Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 145

سورة البقرة

وَ لَئِنۡ اَتَیۡتَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ بِکُلِّ اٰیَۃٍ مَّا تَبِعُوۡا قِبۡلَتَکَ ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ بِتَابِعٍ قِبۡلَتَہُمۡ ۚ وَ مَا بَعۡضُہُمۡ بِتَابِعٍ قِبۡلَۃَ بَعۡضٍ ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَہۡوَآءَہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ ۙ اِنَّکَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۴۵﴾ۘ

And if you brought to those who were given the Scripture every sign, they would not follow your qiblah. Nor will you be a follower of their qiblah. Nor would they be followers of one another's qiblah. So if you were to follow their desires after what has come to you of knowledge, indeed, you would then be among the wrongdoers.

اور آپ اگرچہ اہل کتاب کو تمام دلیلیں دے دیں لیکن وہ آپ کے قبلے کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ آپ ان کے قبلے کو ماننے والے ہیں اور نہ یہ آپس میں ایک دوسرے کے قبلے کو ماننے والے ہیں اور اگر آپ باوجود یہ کہ آپ کے پاس علم آچکا پھر بھی ان کی خواہشوں کے پیچھے لگ جائیں تو بالیقین آپ بھی ظالموں میں سے ہوجائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Stubbornness and Disbelief of the Jews Allah says; وَلَيِنْ أَتَيْتَ الَّذِينَ أُوْتُواْ الْكِتَابَ بِكُلِّ ايَةٍ مَّا تَبِعُواْ قِبْلَتَكَ ... And even if you were to bring to the People of the Scripture (Jews and Christians) all the Ayat (proofs, evidences, verses, lessons, signs, revelations, etc.), they would not follow your Qiblah (prayer direction), Allah describes the Jews' disbelief, stubbornness and defiance of what they know of the truth of Allah's Messenger, that if the Prophet brought forward every proof to the truth of what he was sent with, they will never obey him or abandon following their desires. In another instance, Allah said: إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُوْمِنُونَ وَلَوْ جَأءَتْهُمْ كُلُّ ءايَةٍ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ Truly, those, against whom the Word (wrath) of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them, until they see the painful torment. (10:96-97) This is why Allah said here: وَلَيِنْ أَتَيْتَ الَّذِينَ أُوْتُواْ الْكِتَابَ بِكُلِّ ايَةٍ مَّا تَبِعُواْ قِبْلَتَكَ (And even if you were to bring to the People of the Scripture (Jews and Christians) all the Ayat (proofs, evidences, verses, lessons, signs, revelations, etc.), they would not follow your Qiblah (prayer direction)). Allah's statement: ... وَمَا أَنتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ ... ...nor are you going to follow their Qiblah, indicates the vigor with which Allah's Messenger implements what Allah commanded him. Allah's statement also indicates that as much as the Jews adhere to their opinions and desires, the Prophet adheres by Allah's commands, obeying Him and following what pleases Him, and that he would never adhere to their desires in any case. Hence, praying towards Bayt Al-Maqdis was not because it was the Qiblah of the Jews, but because Allah had commanded it. ... وَمَا بَعْضُهُم بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ And they will not follow each other's Qiblah. Allah then warns those who knowingly defy the truth, because the proof against those who know is stronger than against other people. This is why Allah said to His Messenger and his Ummah: ... وَلَيِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءهُم مِّن بَعْدِ مَا جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ إِنَّكَ إِذَاً لَّمِنَ الظَّالِمِينَ Verily, if you follow their desires after that which you have received of knowledge (from Allah), then indeed you will be one of the wrongdoers.

کفر و عناد زدہ یہودی یہودیوں کے کفر و عناد اور مخالفت و سرکشی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجودیکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کا انہیں علم ہے لیکن پھر بھی یہ حالت ہے کہ ہر قسم کی دلیلیں پیش ہو چکنے کے بعد بھی حق کی پیروی نہیں کرتے جیسے اور جگہ ہے آیت ( ان الذین حقت علیھم کلمتہ ربک لا یومنون ولو جاء تھم کل ایت حتی یروا العذاب الالیم ) یعنی جن لوگوں پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ایمان نہ لائیں گے چاہے ان کے پاس یہ تمام آیتیں آ جائیں یہاں تک کہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی استقامت بیان فرماتا ہے کہ جس طرح وہ ناحق پر ڈٹے ہوئے ہیں اور وہاں سے ہٹنا نہیں چاہتے تو وہ بھی سمجھ لیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے نہیں کہ ان کی باتوں میں آ جائیں اور ان کی راہ چل پڑیں وہ ہمارے تابع فرمان ہیں اور ہماری مرضی کے عامل ہیں وہ ان کی باطل خواہش کی تابعداری ہرگز نہیں کریں گے نہ ان سے یہ ہو سکتا ہے کہ ہمارا حکم آ جانے کے بعد ان کے قبلہ کی طرف توجہ کریں پھر اپنے نبی کو خطاب کر کے در اصل علماء کو دھمکایا گیا کہ حق کے واضح ہو جانے کے بعد کسی کے پیچھے لگ جانا اور اپنی یا دوسروں کی خواہش پرستی کرنا یہ صریح ظلم ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

145۔ 1 کیونکہ یہود کی مخالفت تو حسد وعناد کی بنا پر ہے، اس لئے دلائل کا ان پر کوئی اثر نہ ہوگا۔ گویا اثر پزیری کے لئے ضروری ہے کہ انسان کا دل صاف ہو۔ 145۔ 2 کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وحی الٰہی کے پابند ہیں جب تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ کی طرف سے ایسا حکم نہ ملے آپ ان کے قبلے کو کیونکر اختیار کرسکتے ہیں۔ 145۔ 3 یہود کا قبلہ بیت المقدس اور عیسائیوں کا بیت المقدس کی مشرقی جانب ہے۔ جب اہل کتاب کے یہ دو گروہ بھی ایک قبلے پر متفق نہیں تو مسلمانوں سے کیوں یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں ان کی موافقت کریں گے۔ 145۔ 4 یہ وعید پہلے بھی گزر چکی ہے، مقصد امت کو متنبہ کرنا ہے کہ قرآن و حدیث کے علم کے باوجود اہل بدعت کے پیچھے لگنا، ظلم اور گمراہی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٨٠] اس لیے کہ ان کا یہ جھگڑا کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ محض حسد وعناد کی بنا پر ہے۔ یعنی اگر آپ یہ بات انہیں ان کی کتابوں سے دکھلا بھی دیں۔ تب بھی یہ ماننے والے نہیں۔ [ ١٨١] یعنی اہل کتاب کے قبلے بھی مختلف ہیں۔ یہود کا قبلہ تو صخرہ بیت المقدس ہے۔ (بیت المقدس کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے تیرہ سو سال بعد تعمیر کیا تھا) اور نصاریٰ کا قبلہ بیت المقدس کی شرقی جانب ہے۔ جہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نفخ روح ہوا تھا تو جب یہ لوگ آپس میں بھی کسی ایک قبلہ پر متفق نہیں تو آپ کے ساتھ کیسے اتفاق کرسکتے ہیں یا آپ ان میں سے کس کے قبلہ کی پیروی کریں گے۔ [ ١٨٢] رسول ہونے کی حیثیت سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ کام نہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو راضی کرتے پھریں اور کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر سمجھوتہ کریں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام یہ ہے کہ جو علم ہم نے آپ کو دیا ہے اس پر سختی سے کاربند رہیں اور ظالم ہونے کا خطاب دراصل امت کو ہے۔ رسول بھلا وحی الہیٰ کو کیسے نظر انداز کرسکتا ہے۔ امت کو یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ رسول کے ذریعہ اللہ کا حکم جو تمہیں مل رہا ہے۔ اس پر پورا پورا یقین رکھو، اور اس کے مطابق عمل کرو، اور اگر تم نے یہود کو خوش کرنے کی کوشش کی تو تمہارا شمار ظالموں میں ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

( مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ ۚ ) یعنی وہ کعبہ کے قبلہ ہونے کو خوب جانتے ہیں، مگر ان کا عناد اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ آپ اس کی حقانیت پر خواہ دنیا بھر کے دلائل پیش کردیں وہ آپ کے قبلہ کو تسلیم نہیں کریں گے۔ (وَمَآ اَنْتَ بِتَابِــعٍ ) اور آپ بھی وحئ الٰہی کے پابند ہونے کی وجہ سے ان کے قبلہ کو اختیار نہیں کرسکتے۔ ” بِتَابِــعٍ “ میں باء کے ساتھ نفی کی تاکید ہوگئی، اس لیے ترجمہ ” اور نہ تو کسی صورت ۔۔ “ کیا گیا ہے۔ ( وَمَا بَعْضُهُمْ بِتَابِــعٍ ) اور ان کے باہمی عناد کا حال یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے قبلہ کو پسند نہیں کرتے۔ یہود صخرۂ بیت المقدس کی طرف رخ کرتے ہیں اور نصاریٰ بیت المقدس کی مشرقی جانب۔ ( قرطبی) وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ ’ اَھْوَاءٌ“ کی واحد ” ہَوًی “ ہے جس کا معنی خواہش نفس ہے۔ قرآن وسنت کی پیروی تو (مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْم) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے علم کی پیروی ہے، اس کے سوا دین میں جو بھی شامل کیا جائے وہ انسانی خواہش کی پیروی ہے، خواہ وہ یہود و نصاریٰ کی طرف سے آئے، یا ہندوؤں اور سکھوں کی طرف سے، یا مسلمان اپنے پاس سے ایجاد کرلیں، سب خواہش کی پیروی ہے۔ اس لیے علمائے اسلام اہل بدعت کو عام طور پر ” اہل اہواء “ کہتے ہیں۔ صاحب کشاف نے ذکر فرمایا ہے کہ اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی سے منع کرنے کی تاکید کئی وجوہ کی بنا پر کی گئی ہے۔ صاحب کشاف نے دس وجوہ سے اس تاکید کی تفصیل بیان کی ہے۔ مزید دیکھیے تفسیر ابن عاشور۔ اس آیت میں اگرچہ خطاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہے مگر مراد امت ہے، علماء اور عوام سب اس میں شامل ہیں، کیونکہ اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسا کریں تو آپ سے کہا جائے : (اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ ) تو امتی تو ایسا کرنے سے بالاولیٰ ظالموں میں سے ہوں گے۔ پھر کیا حال ہوگا ان عالموں کا جو منع کرنے کے بجائے تیجے، ساتے، چالیسویں، میلاد، تعزیے، عرس اور قوالی وغیرہ میں شرکت کرتے، خود ساختہ وظیفے کرتے، بعض وظیفوں میں قطب کی طرف رخ کرتے اور قبلے کی طرح اس کی تعظیم کرتے اور ان کاموں کو باعث ثواب قرار دیتے ہیں !

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In continuing the discussion on the subject of the Qiblah قبلہ ، or the divinely-ordained orientation, the present verse provides yet another instance of the maliciousness of the People of the Book اھل کتاب . It is not that they demand solid and convincing arguments in order to be able to accept the new injunction with regard to the Qiblah قبلہ : it is sheer stubbornness which does not allow them to give their assent, and no proof in the world, declares the Holy Qur&an, is ever going to satisfy them. In fact, their two groups display an equal malice even towards each other - the Jews have adopted the Baytul-Maqdis as their Qiblah قبلہ ، while the Christians have chosen the East, and each group rejects the Qiblah of the other. On the other hand, the Holy Prophet , cannot accept either of these two orientations, for the new Qiblah قبلہ of the Mus¬lims - the Baytullah بیت اللہ - has been instituted by a divine commandment, and is never going to be abrogated. So, there is no likelihood of an agreement between the People of the Book and the Muslims in this matter. The Baytul-Maqdis بیت المقدس ، no doubt, had once been instituted by a divine commandment, but that commandment has now been abrogated. Anyone who follows an abrogated injunction, and ignores the new in-junction which has replaced the earlier one, is actually disobeying Al¬lah, and acting upon his individual opinion and personal desire. Natu¬rally, it is impossible for the Holy Prophet g to follow the desires of the People of the Book. But, supposing for the sake of supposition, were he to do so even after having received a definite injunction through the Wahy وحی (Revelation), he would be counted among the unjust - that is, among those who disobey divine commandments. Such a situ¬ation, however, can never arise. Being a prophet, he is essentially sin-less, and as such cannot possibly be among the unjust. From this prin¬ciple it logically follows that it is impossible for him to favour the desires of the People of the Book, and to accept their Qiblah قبلہ as his own. Let us make it quite clear that this warning is outwardly addressed to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، but is, in fact, intended for his Ummah, which is being asked to realize fully the gravity of the sin of ignoring or disobeying the injunction which has finally established the Baytullah بیت اللہ as the Qiblah قبلہ of the Muslims. As for the phrase, وما انت بتبع : |"You are not to follow their Qiblah قبلہ |", it is meant to declare that the Baytullah بیت اللہ shall now stay as the Qiblah قبلہ upto the end of the world. Thus, the declaration refutes the scoffing allegation of the People of the Book that there was no stability in the Islamic injunctions, and that the Muslims might again adopt the Baytul-Maqdis بیت المقدس as their Qiblah قبلہ . (Al-Bahr al-Muhit)

خلاصہ تفسیر : اور (باجود ان لوگوں کے سب کچھ سمجھنے کے ان کی ضد کی یہ حالت تھی) کہ اگر آپ (ان) اہل کتاب کے سامنے تمام (دنیا بھر کی) دلیلیں (جمع کرکے) پیش کردیں جب بھی یہ (کبھی) آپ کے قبلہ کو قبول نہ کریں اور (ان کی موافقت کی امید اس لئے نہ رکھنی چاہئے کہ آپ کا قبلہ بھی منسوخ ہونے والا نہیں اس لئے) آپ بھی ان کے قبلہ کو قبول نہیں کرسکتے (پس کوئی صورت موافقت کی باقی نہیں رہی) اور (جیسا ان اہل کتاب کو آپ سے ضد ہے ان میں باہم بھی موافقت نہیں کیونکہ) ان کا کوئی (فریق) بھی دوسرے (فریق) کے قبلہ کو قبول نہیں کرتا، (مثلا یہود نے بیت المقدس لے رکھا تھا اور نصاریٰ نے مشرق کی سمت کو قبلہ بنا رکھا تھا) اور (خدانخواستہ آپ تو کسی طرح ان کے قبلہ منسوخہ غیر مشروعہ کو لے ہی نہیں سکتے کیونکہ) اگر آپ ان کے (ان) نفسانی خیالات کو (گو وہ اصل میں حکم آسمانی رہے ہوں لیکن اب بوجہ منسوخ ہونے کے ان پر عمل کرنا محض نفسانی تعصب ہے سو اگر آپ ایسے خیالات کو) اختیار کرلیں (اور وہ بھی) آپ کے پاس علم (قطعی یعنی وحی) آئے پیچھے تو یقیناً آپ (نعوذ باللہ) ظالموں میں شمار ہونے لگیں ( جو کہ تارکین حکم ہیں اور آپ کا ظالم ہونا بوجہ معصوم ہونے کے محال ہے اس لئے یہ بھی محال ہے کہ آپ ان کے خیالات کو جن میں سے ان کا قبلہ بھی ہے قبول کرلیں) معارف و مسائل : وَمَآ اَنْتَ بِتَابِــعٍ قِبْلَتَهُمْ ۚ میں یہ اعلان کردیا گیا کہ اب قیامت تک کے لئے آپ کا قبلہ بیت اللہ ہی رہے گا اس سے یہود و نصاریٰ کے ان خیالات کا قطع کرنا مقصود تھا کہ مسلمانوں کے قبلہ کو تو کوئی قرار نہیں پہلے بیت اللہ تھا پھر بیت المقدس ہوگیا پھر بیت اللہ ہوگیا اب بھی ممکن ہے کہ پھر دوبارہ بیت المقدس ہی کو قبلہ بنالیں (بحر محیط) وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ یہ خطاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بطور فرض محال کے ہے جس کے وقوع کا کوئی احتمال نہیں اور دراصل سنانا امت محمدیہ کو ہے کہ اس کی خلاف ورزی ایسی چیز ہے کہ خود رسول بھی بفرض محال ایسا کریں تو وہ بھی ظالم قرار پائیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَىِٕنْ اَتَيْتَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰيَۃٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ۝ ٠ ۚ وَمَآ اَنْتَ بِتَابِــــعٍ قِبْلَتَہُمْ۝ ٠ ۚ وَمَا بَعْضُہُمْ بِتَابِـــعٍ قِبْلَۃَ بَعْضٍ۝ ٠ ۭ وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ۝ ٠ ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِـمِيْنَ۝ ١٤٥ ۘ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعرأتيت المروءة من بابها فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقوله : لا يَأْتُونَ الصَّلاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسالی [ التوبة/ 54] ، أي : لا يتعاطون، وقوله : يَأْتِينَ الْفاحِشَةَ [ النساء/ 15] ، وفي قراءة عبد اللہ : ( تأتي الفاحشة) فاستعمال الإتيان منها کاستعمال المجیء في قوله : لَقَدْ جِئْتِ شَيْئاً فَرِيًّا [ مریم/ 27] . يقال : أتيته وأتوته ويقال للسقاء إذا مخض وجاء زبده : قد جاء أتوه، وتحقیقه : جاء ما من شأنه أن يأتي منه، فهو مصدر في معنی الفاعل . وهذه أرض کثيرة الإتاء أي : الرّيع، وقوله تعالی: مَأْتِيًّا[ مریم/ 61] مفعول من أتيته . قال بعضهم معناه : آتیا، فجعل المفعول فاعلًا، ولیس کذلک بل يقال : أتيت الأمر وأتاني الأمر، ويقال : أتيته بکذا وآتیته كذا . قال تعالی: وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] .[ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني . والإِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] . ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو { أَتَى أَمْرُ اللَّهِ } [ النحل : 1] خد اکا حکم ( یعنی عذاب گویا ) آہی پہنچا۔ اور آیت کریمہ { فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ } [ النحل : 26] میں اللہ کے آنے سے اس کے حکم کا عملا نفوذ مراد ہے جس طرح کہ آیت { وَجَاءَ رَبُّكَ } [ الفجر : 22] میں ہے اور شاعر نے کہا ہے ۔ (5) |" اتیت المروءۃ من بابھا تو جو انمروی میں اس کے دروازہ سے داخل ہوا اور آیت کریمہ ۔ { وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى } [ التوبة : 54] میں یاتون بمعنی یتعاطون ہے یعنی مشغول ہونا اور آیت کریمہ ۔ { يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ } [ النساء : 15] میں الفاحشہ ( بدکاری ) کے متعلق اتیان کا لفظ ایسے ہی استعمال ہوا ہے جس طرح کہ آیت کریمہ ۔ { لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا } [ مریم : 27] فری کے متعلق مجئی کا لفظ استعمال ہوا ہے ( یعنی دونوں جگہ ارتکاب کے معنی ہیں ) اور آیت ( مذکورہ ) میں ایک قرات تاتی الفاحشۃ دونوں طرح آتا ہے ۔ چناچہ ( دودھ کے ، مشکیزہ کو بلونے سے جو اس پر مکھن آجاتا ہے اسے اتوۃ کہا جاتا ہے لیکن اصل میں اتوۃ اس آنے والی چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز سے حاصل ہوکر آئے لہذا یہ مصدر بمعنی فاعل ہے ۔ ارض کثیرۃ الاباء ۔ زرخیز زمین جس میں بکثرت پیداوار ہو اور آیت کریمہ : {إِنَّهُ كَانَ وَعْدُهُ مَأْتِيًّا } [ مریم : 61] بیشک اس کا وعدہ آیا ہوا ہے ) میں ماتیا ( فعل ) اتیتہ سے اسم مفعول کا صیغہ ہے بعض علماء کا خیال ہے کہ یہاں ماتیا بمعنی آتیا ہے ( یعنی مفعول بمعنی فاعل ) ہے مگر یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ محاورہ میں اتیت الامر واتانی الامر دونوں طرح بولا جاتا ہے اتیتہ بکذا واتیتہ کذا ۔ کے معنی کوئی چیز لانا یا دینا کے ہیں قرآن میں ہے ۔ { وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا } [ البقرة : 25] اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے ۔ { فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا } [ النمل : 37] ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس سے مقابلہ کی ان میں سکت نہیں ہوگی ۔ { مُلْكًا عَظِيمًا } [ النساء : 54] اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی ۔ جن مواضع میں کتاب الہی کے متعلق آتینا ( صیغہ معروف متکلم ) استعمال ہوا ہے وہ اوتوا ( صیغہ مجہول غائب ) سے ابلغ ہے ( کیونکہ ) اوتوا کا لفظ کبھی ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے ۔ جب دوسری طرف سے قبولیت نہ ہو مگر آتینا کا صیغہ اس موقع پر استعمال ہوتا ہے جب دوسری طرف سے قبولیت بھی پائی جائے اور آیت کریمہ { آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ } [ الكهف : 96] تو تم لوہے کہ بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ ۔ میں ہمزہ نے الف موصولہ ( ائتونی ) کے ساتھ پڑھا ہے جس کے معنی جیئونی کے ہیں ۔ الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ، قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] ، فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] ، اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] ، وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] ، وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] ، ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] ، وَاتَّبَعُوا ما تَتْلُوا الشَّياطِينُ [ البقرة/ 102] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو ایسے کے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے رستے پر ہیں ۔ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا ۔ اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] جو ( کتاب ) تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو ۔ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] اور تمہارے پیرو تو ذلیل لوگ کرتے ہیں ۔ وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] اور اپنے باپ دادا ۔۔۔ کے مذہب پر چلتا ہوں ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] پھر ہم نے تم کو دین کے کھلے رستے پر ( قائم ) کردیا ہے تو اسیی ( راستے ) پر چلے چلو اور نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا ۔ وَاتَّبَعُوا ما تَتْلُوا الشَّياطِينُ [ البقرة/ 102] اور ان ( ہزلیات ) کے پیچھے لگ گئے جو ۔۔۔ شیاطین پڑھا کرتے تھے ۔ قِبْلَةً : في الأصل اسم للحالة التي عليها الْمُقَابِلُ نحو : الجلسة والقعدة، وفي التّعارف صار اسما للمکان الْمُقَابَلِ المتوجّهِ إليه للصلاة . نحو : فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضاها [ البقرة/ 144] القبلۃ : اصل میں بالمقابل آدمی کی حالت کو کہا جاتا ہے جیسے جلسۃ وقعدۃ اور عرف میں اس جہت کو قبلہ کہا جاتا ہے جس کی طرف متوجہ ہو کر نماز پڑھی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضاها [ البقرة/ 144] سو ہم تم کو ایسے قبلہ کی طرف جس کو تم پسند کرتے ہو متوجہ ہونے کا حکم دیں گے ۔ بعض بَعْضُ الشیء : جزء منه، ويقال ذلک بمراعاة كلّ ، ولذلک يقابل به كلّ ، فيقال : بعضه وكلّه، وجمعه أَبْعَاض . قال عزّ وجلّ : بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ البقرة/ 36] ( ب ع ض ) بعض الشئی ہر چیز کے کچھ حصہ کو کہتے ہیں اور یہ کل کے اعتبار سے بولا جاتا ہے اسلئے کل کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے جیسے : بعضہ وکلہ اس کی جمع ابعاض آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ البقرة/ 36] تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ، قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] ، فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] ، اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] ، وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] ، وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] ، ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] ، وَاتَّبَعُوا ما تَتْلُوا الشَّياطِينُ [ البقرة/ 102] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو ایسے کے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے رستے پر ہیں ۔ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا ۔ اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] جو ( کتاب ) تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو ۔ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] اور تمہارے پیرو تو ذلیل لوگ کرتے ہیں ۔ وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] اور اپنے باپ دادا ۔۔۔ کے مذہب پر چلتا ہوں ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] پھر ہم نے تم کو دین کے کھلے رستے پر ( قائم ) کردیا ہے تو اسیی ( راستے ) پر چلے چلو اور نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا ۔ وَاتَّبَعُوا ما تَتْلُوا الشَّياطِينُ [ البقرة/ 102] اور ان ( ہزلیات ) کے پیچھے لگ گئے جو ۔۔۔ شیاطین پڑھا کرتے تھے ۔ هوى الْهَوَى: ميل النفس إلى الشهوة . ويقال ذلک للنّفس المائلة إلى الشّهوة، وقیل : سمّي بذلک لأنّه يَهْوِي بصاحبه في الدّنيا إلى كلّ داهية، وفي الآخرة إلى الهَاوِيَةِ ، وَالْهُوِيُّ : سقوط من علو إلى سفل، وقوله عزّ وجلّ : فَأُمُّهُ هاوِيَةٌ [ القارعة/ 9] قيل : هو مثل قولهم : هَوَتْ أمّه أي : ثکلت . وقیل : معناه مقرّه النار، والْهَاوِيَةُ : هي النار، وقیل : وَأَفْئِدَتُهُمْ هَواءٌ [إبراهيم/ 43] أي : خالية کقوله : وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] وقد عظّم اللہ تعالیٰ ذمّ اتّباع الهوى، فقال تعالی: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلهَهُ هَواهُ [ الجاثية/ 23] ، وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى[ ص/ 26] ، وَاتَّبَعَ هَواهُ [ الأعراف/ 176] وقوله : وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْواءَهُمْ [ البقرة/ 120] فإنما قاله بلفظ الجمع تنبيها علی أنّ لكلّ واحد هوى غير هوى الآخر، ثم هوى كلّ واحد لا يتناهى، فإذا اتّباع أهوائهم نهاية الضّلال والحیرة، وقال عزّ وجلّ : وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] ، كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّياطِينُ [ الأنعام/ 71] أي : حملته علی اتّباع الهوى. ( ھ و ی ) الھوی ( س ) اس کے معنی خواہشات نفسانی کی طرف مائل ہونے کے ہیں اور جو نفساتی خواہشات میں مبتلا ہو اسے بھی ھوی کہدیتے ہیں کیونکہ خواہشات نفسانی انسان کو اس کے شرف ومنزلت سے گرا کر مصائب میں مبتلا کردیتی ہیں اور آخر ت میں اسے ھاویۃ دوزخ میں لے جاکر ڈال دیں گی ۔ الھوی ( ض ) کے معنی اوپر سے نیچے گر نے کے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ فَأُمُّهُ هاوِيَةٌ [ القارعة/ 9] اسکا مرجع ہاویہ ہے : ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ ھوت انہ کیطرف ایک محاورہ ہے اور بعض کے نزدیک دوزخ کے ایک طبقے کا نام ہے اور آیت کے معنی یہ ہیں کہ اسکا ٹھکانا جہنم ہے اور بعض نے آیت وَأَفْئِدَتُهُمْ هَواءٌ [إبراهيم/ 43] اور ان کے دل مارے خوف کے ( ہوا ہو رہے ہوں گے ۔ میں ھواء کے معنی خالی یعنی بےقرار کئے ہیں جیسے دوسری جگہ فرمایا : ۔ وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] موسیٰ کی ماں کا دل بےقرار ہوگیا ۔ اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں خواہشات انسانی کی اتباع کی سخت مذمت کی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلهَهُ هَواهُ [ الجاثية/ 23] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے ولا تَتَّبِعِ الْهَوى[ ص/ 26] اور خواہش کی پیروی نہ کرنا ۔ وَاتَّبَعَ هَواهُ [ الأعراف/ 176] اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے ۔ اور آیت : ۔ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْواءَهُمْ [ البقرة/ 120] اگر تم ان کی خواہشوں پر چلو گے ۔ میں اھواء جمع لاکر بات پت تنبیہ کی ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی خواہش دوسرے سے مختلف اور جدا ہے اور ایہ ایک کی خواہش غیر متنا ہی ہونے میں اھواء کا حکم رکھتی ہے لہذا ایسی خواہشات کی پیروی کرنا سراسر ضلالت اور اپنے آپ کو درطہ حیرت میں ڈالنے کے مترادف ہے ۔ نیز فرمایا : ۔ وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] اور نادانوں کی خواہش کے پیچھے نہ چلنا ۔ وَلا تَتَّبِعُوا أَهْواءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا [ المائدة/ 77] اور اس قوم کی خواہشوں پر مت چلو ( جو تم سے پہلے ) گمراہ ہوچکے ہیں ۔ قُلْ لا أَتَّبِعُ أَهْواءَكُمْ قَدْ ضَلَلْتُ [ الأنعام/ 56] ( ان لوگوں سے ) کہدو کہ میں تمہاری خواہشوں پر نہیں چلتا ۔ ایسا کروں میں گمراہ ہوچکا ہوں گا ۔ وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَهُمْ وَقُلْ آمَنْتُ بِما أَنْزَلَ اللَّهُ [ الشوری/ 15] اور ان ( یہود ونصاریٰ کی کو اہشوں پر مت چلو اور ان سے صاف کہدو کہ میرا تو اس پر ایمان ہے ۔ جو خدا نے اتارا ۔ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] اور اس سے زیادہ وہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے ۔ الھوی ( بفتح الہا ) کے معنی پستی کی طرف اترنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل ھوی ( بھم الہا ) کے معنی بلندی پر چڑھنے کے ہیں ۔ شاعر نے کہا ہے ( الکامل ) ( 457 ) یھوی مکار مھا ھوی الاجمال اس کی تنگ گھائیوں میں صفرہ کیطرح تیز چاہتا ہے ۔ الھواء آسمان و زمین فضا کو کہتے ہیں اور بعض نے آیت : ۔ وَأَفْئِدَتُهُمْ هَواءٌ [إبراهيم/ 43] اور ان کے دل مارے خوف کے ہوا ہور رہے ہوں گے ۔ کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے یعنی بےقرار ہوتے ہیں ھواء کی طرح ہوں گے ۔ تھا ویٰ ( تفاعل ) کے معنی ایک دوسرے کے پیچھے مھروۃ یعنی گڑھے میں گرنے کے ہیں ۔ اھواء اسے فضا میں لے جا کر پیچھے دے مارا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوى [ النجم/ 53] اور اسی نے الٹی بستیوں کو دے پئکا ۔ استھوٰی کے معنی عقل کو لے اڑنے اور پھسلا دینے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّياطِينُ [ الأنعام/ 71] جیسے کسی کی شیاطین ( جنات ) نے ۔۔۔۔۔۔۔ بھلا دیا ہو ۔ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٤٥) اور اگر آپ اہل کتاب کے پاس تمام ان معجزات کے ساتھ جن کا انہوں نے آپ سے مطالبہ کیا ہے آئیں تو وہ نہ آپ کے قبلہ کی طرف نماز پڑھیں گے اور نہ آپ کے دین کو قبول کریں گے اور نہ آپ اہل کتاب کے قبلہ کی طرف نماز پڑھنے والے ہیں اور نہ یہود ونصاری میں سے کوئی بھی فریق ایک دوسرے کے قبلہ کی طرف نماز پڑھنے والے ہیں۔ اور اگر آپ ہماری ممانعت اور اس چیز کے بیان کردینے کے بعد یہ حرم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ ہے پھر ان کے قبلہ کی طرف مونہہ کرکے نماز پڑھیں گے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کام کی وجہ سے اس وقت اپنے آپ کو نقصان پہنچانے والوں میں سے ہوں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٤٥ (وَلَءِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ بِکُلِّ اٰیَۃٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَکَ ج) (وَمَآ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَہُمْ ج) یہ تو (لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ ) والا معاملہ ہوگیا۔ (وَمَا بَعْضُہُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَۃَ بَعْضٍ ط) ۔ حد یہ ہے کہ یہ خود آپس میں ایک دوسرے کے قبلے کی پیروی نہیں کرتے۔ اگرچہ یہود و نصاریٰ سب کا قبلہ یروشلم ہے ‘ لیکن عین یروشلم میں جا کر یہودی ہیکل سلیمانی کا مغربی گوشہ اختیار کرتے تھے اور مغرب کی طرف رخ کرتے تھے ‘ جبکہ نصاریٰ مشرق کی طرف رخ کرتے تھے ‘ اس لیے کہ حضرت مریم (سلامٌ علیہا) نے جس مکان میں اعتکاف کیا تھا اور جہاں فرشتہ ان کے پاس آیا تھا وہ ہیکل کے مشرقی گوشے میں تھا ‘ جس کے لیے قرآن حکیم میں مَکَانًا شَرْقِیًّا کا لفظ آیا ہے۔ عیسائیوں نے اسی مشرقی گھر کو اپنا قبلہ بنا لیا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

147. The purpose of this verse is to ask the Prophet not to be disturbed by the controversy and remonstrance to which some people had resorted as a result of this change in the direction of Prayer. It was difficult to convince those people by argument, since they suffered from prejudices and intransigence and were unwilling to abandon their traditional qiblah. It was also impossible for the matter to be resolved by adopting the qiblah of any of the contending groups; there were various groups and they were not agreed in respect of the qiblah. If the qiblah of one group had been adopted this would have satisfied only that group. As for the rest, their remonstrating would persist. Furthermore, and more basic in this connection, was the fact that as a Prophet Muhammad ought neither to be concerned to please people, nor haggle with them in order to arrive at compromised solutions. On the contrary, the mission of a Prophet is to adhere firmly, to the knowledge vouchsafed to him by God regardless of all opposition. To deviate from that knowledge to please others is tantamount to offending the prophetic mission and is inconsistent with the gratitude that the Prophet ought to feel for having been favoured with the position of world leadership.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :147 ”مطلب یہ ہے کہ قبلے کے متعلق جو حُجَّت و بحث یہ لوگ کرتے ہیں ، اس کا فیصلہ نہ تو اس طرح ہوسکتا ہے کہ دلیل سے انہیں مطمئن کر دیا جائے ، کیونکہ یہ تعصّب اور ہٹ دھرمی میں مُبتلا ہیں اور کسی دلیل سے بھی اس قبلے کو چھوڑ نہیں سکتے ، جسے یہ اپنی گروہ بندی کے تعصّبات کی بنا پر پکڑے ہوئے ہیں ۔ اور نہ اس کا فیصلہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ تم ان کے قبلے کو اختیار کر لو ، کیونکہ ان کا کوئی ایک قبلہ نہیں ہے ، جس پر یہ سارے گروہ متفق ہوں اور اسے اختیار کر لینے سے قبلے کا جھگڑا چُک جائے ۔ مختلف گروہوں کے مختلف قبلے ہیں ۔ ایک کا قبلہ اختیار کر کے بس ایک ہی گروہ کو راضی کر سکو گے ۔ دُوسروں کا جھگڑا بدستور باقی رہے گا ۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پیغمبر کی حیثیت سے تمہارا یہ کام ہے ہی نہیں کہ تم لوگوں کو راضی کرتے پھرو اور ان سے لین دین کے اصول پر مصالحت کیا کرو ۔ تمہارا کام تو یہ ہے کہ جو علم ہم نے تمہیں دیا ہے ، سب سے بے پروا ہو کر صرف اسی پر سختی کے ساتھ قائم ہو جاؤ ۔ اس سے ہٹ کر کسی کو راضی کرنے کی فکر کرو گے ، تو اپنے پیغمبری کے منصب پر ظلم کرو گے اور اس نعمت کی ناشکری کرو گے ، جو دنیا کا امام بنا کر ہم نے تمہیں بخشی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

95: یہودی بیت المقدس کو اپنا قبلہ مانتے تھے، اور عیسائی بیت اللحم کو جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تھے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

جو شخص حقیقت میں حق پسند ہوتا ہے مگر کبھی کسی حق بات کے سمجھنے میں اس کو کوئی شبہ پڑجاتا ہے۔ تو جب اس کا وہ شبہ رفع ہوجاتا ہے تو پھر وہ شخص فوراً راہ راست پر آجاتا ہے۔ لیکن جب کوئی شخص ضد یا حسد سے حق بات کے سمجھنے کا سرے سے قصد ہی نہیں کرتا تو اس کا راہ راست پر آنا مشکل ہے۔ اہل کتاب کا کفر کسی شک و شبہ کے سبب سے نہیں تھا بلکہ وہ جس طرح غیر کی اولاد میں سے اپنی اولاد کو پہچان سکتے تھے۔ اسی طرح ان اوصاف سے جو ان کی کتابوں میں تھے نبی آخر الزمان کو پہچانتے تھے۔ لیکن انہوں نے اس حد سے سے کہ نبی آخر الزمان ان کی قوم میں کیوں نہیں پیدا ہوئے اللہ کی کتاب کی آیتوں کو بدل ڈالا اور اسی ضد و حسد سے وہ باوجودنبی کے معجزات کے دیکھنے کے راہ راست پر نہیں آتے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی تسکین کے لئے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور فرمایا کہ ان لوگوں کا کفر عنادی ہے ان کو سینکڑوں معجزے بھی دکھائے جائیں تو کچھ فائدہ نہیں کیونکہ جب تک یہ لوگ اپنے عناد کو نہ چھوڑیں گے وہ عناد کبھی ان کو نہ چھوڑے گا کہ یہ حق بات کو سمجھیں اور راہ راست پر آجائیں اور کعبہ کو قبلہ تسلیم کریں پھر فرمایا کہ تمہار قبلہ خدا کی طرف سے ٹھہر چکا ہے اس واسطے تم بھی مثل سابق کے اب بیت المقدس کو قبلہ نہیں بنا سکتے پھر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب ٹھہر اکر امت کے لوگوں کو بطور تنبیہ کے یہ سنایا کہ اللہ کی طرف سے ایک حکم آجانے کے بعد اب اگر کوئی مسلمان شخص اہل کتاب کے بہکانے میں آجائے تو وہ بڑا ناانصاف ہے اگرچہ اس تنبیہ کا تعلق عام مسلمانوں سے ہے۔ لیکن تبدیل قبلہ کے حکم سے چند مسلمان بہک کر مرتد ہوگئے ان سے اس تنبیہ کا تعلق زیادہ ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:145) ولئن۔ واؤ حرف عطف، جملہ کا عطف وان الذین پر ہے لام تمہید قسم کا ہے الموطئۃ للقسم اور ما تبعوا قبلتک جو اب قسم قائم مقام جواب شرط ہے۔ ان حرف شرط ہے (اور اگر آپ لے ہی آئیں تمام دلائل ان لوگوں کے پاس جن کو کتاب مل ہے تو وہ پیروی نہیں کریں گے آپ کے قبلہ کی۔ وما بعضھم بتابع قبلۃ بعض۔ جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اور نہ ان میں سے بعض دوسروں کے قبلہ کی پیروی کرنے والے ہیں۔ اس وقت یہود و نصاری میں خود قبلہ کے متعلق اختلاف تھا۔ اگرچہ بیت المقدس کو دونوں قبلہ مانتے تھے لیکن عیسائی عبادت کے وقت اپنا رخ مشرق کی طرف کرتے تھے (بیت المقدس مدینہ منورہ سے جانب شمال ہے) ۔ علاوہ ازیں خود یہودیوں میں اہل سمریہ (Samarilians) میں اختلاف تھا۔ اگرچہ دونوں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پیرو تھے۔ (سمریہ اردون اور بحرہ روم کے درمیان فلسطین کا ایک ضلع تھا) ۔ اتبعت، ماضی کا صیغہ واحد مذکر حاضر، اتباع (افتعال) مصدر، تو نے پیروی کی۔ اھواء ھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی خواہش۔ ھوی کی جمع۔ ماجاءک میں ما موصولہ ہے۔ من العلم (من بیانیہ ہے۔ ای ما اوحی الیک)rnٍ ولئن اتبعت ۔۔ من العلم۔ شرط۔ انک اذا لمن الظالمین۔ جواب شرط ہے۔ اس جملہ کی ترکیب بھی اسی طرح ہے۔ جو جملہ سابقہ ولئن اتبت الذین ۔۔ قبلتک کی ہے جو اوپر مذکور ہوئی۔ اذا حرف جزاء ہے۔ اصل میں یہ اذن ہے وقف کی صورت میں نون کو الف سے بدل لیتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی وہ کعبہ کے قبلہ ہونے کو خوب جانتے ہیں مگر ان کا عباد اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قبلہ کو تسلیم نہیں کریں گے۔2 اور آپ بھی حکم وحی کے پابند ہونے کی وجہ سے ان کے قبلہ کو اختیار نہیں کرسکتے۔ (شوکانی)3 اور ان کے باہمی عباد کا یہ حال ہے کہ وہ ایک دوسرے کے قبلہ کو پسند نہیں کرتے۔ یہود صخرہ کی طرف رخ کرتے ہیں اور نصاری بیت المقدس کی مشرق جانب کی طرف۔ (قرطبی)4 اس کے مخاطب تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں مگر مراد امت ہے اگر ایک شخص علم دین ہو کر اہل بد عت وہوی کی پیرعی کرتا ہے تو اس پر بھی عتاب ہے ( ابن کثیر۔ قرطبی) پھر کیا حال ہوگا ان علماء کا جو اہل بدعت کی مخالفت کی بجائے ا ان کی محفلوں (عیدمیلاد النبی، تعزیہ وغیرہ کے جلوس) میں شریک ہوتے ہیں۔ (المنار)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ آپ کا ظالم ہونا بوجہ معصوم ہونے کے محال ہے اس لیے یہ امر کہ آپ ان کے خیالات کو کہ منجملہ ان کے ان کا قبلہ بھی ہے قبول کرلیں محال ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وہ کسی بھی دلیل سے مطمئن نہی ہوسکتے ۔ ان کے ہاں فہم دلیل کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ اگر وہاں کسی چیز کی کمی ہے تو وہ اخلاص ہے ۔ وہ ہوائے نفس کے بندے ہیں اور باجود علم کے ان میں حق وصداقت کے تسلیم کرنے کی استعداد نہیں ہے : وَلَئِنْ أَتَيْتَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ بِكُلِّ آيَةٍ مَا تَبِعُوا قِبْلَتَكَ ” تم ان اہل کتاب کے سامنے چاہے کوئی دلیل پیش کرو ، ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں ۔ “ ان کی نکیل ہوائے نفس کے ہاتھ میں ہے ۔ دنیاوی مصالح انہیں ہانکے لے جارہے ہیں اور ذاتی اغراض ان کے لئے حدی خواں ہیں ۔ مخلصین میں سے بیشمار لوگ اب بھی ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ یہود ونصاریٰ اسلام کو اس لئے قبول نہیں کرتے کہ انہیں اسلام کا صحیح علم نہیں ہے ۔ یا ان کے سامنے اطمینان بخش طریقے سے ، اسلام پیش ہی نہیں کیا گیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ محض ایک وہم ہے وہ تو اسلام قبول ہی اس لئے نہیں کرتے کہ انہیں اس کا صحیح صحیح علم ہے ! اور وہ جانتے ہیں کہ اسلام ان کے مفادات کے سراسر خلاف ہے ۔ وہ جانتے ہیں کہ اس میں ان کے لئے قیادت وسیادت کا کوئی مقام نہیں ہے ۔ یہی سبب ہے کہ وہ اسلام کے خلاف مسلسل بلاانقطاع سازشیں کرتے چلے جاتے ہیں ، مختلف طریقوں سے ، مختلف وسائل کے ذریعہ ، براہ راست بھی اور بالواسطہ بھی وہ اسلام کے خلاف برسر پیکار ہیں ۔ دوبدو بھی اور پس پردہ بھی ۔ وہ اسلام کے خلاف خود بھی لڑتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کے خلاف لڑنے پر آمادہ اور برانگیختہ کرتے ہیں ۔ غرض ہر شکل میں وہ یہ کام کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو کہا ہے وہ ہر وقت اس کا مصداق ہیں وَلَئِنْ أَتَيْتَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ بِكُلِّ آيَةٍ مَا تَبِعُوا قِبْلَتَكَ ” تم اہل کتاب کے سامنے چاہے کوئی دلیل پیش کرو ، ممکن نہیں کہ وہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں۔ “ اہل کتاب کا حال تو یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے قبلہ اور اسلامی نظام زندگی سے مسلسل اعراض کرتے چلے آتے ہیں ۔ جس کے اشارات اس قبلے میں واضح طور پر نظر آتے ہیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے اس موقف کے مقابلے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حلقہ بگوشان اسلام کا موقف کیا ہے ؟ وَمَا أَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ ” اور نہ تمہارے لئے یہ ممکن ہے کہ ان کے قبلے کی پیروی کرو “ قدرتی طور پر یہ درست موقف ہے۔ یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان کے خلاف ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی صورت میں ان کے قبلے کی پیروی کریں ، یہاں قرآن نے یہ انداز بیان اختیار کیا ” اور آپ بھی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہیں “ یعنی جملہ اسمیہ منفیہ اور یہ نہیں کہا کہ ” آپ ان کے قبلے کی پیروی نہیں کرتے “ کیونکہ پہلے فقرے کے ذریعے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مستقل شان اور اس معاملے میں اپنے موقف سے ڈٹا رہنے کا اظہار اچھی طرح ہوتا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اس امت مسلمہ کو بھی واضح اشارہ مل جاتا ہے کہ وہ اپنے رسول کے اختیار کردہ قبلے کو ہرگز ترک نہ کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ اپنے رسول کی خواہش اور دلجوئی کی خاطر تمہارے لئے پسند کیا ہے ۔ وہ اس ربانی جھنڈے کے سوا کوئی علم بلند نہ کرے ، وہ اسلامی نظام حیات کے علاوہ کسی دوسرے نظام کی پیروی نہ کرے ، جس کی طرف تحویل قبلہ میں اشارات موجود ہیں ۔ جب تک وہ امت ، امت مسلمہ ہے اسے یہی طرز عمل اختیار کرنا چاہئے ۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو پھر اس کا اسلام سے کوئی واسطہ اور تعلق نہ رہے گا ۔ اس کا اسلام محض دعوائے اسلام رہ جائے گا۔ تحویل قبلہ کی مناسبت سے بتایا جاتا ہے کہ خود اہل کتاب کے مابین بھی قبلے کے معاملے میں شدید اختلاف رائے پہلے سے موجود ہے ۔ وہ بھی باہم متفق نہیں ہیں کیونکہ ان کی خواہشات نفس بھی مختلف ہیں وَمَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ ” اور ان میں سے کوئی گروہ بھی دوسرے گروہ کے قبلے کی پیروی کے لئے تیار نہیں ۔ “ یہود ونصاریٰ کے درمیان عداوت ہے ، مختلف یہودی فرقے بھی ایک دوسرے کے مخالف ہیں ۔ پھر مختلف نصرانی فرقے بھی باہم برسرپیکار ہیں ۔ جب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اہل کتاب کی یہ عداوت ہے اور آپ پر اللہ کی طرف سے سچائی نازل بھی ہوگئی ہے تو پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے یہ کیونکر درست ہوسکتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی خواہشات نفس کی پیروی کریں جب آپ کے پاس اللہ کی جانب سے علم آچکا ہے : وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ إِنَّكَ إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ ” اور اگر تم نے اس علم کے بعد ، جو تمہارے پاس آچکا ہے ، ان کی خواہشات کی پیروی کی تویقیناً تمہارا شمار ظالموں میں سے ہوگا۔ “ اس سے پہلے اندازِکلام نہایت نرم اور مشفقانہ تھا ، لیکن یہاں آکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ خطاب خداوندی یکایک کچھ سخت ہوجاتا ہے ۔ اندازکلام میں قطعی سنجیدگی پیدا ہوجاتی ہے ۔ یہ کیوں ؟ اس لئے کہ اب بات عمل و استقامت کی ہے ۔ معاملہ ہدایات پر عمل کرنے کا ہے ۔ چناچہ دوٹوک الفاظ میں متنبہ کیا جاتا ہے ۔ إِنَّكَ إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ ” تویقیناً تمہارا شمار ظالموں میں ہوگا۔ “ راہ واضح ہے ۔ صراط مستقیم سامنے ہے ۔ علم وہ ہے جو اللہ کی جانب سے ہو ۔ اس کے سوا دوسرے ذرائع سے صرف ہوائے نفس ہی حاصل ہوتی ہے ۔ مسلمان کا فرض ہے کہ وہ علم یقین حاصل کرے ۔ بدلنے والے اور خواہش نفسانیہ پر مبنی مشکوک ذرائع علم کے مقابلے میں علم حقیقی کو ترک نہ کرے ۔ اس میں شک نہیں ہے کہ جو علم وحی پر مبنی نہ ہو وہ ہوائے نفس کے سوا کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ یہودیوں کے منظم پروپیگنڈہ اور گمراہ کن وسوسہ اندازیوں کے نتیجے میں ، مدینہ طیبہ کے اندر بعض مسلمانوں کی ذہنی کیفیت ایسی ہوگئی تھی کہ ان کے لئے اس قسم کی قطعی تعبیر کی ضرورت تھی ۔ ان کو ڈرانا مناسب تھا۔ زجر وتوبیخ کا انداز مناسب تھا ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہود و نصاری کی ضد اور عناد کا مزید تذکرہ اس آیت شریفہ میں یہود و نصاری کے عناد اور ضد کو مزید واضح کرکے بیان فرمایا اور صاف طور پر بتادیا کہ ان لوگوں سے قبول حق کی کوئی امید نہیں۔ انہوں نے جو آپ کے قبلہ کو قبول نہیں کیا تو یہ کسی دلیل کی وجہ سے نہیں ہے۔ یہ لوگ صرف مخالفت اور عناد اور مکابرہ پر تلے ہوئے ہیں۔ آپ دلیلیں پیش کردیں۔ انہیں آپ کی موافقت کرنا نہیں ہے۔ نہ وہ آپ کے قبلہ کا اتباع کریں گے اور نہ ہی آپ ان کے قبلہ کا اتباع کرنے والے ہیں۔ اہل کتاب نے دھوکہ دینے کے لیے کہا تھا۔ یا محمد عُدْ الی قبلتنا نومن بک ونتبعک (کہ اے محمد ! ہمارے قبلہ کی طرف واپس آجاؤ۔ ہم تم پر ایمان لے آئیں گے اور تمہارے قبلہ کا اتباع کرلیں گے) ۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں طرف کی امید کو ختم فرما دیا کہ نہ وہ آپ کے قبلہ کا اتباع کریں گے اور نہ آپ ان کے قبلہ کی طرف متوجہ ہوں گے۔ یہود کا قبلہ بیت المقدس ہے۔ اور نصاری نے اپنا قبلہ جہت مشرق کو تجویز کرلیا تھا۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے رفع الی السماء تک کبھی بھی مشرق کی طرف نماز نہیں پڑھی ان کا قبلہ وہی تھا جو بنی اسرائیل کا قبلہ تھا یعنی بیت المقدس۔ (روح المعانی ص ١١ ج ٢) پھر یہ فرمایا (وَ مَا بَعْضُھُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَۃَ بَعْضٍ ) (اہل کتاب یہود و نصاری آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کا اتباع کرنے والے نہیں ہیں) صاحب روح المعانی ص ١٢ ج ٢) لکھتے ہیں کہ اس میں یہود و نصاری کے الحاد اور تصلب فی الہویٰ کو بیان فرمایا ہے مطلب یہ کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی یہ مخالفت اور عناد صرف آپ ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے خود آپس میں بھی ان کی مخالفت اور عناد کا یہی حال ہے۔ آخر میں فرمایا (وَ لَءِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآءَ ھُمْ مِّنْم بَعْدِ مَا جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ اِنَّکَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ ) جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پاس کے اللہ کی طرف سے علم آگیا اور یہ یقین ہے کہ یہ صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے اور یہ معلوم ہوگیا کہ یہ لوگ خواہشوں کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں۔ انہیں حق قبول کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔ لہٰذا بالفرض اگر آپ نے ان کی خواہشوں کا اتباع کرلیا تو آپ ان لوگوں میں شمار ہوجائیں گے جو ظلم کرنے والے اور حق کو چھوڑ کر ناحق کی طرف جانے والے ہیں اس طرز بیان میں اتباع ہویٰ سے بچنے کی بہت زیادہ تاکید ہے اور یہ بتایا ہے کہ حضرات انبیاء (علیہ السلام) سے گناہ صادر ہونا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ اتباع ہویٰ اور ارتکاب گناہ ظالموں کا شیوہ ہے۔ اور حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) ہر ظلم سے محفوظ اور معصوم ہیں۔ (روح المعانی ١٢ ج ١)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

280 یہاں بھی اہل کتاب کی ضد وعناد کا بیان ہے یعنی اس کے باوجود کہ یہ لوگ تحویل قبلہ کے حق ہونے کو جانتے ہیں مگر ضدوعناد اور حسد کی وجہ سے اپنا قبلہ چھوڑ کر آپ کا اتباع نہیں کریں گے۔ اگرچہ آپ تحویل قبلہ کی حقیت کے تمام دلائل ان کے سامنے پیش کردیں۔ وَمَآ اَنْتَ بِتَابِــعٍ قِبْلَتَهُمْ ۔ اہل کتابحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دھوکہ دینے کے لیے کہتے تھے کہ اے محمد پھر سے بیت المقدس کو اپنا قبلہ مان لے تو ہم تجھے نبی مان لیں گے اور تیرا اتباع کریں گے (روح ص 11 ج 2) تو اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی اس آرزو کو ختم کردیا کہ یہ امر محال ہے کہ تو اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے قبلہ کو دوبارہ قبول کرلے اس لیے انہیں اس قسم کی کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ وَمَا بَعْضُهُمْ بِتَابِــعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ ۔ یعنی اہل کتاب کی ضدوعناد اور بغض وحسد کا معاملہ کوئی آپ کے ساتھ ہی مخصوص نہیں۔ یہ لوگ تو آپس میں بھی ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور ان میں آپس میں بھی بغض وحسد کی آگ شعلہ زن ہے۔ چناچہ یہود ونصاریٰ آپس میں بھی ایک دوسرے کا قبلہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہود، نصاریٰ کے دین اور قبلہ کو غلط سمجھتے ہیں اور نصاریٰ یہود کے دین اور قبلہ کو یہودیوں کا قبلہ بیت المقدس اور عیسائیوں کا قبلہ مشرق کی سمت تھی۔ فالیھود تستقبل بیت المقدس والنصاری مطلع الشمس (مدارک ص 64 ج 1)281 آیت میں خطاب آنحضرت سے ہے۔ آپ کی خواہش تھی کہ قبلہ کے معاملہ میں فی الحال یہود سے موافقت رہے اس سے شاید ان کے دل دین اسلام کی طرف مائل ہوجائیں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے بطور زجر فرمایا۔ اگر بفرض محال آپ ان کی خواہشات کا اتباع کرنے لگے تو آپ کا شمار ظالموں میں ہوگا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خواہشات نفس کا اتباع کرینگے تو آپ کا شمار بھی اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں میں ہوگا۔ خواہشات نفس سے مراد اہل باطل کا دین ہے۔ کیونکہ وہ ان کی نفسانی خواہشات اور خود ساختہ آرزؤوں ہی کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس سے مسلمانوں اور خصوصاً ان علماء کو عبرت حاصل کرنی چاہئے جو رواداری کے جنون میں مشرکین اور اہل باطل کے بعض مشرکانہ اور جاہلانہ عقائد و اعمال کی تحسین کر بیٹھتے ہیں۔ یا کم از کم مداہنت سے کام لیتے ہوئے خاموش ہوجاتے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi