Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 165

سورة البقرة

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّتَّخِذُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَنۡدَادًا یُّحِبُّوۡنَہُمۡ کَحُبِّ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ ؕوَ لَوۡ یَرَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اِذۡ یَرَوۡنَ الۡعَذَابَ ۙ اَنَّ الۡقُوَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیۡعًا ۙ وَّ اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعَذَابِ ﴿۱۶۵﴾

And [yet], among the people are those who take other than Allah as equals [to Him]. They love them as they [should] love Allah . But those who believe are stronger in love for Allah . And if only they who have wronged would consider [that] when they see the punishment, [they will be certain] that all power belongs to Allah and that Allah is severe in punishment.

بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں ، جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں کاش کہ مشرک لوگ جانتے جب کہ اللہ کے عذاب کو دیکھ کر ( جان لیں گے ) کہ تمام طاقت اللہ ہی کو ہے اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے ( تو ہرگِز شرک نہ کرتے ) ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Condition of the Polytheists in this Life and the Hereafter In these Ayat, Allah mentions the condition of the polytheists in this life and their destination in the Hereafter. Allah says; وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللّهِ أَندَاداً يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللّهِ ... And of mankind are some who take (for worship) others besides Allah as rivals (to Allah). They love them as they love Allah. They appointed equals and rivals with Allah, worshipping them along with Allah and loving them, just as they love Allah. However, Allah is the only deity worthy of worship, Who has neither rival nor opponent nor partner. It is reported in the Sahihayn that Abdullah bin Mas`ud said: I said, "O Messenger of Allah! What is the greatest sin" He said: أَنْ تَجْعَلَ للهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَك To appoint a rival to Allah while He Alone has created you. Allah said: ... وَالَّذِينَ امَنُواْ أَشَدُّ حُبًّا لِّلّهِ ... But those who believe, love Allah more (than anything else). Because these believers love Allah, know His greatness, revere Him, believe in His Oneness, then they do not associate anything or anyone with Him in the worship. Rather, they worship Him Alone, depend on Him and they seek help from Him for each and every need. Then, Allah warns those who commit Shirk, ... وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُواْ إِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلّهِ جَمِيعاً ... If only, those who do wrong could see, when they will see the torment, that all power belongs to Allah. if these people knew what they will face and the terrible punishment they are to suffer because of their disbelief and Shirk (polytheism), then they would shun the deviation that they live by. ... وَأَنَّ اللّهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ and that Allah is severe in punishment. Allah mentions their false beliefs in their idols, and that those they followed will declare their innocence of them. Allah said:

محبت اللہ تعالیٰ یا اپنی پسند سے؟ اس آیت میں مشرکین کا دنیوی اور اخروی حال بیان ہو رہا ہے ، یہ اللہ کا شریک مقرر کرتے ہیں اس جیسا اوروں کو ٹھہراتے ہیں اور پھر ان کی محبت اپنے دل میں ایسی ہی جماتے ہیں جیسی اللہ کی ہونی چاہئے حالانکہ وہ معبود برحق صرف ایک ہی ہے ، وہ شریک اور حصہ داری سے پاک ہے بخاری و مسلم میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے پوچھا یارسول اللہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا حالانکہ پیدا اسی اکیلے نے کیا ہے ۔ پھر فرمایا ایماندار اللہ تعالیٰ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں ان کے دل عظمت الہٰی اور توحید ربانی سے معمور ہوتے ہیں ، وہ اللہ کے سوا دوسرے سے ایسی محبت نہیں کرتے کسی اور سے طرف التجا کرتے ہیں نہ دوسروں کی طرف جھکتے ہیں نہ اس کی پاک ذات کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں ۔ پھر ان مشرکین کو جو اپنی جانوں پر شرک کے بوجھ کا ظلم کرتے ہیں انہیں اس عذاب کی خبر پہنچاتا ہے کہ اگر یہ لوگ اسے دیکھ لیں تو یقین ہو جائے کہ قدرتوں والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ، تمام چیزیں اسی کے ماتحت اور زیر فرمان ہیں اور اس کا عذاب بڑا بھاری ہے جیسے اور جگہ ہے کہ اس دن نہ تو اس کے عذاب جیسا کوئی عذاب کر سکتا ہے نہ اس کی پکڑ جیسی کسی کی پکڑ ہو سکتی ، دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ اگر انہیں اس منظر کا علم ہوتا تو یہ اپنی گمراہی اور شرک وکفر پر ہرگز نہ اڑتے ۔ اس دن ان لوگوں نے جن جن کو اپنا پیشوا بنا رکھا تھا وہ سب ان سے الگ ہو جائیں گے ، فرشتے کہیں گے اللہ ہم ان سے بیزار ہیں یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے اللہ تری ذات پاک ہے تو ہی ہمارا ولی ہے ، یہ لوگ تو جنات کی عبادت کرتے ہیں انہیں پر ایمان رکھتے تھے ، اسی طرح جنات بھی ان سے بیزاری کا اعلان کریں گے اور صاف صاف ان کے دشمن ہو جائیں گے اور عبادت سے انکار کریں گے اور جگہ قرآن میں ہے کہ یہ لوگ جن جن کی عبادت کرتے تھے وہ سب کے سب قیامت کے دن آیت ( سَيَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا ) 19 ۔ مریم:82 ) ان کی عبادت سے انکار کریں گے اور ان کے دشمن بن جائیں گے ، حضرت خلیل اللہ علیہ السلام کا فرمان ہے آیت ( اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا ۙ مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ) 29 ۔ العنکبوت:25 ) تم نے اللہ کے سوا بتوں کی محبت دل میں بٹھا کر ان کی پوجا شروع کر دی ہے قیامت کے دن وہ تمہاری عبادت کا انکار کریں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور تمہارا مددگار کوئی نہ ہو گا ، اسی طرح اور جگہ ہے آیت ( وَلَوْ تَرٰٓى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ښ يَرْجِــعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِۨ الْقَوْلَ ۚ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْا لَوْلَآ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِيْنَ ) 34 ۔ سبأ:31 ) یعنی یہ ظالم رب کے سامنے کھڑے ہوئے ہوں گے اور اپنے پیشواؤں سے کہہ رہے ہوں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایماندار بن جاتے ، وہ جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں اللہ پرستی سے روکا ؟حقیقت یہ ہے کہ تم خود مجرم تھے ، وہ کہیں گے تمہاری دن رات کی مکاریاں تمہارے کفرانہ احکام تمہاری شرف کی تعلیم نے ہمیں پھانس لیا ، اب سب دل سے نادم ہوں گے اور ان کی گردنوں میں ان کے برے اعمال کے طوق ہوں گے اور جگہ ہے کہ اس دن شیطان بھی کہے گا آیت ( اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ ) 14 ۔ ابراہیم:22 ) یعنی اللہ کا وعدہ تو سچا تھا اور میں تمہیں جو سبز باغ دکھایا کرتا تھا وہ محض دھوکہ تھا لیکن تم پر میرا کوئی زور تو نہیں تھا میں نے تمہیں صرف کہا اور تم نے منظور کر لیا اب مجھے ملازمت کرنے سے کیا فائدہ؟ اب اپنی جانوں کو لعنت ملامت کرو ۔ نہ میں نے تمہاری مدد کر سکتا ہوں نہ تم میری میں تمہارے اگلے شرک سے کوئی واسطہ نہیں جان لو کہ ظالموں کے لئے درناک عذاب ہے پھر فرمایا کہ وہ عذاب دیکھ لیں گے اور اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے نہ کوئی بھاگنے کی جگہ رہے گی نہ چھٹکارے کی کوئی صورت نظر آئے گی دوستیاں کٹ جائیں گی رشتے ٹوٹ جائیں گے ۔ اور بلادلیل باتیں ماننے والے بےوجہ اعتقاد رکھنے والے پوجا پاٹ اور اطاعت کرنے والے جب اپنے پیشواؤں کو اس طرح بری الذمہ ہوتے ہوئے دیکھیں گے تو نہایت حسرت ویاس سے کہیں گے کہ اگر اب ہم دنیا میں لوٹ جائیں تو ہم بھی ان سے ایسے ہی بیزار ہو جائیں جیسے یہ ہم سے ہوئے نہ ان کی طرف التفات کریں نہ ان کی باتیں مانیں نہ انہیں شریک اللہ سمجھیں بلکہ اللہ واحد کی خالص عبادت کریں ۔ حالانکہ اگر درحقیقت یہ لوٹائے بھی جائیں تو وہی کریں گے جو اس سے پہلے کرتے تھے جیسے فرمایا آیت ( وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ ) 6 ۔ الانعام:28 ) اسی لئے یہاں فرمایا اللہ تعالیٰ ان کے کرتوت اسی طرح دکھائے گا ان پر حسرت وافسوس ہے یعنی اعمال نیک جو تھے وہ بھی ضائع ہو گئے جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاۗءً مَّنْثُوْرًا ) 25 ۔ الفرقان:23 ) اور جگہ ہے آیت ( اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِۨ اشْـتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍ ) 14 ۔ ابراہیم:18 ) اور جگہ ہے آیت ( اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۢ بِقِيْعَةٍ يَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَاۗءً ) 24 ۔ النور:48 ) یعنی ان کے اعمال برباد ہیں ان کے اعمال کی مثال راکھ کی طرح ہے جسے تند ہوائیں اڑا دیں ، ان کے اعمال ریت کی طرح ہیں جو دور سے پانی دکھائی دیتا ہے مگر پاس جاؤ تو ریت کا تودا ہوتا ہے ۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ لوگ آگ سے نکلنے والے نہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

165۔ 1 مذکورہ دلائل کے باوجود ایسے لوگ ہیں جو اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو شریک بنا لیتے ہیں اور ان سے اسی طرح کی محبت کرتے ہیں جس طرح اللہ سے کرنی چاہیے، بعثت محمدی کے وقت ہی ایسا نہیں تھا بلکہ شرک کے یہ مظاہر آج بھی عام ہیں، بلکہ اسلام کے نام لیواؤں کے اندر بھی یہ بیماری گھر کرگئی ہے۔ انہوں نے نہ صرف غیر اللہ اور پیروں فقیروں اور سجادہ نشینوں کو اپنا ماوی وملجا اور قبلہ حاجات بنارکھا ہے بلکہ ان سے ان کی محبت، اللہ سے بھی زیادہ ہے اور توحید کا وعظ ان کو بھی اسی طرح کھلتا جس طرح مشرکین مکہ کو اس سے تکلیف ہوتی تھی جس کا نقشہ اللہ نے اس آیت میں کھینچا ہے آیت ( وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ ۚ وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ ) 039:045 تاہم اہل ایمان کو مشرکین کے برعکس اللہ تعالیٰ ہی سے سب سے زیادہ محبت ہوتی ہے۔ کیونکہ مشرکین جب سمندر میں پھنس جاتے ہیں تو وہاں انہیں اپنے معبود بھول جاتے ہیں اور وہاں صرف اللہ ہی کو پکارتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین سخت مصیبت میں مدد کے لئے صرف ایک اللہ کو پکارتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٠٣] یعنی اللہ کی مخصوص صفات میں اپنے معبودوں کو اللہ کا مد مقابل ٹھہراتے ہیں اور خالق، مالک اور رازق ہونے کی حیثیت سے اللہ کے جو حقوق بندوں پر عائد ہونا چاہئیں۔ ان حقوق میں وہ دوسروں کو شریک کرلیتے ہیں۔ مثلاً سلسلہ اسباب پر حکمرانی، حاجت روائی، مشکل کشائی، فریاد رسی، عبادت دعائیں سننا اولاد عطا کرنا، غیب و شہادت کی ہر چیز سے واقف ہونا، کسی دوسرے کو منبع قانون سمجھنا اور حرام و حلال کی حدود مقرر کرنا۔ ان سب باتوں میں کئی دوسرے پیغمبروں، بزرگوں، فرشتوں جنوں اور دیوی، دیوتاؤں کو اللہ کا مدمقابل اور شریک ٹھہرا لیتے ہیں۔ محبت کا تعلق قلبی اعمال سے ہے اور یہی بات تمام افعال و اعمال کا سرچشمہ ہے اس میں بھی وہ اپنے خود ساختہ معبودوں کو ہی فوقیت دیتے ہیں۔ [ ٢٠٤] کیونکہ اللہ سے ان کی محبت مستقل اور پائیدار ہوتی ہے۔ وہ ہر حال میں اللہ ہی پر بھروسہ اور اعتماد رکھتے ہیں۔ جب کہ مصائب و آلام کے وقت بسا اوقات مشرکوں کی اپنے معبودوں سے محبت زائل بھی ہوجاتی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے دلائل بیان کرنے کے بعد اب اس آیت میں بتایا کہ اس قدر ظاہر اور واضح دلائل دیکھنے کے باوجود دنیا میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو اللہ کے ساتھ دوسروں کو انداد (برابر اور شریک) بناتے ہیں۔ کائنات کی حکمرانی، مخلوق کی حاجت روائی، مشکل کشائی، دعائیں سننا، تمام غائب و حاضر چیزوں سے واقف ہونا، جو اللہ کی خاص صفات ہیں، یہ لوگ یہ صفات ان بناوٹی معبودوں میں سمجھتے ہیں، بلکہ ان سے اتنی زیادہ محبت کرتے ہیں جو صرف اللہ سے ہونی چاہیے، جبکہ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان سے کہیں زیادہ محبت رکھتے ہیں۔ انداد سے مراد وہ فوت شدہ بزرگ ہیں جن کے بت بنا کر وہ انھیں پکارتے اور پوجتے تھے، جیسا کہ سورة نوح میں مذکور ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کے متعلق ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ یہ ان کی قوم کے نیک لوگ تھے، جن کے فوت ہونے پر انھوں نے ان کے بت بنائے۔ بعد میں یہی بت عرب میں بھی بن گئے۔ [ بخاری، التفسیر، باب : ( ودا ولا سواعا ولا یغوث و یعوق ) : ٤٩٢٠ ] گویا بت پرستی بھی دراصل بزرگ پرستی ہی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر مکہ فتح ہونے کے بعد جب صحابہ کرام (رض) نے کعبہ سے بت نکالے تو ان میں ابراہیم اور اسماعیل (علیہ السلام) کی صورتیں بھی تھیں جن کے ہاتھوں میں فال کے تیر تھے۔ [ بخاری، المغازی، باب أین رکز النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔۔ : ٤٢٨٨ ] ’ اَنْدَادًا “ میں ہر وہ چیز شامل ہے جو انسان کے دل پر مسلط ہو کر وہ مقام بنا لے جو اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ بت پرست ان ہستیوں کی مورتیاں بنا کر ان کی پوجا کرتے تھے۔ قبر پرست ان ہستیوں کی قبروں پر عمارتیں بنا کر ان کی پوجا کرتے ہیں، انھیں نفع و نقصان کا مالک سمجھتے ہیں، مصیبت کے وقت ان سے فریاد کرتے ہیں۔ خصوصاً یہود و نصاریٰ میں یہ چیز عام تھی، اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبروں کو پختہ بنانے سے منع کردیا اور علی (رض) کو حکم دیا کہ وہ ہر اونچی قبر کو برابر کردیں۔ [ مسلم، الجنائز، باب الأمر بتسویۃ القبر : ٩٦٩، ٩٧٠ ] کچھ وہ ہیں جو تصور شیخ کے ذریعے سے دل میں ایک فانی انسان کا نقشہ جما کر اس سے وہ محبت کرتے ہیں جو محض اللہ کا حق ہے، پھر ان پر وہ محبت ایسی غالب ہوتی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے بجائے شیخ کے حکم کو اللہ کے حکم کا درجہ دیتے ہیں، جب کہ مخلوق کا یہ حق ہی نہیں کہ اسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ برابر کیا جائے۔ انداد کی مزید تشریح کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (٢٢) ۔ مسلمانوں میں کئی ایسے بدنصیب بھی ہیں جو اس آیت کا، جس میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کے ساتھ اللہ تعالیٰ جیسی محبت کرنے سے منع کیا گیا ہے، اس مقصد کے لیے وظیفہ کرتے اور اس کا تعویذ لکھتے ہیں کہ کسی لڑکی یا لڑکے کو اپنی محبت کے دام میں گرفتار کریں۔ یہ وہی یہودیانہ خصلت ہے جس کا ذکر سورة بقرہ (٧٨، ١٠٢) میں کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ شیطان انھیں اس راستے پر لگانے والا ہے اور قرآن جس بات سے منع کر رہا ہے اسی کے لیے قرآن کو پڑھا یا لکھا جائے تو لعنت کے سوا کیا حاصل ہوسکتا ہے۔ (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ ۭ ) یعنی ایمان والے اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا کو دوسروں کی محبت اور رضا سے مقدم رکھتے ہیں۔ کسی کی محبت بھی ان کے دل میں یہ مقام حاصل نہیں کرسکتی کہ وہ اسے اللہ کی محبت اور رضا پر قربان نہ کرسکیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة توبہ (٢٤) ۔ (الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا) اس سے مراد شرک کرنے والے اور کافر لوگ ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) [ لقمان : ١٣ ] ” بیشک شرک یقیناً بہت بڑا ظلم ہے۔ “ دلیل اس کی یہ ہے کہ وہ آگ سے کسی صورت نکلنے والے نہیں اور آگ سے کبھی نہ نکلنے والے یا مشرک ہیں یا کافر۔ دیکھیے سورة نساء (٤٨، ١١٦) اور سورة اعراف (٥٠) جب کہ اہل السنہ کا اتفاق ہے کہ اہل ایمان آخر کار جہنم سے نکل آئیں گے۔ وَلَوْ يَرَى ” اس وقت کو دیکھ لیں “ یعنی دنیا میں وہ منظر دیکھ لیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the verses that appeared earlier, there was a strong and positive view of Allah&s Oneness. Now the present verse points out to the error made by those who associate others in the divinity of Allah and think that they are caretakers of their needs. Their attachment to them reaches the proportions of love that is due for Allah alone. In direct contrast to this profile of the polytheists, there are the true believers who love Allah alone, and very staunchly too, for a poly-theist may turn away from his self-made god in the event of an im¬pending loss, but a true believer reposes his total confidence in Allah, in gain and loss alike, retaining His love and pleasure as his lasting possession, never leaving his Creator whatever the odds against him be. Now, returning back to the &unjust&, the Holy Qur&an makes a subtle suggestion that the opportunity to correct their position was there; they could have recognized through their frustrations with their gods that they were helpless and that real power rested with Allah. But, they missed the opportunity and must now learn the hard way. So, the stern warning.

ربط : اوپر کی آیات میں توحید کا اثبات تھا آگے مشرکین کی غلطی اور وعید کا بیان فرماتے ہیں۔ خلاصہ تفسیر : اور ایک آدمی وہ (بھی) ہیں جو علاوہ خدا تعالیٰ کے اوروں کو بھی شریک (خدائی) قرار دیتے ہیں (اور ان کو اپنا کارساز سمجھتے ہیں اور) ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے (رکھنا) ضروری ہے (یہ حالت تو مشرکین کی ہے) اور جو مومن ہیں ان کو (صرف) اللہ تعالیٰ کے ساتھ نہایت قوی محبت ہے (کیونکہ اگر کسی مشرک کو یہ ثابت ہوجاوے کہ میرے معبود سے مجھ پر کوئی ضرر پڑے گا تو فوراً محبت منقطع ہوجاوے اور مومن باوجود اس کے کہ نافع وضار حق تعالیٰ ہی کو اعتقاد کرتا ہے لیکن پھر بھی محبت ورضا اس کی باقی رہتی ہے ونیز اکثر مشرکین مصیبت شدیدہ کے وقت اپنے شرکاء کو چھوڑ دیتے ہیں اور مومنین من حیث الایمان مصیبت میں بھی خدا کو نہ چھوڑتے تھے اور محاورات میں ایسے قضا یا باعتبار حالت عالیہ کے بھی صادق ہوتے ہیں) اور کیا خوب ہوتا اگر یہ ظالم (مشرکین) جب (دنیا میں) کسی مصیبت کو دیکھتے تو (اس کے وقوع میں غور کرکے) یہ سمجھ لیا کرتے کہ سب قوت حق تعالیٰ ہی کو ہے ( اور دوسرے سب اس کے سامنے عاجز ہیں چناچہ اس مصیبت کو نہ کوئی روک سکا نہ ٹال سکا اور نہ ایسے وقت میں اور کوئی یاد رہا) اور (اس مصیبت کی شدت میں غور کرکے) یہ (سمجھ لیا کرتے) کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب (آخرت میں کہ دار الجزاء ہے اور بھی) سخت ہوگا (تو اس طرح غور کرنے سے تراشیدہ معبودوں کا عجز اور حق تعالیٰ کی قدرت و عظمت منکشف ہو کر توحید و ایمان اختیار کرلیتے)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللہِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَہُمْ كَحُبِّ اللہِ۝ ٠ ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلہِ۝ ٠ ۭ وَلَوْ يَرَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ۝ ٠ ۙ اَنَّ الْقُوَّۃَ لِلہِ جَمِيْعًا۝ ٠ ۙ وَّاَنَّ اللہَ شَدِيْدُ الْعَذَابِ۝ ١٦٥ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ ندد نَدِيدُ الشیءِ : مُشارِكه في جَوْهَره، وذلک ضربٌ من المماثلة، فإنّ المِثْل يقال في أيِّ مشارکةٍ کانتْ ، فكلّ نِدٍّ مثلٌ ، ولیس کلّ مثلٍ نِدّاً ، ويقال : نِدُّهُ ونَدِيدُهُ ونَدِيدَتُهُ ، قال تعالی: فَلا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْداداً [ البقرة/ 22] ، وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْداداً [ البقرة/ 165] ، وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْداداً [ فصلت/ 9] وقرئ : (يوم التَّنَادِّ ) [ غافر/ 32] «2» أي : يَنِدُّ بعضُهم من بعض . نحو : يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ [ عبس/ 34] . ( ن د د ) ندید الشئی ۔ وہ جو کسی چیز کی ذات یا جوہر میں اس کا شریک ہو اور یہ ممانعت کی ایک قسم ہے کیونکہ مثل کا لفظ ہر قسم کی مشارکت پر بولا جاتا ہے ۔ اس بنا پر ہرند کو مثل کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن ہر مثل ند نہیں ہوتا ۔ اور ند ، ندید ندید ۃ تینوں ہم معنی ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْداداً [ البقرة/ 22] پس کسی کو خدا کا ہمسر نہ بناؤ ۔ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْداداً [ البقرة/ 165] اور بعض لوگ ایسے ہیں جو غیر خدا کو شریک خدا بناتے ہیں ۔ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْداداً [ فصلت/ 9] اور بتوں کو اس کا مد مقابل بناتے ہو ۔ اور ایک قرات میں یوم التناد تشدید دال کے ساتھ ہے اور یہ نذ یند سے مشتق ہے جس کے معنی دور بھاگنے کے ہیں اور قیامت کے روز بھی چونکہ لوگ اپنے قرابتدروں سے دور بھاگیں گے جیسا کہ آیت کریمہ : ۔ يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ [ عبس/ 34] میں مذکور ہے اس لئے روز قیامت کو یو م التناد بتشدید الدال کہا گیا ہے ۔ حب والمحبَّة : إرادة ما تراه أو تظنّه خيرا، وهي علی ثلاثة أوجه : - محبّة للّذة، کمحبّة الرجل المرأة، ومنه : وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] . - ومحبّة للنفع، کمحبة شيء ينتفع به، ومنه : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] . - ومحبّة للفضل، کمحبّة أهل العلم بعضهم لبعض لأجل العلم . ( ح ب ب ) الحب والحبۃ المحبۃ کے معنی کسی چیز کو اچھا سمجھ کر اس کا ارادہ کرنے اور چاہنے کے ہیں اور محبت تین قسم پر ہے : ۔ ( 1) محض لذت اندوزی کے لئے جیسے مرد کسی عورت سے محبت کرتا ہے ۔ چناچہ آیت : ۔ وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] میں اسی نوع کی محبت کی طرف اشارہ ہے ۔ ( 2 ) محبت نفع اندوزی کی خاطر جیسا کہ انسان کسی نفع بخش اور مفید شے سے محبت کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13 اور ایک چیز کو تم بہت چاہتے ہو یعنی تمہیں خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح حاصل ہوگی ۔ ( 3 ) کبھی یہ محبت یہ محض فضل وشرف کی وجہ سے ہوتی ہے جیسا کہ اہل علم وفضل آپس میں ایک دوسرے سے محض علم کی خاطر محبت کرتے ہیں ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ شد الشَّدُّ : العقد القويّ. يقال : شَدَدْتُ الشّيء : قوّيت عقده، قال اللہ : وَشَدَدْنا أَسْرَهُمْ [ الإنسان/ 28] ، ( ش دد ) الشد یہ شدد ت الشئی ( ن ) کا مصدر ہے جس کے معنی مضبوط گرہ لگانے کے ہیں ۔ قرآں میں ہے : وَشَدَدْنا أَسْرَهُمْ [ الإنسان/ 28] اور ان کے مفاصل کو مضبوط بنایا ۔ لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا قوی القُوَّةُ تستعمل تارة في معنی القدرة نحو قوله تعالی: خُذُوا ما آتَيْناكُمْ بِقُوَّةٍ [ البقرة/ 63] ( ق وو ) القوۃ یہ کبھی قدرت کے معنی میں اسعمارل ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ خُذُوا ما آتَيْناكُمْ بِقُوَّةٍ [ البقرة/ 63] اور حکم دیا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی اس کو زور سے پکڑے رہو ۔ شدید والشِّدَّةُ تستعمل في العقد، وفي البدن، وفي قوی النّفس، وفي العذاب، قال : وَكانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً [ فاطر/ 44] ، عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوى[ النجم/ 5] ، يعني : جبریل عليه السلام، وقال تعالی: عَلَيْها مَلائِكَةٌ غِلاظٌ شِدادٌ [ التحریم/ 6] ، وقال : بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ [ الحشر/ 14] ، فَأَلْقِياهُ فِي الْعَذابِ الشَّدِيدِ [ ق/ 26] . والشَّدِيدُ والْمُتَشَدِّدُ : البخیل . قال تعالی: وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ [ العادیات/ 8] . ( ش دد ) الشد اور شدۃ کا لفظ عہد ، بدن قوائے نفس اور عذاب سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَكانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً [ فاطر/ 44] وہ ان سے قوت میں بہت زیادہ تھے ۔ عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوى[ النجم/ 5] ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا ؛نہایت قوت والے سے حضرت جبریل (علیہ السلام) مراد ہیں ۔ غِلاظٌ شِدادٌ [ التحریم/ 6] تندخواہ اور سخت مزاج ( فرشتے) بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ [ الحشر/ 14] ان کا آپس میں بڑا رعب ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٦٥) دنیا میں اہل کفر کو جو اپنے معبودوں سے محبت ہے، وہ آخرت میں ایک دوسرے سے بیزار ہوں گے، اللہ تعالیٰ اس چیز کو ذکر فرماتے ہیں کہ یہ کافر بتوں سے اس درجہ محبت کرتے ہیں جیسا کہ مخلص ایمان والے اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں مگر خالص مومن تو ان کافروں سے جیسا کہ یہ اپنے بتوں سے محبت کرتے ہیں، ان سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والے ہیں۔ اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ یہ آیت مبارکہ ان منافقوں کے بارے میں اتری ہے جنہوں نے سونے چاندی کے خزانے جمع کرلیے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جنہوں نے اپنے سرداروں کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ معبود بنالیا تھا اور اگر یہ مشرکین قیامت کے دن اور آخرت میں عذاب اور اللہ تعالیٰ کی قوت وبادشاہت کو جان لیں تو دنیا میں فورا ایمان لے آئیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٦٥ (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَنْدَادًا) (یُّحِبُّوْنَہُمْ کَحُبِّ اللّٰہِ ط) ۔ یہ دراصل ایک فلسفہ ہے کہ ہر باشعور انسان کسی شے کو اپنا آئیڈیل ‘ نصب العین یا آدرش ٹھہراتا ہے اور پھر اس سے بھرپور محبت کرتا ہے ‘ اس کے لیے جیتا ہے ‘ اس کے لیے مرتا ہے ‘ قربانیاں دیتا ہے ‘ ایثار کرتا ہے۔ چناچہ کوئی قوم کے لیے ‘ کوئی وطن کے لیے اور کوئی خود اپنی ذات کے لیے قربانی دیتا ہے۔ لیکن بندۂ مؤمن یہ سارے کام اللہ کے لیے کرتا ہے۔ وہ اپنا مطلوب و مقصود اور محبوب صرف اللہ کو بناتا ہے۔ وہ اسی کے لیے جیتا ہے ‘ اسی کے لیے مرتا ہے : (اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) (الانعام) بیشک میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اس کے برعکس عام انسانوں کا معاملہ یہی ہوتا ہے کہ : ؂ می تراشد فکر ما ہر دم خداوندے دگر رست از یک بند تا افتاد در بندے دگر انسان اپنے ذہن سے معبود تراشتا رہتا ہے ‘ ان سے محبت کرتا ہے اور ان کے لیے قربانیاں دیتا ہے۔ یہ مضمون سورة الحج کے آخری رکوع میں زیادہ وضاحت کے ساتھ آئے گا۔ (وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ ط) ۔ عگر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں ! یہ گویا لٹمس ٹیسٹ ہے۔ کوئی شے اگر اللہ سے بڑھ کر محبوب ہوگئی تو وہ تمہاری معبود ہے۔ تم نے اللہ کو چھوڑ کر اس کو اپنا معبود بنا لیا ‘ چاہے وہ دولت ہی ہو۔ حدیث نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے : (تَعِسَ عَبْدُ الدِّیْنَارِ وَعَبْدُ الدِّرْھَمِ ) (١٩) ہلاک اور برباد ہوجائے درہم و دینار کا بندہ۔ نام خواہ عبد الرحمن ہو ‘ حقیقت میں وہ عبد الدینار ہے۔ اس لیے کہ وہ یہ خواہش رکھتا ہے کہ دینار آنا چاہیے ‘ خواہ حرام سے آئے یا حلال سے ‘ جائز ذرائع سے آئے یا ناجائز ذرائع سے۔ چناچہ اس کا معبود اللہ ‘ نہیں ‘ دینار ہے۔ ہندو نے لکشمی دیوی کی مورتی بنا کر اسے پوجنا شروع کردیا کہ یہ لکشمی دیوی اگر ذرا مہربان ہوجائے گی تو دولت کی ریل پیل ہوجائے گی۔ ہم نے اس درمیانی واسطے کو بھی ہٹا کر براہ راست ڈالر اور پیڑو ڈالر کو پوجنا شروع کردیا اور اس کی خاطر اپنے وطن اور اپنے ماں باپ کو چھوڑ دیا۔ چناچہ یہاں کتنے ہی لوگ سسک سسک کر مرجاتے ہیں اور آخری لمحات میں ان کا بیٹا یا بیٹی ان کے پاس موجود نہیں ہوتا بلکہ دیار غیر میں ڈالر کی پوجا میں مصروف ہوتا ہے۔ (وَلَوْ یَرَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ لا اَنَّ الْقُوَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًالا) یہاں ظلم شرک کے معنی میں آیا ہے اور ظالم سے مراد مشرک ہیں۔ (وَّاَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ ) ۔ اس وقت آنکھ کھلے گی تو کیا فائدہ ہوگا ؟ اب آنکھ کھلے تو فائدہ ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

163. There are certain attributes which belong exclusively to God. Moreover, there are certain duties that man owes to God by virtue of His being his Lord. The indictment of the Qur'an is that the people in question ascribe to others than God the attributes which are exclusively His and likewise consider others to be the rightful claimants of certain rights over man which belong only to God. To be Lord of the entire complex of causal relationships found in the universe, to dispense the needs and requirements of people, to deliver them from distress and afffliction, to heed complaints and respond to lamentations and prayers, and having full knowledge of all that is apparent as well as all that is hidden, are the exclusive attributes of God. Furthermore, there are certain rights which God alone may claim: that His creatures should recognize Him alone as their Sovereign, prostrate themselves before Him alone in recognition of their bondage to Him, turn to Him alone for the fulfilment of their prayers, call Him alone for help and succour, place their trust is none save Him, centre their hopes and expectations only in His Munificence, and fear Him alone both in public and in private. In the same way, being the only Absolute Sovereign of the universe, it befits none save God to lay down what is permitted and what is prohibited for His subjects, to prescribe their rights and duties, to command them what to do and what not to do, to direct them as to how the energy and resources bestowed on them, by God, should be expended. Again, it is God alone Who can ask His subjects to acknowledge His sovereignty, to accept His commands as the source of law, to consider Him alone to be the Lord entitled to command men, to consider His commands supreme, and to turn to Him alone for correct guidance. Whoever either ascribes to any being other than God any of the aforementioned attributes or recognizes the claim of anyone save God to be entitled to any of the above-mentioned rights over His creatures is in fact setting up that being as a rival to God, and placing him on the same plane as God. By the same token, any individual or institution claiming to possess any of the exclusive attributes and rights of God (as mentioned above) , is in fact claiming a position parallel and equal to that of God even though the claim to godhead may not have been categorically spelled out. 164. True faith requires that a man should give absolute priority to seeking God's good pleasure and should hold nothing too dear to sacrifice for the sake of God.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :163 یعنی خدائی کی جو صفات اللہ کے لیے خاص ہیں ان میں سے بعض کو دُوسروں کی طرف منسُوب کرتے ہیں ، اور خدا ہونے کی حیثیت سے بندوں پر اللہ تعالیٰ کے جو حقوق ہیں ، وہ سب یا ان میں سے بعض حقوق یہ لوگ ان دُوسرے بناوٹی معبُودوں کو ادا کرتے ہیں ۔ مثلاً سلسلہء اسباب پر حکمرانی ، حاجت روائی ، مشکل کشائی ، فریاد رسی ، دُعائیں سُننا اور غیب و شہادت ہر چیز سے واقف ہونا ، یہ سب اللہ کی مخصُوص صفات ہیں ۔ اور یہ صرف اللہ ہی کا حق ہے کہ بندے اسی کو مقتدرِ اعلیٰ مانیں ، اسی کے آگے اعترافِ بندگی میں سَر جُھکائیں ، اسی کی طرف اپنی حاجتوں میں رجُوع کریں ، اسی کو مدد کے لیے پکاریں ، اسی پر بھروسہ کریں ، اسی سے اُمیدیں وابستہ کریں اور اسی سے ظاہر و باطن میں ڈریں ۔ اِسی طرح مالک الملک ہونے کی حیثیت سے یہ منصب بھی اللہ ہی کا ہے کہ اپنی رعیّت کے لیے حلال و حرام کے حدُود مقرر کرے ، ان کے فرائض و حقوق معیّن کرے ، ان کو امر و نہی کے احکام دے ، اور انہیں یہ بتائے کہ اس کی دی ہوئی قوتوں اور اس کے بخشے ہوئے وسائل کو وہ کس طرح کِن کاموں میں کن مقاصد کے لیے استعمال کریں ۔ اور یہ صرف اللہ کا حق ہے کہ بندے اس کی حاکمیّت تسلیم کریں ، اس کے حکم کو منبعِ قانون مانیں ، اسی کو امر و نہی کا مختار سمجھیں ، اپنی زندگی کے معاملات میں اس کے فرمان کو فیصلہ کُن قرار دیں ، اور ہدایت و رہنمائی کے لیے اسی کی طرف رُجوع کریں ۔ جو شخص خدا کی ان صفات میں سے کسی صِفْت کو بھی کسی دُوسرے کی طرف منسُوب کرتا ہے ، اور اس کے ان حقوق میں سے کوئی ایک حق بھی کسی دُوسرے کو دیتا ہے وہ دراصل اسے خدا کا مدِّ مقابل اور ہمسر بناتا ہے ۔ اور اسی طرح جو شخص یا جو ادارہ ان صفات میں سے کسی صِفْت کا مدّعی ہو اور ان حقوق میں سے کسی حق کا انسانوں سے مطالبہ کرتا ہو ، وہ بھی دراصل خدا کا مدِّ مقابل اور ہمسر بنتا ہے خواہ زبان سے خدائی کا دعویٰ کرے یا نہ کرے ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :164 یعنی ایمان کا اقتضا یہ ہے کہ آدمی کے لیے اللہ کی رضا ہر دُوسرے کی رضا پر مقدم ہو اور کسی چیز کی محبت بھی انسان کے دل میں یہ مرتبہ اور مقام حاصل نہ کرلے کہ وہ اللہ کی محبت پر اسے قربان نہ کر سکتا ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(165 ۔ 167) ۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جو اپنی قدرت اور وحدانیت کی نشانیاں بنائیں ان نشانیوں کو دیکھ کر قریش ایمان نہ لائے اور اپنے شرک پر اڑے رہے تو ان کے شرک کا دنیا اور آخرت میں انجام ہے اس کی حالت فرمانے کی غرض سے یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی۔ دنیا میں ان کے شرک کے سبب سے بدر کی لڑائی میں وہ رسوائی ان کی ہوئی جس کی تفصیل جنگ بدر کے قصہ میں آئے گی کہ بڑے لوگ ان میں کے کچھ قتل ہوگئے اور کچھ قید سب عزت خاک میں مل گئی اور آخرت میں اس شرک کی بدولت ان کے لئے وہ عذاب مہیا ہو رہا ہے کہ اگر وہ عذاب دنیا میں نظر آجاوے تو سب شرک و کفر بھول جائیں اور اللہ ہی کو معبود حقیقی جاننے لگیں دنیا میں مجبوری کا ایمان اللہ کو پسند نہیں ہے۔ اس لئے وہ عذاب اللہ نے آخرت پر منحصر رکھا ہے اور دنیا میں اس عذاب کی یاد دہی ان کو کردی ہے تاکہ اس عذاب کے حال سے وہ بیخبر اور غافل نہ رہیں آخرت میں سوا اس عذاب کے یہ اور شرمندگی ہے کہ اللہ کے سوا جن کو انہوں نے معبود ٹھہرایا تھا۔ وہ ان سے بیزاری ظاہر کریں گے اور اس بیزار سے ان کا دل یہاں تک جلے گا کہ ان کہ یہ کہنا پڑے گا کہ کاش ایک دفعہ دنیا میں ہم پھرجاتے اور ہم بھی اپنے جھوٹے معبودوں سے بیزراری ظاہر کر کے ان کو ذلیل اور رسوا کرتے جس طرح انہوں نے ہم کو ذلیل اور رسوا کیا ہے آخرت میں ان مشرکوں کے جھوٹے معبود اور سب جھوٹے معبودوں کا سر گروہ شیطان جس طرح اپنے ہوا خواہوں سے بیزاری ظاہر کریں گے اس کو اللہ تعالیٰ نے سورة سبا اور سورة ابراہیم میں تفصیل سے ذکر کیا ہے دونوں سورتوں میں یہ ذکر آئے گا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:165) ومن الناس۔ میں واؤ حالیہ ہے یعنی حال یہ ہے کہ ۔۔ ان براہین منیرہ کے ۔ من تبعیضیہ ہے یعنی لوگوں میں بعض ایسے ہیں ۔۔ من بمعنی الذی ہے۔ یتخذ۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اتخاذ (افتعال) مصدر۔ قرار دیتا ہے۔ بناتا ہے۔ اندادا۔ ند کی جمع ہے۔ نظیر، مثل، ند اور مثل میں فرق یہ ہے کہ مثل عام ہے اور ند خاص۔ مثل کا استعمال ہر قسم کی شرکت کے لئے ہوتا ہے۔ صوفیائے کرام نے اندادا کی تفسیر یہ فرمائی ہے کل ما کان مشغلا من اللہ ما نعامن استثال امرہ : ہر وہ چیز جو انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کردے اور اس کے احکام کی تعمیل سے روک دے وہ انداد ہے خواہ وہ بت ہوں گمراہ رئیس ہوں مال و دولت ہو، اولاد ہو۔ فلم وفن ۔ لیکن ند کا استعمال صرف کسی شے کی ذات اور جوہر میں شریک ہونے کے لئے ہے۔ یحبونھم۔ مضارع۔ صیغہ جمع مذکر غائب۔ باب افعال سے۔ احباب مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب جس کا مرجع انداد ہے۔ کحب اللہ۔ میں کاف تشبیہ کا ہے۔ اشد حبا للہ۔ اشد شدۃ سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے اشد کا متعلق محذوف ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے اشد حبا للہ من ھولاء للانداد یعنی مؤمنین کی اللہ سے جو محبت (میلان قلب) ہے وہ مشرکین کی غیر اللہ سے محبت سے کہیں زیادہ ہے۔ لو حرف شرط ہے جس کا جواب محذوف ہے۔ یری۔ فعل مضارع واحد مذکر غائب۔ اس کی درج ذیل صورتیں ممکن ہیں۔ (1) اس فعل کا فاعل احد محذوف ہے ترجمہ ہوگا۔ اگر کوئی دیکھے ان لوگوں کو جو ظالم ہیں اس صورت میں الذین ظلموا فعل یری مفعول ہوگا۔ (2) یری کا فاعل الذین ظلموا ہے اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ اگر ظالم لوگ دیکھ پاتے یا جان جاتے۔ اذ یرون العذاب ظرف زمان ہے فعل یری کا۔ جب دیکھیں گے وہ عذاب (جو ان کو ملے گا) ان القوۃ ۔۔ شدید العذاب مفعول یری کا (2) کی صورت میں۔ لو کا جواب محذوف ہے۔ محذوف جواب عبارت کے سیاق وسباق کے مطابق ایک سے زیادہ بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ حذف میں تعیین تو ہوتی نہیں۔ مثلاً یہاں جواب محذوف ہے۔ لما اتخذوا من دونہ اندادا (تو ہرگز اس کے یعنی اللہ کے سوا کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتے) بھی ہوسکتا ہے اور لوقعوا من الحسرۃ والندامۃ فیما لایکاد یوصف تو ناقابل بیان حسرت و ندامت کا شکار ہو جاتے مندرجہ بالا تقریر پر آیت کے معنی ہوں گے۔ (1) اگر ظالم لوگ عذاب اور مصائب دینوی دیکھتے وقت یہ جانتے کہ تمام قوت اللہ ہی کو ہے اور یہ کہ اللہ شدید العذاب ہے تو ہرگز من دون اللہ کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتے اور نہ اور کسی سے محبت کا دم بھرتے۔ (2) اگر یہ ظلم کرنے والے قیامت کے دن عذاب دیکھتے وقت یہ بات جانیں گے کہ تمام قوت اللہ تعالیٰ کو ہے اور وہ اشد العذاب ہے تو سخت نادم ہوں گے۔ فائدہ : لو یری اور اذ یرون میں لو اور اذ یہاں مستقبل کے لئے آئے ہیں ۔ حالانکہ یہ ماضی پر استعمال ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کے کلام میں تو مستقبل بھی مثل ماضی کے ہے جیسے ماضی کا وقوع یقینی ہوتا ہے ۔ اسی طرح اللہ کے نزدیک مستقبل کا وقوع بھی یقینی ہے یہاں لو بمعنی کاش (حرف تمنی) بھی ہوسکتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے دلائل دیکھنے کے باوجود دنیا میں ایسے بدبخت لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو انداد بناتے ہیں اور ان کی نہ صرف عبادت کرتے ہیں بلکہ ان کی محبت میں ائنا فلو کرتے ہیں جتنی کہ مومنوں کو اللہ تعالیٰ سے محبت ہے۔ ( فالمدد مضاف الی المفعول اعا کحب المو منین اللہ۔ (شوکانی) یہاں انداد سے وہ اصنام مراد ہیں جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کرتے تھے۔ (قرطبی۔ روح) مگر یہ لفظ عام ہے اور ند ہر اس چیز کو کہہ سکتے ہیں جو انسان کے دل پر مسلط ہو کر اللہ تعالیٰ سے غافل اور مشغول کردے جیسے فرمایا : افرایت من اتخذ الھہ ھو اہ۔ کہ ان لوگوں نے اپنی خواہش کو معبود بنارکھا ہے۔ ( کبیر) آج کل جن جبتوں اور قبتوں کی پوجا کی جاتی ہے۔ ان کو یہ لفظ بالا ولی شامل ہے کیونکہ عوام ان کی تعظیم و تکریم میں اللہ تعالیٰ کو بھول چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی شریعت کی تباع کی بجائے پیروں کی نذر نیاز اور قبر پرستی ہی دین بن گئی ہے۔ مشرکین اللہ تعا کے ساتھ محبت میں ان " انداد " کو بھی شریک کرلیتے ہیں مگر مومنین کی اللہ تعالیٰ سے محبت سراسر خالص اور ہر قسم کے شائبہ شرک سے پاک ہوتی ہے ( مدارج السا لیکن ج 3 ص 13 ۔ 14) نیز انداد کی تشریح کے لیے دیکھئے حاشیہ آیت 22 ۔ مومنین کی اللہ تعالیٰ سے محبت کا بیان۔ آل عمران حاشیہ آتی 31)3 یہاں جواب لو مخذوف ہے۔ ای لو یری الذین ظلمو افی الدنیا عذاب آلا خرتہ لعلموا حین یر ونہ ان لقوتہ۔ بعض نے لکھا ہے کہ یہاں یرھا بمعنی یعلم کے ہے۔ ای لو لیعلم الذعن ان القوتہ اور لو کا جواب مخذوف ہے۔ ای لتبینوا ضرراتخاذ ھم لالھتہ۔ یعنی اگر یہ ظالم لوگ اللہ تعالیٰ کی قوت وقدرت اور اس کے عذاب کی شدت کو صحیح طور پر جان لیں تو ان پر شرک کے مضرات از خود واضح ہوجائیں۔ مگر افسوس یہ ہے کہ مشرک کے دل میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی شدت عذاب کا تصور نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ دوسروں کو صاحب قوت واقتدار سمجھ کر ان کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے۔ (شوکانی۔ کبیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات : آیت نمبر 165 تا 167 یتخذ (بنا لیتا ہے) یحبون (وہ محبت کرتے ہیں) کحب اللہ (جیسے اللہ سے محبت کرنا) ۔ اشد حبا (بےانتہا محبت) ۔ تبرا (بےزاری کا اظہار، نفرت کا اظہار کیا) ۔ الذین اتبعوا (جن کی پیروی کی گئی (پیشوا یا بت) ۔ الذین اتبعوا (جنہوں نے اتباع کی) ۔ راوا (دیکھیں گے (دیکھا) ۔ تقطعت (کٹ جائیں گے (کٹ گئے) ۔ کرہ (دوبارہ جانا) ۔ یریھم (وہ ان کو دکھائے گا) ۔ حسرت (حسرتیں، افسوس) ۔ خارجین (نکلنے والے ) ۔ النار (آگ ، جہنم دوزخ) تشریح : آیت نمبر 165 تا 167 اب ان لوگوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جن کے سامنے سا را نظام کائنات ہے جس میں اللہ کی ربوبیت اور شان رحمت صاف نظر آرہی ہے مگر کھلی ہوئی آنکھیں ہونے کے باوجود ان کو سچائی نظر نہیں آتی۔ وہ دن رات اس منظم اور مرتب نظام کائنات کو دیکھتے ہیں مگر غور نہیں کرتے کہ اس نظام کو چلانے والی وہ ذات ہے جو قادر مطلق ہے مگر وہ اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے بتوں کو پوری اہمیت دیتے ہیں ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسے یہی ان کے کارساز ہیں ۔ فرمایا مومن صرف اللہ سے شدید اور والہانہ محبت کرتے ہیں کیونکہ ان کو اس بات کا یقین ہے کہ اس کائنات میں ایک پتہ بھی اللہ کے حکم کے بغیر نہیں ہلتا۔ فرمایا گیا آج جن بتوں پر یہ سہارا کئے بیٹھے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ان کے کام آئیں گے کاش یہ اس وقت کا تصور ہی کرلیتے جب قیامت کے دن یہی بت اور معبود اس بات سے صاف انکار کردیں گے کہ ہم نے ان سے نہیں کہا تھا کہ یہ ہماری عبادت و بندگی کریں۔ اس اظہار لا تعلقی کے بعد جب ان کے سامنے عذاب آجائے گا اور دنیا کے تمام اسباب منقطع ہوچکے ہوں گے اس وقت چلائیں گے اور فریاد کریں گے الٰہی ہمارے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہوگیا ہے ہم تو ان کو اپنا کارساز سمجھتے تھے مگر انہوں نے تو ہمیں دھوکا دیا ہے ہم سے بےزاریاں ظاہر کررہے ہیں الٰہی ہمیں دنیا میں جانے کا ایک اور موقع مل جائے تو ہم ان سے انتہائی بےزاری اور نفرت کا اظہار کریں گے اور آپ ہی کی بندگی کریں گے۔ فرمایا گیا کہ اب توبہ کا وقت ختم ہوچکا ہے اب تو فیصلے کا وقت ہے اب یہ آرزو تمہاری حسرت ہی رہے گی اور جہنم کے ابدی عذاب سے تم بچ نہیں سکتے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ اگر کسی مشرک کو یہ ثابت ہوجاوے کہ میرے معبود سے مجھ پر ضرر پڑے گا تو فورا محبت منقطع ہوجاوے اور مومن باوجود اس کے کہ نافع ضار حق تعالیٰ ہی کو اعتقاد کرتا ہے لیکن پھر بھی محبت ورضا اس کی باقی رہتی ہے۔ 5۔ اور عذاب آخرت کو سخت فرمایا ہے آگے اس سختی کی کیفیت کا بیان فرماتے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : زمین و آسمانوں کا خالق اور انسانوں کو آفاقی اسباب کے ذریعے روزی اور فوائد پہنچانے والا اللہ ہے تو پھر محبت اسی سے ہونی چاہیے نہ کہ دوسرے سے۔ سابقہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کے آٹھ ایسے آفاقی دلائل دیئے ہیں۔ جن سے ایک دیہاتی، شہری، جاہل اور تعلیم یافتہ، موٹی عقل والا آدمی یا انتہائی دانشور، سیاست دان یا سائنس دان سب کے سب اپنی اپنی لیاقت اور صلاحیت کے مطابق ان سے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ ایسے ہمہ گیر اور ٹھوس دلائل ہیں جن سے ہر آدمی کا واسطہ پڑتا ہے اور وہ ان سے استفادہ کرتا ہے۔ یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ آفاق کے تمام عناصر ایک ہی ہستی کے پیدا کردہ اور اسی کے تابع فرمان ہیں۔ جب ان تمام آفاقی عناصر کی پیدائش اور انہیں مسخر اور مقید رکھنے میں زندہ اور مردہ باطل خداؤں، نیک و بد، حکمرانوں اور سائنس دانوں کا عمل دخل نہیں بلکہ پورے کا پورا نظام ایک ہی ہستی کے زیر اقتدار ہے تو پھر اسی مالک کو الٰہ مانو اور اسی سے محبت کا رشتہ جوڑو جو پورے نظام کو سنبھالے ہوئے ہے۔ لیکن مشرک حقیقی عقل سے عاری ہوتا ہے۔ چاہے وہ کتنا ہی پڑھا لکھا کیوں نہ ہو۔ وہ کائنات کے خالق ومالک سے محبت وتعلق قائم کرنے کے بجائے اپنے رب سے بڑھ کر دوسروں سے محبت اور تعلق قائم کرتا ہے ‘ حالانکہ حقیقی اور دائمی محبت سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہونی چاہیے۔ باقی تمام محبتیں اس کی محبت کے تابع ہوناضروری ہیں۔ لیکن مشرک ایسی محبت کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی محبت کے مقابلے میں دوسروں کو ترجیح دیتا ہے۔ اس کے برعکس موحّد کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے اس طرح لبریز ہوتا ہے کہ وہ اس کے مقابلے میں دنیا کی کسی چیز کی محبت کو ترجیح نہیں دیتا۔ یہاں تک کہ وہ اپنی اولاد اور جان سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی محبت کو عزیز سمجھتا ہے اور اس کی ہر سوچ اور کام کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کا حکم ہی مقدم ہوتا ہے۔ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی بات کی راہنمائی اور دعا کیا کرتے تھے۔ محبت وہ فطری جذبہ ہے جو ہر انسان اور حیوان میں پایا جاتا ہے۔ محبت کرنے کے کچھ اسباب اور وجوہات ہوا کرتی ہیں جن کی وجہ سے دوسروں کے ساتھ محبت کرنے سے منع نہیں کیا گیا۔ مطالبہ صرف یہ ہے کہ تم اپنے رب سے سب سے زیادہ محبت کرنے کی کوشش کرو۔ اگر تم کسی کے احسان کی وجہ سے محبت کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ تمہارا محسن ہے۔ تم کسی سے قرابت داری کی وجہ سے محبت کرتے ہو تو وہ سب سے بڑھ کر تمہارے قریب ہے، اگر تم جمال و کمال کی وجہ سے کسی سے محبت کرتے ہو تو کائنات کا سار اجمال و کمال اسی کی وجہ سے ہے اور اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ اجمل واکمل ہے۔ اگر تم کسی کے اقتدار اور اختیار کی بنا پر اس سے الفت کرتے ہو تو اس سے بڑھ کر کسی کے پاس اختیار اور اقتدار نہیں ہے۔ غرضیکہ کسی سے صحیح محبت کرنے کے جو بھی محرکات اور اسباب ہوسکتے ہیں ان سب کا مالک تمہارا اللہ ہے ‘ پھر اسی کے ساتھ سب سے زیادہ محبت کیوں نہ کی جائے ؟ اللہ تعالیٰ کی محبت کے ساتھ اس کے رسول محمد مصطفیٰ ‘ احمد مجتبیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بھی محبت ساری مخلوق سے بڑھ کر ہونی چاہیے تب جا کر آدمی کا ایمان مکمل ہوتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی أَکُوْنَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان، باب حب الرسول من الإیمان ] ” تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اپنے والدین ‘ اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوجاؤں۔ “ مسائل ١۔ مشرک باطل معبودوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ جیسی محبت کرتے ہیں۔ ٢۔ صاحب ایمان لوگ اللہ تعالیٰ کی محبت میں متشدّد ہوتے ہیں۔ ٣۔ قیامت کے دن مشرک عذاب دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی قوت و سطوت کا اعتراف کریں گے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معبود ماننا اور اس کی عبادت کرنا حرام ہے : ١۔ حضرت عیسیٰ اور مریم (علیہ السلام) کو عیسائیوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا۔ (النساء : ١٧١) ٢۔ یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا ٹھہرایا۔ (التوبہ : ٣٠) ٣۔ یہودیوں نے بچھڑے کو معبود بنایا۔ (الاعراف : ١٥٢) ٤۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے بتوں کو معبود بنایا۔ (نوح : ٢٣) ٥۔ مکہ کے مشرک بتوں کی تعظیم اور عبادت کرتے تھے۔ (الانعام : ١٣٦) ٦۔ مشرک غیر اللہ کو خدا کے قرب کا ذریعہ بناتے ہیں۔ (الزمر : ٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ ہیں ایمان کی کارستانیاں اور ایمان کی برکات ! وسعت نظر حد احساس و شعور ، حسن ، ہم آہنگی اور کمال قدردانی ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان اس کائنات کا ادراک جدید ہے ۔ اور حسن و جمال کا ایک نیا شعور ہے ۔ ایمان دراصل ، اللہ تعالیٰ کے قوانین کے رنگین میلے میں چہل پہل کا نام ہے جس میں صبح وشام تماشائے قدرت کا نئے سے نیا نظارہ پیش ہوتا ہے ۔ لیکن کارگاہ حیات کی ان نیرنگیوں کے باوجود ، یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو عقل کے ادراک سے کورے ہیں ۔ ان کی نظر کوتاہ ہے اور وہ قوانین فطرت کی ایسی وحدت کو اور اس کائنات کے چلانے والے اس واحد اور منضبط نظام کو جو عقیدہ توحید کی طرف صاف صاف اشارہ کرتا ہے نظر انداز کردیتے ہیں اور ان سب چیزوں پر سے یونہی گزرجاتے ہیں یا ان کے لئے مختلف خدا اور مختلف اسباب تلاش کرتے ہیں وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ ” اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اور مدمقابل بناتے ہیں ۔ اور ان کے لئے ایسے گرویدہ ہیں جیسے اللہ کے ساتھ گرویدگی ہونی چاہئے ۔ “ ہاں بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اللہ کا شریک بناتے ہیں ۔ جن لوگوں سے قرآن مخاطب تھا ۔ ان کے معاشرے میں اللہ کے یہ ہمسر درخت ، پتھر ، ستارے اور ملائکہ و شیاطین تھے ۔ جاہلیت کے مختلف ادوار میں کبھی عام چیزیں ، کبھی افراد واشخاص ، کبھی اشارات واعتبارات اللہ کے ہمسر رہے ہیں۔ بعض اوقات یہ ہمسری شرک خفی کی تعریف میں آتی ہے اور کبھی شرک ظاہر وجلی کی صورت میں ۔ جب ان اشیاء کا ذکر اللہ کے ساتھ ہو اور دل میں ان کے بارے میں وہی عظمت و محبت ہو ، جو اللہ تعالیٰ سے ہونی چاہئے تو یہ خفیہ شرک ہوگا اور اگر صورت احوال یہ ہو کہ دل سے اللہ کی محبت بالکل نکل جائے اور اس کی جگہ کسی اور چیز کی محبت اور عظمت جاگزیں ہوجائے تو یہ کھلا شرک ہوگا۔ مؤمنین کی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ کی محبت اور اللہ کی عظمت کی طرح کسی دوسری چیز کی عظمت نہیں کرتے اور نہ اس کی عظمت کے قائل ہوتے ہیں ۔ نہ اپنی جان سے نہ کسی اور کی جان سے نہ کسی شخصیت سے ، نہ کسی اشارہ و اعتبار سے ، نہ کسی نعرہ ونظریہ سے اور نہ ان جدید اقدار میں سے کسی ایک قدر کے ساتھ ، جن کے پیچھے آج کل مخلوق خدا بھاگ رہی ہے۔ غرض ان میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی وہ ربط وتعلق نہیں رکھتے وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ ” حالانکہ ایمان والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں ۔ “ ان کے دلوں میں اللہ کی شدید محبت ہوتی ہے ۔ صرف اللہ کی محبت بلاقید وبلا قدر ۔ ان تمام محبتوں پر جو دوسری چیزوں کے لئے ان کے دل میں ہوتی ہیں۔ اللہ کی محبت شدید تر ہوتی ہے ۔ سبب پر غالب ہوتی ہے ۔ بندہ اور اللہ کے مابین تعلق کی تعبیر محبت سی کی گئی ہے ۔ یہ بہت اچھی تعبیر ہے ۔ ایک سچے مومن اور حق تعالیٰ کے دور میں محبت ہی کا تعلق ہوتا ہے ۔ قلبی محبت کا تعلق ، روحانی کشش کا رابطہ ، قرب ودوستی کا تعلق اور ایک پر خلوص نورانی جذبہ محبت کا تعلق ۔ یہ افسر وماتحت کا سرکاری تعلق نہیں ہوتا۔ یہ لوگ ہیں جنہوں نے غیر اللہ کو اللہ کا ہمسر بنایا ، انہوں نے سچائی کے ساتھ ظلم کیا ۔ انہوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا ۔ کاش وہ آنکھیں کھول کر دیکھتے ۔ اس منظر کے بارے میں کچھ سوچتے کہ ان کو ایک دن اللہ وحدہ لاشریک کے سامنے کھڑا ہونا ہے ۔ کاش وہ چشم بصیرت سے اس عذاب کو دیکھ سکتے جو ظالموں کا انتظار کررہا ہے ۔ ہاں اگر وہ آنکھیں کھولتے تو یقیناً دیکھ لیتے کہ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا ” تمام طاقتیں اور اختیارات گو اللہ ہی کے ہیں ۔ “ لہٰذا وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے ۔ نہ کسی کو اس کا ہمسربنائے اور ان کو معلوم ہوجاتا وَأَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ ” یہ کہ اللہ بہت ہی سخت عذاب دینے والا ہے۔ “

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مشرکین کی باطل معبودوں سے محبت اور اس پر سخت عذاب توحید کا ذکر کرنے اور توحید کے دلائل بیان فرمانے کے بعد اب ان لوگوں کی حالت بیان فرمائی جنہوں نے توحید سے منہ موڑا اور شرک کو اختیار کیا۔ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ معبود تجویز کرلیے جن کو وہ اللہ تعالیٰ کے برابر سمجھتے ہیں۔ ان کی عبادت کرتے ہیں ان کے لیے نذریں مانتے ہیں، اور ان کے لیے جانور ذبح کرتے ہیں ان کا حال بتانے کے بعد فرمایا (یُحبُّوْنَھُمْ کَحُبِّ اللّٰہِ ) کہ یہ لوگ ان باطل معبودوں سے ایسی محبت کرتے ہیں۔ جیسی اللہ تعالیٰ سے محبت ہونی چاہیے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں (ص ٣٤ ج ٢) کہ یہاں محبت سے تعظیم اور فرمانبرداری مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ اور معبود ان باطلہ کے درمیان برابری کرتے ہیں اور باطل معبودوں کی تعظیم اور اطاعت میں اسی طرح لگتے ہیں جیسا کہ معبود حقیقی کی عبادت اور اطاعت کرنا لازم ہے چونکہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر سمجھتے ہیں اس لیے وہ ضمیر جمع لائی گئی جو عقلاء کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ یعنی یُحِبُّوْ نَھُمْ فرمایا یُحِبُّوْنَھَا نہیں فرمایا۔ بعض مفسرین نے اَنْدَاداً سے قوم و قبیلے اور علاقہ کے بڑے لوگ مراد لیے ہیں یعنی بہت سے لوگ اپنے رؤساء کو ایسا مطاع مانتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور فرمانبرداری کرنا لازم ہے۔ اہل ایمان کو اللہ سے سب سے زیادہ محبت ہے : پھر فرمایا (وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ ) ” یعنی جو لوگ ایمان لائے ان کا اللہ سے محبت کرنا بہت ہی زیادہ قوی ہے “ کیونکہ اہل ایمان کی جو اللہ تعالیٰ سے محبت ہے وہ کامل ہے اور راسخ ہے اور مضبوط ہے۔ ان کی محبت میں کبھی کمی نہیں آتی۔ وہ کبھی بھی اللہ کو چھوڑ کر دوسروں سے مدد نہیں مانگتے اور غیر اللہ کی کبھی بھی عبادت نہیں کرتے۔ برخلاف بت پرستوں کے کہ جب وہ مصیبتوں میں گرفتار ہوتے ہیں تو بتوں کو چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں مثلاً جب کشتی میں سوار ہوں اور وہ ڈوبنے اور ڈگمگانے لگے تو سارے معبودوں کو چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ ہی سے نجات کا سوال کرتے ہیں اور دوسرے احوال میں بھی جب بھی کوئی پریشانی ہو اس کا مظاہرہ ہوتا رہتا ہے۔ ایک زمانہ تک کسی بت کی پوجا پاٹ کرتے رہتے ہیں۔ پھر اسے چھوڑ کر دوسرا بت تراش کر اس کے سامنے جبین نیاز رگڑنے لگتے ہیں اور بعض مرتبہ حلوے وغیرہ کا بت بنا لیتے ہیں۔ پھر عند الضرورت اسے کھا جاتے ہیں۔ ہندوستان کے مشرکوں کو دیکھا جاتا ہے کہ دیوالی کے موقع پر ( جو ان کا ایک تہوار ہے) کھانڈ کی مورتیاں بناتے ہیں پھر ان کو بیچتے ہیں اور چھوٹے بڑے مل کر ان کو کھا جاتے ہیں۔ پھر فرمایا (وَ لَوْ یَرَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ اَنَّ الْقُوَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا وَّ اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ ) ” کہ جن لوگوں نے خدا کے ہمسر تجویز کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیا قیامت کے دن جب عذاب کو دیکھیں گے تو اس وقت جان لیں گے کہ ساری قوت اللہ ہی کے لیے ہے اور اس موقع پر ان کو بہت زیادہ ندامت، پشیمانی اور شرمندگی ہوگی جس سے کچھ بھی فائدہ نہ پہنچے گا۔ یہ آیت کی ایک تفسیر ہے۔ اور اس تفسیر کی بناء پر جواب تو محذوف ہے۔ قال البیضاوی لو یعلمون أن القدرۃ للّٰہ جمیعا اذا عاینوا العذاب لندموا اشد الندم۔ اور مفسر ابن کثیر ص ٢٠٢ ج ١ نے اس کی تفسیر اس طرح سے کی ہے کہ : اگر وہ جان لیں اس عذاب کو جسے وہاں یوم قیامت میں دیکھیں گے (جو سخت عذاب ان کے شرک اور کفر کی وجہ سے ان کو دیا جائے گا) تو آج ہی اس دنیا میں اپنے کفر سے باز آجائیں۔ مفسر بیضاوی نے بعض مفسرین سے آیت کی تفسیر اس طرح بھی نقل کی (وَ لَوْیَرَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَنْدَادَھُمْ لاَ تَنْفَعُ لَعَلِمُوْٓا اَنَّ الْقُوَّۃَ لِلّٰہِ کُلَّھَا لاَ یَنْفَعُ وَ لاَ یَضُرُّ غَیْرُہٗ ) (یعنی جنہوں نے ظلم کیا اگر وہ جان لیں کہ ان کے بنائے ہوئے خدا نفع دینے والے نہیں ہیں تو یہ بات ضرور جان لیں کہ ساری قوت اللہ ہی کے لیے ہے۔ اس کے سوا کوئی نفع اور ضرر کا مالک نہیں۔ اس صورت میں یری کا مفعول یعنی اندادھم لاینفع محذوف ہوگا۔ (وذکرہ فی الروح ایضاً ص ٣٥ ج ٢)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

300 یہ مشرکین کے لیے زجر ہے توحید پر عقلی دلائل قائم کرنے کے بعد ان لوگوں کا یہ حال بیان فرمایا ہے جو ان واضح اور روشن دلائل کے ہوتے ہوئے پھر شرک کرتے ہیں اور اپنے معبودوں کے ساتھ خدا کی محبت کا سا برتاؤ کرتے ہیں۔ اَنْدَاداً ۔ ند کی جمع ہے جس کے معنی مثل اور مشابہ کے ہیں اور یہاں انداد سے مراد اوثان ہیں۔ یعنی پتھر کی وہ مورتیاں جو مشرکین نے انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام کی شکل و صورت پر بنارکھی تھیں اور ان سے محبت اور تعظیم کا وہی معاملہ کرتے تھے جو انہیں خدا سے کرنا چاہیے تھا۔ خداوند تعالیٰ چونکہ خالق ومالک اور محسن ومنعم ہے لہذا اس کی محبت کا تقاضا تو یہ ہے کہ اسی کی عبادت کی جائے اور اسی کے سامنے جھکا جائے، اسی سے مانگا جائے اور اسی کی نذرومنت دی جائے۔ مگر مشرکین یہی معاملات اپنے انداد سے کرتے ہیں جنہیں انہوں نے خدا کے سوا کارساز بنا رکھا ہے۔ ان کی عبادت کو خدا کے تقرب کا ذریعہ سمجھ رکھا ہے۔ ان سے نفع ونقصان کی امید رکھتے ہیں۔ ان کے سامنے اپنی حاجتیں پیش کرتے ہیں ان کے لیے نذریں مانتے اور ان کی خوشنودی اور تعظیم کے لیے بحیرہ، سائبہ چھوڑتے ہیں۔ انھا ہی الاوثان التی اتخذوھا الھۃ لتقربھم الی اللہ زلفا ورجوا من عندھا النفع والضرر وقصدوھا بالمسائل ونذروا لھا النذر وقربوا لھا القرابین وھو قول اکثر المفسرین (کبیر ص 501 ج 1) بعض لوگ کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں انداد اور اوثان واصنام سے پتھر کے تراشیدہ بت مراد ہیں۔ مشرکین انہیں کو سب کچھ سمجھتے تھے اور انہیں کے لیے سب کچھ کرتے تھے۔ مگر یہ سمجھنا نادانی ہے کیونکہ بت تو انہوں نے محض توجہ کی یکسوائی اور یادگار کے طور پر رکھے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ عبادت وتعظیم کا جو سلوک کرتے تھے وہ محض اس لیے کرتے تھے کہ وہ ان کے بزرگوں کے مجسمے اور ان کی یادگاریں ہیں اور اس عبادت وتعظیم سے ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ ہمارے بزرگوں کی ہمیں خوشنودی حاصل ہوجائے اور وہ ہماری حاجت روائی اور مشکل کشائی کردیں۔ اگر کوئی شخص بت نہ بنائے اور بت کے بغیر ہی اللہ کے نیک بندوں سے محبت وعقیدت اور عبادت وتعظیم کا وہی برتاؤ کرے جو اسے اللہ سے کرنا چاہئے۔ مثلاً اسے عالم الغیب، مالک ومختار، حاجت روا اور مشکل کشا سمجھے اور اس کی خوشنودی کے لیے اس کے نام کی نذریں نیازیں دے اور اس سے نفع ونقصان کی توقع رکھے تو اس شخص نے اس اللہ کے نیک بندے کو خدا کا نِدْ بنادیا اور اسے اس وحدہ لا شکریک کا مثل اور شریک ٹھہرایا۔ کیونکہ اس نے اس سے محبت کا وہ معاملہ کیا جو اسے صرف خدا ہی سے کرنا چاہیے تھا۔ اس لیے یہاں انداد کے تحت ہر وہ شخص اور ہر وہ چیز مندرج ہے جس سے خدا کی محبت کا سا سلوک کیا جائے۔ 301 ۔ مشرکین نے تو خدا کی محبت میں کئی ایک شریک بنا رکھے ہیں لیکن مومنین خدا کی محبت میں کسی کو اس کا مثل اور شریک نہیں سمجھتے اور غیر خدا کے ساتھ خدا کی محبت کا سا سلوک نہیں کرتے اور خدا کی محبت ان کے دلوں میں ہر چیز کی محبت سے بڑھ کر ہے۔ محبت کے درجات مختلف ہیں۔ خدا کی محبت، رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت، بزرگان دین کی محبت، ماں باپ کی محبت، بھائی بہنوں کی محبت، اولاد کی محبت وغیرہ۔ ہر ایک سے محبت کا وہی سلوک کیا جائے گا جو اس کے شایانِ شان اور مناسب حال ہو۔ خدا کی محبت یہ ہے کہ اسی کی عبادت بجا لائے، اسی کو پکارے، اسی سے مانگے، اسی کی نذرومنت دے اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔ پیغمبر (علیہ السلام) کی محبت یہ ہے کہ اپ کو خدا کا سچا اور آخری رسول مانے۔ دل وجان سے آپ کے ہر حکم کی تعمیل کرے، آپ پر صلوۃ وسلام بھیجے اور اسی میں اپنی سعادت اور نجات سمجھے۔ بزرگانِ دین کی محبت یہ ہے کہ انہیوں اپنے پیشوا سمجھے اور ان کے نقش قدم پر چلے۔ علی ہذ القیاس۔ اب کوئی پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کرنے لگے۔ آپ کو مالک و مختار سمجھ کر پکارنے لگے۔ آپ کی نذریں منتیں دینے لگے تو وہ محب رسول نہیں بلکہ مشرک ہے۔ اسی طرح جو شخص اپنے پیرو ومرشد کو مثیل رسول سمجھنے لگے اور شریعت کے احکام میں اسے پیغمبر کی طرح اتھارٹی ماننے لگے تو وہ بھی اس اندھی محبت کی وجہ سے کافر ہوجائے گا۔ اس لیے ہر ایک سے اس کے مناسب حال محبت کرنی لازم ہے۔ 302 یہ مشرکین کے لیے تخویف ہے۔ اس آیت میں دو ترکیبیں ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ لَوْ شرطیہ ہے اور اس کا جواب شدید العذاب کے بعد محذوف ہے یعنی لما فعلوا اور یری کا مفعول حال انفسہم محذوف ہے اور اذ یرون العذاب ظرف یری کے متعلق ہے اور عذاب سے اخروی عذاب مراد ہے اور ان القوۃ سے پہلے با سببیہ محذوف ہے اور یہ اذ یرون کا سبب ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں شرک کر کے اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہیں اگر ان کو معلوم ہوجائے کہ قیامت میں جب وہ اللہ کا عذاب دیکھیں گے اس وقت ان کا کیا حال ہوگا تو وہ ہرگز شرک نہ کریں اور وہ عذاب اس لیے پائیں گے کہ قیامت کے دن سارا زور اور اختیار صرف اللہ کا ہوگا اور اس کا عذاب نہایت سخت ہوگا اور جن کو مشرکوں نے اپنے سفارشی اور حیلہ ساز سمجھا ہوا تھا وہ سب بےبس اور عاجز ثابت ہوں گے۔ اس صورت اذ تبرا، اذ یرون العذاب سے بدل ہوگا دوسری صورت یہ ہے کہ لَوْ تمنی کے لیے ہے جس کا جواب نہیں ہوتا۔ یری بمعنی یعلم ہے (قرطبی ص 205 ج 2) اور عذاب سے دنیوی عذاب مراد ہے ان القوۃ الخ اور ان اللہ الخ منصوب منزع خافض۔ یری کے دونوں مفعولوں کے قائم مقام ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ کاش یہ مشرک جب دنیا میں مصائب وآلام کی صورت میں خدا کا عذاب دیکھتے تھے اس وقت اس بات کا یقین کرلیتے کہ ہر قسم کی قوت و طاقت اور تصرف واختیار صرف خدا ہی کو حاصل ہے اور اس کی گرفت نہایت زبردست ہے اور یہ بات ان کی سمجھ میں آجاتی کہ اللہ کے سوا کوئی پیغمبر یا ولی یا کوئی فرشتہ ناصر و مددگار اور مختار و متصرف نہیں اور نہ اللہ کے عذاب سے کوئی بچا سکتا ہے۔ اس صورت میں اِذْ تَبرا تخویف اخروی کے لیے استیناف ہوگا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 بنی نوع انسان میں بعضے لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں کو اس کا ہمسر اور شریک قرار دیتے ہیں اور ان انداد سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی محبت اللہ تعالیٰ سے کرنی چاہئے اور جو لوگ اہل ایمان ہیں ان کی محبت اللہ تعالیٰ کیس اتھ اس محبت سے نہایت مستحکم اور قوی تر ہے جو دوسرے لوگوں کو اپنے اصنام اور انداد کے ساتھ ہے اور کیا اچھا ہوتا اگر یہ ظالم لوگ جو خدا کے ساتھ شرک کر رہے ہیں اس بات کو جس کو یہ قیامت کے دن مشاہدہ عذاب کے وقت سمجھیں گے آج دنیا میں جان لیتے کہ ہر قسم کی قوت اور زور اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے اور نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب شدید ترین عذاب ہے۔ (تیسیر) ند کے معنی تو وہی ہیں جس کو ہم اوپر بیان کرچکے ہیں مثیل، شبیہ ، مقابل ، ضد ، برابر، یہاں اصنام اور مشرک کے بت مراد ہیں جن کو یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے بناتے ہیں اور پھر ان کو خدا کی عبادت میں شریک تجویز کرتے ہیں۔ اصنام کو انداز اس لئے کہتے ہیں کہ وہ آپس میں ملتے جلتے ہوتے ہیں۔ یوں بھی ترجمہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اصنام کو معبود تجویز کرتے ہیں محبت اصل میں قلب کے مائل ہونے کو کہتے ہیں لیکن جب یہ محبت بندے کی طرف نسبت کی جائے تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اسکی رضا جوئی مراد ہوتی ہے اور جب اللہ تعالیٰ کی جانب نسبت کی جائے تو اللہ تعالیٰ کا اکرام اور بندے کو نیکی کی دنیا اور معاصی میں مبتلا ہونے سے اس کی حفاظت کرنا مقصود ہوتا ہے اور مسلمانوں کی محبت کو مستحکم اور قوی فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کی محبت پائیدار نہیں ہوتی کچھ بھلا ہوگیا تو محبت قائم ہے اور کچھ نقصان ہوگیا تو ان شرکاء سے بدظن ہوگئے یا کوئی خطرہ پیش آگیا تو بتوں کو چھوڑ کر خدا کو پکارنے لگے۔ غرض ان کی محبت کا منبی چونکہ فاسد ہے اس لئے اس کو ثبات اور دوام نہیں اور مسلمان ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے وابستہ رہتا ہے اور نفع اور ضرر کا اس کو مالک جانتے ہوئے اس سے محبت قائم رکھتا ہے۔ نفع حاصل ہوجائے تو اللہ کا شکر کرتا ہے اور کچھ نقصان پہنچ جائے تو صبر کرتا ہے اور اس کی قضا پر راضی رہتا ہے مسلمان کے اعتقاد اور اس کی محبت میں حوادثات کی جہ سے کبھی اضمحلال نہیں ہوتا اور چونکہ اس کے نزدیک اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک ہے اور اس کے سوا کوئی دوسرا کار ساز نہیں ہے اس لئے اس کے خیال میں کبھی یہ وہم بھی نہیں آتا کہ میں خدا کو چھوڑ کر کہیں اور بھی جاسکتا ہوں۔ آیت کے آخری حصہ کا مطلب یہ ہے کہ ان مشرکوں کو بہرحال قیامت میں مشاہدہ عذاب کے وقت تو اس امر کا یقین آ ہی جائیگا کہ تمام قوت اور طاقت خدا کے قبضے میں ہے اور اس کا عذاب بھی بڑا ہی سخت ہے لیکن اس وقت اس یقین کا کوئی فائدہ مرتب نہیں ہوگا تو جو بات یہ جب جانیں گے اور سمجھیں گے کیا اچھا ہو کہ اب دنیا میں جان لیں اور اس کا یقین کرلیں کہ ہر قسم کی قوتوں کا مرکز صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور اس کی سزا سخت ہے۔ مفسرین نے اس مقام پر اپنے اپنے ذوق کے موافق مختلف معنی کئے ہیں اور بہت سے احتمالات پر بحث کی ہے تفسیر مظہری میں تفصیل موجود ہے نے سہل اور آسان مطلب اختیار کرلیا ہے تاکہ اردو داں طبقے کو مطلب سمجھنے میں دشواری نہ ہو۔ حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی (رح) نے اذیرون العذاب سے دنیاوی مصیبت مراد لی ہے کیونکہ دنیا میں بھی بعض ایسے مصائب پیش آتے ہیں کہ انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ ہر قسم کی قوتوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے بہرحال مختلف طریقوں سے ترجمہ کیا جاسکتا ہے لیکن سب کا حاصل یہی ہے کہ کسی طرح اللہ تعالیٰ کے عذاب کی سختی اور اس کی قوت کا ان کو یقین حاصل ہوجاتا۔ بعض لوگوں نے لو کی جزا بھی نکالی ہے یعنی اگر ایسا ہوجاتا تو یہ لوگ بتوں کی محبت سے باز آجاتے لیکن ہم نے تیسیر میں ایسی عبارت اختیار کی ہے جس میں جزا نکالنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور یوں بھی ترجمہ ہوسکتا ہے کہ یہ ظالم معائنہ عذاب کے وقت دیکھتے کہ ان کے اصنام اور معبود ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے تو اس امر کا یقین کرلیتے کہ ہر قسم کی قوت اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے اس کے سوا کوئی دوسرا نفع اور ضررکا مالک نہیں ہے۔ غرض یہ کہ صاحب تفسیر مظہری نے اس موقعہ پر تقریباً چھ سات طریقے اختیار کئے ہیں۔ ( واللہ اعلم بالصواب) اس آیت میں ایک اور بات بھی قابل توجہ ہے وہ یہ کہ اہل ایمان کی اس محبت کا اعتراف کیا گیا ہے جو ان کو اللہ تعالیٰ کی ذات سے قائم ہے اور اس شخص سے بڑھ کر کسی کی کیا خوش قسمتی ہوسکتی ہے جس کا محبوب خود اسکی محبت کا عتراف اور اقرار کرلے۔ (تسہیل)