وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّواْ وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ
...
And from wheresoever you start forth (for prayers), turn your face in the direction of Al-Masjid Al-Haram (at Makkah), and wheresoever you are, turn your faces towards it (when you pray),
The Arab disbelievers had no more argument concerning the Prophet's Qiblah after Allah commanded the Prophet to face the Qiblah of Ibrahim, which is more respected and honored, rather than the Qiblah of the Jews. The Arabs used to honor the Ka`bah and liked the fact that the Messenger was commanded to face it.
The Wisdom behind abrogating the Previous Qiblah
Allah said:
...
لِيَلَّ يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ
...
...so that men may have no argument against you,
Therefore, the People of the Book knew from the description of the Muslim Ummah that they would be ordered to face the Ka`bah. If the Muslims did not fit this description, the Jews would have used this fact against the Muslims. If the Muslims had remained on the Qiblah of Bayt Al-Maqdis, which was also the Qiblah of the Jews, this fact could have been used as the basis of argument by the Jews against other people.
Allah's Statement:
...
إِلاَّ الَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنْهُمْ
...
...except those of them that are wrongdoers,
indicates the Mushrikin (polytheists) of Quraysh.
The reasoning of these unjust persons was the unsound statement:
"This man (Muhammad) claims that he follows the religion of Ibrahim! Hence, if his facing Bayt Al-Maqdis was a part of the religion of Ibrahim, why did he change it?"
The answer to this question is that Allah has chosen His Prophet to face Bayt Al-Maqdis first for certain wisdom, and he obeyed Allah regarding this command. Then, Allah changed the Qiblah to the Qiblah of Ibrahim, which is the Ka`bah, and he also obeyed Allah in this command. He, obeys Allah in all cases and never engages in the defiance of Allah even for an instant, and his Ummah imitates him in this.
Allah said:
...
فَلَ تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي
...
...so fear them not, but fear Me!
meaning: `Do not fear the doubts that the unjust, stubborn persons raise and fear Me Alone.'
Indeed, Allah Alone deserves to be feared.
Allah said:
...
وَلاُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ
...
...so that I may complete My blessings on you.
This Ayah relates to Allah's statement:
لِيَلَّ يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ
(...so that men may have no argument against you), meaning:
I will perfect My bounty on you by legislating for you to face the Ka`bah, so that the (Islamic) Shariah (law) is complete in every respect.
Allah said:
...
وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ
...that you may be guided.
meaning: `To be directed and guided to what the nations have been led astray from, We have guided you to it and preferred you with it.'
This is why this Ummah is the best and most honored nation ever.
پہلے حکم میں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طلب کا اور پھر اس کی قبولیت کا ذکر ہے اور دوسرے حکم میں اس بات کا بیان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ چاہت بھی ہماری چاہت کے مطابق تھی اور حق امر یہی تھا اور تیسرے حکم میں یہودیوں کی حجت کا جواب ہے کہ ان کی کتابوں میں پہلے سے موجود تھا کہ آپ کا قبلہ کعبہ ہو گا تو اس حکم سے وہ پیشینگوئی بھی پوری ہوئی ۔ ساتھ ہی مشرکین کی حجت بھی ختم ہوئی کہ وہ کعبہ کو متبرک اور مشرف مانتے تھے اور اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ بھی اسی کی طرف ہو گئی رازی وغیرہ نے اس حکم کو بار بار لانے کی حکمتوں کو بخوبی تفصیل سے بیان کیا ہے واللہ اعلم ۔ پھر فرمایا تا کہ اہل کتاب کوئی حجت تم پر باقی نہ رہے وہ جانتے تھے کہ امت کی طرح پہچان کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتا ہے جب وہ یہ صفت نہ پائیں گے تو انہیں شک کی گنجائش ہو سکتی ہے لیکن جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قبلہ کی طرف پھرتے ہوئے دیکھ لیا تو اب انہیں کسی طرح کا شک نہ رہنا چاہئے اور یہ بات بھی ہے کہ جب وہ تمہیں اپنے قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے ہوئے دیکھیں گے تو ان کے ہاتھ ایک بہانہ لگ جائے گا لیکن جب تم ابراہیمی قبلہ کی طرف متوجہ ہو جاؤ گے تو وہ خالی ہاتھ رہ جائیں گے ، حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں یہود کی یہ حجت تھی کہ آج یہ ہمارے قبلہ کی طرف ہیں یعنی ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرتے ہیں کل ہمارا مذہب بھی مان لیں گے لیکن جب اپنے اللہ کے حکم سے اصلی قبلہ اختیار کر لیا تو ان کی اس ہوس پر پانی پڑ گیا پھر فرمایا مگر جو ان میں سے ظالم اور ضدی مشرکین بطور اعتراض کہتے تھے کہ یہ شخص ملت ابراہیمی پر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور پھر ابراہیمی قبلہ کی طرف نماز نہیں پڑھتا انہیں جواب بھی مل گیا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے احکام کا متبع ہے پہلے ہم نے اپنی کمال حکمت سے انہیں بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا جسے وہ بجا لائے پھر ابراہیمی قبلہ کی طرف پھر جانے کو کہا جسے جان و دل سے بجا لائے پس آپ ہر حال میں ہمارے احکام کے ما تحت ہیں ( صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم ) پھر فرمایا ان ظالموں کے شبہ ڈالنے سے تم شک میں نہ پڑو ان باغیوں کی سرکشی سے تم خوف نہ کرو ان کے بےجان اعتراضوں کی مطلق پرواہ نہ کر وہاں میری ذات سے خوف کیا کرو صرف مجھ ہی سے ڈرتے رہا کرو قبلہ بدلنے میں جہاں یہ مصلحت تھی کہ لوگوں کی زبانیں بند ہو جائیں وہاں یہ بھی بات تھی کہ میں چاہتا تھا کہ اپنی نعمت تم پر پوری کر دوں اور قبلہ کی طرح تمہاری تمام شریعت کامل کر دوں اور تمہارے دین کو ہر طرح مکمل کر دوں اور اس میں یہ ایک راز بھی تھا کہ جس قبلہ سے اگلی امتیں بہک گئیں تم اس سے نہ ہٹو ہم نے اس قبلہ کو خصوصیت کے ساتھ تمہیں عطا فرما کر تمہارا شرف اور تمہاری فضیلت و بزرگی تمام امتوں پر ثابت کر دی ۔