ کن سے لفظ کن مراد نہیں ہے، بلکہ یہ مجاز ہے سرعت تکوین سے اور جلد سے جلد وجود میں آجانے سے۔ قال صاحب الروح والامر محمول علی حقیقتہ کما ذھب الیہ محققو ساداتنا الحنفیۃ، واللّٰہ تعالیٰ قد اجری سنۃ فی تکوین الاشیاء أن یکونھا بھذہ الکلمۃ و ان لم یمتنع تکوینھا بغیرھا۔ والمراد الکلام الازلی لانہ یستحیل قیام اللفظ المرتب بذاتہ تعالیٰ و کثیر من اھل السنۃ الی انہ لیس المرادبہ حقیقۃ الامر والامتثال۔ وانما ھو تمثیل لحصول ما تعلق بہ الارادۃ بلا مھلۃ بطاعۃ المامور المطیع بلا توقف۔ ١ ؂

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

چوتھا شکوہ۔221 قالوا کا فاعل یہود، نصاری اور مشرکین عرب تینوں گروہ ہیں۔ کیونکہ تینوں کا ذکر پہلے گذر چکا ہے۔ یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے تھے اور مشرکین عرب کہتے تھے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں۔ اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا۔ سے اس طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے لیے حقیقی اولاد ثابت نہیں کرتے تھے بلکہ اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ یہ حضرت اللہ تعالیٰ کو اس قدر پیارے ہیں کہ اس نے ان کو بیٹے بنا لیا ہے اور بیٹے سے ان کی مراد نائب ومختار تھی یعنی جس طرح بیٹا اپنے باپ کا نائب ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کو اپنے اختیارات میں سے کچھ اختیارات دیکر اور اپنے نائب بنا کر دنیا میں بھیجا ہوا ہے۔ اب وہ اللہ کے عطائی اختیارات مثلا علم غیب، حاجت روائی، مشکل کشائی وغیرہ کے ذریعہ لوگوں کے حالات سے واقف رہتے ہیں۔ ان کی غائبانہ پکار سنتے اور ان کی حاجات ومشکلات میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ اب آگے اس کا جواب ہے۔ 222 زمین و آسمان کی ہر مخلوق خدا کی مملوک اور ہر چیز اس کی ملکیت ہے خواہ انبیا ہوں یا ملائکہ۔ خواہ اللہ کے نیک بندے اور دیگر اشیا۔ لہذا یہ سب خدا کے مملوک ہوئے تو پھر اس کے بیٹے کس طرح بن سکتے ہیں۔ نیز بیٹے کی ضرورت تو اس کو ہوتی ہے جو محتاج ہو اور فانی ہو تاکہ اس کا نام زندہ رہے اور اس کا کوئی وارث ہوسکے تو اللہ تعالیٰ تو محتاج نہیں اور نہ وہ فانی ہے وہ زمین و آسمان کا تنہا مالک اور بادشاہ ہے۔ زمین و آسمان کے تمام اختیارات اس کے اپنے ہاتھ میں ہیں۔ اس لیے اسے کسی نائب یا وارث کی ضرورت نہیں۔ ۭكُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ ۔ زمین و آسمان کی ساری مخلوق جن میں حضرت عزیر حضرت مسیح اور ملائکہ کرام بھی شامل ہیں سب خدا کے فرمانبردار اور مطیع ہیں۔ اور اس کی ربوبیت کے مقر اور اس کے دربار میں اپنی عبدیت کے معترف ہیں۔ اور اپنی حاجات میں اللہ ہی کو پکارتے ہیں۔ اس لیے وہ اس کے بیٹے کیونکر بن سکتے ہیں بلکہ وہ تو اس کے برگزیدہ بندے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi