The root of this word, its grammatical form, and every other place in the Quran where the same root is used - with each of those verses one click away.
اَلربْحُ: وہ فائدہ جو خریدوفروخت سے حاصل ہو مجازاً ثمرۂ اعمال کو بھی رِبْحٌ کہا جاتا ہے۔اس کی نسبت کبھی سامان تجارت کی طرف ہوتی ہے اور کبھی صاحب سامان کی طرف۔چنانچہ قرآن پاک میں ہے: (فَمَا رَبِحَتۡ تِّجَارَتُہُمۡ ) (۲۔۱۶) سو نہ تو ان کی تجارت سودمند ہوئی۔کسی شاعر نے کہا ہے: (۱۷۱) قَرَوْا اَضْیَافَھُمْ رُبَحًا بِبَحِ بعض نے کہا ہے کہ رُبَحٌ ایک پرندے کا نام ہے اور بعض نے کہا ہے کہ رُبَحٌ بمعنیٰ چربی ہے لیکن ہمارے خیال میں رُبَحٌ سے مراد وہ چیز ہوتی ہے جو رِبْحٌ سے حاصل ہوئی ہو جیسا کہ نقص سے جو اثر ظاہر ہوتا ہے اسے نقص کہا جاتا ہے اور بُححَّ قرعہ اندازی یا قمار بازی کے تیر کو کہتے ہیں تو شعر کے معنیٰ یہ ہیں کہ انہوں نے اپنے مہمانوں کی مہمان داری سے تعریف کا بہت بڑا فائدہ حاصل کیا جیسا کہ دوسرے شاعر نے کہا ہے۔ (1) (طویل) (۱۷۲) فَاوْسَعَنِیْ حَمْدًا واَوْ سَعْتُہٗ قِرِیً وَاَرْخِضْ بِحَمْدٍ کان کَاسبُہٗ الْاَکْلُ اس نے میری تعریف میں فروگذاشت نہ کی اور میں نے بھی اس کی خوب مہمان نوازی کی وہ تعریف کتنی سستی ہے جو چند لقموں سے حاصل ہوجائے۔