Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 150

سورة البقرة

وَ مِنۡ حَیۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡہَکَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ؕ وَ حَیۡثُ مَا کُنۡتُمۡ فَوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ شَطۡرَہٗ ۙ لِئَلَّا یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَیۡکُمۡ حُجَّۃٌ ٭ۙ اِلَّا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡہُمۡ ٭ فَلَا تَخۡشَوۡہُمۡ وَ اخۡشَوۡنِیۡ ٭ وَ لِاُتِمَّ نِعۡمَتِیۡ عَلَیۡکُمۡ وَ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۵۰﴾ۙۛ

And from wherever you go out [for prayer], turn your face toward al-Masjid al-Haram. And wherever you [believers] may be, turn your faces toward it in order that the people will not have any argument against you, except for those of them who commit wrong; so fear them not but fear Me. And [it is] so I may complete My favor upon you and that you may be guided.

اور جس جگہ سے آپ نکلیں اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور جہاں کہیں تم ہو اپنے چہرے اسی طرف کیا کرو تاکہ لوگوں کی کوئی حجت تم پر باقی نہ رہ جائے سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ان میں سے ظلم کیا ہے تم ان سے نہ ڈرو مجھ ہی سے ڈرو اور تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور اس لئے بھی کہ تم راہ راست پاؤ ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّواْ وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ ... And from wheresoever you start forth (for prayers), turn your face in the direction of Al-Masjid Al-Haram (at Makkah), and wheresoever you are, turn your faces towards it (when you pray), The Arab disbelievers had no more argument concerning the Prophet's Qiblah after Allah commanded the Prophet to face the Qiblah of Ibrahim, which is more respected and honored, rather than the Qiblah of the Jews. The Arabs used to honor the Ka`bah and liked the fact that the Messenger was commanded to face it. The Wisdom behind abrogating the Previous Qiblah Allah said: ... لِيَلَّ يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ ... ...so that men may have no argument against you, Therefore, the People of the Book knew from the description of the Muslim Ummah that they would be ordered to face the Ka`bah. If the Muslims did not fit this description, the Jews would have used this fact against the Muslims. If the Muslims had remained on the Qiblah of Bayt Al-Maqdis, which was also the Qiblah of the Jews, this fact could have been used as the basis of argument by the Jews against other people. Allah's Statement: ... إِلاَّ الَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنْهُمْ ... ...except those of them that are wrongdoers, indicates the Mushrikin (polytheists) of Quraysh. The reasoning of these unjust persons was the unsound statement: "This man (Muhammad) claims that he follows the religion of Ibrahim! Hence, if his facing Bayt Al-Maqdis was a part of the religion of Ibrahim, why did he change it?" The answer to this question is that Allah has chosen His Prophet to face Bayt Al-Maqdis first for certain wisdom, and he obeyed Allah regarding this command. Then, Allah changed the Qiblah to the Qiblah of Ibrahim, which is the Ka`bah, and he also obeyed Allah in this command. He, obeys Allah in all cases and never engages in the defiance of Allah even for an instant, and his Ummah imitates him in this. Allah said: ... فَلَ تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي ... ...so fear them not, but fear Me! meaning: `Do not fear the doubts that the unjust, stubborn persons raise and fear Me Alone.' Indeed, Allah Alone deserves to be feared. Allah said: ... وَلاُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ ... ...so that I may complete My blessings on you. This Ayah relates to Allah's statement: لِيَلَّ يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ (...so that men may have no argument against you), meaning: I will perfect My bounty on you by legislating for you to face the Ka`bah, so that the (Islamic) Shariah (law) is complete in every respect. Allah said: ... وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ...that you may be guided. meaning: `To be directed and guided to what the nations have been led astray from, We have guided you to it and preferred you with it.' This is why this Ummah is the best and most honored nation ever.

پہلے حکم میں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طلب کا اور پھر اس کی قبولیت کا ذکر ہے اور دوسرے حکم میں اس بات کا بیان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ چاہت بھی ہماری چاہت کے مطابق تھی اور حق امر یہی تھا اور تیسرے حکم میں یہودیوں کی حجت کا جواب ہے کہ ان کی کتابوں میں پہلے سے موجود تھا کہ آپ کا قبلہ کعبہ ہو گا تو اس حکم سے وہ پیشینگوئی بھی پوری ہوئی ۔ ساتھ ہی مشرکین کی حجت بھی ختم ہوئی کہ وہ کعبہ کو متبرک اور مشرف مانتے تھے اور اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ بھی اسی کی طرف ہو گئی رازی وغیرہ نے اس حکم کو بار بار لانے کی حکمتوں کو بخوبی تفصیل سے بیان کیا ہے واللہ اعلم ۔ پھر فرمایا تا کہ اہل کتاب کوئی حجت تم پر باقی نہ رہے وہ جانتے تھے کہ امت کی طرح پہچان کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتا ہے جب وہ یہ صفت نہ پائیں گے تو انہیں شک کی گنجائش ہو سکتی ہے لیکن جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قبلہ کی طرف پھرتے ہوئے دیکھ لیا تو اب انہیں کسی طرح کا شک نہ رہنا چاہئے اور یہ بات بھی ہے کہ جب وہ تمہیں اپنے قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے ہوئے دیکھیں گے تو ان کے ہاتھ ایک بہانہ لگ جائے گا لیکن جب تم ابراہیمی قبلہ کی طرف متوجہ ہو جاؤ گے تو وہ خالی ہاتھ رہ جائیں گے ، حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں یہود کی یہ حجت تھی کہ آج یہ ہمارے قبلہ کی طرف ہیں یعنی ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرتے ہیں کل ہمارا مذہب بھی مان لیں گے لیکن جب اپنے اللہ کے حکم سے اصلی قبلہ اختیار کر لیا تو ان کی اس ہوس پر پانی پڑ گیا پھر فرمایا مگر جو ان میں سے ظالم اور ضدی مشرکین بطور اعتراض کہتے تھے کہ یہ شخص ملت ابراہیمی پر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور پھر ابراہیمی قبلہ کی طرف نماز نہیں پڑھتا انہیں جواب بھی مل گیا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے احکام کا متبع ہے پہلے ہم نے اپنی کمال حکمت سے انہیں بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا جسے وہ بجا لائے پھر ابراہیمی قبلہ کی طرف پھر جانے کو کہا جسے جان و دل سے بجا لائے پس آپ ہر حال میں ہمارے احکام کے ما تحت ہیں ( صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم ) پھر فرمایا ان ظالموں کے شبہ ڈالنے سے تم شک میں نہ پڑو ان باغیوں کی سرکشی سے تم خوف نہ کرو ان کے بےجان اعتراضوں کی مطلق پرواہ نہ کر وہاں میری ذات سے خوف کیا کرو صرف مجھ ہی سے ڈرتے رہا کرو قبلہ بدلنے میں جہاں یہ مصلحت تھی کہ لوگوں کی زبانیں بند ہو جائیں وہاں یہ بھی بات تھی کہ میں چاہتا تھا کہ اپنی نعمت تم پر پوری کر دوں اور قبلہ کی طرح تمہاری تمام شریعت کامل کر دوں اور تمہارے دین کو ہر طرح مکمل کر دوں اور اس میں یہ ایک راز بھی تھا کہ جس قبلہ سے اگلی امتیں بہک گئیں تم اس سے نہ ہٹو ہم نے اس قبلہ کو خصوصیت کے ساتھ تمہیں عطا فرما کر تمہارا شرف اور تمہاری فضیلت و بزرگی تمام امتوں پر ثابت کر دی ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

150۔ 1 قبلہ کی طرف منہ پھیرنے کا حکم تین مرتبہ دوہرایا گیا یا تو اس کی تاکید اور اہمیت واضح کرنے کے لئے یا چونکہ نسخ کا حکم پہلا تجربہ تھا اس لئے ذہنی خلجان دور کرنے کے لئے ضروری تھا کہ اسے بار بار دھرا کر دلوں میں راسخ کردیا جائے۔ ایک علت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مرضی اور خواہش تھی وہاں اسے بیان کیا گیا ہے۔ دوسری علت، ہر اہل ملت اور صاحب دعوت کے لئے ایک مستقل مرکز کا وجود ہے وہاں اسے دہرایا۔ تیسری، علت مخالفین کے اعتراضات کا ازالہ ہے وہاں اسے بیان کیا گیا ہے (فتح القدیر) 150۔ 2 یعنی اہل کتاب یہ نہ کہہ سکیں کہ ہماری کتابوں میں تو ان کا قبلہ خانہ کعبہ ہے اور نماز یہ بیت المقدس کی طرف پڑھتے ہیں۔ 150۔ 3 یہاں ظَلَمُوْا سے مراد عناد رکھنے والے ہیں یعنی اہل کتب میں سے جو عناد رکھنے والے ہیں، وہ جاننے کے باوجود کہ پیغمبر آخری الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قبلہ خانہ کعبہ ہی ہوگا، وہ بطور عناد کہیں گے کہ بیت المقدس کے بجائے خانہ کعبہ کو اپنا قبلہ بنا کر یہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلآخر اپنے آبائی دین ہی کی طرف مائل ہوگیا ہے اور بعض کے نزدیک اس سے مراد مشرکین مکہ ہیں۔ 150۔ 4 ظالموں سے نہ ڈرو۔ یعنی مشرکوں کی باتوں کی پروا مت کرو۔ انہوں نے کہا تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارا قبلہ تو اختیار کرلیا، عنقریب ہمارا دین بھی اپنا لیں گے مجھ سے ڈرتے رہو، جو حکم میں دیتا ہوں اس کا بلا خوف عمل کرتے رہو۔ تحویل قبلہ کو اتمام نعمت اور ہدایت یافتگی سے تعبیر فرمایا کہ حکم الہی پر عمل کرنا یقینا انسان کو انعام و اکرام کا مستحق بھی بناتا ہے اور ہدایت کی کی توفیق بھی اسے نصیب ہوتی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٨٦] اس آیت کو مکرر اور سہ کرر لایا گیا ہے۔ کیونکہ اس کی وجوہ الگ الگ ہیں۔ مثلاً آیت (قَدْ نَرَیٰ تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِیْ السَّمَاء) سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رضا اور اظہار کی تکریم کی خاطر تحویل قبلہ کا حکم دیا، اور آیت ( وَلِكُلٍّ وِّجْهَةٌ ھُوَ مُوَلِّيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ ٌ ١٤٨۔ ) 2 ۔ البقرة :148) میں یہ ارشاد فرمایا، تحویل قبلہ کے مسئلہ پر جھگڑے کھڑے کرنا درست نہیں۔ اصل کام تو نیک کاموں کی طرف پیش قدمی ہے اور آیت (لِئَلَّا يَكُوْنَ للنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّــةٌ ١٥٠؀ڒ) 2 ۔ البقرة :150) میں یہ واضح فرمایا کہ لوگوں کو تم مسلمانوں سے جھگڑنے کا موقع باقی نہ رہے، وہ یوں کہ تحویل قبلہ سے بیشتر یہودی مسلمانوں سے یہ کہتے تھے کہ ہمارا دین تو نہیں مانتے لیکن نماز ہمارے ہی قبلہ کی طرف پڑھتے ہیں اور مشرکین مکہ یہ اعتراض کرتے کہ دعویٰ تو ابراہیم (علیہ السلام) کے طریق پر چلنے کا کرتے ہیں مگر ان کا قبلہ چھوڑ دیا ہے۔ [ ١٨٧] بےانصاف یا ہٹ دھرم لوگ تحویل قبلہ کے بعد بھی اعتراض چھوڑیں گے نہیں۔ مثلاً یہود نے یہ اعتراض کردیا کہ ہمارے قبلہ کی حقانیت ظاہر ہونے اور اسے تسلیم کرلینے کے بعد اب محض ضد اور حسد کی بنا پر اسے چھوڑ دیا اور مشرک یہ کہنے لگے کہ ہمارے قبلہ کا حق ہونا انہیں اب معلوم ہوا تو اسے اختیار کرلیا۔ اسی طرح ہماری اور بھی کئی باتیں منظور کرلیں گے۔ لہذا اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! تم ان لوگوں کی باتوں کی طرف توجہ نہ دو نہ ان سے ڈرنے کی ضرورت ہے، بلکہ صرف مجھ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔ [ ١٨٨] نعمت سے مراد وہی امامت اور پیشوائی کی نعمت ہے جو بنی اسرائیل سے سلب کر کے اس امت کو دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ فرما رہے ہیں کہ تحویل قبلہ کا یہ حکم دراصل اس منصب پر تمہاری سرفرازی کی علامت ہے۔ جب تک میری اطاعت کرتے رہو گے، یہ منصب تمہارے پاس رہے گا۔ اور نافرمانی کی صورت میں یہ چھن بھی سکتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اس آیت میں پچھلا حکم دہرایا گیا ہے، پہلے جملے ” فَوَلِّ وَجْهَكَ “ میں مخاطب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور دوسرے جملے ” فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَهٗ ۙ“ میں تمام مسلمان مخاطب ہیں، تاکہ یہ حکم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ خاص نہ سمجھا جائے۔ دہرانے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہاں بیت اللہ کو قبلہ مقرر کرنے کی مزید حکمتیں بیان کرنا مقصود ہے۔ جن میں سے پہلی حکمت یہ ہے کہ لوگوں میں سے کسی کے پاس تمہارے خلاف کوئی دلیل باقی نہ رہے۔ اہل کتاب یہ نہ کہہ سکیں کہ پہلی کتابوں میں تو آخری نبی کا قبلہ مسجد حرام ہے، انھوں نے بیت المقدس کو قبلہ کیوں بنا رکھا ہے ؟ اور کفار عرب یہ نہ کہہ سکیں کہ ملت ابراہیم کا قبلہ تو بیت اللہ ہے، یہ اسے کیوں اختیار نہیں کر رہے ؟ دلیل تو ان میں سے کسی کے پاس نہیں رہے گی، البتہ ان میں سے بےانصاف لوگ خاموش نہیں ہوں گے، سو ان سے مت ڈرو، بس مجھی سے ڈرتے رہو۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ جس طرح اس آخری امت کے احکام قیامت تک مکمل اور غیر منسوخ کرکے تم پر اپنی نعمت تمام کی ہے، قبلہ کے بارے میں بھی یہ نعمت تمام ہو اور تیسری حکمت دوسرے احکام کی طرح قبلہ میں بھی تمہیں راہ حق کی ہدایت عطا کرنا ہے۔ شروع آیات سے یہاں تک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم تین مرتبہ، مسلمانوں کو یہ حکم دو مرتبہ، اس کے حق ہونے کا ذکر تین مرتبہ اور ہر جگہ اس کی طرف رخ کرنے کا حکم تین مرتبہ آیا ہے، اس سے اس حکم کی تاکید اور اس کی شان واضح ہو رہی ہے۔ درمیان میں دوسرے جملے مثلاً اہل کتاب کا اس کے حق ہونے کو جاننا اور اللہ کا تمہارے عمل سے بیخبر نہ ہونا وغیرہ تاکید مزید کا کام دے رہے ہیں۔ (ابن عاشور)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۝ ٠ ۭ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَہٗ۝ ٠ ۙ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّــۃٌ۝ ٠ ۤۙ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ۝ ٠ ۤ فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِيْ۝ ٠ ۤ وَلِاُتِمَّ نِعْمَتِىْ عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَہْتَدُوْنَ۝ ١٥٠ ۙۛ شطر شَطْرُ الشیء : نصفه ووسطه . قال تعالی: فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ [ البقرة/ 144] ، أي : جهته ونحوه، وقال : وَحَيْثُ ما كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ [ البقرة/ 150] ، ويقال : شَاطَرْتُهُ شِطَاراً ، أي : ناصفته، وقیل : شَطَرَ بصره، أي : نصّفه، وذلک إذا أخذ ينظر إليك وإلى آخر، وحلب فلان الدّهر أَشْطُرَهُ وأصله في الناقة أن يحلب خلفین، ويترک خلفین، وناقة شَطُورٌ: يبس خلفان من أخلافها، وشاة شَطُورٌ: أحد ضرعيها أكبر من الآخر، وشَطَرَ : إذا أخذ شَطْراً ، أي : ناحية، وصار يعبّر بِالشَّاطِرِ عن البعید، وجمعه : شُطُرٌ ، نحو : أشاقک بين الخلیط الشّطر والشَّاطِرُ أيضا لمن يتباعد عن الحقّ ، وجمعه : شُطَّارٌ. ( ش ط ر ) شطر الشیئ کے اصل معنی نصف یا وسط شے کے ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ [ البقرة/ 144] اور اپنا منہ مسجد حرام یعنی خانہ کعبہ کیطرف پھیر لو ۔ یہاں شطر بمعنی سمت ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ [ البقرة/ 150] نماز کے وقت ) اس مسجد کی طرف منہ کرلیا کرو ۔ شاطرتہ شطارا : آدھا آدھا تقسیم کرلینا ۔ شطر بصرہ اس طرح دیکھنا کہ تمہاری طرف بھی نظر رہے اور دوسرے کی طرف بھی ۔ حلب فلان الدھر اشطرہ اس نے زمانہ کے خیر و شر کو پہچان لیا اصل میں یہ لفظ اونٹنی کے متعلق استعمال ہوتا ہے چناچہ جب کوئی شخص اونٹنی کے اگلی طرف کے تھنوں سے دودھ نکال لے اور پچھلی طرف کے چھوڑ دے تو اس کے متعلق حلب اشطرہ کا محاورہ استعمال ہوتا ہے ۔ اور شطور اس اونٹنی کو کہا جاتا ہے جس کے ایک جانب کے تھن خشک ہوگئے ہوں اور شطور اس بکری کو بھی کہا جاتا ہے جس کا ایک تھن دوسرے سے لمبا ہو ۔ شطر کے معنی ایک جانب ہوجانے کے ہیں ۔ اور شاطر سے مراد وہ شخص ہوتا ہے جو دور رہتا ہو اس کی جمع شطر آتی ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ۔ ( المتقارب ) ( 261 ) اشاقک بین الخلیط الشطر دوستوں میں تجھے رہنے والوں نے اپنا مشتاق بنا لیا ہے ۔ اور شاطر بعید عن الحق کو بھی کہتے ہیں ۔ اور اس کی جمع شطار آتی ہے ۔ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ حجة : الدلالة المبيّنة للمحجّة، أي : المقصد المستقیم الذي يقتضي صحة أحد النقیضین . قال تعالی: قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبالِغَةُ [ الأنعام/ 149] ، وقال : لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا [ البقرة/ 150] ، فجعل ما يحتجّ بها الذین ظلموا مستثنی من الحجة وإن لم يكن حجة، وذلک کقول الشاعر : ولا عيب فيهم غير أنّ سيوفهم ... بهنّ فلول من قراع الکتائب ويجوز أنّه سمّى ما يحتجون به حجة، کقوله تعالی: وَالَّذِينَ يُحَاجُّونَ فِي اللَّهِ مِنْ بَعْدِ ما اسْتُجِيبَ لَهُ حُجَّتُهُمْ داحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الشوری/ 16] ، فسمّى الداحضة حجّة، وقوله تعالی: لا حُجَّةَ بَيْنَنا وَبَيْنَكُمُ [ الشوری/ 15] ، أي : لا احتجاج لظهور البیان، الحجۃ اس دلیل کو کہتے ہیں جو صحیح مقصد کی وضاحت کرے اور نقیضین میں سے ایک کی صحت کی مقتضی ہو ۔ قرآن میں ہے :۔ قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبالِغَةُ [ الأنعام/ 149] کہدو کہ خدا ہی کی حجت غالب ہے ۔ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا [ البقرة/ 150]( یہ تاکید ) اس لئے کی گئی ہے ) کہ لوگ تم کو کسی طرح کا الزام نہ لگا سکیں ۔ مگر ان میں سے جو ظالم ہیں ( وہ الزام دیں تو دیں ۔ اس آیت میں ظالموں کے احتجاج کو حجۃ سے مستثنیٰ کیا ہے گو اصولا وہ حجت میں داخل نہیں ہے ۔ پس یہ استشہاد ایسا ہی ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ( طویل ) (100) ولا عیب فیھم غیر ان سیوفھم بھن للول من قراع الکتاب ان میں صرف یہ عیب پایا جاتا ہے ک لشکروں کے ساتھ لڑنے سے ان کی تلواروں پر دندا نے پڑنے ہوئے ہیں ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے اس احتجاج کو حجت قرار دینا ایسا ہی ہو ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَالَّذِينَ يُحَاجُّونَ فِي اللَّهِ مِنْ بَعْدِ ما اسْتُجِيبَ لَهُ حُجَّتُهُمْ داحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الشوری/ 16] اور جو لوگ خدا کے بارے ) میں بعد اس کے کہ اسے ( مومنوں نے ) مان لیا ہو جھگڑتے ہیں انکے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے ۔ میں ان کے باطل جھگڑے کو حجت قراد دیا گیا ہے اور آیت کریمہ : لا حُجَّةَ بَيْنَنا وَبَيْنَكُمُ [ الشوری/ 15] اور ہم میں اور تم میں کچھ بحث و تکرار نہیں ہے ۔ کے معنی یہ ہیں کہ ظہور بیان کی وجہ سے بحث و تکرار کی ضرورت نہیں ہے ، ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں خشی الخَشْيَة : خوف يشوبه تعظیم، وأكثر ما يكون ذلک عن علم بما يخشی منه، ولذلک خصّ العلماء بها في قوله : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ( خ ش ی ) الخشیۃ ۔ اس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی عظمت کی وجہ سے دل پر طاری ہوجائے ، یہ بات عام طور پر اس چیز کا علم ہونے سے ہوتی ہے جس سے انسان ڈرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ؛۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] اور خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ میں خشیت الہی کے ساتھ علماء کو خاص کیا ہے ۔ تمَ تَمَام الشیء : انتهاؤه إلى حدّ لا يحتاج إلى شيء خارج عنه، والناقص : ما يحتاج إلى شيء خارج عنه . ويقال ذلک للمعدود والممسوح، تقول : عدد تَامٌّ ولیل تام، قال : وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [ الأنعام/ 115] ، وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ [ الصف/ 8] ، وَأَتْمَمْناها بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقاتُ رَبِّهِ [ الأعراف/ 142] . ( ت م م ) تمام الشیء کے معنی کسی چیز کے اس حد تک پہنچ جانے کے ہیں جس کے بعد اسے کسی خارجی شے کی احتیاج باقی نہ رہے اس کی ضد ناقص یعنی وہ جو اپنی ذات کی تکمیل کے لئے ہنور خارج شے کی محتاج ہو اور تمام کا لفظ معدودات کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے اور مقدار وغیرہ پر بھی بولا جاتا ہے مثلا قرآن میں ہے : ۔ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [ الأنعام/ 115] اور تمہارے پروردگار وعدہ پورا ہوا ۔ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ [ الصف/ 8] حالانکہ خدا اپنی روشنی کو پورا کرکے رہے گا ۔ وَأَتْمَمْناها بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقاتُ رَبِّهِ [ الأعراف/ 142] . اور دس ( راتیں ) اور ملا کر اسے پورا ( حیلہ ) کردیا تو اس کے پروردگار کی ۔۔۔۔۔ میعاد پوری ہوگئی ۔ نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م ) النعمۃ اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی حالت کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے : ۔ جلسۃ ورکبۃ وغیرہ ذالک ۔ اور نعمۃ کے معنی تنعم یعنی آرام و آسائش کے ہیں اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو مرۃ ہے جو مرۃ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے : ۔ ضر بۃ وشتمۃ اور نعمۃ کا لفظ اسم جنس ہے جو قلیل وکثیر کیلئے استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو ۔ لعل لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] ( لعل ) لعل ( حرف ) یہ طمع اور اشفاق ( دڑتے ہوئے چاہنے ) کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطیعت آجاتی ہے اس بنا پر بہت سی آیات میں لفظ کی سے اس کی تفسیر کی گئی ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشے کے معنی صحیح نہیں ہیں ۔ اور گو لعل کے معنی توقع اور امید کے ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا تعلق مخاطب سے ہوتا ہے اور کبھی متکلم سے اور کبھی ان دونوں کے علاوہ کسی تیسرے شخص سے ہوتا ہے ۔ لہذا آیت کریمہ : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] تاکہ ہم ان جادو گروں کے پیرو ہوجائیں ۔ میں توقع کا تعلق قوم فرعون سے ہے ۔ اهْتِدَاءُ يختصّ بما يتحرّاه الإنسان علی طریق الاختیار، إمّا في الأمور الدّنيويّة، أو الأخرويّة قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] ، وقال : إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ لا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا[ النساء/ 98] ويقال ذلک لطلب الهداية نحو : وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 53] ، وقال : فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 150] ، فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا [ آل عمران/ 20] ، فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ ما آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا [ البقرة/ 137] . ويقال المُهْتَدِي لمن يقتدي بعالم نحو : أَوَلَوْ كانَ آباؤُهُمْ لا يَعْلَمُونَ شَيْئاً وَلا يَهْتَدُونَ [ المائدة/ 104] تنبيها أنهم لا يعلمون بأنفسهم ولا يقتدون بعالم، وقوله : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ إِنَّما أَنَا مِنَ الْمُنْذِرِينَ [ النمل/ 92] فإن الِاهْتِدَاءَ هاهنا يتناول وجوه الاهتداء من طلب الهداية، ومن الاقتداء، ومن تحرّيها، وکذا قوله : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لا يَهْتَدُونَ [ النمل/ 24] وقوله : وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صالِحاً ثُمَّ اهْتَدى [ طه/ 82] فمعناه : ثم أدام طلب الهداية، ولم يفترّ عن تحرّيه، ولم يرجع إلى المعصية . وقوله : الَّذِينَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ إلى قوله : وَأُولئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ [ البقرة/ 157] أي : الذین تحرّوا هدایته وقبلوها وعملوا بها، وقال مخبرا عنهم : وَقالُوا يا أَيُّهَا السَّاحِرُ ادْعُ لَنا رَبَّكَ بِما عَهِدَ عِنْدَكَ إِنَّنا لَمُهْتَدُونَ [ الزخرف/ 49] . الاھتداء ( ہدایت پانا ) کا لفظ خاص کر اس ہدایت پر بولا جاتا ہے جو دینوی یا اخروی کے متعلق انسان اپنے اختیار سے حاصل کرتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور در یاؤ کے اندھیروں میں ان سے رستہ معلوم کرو ۔ إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ لا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا[ النساء/ 98] اور عورتیں اور بچے بےبس ہیں کہ نہ تو کوئی چارہ کرسکتے ہیں اور نہ رستہ جانتے ہیں ۔ لیکن کبھی اھتداء کے معنی طلب ہدایت بھی آتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 53] اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزے عنایت کئے تاکہ تم ہدایت حاصل کرو ۔ فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 150] سو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا اور یہ بھی مقصود ہے کہ میں تم کو اپنی تمام نعمتیں بخشوں اور یہ بھی کہ تم راہ راست پر چلو ۔ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا [ آل عمران/ 20] اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو بیشک ہدایت پالیں ۔ فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ ما آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا [ البقرة/ 137] . تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہوجائیں ۔ المھتدی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی عالم کی اقتدا کر رہا ہے ہو چناچہ آیت : ۔ أَوَلَوْ كانَ آباؤُهُمْ لا يَعْلَمُونَ شَيْئاً وَلا يَهْتَدُونَ [ المائدة/ 104] بھلا اگر ان کے باپ دادا نہ تو کچھ جانتے ہوں اور نہ کسی کی پیروی کرتے ہوں ۔ میں تنبیہ کی گئی ہے کہ نہ وہ خود عالم تھے اور نہ ہی کسی عالم کی اقتداء کرتے تھے ۔ اور آیت : ۔ فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ إِنَّما أَنَا مِنَ الْمُنْذِرِينَ [ النمل/ 92] تو جو کوئی ہدایت حاصل کرے تو ہدایت سے اپنے ہی حق میں بھلائی کرتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو گمراہی سے اپنا ہی نقصان کرتا ہے ۔ میں اھتداء کا لفظ طلب ہدایت اقتدا اور تحری ہدایت تینوں کو شامل ہے اس طرح آیت : ۔ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لا يَهْتَدُونَ [ النمل/ 24] اور شیطان نے ان کے اعمال انہین آراستہ کر کے دکھائے ہیں اور ان کو رستے سے روک رکھا ہے پس وہ رستے پر نہیں آتے ۔ میں بھی سے تینوں قسم کی ہدایت کی نفی کی گئی ہے اور آیت : ۔ وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صالِحاً ثُمَّ اهْتَدى [ طه/ 82] اور جو توبہ کرلے اور ایمان لائے اور عمل نیک کرے پھر سیدھے راستہ پر چلے اس کو میں بخش دینے والا ہوں ۔ میں اھتدی کے معنی لگاتار ہدایت طلب کرنے اور اس میں سستی نہ کرنے اور دوبارہ معصیت کی طرف رجوع نہ کرنے کے ہیں ۔ اور آیت : ۔ الَّذِينَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ إلى قوله : وَأُولئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ«1» [ البقرة/ 157] اور یہی سیدھے راستے ہیں ۔ میں مھتدون سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت الہیٰ کو قبول کیا اور اس کے حصول کے لئے کوشش کی اور اس کے مطابق عمل بھی کیا چناچہ انہی لوگوں کے متعلق فرمایا ۔ وَقالُوا يا أَيُّهَا السَّاحِرُ ادْعُ لَنا رَبَّكَ بِما عَهِدَ عِنْدَكَ إِنَّنا لَمُهْتَدُونَ [ الزخرف/ 49] اے جادو گر اس عہد کے مطابق جو تیرے پروردگار نے تجھ سے کر رکھا ہے اس سے دعا کر بیشک

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے : لئلا یکون للناس علیکم جحۃ الا الذین ظلموا منھم ( تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ ملے۔ ہاں جو ظالم ہیں ان کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی) اس آیت سے بعض لوگوں نے ایسے استثناء کے جواز کے لیے استدلال کیا ہے جس میں مستثنیٰ مستثنیٰ منہ کی جنس میں سے نہ ہو۔ آیت میں مذکورہ استثناء کے بارے میں اہل لغت کے مابین اختلاف رائے ہے۔ بعض کے خیال میں یہ استثنائے منقطع ہے اور آیت کے معنی ہیں لیکن ان میں سے جو ظالم ہیں وہ شبہ کے ساتھ اپنا تعلق جوڑے رکھتے ہیں اور اسے حجت کا درجہ دیتے ہیں جس طرح یہ قول باری ہے۔ مالھم بہ من علم الا اتباع الظن ( اس کے متعلق ) انہیں کوئی علم نہیں ہے لیکن بس اتباع ظن ہے) ۔ نابغہ ذیبانی کا شعر ہے ؎ ولا عیب فیھم غیر ان سیوفھم بھن فلول من قراغ الکتائب (میرے ممدوحین کے اندر اس کے سوا اور کوئی عیب نہیں کہ لشکروں سے ٹکرا ٹکرا کر ان کی تلواروں میں دندانے پڑگئے ہیں) شعر کا مفہوم یہ ہے لیکن ان کی تلواروں میں دندانے پڑگئے ہیں اور یہ کوئی عیب کی بات نہیں ہے۔ ایک اور قول کے مطابق زیر بحث آیت میں مذکورہ لفظ حجت مجادلہ اور محاجہ ( باہمی بحث و مباحثہ اور دلیل بازی) کے معنوں میں ہے۔ گویا آیت کا مفہوم یہ ہے تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف دلیل بازی کا موقعہ نہ ملے۔ ہاں جو ظالم ہیں وہ تو باطل دلائل کا سہارا لیکر تم سے ضرور مباحثہ اور مجادلہ کریں گے۔ ابو عبیدہ کے قول کے مطابق آیت میں مذکورہ حرف ( الا) وائو کے معنوں میں ہے گویا یہ کہا گیا تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ ملے اور نہ ان لوگوں کو ہی جو ظالم ہیں لیکن فراء نحوی اور اکثر اہل لغت نے ابو عبیدہ کی یہ تاویل مسترد کردی ہے فراء نے کہا ہے کہ حرف الا حرف وائو کے معنوں میں صرف اسی وقت آتا ہے جب اس سے پہلے کوئی استثناء گزر چکا ہو۔ مثلاً شاعر کا قول ہے ؎ ما بالمدینۃ دارغیر واحدۃ دارالخلیفۃ الا دارمروان (مدینہ میں خلیفہ اور مروان کے گھروں کے سوا اور کوئی گھر نہیں ہے) یعنی شاعر نے گویا یہ کہا کہ ” مدینہ میں کوئی گھر نہیں ہے، مگر خلیفہ کا گھر اور مروان کا گھر۔ قطرب کے قول کے مطابق آیت کا مفہوم ہے تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ ملے اور صرف ان لوگوں کے خلاف انہیں حجت ملے جو ظالم ہیں۔ بعض نحویوں نے اس تاویل کو بھی مسترد کردیا ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٥٠) اور جس مقام پر بھی ہو خواہ پانی کا علاقہ ہو یا خشکی کا مسجد حرام کی طرف چہرہ کرلو تاکہ اس قبلہ کی تبدیلی میں حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں پر حجت نہ ہو کیوں کہ ان کی کتاب میں ہے کہ حرم محترم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ ہے، لہٰذا جب تم اس کی طرف نماز ادا کرو گے تو ان کے لیے تمہارے خلاف کوئی حجت قائم نہیں ہوگی۔ اور نہ کعب بن اشرف اور اس کے ساتھی اور مشرکین کے لیے کوئی دلیل ہوگی جنہوں نے اپنی باتوں میں حد سے تجاوز کیا ہے قبلہ کی تبدیلی کے بارے میں ان سے خوف نہ کھاؤ بلکہ اس امر کے چھوڑنے پر مجھ سے خوف کھاؤ تاکہ قبلہ کے ذریعہ میں اپنے احسانات تم پر پورے کر دوں، جیسا کہ میں نے دین کو تمہارے لیے کامل ومکمل کردیا اور تاکہ قبلہ ابراہیمی کی طرف تمہیں رہنمائی ہو۔ شان نزول : (آیت) ” ومن حیث خرجت “ (الخ) ابن جریر (رض) نے اپنی سندوں کے ساتھ سدی (رض) کے حوالہ سے روایت کی ہے کہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ” بیت المقدس “ کی طرف نماز پڑھنے کے بعد کعبہ شریف کی طرف تبدیل ہوگئے تو مشرکوں نے اہل مکہ سے کہا کہ العیاذ باللہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے دین کے بارے میں پریشان ہوگئے تو اپنے قبلہ سے تمہارے قبلہ کی جانب متوجہ ہورہے ہیں اور یہ بات انہوں نے سمجھ لی ہے کہ تم ان سے زیادہ سیدھے راستے پر ہو اور وہ عنقریب تمہارا دین قبول کرلیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ” لئلا یکون للناس (الخ) نازل فرمائی یعنی تاکہ تمہارے مقابلے میں باتیں نہ بنائیں۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

دوبارہ فرمایا گیا : آیت ١٥٠ (وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ط) (وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ شَطْرَہٗ لا) تم خواہ امریکہ میں ہو یا روس میں ‘ نماز کے وقت تمہیں بیت اللہ ہی کی طرف رخ کرنا ہوگا۔ (لِءَلاَّ یَکُوْنَ للنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌ لا) یعنی اہل کتاب بالخصوص یہود کے لیے تمہارے خلاف بدگمانی پھیلانے کا کوئی موقع باقی نہ رہ جائے۔ تورات میں مذکور تھا کہ نبی آخر الزماں کا قبلہ خانہ کعبہ ہوگا۔ اگر آنحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ قبلہ اختیار نہ کرتے تو علماء یہود مسلمانوں پر حجت قائم کرتے۔ تو یہ گویا ان کے اوپر اتمام حجت بھی ہو رہا ہے اور قطع عذر بھی۔ (اِلاَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ ق) شریر لوگ اس قطع حجت کے بعد بھی باز آنے والے نہیں اور وہ اعتراض کرنے کے لیے لاکھ حیلے بہانے بنائیں گے ‘ ان کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی۔ (فَلاَ تَخْشَوْہُمْ ) (وَاخْشَوْنِیْ ق) (وَلِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْکُمْ ) یہ جو تحویل قبلہ کا معاملہ ہوا ہے اورٌ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کی بنیاد پر ایک نئی امت تشکیل دی جا رہی ہے ‘ اسے امامت الناس سے سرفراز کیا جا رہا ہے اور وراثت ابراہیمی ( علیہ السلام) اب اسے منتقل ہوگئی ہے ‘ یہ اس لیے ہے تاکہ اے مسلمانو ! میں تم پر اپنی نعمت پوری کر دوں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

150. The followers of the Prophet (peace be upon him) were asked to follow the order to turn towards the Ka'bah, and to do so strictly, since any lapse in this matter on their part would give their opponents a weapon to use against them in their polemics. They would be able to hold Muslims up to ridicule on the grounds that they had voilated what they themselves claimed to be from their Lord. 151. The 'favour' here refers to the position of world leadership and guidance from which God removed the children of israel and which was the conferred upon this ummah. The highest reward that can be granted to a people in recognition of its righteousness is its designation, by God's command, to the leadership of the world in order to guide the entire human race to godliness and righteousness. What is said here, therefore, is that the command to change the qiblah was a sign of installation of the Muslims to leadership. Hence, the Muslims should follow the directives of God if for no other reason than that ingratitude and disobedience might deprive them of the honour that had been bestowed upon them. 152. '...Perhaps you will be guided to the right way' is indicative here of the regal appropriate for God's address to His creatures. The indication from a soverign, while addressing his slave, that the latter could expect some favour from him is quite enough to make that slave rejoice and celebrate.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :150 یعنی ہمارے اس حکم کی پُوری پابندی کرو ۔ کبھی ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی شخص مقررہ سَمْت کے سوا کسی دُوسری سَمْت کی طرف نماز پڑھتے دیکھا جائے ۔ ورنہ تمہارے دُشمنوں کو تم پر یہ اعتراض کرنے کا موقع مل جائے گا کہ کیا خوب اُمّتِ وَسَط ہے ، کیسے اچھے حق پرستی کے گواہ بنے ہیں ، جو یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ یہ حکم ہمارے رب کی طرف سے آیا ہے اور پھر اس کی خلاف ورزی بھی کیے جاتے ہیں ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :151 نعمت سے مُراد وہی امامت اور پیشوائی کی نعمت ہے ، جو بنی اسرائیل سے سَلْب کر کے اس اُمت کو دی گئی تھی ۔ دنیا میں ایک اُمّت کی راست روی کا یہ انتہائی ثمرہ ہے کہ وہ اللہ کے اَمِر تَشْرِیْعِی سے اقوامِ عالم کی رہنما و پیشوا بنائی جائے اور نَوعِ انسانی کو خدا پرستی اور نیکی کے راستے پر چلانے کی خدمت اس کے سپرد کی جائے ۔ یہ منصب جس اُمت کو دیا گیا ، حقیقت میں اس پر اللہ کے فضل و انعام کی تکمیل ہو گئی ۔ اللہ تعالیٰ یہاں یہ فرما رہا ہے کہ تحویلِ قبلہ کا یہ حکم دراصل اس منصب پر تمہاری سرفرازی کا نشان ہے ، لہٰذا تمہیں اس لیے بھی ہمارے اس حکم کی پیروی کرنی چاہیے کہ ناشکری و نافرمانی کرنے سے کہیں یہ منصب تم سے چھین نہ لیا جائے ۔ اس کی پیروی کر و گے ، تو یہ نعمت تم پر مکمل کر دی جائے گی ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :152 یعنی اس حکم کی پیروی کرتے ہوئے یہ اُمید رکھو ۔ یہ شاہانہ اندازِ بیان ہے ۔ بادشاہ کا اپنی شان بے نیازی کے ساتھ کسی نوکر سے یہ کہہ دینا کہ ہماری طرف سے فلاں عنایت و مہربانی کے اُمیدوار رہو ، اس بات کے لیے بالکل کافی ہوتا ہے کہ وہ ملازم اپنے گھر شادیانے بجوا دے اور اسے مبارکبادیاں دی جانے لگیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

99: اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بیت المقدس قبلہ تھا، یہودی یہ حجت کرتے تھے کہ دیکھو ہمارا دین برحق ہے، اسی لے یہ لوگ ہمارے قبلے کو اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور مشرکین مکہ یہ بحث کرتے تھے کہ مسلمان اپنے آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا متبع کہتے ہیں مگر انہوں نے ابراہیمی قبلے کو چھوڑکر ان سے سنگین انحراف کرلیا ہے، اب جبکہ قبلے کی تبدیلی میں جو مصلحت تھی وہ حاصل ہوگئی اور اس کے بعد مسلمان ہمیشہ کے لئے کعبے کو قبلہ قراردے کر اس پر عمل پیرا ہوں گے توان دونوں کی حجتیں ختم ہوجائیں گی، البتہ وہ کٹ حجت لوگ جنہوں نے اعتراض کرتے رہنے کی قسم ہی کھا رکھی ہے ان کی زبانیں کوئی نہیں روک سکتا ؛ لیکن مسلمانوں کو ان سے خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے، انہیں اللہ کے سوا کسی سے ڈرنا نہیں چاہئے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:150) تولیۃ کے تکرار (آیات 144 ۔ 149 ۔ 150) کے متعلق مفسرین نے مختلف حکمتیں لکھی ہیں جو کہ کتب تفسیر میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں لئلا۔ میں لام علت کی ہے۔ یعنی آیات سابقہ میں قبلہ کی طرف منہ کرنے کی بار بار تاکید کی وجہ یہ ہے کہ اہل کتاب کو اعتراض کی کوئی گنجائش نہ رہے۔ الا۔ ان مصدریہ اور لا منفی سے مرکب ہے لئلا یکون تاکہ نہ ہو، یا نہ رہے۔ حجۃ۔ اعتراض۔ دلیل۔ جحج۔ جمع۔ منھم۔ میں من تبعیضیہ ہے ھم ضمیر جمع مذکر غائب الناس کے لئے ہے۔ فلا تخشوھم۔ لا تخشوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر، خشیۃ مصدر باب سمع ۔ تم مت ڈرو۔ ھم ضمیر جمع مذکر غائب۔ الذین ظلموا کی طرف راجع ہے۔ اختونی۔ اخشوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم ، تم مجھ سے ڈرو۔ ولاتم۔ واؤ عاطفہ ہے اگلے جملہ کا عطف جملہ سابقہ لئلا یکون للناس ۔۔ پر ہے، اور (اس سے کہ) میں تم پر اپنا انعام پورا کر دوں) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 مسجد حرام کی طرف متوجہ ہونے کے حکم کا تین بار اعادہ کیا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ یہ چونکہ اسلام میں نسخ ہے اس لیے تکرار برائے تاکید بعض نے لکھا ہے کہ پہلی مرتبہ حکم اس شخص کو ہے جو قبلہ کے سامنے ہو اور دوسری مرتبہ اسے نظر نہ آتا ہو اور رتیسری مرتبہ نسخ قبلہ پر مفر ضین کے اعتراض کو ختم کرنا ہوجیسا کہ لئلایکون للناس علیکم حجتہ سے معلوم ہوتا ہے یعنی اہل کتاب کے لیے اس اعتراض کی گنجائش بھی نہ رہے کی نبی آخرالز مان کا قبلہ تو کعبہ ہوگا اور یہ بیت المقدس کی طرف ہو کر نماز پڑھتے ہیں۔ (کبیر۔ ابن کثیر) 1 حتی کہ استفان کعبہ کا حکم بھی تمام نعمت کے طور پر ہے (المنار)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ بحث قبلہ کے آغاز و انجام کے اتحاد میں اشارہ ہے کہ کعبہ کا ان نبی کی شریعت میں قبلہ مقرر ہونا مقام تعجب نہیں کیونکہ کعبہ بناء ابراہیم ہے اور یہ نبی ابن ابراہیم ہیں اور اس کے بناء کے قبول ہونے کی اور اس کے ابن رسول ہونے کی انہوں نے دعا بھی کی تھی ہم نے ان کی دونوں دعائیں قبول فرمائیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ : پہلے بھی بیان ہوا ہے کہ تحویل قبلہ معمولی اقدام نہیں تھا۔ اس لیے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تیسری مرتبہ اور صحابہ (رض) کو دوسری بار مخاطب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تم نماز کے وقت جہاں کہیں ہوبہر حال اپنے چہروں کو مسجد حرام کی طرف پھیرلو۔ قرآن مجید میں صرف یہی ایسا مسئلہ ہے جس پر عمل درآمد کروانے کے لیے آپ کو تین بار حکم دیا گیا ہے۔ اس تاکید کے باوجود فرمان کے آخر میں مزید حکم دیا ہے کہ لوگوں سے ڈرنے کے بجائے صرف مجھ سے ڈرو۔ کیونکہ آدمی جب اللہ کا ڈر اپنے آپ میں پیدا کرلیتا ہے تو پھر کسی کا خوف اس پر غلبہ نہیں پاسکتا۔ قبول حق اور اس کے ابلاغ کے لیے یہ بات شرط اول کی حیثیت رکھتی ہے کہ انسان صرف اپنے رب سے ڈرتا رہے۔ مسائل ١۔ اللہ ہی سے ڈرنا چاہیے۔ ٢۔ اللہ سے ڈرنے کی وجہ سے نعمتوں کا اتمام اور ہدایت نصیب ہوتی ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم اور اس کا صلہ : ١۔ لوگ اللہ سے ڈرنے کے بجائے لوگوں سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ (النساء : ٧٧) ٢۔ اللہ سے خلوت میں ڈرنے والے کے لیے جنت کی خوشخبری ہے۔ (یٰس : ١١) ٣۔ لوگوں سے ڈرنے کے بجائے اللہ سے ہی ڈرنا چاہیے۔ (آل عمران : ١٧٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

تیسری مرتبہ پھر بالکل ایک جدید غرض کی خاطر ، قبلہ کے معاملے میں تاکید کی جاتی ہے ۔ مسلمان یہودیوں کے قبلے کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے اور یہودی اور دوسرے لوگ اس پر استدلال کرتے تھے کہ ان کا دین مسلمانوں کے دین سے زیادہ افضل ہے ۔ کیونکہ ان کا قبلہ اصل ہے ، لہٰذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا نظام زندگی بھی اصل ہے ۔ اس لئے تحویل قبلہ کے حکم کی تاکید مزید کرکے اس استدلال کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کردیا گیا ۔ (دوسری طرف مشرکین عرب بیت الحرام کو ایک مقدس مقام سمجھتے تھے اور اس کا بےحد احترام کرتے تھے ۔ وہ بھی بیت المقدس کے قبلہ ہونے پر یوں اعتراض کرتے تھے کہ مسلمان تو یہودیوں کے تابع ہیں ۔ انہوں نے اپنے مقدس مقام کو چھوڑ دیا ہے اور بنی اسرائیل کے قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں۔ وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُمَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ لِئَلا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي وَلأتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ” اور جہاں بھی تمہارا گزر ہو ، اپنا رخ مسجد حرام کی طرف پھیرا کرو اور جہاں بھی تم ہو ، اسی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ ملے ۔ ہاں جو ظالم ہیں ان کی زبان کسی حال میں بھی بند نہ ہوگی ۔ تو ان سے تم نہ ڈرو ، بلکہ مجھ سے ڈرو ، اور اس لئے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کردوں ۔ اس توقع پر کہ تم یہ ہدایت و فلاح کا راستہ پالو۔ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا گیا ہے کہ تمہارا گزر جہاں سے بھی ہو ، مسجد حرام کی طرف رخ کرکے نماز پڑھیں ۔ اور مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ جہاں بھی وہ ہوں اپنا منہ بیت اللہ کی طرف پھیر کر نماز پڑھاکریں۔ ارشاد ہوا ! لِئَلا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ” تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف حجت نہ ملے ۔ “ ظالم اپنی بات کرتے ہی رہیں گے ۔ وہ کسی حجت اور کسی دلیل کے آگے نہیں جھکتے ۔ ہدایت ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں کو نظرانداز کردیا جائے ۔ یہ لوگ کٹ حجتی کرتے ہیں اور عناد میں مبتلا ہیں ۔ ایسے لوگوں کو کسی بھی طرح مطمئن نہیں کیا جاسکتا ۔ وہ اپنی حجت بازی جاری رکھیں گے ۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي ” ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو “ ان کو تم پر کوئی اختیار حاصل نہیں ہے ۔ تمہاری زمام کار ان کے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ یہ بات تمہارے شایان شان نہیں ہے کہ تم ان سے ڈر کر ان احکام کو ترک کردو ، جو میری جانب سے تم پر نازل ہوئے ۔ ڈر اور خشیت کے لائق تو میں ہوں ۔ اس لئے کہ تمہاری دنیا وآخرت کے تمام امور میرے ہاتھ میں ہیں ۔ ظالموں کو نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کو اللہ کی پکڑ سے ڈرایا جاتا ہے اور مسلمانوں کو اللہ کے انعام واکرام یاد دلائے جاتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اگر تم نے اپنا رویہ درست رکھا اور احکام خداوند کی اطاعت کی تو نتیجہ یہ ہوگا کہ مزید انعامات کی بارش ہوگی : وَلأتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ” اس لئے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کردوں اس توقع پر کہ تم راہ ہدایت پالو۔ “ غرض یہ ایک یاد دہانی ہے جس میں ایک خاص اشارہ ہے ، ایک بڑھتی ہوئی حوصلہ افزائی ہے ، اور بار بار اللہ کے فضل وکرم کی طرف اشارہ ہے ۔ وہ کیا انعام ہے ؟ وہ تو ان کے ہاتھوں میں ہے ، خود ان کے دل و دماغ گواہ ہیں کہ وہ کیا ہے ؟ ان کی پوری زندگی میں موجود ہے ۔ وہ اپنے موقف اور اپنے معاشرہ میں اسے پاتے ہیں ۔ اس کائنات میں انہوں نے جو مقام اپنے لئے متعین کیا ہے اس میں بھی وہ اس نعمت کو پاتے ہیں ۔ وہ جاہلیت کی جہالتوں اور تاریکیوں میں زندگی بسر کرچکے تھے ۔ وہ اپنی آنکھوں سے جاہلیت کی تاریکیوں کو دیکھ چکے تھے ۔ اس کے بعد انہوں نے خود نور ایمان کو اختیار کیا ۔ پاکیزگی اور طہارت کو اختیار کیا اور علم ومعرفت کو اختیار کیا ۔ اس لئے وہ اپنے دل و دماغ میں اس نعمت کا اثر ہر وقت تروتازہ ، گہرا اور واضح پاتے ہیں ۔ وہ کوتاہ اندیشانہ قبائلی زندگی بسر کرچکے تھے ، گھٹیا مقاصد کے لئے سالہا سال کشت وخون کرتے رہتے تھے ۔ پھر وہ اپنی خوشی سے ایک نظریہ حیات کے جھنڈے تلے جمع ہوگئے ، ایک قوت اور شوکت بن گئے ۔ ان کے مقاصد بلند ہوگئے اور ترجیحات وسیع ہوگئیں ۔ ان کا نقطہ نظر خاندانوں اور قبائل کے محدود دائرے سے بلند ہو کر تمام بشریت کی بنیادوں پر استوار ہوگیا ۔ اور اس نے وسعت اختیار کرلی ۔ اس لئے وہ اپنے اندر اور اپنے ماحول میں انعامات الٰہیہ کا وسیع شعور رکھتے ہیں ۔ اسلام سے پہلے وہ کس مقام پر کھڑے تھے ؟ گراپڑا غلیظ معاشرہ ، افکار پریشان اور زندگی کی اقدار مضطرب ، یعنی جاہلی معاشرہ کے مقابلے میں ۔ انہوں نے خوب سوچ سمجھ کر اسلام کا پاک اور بلند معاشرہ اپنایا ، جس کے نظریات اور عقائد شیشے کی طرح صاف تھے ، جس کی اقدار متوازن تھیں ۔ اس لئے اسلام ان کے لئے ایک نعمت غیر مترقبہ تھا ۔ وہ اپنے مقام کو دیکھ کر محسوس کرتے تھے کہ سرتاپا اسلام کے انعامات وبرکات میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ اس لئے اللہ کا فرمان وَلأتِمَّ نِعْمَتِي ” اس لئے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کردوں “ تو اللہ کی طرف سے ، اس فقرے میں دراصل ایک خفیہ اشارہ ہے ، ایک قسم کی حوصلہ افزائی تھی اور ہے ، ان انعامات واکرامات کی طرف جس کا احساس خود مسلمانوں کو تھا۔ یہاں تحویل قبلہ کے حکم میں تکرار سے کام لیا گیا ہے ۔ لیکن اس تکرار میں ہر مرتبہ ایک نیا مفہوم دیا گیا ہے ۔ پہلی مرتبہ کہا گیا کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چونکہ تحویل قبلہ کی خواہش رکھتے تھے ۔ اس خواہش کا انداز بیان باادب خموشی تھا۔ آپ بار بار آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھتے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے تحویل قبلہ منظور فرمالیا۔ دوسری مرتبہ کہا گیا کہ اگرچہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طلب اور خواہش بھی تھی ، لیکن حکم اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اور عین حق ہے ۔ تیسری مرتبہ جو حکم دیا گیا اس میں مسلمانوں کو بتایا گیا کہ تحویل قبلہ کی حکمت کیا ہے ؟ یہ کہ دشمنان اسلام اس سے اپنے دین کی برتری کے لئے استدلال کرتے تھے اور اس لئے حکم تحویل صادر ہوا ۔ اس لئے مقصد یہ تھا کہ جو لوگ حق کا ساتھ نہیں دیتے ، براہین و دلائل کو تسلیم نہیں کرتے ، وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کی کوئی عزت نہ ہو اور وہ ہر معاملے میں ہلکے ہوں۔ ان وجوہ کے ساتھ ، اس وقت مدینہ طیبہ میں اس نوخیز اسلامی تحریک کی صفوں میں ، ایسے حالات پائے جاتے تھے ، جو اس تکرار وتاکید اور استدلال وبیان کے متقاضی تھے۔ بعض مسلمانوں کے دلوں پر مخالفین کے گمراہ کن پروپیگنڈے اور باطل استدلالات کا اثر پایا جاتا تھا ، جس کا اندازہ اس امر سے ہورہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سلسلے میں بار بار تاکید کے ساتھ مسلمانوں کو خطاب فرماتے ہیں اور اس اثر کے ازالے کے لئے قرآن مجید نے یہ زوردار انداز بیان اختیار کیا ہے اور تحویل قبلہ کی ان وقتی ہدایات کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قرآن مجید کا جزء بنادیا گیا ۔ تاکہ اس قسم کے حالات میں ، مسلمان ایسا ہی طرز عمل اختیار کریں ، کیونکہ وہ ایک ایسے معرکے میں کود پڑے ہیں جو تاقیامت جاری رہے گا ، کبھی ٹھنڈا نہ ہوگا ، کبھی نرم نہ ہوگا ، یعنی معرکہ انقلاب اسلامی۔ اس مناسبت سے قرآن مجید مسلمانوں کو پھر یاد دلاتا ہے کہ اللہ نے تمہیں اپنی نعمت سے نوازا ہے۔ اس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے تمہاری طرف اپنے نبی کو بھیجا ، وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو قبلہ مسلمین بیت الحرام کے معمار اول تھے ۔ یوں قرآن مجید مسلمانوں کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا روحانی وارث قرار دیتا ہے ۔ اور مسلمانوں کا براہ راست تعلق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے قائم کردیا جاتا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قبلہ بدلنے پر یہودیوں کی حجت ختم ہوگئی : آخر میں یہ جو فرمایا (لِءَلَّا یَکُوْنَ للنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْھُمْ ) اس کے بارے میں مفسر بیضاوی فرماتے ہیں کہ یہ (فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ ) کی علت ہے مطلب یہ ہے کہ بیت المقدس کی بجائے کعبہ شریف کی طرف رخ پھیر دینے میں یہودیوں کی حجت ختم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ ان کا یہ اعتراض تھا کہ توریت شریف میں تو یہ مذکور ہے کہ نبی آخر الزمان کا قبلہ کعبہ شریف ہوگا لیکن یہ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے ہیں اور دوسری بات وہ یہ کہتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے دین کا انکار کرتے ہیں لیکن ہمارے قبلہ کا اتباع کرتے ہیں یہودیوں کے یہ دونوں اعتراض کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم ملنے سے ختم ہوگئے۔ اور مشرکین جو یہ کہتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ملت ابراہیمی کے اتباع کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ان کے قبلہ کے علاوہ دوسرا قبلہ اختیار کیے ہوئے ہیں تحویل قبلہ سے ان کا اعتراض بھی ختم ہوگیا۔ معلوم ہوا کہ الناس کا عموم یہود اور مشرکین دونوں کو شامل ہے۔ پھر فرمایا (اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْھُمْ ) یعنی کعبہ شریف کو قبلہ مقرر کردینے سے لوگوں کی حجت ختم ہوگئی اور اب کسی کا اعتراض باقی نہیں رہا سوائے ان لوگوں کے جو ظالم ہیں جنہوں نے عناد پر ہی کمر باندھ رکھی ہے اور جنہیں حق قبول کرنا ہی نہیں۔ مثلاً یہودی معاند یوں کہیں گے کہ انہوں نے کعبہ کو قبلہ اس لیے اختیار کرلیا کہ اپنی قوم کے دین کی طرف مائل ہوگئے اور وطن کی محبت نے ان کو کعبہ کو قبلہ بنانے پر آمادہ کرلیا۔ یا یوں کہیں گے کہ ان کو اس وقت یہ خیال آگیا کہ اپنے باپ دادوں کا قبلہ اختیار کرلیں ممکن ہے کہ پھر ہمارے قبلہ کی طرف واپس آجائیں۔ معترض اور معاند کا منہ تو کبھی بند نہیں ہو سکتا وہ تو کٹ حجتی کرتا ہی رہتا ہے۔ پھر فرمایا ( فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَ اخْشَوْنِیْ ) ( کہ تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو) جو حکم کعبہ شریف کو رخ کرنے کا ہوا ہے اس کی تعمیل کرو اور معترضین اور معاندین کی کسی بات کا کوئی خیال نہ کرو ان سے نہ ڈرو کیونکہ ان کے طعنے اور اعتراضات تمہیں کچھ نقصان نہ پہنچائیں گے مجھ سے ڈرو میرے امر کی مخالفت نہ کرو۔ آخر میں فرمایا (وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْکُمْ وَ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ ) یہ محذوف کی علت ہے یعنی (و امرتکم لاتمامی النعمۃ علیکم وارادتی اھتدائکم) یعنی میں نے تم کو تحویل قبلہ کا حکم دیا ہے جو اس لیے ہے کہ تم پر اپنی نعمت پوری کروں اور تاکہ تم ہدایت پر مضبوطی کے ساتھ جمے رہو۔ (کلہ من البیضاوی)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

286 آگے چونکہ تحویل قبلہ کی چوتھی دلیل کا بیان تھا جو دوسری اجمالی دلیل کی تفصیل ہے اس لیے تحویل قبلہ کے حکم کا یہاں پھر اعادہ فرمایا تاکہ دلیل بلا فصل حکم سے متعلق ہو سکے۔ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّــةٌ۔ یہ تحویل قبلہ کی دوسری تفصیلی علت ہے۔ الناس سے مراد تمام مخالفین ہیں۔ یہود ونصاریٰ اور مشرکین عرب، تورات اور انجیل میں یہ مذکور تھا کہ آخری نبی کا قبلہ کعبہ ہوگا تو اگر تحویل قبلہ کا حکم نہ دیا جاتا تو اہل کتاب کا اعتراض باقی رہتا کہ ہماری کتابوں میں اس کا قبلہ کعبہ لکھا ہوا ہے مگر یہ بیت المقدس کی طرف منہ کرتا ہے۔ لہذا یہ نبی موعود نہیں۔ المنعوت فی التوراۃ قبلتہ الکعبۃ لا الصخرۃ وھذا النبی۔۔۔ الی الصخرۃ فلایکون النبی الموعود (روح ص 17 ج 2) مشرکین کا یہ اعتراض تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعویٰ تو یہ کرتا ہے کہ وہ ملت ابراہیمی پر ہے مگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قبلہ کی مخالفت کرتا ہے لہذا وہ ملت ابراہیمی پر بھی نہیں۔ اب تحویل قبلہ سے مشرکین کا یہ اعتراض بھی رفع ہوگیا۔ وتدفع احتجاج المشرکین بانہ (علیہ الصلوۃ والسلام) یدعی ملۃ ابراہیم ویخالف قبلتہ (روح ص 17 ج 2) یعنی ہم نے تحویل قبلہ کا حکم اس لیے دیا ہے تاکہ مخالفین کو ان معقول اعتراضات کا موقع بھی نہ مل سکے۔ 287 ۔ یہ الناس سے استثناء ہے۔ ا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا۔ سے مراد معاندین لوگ ہیں۔ الا المعاندین منہم (مدارک ص 65 ج 1) یعنی مخالفین میں سے جو لوگ ضدی نہیں ہیں تحویل قبلہ کے بعد ان کے پاس تو کوئی معقول اعتراض باقی نہیں رہے گا۔ البتہ جو لوگ ضدوعناد کی وجہ سے مخالفت کر رہے ہیں وہ تو تحویل قبلہ کے بعد بھی حجت بازی سے باز نہیں آئیں گے۔ چناچہ یہودی یہ کہیں گے، محض اپنے آبائی شہر کی محبت اور آبائی دین کی طرف ربت کی وجہ سے اس پیغمبر نے کعبہ کو قبلہ بنایا ہے۔ مشرکین معاندین کہیں گے کہ اب اسے سمجھ آئی ہے اس نے اپنے باپ دادا کا قبلہ مان لیا ہے، اور عنقریب ہی اپنے دین کو چھوڑ چھاڑ ہمارے دین واپس آنا چاہتا ہے وغیر ذالک۔ فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِيْ ۤ۔ لہذا تم ان کی مخالفت سے مت ڈرو اور تحویل قبلہ کے بارے میں ان کی اعتراضات کی پروا مت کرو اور میرے عذاب سے ڈرو اور میرے احکام کی تعمیل کرو۔ فلا تخافوا مطانعہم فی قبلتکم فانھم لا یضرونکم (مدارک ص 65 ج 1) ۔ وَلِاُتِمَّ نِعْمَتِىْ عَلَيْكُمْ ۔ اس کا عطف لِئَلَّا يَكُوْنَ ۔ پر ہے۔ اتمامِ نعمت سے یہاں مراد تعیینِ قبلہ ہے۔ واتمام النعمۃ الھدایۃ الی القبلۃ (قرطبی ص 170 ج 2) تحویل قبلہ اس لیے کی ہے کہ تم پر دنیوی اور روحانی نعمتوں کا اتمام کروں۔ دنیا میں اس طرح کہ کعبہ کو تماہررا مرکز اور قبلہ بنادینے کی وجہ سے تمہیں وہ شرف اور برتری حاصل ہوگی جو اور کسی کو حاصل نہیں۔ ماحصل للعرب من لاشرف بتحویل القبلۃ الی الکعبۃ (بحر ص 443 ج 1) کعبہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکات و تجلیات کا مرکز ہے اس لیے نماز جیسی عبادت کے لیے جو مومنین کے لیے معراج کا درجہ رکھتی ہے۔ خانہ کعبہ کو قبلہ مقرر کرنا سب سے بڑی اخروی اور روحانی نعمت ہے۔ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ ۔ تاکہ تمہیں ملت ابراہیمی کی سیدھی راہ مل جائے۔ كَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ ۔ اس کی تفسیر رکوع 15 میں گذر چکی ہے۔ کاف تشبیہ کے لیے ہے اور مَا مصدریہ ہے یعنی جس طرح ہم نے ان خوبیوں والا پیغمبر تم میں بھیج کر تم پر بہت بڑا انعام و احسان کیا۔ اسی طرح تعیین قبلہ سے ہم نے تم پر اپنی نعمت تام کردی۔ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ ۔ اور وہ پیغمبر تمہیں وہ باتیں بتاتا ہے جن کو نہ تم جانتے ہو اور نہ وحی کے بغیر ان کو معلوم کرسکتے ہو۔ مما لا طریق الی معرفتہ سوی الوحی (روح ص 19 ج 2) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پانچ صفتیں یا پانچ حیثیتیں بیان فرمائی ہیں۔ 1 ۔ آپ کتاب اللہ کی آیتیں پڑھ کر لوگوں کو سناتے ہیں۔ 2 ۔ آپ لوگوں کو کتاب اللہ کے الفاظ کی کیفیت ادا، اس کے مطالب ومعانی اور اسرار و رموز سکھاتے ہیں۔ 3 ۔ اپنی سنت اور اسوہ حسنہ کے ذریعے کتاب اللہ کے احکام کی صحیح تعبیر وتصویر اور ان کا عملی نمونہ بتاتے ہیں۔ 4 ۔ ظاہری تعلیم کے ساتھ ساتھ لوگوں کی روحانی تربیت کر کے ان کے عقائد، اعمال اور اخلاق کا تزکیہ بھی فرماتے ہیں۔ 5 ۔ تمام امور دین جن کا لوگوں کو علم نہ ہو، اور نہ ہی وہ کسی ذریعہ سے ان کا علم حاصل کرسکیں۔ خدا کا پیغمبر ایسے تمام امور میں اللہ کی طرف سے ان کی راہنمائی کرتا ہے اور اس آیت میں یہ تمام افعال رَسُوْلاً سے حال ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان تمام صفات وحیٹیات سے اللہ تعالیٰ ہی نے آپ کو متصف کر کے بھیجا ہے۔ یہ نہیں کہ لوگوں نے اور سوسائٹی کے افراد نے یہ ڈیوٹیاں آپ کے ذمہ لگا دی تھیں جیسا کہ منکرین حدیث کہتے ہیں کہحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدا کی طرف سے ڈیوٹی صرف یہ تھی کہ آپ آیتیں پڑھ کر لوگوں کو سنا دیں اور بس۔ باقی کام آپ نے اپنے طور پر کیے۔ یا لوگوں کی درخواست پر آپ ایسا کرتے تھے۔ مگر قرآن مجید کی یہ آیت اس خیال کی تردید کرتی ہے اور واضح طور پر اعلان کرتی ہے کہ یہ تمام ذمہ داریاں خدا کی طرف سے آپ کے سپرد تھیں لہذا آپ کے ہر قول وفعل اور آپ کی ہر سنت پر عمل واجب ہے بشرطیکہ وہ صحت کے ساتھ ہم تک پہنچ جائے۔ کیونکہحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت اور آپ کے اسوہ کے بغیر قرآن کا سمجھنا ناممکن ہے۔ ړفَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ ۔ لہٰذا تم میرے انعامات کے شکریہ کے طور پر ہر وقت مجھے یاد رکھو۔ میرے احکام مانو۔ اصرف میری ہی عبادت کرو اور صرف مجھے ہی پکارو تو میں بھی تمہیں اجر وثواب اور مزید انعام واکرام سے نوازوں گا۔ وَاشْكُرُوْا لِيْ وَلَا تَكْفُرُوْنِتوحید کی پابندی اور احکام کی تعمیل سے میری نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہو۔ کفر وشرک اور طغیان وعصیان سے میری نعمتوں کی ناقدری نہ کرو۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں :۔ واشکروا لی ایہا المؤمنون فیما انعمت علیکم من الاسلام والھدایۃ للدین الذی شرعتہ لانبیائی واصفیائی (ابن جریر ص 22 ج 2) یعنی اے ایمان والو ! میری اس نعمت کا شکر ادا کرو کہ میں نے تم کو اسلام اور دین توحید کی توفیق دی ہے جسے میں نے اپنے تمام انبیاء اور برگزیدہ بندوں کے لیے مقرر کیا تھا۔ ۧيٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ۔ مسلمانوں کو آئے دن دشمنانِ اسلام کی طرف سے مصائب و تکالیف کا سامنا تو ہوتا ہی رہتا تھا۔ اب تحویل قبلہ کی وجہ سے معاندین کو ایذا رسانی کا ایک اور بہانہ ہاتھ آگیا۔ تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تلقین فرمائی کہ وہ ہر قسم کی مشکلات اور مصائب میں اپنے خدا پر بھروسہ رکھیں اسی کے ساتھ اپنا تعلق جوڑے رکھیں اور اسی کے آگے جھکیں۔ صبروصلوۃ کی پابندی ان میں ایسا استقلال اور سکون پیدا کرے گی کہ وہ دنیا ومافیہا سے بےنیاز اور ہر خطرہ سے محفوظ ہوجائیں گے۔ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ ۔ صبر کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ خصوصی مدد فرماتا ہے۔ یہ اس خصوصی نصرت ویاری ہی کے آثار تھے کہ صحابہ کرام (رض) کئی معرکوں میں قلت عدد اور بےسروسامانی کے باوجود فتح یاب ہوئے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3 اور آپ جہاں کہیں سے بھی باہر سفر میں جائیں تو نماز پڑھتے وقت اپنے چہرے یعنی اپنے آپ کو مسجد حرام کی طرف رکھا کیجئے۔ اور اے مسلمانو ! تم بھی جہاں کہیں ہو یہ بات یاد رکھو کہ نماز پڑھنے میں اپنا منہ اسی مسجد حرام کی طرف رکھاکرو یہ حکم اس لئے دیا گیا ہے تاکہ تمہارے مخالف لوگوں کو تمہارے مقابلے میں کوئی اعتراض کرنے اور الزام قائم کرنے کی گنجائش باقی نہ رہے مگر ہاں جو لوگ بالکل ہی ناانصاف اور ہٹ دھرم ہیں وہ تو باز آئیں گے نہیں سو ایسے غلط کار لوگوں سے کسی قسم کا خوف نہ کرو اور مجھ سے ڈرتے رہو اور میں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قبلہ کو اختیار کرنے کا حکم تم کو اس لئے بھی دیا تھا تاکہ تم پر اپنے احسانات اور اپنی نعمتوں کی تکمیل کردوں اور اس غرض سے بھی تاکہ تم ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت اور اس کے قبلہ کی طرف راہ پائو۔ (تیسیر) یعنی وہ معترض جو یوں کہتے تھے کہ نبی آخر الزماں کی علامت تو ہماری کتابوں میں یہ تھی کہ نمازوں میں اس کا قبلہ کعبہ ہوگا یا وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ پیغمبربات بات میں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نام لیتا ہے۔ لیکن قبلہ کے معاملہ میں ان کی مخالفت کرتا ہے ایسے معترضین کا منہ بند ہوجائے اور یہ بھی منجملہ اور مصلحتوں کے ایک مصلحت ہے کہ معقول طریقہ کار سے مخالفوں کو خاموش اور ساکت کر ایاجائے ناانصاف اور ہٹ دھرم لوگوں سے یا تو عرب کے کفارمراد ہیں یا یہو د کے معاندین کہ یہ لوگ کچھ اور کہہ دیں گے سو ایسے نالائقوں کی کوئی فکرنہ کرنا چاہئے اور نہ اس قسم کے معاندوں کا کوئی خوف کرنا چاہئے اتمام نعمت فرمایا مسلمانوں کے لئے کعبہ کی جہت مقرر کرنے کو جو افضل و اعلیٰ جہت ہے اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ اب کوئی نعمت نہیں رہی جس کا اتمام کیا جائے کیونکہ دین کی تکمیل اور اتمام نعمت کا ذکرانشاء اللہ سورة مائدہ میں بھی آئے گا۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ قبلہ کے اعتبار سے تم پر اپنے احسان کی تکمیل کردوں تھتدون کے بھی کئی مطلب ہیں اور ہم نے ایک معنی بیان کردئیے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے لئے صحیح راہ یابی مقصود تھی کہ تم راہ حق حاصل کرلو اور اس پر قائم رہو۔ حدیث میں آتا ہے کہ اتمام نعمت جنت میں داخل ہونا ہے اور حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول ہے کہ اتمام نعمت اسلام پر موت کا آجانا ہے اور یہ بھیہوسکتا ہے کہ اتمام نعمت حضرت حق تعالیٰ کا دیدار ہو۔ بہر حال چونکہ قبلہ کا معاملہ نہایت اہم تھا اور اس مسئلہ کو مختلف وجوہات کی بنا پر اہمیت حاصل تھی اس لئے حضرت حق نے اس کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا۔ معترضین کے جواب کعبہ کی فضیلت اور امت محمدیہ کی شرافت و بزرگی، بیت المقدس کو قبلہ مقرر کرنے اور پھر کعبہ کی طرف رجوع کرنے کے مصالح اور حکم اور مسلمانوں کو نڈر اور مخالفوں کے طعن سے بےپرواہ ہو نیکی ہدایت اور تکمیل احسانات کا اعلان اور حکم قبلہ کی اہمیت کے لحاظ سے بار بار تاکید غرض ان تمام باتوں کو مفصل بیان فرمایا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر کو تمہید کے طورپر بیان فرمایا اور ان تمام مباحث مذکورہ کو ایک بہترین اعلان پر جس کا تعلق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا سے ہے ختم فرماتے ہیں۔ (تسہیل)