Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 171

سورة البقرة

وَ مَثَلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا کَمَثَلِ الَّذِیۡ یَنۡعِقُ بِمَا لَا یَسۡمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً ؕ صُمٌّۢ بُکۡمٌ عُمۡیٌ فَہُمۡ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۷۱﴾

The example of those who disbelieve is like that of one who shouts at what hears nothing but calls and cries cattle or sheep - deaf, dumb and blind, so they do not understand.

کفار کی مثال ان جانوروں کی طرح ہے جو اپنے چرواہے کی صرف پکار اور آواز ہی کو سُنتے ہیں ( سمجھتے نہیں ) وہ بہرے گونگے اور اندھے ہیں ، انہیں عقل نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُواْ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لاَ يَسْمَعُ إِلاَّ دُعَاء وَنِدَاء ... And the example of those who disbelieve is as that of him who shouts to those (flock of sheep) that hear nothing but calls and cries. Allah made a parable of the disbelievers, just as He said in another Ayah: لِلَّذِينَ لاَ يُوْمِنُونَ بِالاٌّخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ For those who believe not in the Hereafter is an evil description. (16:60) Similarly, Allah said here وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُواْ (And the example of those who disbelieve...), meaning, in their injustice, misguidance and ignorance, they are just like wandering animals, not understanding what they are told; if the shepherd heralds them or calls them to what benefits them, they would not understand what is actually being said to them, for they only hear unintelligible sounds. This is what is reported from Ibn Abbas, Abu Al-Aliyah, Mujahid, Ikrimah, Ata, Al-Hasan, Qatadah, Ata Al-Khurasani and Ar-Rabi bin Anas. ... صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ ... They are deaf, dumb, and blind. means, they are deaf, as they do not hear the truth; mute, as they do not utter it; and blind, as they do not see or recognize its path and way. ... فَهُمْ لاَ يَعْقِلُونَ So they do not understand. means, they do not comprehend or understand anything.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

171۔ 1 ان کافروں کی مثال جنہوں نے تقلید آباء میں اپنی عقل و فہم کو معطل کر رکھا ہے ان جانوروں کی طرح ہے جن کو چرواہا بلاتا اور پکارتا ہے وہ جانور آواز تو سنتے ہیں لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ انہیں کیوں بلایا اور پکارا جا رہا ہے ؟ اسی طرح یہ آباؤ اجداد کی تقلید کرنے والے بھی بہرے ہیں کہ حق کی آواز نہیں سنتے، گونگے ہیں کہ ان کی زبان سے حق نہیں نکلتا، اندھے ہیں کہ حق کو دیکھنے سے عاجز ہیں اور بےعقل ہیں کہ دعوت حق اور دعوت توحید و سنت کے سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہاں دعا سے قریب کی آواز اور ندا سے دور کی آواز مراد ہے

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٢١٣] یعنی کافروں کی مثال ان بےعقل جانوروں کی سی ہے۔ جنہیں چرواہا جب پکارتا ہے تو وہ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ وہ کہہ کیا رہا ہے۔ بلکہ محض آواز سن کر ادھر ادھر ہوجاتے ہیں۔ جانوروں کی طرح یہ کافر بھی حق بات سن کر نہ اسے سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی حق بات کہہ سکتے ہیں اور حق بینی کے معاملہ میں اندھے ہیں۔ پھر انہیں ہدایت نصیب ہو تو کیسے ہو۔ جب کہ ہدایت پانے کے سارے راستے انہوں نے خود ہی اپنے آپ پر بند کر رکھے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

” نَعَقَ بِغَنَمِہٖ “ (ف، ض) اپنی بھیڑ بکریوں کو آواز دینا اور ڈانٹنا۔ (قاموس) کفار کی یہ مثال دو طرح سے ہے، ایک تو یہ کہ ان کفار کو سمجھانے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو ان جانوروں کو سمجھاتا ہے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہیں سنتے۔ یہ کفار کان، زبان اور آنکھیں رکھنے کے باوجود ضد اور عناد کی وجہ سے حق سننے، دیکھنے اور اس کا اقرار کرنے سے بہرے، گونگے اور اندھے ہیں۔ سورة اعراف (١٧٩) میں ایسے لوگوں کو جانوروں کی طرح، بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے اور سرے سے بیخبر قرار دیا ہے۔ مزید دیکھیے سورة زخرف (٤٠) اور یونس (٤٢، ٤٣) ۔ دوسری اس طرح کہ ان کی مثال ان بےعقل جانوروں کی سی ہے جن کے گلے (ریوڑ) اپنے اپنے چرواہوں کے پیچھے چلے جاتے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے ان کی آواز پر حرکت کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ لوگ اپنے اپنے پیشواؤں کے پیچھے بغیر سوچے سمجھے چلے جاتے ہیں، گویا یہ تقلید آباء کی تمثیل ہے۔ آیت میں دونوں مفہوم موجود ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِيْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ اِلَّا دُعَاۗءً وَّنِدَاۗءً۝ ٠ ۭ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْيٌ فَہُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ۝ ١٧١ مثل والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] ، وفي أخری: وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] . ( م ث ل ) مثل ( ک ) المثل کے معنی ہیں ایسی بات کے جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو ۔ اور ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ دوسری کا مطلب واضح ہوجاتا ہو ۔ اور معاملہ کی شکل سامنے آجاتی ہو ۔ مثلا عین ضرورت پر کسی چیز کو کھودینے کے لئے الصیف ضیعت اللبن کا محاورہ وہ ضرب المثل ہے ۔ چناچہ قرآن میں امثال بیان کرنے کی غرض بیان کرتے ہوئے فرمایا : ۔ وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں تاکہ وہ فکر نہ کریں ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ نعق نَعَقَ الرَّاعي بصَوْتِهِ. قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] . ( ن ع ق ) نعق الراعی بصوتہ کے معنی چرواہا ہے کے چلانے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] اس کی مثال کی سی ہے ۔ جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکارا اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ سمع السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا . ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] ، ( س م ع ) السمع ۔ قوت سامعہ ۔ کا ن میں ایک حاسہ کا نام ہے جس کے ذریعہ آوازوں کا اور اک ہوتا ہے اداس کے معنی سننا ( مصدر ) بھی آتے ہیں اور کبھی اس سے خود کان مراد لیا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ اور کبھی لفظ سماع کی طرح اس سے مصدر ی معنی مراد ہوتے ہیں ( یعنی سننا ) چناچہ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] وہ ( آسمائی باتوں کے ) سننے ( کے مقامات ) سے الگ کردیئے گئے ہیں ۔ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے ۔ اور کبھی سمع کے معنی فہم و تدبر اور کبھی طاعت بھی آجاتے ہیں مثلا تم کہو ۔ اسمع ما اقول لک میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو لم تسمع ماقلت لک تم نے میری بات سمجھی نہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ( یہ کلام ) ہم نے سن لیا ہے اگر چاہیں تو اسی طرح کا ( کلام ) ہم بھی کہدیں ۔ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ ندا النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي : دَعَوْتُمْ ، وکذلك : إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] ونِدَاءُ الصلاة مخصوصٌ في الشَّرع بالألفاظ المعروفة، وقوله : أُولئِكَ يُنادَوْنَمِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ [ فصلت/ 44] فاستعمال النّداء فيهم تنبيها علی بُعْدهم عن الحقّ في قوله : وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ مِنْ مَكانٍ قَرِيبٍ [ ق/ 41] ، وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] ، وقال : فَلَمَّا جاءَها نُودِيَ [ النمل/ 8] ، وقوله : إِذْ نادی رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا [ مریم/ 3] فإنه أشار بِالنِّدَاء إلى اللہ تعالی، لأنّه تَصَوَّرَ نفسَهُ بعیدا منه بذنوبه، وأحواله السَّيِّئة كما يكون حال من يَخاف عذابَه، وقوله : رَبَّنا إِنَّنا سَمِعْنا مُنادِياً يُنادِي لِلْإِيمانِ [ آل عمران/ 193] فالإشارة بالمنادي إلى العقل، والکتاب المنزَّل، والرّسول المُرْسَل، وسائر الآیات الدَّالَّة علی وجوب الإيمان بالله تعالی. وجعله منادیا إلى الإيمان لظهوره ظهورَ النّداء، وحثّه علی ذلك كحثّ المنادي . وأصل النِّداء من النَّدَى. أي : الرُّطُوبة، يقال : صوت نَدِيٌّ رفیع، واستعارة النِّداء للصَّوْت من حيث إنّ من يَكْثُرُ رطوبةُ فَمِهِ حَسُنَ کلامُه، ولهذا يُوصَفُ الفصیح بکثرة الرِّيق، ويقال : نَدًى وأَنْدَاءٌ وأَنْدِيَةٌ ، ويسمّى الشَّجَر نَدًى لکونه منه، وذلک لتسمية المسبَّب باسم سببِهِ وقول الشاعر : 435- كَالْكَرْمِ إذ نَادَى مِنَ الكَافُورِ «1» أي : ظهر ظهورَ صوتِ المُنادي، وعُبِّرَ عن المجالسة بالنِّدَاء حتی قيل للمجلس : النَّادِي، والْمُنْتَدَى، والنَّدِيُّ ، وقیل ذلک للجلیس، قال تعالی: فَلْيَدْعُ نادِيَهُ [ العلق/ 17] ومنه سمّيت دار النَّدْوَة بمكَّةَ ، وهو المکان الذي کانوا يجتمعون فيه . ويُعَبَّر عن السَّخاء بالنَّدَى، فيقال : فلان أَنْدَى كفّاً من فلان، وهو يَتَنَدَّى علی أصحابه . أي : يَتَسَخَّى، وما نَدِيتُ بشیءٍ من فلان أي : ما نِلْتُ منه نَدًى، ومُنْدِيَاتُ الكَلِم : المُخْزِيَات التي تُعْرَف . ( ن د ی ) الندآ ء کے معنی آواز بلند کرنے کے ہیں اور کبھی نفس آواز پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ میں اندر سے مراد آواز و پکار ہے یعنی وہ چو پائے صرف آواز کو سنتے ہیں اور اس کلام سے جو مفہوم مستناد ہوتا ہے اسے ہر گز نہیں سمجھتے ۔ اور کبھی اس کلام کو جس سے کوئی معنی مفہوم ہوتا ہو اسے ندآء کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے ۔ وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] اور جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو پکارا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] اور جب تم لوگ نماز کے لئے اذان دیتے ہو ۔ میں نماز کے لئے اذان دینا مراد ہے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : ۔ إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] جب جمعے کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے ۔ میں بھی نداء کے معنی نماز کی اذان دینے کے ہیں اور شریعت میں ند اء الصلوۃ ( اذان ) کے لئے مخصوص اور مشہور کلمات ہیں اور آیت کریمہ : ۔ أُولئِكَ يُنادَوْنَ مِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ [ فصلت/ 44] ان کو گویا دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے : ۔ میں ان کے متعلق نداء کا لفظ استعمال کر کے متنبہ کیا ہے کہ وہ حق سے بہت دور جا چکے ہیں ۔ نیز فرمایا ۔ وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ مِنْ مَكانٍ قَرِيبٍ [ ق/ 41] اور سنو جس دن پکارنے والا نزدیک کی جگہ سے پکارے گا ۔ وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] اور ہم نے ان کو طور کے ذہنی جانب سے پکارا فَلَمَّا جاءَها نُودِيَ [ النمل/ 8] جب موسیٰ ان ان کے پاس آئے تو ندار آئی ۔ ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِذْ نادی رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا [ مریم/ 3] جب انہوں نے اپنے پروردگار کو دبی آواز سے پکارا میں اللہ تعالیٰ کے متعلق نادی کا لفظ استعمال کرنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زکریا (علیہ السلام) نے اپنے گناہ اور احوال سینہ کے باعث اس وقت اپنے آپ کو حق اللہ تعالیٰ سے تصور کیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے والے کی حالت ہوتی ہے اور آیت کریمہ ؛ ۔ رَبَّنا إِنَّنا سَمِعْنا مُنادِياً يُنادِي لِلْإِيمانِ [ آل عمران/ 193] اے پروردگار ہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا ۔ جو ایمان کے لئے پکاررہا تھا ۔ میں منادیٰ کا لفظ عقل کتاب منزل رسول مرسل اور ان آیات الہیہ کو شامل ہے جو ایمان باللہ کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں اور ان چیزوں کو منادی للا یمان اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ ندا کی طرح ظاہر ہوتی ہیں اور وہ پکارنے والے کی طرح ایمان لانے کی طرف دعوت دے رہی ہیں ۔ اصل میں نداء ندی سے ہے جس کے معنی رطوبت نمی کے ہیں اور صوت ندی کے معنی بلند آواز کے ہیں ۔ اور آواز کے لئے نداء کا استعارہ اس بنا پر ہے کہ جس کے منہ میں رطوبت زیادہ ہوگی اس کی آواز بھی بلند اور حسین ہوگی اسی سے فصیح شخص کو کثرت ریق کے ساتھ متصف کرتے ہیں اور ندی کے معنی مجلس کے بھی آتے ہیں اس کی جمع انداء واندید آتی ہے ۔ اور در خت کو بھی ندی کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ وہ نمی سے پیدا ہوتا ہے اور یہ تسمیۃ المسبب با سم السبب کے قبیل سے ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( 420 ) کالکرم اذا نادٰی من الکافور جیسا کہ انگور کا خوشہ غلاف ( پردہ ) سے ظاہر ہوتا ہے ۔ جیسا کہ منادی کرنے والے کی آواز ہوتی ہے ۔ کبھی نداء سے مراد مجالست بھی ہوتی ہے ۔ اس لئے مجلس کو النادی والمسدیوالندی کہا جاتا ہے اور نادیٰ کے معنی ہم مجلس کے بھی آتے ہیں قرآن پاک میں ہے : ۔ فَلْيَدْعُ نادِيَهُ [ العلق/ 17] تو وہ اپنے یاران مجلس کو بلالے ۔ اور اسی سے شہر میں ایک مقام کا نام درا لندوۃ ہے ۔ کیونکہ اس میں مکہ کے لوگ جمع ہو کر باہم مشورہ کیا کرتے تھے ۔ اور کبھی ندی سے مراد مخاوت بھی ہوتی ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے : ۔ فلان اندیٰ کفا من فلان وپ فلاں سے زیادہ سخی ہے ۔ ھو یتندٰی علیٰ اصحابہ ۔ وہ اپنے ساتھیوں پر بڑا فیاض ہے ۔ ما ندیت بشئی من فلان میں نے فلاں سے کچھ سخاوت حاصل نہ کی ۔ مندیات الکلم رسوا کن باتیں مشہور ہوجائیں ۔ صمم الصَّمَمُ : فقدانُ حاسّة السّمع، وبه يوصف من لا يُصغِي إلى الحقّ ولا يقبله . قال تعالی: صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] ، ( ص م م ) الصمم کے معیم حاصہ سماعت ضائع ہوجانا کے ہیں ( مجاز) اس کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوتا ہے جو نہ تو حق کی آواز سنے اور نہ ہی اسے قبول کرے ( بلکہ اپنی مرضی کرتا چلا جائے ) قرآن میں ہے : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں ۔ بكم قال عزّ وجلّ : صُمٌّ بُكْمٌ [ البقرة/ 18] ، جمع أَبْكَم، وهو الذي يولد أخرس، فكلّ أبكم أخرس، ولیس کل أخرس أبكم، قال تعالی: وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَجُلَيْنِ أَحَدُهُما أَبْكَمُ لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 76] ، ويقال : بَكِمَ عنالکلام : إذا ضعف عنه لضعف عقله، فصار کالأبكم . ( ب ک م ) الابکم ۔ پیدائشی گونگا اور اخرس عام گونگے کو کہے ہیں لہذا ابکم عام اور اخرس خاص ہے قرآن میں ہے ۔ وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَجُلَيْنِ أَحَدُهُما أَبْكَمُ لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 76] اور خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ دو آدمی ہیں ایک ان میں گونگا اور دوسرے کی ملک ( ہے دبے اختیار وناتوان ) کہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا ۔ اور ابکم کی جمع بکم آتی ہے چناچہ فرمایا : ۔ صُمٌّ بُكْمٌ [ البقرة/ 18] یہ بہرے ہیں گونگے ہیں اور جو شخص ضعف عقلی کے سبب گفتگو نہ کرسکے اور گونگے کی طرح چپ رہے تو اس کے متعلق بکم عن الکلام کہا جاتا ہے یعنی وہ کلام سے عاجز ہوگیا ۔ عمی العَمَى يقال في افتقاد البصر والبصیرة، ويقال في الأوّل : أَعْمَى، وفي الثاني : أَعْمَى وعَمٍ ، وعلی الأوّل قوله : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] ، وعلی الثاني ما ورد من ذمّ العَمَى في القرآن نحو قوله : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] ( ع م ی ) العمی ٰ یہ بصارت اور بصیرت دونوں قسم اندھے پن کے لئے بولا جاتا ہے لیکن جو شخص بصارت کا اندھا ہو اس کے لئے صرف اعمیٰ اور جو بصیرت کا اندھا ہو اس کے لئے اعمیٰ وعم دونوں کا استعمال ہوتا ہے اور آیت کریمہ : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] کہ ان کے پاس ایک نا بینا آیا ۔ میں الاعمیٰ سے مراد بصارت کا اندھا ہے مگر جہاں کہیں قرآن نے العمیٰ کی مذمت کی ہے وہاں دوسرے معنی یعنی بصیرت کا اندھا پن مراد لیا ہے جیسے فرمایا : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] یہ بہرے گونگے ہیں اندھے ہیں ۔ فَعَمُوا وَصَمُّوا[ المائدة/ 71] تو وہ اندھے اور بہرے ہوگئے ۔ بلکہ بصٰیرت کے اندھا پن کے مقابلہ میں بصارت کا اندھا پن ۔ قرآن کی نظر میں اندھا پن ہی نہیں ہے عقل العَقْل يقال للقوّة المتهيّئة لقبول العلم، ويقال للعلم الذي يستفیده الإنسان بتلک القوّة عَقْلٌ ، وهذا العقل هو المعنيّ بقوله : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] ، ( ع ق ل ) العقل اس قوت کو کہتے ہیں جو قبول علم کے لئے تیار رہتی ہے اور وہ علم جو اس قوت کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی عقل کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] اور سے توا ہل دانش ہی سمجھتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٧١) پھر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کافروں کی مثال بیان فرماتے ہیں کہ ان کافروں کی مثال ان اونٹ اور بکریوں جیسی ہے جن کو کوئی پکار رہا ہے یعنی ان کو چرانے والا ایسی آواز کے پکار رہا ہے جس کو نہ جانور سنتے ہیں اور نہ سمجھتے یعنی چرانے والا جس وقت ان سے کہتا ہے کھاؤ یا پیو تو یہ کچھ نہیں سمجھتے، ایسے ہی یہ کافر سچی بات کے سننے سے بہرے اور اس کے کلام کرنے سے گونگے اور حق بات کے دیکھنے سے اندھے یعنی یہ حق بات اور ہدایت کے قبول کرنے سے آپس میں بالکل اندھے بہرے اور گونگے ہیں جیسا کہ اونٹ اور بکریاں چرانے والے کی بات کو نہیں سمجھتیں اس طرح یہ کافر اللہ کے حکم اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پروگرام کو بالکل نہیں سمجھتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧١ (وَمَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا کَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لاَ یَسْمَعُ الاَّ دُعَآءً وَّنِدَآءً ط) جو لوگ محض باپ دادا کی تقلید میں اپنے کفر پر اڑ گئے ہیں ان کی تشبیہہ جانوروں سے دی گئی ہے جنہیں پکارا جائے تو وہ پکارنے والے کی پکار اور آواز تو سنتے ہیں ‘ لیکن سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے بالکل عاری ہوتے ہیں۔ تمثیل سے مراد یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمان ان لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ اس دعوت پر کان دھرنے کو تیار نہیں ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

169. This parable has two aspects. On the one hand, it suggests that these people are like herds of irrational animals, dumb cattle, that always follow their herdsmen, moving on as they hear their calls without understanding what they mean. (Thus these people follow their leaders even though they do not grasp where it is they are being led to - Ed.) On the other hand, it also suggests that when the Truth is preached to them they show such insensitivity to it that one may as well be addressing animals who merely comprehend sounds but are incapable of understanding their meaning. The expression lends itself to both interpretations.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :169 اس تمثیل کے دو پہلو ہیں ۔ ایک یہ کہ ان لوگوں کی حالت ان بے عقل جانوروں کی سی ہے جن کے گلّے اپنے اپنے چرواہوں کے پیچھے چلے جاتے ہیں اور بغیر سمجھے بُوجھے ان کی صداؤں پر حرکت کرتے ہیں ۔ اور دُوسرا پہلو یہ ہے کہ ان کو دعوت و تبلیغ کرتے وقت ایسا محسُوس ہوتا ہے کہ گویا جانوروں کو پکارا جا رہا ہے جو فقط آواز سُنتے ہیں ، مگر کچھ نہیں سمجھتے کہ کہنے والا ان سے کیا کہتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے الفاظ ایسے جامع استعمال فرمائے ہیں کہ یہ دونوں پہلو ان کے تحت آجاتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:171) ومثل الذین کفروا کمثل الذی ینعق بما لا یسمع الا دعاء وندائ۔ اس میں الذین کفروا کا مضاف محذوف ہے اور تقدیر کلام یہ ہے داعی الذین کفروا ۔۔ الخ ینعق مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ نعق۔ نعین۔ نعاق (باب فتح۔ ضرب) مصادر۔ فعل لازم و متعدی ہر دو میں مستعمل ہے۔ چناچہ بولتے ہیں۔ نعق الغراب کوے کا کائیں کائیں کرنا۔ اور متعدی بالباء نعق بغنمہ اس نے چیخ کر اپنی بکریوں کو ڈانٹا۔ بما میں ب تعدیہ کے لئے ہے اور ما موصولہ ہے یعنی الذی جملہ کا ترجمہ ہوگا۔ اور کافر لوگوں کو دعوت حق دینے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو چلا چلا کر ایسی شے کو پکار رہا ہے جو کچھ بھی سوائے پکارنے کے اور چلانے کے نہیں سنتی۔ یعنی وہ صرف آواز کو سنتے ہیں معنی اور مفہوم کو نہیں سمجھتے۔ دعائ۔ دعا یدعوا کا مصدر بمونی پکار، بلانا ، دعا کرنا۔ مانگنا ، د ع و۔ مادہ ۔ نداء ۔ نادی ینادی کا مصدر بمعنی پکارنا ۔ آواز دینا۔ ندی۔ مادہ۔ دعا اور نداء قریباً ہم معنی ہیں۔ صم خبر ہے جس کا مبتدا مضمر ہے۔ ای ھم صم۔ وہ بہرے ہیں (آیات کو غور سے نہیں سنتے) بکم۔ خبرثانی ۔ وہ گونگے ہیں ۔ (کہ کلمات خیر ان کی زبان سے نہیں نکلتے) عمی۔ خبر ثالث۔ وہ اندھے ہیں (کہ ہدایت کو نہیں دیکھتے) لا یعقلون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ سو وہ کچھ نہیں سمجھتے۔ یعنی چونکہ ان کی فکر و نظر میں خلل واقع ہوگہا ہے اس لئے دین کی بات سمجھتے ہی نہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 تر جمہ میں کی ہوئی وضاحت کے مطابق کفار کو گمراہی اور ضلالت میں ان جانوروں کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو راعی کی آواز تو سنتے ہوں مگر کچھ سمجھتے نہیں۔ ای مثلک یا محمد ومثل الذین کفروا الخ اور دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ کفار کو بتوں کے پکار نے میں اس راعی کے ساتھ تشببیہ دی گئی ہو جو بھیڑ بکریوں کے دور سے بلاتا ہے۔ ای ‏مثل الذین کفروا ودعائھم الا صنام کمثل الذی الخ مفسرین نے اس مثل کے یہ دونوں مطلب بیان کیے ہیں مگر حاظ ابن کثیر نے پہلی تشبیہ کو پسند فرمایا ہے۔ البحر المحیط۔ ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

گونگے ، بہرے اور اندھے ہیں ۔ اگرچہ وہ کانوں ، آنکھوں اور زبانوں والے ہیں ۔ وہ کیوں ایسے نہ ہوں کہ ان چیزوں کے باوجود وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے ۔ راہِ ہدایت نہیں پاتے ۔ جو آنکھیں ہوتے ہوئے نہیں دیکھتا تو اندھا ہے ، کان ہوتے نہیں سنتاتو بہرہ ہے ، زبان ہوتے حق بات نہیں کرتا تو ، گونگا ہے۔ جو شخص غور وفکر چھوڑ دے ۔ علم ومعرفت اور رشد وہدایت کے دروازے اپنے اپر بند کردے اور نظریہ حیات اور راہ عمل کا مآخذ ومصدر اس ذریعے کو قرار دے جو دراصل ماخذ ومصدر نہ ہو اور نہ اس کا مستحق ہو تو ایسے شخص کی اس سے زیادہ گھناؤنی تصویر کھینچنا ممکن نہیں ہے ۔ اب یہاں روئے سخن مومنین کی طرف پھرجاتا ہے ۔ ان کے لئے کھانے پینے کی پاک چیزوں کو حلال قرار دیا جاتا ہے ۔ حکم دیا جاتا ہے لپ وہ اپنے منعم کا شکریہ ادا کریں ۔ غیر پاکیزہ چیزوں میں بعض کو بصراحت حرام قرا ردیا جاتا ہے ۔ یہودی ، مسلمانوں کے ساتھ ان طیبات اور محرمات کے معاملے میں خوامخواہ الجھتے تھے ۔ ان پر تنقید کی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ حلال و حرام کے یہ احکامات اور یہ اصول تو خود ان کے ہاں بھی بصراحت موجود تھے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

کافروں کی ایک مثال صاحب روح المعانی ص ٤٨ ج ٢ لکھتے ہیں کہ مشبہ یا مشبہ بہ کی جانب میں مضاف محذوف ہے پہلی صورت میں مطلب یہ ہے کہ کافروں کو دعوت دینے والے شخص کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص ان جانوروں کے پیچھے چیخ رہا ہو جو بس پکار اور آواز سنتے ہیں اور اس سے زیادہ کوئی بات وہ نہیں سمجھتے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں کسی نے آواز دی لیکن کیا کہا اس کو بالکل نہیں سمجھتے اور دوسری صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ کافروں کی مثال اس شخص کے جانوروں کی طرح ہے جو اپنے جانوروں کو پکارتا اور چیختا چلاتا ہے اور جانوروں کو پکار کے سوا کچھ خبر نہیں۔ (خلاصہ مطلب دونوں صورتوں میں یہ ہے کہ کافر لوگ اپنی جہالت اور حماقت سے باپ دادوں کی تقلید میں لگے ہوئے ہیں حق سمجھنے اور قبول کرنے کو تیار نہیں۔ اس بارے میں وہ جانوروں کی طرح ہیں۔ حق کی آواز سنتے ہیں لیکن سب سنی ان سنی کردیتے ہیں۔ نہ ادھر اپنے ذہنوں کو متوجہ کرتے ہیں اور نہ غور و فکر کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ بالکل جانوروں کی طرح سے ہیں۔ آواز تو سنی لیکن سمجھتے کچھ نہیں۔ کافر بہرے، گونگے، اندھے ہیں : پھر فرمایا (صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فَھُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ ) کہ یہ لوگ حق سننے کو تیار نہیں بہرے بنے ہوئے ہیں، حق بولنے کو تیار نہیں گونگے بنے ہوئے ہیں۔ راہ حق پر چلنے کو تیار نہیں۔ اندھا پن اختیار کیے ہیں، اپنے حواس کھو چکے ہیں۔ لہٰذا حق کو ذرا بھی نہیں سمجھتے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

312 یہ کفار ومشرکین کی مثال ہے جو اندھا دھند اپنے باپ دادا کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ مَا اسم موصول ہے، اور اس سے مراد چوپائے ہیں جو آواز تو سنتے ہیں مگر سمجھتے کچھ نہیں۔ مشرکین کی نادانی اور بےحسی کی مثال ہے یعنی جس طرح ایک چوپائے کو آواز دی جائے تو وہ آواز تو سن لے گا لیکن جو کچھ اس کو کہا گیا ہے اس کا مطلب نہیں سمجھے گا۔ اسی طرح ان کا حال ہے کہ یہ آواز تو سن لیتے ہیں مگر سمجھتے کچھ نہیں۔ عن مجاھد کمث الذی ینعق مثل ضربہ اللہ لمن یسمع ما یقال لہ ولا یعقل کمثل البھیمۃ تسمع النعیق ولا تعقل (ابن جریر ص 46 ج 2) یہ آواز حق سے بہرے ہیں۔ کیونکہ اس سے فائدہ حاصل نہیں کرتے اور حق بات کا اقرار کرنے کے لیے ان کی زبانیں گونگی ہیں اور وہ سیدھی راہ سے اندھے ہیں۔ جب علم کے تمام راستے ہی بند ہیں تو کیا خاک سمجھیں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 4 اور ان کافروں کو دین حق کی طرف بلانے اور دعوت دینے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو کسی ایسے جانور کے پیچھے چلاتا ہو جو سوائے پکارنے اور آواز دینے کے اور نہ کچھ سنتا ہے اور نہ سمجھتا ہے یہ کفار بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں لہٰذا یہ کوئی کام کی بات نہ سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اس مثال میں ایک طرف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں جو داعی الی الحق ہیں اور دوسری طرف مشرک ہیں جو اپنے آبائو اجداد کے طریقوں پر اڑے ہوئے ہیں وہ شخص جانور کی طرح پکارنے والے کی آواز تو سنتے ہیں مگر سمجھتے کچھ نہیں۔ اسی اعتبار سے ان کو بہرا، گونگا، اندھا کہا گیا ہے کہ وہ نہ حق بات کو سنتے ہیں نہ دین حق کی تائید میں کچھ بولتے ہیں اور نہ امر حق کی روشنی ان کو نظر آتی ہے وہ بالکل غیر ذوی العقول بہائم کی طرح ہیں۔ بعض حضرات نے اس مثال کی تشریح اس طرح کی ہے کہ یہ کافر اپنی بےعقلی اور نافہمی میں اور مقدمات دین کے سمجھنے اور سمجھانے میں اس جانور کی طرح ہیں جو آواز نکالتا ہے تو سوائے اس کے کہ وہ آواز سنائی دیتی ہے نہ وہ جانور خود اس کو سمجھتا ہے اور نہ دوسرے جانور اس کو سمجھتے ہیں یعنی یہ تمثیل صرف کافروں کی ہے۔ داعی الی الحق سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ بعض حضرات نے یوں فرمایا ہے کہ یہ مثال اصنام کو اور بتوں کو پکارنے کی ہے کہ مشرک ان کو پکارتے ہیں مگر وہ سنتے سمجھتے خاک نہیں۔ بہر حال مثال کی تشریح میں مختلف اقوال ہیں ہم نے جو قول سلف سے مشہور تھا اس کو اختیار کرلیا ہے خلاصہ یہ ہے کہ کافروں کی بےعقلی کا حال یہ ہے جو اس مثال سے سمجھ میں آسکتا ہے کہ ایک شخص ایسے جانور کے پیچھے چلاتا ہے جو بجز دعا اور ندا کے کچھ نہیں سمجھتا، اسی طرح یہ کافر ظاہری بات چیت تو سنتے ہیں لیکن دین حق کی بات اور کام کی بات نہ کان لگا کر سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں دین کی بات سننے سے بالکل بہرے گونگے اور اندھے بنے ہوئے ہیں اور امر حق پر غور کرنے اور سمجھنے سے بالکل عاری ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ان کافروں کو سمجھانا ویسا ہی ہے جیسا کوئی جنگل کے جانوروں کو بلادے سو وہ سوائے آواز کے کچھ نہیں سمجھتے یہ حال ہے جو شخص کہ آپ علم نہ رکھے اور علم والے کی بات کو قبول نہ کرے۔ (موضح القرآن) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شاہ صاحب (رح) نے بھی اس مثال کا تعلق صرف منعوق بہ سے رکھا ہے۔ ناعق سے کوئی بحث نہیں کی ہے اور اسی طرف حضرت شاہ عبدالعزیز (رح) کا بھی رجحان معلوم ہوتا ہے ۔ واللہ اعلم) اوپر کی آیتوں میں حلال و حرام کے بارے میں مشرکین کی کج روی اور غلط راہ روی کا اظہار تھا۔ اب آگے مسلمانوں کو خطاب فرماتے ہیں کہ وہ ماکولات و مشروبات میں کفار کا طریقہ اختیاہ نہ کریں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا استعمال کریں اور اس کا شکر بجا لائیں جو ایک فرمانبردار بندے کی بندگی کا صحیح طریقہ ہے۔ (تسہیل)