Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 157

سورة البقرة

اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَ رَحۡمَۃٌ ۟ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾

Those are the ones upon whom are blessings from their Lord and mercy. And it is those who are the [rightly] guided.

ان پر ان کے رب تعالیٰ کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

أُولَـيِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ... They are those on whom are the Salawat (i. e., who are blessed and will be forgiven) from their Lord, and (they are those who) receive His mercy, meaning, Allah's praise and mercy will be with them. Sa`id bin Jubayr added, "Meaning, safety from the torment." ... وَأُولَـيِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ and it is they who are the guided ones. Umar bin Al-Khattab commented: "What righteous things, and what a great heights. أُولَـيِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ (They are those on whom are the Salawat from their Lord, and (they are those who) receive His mercy) are the two righteous things. أُولَـيِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ (and it is they who are the guided ones) are the heights." The heights means more rewards, and these people will be awarded their rewards and more. The Virtue of asserting that We all belong to Allah, during Afflictions There are several Hadiths that mention the rewards of admitting that the return is to Allah by saying: إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ "Truly, to Allah we belong and truly, to Him we shall return." when afflictions strike. For instance, Imam Ahmad reported that Umm Salamah narrated: Once, Abu Salamah came back after he was with Allah's Messenger and said: I heard Allah's Messenger recite a statement that made me delighted. He said: لاَا يُصِيبُ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ مُصِيبَةٌ فَيَسْتَرْجِعُ عِنْدَ مُصِيبَتِهِ ثُمَّ يقُولُ اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا إِلاَّ فَعَلَ ذلِكَ بِه No Muslim is struck with an affliction and then says Istirja` when the affliction strikes, and then says: `O Allah! Reward me for my loss and give me what is better than it,' but Allah will do just that. Umm Salamah said: So I memorized these words. When Abu Salamah died I said Istirja` and said: "O Allah! Compensate me for my loss and give me what is better than it." I then thought about it and said, "Who is better than Abu Salamah?" When my Iddah (the period of time before the widow or divorced woman can remarry) finished, Allah's Messenger asked for permission to see me while I was dyeing a skin that I had. I washed my hands, gave him permission to enter and handed him a pillow, and he sat on it. He then asked me for marriage and when he finished his speech, I said, "O Messenger of Allah! It is not because I do not want you, but I am very jealous and I fear that you might experience some wrong mannerism from me for which Allah would punish me. I am old and have children." He said: أمَّا مَا ذَكَرْتِ مِنَ الْغَيْرَةِ فَسَوْفَ يُذْهِبُهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْكِ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتِ مِنَ السِّنِّ فَقَدْ أَصَابَنِي مِثْلُ الَّذِي أَصَابَكِ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتِ مِنَ الْعِيَالِ فَإِنَّمَا عِيَالُكِ عِيَالِي As for the jealousy that you mentioned, Allah the Exalted will remove it from you. As for your being old as you mentioned, I have suffered what you have suffered. And for your having children, they are my children too. She said, "I have surrendered to Allah's Messenger." Allah's Messenger married her and Umm Salamah said later, "Allah compensated me with who is better than Abu Salamah: Allah's Messenger." Muslim reported a shorter version of this Hadith.

امیر المومنین حضرت عمربن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں دوبرابر کی چیزیں صلوات اور رحمت اور ایک درمیان کی چیز یعنی ہدایت ان صبر کرنے والوں کو ملتی ہے ، مسند احمد میں ہے حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں میرے خاوند حضرت ابو سلمہ ایک روز میرے پاس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہو کر آئے اور خوشی خوشی فرمانے لگے آج تو میں نے ایک ایسی حدیث سنی ہے کہ میں بہت ہی خوش ہوا ہوں وہ حدیث یہ ہے کہ جس کسی مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچے اور وہ کہے دعا ( اللھم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرا منھا ) یعنی اللہ مجھے اس مصیبت میں اجر دے اور مجھے اس سے بہتر بدلہ عطا فرما تو اللہ تعالیٰ اسے اجر اور بدلہ ضرور دیتا ہے ، حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں میں نے اس دعا کو یاد کر لیا جب حضرت ابو سلمہ کا انتقال ہوا تو میں نے آیت ( انا للہ وانا الیہ راجعون ) پڑھ کر پھر یہ دعا بھی پڑلی لیکن مجھے خیال آیا کہ بھلا ابو سلمہ سے بہتر شخص مجھے کون مل سکتا ہے؟ جب میری عدت گذر چکی تو میں ایک روز ایک کھال کو دباغت دے رہی تھی کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت چاہی میں نے اپنے ہاتھ دھو ڈالے کھال رکھ دی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر تشریف لانے کی درخواست کی اور آپ کو ایک گدی پر بٹھا دیا آپ نے مجھ سے اپنا نکاح کرنے کی کوشش ظاہر کی ، میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو میری خوش قسمتی کی بات ہے لیکن اول تو میں بڑی باغیرت عورت ہوں ایسا نہ ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کے خلاف کوئی بات مجھ سے سرزد ہو جائے اور اللہ کے ہاں عذاب ہو دوسرے یہ کہ میں عمر رسیدہ ہوں ، تیسرے بال بچوں والی ہوں آپ نے فرمایا سنو ایسی بےجا غیرت اللہ تعالیٰ تمہاری دور کر دے گا اور عمر میں کچھ میں بھی چھوٹی عمر کا نہیں اور تمہارے بال بچے میرے ہی بال بچے ہیں میں نے یہ سن کر کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی عذر نہیں چنانچہ میرا نکاح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوگیا اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اس دعا کی برکت سے میرے میاں سے بہت ہی بہتر یعنی اپنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم عطا فرمایا فالحمد للہ صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث باختلاف الفاظ مروی ہے ، مسند احمد میں حضرت علی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کسی مسلمان کو کوئی رنج و مصیبت پہنچے اس پر گویا زیادہ وقت گذر جائے پھر اسے یاد آئے اور وہ انا للہ پڑھے تو مصیبت کے صبر کے وقت جو اجر ملا تھا وہی اب بھی ملے گا ، ابن ماجہ میں ہے حضرت ابو سنان فرماتے ہیں میں نے اپنے ایک بچے کو دفن کیا ابھی میں اس کی قبر میں سے نکلا نہ تھا کہ ابو طلحہ خولانی نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے نکالا اور کہا سنو میں تمہیں ایک خوشخبری سناؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک الموت سے دریافت فرماتا ہے تو نے میرے بندے کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور اس کا کلیجہ کا ٹکڑا چھین لیا بتا تو اس نے کیا کہا ؟ وہ کہتے ہیں اللہ تیری تعریف کی اور انا للہ پڑھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کے لیے جنت میں ایک گھر بناؤ اور اس کا نام بیت الحمد رکھو ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

157۔ 1 ان آیات میں صبر کرنے والوں کے لئے خوشخبریاں ہیں۔ حدیث میں نقصان کے وقت (اِناَّ لِلّٰہِ وَ اناَّاِ لَیْہِ رَجِعُوْنَ ) 002:156 اور اللَّھُمْ اَجَرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ پڑھنے کی بھی فضیلت اور تاکید آئی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اُولٰۗىِٕكَ عَلَيْہِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ۝ ٠ ۣ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُہْتَدُوْنَ۝ ١٥٧ صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق : تزكيته إيّاهم . وقال : أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ [ البقرة/ 157] ، ومن الملائكة هي الدّعاء والاستغفار، كما هي من النّاس «3» . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] والصَّلَاةُ التي هي العبادة المخصوصة، أصلها : الدّعاء، وسمّيت هذه العبادة بها کتسمية الشیء باسم بعض ما يتضمّنه، والصَّلَاةُ من العبادات التي لم تنفکّ شریعة منها، وإن اختلفت صورها بحسب شرع فشرع . ولذلک قال : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] ( ص ل ی ) الصلیٰ ( س) کے اصل معنی آگ جلانے ہے ہیں صلی بالنار اس نے آگ کی تکلیف برداشت کی یا وہ آگ میں جلا صلی بکذا اسے فلاں چیز سے پالا پڑا ۔ صلیت الشاۃ میں نے بکری کو آگ پر بھون لیا اور بھونی ہوئی بکری کو مصلیۃ کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] آج اس میں داخل ہوجاؤ ۔ الصلوۃ بہت سے اہل لغت کا خیال ہے کہ صلاۃ کے معنی دعا دینے ۔ تحسین وتبریک اور تعظیم کرنے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے صلیت علیہ میں نے اسے دعادی نشوونمادی اور بڑھایا اور حدیث میں ہے (2) کہ «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، جب کسی کو کھانے پر بلا یا جائے تو اسے چاہیے کہ قبول کرلے اگر روزہ دار ہے تو وہ انکے لئے دعاکرکے واپس چلا آئے اور قرآن میں ہے وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لئے موجب تسکین ہے ۔ اور انسانوں کی طرح فرشتوں کی طرف سے بھی صلاۃ کے معنی دعا اور استغفار ہی آتے ہیں چناچہ فرمایا : إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] بیشک خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں ۔ اور الصلوۃ جو کہ ایک عبادت مخصوصہ کا نام ہے اس کی اصل بھی دعاہی ہے اور نماز چونکہ دعا پر مشتمل ہوتی ہے اسلئے اسے صلوۃ کہاجاتا ہے ۔ اور یہ تسمیۃ الشئی باسم الجزء کے قبیل سے ہے یعنی کسی چیز کو اس کے ضمنی مفہوم کے نام سے موسوم کرنا اور صلاۃ ( نماز) ان عبادت سے ہے جن کا وجود شریعت میں ملتا ہے گو اس کی صورتیں مختلف رہی ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] بیشک نماز مومنوں مقرر اوقات میں ادا کرنا فرض ہے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے ) اهْتِدَاءُ يختصّ بما يتحرّاه الإنسان علی طریق الاختیار، إمّا في الأمور الدّنيويّة، أو الأخرويّة قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] ، وقال : إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ لا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا[ النساء/ 98] ويقال ذلک لطلب الهداية نحو : وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 53] ، وقال : فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 150] ، فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا [ آل عمران/ 20] ، فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ ما آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا [ البقرة/ 137] . ويقال المُهْتَدِي لمن يقتدي بعالم نحو : أَوَلَوْ كانَ آباؤُهُمْ لا يَعْلَمُونَ شَيْئاً وَلا يَهْتَدُونَ [ المائدة/ 104] تنبيها أنهم لا يعلمون بأنفسهم ولا يقتدون بعالم، وقوله : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ إِنَّما أَنَا مِنَ الْمُنْذِرِينَ [ النمل/ 92] فإن الِاهْتِدَاءَ هاهنا يتناول وجوه الاهتداء من طلب الهداية، ومن الاقتداء، ومن تحرّيها، وکذا قوله : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لا يَهْتَدُونَ [ النمل/ 24] وقوله : وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صالِحاً ثُمَّ اهْتَدى [ طه/ 82] فمعناه : ثم أدام طلب الهداية، ولم يفترّ عن تحرّيه، ولم يرجع إلى المعصية . وقوله : الَّذِينَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ إلى قوله : وَأُولئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ [ البقرة/ 157] أي : الذین تحرّوا هدایته وقبلوها وعملوا بها، وقال مخبرا عنهم : وَقالُوا يا أَيُّهَا السَّاحِرُ ادْعُ لَنا رَبَّكَ بِما عَهِدَ عِنْدَكَ إِنَّنا لَمُهْتَدُونَ [ الزخرف/ 49] . الاھتداء ( ہدایت پانا ) کا لفظ خاص کر اس ہدایت پر بولا جاتا ہے جو دینوی یا اخروی کے متعلق انسان اپنے اختیار سے حاصل کرتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور در یاؤ کے اندھیروں میں ان سے رستہ معلوم کرو ۔ إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ لا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا[ النساء/ 98] اور عورتیں اور بچے بےبس ہیں کہ نہ تو کوئی چارہ کرسکتے ہیں اور نہ رستہ جانتے ہیں ۔ لیکن کبھی اھتداء کے معنی طلب ہدایت بھی آتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 53] اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزے عنایت کئے تاکہ تم ہدایت حاصل کرو ۔ فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 150] سو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا اور یہ بھی مقصود ہے کہ میں تم کو اپنی تمام نعمتیں بخشوں اور یہ بھی کہ تم راہ راست پر چلو ۔ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا [ آل عمران/ 20] اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو بیشک ہدایت پالیں ۔ فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ ما آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا [ البقرة/ 137] . تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہوجائیں ۔ المھتدی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی عالم کی اقتدا کر رہا ہے ہو چناچہ آیت : ۔ أَوَلَوْ كانَ آباؤُهُمْ لا يَعْلَمُونَ شَيْئاً وَلا يَهْتَدُونَ [ المائدة/ 104] بھلا اگر ان کے باپ دادا نہ تو کچھ جانتے ہوں اور نہ کسی کی پیروی کرتے ہوں ۔ میں تنبیہ کی گئی ہے کہ نہ وہ خود عالم تھے اور نہ ہی کسی عالم کی اقتداء کرتے تھے ۔ اور آیت : ۔ فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ إِنَّما أَنَا مِنَ الْمُنْذِرِينَ [ النمل/ 92] تو جو کوئی ہدایت حاصل کرے تو ہدایت سے اپنے ہی حق میں بھلائی کرتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو گمراہی سے اپنا ہی نقصان کرتا ہے ۔ میں اھتداء کا لفظ طلب ہدایت اقتدا اور تحری ہدایت تینوں کو شامل ہے اس طرح آیت : ۔ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لا يَهْتَدُونَ [ النمل/ 24] اور شیطان نے ان کے اعمال انہین آراستہ کر کے دکھائے ہیں اور ان کو رستے سے روک رکھا ہے پس وہ رستے پر نہیں آتے ۔ میں بھی سے تینوں قسم کی ہدایت کی نفی کی گئی ہے اور آیت : ۔ وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صالِحاً ثُمَّ اهْتَدى [ طه/ 82] اور جو توبہ کرلے اور ایمان لائے اور عمل نیک کرے پھر سیدھے راستہ پر چلے اس کو میں بخش دینے والا ہوں ۔ میں اھتدی کے معنی لگاتار ہدایت طلب کرنے اور اس میں سستی نہ کرنے اور دوبارہ معصیت کی طرف رجوع نہ کرنے کے ہیں ۔ اور آیت : ۔ الَّذِينَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ إلى قوله : وَأُولئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ«1» [ البقرة/ 157] اور یہی سیدھے راستے ہیں ۔ میں مھتدون سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت الہیٰ کو قبول کیا اور اس کے حصول کے لئے کوشش کی اور اس کے مطابق عمل بھی کیا چناچہ انہی لوگوں کے متعلق فرمایا ۔ وَقالُوا يا أَيُّهَا السَّاحِرُ ادْعُ لَنا رَبَّكَ بِما عَهِدَ عِنْدَكَ إِنَّنا لَمُهْتَدُونَ [ الزخرف/ 49] اے جادو گر اس عہد کے مطابق جو تیرے پروردگار نے تجھ سے کر رکھا ہے اس سے دعا کر بیشک

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٥٧) خوشخبری سنا دیجیے، ان ہی خوبیوں کے جو مالک ہیں ان کے لیے دنیا میں مغفرت اور آخرت میں عذاب سے نجات ہے اور (آیت) ” انا اللہ وانا الیہ راجعون “۔ (یعنی اپنا ہر معاملہ اللہ کی ہر بات کے مطابق اس کے سپرد کردینے والے) ہی ہدایت پانے والے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٥٧ (اُولٰٓءِکَ عَلَیْہِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ قف) ان پر ہر وقت اللہ کی عنایتوں کا نزول ہوتا رہتا ہے اور رحمت کی بارش ہوتی رہتی ہے۔ (وَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُوْنَ ) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے واقعتا ہدایت کو اختیار کیا ہے۔ اور جو ایسے مرحلے پر ٹھٹک کر کھڑے رہ جائیں ‘ پیچھے ہٹ کر بیٹھ جائیں ‘ پیٹھ موڑ لیں تو گویا وہ ہدایت سے تہی دامن ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:157) اولئک۔ یعنی وہ لوگ جن میں مندرجہ بالا صفات ہوں یعنی صابرین۔ اولئک مبتدا اول۔ صلوت مبتدا ثانی۔ علیہم متعلق بمبتدا ثانی۔ پھر یہ مجموعہ مبتدا اول کی خبر۔ واولئک ھم المھتدون۔ واؤ عاطفہ۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اولئک مبتداء ہم المھتدون اس کی خبر۔ صلوٰت رحمتیں۔ برکتیں ۔ صلوٰۃ کی جمع۔ ص ل و مادہ۔ مھتدون۔ اسم فاعل مذکر۔ اھتداء (افتعال) مصدر۔ ہدایت یافتہ۔ ہدایت پانے والے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 صلوہ کے بعد رحمتہ کا لفظ تا کید اور اشباع معنی کے لیے ہے جیسے آیت لا نسمع ستر ھم سلجو نھم میں سر کے بعد نحوی کے بعد کا لفظ ہے !

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ یہ خطاب ساری امت کو ہے تو سب کو سمجھ لینا چاہیے کہ دنیادار المحن ہے یہاں کے حوادث کو عجیب اور بعید نہ سمجھنا چاہیے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : صبروشکر اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے ‘ مشکل وقت میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنیوالے اور مصائب میں جزع ‘ فزع کرنے کی بجائے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھنے والے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور ہدایت کے حق دار ٹھہرتے ہیں۔ صبر کا معنی ہے کہ آدمی مصیبت کے وقت اپنے آپ پر قابو پائے اور ہر حال میں اپنے آپ کو شریعت کا پابند رکھے۔ جب کوئی اپنے آپ کو رب کی رضا اور اس کے احکام کے تابع رکھ کر آزمائش میں ثابت قدم رہتا ہے تو اس کے صلہ میں وہ رب کی رحمت اور عنایات کا حق دار ٹھہرتا ہے۔ اللہ کی رحمت و عنایات کے مستحق لوگ ہی ہدایت یافتہ قرار پاتے ہیں۔ کیونکہ اس فرمان سے قبل نعمتوں کا چھن جانا، جگر گوشوں کی جدائی اور آزمائشوں سے دوچار ہونا یقینی امر قرار دیا ہے۔ ان کی تلافی اور مومنوں کی تسلی کے لیے صلوات اور رحمت کے نزول کا اطمینان دلایا جارہا ہے۔ عنایات سے مرادیہاں چھن جانے والی نعمتوں اور سہولتوں کی تلافی ہوگی اور رحمت سے نعمتوں میں استقرار اور ان کی وسعتوں میں اضافہ ہوگا۔ رب کریم کی رحمت سے سوکھی ہوئی کھیتیاں سرسبز و شاداب، ویران بستیاں آباد و بارونق، پریشان و پشیمان دل ایقان و اطمینان کا گہوارہ اور گناہوں سے آلودہ دامن پاک و شفاف ہوجاتے ہیں۔ یہ اس کی رحمت ہی تو تھی جس نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو دوبارہ اولاد، مال اور صحت و تندرستی سے نوازا تھا۔ اس بےپایاں رحمت و عنایات کا ہی صلہ تھا کہ صحابہ کرام (رض) نے جھونپڑیاں چھوڑیں اور مکانات کے مالک بنے، معمولی مال چھوڑا تو اس کے بدلے میں دولت کے انبار نصیب ہوئے، دین کی خاطر دنیا کی نظر میں عارضی طور پر خفت اٹھانی پڑی تو اس کے بدلے میں عزت و عظمت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے۔ مکہ چھوڑا تو دنیا کے حکمران قرار پائے۔ دنیا و آخرت کی نعمتیں، سہولتیں، عزتیں اور رفعتیں اللہ کی رحمت کا پر تو ہیں۔ اسی بنا پر سرور دوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا کیا کرتے تھے : (اَللّٰھُمَّ رَحْمَتَکَ اَرْجُوْ فَلَا تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ وَّاَصْلِحْ لِیْ شَأْنِیْ کُلَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الأدب، باب مایقول إذا أصبح ] ” اے اللہ ! میں تیری رحمت کا امید وار ہوں مجھے لمحہ بھر بھی میرے نفس کے سپرد نہ کرنا، میرے تمام کاموں کو سنوارنا ‘ تیرے سوا کوئی معبودِ حق نہیں۔ “ مسائل ١۔ صاحب ایمان، مستقل مزاج اور صابر لوگوں پر اللہ کا فضل و کرم اور ان کو مزید ہدایت سے نوازا جاتا ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اللہ کی طرف سے عنایات ہوں گی ۔ یہاں صابرین کے لئے لفظ صلوات استعمال کرکے گویا صابرین کو ان صلوات (عنایات) میں شریک کردیا گیا ، جو اللہ اور اس کے فرشتے نبیوں پر بھیجتے رہتے ہیں ۔ کیا ہی بلند مقام ہے ۔ کیا فیضان رحمت ہے کہ خود اللہ گواہ ہے کہ مصائب میں صبر کرنے والے ہی دراصل صحیح معرفت رکھتے ہیں اور صحیح راہ پر گامزن ہیں ۔ غرض ہر بات عظیم اور محیر العقول ہے ۔ تحریک اسلامی کی تیاری اور تربیت کے اس سبق کے آخر تک ہم پہنچ گئے ۔ ذرارک کر جائزہ لیجئے ! مصائب وشدائد ، قتل وشہادت ، جان ومال کا نقصان ، بھوک و افلاس اور خوف وخطر اور دوسری مشکلات کے لئے یہ عظیم تیاری اور تربیت ، پر آشوب اور پر خطر اور عظیم المشقت طویل ترین معرکہ حق و باطل کے لئے یہ عظیم تیاری ۔ یہ سب امور گہرے غور وفکر کے مستحق ہیں۔ ذرا دیکھئے ! اللہ ان تمام مصائب اور مشکلات کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھتے ہیں ، جبکہ دوسری طرف صرف ایک بات ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنایات ، اس کی جانب سے رحمت کے مستحق ہیں اور یہ اعلان کہ دنیا میں یہی لوگ ہدایت پر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس موقع پر مؤمنین صابرین کے ساتھ کسی ظفرمندی اور کامرانی کا وعدہ نہیں فرماتے ، کسی خصوصی امداد کا بھی یہاں کوئی اعلان نہیں کیا جاتا ۔ نہ یہاں مال غنیمت کا لالچ دیا جاتا ہے ۔ کچھ بھی نہیں ! صرف اللہ کی رحمت و عنایت کا وعدہ ہوتا ہے اور یہ شہادت دی جاتی ہے کہ وہ یقیناً سچائی اور حق پر ہیں ۔۔۔ اللہ تعالیٰ صابرین کو ایک ایسے کام کے لئے تیار کررہا تھا جو ان کی ذات وحیات سے زیادہ قیمتی ہے ۔۔ اس لئے اللہ تعالیٰ اس جماعت کو ہر اس خواہش ورغبت سے پاک کرنا چاہتا ہے ، جس کا تعلق دنیا سے ہو۔ یہاں تک کہ ان کو ہدایت کی گئی کہ جس نصب العین کے لئے وہ کام کررہے ہیں ، جس نظریہ حیات کے لئے وہ جدوجہد کررہے ہیں اور جان تک دینے کو تیار ہیں ، اس کے غلبہ کی خواہش تک دلوں سے نکال دیں ۔ اور صرف رضائے الٰہی اور اطاعت خداوندی کو اپنا منشور قرار دیں ۔ وہ صرف حکم الٰہی کے پابند ہوں۔ وہ آگے بڑھتے چلے جائیں اور ان کے پیش نظر اللہ کی رضامندی ، اللہ کی رحمت کے حصول اور اس اطمینان کے سوا کچھ نہ ہو ، کہ وہ حق کے لئے نکلے ہیں اور صحیح رستے پر ہیں ۔ یہ ہے صحیح نصب العین ۔ یہ ہے صحیح غرض وغایت اور یہ اور صرف یہ ہے وہ ثمر شیریں جس کے لئے وہ والہانہ دوڑ رہے ہیں ۔ رہی یہ امید کہ اس جدوجہد کے نتیجے میں انہیں فتح ونصرت حاصل ہوگی ۔ انہیں کرہ ارض پر غلبہ و اقتدار نصیب ہوگا تو یہ تصرف و غلبہ یہ اقتدار واختیار ان کے لئے تو نہیں ہے ، یہ تو اس دعوت اسلامی کا غلبہ ہوگا جس کے وہ حامل ہیں ۔ رہے اہل ایمان مجاہدین ، تو انہیں ایک عظیم اجر دے دیا گیا ، اللہ کی عنایات اور اللہ کی رحمت ہوگی اور انہیں یہ سرٹیفکیٹ دے دیا گیا کہ وہی حق پر ہیں ۔ اور انہیں یہ اجر کس کے بدلے دیا گیا ؟ جان ومال کی قربانی پر اور آمدنیوں پر دیا گیا۔ یہ اللہ کی راہ میں قتل و شہادت پر دیا گیا ہے ۔ لیکن پھر بھی اللہ کے فضل و عنایت کا پلڑا بھاری ہے ۔ یہ عنایت تمام عنایات سے بھاری ہے ۔ فتح ، نصرت اور تمکن فی الارض تمام امور سے یہ عنایت بھاری ہے ۔ نیز یہ اس مسرت سے زیادہ خوش آئند ہے جو فتح ونصرت اور اسلامی انقلاب کے بعد حسرت دل پوری ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ ہے وہ ترتیب جس سے اللہ تعالیٰ نے اسلامی محاذ کو گزارا۔ بنی نوع انسان میں سے ، جو شخص اپنے نفس ، اپنی دعوت اور اپنے دین کو پاک وصاف کرنا چاہتا ہے ، اسے چاہئے کہ وہ تربیت کے اس انداز کو اپنائے۔ درس ١٠ ایک نظر میں اس سبق میں بعض بنیادی اصولوں کی تصحیح مطلوب ہے ، جن پر اسلامی تصور حیات کی عمارت قائم ہے ۔ اسلام کے ان بنیادی اصولوں کے سلسلے میں مدینہ طیبہ کے یہودی تلبیس کرتے تھے اور حق کو باطل سے ملاتے تھے ، جان بوجھ کر حق چھپاتے تھے ، مسلمانوں کے دلوں میں اضطراب اور ذہنوں میں پراگندگی پیدا کرتے تھے ۔ اس لئے ضروری تھا ان اصولوں کے بارے میں واضح احکام دیئے جائیں ۔ البتہ انداز بیان عمومی ہے اور یہود اور دوسرے مخالفین کے برخلاف بات اصولی طور پر کی گئی اور مسلمانوں کو ان خطرات سے آگاہ کیا گیا ہے ، جو اس راہ میں ، بالعموم انہیں درپیش ہوسکتے ہیں ۔ صفا اور مروہ کے درمیان طواف کے مسئلے کو بھی لیا گیا ہے ۔ دور جاہلیت میں اس سعی کے ساتھ چونکہ بعض غیر اسلامی اور شرکیہ تصورات وابستہ تھے ، اس لئے وضاحت کردی گئی کہ یہ شعائر اللہ میں سے ہیں لہٰذا سعی جائز ہے ۔ تحویل قبلہ سے بھی اس کی مناسب واضح ہے ۔ نیز بیت اللہ کے حج اور دوسرے شعائر کو چونکہ اسلامی نظام نے قائم رکھا ہے ، اس لئے یہ مناسب تھا کہ ان امور کے سلسلے میں اسلامی نظام اپنی پالیسی واضح کرے ۔ یہودی اللہ کی تعلیمات وہدایات کو چھپاتے تھے ۔ یہاں ان کی سخت مذمت کی جاتی ہے ۔ البتہ یہ کہا جاتا ہے کہ توبہ کا دروازہ کھلا ہے ، صدبار اگر توبہ شکستی بازآ، لیکن اگر وہ اپنی روش پر قائم رہتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں تو ان پر لعنت کی بارش ہوگی اور دردناک عذاب ان کا منتظر ہے ۔ اللہ کی وحدانیت کا بیان اور اس پر تکوینی دلائل ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ ان لوگوں کے لئے شدید وعید ہے جو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ان تابعین اور مبتوعین کے تعلق کا ایک منظر بھی پیش کیا گیا ہے جو قیامت میں اس وقت سامنے آئے گا جب یہ لوگ عذاب الٰہی دیکھیں کو دیکھیں گے تو ایک دوسرے سے بریت کا اظہار کریں گے لیکن بےسود ۔ جو لوگ محض دنیاوی اغراض ومناصب کے لئے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام چھپاتے ہیں ، انہیں سخت تنبیہ کی گئی ہے ۔ ان سے کہا گیا ہے کہ آخرت میں ذلت ، حقارت اور اللہ تعالیٰ کا شدید غضب تمہارے لئے تیار ہے ۔ آخر میں نیکی اور بدی کا اسلامی معیار بتایا گیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ایمان اور عمل صالح ہی وہ اصول ہیں ، جن سے اسلامی تصور حیات درست ہوتا ہے ۔ نیکی سے مراد کوئی ظاہری شکل و صورت نہیں ہے نہ صرف شرق وغرب کی طرف چہرہ کرکے نماز پڑھنا اصول تقویٰ میں سے ہے ۔ نیکی تو شعور وعمل اور شعور عمل میں اللہ سے پختہ رابطے کا نام ہے ۔ یہ بیان دراصل تحویل قبلہ کے مباحث سے ملحق ہے۔ اس تمام بحث کو بغور پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بات اسی ایک مضمون یعنی معرکہ حق و باطل کے اردگرد گھومتی ہے ۔ ذہن انسانی میں حق و باطل کی کشمکش ہے ۔ اسلامی اقدار کا تعین ہورہا ہے اور تصور حیات کی وضاحت ہورہی ہے اور بیرونی سازشوں اور مکروفریب اور ذہنی پراگندی پیدا کرنے والے مخالفین کے اعتراضات اور پروپیگنڈے کا جواب دیا گیا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

صَلَوٰتٌ رَّبِّھِمْ وَ رَحْمَۃٌ: صابرین کی صفت بیان فرمانے کے بعد (کہ جب ان کو مصیبت پہنچتی ہے تو ( اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ) کہتے ہیں) ان کے لیے جو بشارت ہے اس کا ذکر فرمایا اور وہ یہ کہ (اُولٰٓءِکَ عَلَیْھِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَ رَحْمَۃٌ وَ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُھْتَدُوْنَ ) لفظ صلوات صلاۃ کی جمع ہے صلاۃ رحمت کو کہتے ہیں اور صلوٰت کے ساتھ لفظ رحمت بھی مذکور ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ لفظ رحمت بطور تاکید کے لایا گیا ہے۔ وکرّر الرحمۃ لما اختلف اللفظ تاکیدا اشباعا للمعنی۔ (قرطبی ص ٧٧ ا ج ٢) مفسر بیضاوی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف لفظ صلاۃ کی نسبت ہو تو اس سے تزکیہ اور مغفرت مراد ہوتی ہے اور اس کی جمع لانے میں اس کی کثرت پر اور اس کی مختلف انواع پر تنبیہ فرمائی اور رحمت سے مراد لطف اور احسان ہے۔ (ص ١١٧ ج ١) بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ صلاۃ سے عام مہربانیاں اور رحمت سے خاص رحمت مراد ہے۔ رحمتوں کا انعام ذکر کرنے کے بعد فرمایا (وَ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُھْتَدُوْنَ ) کہ صابرین جو مصیبت کے وقت ( اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ) پڑھتے ہیں یہ لوگ اللہ کی قضا پر دل اور زبان سے رضا مندی ظاہر کر کے اور ( اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ) پڑھ کر حق اور ثواب کی راہ پانے والے ہیں۔ (بیضاوی ص ١١٨ ج ٢) حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ صابرین کے لیے صلوات اور رحمت کے وعدہ کے ساتھ ہی جو ان کو ہدایت یافتہ بتایا اور ان کی شان میں المھتدون فرمایا یہ زائد چیز بھی بہت عمدہ ہے۔ رحمتوں کا وعدہ بھی اور ہدایت پر ہونے کا اعلان بھی یہ سب کچھ نفع ہی نفع ہے اور خیر ہی خیر ہے۔ صبر سے متعلق چند فوائد فائدہ : (١) اس دنیا کا یہ مزاج ہے کہ دکھ تکلیف کا ہر ایک کو سامنا کرتا پڑتا ہے۔ اور نہ آرام ہمیشہ رہتا ہے اور نہ تکلیف ہمیشہ رہتی ہے۔ مومن بندے صبر اور شکر کو اختیار کرتے ہیں جو لوگ صبر نہیں کرتے اجر سے محروم ہوتے ہیں۔ شدہ شدہ کچھ دن کے بعد ان کو بھی صبر آہی جاتا ہے اور مصیبت کو بھول جاتے ہیں لیکن اس صبر کا کوئی اعتبار نہیں اجر وثواب اور فضیلت اسی صبر کے متعلق ہے جو عین مصیبت کے وقت ہو۔ حضرت ابو امامۃ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم اگر تو صدمہ اولیٰ کے وقت صبر کرے اور ثواب کی امید باندھے تو میں تیرے لیے جنت کے علاوہ کسی دوسرے ثواب سے راضی نہ ہوں گا۔ (یعنی تیرے صبر اور احتساب کا بدلہ جنت ہی ہے) ۔ (رواہ ابن ماجہ ص ١٤٤ ج ١) (صحیح بخاری ص ١٧١ ج ١ اور صحیح مسلم ص ٣٠٢ ج ١) میں ایک قصہ لکھا ہے جو حضرت انس (رض) سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک عورت پر گزر ہوا وہ ایک قبر کے پاس رو رہی تھی آپ نے اس سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈر اور صبر کر، اس عورت نے آپ کو پہچانا نہیں، کہنے لگی کہ ہٹو مجھے چھوڑ دو کیونکہ تمہیں وہ مصیبت نہیں پہنچی ہے جو مجھے پہنچی ہے (اگر تمہیں ایسی مصیبت پہنچتی تو پتہ چلتا کیسی مصیبت ہے۔ اس کے بعد آپ تشریف لے گئے) اس عورت سے کسی نے کہا کہ (تجھے معلوم ہے کہ کس کو تو نے بےڈھنگا جواب دیا ہے) آپ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے۔ یہ سن کر وہ عورت بار گاہ رسالت میں حاضر ہوئی دروازہ پر پہنچی تو وہاں دربان (چوکیدار) نہ پائے (حالانکہ) اس کو خیال تھا کہ آپ بہت ٹھاٹ باٹ سے رہتے ہوں گے اور آپ کے دروازہ پر بادشاہوں کی طرح دربان ہوں گے یہ دیکھ کر حیرت میں رہ گئی کہ سید الخلائق (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کیسی سادہ زندگی ہے، کہنے لگی یا رسول اللہ میں آپ کو پہچانی نہیں (اس لیے ایسا جواب دیا) آپ نے فرمایا اصلی صبر وہی ہے جو تازہ تازہ مصیبت کے موقع پر ہو (کیو ن کہ وقت گزر جانے پر خود ہی صبر آجاتا ہے) ۔ اس حدیث میں اسی خاص نکتہ کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قرآن و حدیث میں جو صبر کی فضیلتیں وارد ہوئی ہیں اس سے وہ صبر مراد ہے جو عین مصیبت اور تکلیف کے وقت ہو نیانیا حادثہ ہے ابھی ابھی کسی کی موت ہوئی ہے یا رقم کھو گئی ہے دل رنجیدہ ہے اس وقت اگر ہم نے صبر کرلیا تو اس صبر کی بہت بڑی قیمت ہے اور بہت بڑی فضیلت ہے بلکہ حقیقت میں صبر ہی وہ ہے جو دل دکھا ہوا ہونے کے وقت ہو کیونکہ جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے مصیبت کا احساس طبعی طور پر کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ کچھ دن کے بعد تکلیف کا بالکل احساس نہیں رہتا۔ وقت گزر جانے پر جب مصیبت بھول بھلیاں ہوگئی تو یہ نہ صبر ہے اور نہ اس کی کوئی فضیلت ہے اس میں مومن کافر سب برابر ہیں۔ جس صبر پر مومنین سے اجر کا وعدہ ہے اس سے وہی صبر مراد ہے جو اس وقت ہو جبکہ رنج تازہ ہو، دل بےچین ہو۔ طبیعت بےقرار ہو۔ برے برے وسوسے آ رہے ہوں۔ زبان اللہ پاک پر اعتراض کرنے کے لیے کھلنا چاہتی ہو۔ نفس خلاف شرع کاموں پر ابھارتا ہو۔ ایسی حالت میں صبر کرنا باعث اجر ہے۔ فائدہ : (٢) کسی کی موت پر دل کا رنجیدہ ہونا یا آنکھوں سے آنسو آجانا یا زبان سے رنج اور تکلیف کا اظہار کردینا یہ بےصبری نہیں ہے۔ صحیح بخاری میں ص ١٧٤ ج ١) ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صاحبزادہ حضرت ابراہیم (رض) کی جانکنی کے وقت تشریف لائے اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ (عام لوگ تو بچوں کی موت پر روتے ہی ہیں) بھلا آپ بھی رونے لگے آپ نے فرمایا یہ طبعی رحمت ہے (جو اللہ پاک نے دل میں رکھی ہے) پھر فرمایا کہ بیشک آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور دل غم زدہ ہے اور زبان سے ہم وہی کہتے ہیں جس سے ہمارا رب راضی ہو پھر فرمایا اے ابراہیم تمہاری جدائی سے ہم کو رنج ہے۔ اور ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ آنکھوں کے آنسوؤں اور دل کے رنج پر عذاب نہیں دیتا، لیکن وہ زبان کی وجہ سے عذاب دیتا ہے یا رحم فرماتا ہے۔ (ص ١٧٤ ج ١) یعنی زبان سے برے کلمات کہنے اور اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرنے پر گرفت اور عذاب ہے۔ اور اگر یوں کہا کہ میں اللہ کی قضا اور قدر پر راضی ہوں اس نے جو کچھ کیا بہتر ہے تو اسکی وجہ سے اللہ تعالیٰ رحم فرماتا ہے۔ فائدہ : (٣) جس طرح زبان سے برے کلمات نکالنا ممنوع ہے اور بےصبری ہے اسی طرح عمل سے کوئی ایسی حرکت کرنا جو صبر کے خلاف ہے یا غیر مسلموں کا طریقہ ہے اس کو اختیار کرنا بھی سخت ممنوع ہے۔ لوگوں کی عادت ہے کہ مصیبت، دکھ تکلیف کے وقت خاص کر جب کوئی بچہ فوت ہوجائے اپنے چہرے پر طمانچے مارتے ہیں۔ دیوار پر سر دے کر مارتے ہیں گریبان پھاڑتے ہیں۔ جاہلانہ الفاظ زبان سے نکالتے ہیں اور کہتے ہیں میرا ہی بچہ رہ گیا تھا جو اسے اللہ نے موت دی یہ سب جہالت ہے اور اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرنا کفر ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ وہ ہم میں سے نہیں ہے جو رخساروں پر طمانچے مارے اور گریبان پھاڑے اور جاہلیت کی دہائی دے۔ (صحیح مسلم ص ٧٠ ج ١) بعض علاقوں میں مرنے والے کے سوگ میں بال منڈا دیتے ہیں اور خاص کر عورتیں تو بہت ہی چیختی ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں اس سے بری ہوں جو (کسی کی موت پر) سرمونڈے آوازیں بلند کرے اور کپڑے پھاڑے۔ (صحیح مسلم ص ٧٠ ج ١) عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ عزیزوں کی موت پر چیختی ہیں اور چلاتی ہیں، گھر سے باہر آوازیں جاتی ہیں اور برس چھ مہینے تک جو بھی کوئی مہمان آئے اس کے سامنے زبردستی کا رونا لے کر بیٹھ جاتی ہیں اور نوحہ کرنا ان کی ایک خاص عادت ہے۔ میت کو خطاب کرکے کہتی ہیں اے میرے پیارے اے میرے جوان اے بیٹا تو کہاں گیا۔ مجھے کس پر چھوڑا تو ایسا تھا ویسا تھا، اور اس طرح کی بہت سی باتیں پکار پکار کر بیان کرتی ہیں اور رونا پیٹنا مہینوں تک کے لیے ان کا مشغلہ بن جاتا ہے۔ باو جود منع کرنے کے اور شرعی ممانعت کے جاننے کے نوحہ کرتی رہتی ہیں حدیث شریف میں ہے لعن اللّٰہ النائحۃ والمسمعۃ کہ اللہ کی لعنت ہو نوحہ کرنے والی پر اور اس کا نوحہ سننے والی پر (رواہ ابو داؤد) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نوحہ کرنے والی پر لعنت فرمائی اور ساتھ ہی نوحہ سننے والی پر بھی (کیونکہ نوحہ کرنے والی کا نوحہ سننے جو عورتیں جمع ہوں وہ بھی نوحہ کا سبب بنتی ہیں۔ عموماً نوحہ کرنے والی عورت تنہائی میں نوحہ نہیں کرتی) صحیح مسلم ص ٣٠٣ میں ہے کہ نوحہ کرنے والی موت سے پہلے توبہ نہ کرے گی تو قیامت کے دن اس حال میں کھڑی کی جائے گی کہ اس کے بدن پر ایک کرتہ قطران کا ہوگا اور ایک کرتہ کھجلی کا ہوگا۔ عرب میں قطران ایک درخت کا پانی ہوتا تھا جس کو کھجلی والے بدن پر لگاتے تھے اس کی خاصیت تیزاب جیسی تھی اس سے کھجلی جل جاتی تھی اور کھجلی جل کر آرام ہوجاتا نوحہ کرنے والی کے جسم پر قیامت کے دن اول تو کھجلی مسلط کی جائے گی۔ گویا کرتے کی جگہ کھجلی کا لباس ہوگا پھر اس کھجلی پر قطران لگا ہوا ہوگا جس کی وجہ سے مزید تکلیف ہوگی۔ دنیا میں رواج ہے کہ جب کسی کو ایگزیما اور داد ہوجاتا ہے تو اس پر تیزاب لگا دیتے ہیں۔ اس سے جو تکلیف ہوتی ہے بیان سے باہر ہے اور یہ تکلیف دنیا میں ہوتی ہے آخرت کی تکلیف دنیا کی تکلیفوں سے کہیں زیادہ ہے (العیاذ باللہ) پھر دنیا میں جو تیزاب لگاتے ہو اس سے ایگزیما اور داداچھا ہوجاتا ہے لیکن آخرت میں چونکہ عذاب دینا مقصود ہوگا۔ اس لیے قطران لگا ہوا ہونے سے کھجلی نہیں جائے گی بلکہ اور شدید تکلیف ہوتی رہے گی۔ فائدہ : (٤) (اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ) کے ساتھ ایک اور دعا بھی حدیث شریف میں وار ہوئی ہے۔ ام المومنین حضرت ام سلمہ (رض) نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جس کسی مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچ جائے اور وہ اللہ جل شانہ کے فرمان کے مطابق (اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ) پڑھے اور ساتھ ہی یہ بھی پڑھے : (اَللّٰھُمَّ اٰجِرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْھَا) ” اے اللہ میری مصیبت میں اجر عطا فرما اور اس کے بدلہ مجھے اس سے بہتر عنایت فرما۔ “ تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کو اس سے بہتر عطا فرمائے گا۔ جب ابو سلمہ کی وفات ہوگئی تو میں نے (دل میں) کہا کہ ابو سلمہ سے بہتر کون سا مسلمان ہوگا ؟ اس کا گھرانہ پہلا گھرانہ ہے جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہجرت کی۔ پھر بھی میں نے مذکورہ دعا پڑھ لی لہٰذا مجھے اللہ تعالیٰ نے ابو سلمہ کے بدلہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی عطا فرما دی۔ (یعنی آپ سے نکاح ہوگیا اور آپ ابو سلمہ سے بہتر ہیں۔ (صحیح مسلم ص ٣٠٠ ج ١) فائدہ : (٥) یہاں تک جو متعدد احادیث کا ترجمہ لکھا گیا اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے لیے دنیاوی تکالیف اور مصائب، امراض و آلام سب نعمت ہیں ان کے ذریعہ گناہ معاف ہوتے ہیں۔ درجات بلند ہوتے ہیں اور گناہوں کا کفارہ ہوجانے کی وجہ سے برزخ اور روز قیامت کے عذاب سے حفاظت ہوجاتی ہے۔ مومن بندوں پر لازم ہے کہ صبر و شکر کے ساتھ ہر حال کو برداشت کرتے چلیں اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی بہت زیادہ پختہ امید رکھیں اور یقین جانیں کہ ہمارے لیے صحت و عافیت بھی خیر ہے اور دکھ تکلیف بھی بہتر ہے۔ اصل تکلیف تو کافر کی تکلیف ہے۔ اسے تکلیف بھی پہنچی اور ثواب بھی نہ ملا۔ مومن کی تکلیف، تکلیف نہیں ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ مصیبت و تکلیف اور مرض کی دعا کیا کریں یا شفاء کی دعانہ مانگیں۔ کیونکہ جس طرح صبر میں ثواب ہے۔ شکر میں بھی ثواب ہے۔ سوال تو عافیت ہی کا کریں اور کرتے رہیں اور تکلیف پہنچ جائے تو صبر کریں۔ فائدہ : (٦) بہت سے لوگ جو آرام و راحت اور دکھ تکلیف کی حکمت اور اس بارے میں قانون الٰہی کو نہیں جانتے بہت سی بےتکی باتیں کہہ جاتے ہیں کہ جہان کی ساری مصیبتیں مسلمانوں پر ہی آپڑی ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ کافروں کو محلات اور قصور اور مسلمانوں کو صرف وعدہ حور، کبھی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے غیروں کو خوب نوازا ہے اور اپنوں کو فقر و فاقہ اور دوسری مصیبتوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ جاہل اتنی بات نہیں جانتے کہ اپنا ہونے ہی کی وجہ سے تو مسلمانوں کو تکلیفوں میں مبتلا فرمایا جاتا ہے تاکہ ان کے گناہ معاف ہوں۔ درجات بلند ہوں۔ اور آخرت میں گناہوں پر سزا نہ ہو۔ درحقیقت یہ بہت بڑی مہربانی ہے کہ دنیا کی تھوڑی بہت تکلیف میں مبتلا فرما کر آخرت کے شدید عذاب سے بچا دیا جاتا ہے اور کافروں کو چونکہ آخرت میں کوئی نعمت نہیں ملنی۔ کوئی آرام نصیب نہیں ہونا بلکہ ان کے لیے صرف عذاب ہی عذاب ہے۔ اس لیے ان کو دنیا زیادہ دے دی جاتی ہے اور ان پر مصیبتیں کم آتی ہیں۔ اگر کسی کافر نے خدمت خلق وغیرہ کا کوئی کام کیا تو اس کا عوض اس دنیا میں دے دیا جاتا ہے۔ لیکن آخرت میں اسے ذراسی بھی خیر اور معمولی سا بھی آرام نہ ملے گا۔ اور ابد الآباد تک دوزخ میں رہے گا۔ صحیح بخاری میں حضرت عمر (رض) سے مروی ہے۔ انہوں نے بیان فرمایا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا کیا دیکھتا ہوں کہ آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں۔ چٹائی اور آپ کے جسم کے درمیان کوئی بستر نہیں ہے۔ چٹائی کی بناوٹ نے آپ کے مبارک پہلوؤں میں نشان ڈال دئیے ہیں۔ آپ ایسے تکیہ سے ٹیک لگائے ہوئے ہیں جو چمڑے کا ہے۔ جس کے اندر کھجور کی چھال بھری ہوئی ہے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی امت کو خوب مال دیدے۔ کیونکہ فارس اور روم کے لوگوں کو وسعت دی گئی ہے اور وہ اللہ کی عبادت بھی نہیں کرتے۔ آپ نے فرمایا کہ اے ابن خطاب کیا تم (ابھی تک) اسی (سوچ بچار) میں پڑے ہو (تمہیں معلوم نہیں) کہ ان لوگوں کو عمدہ چیزیں اس دنیا میں دے دی گئی ہیں۔ (آخرت میں ان کو کچھ نہیں ملنا) ایک روایت میں ہے کہ آپ نے یوں فرمایا کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت ہو۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٤٤٧)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 4 یہ حضرت صابرین وہ لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی جانب سے خاص خاص عنایتیں بھی نازل ہونگی اور عام رحمت بھی جس میں سب شریک ہوں گے ان پر توجہ ہوگی اور یہی وہ لوگ ہیں جن کی صحیح اور حقیقی مصد کی جانب رہنمائی کی گئی ہے۔ (تیسیر) صلوۃ اور رحمت متقارب المعنی ہیں ابن عباس نے فرمایا یہاں صلوٰۃ سے مراد مغفرت ہے یا ثنا حسن ہے بعض نے کہا صلوٰۃ کے ساتھ رحمت محض تاکید کے لئے کہا گیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں پر رحمت کے بعد رحمت اور مہربانی پر مہربانی نازل ہوتی رہے گی گویا یہ لوگ پیہم اور متواتر مہربانیوں کے مستحق ہوں گے یا وہ مطلب ہے جس کی طرف ہم نے ترجمہ میں اشارہ کیا ہے کہ عام بندوں پر جو مہربانی ہونے والی ہے اس میں تو یہ شریک ہی ہونگے اور وہ مہربانی اور رحمت تو ان کو میسر ہی ہوگی۔ اس کے علاوہ ان حضرات پر خاص مہربانیاں اور عنایتیں بھی ہونگی جو ان کی شان اور ان کے مرتبے کے مناسب ان پر نازل ہونگی۔ صحیح مقصد سے مراد جنت ہے یا راہ حق وثواب ہے اور ہوسکتا ہے کہ صبر کرنے اور انا للہ وانا الیہ راجعون کہنے کی توفیق ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اصل حقیقت کی جانب رہنمائی ہو کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو مالک اور نقصان کا تدارک کرنیوالا جان گئے اور سمجھ گئے۔ (واللہ اعلم) آیات ماسبق میں کعبہ کی تعمیر کا قبلہ مقرر کرنا مذکور تھا بیچ میں اور بہت سے ضمنی مسائل آگئے تھے اب پھر ایک خاص مسئلہ کو بیان فرماتے ہیں جس کا تعلق مناسک حج کے ساتھ ہے اور مسلمانوں میں جو ایک غلط فہمی پھیلنے کا اندیشہ تھا اس کا ازالہ کرنا مقصود ہے تاکہ صفا اور مروہ کے درمیان جو سعی کی جاتی ہے اس کو ممنوع نہ سمجھا جائے چناچہ ارشاد فرماتے ہیں (تسہیل)