Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 160

سورة البقرة

اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا وَ اَصۡلَحُوۡا وَ بَیَّنُوۡا فَاُولٰٓئِکَ اَتُوۡبُ عَلَیۡہِمۡ ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۶۰﴾

Except for those who repent and correct themselves and make evident [what they concealed]. Those - I will accept their repentance, and I am the Accepting of repentance, the Merciful.

مگر وہ لوگ جو توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں اور بیان کر دیں تو میں ان کی توبہ قبول کر لیتا ہوں اور میں توبہ قبول کرنے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ ... Except those who repent and do righteous deeds, and openly declare (the truth which they concealed). This Ayah refers to those who regret what they have been doing and correct their behavior and, thus, explain to the people what they have been hiding. ... فَأُوْلَـيِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ These, I will accept their repentance. And I am the One Who accepts repentance, the Most Merciful. This Ayah also indicates that those who used to call to innovation, or even disbelief, and repent to Allah, then Allah will forgive them. Allah afterwards states that;

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٩٩] صرف توبہ کرنا ہی کافی نہیں، بلکہ ان کے اس کتمان حق سے جو بگاڑ پیدا ہوا تھا۔ اس کی انہیں اصلاح بھی کرنا ہوگی۔ پھر اپنی غلطی کا لوگوں کے سامنے برملا اعتراف بھی کریں تو صرف ایسے لوگوں کی اللہ توبہ قبول کرے گا ورنہ نہیں۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک مصنف احکام الٰہی کی غلط تاویل کر کے اپنے ملحدانہ خیالات پر مشتمل ایک کتاب شائع کردیتا ہے، بعد میں توبہ کرلیتا ہے۔ لیکن اس کے جو ملحدانہ خیالات عوام میں پھیل چکے۔ جب تک وہ ان کی تردید میں اپنی دوسری کتاب لکھ کر اس پیدا شدہ بگاڑ کی اصلاح نہ کرے گا۔ اس کی توبہ قبول ہونے کی توقع نہ ہوگی اور یہی بینوا کا مفہوم ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اس دائرۂ لعنت سے نکلنے کی صرف ایک صورت ہے کہ یہ لوگ اپنی سابقہ کوتاہیوں سے تائب ہوں اور ندہ لوگوں کے سامنے حق کو صاف طور پر بیان کریں (جیسا کہ عبداللہ بن سلام اور صہیب (رض) نے کیا تھا) ، ورنہ جو لوگ اس حالت کفر میں مرگئے وہ ہمیشہ کے لیے لعنت میں گرفتار رہیں گے۔ اس آیت کی رو سے علماء کا اتفاق ہے کہ کفار پر نام لیے بغیر عام لعنت جائز ہے۔ اسی طرح جن کا کفر پر مرنا ثابت ہو ان پر بھی لعنت جائز ہے، البتہ کسی زندہ مسلم یا کافر پر نام لے کر لعنت کرنا جائز نہیں، کیونکہ کیا خبر اللہ تعالیٰ موت سے پہلے اسے توبہ کی توفیق دے دے، جیسا کہ ابوسفیان اور عکرمہ بن ابی جہل وغیرہ کو ایمان لانے کی توفیق عطا ہوگئی تھی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَبَيَّنُوْا فَاُولٰۗىِٕكَ اَتُوْبُ عَلَيْہِمْ۝ ٠ ۚ وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۝ ١٦٠ توب التَّوْبُ : ترک الذنب علی أجمل الوجوه وهو أبلغ وجوه الاعتذار، فإنّ الاعتذار علی ثلاثة أوجه : إمّا أن يقول المعتذر : لم أفعل، أو يقول : فعلت لأجل کذا، أو فعلت وأسأت وقد أقلعت، ولا رابع لذلک، وهذا الأخير هو التوبة، والتَّوْبَةُ في الشرع : ترک الذنب لقبحه والندم علی ما فرط منه، والعزیمة علی ترک المعاودة، وتدارک ما أمكنه أن يتدارک من الأعمال بالأعمال بالإعادة، فمتی اجتمعت هذه الأربع فقد کملت شرائط التوبة . وتاب إلى الله، فذکر «إلى الله» يقتضي الإنابة، نحو : فَتُوبُوا إِلى بارِئِكُمْ [ البقرة/ 54] ( ت و ب ) التوب ( ن) کے معنی گناہ کے باحسن وجود ترک کرنے کے ہیں اور یہ معذرت کی سب سے بہتر صورت ہے کیونکہ اعتذار کی تین ہی صورتیں ہیں ۔ پہلی صورت یہ ہے کہ عذر کنندہ اپنے جرم کا سرے سے انکار کردے اور کہہ دے لم افعلہ کہ میں نے کیا ہی نہیں ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے لئے وجہ جواز تلاش کرے اور بہانے تراشے لگ جائے ۔ تیسری صورت یہ ہے کہ اعتراف جرم کے ساتھ آئندہ نہ کرنے کا یقین بھی دلائے افرض اعتزار کی یہ تین ہی صورتیں ہیں اور کوئی چوتھی صورت نہیں ہے اور اس آخری صورت کو تو بہ کہا جاتا ہ مگر شرعا توبہ جب کہیں گے کہ گناہ کو گناہ سمجھ کر چھوڑ دے اور اپنی کوتاہی پر نادم ہو اور دوبارہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرے ۔ اگر ان گناہوں کی تلافی ممکن ہو تو حتی الامکان تلافی کی کوشش کرے پس تو بہ کی یہ چار شرطیں ہیں جن کے پائے جانے سے توبہ مکمل ہوتی ہے ۔ تاب الی اللہ ان باتوں کا تصور کرنا جو انابت الی اللہ کی مقتضی ہوں ۔ قرآن میں ہے ؛۔ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعاً [ النور/ 31] سب خدا کے آگے تو بہ کرو ۔ صلح والصُّلْحُ يختصّ بإزالة النّفار بين الناس، يقال منه : اصْطَلَحُوا وتَصَالَحُوا، قال : أَنْ يُصْلِحا بَيْنَهُما صُلْحاً وَالصُّلْحُ خَيْرٌ [ النساء/ 128] ( ص ل ح ) الصلاح اور الصلح کا لفظ خاص کر لوگوں سے باہمی نفرت کو دورکر کے ( امن و سلامتی پیدا کرنے پر بولا جاتا ہے ) چناچہ اصطلحوا وتصالحوا کے معنی باہم امن و سلامتی سے رہنے کے ہیں قرآن میں ہے : أَنْ يُصْلِحا بَيْنَهُما صُلْحاً وَالصُّلْحُ خَيْرٌ [ النساء/ 128] کہ آپس میں کسی قرار داد پر صلح کرلیں اور صلح ہی بہتر ہے ۔ تَّوَّاب والتَّوَّاب : العبد الکثير التوبة، وذلک بترکه كلّ وقت بعض الذنوب علی الترتیب حتی يصير تارکا لجمیعه، وقد يقال ذلک لله تعالیٰ لکثرة قبوله توبة العباد «2» حالا بعد حال . وقوله : وَمَنْ تابَ وَعَمِلَ صالِحاً فَإِنَّهُ يَتُوبُ إِلَى اللَّهِ مَتاباً [ الفرقان/ 71] ، أي : التوبة التامة، وهو الجمع بين ترک القبیح وتحري الجمیل . عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ مَتابِ [ الرعد/ 30] ، إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ [ البقرة/ 54] . التواب یہ بھی اللہ تعالیٰ اور بندے دونوں پر بولا جاتا ہے ۔ جب بندے کی صعنت ہو تو اس کے معنی کثرت سے توبہ کرنے والا کے ہوتے ہیں ۔ یعنی وہ شخص جو یکے بعد دیگرے گناہ چھوڑتے چھوڑتے بالکل گناہ کو ترک کردے اور جب ثواب کا لفظ اللہ تعالیٰ کی صفت ہو تو ا س کے معنی ہوں گے وہ ذات جو کثرت سے بار بار بندوں کی تو بہ قبول فرماتی ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ [ البقرة/ 54] بیشک وہ بار بار توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ وَمَنْ تابَ وَعَمِلَ صالِحاً فَإِنَّهُ يَتُوبُ إِلَى اللَّهِ مَتاباً [ الفرقان/ 71] کے معنی یہ ہیں کہ گناہ ترک کرکے عمل صالح کا نام ہی مکمل توبہ ہے ۔ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ مَتابِ [ الرعد/ 30] میں اس پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے : الا الذین تابو واصلحو وبینوا ( البتہ جو لوگ اس روش سے باز آ جائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں اور جو کچھ چھپاتے ہیں ( اسے بیان کرنے لگیں) یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ کتمان علم سے توبہ صرف اظہار بیان کے ذریعے ہوسکتی ہے اور توبہ کے لیے اتنی بات کافی نہیں ہے کہ ماضی میں کتمان پر ندامت کا اظہار کردیاجائے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٦٠) مگر جن حضرات نے یہودیت سے توبہ کی اور توحید کے قائل ہوگئے اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعریف و توصیف کو بیان کیا تو میں ایسے لوگوں کو معاف کروں گا اور میں توبہ کرنے والوں کو معاف کرنے والا ہوں اور جو توبہ کے بعد مرے اس پر رحم کرتا ہوں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٦٠ (اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَبَیَّنُوْا) (فَاُولٰٓءِکَ اَتُوْبُ عَلَیْہِمْ ج) میں اپنی نگاہ التفات ان کی طرف متوجہ کر دوں گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:160) الا الذین ۔۔ الخ استثناء متصل ہے اور ضمیر ہم (جو یلعنم میں ہے) مستثنی، منہ ہے۔ تابوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ توبۃ (باب نصر) مصدر۔ انہوں نے توبہ کی۔ وہ باز آگئے۔ جب توبۃ کا تعدیہ الیٰ کے ذریعہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ اور انابت کے معنی ہوتے ہیں۔ اور جب تعدیہ علی سے ہوتا ہے تو توبہ قبول کرنے کے معنی آتے ہیں۔ بندہ کا توبہ کرنا۔ معصیت کے بعد اسے چھوڑ کر نیکی اور اطاعت کی طرف واپس آنا ہے۔ اصلحوا۔ ماضی جمع مذکر غائب اصلاح (افعال) مصدر انہوں نے اپنی اصلاح کی۔ وہ سنور گئے انہوں نے اپنے کام کو درست کیا۔ انہوں نے نیک کام کئے۔ بینوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ بتیین (تفعیل) مصدر انہوں نے بیان کیا۔ مطلب یہ ہے کہ علماء اہل کتاب جو رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق کتب سماویہ میں مندرج صفات کو خلائق سے وابستہ چھپا رکھتے تھے۔ اور بدیں وجہ مستوجب لعن ٹھہرے۔ ان میں سے جو توبہ کرکے اپنے اس گناہ سے باز آگئے۔ اپنے آپ کی اصلاح کرلی۔ اور حقائق کو کما حقہ۔ لوگوں سے بیان کردیا (تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرلے گا) ۔ اولئک۔ سے مراد الذین تابوا واصلحوا وبینوا ہیں۔ اتوب علیہم۔ اتوب۔ مضارع واحد متکلم۔ چونکہ تعدیہ علی کے ساتھ ہیں اور فعل کی نسبت اللہ تعالیٰ سے ہے اس لئے مطلب ہوا کہ : میں (یعنی اللہ) ان کی توبہ قبول کرلوں گا۔ ان کو معاف کر دوں گا ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ہے۔ التواب۔ فعال کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے ۔ بہت توبہ قبول کرنے والا۔ توبۃ سے مشتق ہے اگر اس کی نسبت بندہ سے ہو۔ تو معنی ہوں گے بہت توبہ کرنے والا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

لعنت کا مفہوم ہے قہر وغضب سے دھتکارنا ۔ اللہ کی لعنت یہ ہوگی کہ وہ انہیں اپنی رحمت سے باہر نکال دے اور پھر ہر طرف سے لعنت کرنے والے ان کا پیچھا کررہے ہوں گے ۔ یو وہ درگاہ الٰہی سے بھی راندہ ہوں گے اور مسلمانوں کی طرف سے بھی دھتکارے جائیں گے ۔ إِلا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا فَأُولَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ” البتہ جو اس روش سے باز آجائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں اور جو کچھ چھپاتے تھے ، اسے بیان کرنے لگیں ، ان کو میں معاف کروں گا۔ میں بڑا درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں۔ “ اس تنبیہ وتہدید کے باوجود قرآن کریم توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔ اس سے وہ روشنی پاتے ہیں اور رشتہ امل ٹوٹنے نہیں پاتا ۔ اس طرح دل نور کے سرچشمے کی طرف کھنچتے ہیں اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے ۔ اللہ کی عفو و درگزر کی امید باقی رہتی ہے ۔ اس لئے جو چاہے ، جس وقت بھی چاہے صدق نیت سے ، اس دارالامن میں داخل ہوجائے۔ سچی توبہ کی نشانی کیا ہوگی ؟ عمل میں تبدیلی اور اصلاح ، صاف صاف بات کرنا ، حق کا اعتراف کرنا ، اور حق کے تقاضے پورے کرنا ۔ اور جو لوگ توبہ کرلیں وہ یقیناً اللہ کی رحمت سے بہرہ ور ہوں گے ، ان کی توبہ قبول ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ” اور میں بڑا درگز کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں۔ “ یقیناً ایسا ہوگا کیونکہ ، بات کرنے والوں میں اللہ تعالیٰ سب سے صادق القول ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حق چھپانے اور گمراہ کرنے والوں کی توبہ کی شرائط : صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا ای رجعوا عن الکتمان أوعنہ و عن سائر ما یجب أن یتاب عنہ۔ (ص ٢٨ ج ٢) (یعنی وہ لوگ لعنت سے بچ جائیں گے جنہوں نے علم کے چھپانے سے اور ہر اس عمل سے توبہ کی جس سے توبہ کرنا لازم ہے) ۔ پھر فرمایا وَ اَصْلَحُوْا۔ اس کی تفسیر کرتے ہوئے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : اصلحوا ما افسدوا بالتدارک فیما یتعلق بحقوق الحق والخلق و من ذلک أن یصلحوا قومھم بالارشاد الی الاسلام بعد الاضلال وان یزیلوا الکلام المحرف ویکتبوا مکانہ ما کانوا ازالوہ عنہ التحریف۔ ” یعنی توبہ کرنے کے ساتھ اصلاح بھی کریں، جو فساد کیا تھا اس کو دور کریں حق کے چھپانے کی وجہ سے خالق جل مجدہ اور مخلوق کے جو حقوق تلف ہوئے تھے ان کا تدارک کریں اور جن لوگوں کو گمراہ کیا تھا ان کو اسلام قبول کرنے کی طرف دعوت دیں اور بتادیں کہ ہم نے تم کو حق سے روکا تھا حق یہ ہے کہ جو ہم اب کہہ رہے ہیں اور اللہ کی کتاب میں جو کچھ تحریف کی تھی اس کو درست کردیں۔ غلط کو ہٹا دیں اور صحیح کو اس کے قائم مقام کردیں۔ “ پھر فرمایا : وَبَیَّنُوْا، اس کی تفسیر کرتے ہوئے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : أی اظھر و اما بینہ اللہ تعالیٰ للناس معاینۃ۔۔” یعنی اللہ تعالیٰ شانہ نے جو کچھ بیان فرمایا تھا اور انہوں نے اس کو چھپا دیا تھا اب اس کو خوب واضح طور پر بیان کریں۔ “ نیز صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : وبھذین الامرین تتم التوبۃ۔ یعنی جن لوگوں نے حق کو چھپایا فساد کیا لوگوں کو گمراہی پر ڈالا ان کی توبہ اسی وقت پوری ہوگی جب وہ اصلاح بھی کریں اور بیان بھی کریں۔ ان کے قول و فعل سے جو خرابیاں پیدا ہوئیں اور عوام و خواص میں جو گمراہی پھیلی اس کی تلافی کریں جو حقوق تلف ہوئے ہیں ان کا تدارک کریں۔ یہ بات بہت اہم ہے جس کی طرف لوگوں کو بہت کم توجہ ہوتی ہے۔ بہت سے آزاد خیال لوگ جو اہل حق کو چھوڑ کر خودرو مجتہد اور مجدد بن جاتے ہیں اور مصنف اور مضمون نگار ہونے کے زعم میں زور قلم دکھاتے ہیں ایسے لوگ اہل سنت والجماعت سے ہٹ کر اپنی راہ نکالتے ہیں اور اسی کی اشاعت کرتے ہیں یہ لوگ اگر توبہ کرنے لگیں تو صرف تنہائی میں توبہ کرنا کافی نہیں ہے ان لوگوں پر لازم ہے کہ صاف صاف اعلان کریں اور عوام کو بتائیں کہ فلاں فلاں عقیدہ یا عمل کی جو ہم نے اہل السنت والجماعت کے مسلک کے خلاف تبلیغ و اشاعت کی ہے وہ غلط ہے آج کل فتنوں کا دور ہے۔ بہت سے لوگ صریح کفر اختیار کرلیتے ہیں اور اس کی تبلیغ و اشاعت بھی کرتے رہتے ہیں۔ پھر جب توبہ کرتے ہیں تو چپکے سے توبہ کرکے گھر میں بیٹھ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر لازم ہے کہ (تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا) تینوں پر عمل کریں۔ فائدہ اولیٰ : جہاں علم دین کا چھپانا گناہ ہے۔ وہاں یہ بات بھی جان لینا ضروری ہے کہ جو شخص واقعی عالم ہو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ سے واقف ہو حلال حرام کا علم رکھتا ہو مسائل سے پوری طرح واقف ہو مسئلہ بتانے فتوی دینے کا مقام اسی شخص کا ہے۔ غلط مسئلہ بتانے کا و بال بھی بہت زیادہ ہے۔ حضرت ابو ہریرۃ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : من سئل من علمہ ثم کتمہ الجم یوم القیامۃ بلجام من نار۔ کہ جس شخص سے علم کی بات پوچھی گئی جسے وہ جانتا تھا پھر اس نے اس کو چھپایا تو قیامت کے دن اس کو آگ کی لگام ڈالی جائے گی۔ (سنن التر مذی ابواب العلم) اس میں لفظ عملہ جو زیادہ فرمایا ہے یہ اس بات کو واضح کر رہا ہے کہ جو شخص جانتا ہو بتانے کی ذمہ داری اسی کی ہے بےعلم اگر دینی بات بتانے کی جرأت کرے گا تو گمراہی کے گڑھے میں گرے گا اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے گا۔ صحیح بخاری ص ٧١٠ ج ٢ میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا کہ اے لوگو ! جسے علم کی کوئی چیز معلوم ہو تو وہ اسے بتادے اور جسے معلوم نہ ہو تو اللہ اعلم کہہ دے (یعنی اللہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے) ...... اس لیے کہ یہ بھی علم کی بات ہے کہ جو کچھ نہ جانتا ہو اس کے بارے میں اللہ اعلم کہہ دے اور خواہ مخواہ اپنے پاس سے نہ بتاوے اور بتکلف عالم نہ بنے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا ہے (قُلْ مَا اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِیْنَ ) (آپ فرما دیجیے کہ میں تم سے اس پر کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا اور میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ ) اسی لیے علماء نے فرمایا کہ لا ادری نصف العلم (یعنی یہ کہہ دینا کہ میں نہیں جانتا یہ آدھا علم ہے) بہت سے ناقص العلم آدمیوں کو دیکھا جاتا ہے کہ ان کے ہاں لا ادری کا خانہ ہی نہیں ہے ہر بات بتانے کو تیار ہیں اور علم پڑھے بغیر دینی کتابیں لکھتے ہیں غلط مسائل جمع کرتے ہیں اور یہ بھی لکھا گیا کہ جب کسی اچھے علم والے ماہر مفتی سے کوئی شخص مسئلہ پوچھے تو وہ ابھی غور ہی کر رہا ہے لیکن پاس کے بیٹھنے والے جاہلوں نے بتا کر بات ختم بھی کردی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوتا ہے کہ دینی ذمہ داری اور آخرت کے مواخذہ کا احساس نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ (اَجْرَءُ کُمْ عَلَی الْفُتْیَا اَجْرَءُ کُمْ عَلَی النَّارِ ) (یعنی تم میں جو شخص فتوی دینے میں زیادہ جری ہے وہ دوزخ میں جانے پر زیادہ جرأت کرنے والا ہے) ۔ (سنن الدارمی ص ٥٣ ج ١) درحقیقت قرآن کے معنی بتانا یا حدیث کی روایت کرنا یا مسئلہ بتانا بہت بڑی ذمہ داری کی بات ہے۔ حضرت محمد بن المنکدر نے فرمایا کہ بلاشبہ عالم (جو علم کی باتیں بتاتا ہو) وہ اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان واسطہ بن جاتا ہے۔ اب اس ذمہ داری سے نکلنے کا راستہ سوچے (سنن الدارمی ص ٥٠ ج ١) نکلنے کا راستہ یہ ہے کہ اٹکل سے اور بھر پور علم کے بغیر باتیں نہ بتائے اور جو کوئی بات معلوم نہ ہو، صاف نہ ہو، صاف کہہ دے کہ مجھے معلوم نہیں۔ حضرت ابو ہریرۃ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس کو کوئی فتوی دیا گیا جو علم اور تحقیق کے بغیر تھا تو اس کا گناہ اسی پر ہے جس نے اسے فتوی دیا۔ (سنن دارمی ٥٣ ج ١ وسنن ابو داؤد ص ١٥٩ ج ٢) اول تو مسئلہ خوب تحقیق کے بعد بتائیں پھر بھی اگر غلطی ہوجائے تو اپنی غلطی کا اعلان کریں اور جسے فتوی دیا ہو اسے تلاش کریں اور بتائیں کہ ہم سے غلطی ہوگئی، صحیح مسئلہ یہ ہے۔ فائدہ ثانیہ : علم کی باتوں کو چھپانا گناہ ہے جیسا کہ مذکورہ بالا آیت اور حدیث سے معلوم ہوا لیکن بتانے والے کو یہ بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ سائل جو کچھ پوچھ رہا ہے وہ اس کے جو اب کو سمجھنے کا اہل ہے بھی یا نہیں۔ اور اگر سمجھ بھی لے گا تو اس سے مطلب کیا نکالے گا اور لوگوں میں یہ بات مشہور ہوگی تو وہ اس کو سمجھ پائیں گے یا نہیں اور کسی فتنہ میں تو نہ پڑجائیں گے۔ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو وہ باتیں بتاؤ جو جانتے پہچانتے ہوں (ان کی عقل و فہم سے اونچی باتیں کرو گے تو وہ اللہ و رسول کی تکذیب کریں گے) کیا تم پسند کرتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کی جائے (بخاری ص ٢٤ ج ١) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ (رض) سے فرمایا : من لقی اللہ لا یشرک بہ شیئا دخل الجنۃ (کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ اس نے شرک نہ کیا ہو تو جنت میں داخل ہوگا) ۔ انہوں نے عرض کیا لوگوں کو اس کی خوشخبری نہ دے دوں ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں، مجھے ڈر ہے کہ لوگ (اسی پر) بھروسہ کر بیٹھیں گے (اور اعمال چھوڑ دیں گے) ۔ (صحیح بخاری ص ٢٤ ج ١) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا کہ ان الذی یفتی الناس فی کل ما یستفی المجنون۔ (جو شخص لوگوں کے ہر استفتاء کا جواب دے وہ دیوانہ ہے۔ (سنن دارمی ص ٥٦ ج ١، ورواہ الطبرانی فی الکبیر کمافی جمع الفوائد)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

294 یہ ماقبل سے استثناء ہے اور تَابُواْ سے مراد یہ ہے کہ امر قبلہ اور صفا ومروہ کے معاملہ میں انہوں نے حق بات چھپانے سے توبہ کرلی اور اصلحوا کا مطلب یہ ہے کہ اپنی اصلاح کرلی اور حق بات کو مان لیا اور بینوا سے مراد یہ ہے کہ جس حق کو چھپاتے رہے یعنی امر قبلہ اور معاملہ صفا ومروہ۔ اب اسے خوب بیان کیا اور اس کی خوب اشاعت کی۔ فَاُولٰۗىِٕكَ اَتُوْبُ عَلَيْهِمْ ۔ یعنی میں ایسی توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرلیتا ہوں۔ وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ ۔ اور نہ صرف توبہ ہی قبول کرتا ہوں بلکہ پچھلے گناہ معاف کر کے اس کو اپنی رحمت میں لے لیتا ہوں یہ تو ان علماء کا حکم تھا جو تحویل قبلہ اور صفا ومروہ کے شعائر اللہ میں سے ہونے کو حق جانتے تھے اور پھر جان بوجھ کر حق چھپاتے تھے لیکن بعد میں توبہ کرلی۔ اب آگے ان لوگوں کا حکم بیان فرمایا جو سرے سے ان باتوں کو مانتے ہی نہ تھے اور ان کا انکار کرتے تھے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi