أُولَـيِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ
...
They are those on whom are the Salawat (i. e., who are blessed and will be forgiven) from their Lord, and (they are those who) receive His mercy,
meaning, Allah's praise and mercy will be with them.
Sa`id bin Jubayr added,
"Meaning, safety from the torment."
...
وَأُولَـيِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ
and it is they who are the guided ones.
Umar bin Al-Khattab commented:
"What righteous things, and what a great heights.
أُولَـيِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ
(They are those on whom are the Salawat from their Lord, and (they are those who) receive His mercy) are the two righteous things.
أُولَـيِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ
(and it is they who are the guided ones) are the heights."
The heights means more rewards, and these people will be awarded their rewards and more.
The Virtue of asserting that We all belong to Allah, during Afflictions
There are several Hadiths that mention the rewards of admitting that the return is to Allah by saying:
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
"Truly, to Allah we belong and truly, to Him we shall return."
when afflictions strike.
For instance, Imam Ahmad reported that Umm Salamah narrated:
Once, Abu Salamah came back after he was with Allah's Messenger and said: I heard Allah's Messenger recite a statement that made me delighted.
He said:
لاَا يُصِيبُ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ مُصِيبَةٌ فَيَسْتَرْجِعُ عِنْدَ مُصِيبَتِهِ ثُمَّ يقُولُ اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا إِلاَّ فَعَلَ ذلِكَ بِه
No Muslim is struck with an affliction and then says Istirja` when the affliction strikes, and then says: `O Allah! Reward me for my loss and give me what is better than it,' but Allah will do just that.
Umm Salamah said: So I memorized these words.
When Abu Salamah died I said Istirja` and said: "O Allah! Compensate me for my loss and give me what is better than it."
I then thought about it and said, "Who is better than Abu Salamah?"
When my Iddah (the period of time before the widow or divorced woman can remarry) finished, Allah's Messenger asked for permission to see me while I was dyeing a skin that I had. I washed my hands, gave him permission to enter and handed him a pillow, and he sat on it.
He then asked me for marriage and when he finished his speech, I said, "O Messenger of Allah! It is not because I do not want you, but I am very jealous and I fear that you might experience some wrong mannerism from me for which Allah would punish me. I am old and have children."
He said:
أمَّا مَا ذَكَرْتِ مِنَ الْغَيْرَةِ فَسَوْفَ يُذْهِبُهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْكِ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتِ مِنَ السِّنِّ فَقَدْ أَصَابَنِي مِثْلُ الَّذِي أَصَابَكِ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتِ مِنَ الْعِيَالِ فَإِنَّمَا عِيَالُكِ عِيَالِي
As for the jealousy that you mentioned, Allah the Exalted will remove it from you. As for your being old as you mentioned, I have suffered what you have suffered. And for your having children, they are my children too.
She said, "I have surrendered to Allah's Messenger."
Allah's Messenger married her and Umm Salamah said later,
"Allah compensated me with who is better than Abu Salamah: Allah's Messenger."
Muslim reported a shorter version of this Hadith.
امیر المومنین حضرت عمربن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں دوبرابر کی چیزیں صلوات اور رحمت اور ایک درمیان کی چیز یعنی ہدایت ان صبر کرنے والوں کو ملتی ہے ، مسند احمد میں ہے حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں میرے خاوند حضرت ابو سلمہ ایک روز میرے پاس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہو کر آئے اور خوشی خوشی فرمانے لگے آج تو میں نے ایک ایسی حدیث سنی ہے کہ میں بہت ہی خوش ہوا ہوں وہ حدیث یہ ہے کہ جس کسی مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچے اور وہ کہے دعا ( اللھم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرا منھا ) یعنی اللہ مجھے اس مصیبت میں اجر دے اور مجھے اس سے بہتر بدلہ عطا فرما تو اللہ تعالیٰ اسے اجر اور بدلہ ضرور دیتا ہے ، حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں میں نے اس دعا کو یاد کر لیا جب حضرت ابو سلمہ کا انتقال ہوا تو میں نے آیت ( انا للہ وانا الیہ راجعون ) پڑھ کر پھر یہ دعا بھی پڑلی لیکن مجھے خیال آیا کہ بھلا ابو سلمہ سے بہتر شخص مجھے کون مل سکتا ہے؟ جب میری عدت گذر چکی تو میں ایک روز ایک کھال کو دباغت دے رہی تھی کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت چاہی میں نے اپنے ہاتھ دھو ڈالے کھال رکھ دی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر تشریف لانے کی درخواست کی اور آپ کو ایک گدی پر بٹھا دیا آپ نے مجھ سے اپنا نکاح کرنے کی کوشش ظاہر کی ، میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو میری خوش قسمتی کی بات ہے لیکن اول تو میں بڑی باغیرت عورت ہوں ایسا نہ ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کے خلاف کوئی بات مجھ سے سرزد ہو جائے اور اللہ کے ہاں عذاب ہو دوسرے یہ کہ میں عمر رسیدہ ہوں ، تیسرے بال بچوں والی ہوں آپ نے فرمایا سنو ایسی بےجا غیرت اللہ تعالیٰ تمہاری دور کر دے گا اور عمر میں کچھ میں بھی چھوٹی عمر کا نہیں اور تمہارے بال بچے میرے ہی بال بچے ہیں میں نے یہ سن کر کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی عذر نہیں چنانچہ میرا نکاح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوگیا اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اس دعا کی برکت سے میرے میاں سے بہت ہی بہتر یعنی اپنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم عطا فرمایا فالحمد للہ صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث باختلاف الفاظ مروی ہے ، مسند احمد میں حضرت علی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کسی مسلمان کو کوئی رنج و مصیبت پہنچے اس پر گویا زیادہ وقت گذر جائے پھر اسے یاد آئے اور وہ انا للہ پڑھے تو مصیبت کے صبر کے وقت جو اجر ملا تھا وہی اب بھی ملے گا ، ابن ماجہ میں ہے حضرت ابو سنان فرماتے ہیں میں نے اپنے ایک بچے کو دفن کیا ابھی میں اس کی قبر میں سے نکلا نہ تھا کہ ابو طلحہ خولانی نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے نکالا اور کہا سنو میں تمہیں ایک خوشخبری سناؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک الموت سے دریافت فرماتا ہے تو نے میرے بندے کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور اس کا کلیجہ کا ٹکڑا چھین لیا بتا تو اس نے کیا کہا ؟ وہ کہتے ہیں اللہ تیری تعریف کی اور انا للہ پڑھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کے لیے جنت میں ایک گھر بناؤ اور اس کا نام بیت الحمد رکھو ۔