Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 122

سورة البقرة

یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ وَ اَنِّیۡ فَضَّلۡتُکُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۲۲﴾

O Children of Israel, remember My favor which I have bestowed upon you and that I preferred you over the worlds.

اے اولاد یعقوب !میں نے جو نعمتیں تم پر انعام کی ہیں انہیں یاد کرو اور میں نے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دے رکھی تھی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah says; يَا بَنِي إِسْرَايِيلَ اذْكُرُواْ نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ O Children of Israel! Remember My favor which I bestowed upon you and that I preferred you over the nations. وَاتَّقُواْ يَوْماً لاَّ تَجْزِي نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَيْياً وَلاَ يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلاَ تَنفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَلاَ هُمْ يُنصَرُونَ

انتباہ پہلے بھی اس جیسی آیت شروع سورت میں گزر چکی ہے اور اس کی مفصل تفسیر بھی بیان ہو چکی ہے یہاں صرف تاکید کے طور پر ذکر کیا گیا اور انہیں نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کی رغبت دلائی گئی جن کی صفتیں وہ اپنی کتابوں میں پاتے تھے جن کا نام اور کام بھی اس میں لکھا ہوا تھا بلکہ ان کی امت کا ذکر بھی اس میں موجود ہے پس انہیں اس کے چھپانے اور اللہ کی دوسری نعمتوں کو پوشیدہ کرنے سے ڈرایا جا رہا ہے اور دینی اور دنیوی نعمتوں کو ذکر کرنے کا کہا جا رہا ہے اور عرب میں جو نسلی طور پر بھی ان کے چچا زاد بھائی ہیں اللہ کی جو نعمت آئی ان میں جس خاتم الانبیاء کو اللہ نے مبعوث فرمایا ان سے حسد کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور تکذیب پر آمادہ نہ ہونے کی ہدایت کی گئی ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٤٨] بنی اسرائیل کا ذکر پانچویں رکوع سے شروع ہو کر چودھویں رکوع تک پورے دس رکوعات میں پوری تفصیل سے کیا گیا اور بتلایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو تمام اقوام عالم پر فضیلت دے کر تمام بنی نوع انسان کی ہدایت کا فریضہ انہیں سونپا تھا۔ مگر ان میں بیشمار ایسی اخلاقی بیماریاں پیدا ہوچکی تھیں۔ جن کی وجہ سے یہ امامت کے قابل ہی نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی تمام اخلاقی بیماریوں کا ذکر تفصیل سے بیان کردیا ہے اور آخر میں انہیں وہی ہدایت کی جا رہی ہے جو ابتداء میں بھی کی گئی تھی کہ اس دن سے ڈر کر اب بھی اپنی خباثتوں سے باز آجاؤ۔ جس دن کوئی شخص دوسرے کے کام نہ آسکے گا، نہ بدلہ قبول کیا جائے گا نہ کسی کی سفارش فائدہ دے سکے گی اور نہ ہی مدد کا کوئی اور ذریعہ کام آسکے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

بنی اسرائیل سے خطاب کی ابتدا اللہ کی نعمتیں یاد دلانے اور قیامت اور اس کی ہولناکیوں سے ڈرانے سے ہوئی۔ مسلسل چوراسی آیات میں ان پر اللہ کی نعمتوں کے ساتھ ساتھ ان کی نافرمانیوں کا ذکر بھی فرمایا گیا۔ آخر میں دوبارہ انھیں اللہ کی نعمتیں یاد دلائی گئیں اور آخرت کے دن سے ڈرایا گیا اور متنبہ کیا گیا کہ اوپر بیان کی ہوئی بدکرداریوں کی وجہ سے تم ظالم ٹھہرے، سو اب امامت و قیادت بنی اسرائیل سے بنی اسماعیل میں منتقل ہو رہی ہے، جن میں ایک پیغمبر مبعوث کرنے کی دعا ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے وقت کی تھی۔ ان آیات اور پچھلی تمام آیات کا مقصود اہل کتاب کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے اور آپ کی پیروی کرنے پر ابھارنا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

A large section of this Sarah, ending with the previous verse, has been dealing with different aspects of the conduct of the Israelites (that is, the Jews) in the course of their history. This account had begun with the statement which has been repeated at the end in these two verses. The statement is of a general and principal kind, and the verses which come in between the beginning and the end are, so to say, a detailed demonstration of the statement. On the one hand, it encourages the Israelites to come back to the Straight Path by reminding them of the blessings which Allah has bestowed on them; on the other hand, it warns them of the consequences of their lapses by depicting the Day of Judgment. The purpose of repeating the statement at the end of the discussion is to make the two ideas sink deep into their minds. For, what is aimed at in a discussion is the affirmation of certain basic and general principles -- being succinct, they are easily kept alive in the mind, and, being comprehensive and readily applicable to particular situations, they make it easy for one to remember the details too. In the art of writing and speaking, it is considered to be one of the most effective means of carrying conviction that, before starting on a long analytical discussion of a subject, one should define the basic ideas very briefly and clearly which are always helpful in comprehending the details and the particularities, and that, in concluding the argument, one should repeat these ideas by way of a summary. The repetition of the introductory statement here is of this very nature.

خلاصہ تفسیر : اوپر کی آیت تک بنی اسرائیل کے متعلق جن خاص مضامین کا بیان کرنا مقصود تھا وہ تو ختم ہوئے اب ان مضامین کی ابتدائی تمہید جن کے اجمال کے یہ سارے مضامین تفصیل تھے اس کو دوبارہ پھر بیان کرتے ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ تمہید کا مضمون خاص یعنی ترغیب کے لئے انعام عام وخاص کا یاد دلانا اور ترہیب کیلئے قیامت کو پیش نظر کردینا بوجہ تکرار خوب ذہن نشین ہوجائے کیونکہ مقصود اعظم کلیات ہوتے ہیں جن کا خود استحضار ان کے اختصار کی وجہ سے سہل اور آسان ہوتا ہے اور بوجہ جامعیت اور انطباق کے ان کے ذریعہ سے ان کے جزئیات کا محفوظ رکھنا آسان ہوتا ہے اور محاورات میں یہ طرز بلیغ بھی اعلیٰ درجہ کا سمجھا جاتا ہے کہ مفصل اور مطول بات کرنے سے پہلے ایک مجمل عنوان سے اس کی تقریر کردی جائے جس کا قدر مشترک تمام تفاصیل کے سمجھنے میں معین و مددگار ہو اور آخر میں بطور خلاصہ اور نتیجہ تفصیل اسی مجمل عنوان کا پھر اعادہ کردیا جائے مثلاً یہ کہا جائے کہ تکبر بڑی مضر خصلت ہے اس میں ایک ضرر یہ دوسرا یہ تیسرا یہ دس بیس مضرتیں گنوا کر پھر آخر میں کہہ دیا جائے کہ غرض تکبر بڑی مضر خصلت ہے اسی طور پر اس آیت يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ کا اعادہ فرمایا گیا ہے، اے اولاد یعقوب (علیہ السلام) میری ان نعمتوں کو یاد کرو جن کا میں نے تم پر (وقتا فوقتا) انعام کیا اور اس کو (بھی یاد کرو) کہ میں نے تم کو بہت لوگوں پر (بہت سی باتوں میں) فوقیت دی اور تم ڈرو ایسے دن سے (یعنی روز قیامت سے) جس میں کوئی شخص کسی کی طرف سے نہ کوئی مطالبہ (اور حق واجب) ادا کرنے پاوے گا اور نہ کسی کی طرف سے کوئی معاوضہ (بجائے حق واجب کے) قبول کیا جاوے گا اور نہ کسی کی کوئی سفارش (جبکہ ایمان نہ ہو) مفید ہوگی اور نہ ان لوگوں کو کوئی (بزور) بچا سکے گا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَاَنِّىْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ۝ ١٢٢ اِسْرَاۗءِيْلَ ( بني) ، جمع ابن، والألف في ابن عوض من لام الکلمة المحذوفة فأصلها بنو . (إسرائيل) ، علم أعجمي، وقد يلفظ بتخفیف الهمزة إسراييل، وقد تبقی الهمزة وتحذف الیاء أي إسرائل، وقد تحذف الهمزة والیاء معا أي : إسرال . نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م ) النعمۃ اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی حالت کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے : ۔ جلسۃ ورکبۃ وغیرہ ذالک ۔ اور نعمۃ کے معنی تنعم یعنی آرام و آسائش کے ہیں اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو مرۃ ہے جو مرۃ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے : ۔ ضر بۃ وشتمۃ اور نعمۃ کا لفظ اسم جنس ہے جو قلیل وکثیر کیلئے استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو ۔ فضل الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر فعلی ثلاثة أضرب : فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات . وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله : وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] ، إلى قوله : تَفْضِيلًا وفضل من حيث الذّات، کفضل رجل علی آخر . فالأوّلان جوهريّان لا سبیل للناقص فيهما أن يزيل نقصه وأن يستفید الفضل، کالفرس والحمار لا يمكنهما أن يکتسبا الفضیلة التي خصّ بها الإنسان، والفضل الثالث قد يكون عرضيّا فيوجد السّبيل علی اکتسابه، ومن هذا النّوع التّفضیل المذکور في قوله : وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] ، لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] ، يعني : المال وما يکتسب، ( ف ض ل ) الفضل کے منعی کسی چیز کے اقتضا ( متوسط درجہ سے زیادہ ہونا کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے محمود جیسے علم وحلم وغیرہ کی زیادتی مذموم جیسے غصہ کا حد سے بڑھ جانا لیکن عام طور الفضل اچھی باتوں پر بولا جاتا ہے اور الفضول بری باتوں میں اور جب فضل کے منعی ایک چیز کے دوسری پر زیادتی کے ہوتے ہیں تو اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں ( ۔ ) بر تری بلحاظ جنس کے جیسے جنس حیوان کا جنس نباتات سے افضل ہونا ۔ ( 2 ) بر تری بلحاظ نوع کے جیسے نوع انسان کا دوسرے حیوانات سے بر تر ہونا جیسے فرمایا : ۔ وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت دی ۔ ( 3 ) فضیلت بلحاظ ذات مثلا ایک شخص کا دوسرے شخص سے بر تر ہونا اول الذکر دونوں قسم کی فضیلت بلحاظ جو ہر ہوتی ہے ۔ جن میں ادنیٰ ترقی کر کے اپنے سے اعلٰی کے درجہ کو حاصل نہیں کرسکتا مثلا گھوڑا اور گدھا کہ یہ دونوں انسان کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے ۔ البتہ تیسری قسم کی فضیلت من حیث الذات چونکہ کبھی عارضی ہوتی ہے اس لئے اس کا اکتساب عین ممکن ہے چناچہ آیات کریمہ : ۔ وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] اور خدا نے رزق ( دولت ) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ۔ لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل ( یعنی روزی تلاش کرو ۔ میں یہی تیسری قسم کی فضیلت مراد ہے جسے محنت اور سعی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ عالَمُ والعالَمُ : اسم للفلک وما يحويه من الجواهر والأعراض، وهو في الأصل اسم لما يعلم به کالطابع والخاتم لما يطبع به ويختم به، وجعل بناؤه علی هذه الصّيغة لکونه کا لآلة، والعَالَمُ آلة في الدّلالة علی صانعه، ولهذا أحالنا تعالیٰ عليه في معرفة وحدانيّته، فقال : أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 185] ، وأمّا جمعه فلأنّ من کلّ نوع من هذه قد يسمّى عالما، فيقال : عالم الإنسان، وعالم الماء، وعالم النّار، وأيضا قد روي : (إنّ لله بضعة عشر ألف عالم) «1» ، وأمّا جمعه جمع السّلامة فلکون النّاس في جملتهم، والإنسان إذا شارک غيره في اللّفظ غلب حكمه، وقیل : إنما جمع هذا الجمع لأنه عني به أصناف الخلائق من الملائكة والجنّ والإنس دون غيرها . وقد روي هذا عن ابن عبّاس «2» . وقال جعفر بن محمد : عني به النّاس وجعل کلّ واحد منهم عالما «3» ، وقال «4» : العَالَمُ عالمان الکبير وهو الفلک بما فيه، والصّغير وهو الإنسان لأنه مخلوق علی هيئة العالم، وقد أوجد اللہ تعالیٰ فيه كلّ ما هو موجود في العالم الکبير، قال تعالی: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ [ الفاتحة/ 1] ، وقوله تعالی: وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعالَمِينَ [ البقرة/ 47] ، قيل : أراد عالمي زمانهم . وقیل : أراد فضلاء زمانهم الذین يجري كلّ واحد منهم مجری كلّ عالم لما أعطاهم ومكّنهم منه، وتسمیتهم بذلک کتسمية إبراهيم عليه السلام بأمّة في قوله : إِنَّ إِبْراهِيمَ كانَ أُمَّةً [ النحل/ 120] ، وقوله : أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعالَمِينَ [ الحجر/ 70] . العالم فلک الافلاک اور جن جواہر واعراض پر حاوی ہے سب کو العالم کہا جاتا ہے دراصل یہ فاعل کے وزن پر ہے جو اسم آلہ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے طابع بہ ۔ مایطبع بہ خاتم مایختم بہ وغیرہ اسی طرح عالم بھی ہے جس کے معنی ہیں ماعلم بہ یعنی وہ چیز جس کے ذریعہ کسی شے کا علم حاصل کیا جائے اور کائنات کے ذریعہ بھی چونکہ خدا کا علم حاصل ہوتا ہے اس لئے جملہ کائنات العالم کہلاتی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ذات باری تعالیٰ کی وحدانیت کی معرفت کے سلسلہ میں کائنات پر غور کرنے کا حکم دیا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 185] کیا انہوں نے اسمان اور زمین گی بادشاہت پر غور نہیں کیا ۔ اور العالم کی جمع ( العالمون ) اس لئے بناتے ہیں کہ کائنات کی ہر نوع اپنی جگہ ایک مستقلی عالم عالم کی حیثیت رکھتی ہے مثلا عالم الاانسان؛عالم الماء وعالمالناروغیرہ نیز ایک روایت میں ہے ۔ ان اللہ بضعتہ عشر الف عالم کہ اللہ تعالیٰ نے دس ہزار سے کچھ اوپر عالم پیدا کئے ہیں باقی رہا یہ سوال کہ ( واؤنون کے ساتھ ) اسے جمع سلامت کے وزن پر کیوں لایا گیا ہے ( جو ذدی العقول کے ساتھ مختص ہے ) تو اس کا جواب یہ ہے کہ عالم میں چونکہ انسان بھی شامل ہیں اس لئے اس کی جمع جمع سلامت لائی گئی ہے کیونکہ جب کسی لفظ میں انسان کے ساتھ دوسری مخلوق بھی شامل ہو تو تغلیبا اس کی جمع واؤنون کے ساتھ بنالیتے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ چونکہ لفظ عالم سے خلائق کی خاص قسم یعنی فرشتے جن اور انسان ہی مراد ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے ۔ اس لئے اس کی جمع واؤنون کے ساتھ لائی گئی ہے امام جعفر بن محمد کا قول ہے کہ عالیمین سے صرف انسان مراد ہیں اور ہر فرد بشر کو ایک عالم قرار دے کر اسے جمع لایا گیا ہے ۔ نیز انہوں نے کہا ہے کہ عالم دو قسم پر ہے ( 1 ) العالم الکبیر بمعنی فلک دمافیہ ( 2 ) العالم اصغیر یعنی انسان کیونکہ انسان کی تخلیق بھی ایک مستقل عالم کی حیثیت سے کی گئی ہے اور اس کے اندر قدرت کے وہ دلائل موجود ہیں جا عالم کبیر میں پائے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعالَمِينَ [ الحجر/ 70] کیا ہم نے تم کو سارے جہاں ( کی حمایت وطر فداری سے ) منع نہیں کیا الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ [ الفاتحة/ 1] سب تعریف خدا ہی کو سزا وار ہے جو تمام مخلوقات کو پروردگار ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعالَمِينَ [ البقرة/ 47] کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ تم یعنی بنی اسرائیل کو ان کی ہمعصراز قوام پر فضیلت دی اور بعض نے اس دور کے فضلا مراد لئے ہیں جن میں سے ہر ایک نواز شات الہٰی کی بدولت بمنزلہ ایک عالم کے تھا اور ان کو عالم سے موسم کرنا ایسے ہی ہے جیسا کہ آیت کریمہ : إِنَّ إِبْراهِيمَ كانَ أُمَّةً [ النحل/ 120] بیشک حضرت ابراہیم ایک امہ تھے میں حضرت ابراہیم کو امۃ کہا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٢٢) اب پھر اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنے انعامات اور احسانات کا ذکر فرماتے ہیں، اے یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میرے ان انعامات کو یاد کرو جو میں نے تمہارے باپ داد پر فرعون اور اس کی قوم سے آزادی دے کر کیے ہیں اور اس کے علاوہ اور مزید انعامات کیے ہیں اور اسلام کی وجہ سے تمام جہان پر فضیلت دی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

فرمایا : آیت ١٢٢ (یٰبَنِیْ اِسْرَآءِ یْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ) یہ آیت بعینہٖ ان الفاظ میں چھٹے رکوع کے آغاز میں آچکی ہے۔ (آیت ٤٧) دوسری آیت بھی جوں کی توں آرہی ہے ‘ صرف الفاظ کی ترتیب تھوڑی سی بدلی ہے۔ عبارت کے شروع اور آخر والی بریکٹس ایک دوسرے کا عکس ہوتی ہیں۔ ایک کی گولائی دائیں طرف ہوتی ہے تو دوسری کی بائیں طرف۔ اسی طرح یہاں دوسری آیت کی ترتیب درمیان سے تھوڑی سی بدل دی گئی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

123. A fresh subject is now broached. In order to appreciate it fully, the following should be clearly borne in mind: (1) After Noah, Abraham was the first Prophet appointed by God to spread the universal message of Islam. At the outset, he journeyed for many years from Iraq to Egypt, and from Syria and Palestine to various parts of Arabia inviting people to serve and obey God. Later he appointed deputies in various regions to carry on his mission. He sent his nephew Lot to Transjordan, his son Isaac to Syria and Palestine, and his eldest son Ishmael to Arabia. Then he built, in Makka, the shrine called the Ka'bah which subsequently, and under God's own command, was made the centre of the prophetic mission. (2) Abraham's progeny descended in two main branches. One of these, the Children of Ishmael, lived in Arabia. The Quraysh and other Arabian tribes belonged to this branch of Abraham's line. Even those Arabian tribes which were not related to him by blood identified themselves with Abraham, since they had been influenced in varying degrees by his religious ideas. The other branch consisted of the Children of Isaac. In this branch there arose a great number of Prophets, for example Jacob, Joseph, Moses, David, Solomon, John, and Jesus. Since Jacob was called Israel, his offspring came to be known as the Children of Israel. Other peoples who accepted their faith as a result of preaching either lost their former identity and became assimilated with them, or remained separate from them ethnically but identified with them religiously. At the time when decadence flourished this branch of the Abrahamic family gave birth first to Judaism, and subsequently to Christianity. (3) The true mission of Abraham was to invite people to obey God and to mould the entire system of individual and collective life according to Divine Guidance. He was himself obedient to God and followed the teaching received from Him, and constantly strove to spread it and make all human beings live in obedience to it. It was because of this that he was appointed the religious leader and guide of the whole world. After his death, the task of guiding the world was entrusted to the branch which had issued from Isaac and Jacob, and which came to be known as the Children of Israel. It is in this branch that many Prophets were born. It was also this branch which was given the knowledge of the Straight Way, and was designated to lead all the nations of the world along that Way. It is of this favour that God again and again reminds these people. In the time of Solomon this branch took Jerusalem as the centre of its mission. Jerusalem maintained its central position for all devotees of God and remained the qiblah (direction) in which all worshippers of God were required to turn in their Prayer. (4) While addressing the Children of Israel in the last ten sections, God set forth the criminal record of the Jews, exposed their decadent state at the time of the revelation of the Qur'an, and made it clear to them that they had totally lacked gratitude to God for His favours and bounties. Not only had they ceased to guide the world, but had turned away from Truth and righteousness to such an extent that nearly all of them had lost the capacity to do good and to respond to Truth. (5) It is also intimated that the religious leadership of all mankind is not an exclusive privilege of Abrahamic blood, but rather the fruit of Abraham's sincere obedience and service to God, to which he had wholly consecrated himself. Only those who follow the way of Abraham, and guide the world along that way, are therefore entitled to the position of guidance and leadership. And since the Jews had abandoned it and become incapable of carrying out the mission of Abraham they were being removed from that position. (6) At the same time it is hinted that the non-Israelite peoples who identified themselves with Abraham through Moses and Jesus had also veered from the way of Abraham. The same was true of the polytheists of Arabia, who felt proud of belonging to Abraham and Ishmael and based this pride on lineage alone. For, so far as their faith and conduct were concerned, they had not even the remotest tie with Abraham and Ishmael. They did not deserve, therefore, to be entrusted with the religious leadership of the world. (7) It is also made clear that by God's will a Prophet, for whose advent Abraham and Ishmael had once prayed, was born in the other branch of the Abrahamic family, i.e. the Ishmaelites. The way propounded by this Prophet is exactly the same as that by Abraham, Isaac, Ishmael, Jacob and in fact all the Messengers. His followers also confirm the truth of all those designated in the past to serve as God's Messengers, and call mankind to the same message those Messengers preached earlier. Thus, leadership now naturally devolves on those who follow this Prophet. (8) This proclamation of a transfer of leadership naturally called for the proclamation of a change in the direction of Prayer. As long as the Israelites held the reins of the world's religious leadership, Jerusalem remained the centre of the mission of Islam and the qiblah of truth-loving people. The Arabian Prophet (peace be on him) as well as his followers had accepted Jerusalem as the qiblah until God duly proclaimed the removal of the Jews from their position of leadership. With this proclamation Jerusalem ceased to enjoy its central position. So it was proclaimed that from then on the centre of God's true religion would be the place from which the message of the Prophet Muhammad (peace be on him) had radiated. Since in the past it had been the centre of the mission of Abraham (peace be on him) , it was difficult even for the polytheists and for the People of the Book to deny that the Ka'bah had a greater right to be made the qiblah. There was thus every reasonable ground for the decision to change the qiblah and its opponents could only object out of irrational adamance. (9) The proclamation that the followers ef the Prophet Muhammad (peace be on him) had been designated to the religious leadership of mankind, and that the Ka'bah would now be the focal point of man's religious life, was followed by directives (beginning with verse 153 and continuing to the end of the surah) addressed to the Muslims. These directives were aimed at enabling the Muslims to acquit themselves creditably of the duties laid upon their shoulders as the bearers of this mission.

سوْرَةُ الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :123 یہاں سے ایک دُوسرا سلسلہ تقریر شروع ہو تا ہے ، جسے سمجھنے کے لیے حسبِ ذیل امور کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہیے: ( ۱ ) حضرت نوح ؑ کے بعد حضرت ابراہیم ؑ پہلے نبی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی عالمگیر دعوت پھیلانے کے لیے مقرر کیا تھا ۔ انہوں نے پہلے خود عراق سے مصر تک اور شام و فلسطین سے ریگستانِ عرب کے مختلف گوشوں تک برسوں گشت لگا کر اللہ کی اطاعت و فرماں برداری ( یعنی اسلام ) کی طرف لوگوں کو دعوت دی ۔ پھر اپنے اس مِشن کی اشاعت کے لیے مختلف علاقوں میں خلیفہ مقرر کیے ۔ شرق اُردن میں اپنے بھتیجے حضرت لُوط ؑ کو ، شام و فلسطین میں اپنے بیٹے اسحاق ؑ کو ، اور اندرُونِ عرب میں اپنے بڑے بیٹے حضرت اسمٰعیل ؑ کو مامور کیا ۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے مکّے میں وہ گھر تعمیر کیا ، جس کا نام کعبہ ہے اور اللہ ہی کے حکم سے وہ اس مِشن کا مرکز قرار پایا ۔ ( ۲ ) حضرت ابراہیم ؑ کی نسل سے دو بڑی شاخیں نکلیں: ایک حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد جو عرب میں رہی ۔ قریش اور عرب کے بعض دُوسرے قبائل کا تعلق اسی شاخ سے تھا ۔ اور جو عرب قبیلے نسلاً حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد نہ تھے وہ بھی چونکہ ان کے پھیلائے ہوئے مذہب سے کم و بیش متاثر تھے ، اس لیے وہ اپنا سلسلہ انہی سے جوڑتے تھے ۔ دُوسرے حضرت اسحاق ؑ کی اولاد ، جن میں حضرات یعقوب ؑ ، یوسف ؑ ، موسیٰ ؑ ، دا ؤد ؑ ، سلیمان ؑ ، یحییٰ ؑ ، عیسیٰ ؑ اور بہت سے انبیا علیہم السّلام پیدا ہوئے اور جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے ، حضرت یعقوب ؑ کا نام چونکہ اسرائیل تھا اس لیے یہ نسل بنی اسرائیل کے نام سے مشہور ہوئی ۔ ان کی تبلیغ سے جن دُوسری قوموں نے ان کا دین قبول کیا ، انہوں نے یا تو اپنی انفرادیّت ہی ان کے اندر گم کر دی ، یا وہ نسلاً تو ان سے الگ رہے ، مگر مذہباً ان کے متِبع رہے ۔ اسی شاخ میں جب پستی و تنزّل کا دَور آیا ، تو پہلے یہُودیّت پیدا ہوئی اور پھر عیسائیت نے جنم لیا ۔ ( ۳ ) حضرت ابراہیم ؑ کا اصل کام دنیا کو اللہ کی اطاعت کی طرف بُلانا اور اللہ کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کے مطابق انسانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی کا نظام درست کرنا تھا ۔ وہ خود اللہ کے مطیع تھے ، اس کے دیے ہوئے علم کی پیروی کرتے تھے ، دنیا میں اس علم کو پھیلاتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ سب اِنسان مالک کائنات کے مطیع ہو کر رہیں ۔ یہی خدمت تھی ، جس کے لیے وہ دنیا کے امام و پیشوا بنائے گئے تھے ۔ ان کے بعد یہ امامت کا منصب ان کی نسل کی اس شاخ کو مِلا ، جو حضرت اسحاق ؑ اور حضرت یعقوب ؑ سے چلی اور بنی اسرائیل کہلائی ۔ اسی میں انبیا پیدا ہوتے رہے ، اسی کو راہِ راست کا علم دیا گیا ، اسی کے سپرد یہ خدمت کی گئی کہ اس راہِ راست کی طرف اقوامِ عالم کی رہنمائی کرے ، اور یہی وہ نعمت تھی ، جسے اللہ تعالیٰ بار بار اس نسل کے لوگوں کو یاد دلا رہا ہے ۔ اس شاخ نے حضرت سلیمان ؑ کے زمانے میں بیت المَقْدِس کو اپنا مرکز قرار دیا ۔ اس لیے جب تک یہ شاخ امامت کے منصب پر قائم رہی ، بیت المقدس ہی دعوت اِلی اللہ کا مرکز اور خدا پرستوں کا قبلہ رہا ۔ ( ٤ ) پچھلے دس رکوعوں میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو خطاب کر کے ان کی تاریخی فردِ قرار دادِ جُرم اور ان کی وہ موجودہ حالت ، جو نزولِ قرآن کے وقت تھی ، بےکم و کاست پیش کر دی ہے اور ان کو بتا دیا ہے کہ تم ہماری اس نعمت کی انتہائی ناقدری کر چکے ہو جو ہم نے تمہیں دی تھی ۔ تم نے صرف یہی نہیں کیا کہ منصبِ امامت کا حق ادا کرنا چھوڑ دیا ، بلکہ خود بھی حق اور راستی سے پھر گئے ، اور اب ایک نہایت قلیل عنصرِ صالح کے سوا تمہاری پُوری اُمت میں کوئی صلاحیّت باقی نہیں رہی ہے ۔ ( ۵ ) اس کے بعد اب انہیں بتایا جا رہا ہے کہ امامتِ ابراہیم ؑ کے نُطفے کی میراث نہیں ہے بلکہ یہ اس سچّی اطاعت و فرماں برداری کا پھل ہے ، جس میں ہمارے اس بندے نے اپنی ہستی کو گم کر دیا تھا ، اور اس کے مستحق صرف وہ لوگ ہیں ، جو ابراہیم ؑ کے طریقے پر خود چلیں اور دنیا کو اس طریقے پر چلانے کی خدمت انجام دیں ۔ چونکہ تم اس طریقے سے ہٹ گئے ہو اور اس خدمت کی اہلیّت پُوری طرح کھو چکے ہو ، لہٰذا تمہیں امامت کے منصب سے معزُول کیا جا تا ہے ۔ ( ٦ ) ساتھ ہی اشاروں اشاروں میں یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ جو غیر اسرائیلی قومیں موسیٰ اور عیسیٰ علیہماالسّلام کے واسطے سے حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ اپنا تعلق جوڑتی ہیں وہ بھی ابراہیمی طریقے سے ہٹی ہوئی ہیں ، نیز مشکرینِ عرب بھی ، جو ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام سے اپنے تعلق پر فخر کرتے ہیں ، محض نسل و نسب کے فخر کو لیے بیٹھے ہیں ۔ ورنہ ابراہیم ؑ و اسماعیل ؑ کے طریقے سے اب ان کو دُور کا واسطہ بھی نہیں رہا ہے ۔ لہٰذا ان میں سے بھی کوئی امامت کا مستحق نہیں ہے ۔ ( ۷ ) پھر یہ بات ارشاد ہوتی ہے کہ اب ہم نے ابراہیم ؑ کی دُوسری شاخ ، بنی اسماعیل ؑ میں وہ رسُول ؐ پیدا کیا ہے ، جس کے لیے ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ نے دُعا کی تھی ۔ اس کا طریقہ وہی ہے ، جو ابراہیم ؑ ، اسماعیل ؑ ، اسحاق ؑ ، یعقوب ؑ اور دُوسرے تمام انبیا کا تھا ۔ وہ اور اس کے پیرو تمام ان پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہیں جو دنیا میں خدا کی طرف سے آئے ہیں اور اسی راستہ کی طرف دنیا کو بُلاتے ہیں جس کی طرف سارے انبیا دعوت دیتے چلے آئے ہیں ۔ لہٰذا اب امامت کے مستحق صرف وہ لوگ ہیں جو اس رسول کی پیروی کریں ۔ ( ۸ ) تبدیلِ امامت کا اعلان ہونے کے ساتھ ہی قدرتی طور پر تحویلِ قبلہ کا اعلان ہونا بھی ضروری تھا ۔ جب تک بنی اسرائیل کی امامت کا دَور تھا ، بیت المقدس مرکزِ دعوت رہا اور وہی قبلہء اہل حق بھی رہا ۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیرو بھی اس وقت تک بیت المقدس ہی کو قبلہ بنائے رہے ۔ مگر جب بنی اسرائیل اس منصب سے باضابطہ معزُول کر دیے گئے ، تو بیت المقدس کی مرکزیّت آپ سے آپ ختم ہو گئی ۔ لہٰذا اعلان کیا گیا کہ اب وہ مقام دین الہٰی کا مرکز ہے ، جہاں سے اس رسُول کی دعوت کا ظہُور ہوا ہے ۔ اور چونکہ ابتدا میں ابراہیم ؑ کی دعوت کا مرکز بھی یہی مقام تھا ، اس لیے اہل کتاب اور مشرکین ، کسی کے لیے بھی تسلیم کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے کہ قبلہ ہونے کا زیادہ حق کعبے ہی کو پہنچتا ہے ۔ ہٹ دھرمی کی بات دُوسری ہے کہ وہ حق کو حق جانتے ہوئے بھی اعتراض کیے چلے جائیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(122 ۔ 123) ۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ کے یہود ان نعمتوں کو بھول گئے تھے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے بڑوں پر کی تھیں جن کے سبب سے وہ نبی زادے اور بادشاہ زادے کہلاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ ان کو ہوشیار کرنے کے لئے پہلے یا بنی اسرائیل کے لفظ سے ان کو مخاطب کیا ہے اور پھر اپنی نعمتوں کو یاد دلایا ہے تاکہ وہ سمجھ جائیں کہ جو اللہ نعمتوں کے دینے پر قادر ہے وہ ایک دم میں اپنی نعمتیں چھین لینے پر بھی قادر ہے۔ محمد رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک تو اللہ کے رسول ہیں جس بات کو ان کے دل خوب ہی جانتے ہیں کیونکہ اس پر ان کی کتاب پوری گواہی دیتی ہے۔ دوسرے وہ ان کے چچا زاد بھائی بھی ہیں۔ اتنی مدت اولاد اسحاق میں نبوت رہی اب اگر بنی اسماعیل میں ایک نبی ہوئے تو اس پر ان کو اس قدر حسد کیوں ہے جس کے سبب سے اللہ کی نافرمانی اور اس سے اپنی بربادی کے یہ لوگ دن بدن درپے ہوتے جاتے ہیں۔ باوجود اللہ کی اس قدر فہمایش کے یہود نے اللہ تعالیٰ کی نصیحت کو نہ مانا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 122 129 اسرارو معارف ہر طرح کے عقلی ، نقلی اور اعجازی جواب ارشاد فرما کر جب سب طرف سے عاجز کردیا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حقانیت واضح ہوگئی تو پھر خطاب براہ راست بنی اسرائیل کو ہوا کہ اے اولاد یعقوب (علیہ السلام) ! میرے احسانات و انعامات جو میں نے تم پر کئے یاد کرو ، یہ میرا ہی احسان تھا کہ تمہیں تمہارے دور کی پوری دنیا پہ فضیلت عطاء کی۔ بنی اسرائیل کے ساتھ بات اس قدر طویل ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے زمانے میں بھی ایک عالم میں یہی لوگ سربراہ تھے بلکہ مذاہب عالم پر چھائے ہوئے تھے اور خود مشرکین عرب بھی اپنی مشکلات میں ان کی طرف رجوع کرتے۔ حتیٰ کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اقدس سے سوال کرنے کے لئے مدینہ آتے اور علماء یہود سے پوچھ کر مکہ جاکر سوالات کیا کرتے یعنی ان کی مذہبی بڑائی مسلم تھی۔ پھر دنیا میں بہت بڑی بڑی حکومتیں پہلے بھی رہی تھیں اور اس وقت بھی موجود تھیں۔ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف فرما ہوئے تو کم از کم سارے عرب کی نگاہ اس بات پر تھی کہ دیکھیں علماء بنی اسرائیل آپ کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں ؟ ان کا گمان فاسدیہ ہوگا کہ یہ فاضل لوگ ہیں معاذ اللہ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عاجز کردیں گے۔ پھر پوری دنیا پہ اس دور میں بھی اور ہمیشہ کے لئے بھی قرآن کریم کے مضامین ہی سند کی حیثیت رکھنے ہیں اس لئے بھی یہ بات ذرا مفصل ہوگئی کہ ادنیٰ سے ادنیٰ انسان جو ذرا بھی عقل رکھتا ہے جب دل سے جاننا چاہے تو جان لے کہ حق کیا ہے ، نیز جب اہل کتاب پر یہ ثابت ہوگئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ماننا ہی دین ہے تو جو ادیان باطلہ آسمانی کتاب ہی نہیں رکھتے ان پر تو بدرجہ اولیٰ ثابت ہوگئی ہر طرح سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت ثابت فرما کر فرمایا کہ اصل شے تو یہ ہے کہ اللہ جل شانہ حقدار ہے عبادت کا وہ ہے ہی ایسا کہ اس کی عبادت کی جائے۔ عبادت کے درجے : لیکن اگر کوئی اتنی ہمت نہ رکھتا ہو تو دوسرا درجہ یہ ہے کہ کم از کم اس کے احسانات پر تو نگاہ کرے۔ کس قدر انعامات ہیں جو اس نے مخلوق کے ایک ایک فرد پر کئے ہیں اور تم پر انفرادی کیا اور بحیثیت قوم کیا کس قدر عظیم احسانات فرمائے تمہیں اقوام عالم کا سردار بنایا۔ تمہاری قوم میں نسلاً بعد نسل حکومت اور نبوت کو جمع فرمایا اور تمہیں ظاہر وباطنی سربلندیاں عطا کیں۔ اور پھر تیسرا درجہ یہ ہے کہ اگر کوئی ایسا ہی احسان فراموش بھی ہو تو اسے روز جزاء سے بےخطر نہ ہونا چاہیے کم از کم اس دن سے توڈرتا رہے جو باز پرس کا اور اعمال کے اجر کا دن ہے اور جس سے کوئی کسی صورت بچ نہیں سکے گا۔ عبادت کے تین مدارج ذکر ہوئے اول درجہ اخص الخواص کا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کی عظمت سے آشنا ہو کر اس لئے عبادت کرے کہ اللہ کو سزاوار ہے اور اس کی شان کے شایان۔ یا پھر کم از کم اخروی عذاب سے ڈر کر تو ضرور سرجھکادے ، یہ عوام کا درجہ ہے۔ اور پھر کفر جس کو تم نے گلے لگا رکھا ہے یہ تو بہت بڑی مصیبت ہے کہ انسان کو بالکل بےیارومددگار اور تنہا چھوڑ دے گی تو کوئی اس کی سفارش کرے گا اور نہ ہی اس کو کوئی سفارش مفید ہوگی۔ اور نہ کوئی ایسی ہستی ہے جو طاقت کے ساتھ اسے چھڑا سکے یعنی نجات کے تمام دروازے اور خلاصی کی ساری ممکنہ راہیں ، اور وہ راہیں بھی جو ممکن تو نہیں مگر تمہارے فاسد ذہنوں میں موجود ہیں کہ غالباً کوئی تمہیں اللہ سے چھین لے گا ، یہ سب مکمل طور پر بند اور منقطع ہیں۔ ایک ہی راہ ہے اور وہ ہے ایمان قبول کرنا جو تم کرکے نہیں دے رہے۔ اور اس کفر کے ساتھ دعویٰ ہے حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے وارث اور دین ابراہیمی کے پیروکار ہونے کا۔ اب یہاں اس دعویٰ میں تو مشرکین عرب بھی ان کے ہمنوا تھے یہود کا دعویٰ تھا کہ دین ابراہیمی ہمارے پاس ہے اور یہی حق ہے یہی دعویٰ نصاریٰ کا تھا اور یہی دعویٰ مشرکیں کا بھی تھا بلکہ انہوں نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہم السلام) کے بت بنا کر بیت اللہ میں رکھے ہوئے تھے تو اللہ کریم نے سب پر اتمام حجت کرتے ہوئے فرمایا کہ۔ واذا بتلی ابراھیم…………………لا ینال عہد الظلمین۔ ابراہیم (علیہ السلام) ایسے تو نہ تھے جیسے تم ہو۔ تمہیں اپنا اقتدار کلمہ پڑھنے سے مانع ہے تم میں سے کسی کو مال و دولت نے روک رکھا ہے کوئی رسومات کا اسیر ہے اور کسی کو رشتہ داری نے جکڑ رکھا ہے مگر ابراہیم (علیہ السلام) کو جب اللہ تعالیٰ نے متعدد امتحانوں میں ڈالا تو وہ سب پر پورے اترے۔ ان بظاہر مشکلات کو جو اللہ کی راہ میں آتی ہیں امتحان بدیں وجہ کہہ دیا جاتا ہے کہ انسان طبعاً جن سب چیزوں کی طرف رغبت رکھتا ہے جب اللہ کے لئے اور اس کی راہ میں ان کو قربان کرنا پڑتا ہے تو خود انسان کے لئے ایک امتحان کی صورت بن جاتی ہے ورنہ یہ مقصد نہیں کہ اللہ اس کی قابلیت سے واقف نہیں اور آزما کر جاننا چاہتا ہے بلکہ اس کی تربیت اور اس کے منازل علیہ پر فائز ہونے کے لئے یہ سب ضروری ہے اسی لئے تو ابتلاء کے ساتھ صفاتی نام ربہ آیا ہے جیسے شہادت ایک مرتبہ قرب ہے مگر اس کے لئے بھی تو راہ حق میں قتل ہونا پڑتا ہے اور جان نذر کرنا پڑتی ہے۔ منازل قرب : نبوت اگرچہ شے وہبی ہے مگر انبیاء (علیہ السلام) بھی ہمیشہ ترقی کرتے رہتے ہیں جس طرح اللہ کی ذات غیر محدود ہے اسی طرح اس کے قرب کی منازل بھی غیر محدود ہیں۔ اور اس ترقی کے لئے مجاہدات ضروری ہیں خواہ وہ اضطراری ہوں یا اختیاری۔ حتیٰ کو خود نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مکہ کی مشکل ترین زندگی سے گزرنا تبلیغ دین کے مختلف سفر ، ہجرت ، جہاد ، سلطنت اسلامی کا قیام اور دندان مبارک کی قربانی سب اسی راہ کی منازل ہیں۔ اور ولایت جو شے ہی کسی ہے اور بعض اوقات وہبی بھی نصیب ہوتی ہے اس کے لئے کیوں یہ تمام چیزیں شرط نہ ہوں گی۔ پھر جب منازل قرب غیر محدود ہیں تو یہ کہہ دینا کہ فلاں حضرت نے سلوک مکمل کرلیا ہے بہت مشکل ہے یہ وہ راہ ہے جس کی انتہا ابدالآباد نہ آئے گی۔ دنیا ، برزخ اور جنت میں مسلسل ترقی کا نام سلوک ہے۔ خود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان تمام مراحل سے گزرے جس گھر میں اور جس آغوش میں آنکھ کھولی انہیں بت پرستی میں مبتلا پایا تو اللہ کی راہ میں چھوڑنا پڑا اپنے ماحول ، برادری اور معاشرے کو ایسا ہی پایا تو سب کو خیرباد کہنا پڑا۔ حکومت وقت کو اس مرض کا مریض پایا تو اس سے ٹکرا گئے آگ میں کود گئے مگر پائے اثبات میں لغزش نہ آئی وطن کو چھوڑنا پڑا تو کر گزرے۔ ضعیفی میں چاند سا بچہ عطا ہوا تو بیوی اور بچہ کو جنگل چھوڑنے کا ارشاد ہواتکمیل کی۔ حتیٰ کے بیٹے کی قربانی کا حکم ہوا چھری چلا دی فا تمھن غرض تمام ارشادات کی مکمل اطاعت کی۔ یہ گویا ان کے زعم باطل کو رد فرمایا جارہا ہے کہ خود کو ابراہیمی تو کہتے ہو مگر کلمہ پڑھنے کی توفیق نہیں ہے اور قبول حق کی جرات نہیں رکھتے۔ اللہ نے انہیں تو فرمایا کہ آپ کو انسانیت کا پیشوا بنادوں گا یعنی وہ تمام کمالات جو بحیثیت انسان کوئی حاصل کرسکتا ہے اور وہ تمام راہیں جن پر کوئی انسان کامل چل سکتا ہے لہٰذا ان پر اپنے آگے آپ کے نقوش پا پائے گا للناس اما ما امام سے مراد پیشرویا موجودہ لغت میں لیڈر ہے۔ امام کا مفہوم : امامت منصب نہیں ہے منصب نہیں ہے یہاں فرقہ امامیہ کا یہ استدلال کی امام معصوم ہوتا ہے اور یہ کہ نبوت کے بعد امامت ملتی ہے اس لئے نبوت سے افضل ہے سرے سے ثابت ہی نہیں ہوتا قرآن کریم نے امام محض پیشوا کے معنوں میں لیا ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نبی تھے۔ انبیاء میں پیشوا ہوئے لیکن جو لوگ کفر میں آگے نکل گئے اور کافروں کے پیشوا ہوئے ان کو بھی ائمۃ الکفر فرمادیا جیسے ارشاد ہے وقاتلوا ائمۃ الکفر۔ نبوت ایک منصب ہے کسی بڑے سے بڑے لیڈر کو نبی نہیں کہا گیا بجز ان ہستیوں کے جو من جانب اللہ مبعوث ہوئے اسی لئے تو جو نماز میں لوگوں کی پیشوائی کرتا ہے اسے بھی امام کہہ دیا جاتا ہے جس نے حدیث شریف میں لوگوں کی راہنمائی کا یہ درجہ پایا اس فن کا امام کہ لایا جس نے قصہ میں راہنمائی کی وہ فقہ کا امام ہوا۔ وعلیٰ ہذا۔ تو جب ابراہیم (علیہ السلام) پر یہ انعام ہوا تو انہوں نے عرض کی بارالٰہا ! میری اولاد کو بھی یہ عظمت نصیب فرما کہ وہ نیکی اور قرب کی منازل میں درجہ پیشوائی کو پہنچیں۔ فرمایا۔ ضرور ! مگر ان کو جو حق پرست ہوں گے ظالموں کو ہرگز نہیں۔ یعنی محض آپ کی اولاد ہونے کی وجہ سے انعامات باری کے مستحق نہ ہوں گے بلکہ عدل شرط ہوگا ، یعنی یہ جو موروثی ولایت ہے یہ نہ چلے گی کہ باپ فوت ہوا تو بیٹا خواہ کیسا ہی بدکار ہو گدی نشین بن گیا۔ بلکہ اس کے لئے عقائد کا ہونا شرط ہے جو اس وقت ان لوگوں میں جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابل تھے مفقود تھی۔ سو ان کا دعویٰ باطل ٹھہرا۔ اب مشرکین کا یہ زعم کہ ہم بیت اللہ کے خادم ہیں ہمیں کیا ضرورت ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی ماننے کی۔ فرمایا کہ یہ بیت شریف کی تعمیر جدید کا شرف بھی ابراہیم (علیہ السلام) کو حاصل ہوا ، مگر کس لئے ، واذجعلنا البیت …………………والرکع السجود۔ جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے ثواب کی نیت سے جمع ہونے کی جگہ قرار دیا اور جائے امن بنایا اور امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی حکم دیا کہ مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنایا کرو۔ یعنی اسے ارکان حج میں داخل فرمایا۔ تو تعمیر کے وقت ہی حضرت ابراہیم و اسماعیل (علیہ السلام) سے وعدہ لیا کہ میرے گھر کو ظاہری وباطنی نجاست سے پاک رکھو۔ یہاں یہ پورا قصہ نقل کرنا کہ کیسے شام سے ہجرت کرکے حضرت ہاجرہ (رض) اور ننھے اسماعیل (علیہ السلام) وہاں پہنچے اور کیسے ٹھہرائے گئے اور ابراہیم (علیہ السلام) پہنچا کر واپس تشریف لے گئے ، میرے خیال میں ملوالت کا باعث ہوگا۔ دیگر تفاسیر میں مفصل موجود ہے وہاں سے ملاحظہ فرمایا جائے۔ میں مضمون آیت سے متعلق عرض کروں گا کہ اللہ کریم نے اس جگہ کو ایسی تجلیات کا مہبط بنایا ہے جو ہر مومن کے دل کو کھینچ لیتی ہیں حتیٰ کے بار بار حج کرنے سے شوق زیارت بڑھتا ہی چلا جاتا ہے اور اس مقام کو جائے امن بنایا کہ تم لوگ باوجود گمراہ ہونے کے اس کی وجہ سے ہزاروں طرح دنیاوی امن وسلامتی پا رہے ہو تو جو مومن یہاں پہنچے گا دو عالم میں مامون ہوگا اور مقام ابراہیم کو ایک خاص فضیلت بخشی۔ یہ سب اس لئے کہ اس گھر کو خالص میرے لئے پاک وصاف رکھا جائے نہ عمل کی گندگی یہاں پھیلنے پائے نہ عقیدے کی اور یہ صرف طواف کرنے والوں اور معتکف ہونے والوں اور عبادت الٰہی میں لگے رہنے والوں کے لئے مختص کردیا جائے یہاں کسی طرح سے عبادات میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے اور کوئی غیر مشروع کام نہ کیا جائے۔ یہی حال تمام مساجد کا ہو کہ وہ بھی مساجد اللہ کہلاتی ہیں اور یہی حکم اس دل کا ہوگا جو اللہ کی طرف منسوب ہوگا کہ شرک و بدعت سے بھی پاک ہو اور کبرونخوت اور حسد وغیرہ کے بتوں سے بھی۔ اس میں تو محض اللہ کا نام ، اللہ کی یاد اور جذبہ اطاعت نہ یہ کہ مشرکین مکہ کی طرح دعویٰ ہو دینداری کا اور کعبہ بتوں سے بھر رکھا ہو۔ طالبین راہ طریقت کو جان لینا چاہیے کہ اس راہ میں ادنیٰ سی بدعت بھی قابل برداشت نہیں۔ سراسر اتباع سنت خیرالانام ہے جو ہر طرح سے پاکیزہ ہے کی جائے۔ تو ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا فرمائی کہ اے اللہ ! اذقال ابراھیم……………وبئس المصیر۔ اے میرے پروردگار ! اے وہ جس نے مجھے تمام کمالات ظاہری وباطنی عطا فرمائے ہیں اور اے وہ جو سب کا پالنے والا ہے اس شہر کو امن کا شہر بنا ، اور اس کے مکینوں کو ہر طرح کا رزق مہیا فرما۔ ھن الثمرات سے مراد تمام ضروریات زندگی ہیں اور قبول دعا کا اثر دیکھو کہ اے اہل مکہ ! تم ہر طرح سے امن میں ہو ، کبھی کوئی جابر اسے فتح نہ کرسکا حتیٰ کہ اصحب فیل کا واقعہ خود قرآن میں مذکور ہے۔ ” وفا الوفا “ میں ایک حکمران کا ذکر ہے کہ جس نے مکہ مکرمہ فتح کیا تو منہ سے ایک بدبودار پانی جاری ہوگیا اس نے اپنے علماء کو جمع کرکے مشورہ طلب کیا تو سب نے کہا اس شہر پر آپ قابض نہ ہوں اور یہاں کے رہنے والوں کو راضی کریں تو اس نے کئی عرصہ تک ان لوگوں کی عزت کی اور ہر طرح سے دلجوئی کی۔ ان علماء نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت اور ہجرت مدینہ کی پیشگوئی کی کہ مکہ مکرمہ کی کرامت دیکھ کر وہ ایمان لایا پھر مدینہ پہنچا جہاں اس نے بعض علماء کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام خط دے کر ٹھہرایا کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوں تو یہ چٹھی پیش کی جائے حضرت ابوایوب انصاری (رض) انہی کی اولاد میں سے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری پر چٹھی پیش کی تھی اسی کی طرف یہ شعر منسوب ہے۔ ولومد عموی الی عموم لکنت وزیر الہ وابن عم غرض ہر طرح سے شہر امن قرار پایا۔ دنیا میں کسی جگہ اور کسی موسم میں کوئی شے پیدا ہوتی ہو۔ مکہ مکرمہ میں وہ سارا سال دستیاب رہتی ہے مگر یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایمان کی قید بڑھا دی کہ جو ان میں سے اللہ اور آخرت پر ایمان لائیں انہیں یہ نعمتیں نصیب فرما۔ غالباً یہ پہلی دعا کی وجہ سے ہوگا کہ جب اولاد کے لئے انعامات باری میں شرکت کی دعا کی۔ تو حکم ہوا تھا کہ نافرمانوں کو یہ دولت نصیب نہ ہوگی مگر وہ مدارج روحانی اور قرب الٰہی کی بات تھی۔ یہاں نعم دنیا کا ذکر ہے تو اللہ کریم نے ایمان کی قید اٹھادی۔ فرمایا جو بھی یہاں وارد ہوگا وہ دنیاوی راحتوں سے ضرور نوازا جائے گا۔ یہ اور بات ہے کہ کافر کے لئے نعمتیں چند روزہ ہیں کہ دنیا میں تو متمتع ہوگا مگر پھر کھینچ کر آگ کے عذاب میں پھینک دیا جائے گا جو ایک بہت مشکل جگہ ہے۔ یہاں یہ بات واضح ہوگئی کہ محض دنیا کی دولت اللہ کی رضا کا مظہر نہیں۔ صحت عقیدہ اور عمل بغیر دولت کے بھی رضائے الٰہی کا مظہر ہے اس کے ساتھ دولت دنیا بھی نصیب ہوجائے تو انعام باری ہے ورنہ وجہ عذاب۔ تو کفار کا یہ زعم بھی رد گیا کہ ہم مکہ مکرمہ میں رہتے ہیں اور بڑے آرام سے گزر ہورہی ہے اگر حق پر نہ ہوتے تو اس بےآب وگیاہ صحرا میں اس قدر آرام دہ شہر کی راحتیں کیوں پاتے فرمایا یہ تو دعائے ابراہیمی کا صلہ ہے اور دنیا کافر ومومن پہ عام ہے اس چندروزہ عافیت کو ابدی عافیت کی دلیل مت جانو بلکہ اخلاق ابراہیمی پیدا کرو۔ واذیرفع ابراھیم القواعد من البیت واسمعیل…………انک انت التواب الرحیم۔ کی تمام عمر اطاعت الٰہی میں بسر فرمائی۔ گھر بار ، مال وجان ، اولاد راہ خدا میں نثار کی اور پھر بھی جب باپ بیٹا تعمیر کعبہ میں لگے ہیں تو بجائے اپنی طاعات پر گھمنڈ کرنے کے عجزوانکسار سے دل پر ہیں اور زبان پر یہ کلمات جاری ہیں کہ اے ہمارے رب ! یعنی اے وہ ہستی جس نے ساری توفیق کمال عطا کی۔ اپنے کمال پر ناز نہیں ہے بلکہ اپنے رب یعنی کمالات کے عطا کرنے والے کی بخشش پر احساس تشکر ہویدا ہے اور عرض گزار ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! ہماری محنت کو قبول فرمالیجئے کہ آپ بےنیاز اور ہم محتاج ہیں اور آپ تو اے اللہ ! سننے والے ہیں ہماری معروضات کو سن رہے ہیں اور جاننے والے ، جا رہے دلوں کی گہرائی آپ کے سامنے ہے اور ہماری نیتوں پر آپ آگاہ ہیں اے ہمارے رب اور منعم حقیقی ! وجعلنا مسلمین لک ہم دونوں کو ہمیشہ اپنا فرمانبردار رکھئے۔ یہ ہے شان معرفت ، کہ جس قدر معرفت نصیب ہوئی اللہ کی عظمت اور اس کے مقابلے میں اپنے اعمال کمتر نظر آتے ہیں۔ حتیٰ کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرض کرتے ہیں الٰہی ! ماعبدناک حق عبادتک یہ دلیل ہے معرفت باری کی چند روز ٹوٹی پھوٹی نماز ادا کرکے شکوے لے بیٹھنا کہ جی بڑی محنت کی ہے مگر ابھی تک کوئی مدارج ملے نہیں ہوئے عدم معرفت پہ دال ہے ایسے شخص نے اللہ کی عظمت کو جاناہی نہیں۔ دریں ورطہ کشتی فروشد ہزار کہ پیدا نہ شد تختہ بر کنار وھن ذرتیتنا امۃ مسلمۃ لک سبحان اللہ ! اولاد کو راہ حق میں ذبح کرنے والے خلیل اللہ کو اولاد کس قدر عزیز ہے کہ کسی موقع پر اسے بھولتے نہیں۔ دنیادار تو اولاد کا مستقبل سنوارتے ہیں مگر ان کی نگاہ سے حقیقی مستقبل اوجھل ہی رہتا ہے اور محض دنیا کی دولت کا اہتمام کرکے خودکو فارغ سمجھ لیتے ہیں۔ مگر اللہ کے بندوں کی نگاہ ہر دو عالم پہ ہوتی ہے جہاں رزق دنیا طلب فرمایا وہاں ان کے لئے آخرت کے طالب اور دین وایمان کے خواہاں بھی ہیں۔ نبوت اور مناصب ولایت اعلیٰ خاندانوں کو نصیب ہوتے ہیں : عرض کی اے اللہ ! ہماری اولاد میں سے ایک جماعت کو ضرور پورا پورا فرمانبردار بنادیجئے ! کہ بڑے لوگوں کا معاشرہ میں ایک مقام ہوتا ہے اگر ان کی اولاد سدھر جائے تو عوام کی اصلاح کا سبب بنتی ہے ورنہ لوگ ہر کس وناکس کے پیچھے چلنا گوارا میں ایک مقام ہوتا ہے اگر ان کی اولاد سدھر جائے تو عوام کی اصلاح کا سبب بنتی ہے ورنہ لوگ ہر کس وناکس کے پیچھے چلنا گوارا نہیں کرتے اسی لئے تمام انبیاء اعلیٰ خاندانوں سے ہوئے ہیں اور صاحب منصب ولی ہمیشہ اعلیٰ خاندان سے ہوتا ہے بلکہ عموماً خلفائے اربع کی نسل سے ہوتے ہیں کم از کم اقطاب اور اس سے اوپر کے مناصب انہی لوگوں میں ملتے ہیں تو گویا یہ دعا صرف اولاد کے لئے نہیں بلکہ اصلاح احوال کا ذریعہ بنانے کے لئے ہے۔ وارنا مناسکنا ، ہمیں اپنا طریق عبادت ، جو آپ کے ہاں مقبول ہو دکھا دیجئے مناسک منسک کی جمع ہے اور اعمال حج کو بھی کہا جاتا ہے ممکن ہے مراد تعمیر بیت اللہ کے بعد ارکان حج ہی ہوں کہ اللہ ! دکھا دیجئے خواہ آنکھوں سے یا دل سے مگر عموم کے ساتھ۔ یہاں بات واضح ہوجاتی ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا زاہد اپنی طرف سے عبادت کا طریقہ ایجاد کرنے کا مجاز نہیں بلکہ عنداللہ مقبول طریقہ وہی ہوگا جو اللہ اپنے رسول کو فرمائے گا اور اس کی وساطت سے مخلوق تک پہنچائے گا۔ سو عبادت کے لئے ضروری ہے کہ اس کی اصل سنت خیرالانام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں موجود ہو ورنہ بدعت بن جائے گی۔ بعض لوگ محض بزرگوں کی عقیدت میں بہہ جاتے ہیں اور یہ تک نہیں دیکھتے کہ اگر ان کا کوئی عمل خلاف سنت ہے تو ممکن ہے کوئی عذر شرعی ان کے پاس موجود ہو ، جیسے اگر شیخ اٹھنے کی طاقت نہیں رکھتا اور بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے تو مریدین کو بلاعذر شرعی بیٹھ کر نہ شروع کردینی چاہیے یہ تو مثالاً عرض ہے آج کل کیا کثر غیر مشروع امور کی اصل پوچھو تو کہا جاتا ہے ہمارے حضرت کرتے تھے۔ بھئی سب حضرات کے بھی حضرت ہیں ، محمدرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ کیوں نہیں کرتے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کرتے تھے۔ عرض کی کہ بارالٰہا ! ہمیں طریق عبادت تعلیم فرمادے ۔ وتب علینا ہماری عبادات کو قبول بھی فرما یعنی اس قدر زہد کے بعد بھی یہ خیال ہے کہ اللہ اپنی مہربانی سے قبول کر کہ تیری بارگاہ عالی ہے اور ہماری عبادات بہرحال ایک انسان کی کوشش سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔ کہ تو قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ فرمایا ، یہ ہے اسوہ ابراہیمی ! اے کبر ونخوت کے پتلو ! ذرا اپنے آپ کو جانچو ، یہ بھی تو انہوں نے عرض کیا تھا ، ربنا وابعث فیھم رسولا ھنھم…………انک انت العزیز الحکیم۔ اے ہمارے رب ! ان میں ایک رسول انہی میں سے بھیج۔ ایسا عظیم الشان اور عالی مرتبہ کہ ان پر تیری آیات پڑھے یعنی انہیں آپ سے ہم سخن کردے اور تعلیم دے ان کو کتاب و حکمت کی ، اور ان کو پاک کردے کہ تو زبردست ہے سب کرسکتا اور حکیم ہے سب سے اعلیٰ طریقے سے کرسکتا ہے۔ غرض اہل حق کی جماعت کا قیام ایک عظیم الشان رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حضرت ابراہیم کی دعا ہے جو حدیث پاک میں ملتا ہے کہ میں اپنے باپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت اور اپنی والدہ ماجدہ کے خواب کا مظہر ہوں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مظہر دعائے ابراہیمی ہیں : یہاں تک تو اکثر حضرات نقل فرماتے ہیں مگر پتہ نہیں کیوں امۃ مظہر دعا ہیں وہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کباررضی اللہ عنہم بھی مظہر دعا ابراہیمی ہیں۔ تو یہاں جس عالی مرتبت رسول کی بعثت کی دعا ہے اور جو پہلی ساری دعائوں کی طرح مقبولیت کے شرف سے سرفراز ہے اس کے مظہر یہی خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی تو ہیں۔ اب دعا میں ان کے فرائض منصبی کا ذکر بھی ہے کہ تیری آیات ان پر پڑھے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے۔ تلاوت قرآن مجید ایک مستقل حکم ہے : تو پتہ چلا کہ تلاوت کتاب بجائے خود ایک مقصود ہے اور اس کا جاننا اور اس کے مطالب پر آگاہ ہونا ایک علیحدہ کام۔ اللہ کی کتاب عام کتابوں کی طرح نہیں ہے کہ اگر معانی کا پتہ نہ چلے تو پڑھنا ہی چھوڑ دو ، اگر صرف معانی جان کر عمل کرلینا ہی مقصد ہوتا تو خودنبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کبار رضوان اللہ علیہم اجمعین بار بار نہ پڑھتے۔ جب کہ اکثر سے روزانہ ختم اور بعض سے تین دن میں ایک ختم ساری زندگی کا معمول ثابت ہے اور سات دن میں ختم پر تو سات منازل گواہ ہیں کہ یہ عمل تو اکثریت کا رہا ہے۔ آیاتک سے ثابت ہوگا کہ وہی الفاظ قرآن کہلائیں گے جو منزل من اللہ ہیں۔ کسی دوسری زبان میں ترجمہ قرآن نہ کہلائے گا کہ بغیر متن کے صرف انگریزی یا اردو میں شائع کردیا جائے۔ نیز کیا ت اللہ کی تعلیم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرائض منصبی میں ہے۔ قرآن کا مفہوم وہی ہوگا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیم سے ثابت ہو ورنہ محض عربی دانی پر نازاں ہو کر اپنی پسند سے ترجمہ کرلینا قابل قبول نہ ہوگا۔ اس طرح تو عربی جاننے میں ابوجہل کسی سے کم نہ تھا۔ خود صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بڑے بڑے فاضل ادیب اور شاعر موجود تھے مگر سب تعلیم کتاب میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے محتاج کہ آپ کا منصب ہے ” معلم کتاب “۔ یہاں ان لوگوں کا زعم باطل بھی دھرا رہ جاتا ہے جنہوں نے یہ دعویٰ کردیا کہ ہمیں قرآن ہی کافی ہے حدیث پاک کا تو کیا اعتبار یہ صحیح نہیں رہی اور اس میں بہت رطب ویابس بھر گیا ہے یہ کہنے والے فضلا۔ اللہ کے اس وعدے کو بھول جاتے ہیں۔ انا نحن نزلنا الذکروانالہ لحافظون۔ ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم خود اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ یہاں اگر صرف الفاظ کی حفاظت ہی مراد لی جائے تو مفہوم الفاظ کون مقرر کرے گا جس کو جاننے میں ابوبکر وعمر فاروق اعظم (رض) تک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے محتاج ہیں۔ آج کے فضلا بازی لے گئے کہ بغیر حدیث کے معانی اخذ کرلیتے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ الفاظ قرآن بالکل محفوظ چلے آئے جبکہ احادیث کے ارشادات اس طرح محفوظ نہ رہے کہ ظالموں نے اپنے پاس سے احادیث وضع کرکے تعلیمات نبوی کو الجھانے کی کوشش کی۔ مگر حفاظت الٰہیہ دیکھ لو۔ ایسے ایسے عظیم انسان پیدا فرمائے جن کی عمریں اسی فن کی نذر ہوگئیں اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا۔ اسی حفاظت میں یہ بات میں شامل ہے کہ دنیا میں اہل حق ہمیشہ رہیں گے ورنہ لوح محفوظ میں تو کتاب اللہ کو کوئی خطرہ نہیں ، حفاظت کی ضرورت تو دنیا میں ہے اور دنیا میں انسان بستے ہیں۔ سو انسانوں میں الفاظ معانی کتاب اللہ کے درست الفاظ اور نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحیح تعلیم باقی رہے گی تب حفاظت کہی جاسکے گی تو اس کے لئے ضرور اس کے حامل انسان بھی ہوں گے اور اسی سب کے ساتھ ویزکیھم اور پاک کرے ان کو ، ان کا تزکیہ کردے۔ ان میں کوئی ایسی بات نہ رہے جو اللہ کو پسند نہ ہو ان کے دل منور اور سینے روشن کردے جو فیضان صحبت ہے کہ جو بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب ہوا۔ یعنی ایمان کی نگاہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا مرتبہ صحابیت پر فائز ہوگیا اور یہ وہ منصب عالی ہے کہ ملا جن کو مل گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد ولایت تو نصیب ہوسکتی ہے مگر صحابیت نہیں یعنی تزکیہ کا وہ مقام جو براہ راست فیض نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حاصل ہوا ممکن نہ رہا۔ اگر فیض منقطع نہ ہوا۔ مگر بالواسطہ ہوگیا کہ صحابی کی صحبت نے تابعی پیدا کئے اور انہوں نے تبع تابعین اور پھر دل سے دل روشن ہوتا چلا گیا اور سلاسل ولایت قائم ہوئے جو ہمیشہ قائم رہیں گے کہ لحافظون کی حفاظت الٰہیہ میں بالواسطہ شریک ہیں یہ تزکیہ باطن ہی تھا کہ جس نے مشرکوں سے موحد ، بت پرستوں سے بت شکن ، ڈاکوئوں سے غازی ، ظالموں سے ایثار پیشہ ، راہزنوں سے راہبر اور جاہلوں سے فاضل پیدا کئے جن جیسے لوگ نہ چشم فلک نے ان سے پہلے پائے نہ بعد میں پانے کی امید رکھتی ہے۔ اب یہاں چند چیزیں حاصل ہوئیں کہ ، 1 تعلیم قرآن کے لئے تعلیم حدیث ضروری۔ 2 اور عمل بالقرآن والحدی کے لئے تزکیہ لازم۔ 3 اور یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ ہر دور میں اصلاح کے لئے نہ بغیر نبی کے محض تعلیم آئی اور نہ بغیر تعلیمات کے محض نبی دونوں چیزیں جہاں میسر آئیں وہاں تزکیہ نصیب ہوا۔ تزکیہ کے لئے کتاب اور معلم دونوں کی ضرورت ہے : اور تزکیہ کے صدقے عمل کی راہیں کھل گئیں بعض لوگوں نے محض پڑھنے پڑھانے کو دین جانا اور کاملین کی صحبت کی ضرورت محسوس نہ کی تو علم دین بھی ان کو دنیا کمانے کا ہی ذریعہ نظر آیا۔ اور بعض نے کتاب اللہ کی پرواہ نہ کی اور محض علماء ومشائخ کے پیچھے آنکھیں بند کرکے دوڑ لگا دی ، جو یہود ونصاریٰ کی مشابہت ہے اتخذواحبارھم ورھبانھم بابامن دون اللہ ، یہ دونوں راستے درست نہ تھے مقصد کو وہی لوگ پاسکے جنہوں نے ماہر علماء اور تربیت یافتہ کامل مشائخ کی صحبت اختیار کی اور دونوں چیزوں کو ان کی اپنی اصل جگہ پر رکھا اور ان کی اہمیت کو سمجھا۔ یہاں یہ بھی واضح ہوا کہ تزکیہ اس باطنی طہارت کا نام ہے جو اطاعت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جذبہ پیدا کرے اگر کسی مجلس میں شعبدہ بازی حاصل ہوجائے اور احکام دین ہاتھ سے چلے جائیں تو یہ رہزن ہوگا۔ راہبر نہیں ذرا راہبر وہی ہے جو مومن کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دامن شفقت میں پہنچا دے جو خالص عقائد اور سنت کے مطابق اعمال تعلیم کرے جو دل سے انانکال کر عظمت الٰہی کو جاگزیں کرے۔ جو نگاہ میں وسعت دے کہ دونوں جہانوں کو دیکھ رہی ہو۔ جو یہ قابلیت عطا کرے کہ انسان بستا دنیا میں ہو اور تعمیر آخرت کی کررہا ہو۔ حصول ولایت کے لئے خاندان شرط نہیں : ولایت کے لئے کوئی خاص قوم یا صنف مخصوص نہیں بلکہ ہر مومن کو چاہیے حاصل کرے جب صحابی جس کی جوتی کی گرد ولی نہیں پاسکتے بننے کے لئے کوئی مرد ہونا یا عورت ہونا ، عالم ہونا یا نہ ہونا کسی قوم یا خاندان کا ہونا شرط نہیں تو ولایت کے لئے کیوں ہوگا۔ جب وہاں ولی خلوص اور عملی اطاعت ہی شرط ہے تو یہاں بھی یہی ہوگی۔ غرض حصول تزکیہ باطن کے لئے کاملین کی صحبت تلاش کرکے اس سے استفادہ کرنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے مگر شرائط مندرجہ بالا کے ساتھ۔ یہ جو بات چل نکلی ہے کہ چند مخصوص افراد تو ولایت خاصہ حاصل کرسکتے ہیں سب مسلمان نہیں یہ بھی درست نہیں بلکہ ہر انسان میں قدرتی ملکہ موجود ہوتا ہے۔ اگر کافر بھی ایمان لے آئے اور کامل کی صحبت اختیار کرے تو اللہ تعالیٰ کے فضل کو پاسکتا ہے اور ولایت خاصہ حاصل کرسکتا ہے۔ جب ہم علمائے متقدمین کی سوانچ پڑھتے ہیں یہ یہی بات ملتی ہے کہ فلاں جگہ سے تعلیم مکمل کی اور پھر شیخ کی تلاش میں فلاں حضرت کے پاس پہنچے اور استفادہ کیا مگر آج یہ حال ہے کہ چند ابتدائی رسالے پڑھے ، فاضل بن بیٹھے اور لگے تصوف و سلوک کی تردید کرنے ببیں تفاوت راہ از کسجاست تابہ سمجھا۔ دوسری طرف ایک طبقہ نے علم دین پر عمل تک غیر ضروری قرار دے دیا۔ صرف پگڑی باندھی اور کسی گدی پر براجان ہوگئے۔ عمر عزیز مرغ لڑانے میں بسر کی اور لاکھوں افراد کی قسمت سے کھیل گئے۔ اللہ کی پناہ ! یہ سب حال ارشاد فرما کر واضح فرمادیا کہ دین ابراہیمی اور اسوہ ابراہیمی کیا ہے انہوں نے کس طرح سچے جانشینوں کے لئے دعا کی۔ اس کا مظہر رسول کامل اور جماعت حقہ کون ہے اور تم محض دعویٰ کرنے والے کیا کر رہے ہو اور کہاں تک درست ہو اور حضرت خلیل اللہ نے جن مقاصد کی تکمیل کے لئے دعا فرمائی ان کے لئے کون مبعوث ہوا۔ کس طرح ان کی تکمیل فرمارہا ہے اور وہ جماعت حقہ ، کون ہے جو صحرائوں سے اٹھی اور اکناف عالم میں ان برکات کو عام کردیا۔ ف صلی اللہ علیہ وعلی آلہ و اصحابہ اجمعین۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 122 تا 123 عدل (معاوضہ) ۔ لا تنفع (نفع نہ دے گا) ۔ تشریح : آیت نمبر 122 تا 123 بنی اسرائیل کی زندگی کے خاص خاص واقعات ، ناشائستہ حرکات، نافرمانیوں ، عہد شکنیوں اور بےانتہا انعامات کے تفصیلی ذکر کے بعد آخر میں ایک مرتبہ ان کو پھر یاد دلایا گیا ہے کہ اے بنی اسرائیل یہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر کرم کئے تھے اور تمہیں دنیا کی زندگانی میں جو شرف اور برتری عطا کی گئی تھی وہ محض اللہ نے عطا کی تھی وہ اللہ جو انسانوں کی بیشمار خطاؤں اور گناہوں کے باوجود اپنی رحمت کے دروازے کسی پر بند نہیں کرتا۔ لیکن جب اس کا فیصلہ آجاتا ہے تو ساری دنیا کی طاقتیں مل کر بھی اس کی گرفت سے کسی کو بچا نہیں سکتیں۔ بنی اسرائیل کو قیامت کے ہولناک دن کی طرف ایک مرتبہ پھر توجہ دلاتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ اس قدر ہولناک دن ہوگا جب کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا، تمام سہارے ٹوٹ جائیں گے، نہ سفارش کام آئے گی اور نہ کوئی کسی کی مدد کے لئے پہنچے گا۔ اس دن یہ بےجا فخرو غرور کہ تم انبیاء کی اولاد ہو یا (نعوذباللہ) اللہ کے بیٹے اور محبوب ہو کسی کام نہ آسکے گا۔ اس دنیا کی تنہائیوں کا ساتھ صرف ایمان اور عمل صالح ہوگا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : سورة البقرۃ میں اہل کتاب بنی اسرائیل کو تیسری بار خطاب کیا جار ہا ہے۔ جس میں بیت اللہ کی تاریخ ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں کا ذکر خاص کر اس دعا کا ذکر ہے جس میں انہوں نے مکہ میں مبعوث ہونے والے آخری پیغمبر کے لیے اللہ کے حضور کی تھی۔ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو تیسری مرتبہ اپنی عطا کردہ نعمتیں اور فضیلتیں یاد کروا کر احساس دلا رہا ہے کہ تم جس عزت رفتہ کے حصول کے خواہش مند ہو وہ نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کے راستے پر چل کر حاصل نہیں ہوسکتی۔ آج تم مسلمانوں کے خلاف ایک دوسرے کے معاون اور مددگار بن رہے ہو اس دن کی ہولناکیاں اپنے احاطۂ خیال میں لاؤ جس دن تم رائی کے دانے کے برابر بھی ایک دوسرے کی مدد نہیں کر سکوگے۔ تمہارے لیے یہ بات کہیں بہتر ہے کہ تم خواہ مخواہ مخالفت اور نا شکری کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے اپنے جدِّ امجد کا راستہ اختیار کرو اور خاتم المرسلین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع کرو تاکہ تمہیں پہلے کی طرح عزت و عظمت سے نوازا جائے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے کہ میرے بندے یعقوب (علیہ السلام) کے فرزندو اور میرے خلیل ابراہیم (علیہ السلام) کے خانوادے کے ساتھ تعلق رکھنے والو ! سنو، غور کرو اور میری نعمتوں کو ایک دفعہ پھر اپنے ذہن میں تازہ کرو جو میں نے دنیا کے تمام لوگوں سے بڑھ کر تمہیں عنایت فرمائی تھیں۔ اگر تم عزت رفتہ اور انعامات گزشتہ کا اعادہ اور حصول چاہو تو پھر یوم احتساب سے پہلے اپنے کردار پر نظر ثانی کرو۔ چہ جائے کہ وہ دن وارد ہوجائے جب عزیز اپنے عزیز ‘ ماں اپنے جگر گوشے اور باپ اپنے لخت جگر کو کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے گا اور نہ ہی دولت مند کی دولت اس کے کام آئے گی اور نہ کسی کی سفارش اور اثر و رسوخ دوسرے کا معاون اور مددگار ثابت ہو سکے گا۔ اسی کے پیش نظر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے جگر گوشہ بتول حضرت فاطمہ (رض) کو مخاطب کرتے ہوئے نصیحت فرمائی تھی : (یَافَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ یَاصَفِیَّۃَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یَابَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَاأَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا سَلُوْنِیْ مِنْ مَّالِیْ مَا شِءْتُمْ ) [ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب فی قولہ وأنذر عشیرتک الأقربین ] ” اے محمد کی بیٹی فاطمہ اور عبدالمطلب کی بیٹی صفیہ اور اے عبدلمطلب کی اولاد میں تمہارے لیے اللہ کے ہاں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں گا البتہ میرے مال میں سے جتنا چاہو مطالبہ کرسکتے ہو۔ “ (یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِيْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِءِذٍ م بِبَنِیْہِ ۔ وَصَاحِبَتِہٖ وَأَخِیْہِ ۔ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِيْ تُؤِْیْہِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنْجِیْہِ ۔ کَلَّا) [ المعارج : ١١ تا ١٥] ” مجرم چاہے گا کہ اس دن بیٹوں کا فدیہ دے کر عذاب سے بچ جائے اور اپنی بیوی، اپنے بھائی اور اپنے اس کنبہ کا جو اسے پناہ دیا کرتے تھے اور جو کچھ بھی زمین میں ہے سب کچھ دے کر نجات پالے ہرگز ایسا نہیں ہوگا۔ “ (اَلْأَخِلَّآءُ یَوْمَءِذٍ م بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِیْنَ ) [ الزخرف : ٦٧] ” اس دن متقین کے علاوہ سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دنیا کی نعمتوں اور عظمتوں سے سرفراز فرمایا تھا۔ ٢۔ قیامت کے دن مجرموں کی کوئی کسی لحاظ سے مدد نہیں کرسکے گا۔ ٣۔ انسان کو ہر وقت اپنے دل میں قیامت کا ڈر رکھنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن فدیہ اور سفارش قبول نہ ہوگا : ١۔ کسی جان سے قیامت کے دن فدیہ قبول نہ ہوگا۔ (البقرہ : ٤٨) ٢۔ کفار سے عذاب کے بدلے زمین بھر سونا بھی قبول نہ ہوگا۔ (آل عمران : ٩١) ٣۔ ہر جان اپنا بوجھ خود اٹھائے گی۔ (النجم : ٣٨) ٤۔ قیامت کے دن کسی کی چالیں کفایت نہ کریں گی۔ (الطور : ٤٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس ٧ ایک نظر میں ان یہاں سے وہ حالات بیان کئے جارہے ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کے دور سے متعلق ہیں یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کو جس طرح بیان کیا جارہا ہے اس سیاق کلام میں اس کی اہمیت بھی واضح ہوجاتی ہے ۔ مدینہ طیبہ میں اسلامی جماعت اور یہودیوں کے درمیان جو مختلف النوع اختلافات پائے جاتے تھے ، ان پر روشنی ڈالنے کے لئے یہ قصہ بےحد اہم تھا۔ کیونکہ اہل کتاب حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے واسطے سے اپنی نسبت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف کرتے تھے اور اپنی اس نسبت اور اللہ تعالیٰ کی جاب سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے بعد اولاد ابراہیم کے ساتھ ترقی اور برکت کا وعدہ کرنے پر فخر کرتے تھے۔ اس لئے وہ سمجھتے تھے کہ ہدایت اور صحیح دین پر قائم رہنا گویا ان کی اجارہ داری ہے ۔ جیسا کہ وہ اپنے آپ کو جنت کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں چاہے ان کا عمل جیسا بھی ہو۔ اہل قریش بھی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے واسطے سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد تھے ۔ اور اپنی اس نسبت پر فخر کرتے تھے اور انہوں نے بیت اللہ کی نگرانی اور مسجد حرام کی تعمیر کے مناصب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی ورثے میں پائے تھے اور پورے عرب پر دینی سیادت اور فضل وشرف کے رتبے بھی انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی سے ورثے میں پائے تھے ۔ اس سے قبل جنت کے بارے میں یہود ونصاریٰ کے دعاوی پر کلام کرتے ہوئے یہاں تک کہا گیا تھا۔ ” وہ کہتے ہیں کہ جنت میں صرف وہی شخص داخ ہوگا ، جو یہودی ہو یا عیسائی ہو۔ “ اور دوسری جگہ ان کا یہ قول نقل کیا گیا تھا کہ مسلمانوں کو یہودی یا عیسائی بنانے کی سعی کرتے ہوئے کہتے ہیں ! ” تم یہوی بن جاؤ یا عیسائی تاکہ ہدایت پاؤ۔ “ نیز یہ بھی بتایا گیا کہ ان میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو لوگوں کو اللہ کی مساجد میں ذکر الٰہی سے روکتے ہیں اور مساجد کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وہاں ہم نے یہ کہا تھا کہ یہ باتیں واقعہ تحویل سے متعلق ہوسکتی ہیں ۔ کیونکہ اس موقع پر یہودیوں نے اسلامی جماعت کے خلاف مسموم پروپیگنڈہ شروع کردیا تھا۔ اب یہاں حضرت ابراہیم حضرت اسحاق وحضرت اسماعیل (علیہم السلام) اور بیت اللہ ، اس کی تعمیر اور اس سے متعلق اسلامی شعائر کی بابت بات کی جارہی ہے کیونکہ یہی مناسب موقع ہے ۔ تاکہ انبیاء کرام کے شجر ونسب اور باہمی تعلق کے بارے میں یہودیوں ، عیسائیوں اور مشرکین کے بےبنیاد دعوؤں کے بارے میں صحیح حقائق لوگوں کے ذہن نشین ہوجائیں اور مسلمانوں کو جسے قبلے کی طرف مڑنا ہے اس کے مسئلے کا بھی فیصلہ ہوجائے۔ نیز اس موقع پر دین ابراہیم (علیہ السلام) یعنی خالص توحید کی وضاحت بھی کردی جاتی ہے ۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین نے جو من گھڑت عقائد اور بےراہ روی اختیار کی ہوئی ہے ، اس کا اسلام کے عقیدہ ٔ توحید کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ہے ۔ اس کے برعکس حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) حضرت یعقوب (علیہ السلام) (اسرائیل جس کی طرف سے یہ لوگ نسبت کرتے ہیں) اور مسلمانوں کے عقائد اور اخری دین میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ نیز یہ بھی بتایا گیا کہ اللہ کا دین ہمیشہ ایک ہی رہا ہے اور وہی تمام انبیاء اور رسل کا مشن رہا ہے اور وہ کسی قوم یا کسی نسل کے ساتھ مخصوص نہیں ہے نہ اس پر کسی کی اجارہ داری ہے۔ یہ تو ایک عقیدہ ہے جو دل مومن کی دولت ہے ۔ اندھی عصبیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی میراث ہے جو خون اور نسل کے رشتوں پر تقسیم نہیں ہوتی بلکہ ایمان اور عقائد کے رشتے پر ختم ہوتی ہے ۔ لہٰذا جو شخص بھی اس دین کو قبول کرے اور اس کی نگہبانی کرے ، وہ جس نسل سے متعلق ہے اور جس قوم کا فرد ہو ، وہ اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے ۔ یعنی اپنے حقیقی بھائیوں اور صلبی اولاد سے بھی زیادہ۔ کیونکہ یہ اللہ کا دین ہے اور اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان کوئی نسبی یا کوئی اور رشتے کا تعلق نہیں ہے۔ یہ حقائق جو اسلامی تصور حیات کے اساسی خطوط کا ایک اہم حصہ ہیں ۔ قرآن کریم یہاں انہیں بڑے عجیب طرز ادا میں نہایت واضح کرکے بیان کرتا ہے ۔ فصیح وبلیغ انداز بیان کے علاوہ سیاق کلام یہاں غایت درجہ مربوط ہے ۔ پہلے بیان کیا جاتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آزمایا اور وہ اس آزمائش میں پورے اترے اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے نبی آخرالزمان حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمایا اور امت مسلمہ کو برپا کیا گیا۔ اس لئے امت مسلمہ اس ورثے کی جائز وارث بن گئی اور اولاد ابراہیم (علیہ السلام) سے یہ اعزار چھین لیا گیا ۔ کیونکہ نظریاتی ورثے کے مستحق صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جو رسالت پر پختہ ایمان رکھتے ہیں اور اچھی طرح سے اسے روبہ عمل لاتے ہیں اور رسالت کا صحیح تصور قائم رکھتے ہیں ۔ یہی ہے علت نظریاتی میراث کی۔ ان تاریخی حقائق کے بیان کے درمیان ، طرز ادا سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اپنے مفہوم کے اعتبار سے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کردیا جائے ، سلسلہ رسل کی ابتداء میں بھی پیغام اول تھا ، اور اس سلسلے کے اختتام پر بھی یہی اسلام رسولوں کا مشن تھا۔ یہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نظریہ تھا ، اور آپ کے بعد حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور دوسری رسالتوں اور تحریکات حقہ کا عقیدہ تھا۔ ان حضرات نے اس امانت کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سپرد کیا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ وراثت آخرکارامت مسلمہ تک آپہنچی ۔ اس عقیدے اور اس نظریئے پر جو بھی ثابت قدم ہوگا وہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا روحانی وارث ہوگا ۔ اور وہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کا حق دار اور ان کی دی ہوئی بشارتوں کا مصداق ہوگا۔ اور جس شخص نے اسلام سے روگردانی کی اور اپنے نفس کو ملت ابراہیمی سے دور رکھا ، تو گویا وہ اللہ کے عہد کا مستحق نہ رہا اور اس نے اپنے آپ کو اس حق وفا سے محروم کردیا اور ان بشارتوں کا مصداق نہ رہا۔ یہاں آکر یہود ونصاریٰ کے وہ تمام دعوے اپنی اساس کھودیتے ہیں کہ وہ چیدہ اور برگزیدہ قوم ہیں ۔ محض اس لئے کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پڑ پوتے ہیں ، اور ان کے خلیفہ ہیں ، اس لئے کہ جب سے انہوں نے عقیدہ توحید کو خیرباد کیا ، تب سے وہ وراثت ابراہیمی سے محروم ٹھہرے ۔ اور اس مقام پر قبیلہ قریش کے یہ دعوے بھی منہدم ہوجاتے ہیں کہ وہ بیت اللہ کی تولیت اور دیکھ بھال اور تعمیر کے حق دار ہیں ۔ کیونکہ انہوں نے اس مقام مقدس کے بانی اول کی روحانی میراث سے انحراف اختیار کرلیا ۔ اسی طرح یہودیوں کو یہ دعویٰ بھی منہدم ہوجاتا ہے کہ وہ بیت المقدس کے اصحاب قبلہ ہیں اور مسلمانوں کے لئے بھی مناسب یہی ہے کہ وہ بدستور بیت المقدس کو قبلہ بنائے رکھیں۔ اس لئے خانہ کعبہ ان کا بھی قبلہ ہے اور ان کے والد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بھی قبلہ تھا۔ ان تمام امور کو ایک حسین و جمیل پیرائے میں ادا کیا گیا جس کے اندر بیشمار واضح اشارات موجود ہیں اور جس کے اندر ایسے مواقف اور مقامات غور وفکر بھی ہیں جن کے اندر نہایت ہی دقیق مفاہم پوشیدہ ہیں اور ایسی توضیحات ہیں جو نہایت پر اثر ہیں ۔ اب ہم اس فصیح وبلیغ انداز کلام پر ، درج بالااشارات کی روشنی میں تفصیلی بات کریں گے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

بنی اسرائیل کو نعمتوں کی مکرریاد دہانی یہ دونوں آیتیں سورة بقرہ کے چھٹے رکوع کے شروع میں گزر چکی ہیں۔ دونوں آیتوں میں وہاں ایک طرح کی تمہید تھی جس میں اللہ تعالیٰ نے اجمالی طور پر بنی اسرائیل کو اپنے انعامات یاد دلائے تھے اور انہیں آخرت کے عذاب سے ڈرایا تھا، اس کے بعد تفصیلی طور پر بعض نعمتوں کا تذکرہ فرمایا اور ان کی حرکتوں اور بد عملیوں اور جھوٹی آرزوؤں کا اور بچھڑے کی پرستش کرنے اور جادو کے پیچھے لگنے اور فرشتوں کو اپنا دشمن بتانے اور حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر دبی زبان سے راعِنَا کہنے اور اس کے برے معنی مراد لینے کا اور بعض دیگر امور کا تفصیلی بیان ہوا۔ بیان کے ختم پر اب یہاں پھر انہیں دونوں آیتوں کو دہرایا جو بطور تمہید شروع میں مذکور تھیں۔ البتہ دوسری آیت میں ذرا سا لفظی فرق ہے اولاً وآخراً ان کو اجمالی طور پر اپنے انعامات یاد دلا کر ایمان اور اعمال صالحہ میں لگنے کی طرف متوجہ فرمایا اور قیامت کے دن کے عذاب سے ڈرایا اگر انسان اللہ کی نعمتوں کو سامنے رکھے کہ اللہ نے مجھ پر کیا کیا انعامات فرمائے اور اپنے نفس کا محاسبہ بھی کرے کہ میں نے ان کے مقابلے میں کیا کیا اور ساتھ ہی فکر آخرت بھی ہو تو ایسا شخص ایمان صالح سے دور نہیں رہ سکتا لیکن یہودی ایمان سے بھی گئے اور اعمال صالحہ سے بھی گئے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

234 میرے ان تمام انعامات کو یاد کرو جو ابھی ابھی تمہیں یاد دلائے ہیں خصوصاً اس نعمت توحید کو جس کی وجہ سے تمہارے اسلاف کو دنیا میں سب سے اونچا اور ممتاز مقام حاصل ہوا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi