Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 199

سورة البقرة

ثُمَّ اَفِیۡضُوۡا مِنۡ حَیۡثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسۡتَغۡفِرُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۹۹﴾

Then depart from the place from where [all] the people depart and ask forgiveness of Allah . Indeed, Allah is Forgiving and Merciful.

پھر تم اس جگہ سے لوٹو جس جگہ سے سب لوگ لوٹتے ہیں اور اللہ تعالٰی سے بخشش طلب کرتے رہو یقیناً اللہ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Order to stand on Arafat and to depart from it Allah says; ثُمَّ أَفِيضُواْ مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ ... Then depart from the place whence all the people depart, This Ayah contains Allah's order to those who stand at Arafat to also move on to Al-Muzdalifah, so that they remember Allah at Al-Mash`ar Al-Haram. Allah commands the Muslim to stand with the rest of the pilgrims at Arafat, unlike Quraysh who (before Islam) used to remain in the sanctuary, near Al-Muzdalifah, saying that they are the people of Allah's Town and the servants of His House. Al-Bukhari reported that Aishah said, "Quraysh and their allies, who used to be called Al-Hums, used to stay in Al-Muzdalifah while the rest of the Arabs would stand at Arafat. When Islam came, Allah commanded His Prophet to stand at Arafat and then proceed from there. Hence Allah's statement: مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ (...from the place whence all the people depart)." This was also said by Ibn Abbas, Mujahid, Ata, Qatadah and As-Suddi and others. Ibn Jarir chose this opinion and said that there is Ijma (a consensus among the scholars) for it. Imam Ahmad reported that Jubayr bin Mutim said, "My camel was lost and I went out in search of it on the day of Arafah, and I saw the Prophet standing in Arafat. I said to myself, `By Allah he is from the Hums. What has brought him here!"' This Hadith is also reported in the Sahihayn. Al-Bukhari reported that Ibn Abbas said that; `depart' mentioned in the Ayah refers to proceeding from Al-Muzdalifah to Mina to stone the pillars. Allah knows best. Asking Allah for His Forgiveness Allah said: ... وَاسْتَغْفِرُواْ اللّهَ إِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ...and ask Allah for His forgiveness. Truly, Allah is Oft-Forgiving, Most-Merciful. Allah frequently orders remembrance of Him after acts of worship are finished. Muslim reported that; Allah's Messenger used to ask Allah for His forgiveness thrice after the prayer is finished. It is reported in the Two Sahihs that; the Prophet encouraged Tasbih (saying Subhan Allah, i.e., Glorified is Allah), Tahmid (saying Al-Hamdu Lillah, i.e., praise be to Allah) and Takbir (saying Allahu Akbar, i.e., Allah is the Most Great) thirty-three times each (after prayer). Ibn Marduwyah collected the Hadith that Al-Bukhari reported from Shaddad bin Aws, who stated that Allah's Messenger said: سَيِّدُ الاِْسْتِغْفَارِ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ The master of supplication for forgiveness, is for the servant to say: اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لاَ إِلهَ إِلاَّ أَنْتَ `O Allah! You are my Lord, there is no deity worthy of worship except You. خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ وَأَنَا عَلى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ You have created me and I am Your servant. I am on Your covenant, as much as I can be, and awaiting Your promise. أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ I seek refuge with You from the evil that I have committed. أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ وَأَبُوءُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إلاَّ أَنْتَ I admit Your favor on me and admit my faults. So forgive me, for none except You forgives the sins.' مَنْ قَالَهَا فِي لَيْلَةٍ فَمَاتَ فِي لَيْلَتِهِ دَخَلَ الْجَنَّــةَ وَمَنْ قَالَهَا فِي يَوْمِهِ فَمَاتَ دَخَلَ الْجَنَّــة Whoever said these words at night and died that same night will enter Paradise. Whoever said it during the day and died will enter Paradise. Furthermore, it is reported in the Two Sahihs that Abdullah bin `Amr said that Abu Bakr said, "O Messenger of Allah! Teach me an invocation so that I may invoke (Allah) with it in my prayer. He told me to say: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيم O Allah! I have done great injustice to myself and none except You forgives sins, so please forgive me and be merciful to me as You are the Forgiver, the Merciful. There are many other Hadiths on this subject.

قریش سے خطاب اور معمول نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثم یہاں پر خبر کا خبر پر عطف ڈالنے کے لئے ہے تاکہ ترتیب ہو جائے ، گویا کہ عرفات میں ٹھہرنے والے کو حکم ملا کہ وہ یہاں سے مزدلفہ جائے تاکہ مشعر الحرام کے پاس اللہ تعالیٰ کا ذکر کر سکے ، اور یہ بھی فرما دیا کہ وہ تمام لوگوں کے ساتھ عرفات میں ٹھہرے ، جیسے کہ عام لوگ یہاں ٹھہرتے تھے البتہ قریشیوں نے فخروتکبر اور نشان امتیاز کے طور پر یہ ٹھہرا لیا تھا کہ وہ حد حرم سے باہر نہیں جاتے تھے ، اور حرم کی آخری حد پر ٹھہر جاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اللہ والے ہیں اسی کے شہر کے رئیس ہیں اور اس کے گھر کے مجاور ہیں ، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ قریش اور ان کے ہم خیال لوگ مزدلفہ میں ہی رک جایا کرتے تھے اور اپنا نام حمس رکھتے تھے باقی کل عرب عرفات میں جا کر ٹھہرتے تھے اور وہیں سے لوٹتے تھے اسی لئے اسلام نے حکم دیا کہ جہاں سے عام لوگ لوٹتے ہیں تم وہی سے لوٹا کرو ، حضرت ابن عباس ، حضرت مجاہد ، حضرت عطاء ، حضرت قتادہ ، حضرت سدی رضی اللہ عنہم وغیرہ یہی فرماتے ہیں ، امام ابن جریر بھی اسی تفسیر کو پسند کرتے ہیں اور اسی پر اجماع بتاتے ہیں ، مسند احمد میں ہے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا اونٹ عرفات میں گم ہو گیا میں اسے ڈھونڈنے کے لئے نکلا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہاں ٹھہرے ہوئے دیکھا کہنے لگا یہ کیا بات ہے کہ یہ حمس ہیں اور پھر یہاں حرم کے باہر آکر ٹھہرے ہیں ، ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ افاضہ سے مراد یہاں مزدلفہ سے رمی جمار کے لئے منی کو جاتا ہے ، واللہ اعلم ، اور الناس سے مراد حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ہیں ، بعض کہتے ہیں مراد امام ہے ، ابن جریر فرماتے ہیں اگر اس کے خلاف اجماع کی حجت نہ ہوتی تو یہی قول رائج رہتا ۔ پھر استغفار کا ارشاد ہوتا ہے جو عموما عبادات کے بعد فرمایا جاتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرض نماز سے فارغ ہو کر تین مرتبہ استغفار کیا کرتے تھے ( مسلم ) آپ لوگوں کو سبحان اللہ ، الحمد للہ ، اللہ اکبر تینتیس تینتیس مرتبہ پڑھنے کا حکم دیا کرتے تھے ( بخاری مسلم ) یہ بھی مروی ہے کہ عرفہ کے دن شام کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کے لئے استغفار کیا ( ابن جریر ) آپ کا یہ ارشاد بھی مروی ہے کہ تمام استغفاروں کا سردار یہ استغفار ہے دعا ( اللہم انت ربی لا الہ الا انت خلقتنی وانا عبدک وانا علی عہدک ووعدک ما ستطعت اعوذ بک من شرماصنعت ابو ء لک بنعمتک علی وابوء بذنبی فاغفرلی فانہ لا یغفر الذنوب الا انت ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص اسے رات کے وقت پڑھ لے اگر اسی رات مر جائے گا تو قطعا جنتی ہو گا اور جو شخص اسے دن کے وقت پڑھے گا اور اسی دن مرے گا تو وہ بھی جنتی ہے ( بخاری ) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کوئی دعا سکھائے کہ میں نماز میں اسے پڑھا کرو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ پڑھو دعا ( اللہم انی ظلمت نفسی ظلما کثیرا ولا یغفر الذنوب الا انت فاغفر لی مغفرۃ من عندک وارحمنی انک انت الغفور الرحیم ) ۔ ( بخاری ومسلم ) استغفار کے بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

199۔ 1 مذکورہ بالا ترتیب کے مطابق عرفات جانا اور وہاں پر وقوف کر کے واپس آنا ضروری ہے لیکن عرفات چونکہ حرم سے باہر ہے اس لئے قریش مکہ عرفات تک نہیں جاتے تھے بلکہ مزدلفہ سے ہی لوٹ آتے تھے چناچہ حکم دیا جا رہا ہے جہاں سے سب لوگ لوٹ کر آتے ہیں وہیں سے لوٹ کر آؤ یعنی عرفات سے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٧١] حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ : قریش اور ان کے طریقہ پر چلنے والے لوگ (عرفات کے بجائے) مزدلفہ میں وقوف کیا کرتے تھے، ان لوگوں کو حمس کہتے تھے۔ جب کہ باقی عرب عرفات کا وقوف کرتے۔ جب اسلام کا زمانہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو یہ حکم دیا کہ عرفات میں جائیں وہاں ٹھہریں اور وہیں سے لوٹ کر (مزدلفہ) آئیں۔ آیت ( ثُمَّ اَفِيْضُوْا مِنْ حَيْثُ اَفَاض النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ١٩٩۔ ) 2 ۔ البقرة :199) سے یہی مراد ہے۔ && (بخاری، کتاب التفسیر۔ باب ثم افیضوا۔۔ ) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ (جو تمتع کی نیت سے عمرہ کے بعد احرام کھول دے) جب تک حج کا احرام نہ باندھے بیت اللہ کا (نفل طواف کرتا رہے۔ پھر جب حج کا احرام باندھے اور عرفات جانے کو سوار ہو تو (حج کے بعد) جو قربانی ہو وہ کرے خواہ اونٹ ہو یا گائے یا بکری ہو، اور اگر قربانی میسر نہ ہو تو حج کے دنوں میں عرفہ کے دن سے پہلے تین روزے رکھے اور اگر تیسرا روزہ عرفہ کے دن آجائے تب بھی کوئی حرج نہیں۔ مکہ سے عرفات جائے، وہاں سے عصر کی نماز سے رات کی تاریکی ہونے تک ٹھہرے۔ پھر عرفات سے اس وقت لوٹے جب دوسرے لوگ لوٹیں اور سب لوگوں کے ساتھ رات مزدلفہ میں گزارے اللہ کا ذکر، تکبیر اور تہلیل صبح ہونے تک بہت کرتا رہے، پھر صبح کو لوگوں کے ساتھ مزدلفہ سے منیٰ لوٹے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت ( ثُمَّ اَفِيْضُوْا مِنْ حَيْثُ اَفَاض النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ١٩٩۔ ) 2 ۔ البقرة :199) اور کنکریاں مارتے وقت اسی طرح ذکر، تکبیر اور تہلیل کرتا رہے۔ (بخاری۔ حوالہ ایضاً )

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

عرفات کا میدان حرم کی حدود سے باہر ہے، دوران حج میں تمام لوگ وہاں جاتے، مگر قریش مزدلفہ سے آگے نہ جاتے کہ ہم حرم کے رہنے والے ہیں، اس آیت میں حکم ہوا کہ سب لوگوں کے ساتھ عرفات جانا اور ان کے ساتھ وہاں سے واپس لوٹنا ضروری ہے۔ ( ابن کثیر)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The third verse (199): ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُ‌وا اللَّـهَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ,(Then, flow down from where the people flowed, and seek forgiveness from Allah. Certainly, Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful) was re¬vealed in a particular background. The Quraysh of Arabia being the custodians of the Ka&bah کعبہ enjoyed a unique position of influence and distinction in the country. During the days of Jahiliyyah, while every-one went to ` Arafat, the Quraysh would, in order to demonstrate their unusual importance, stop at Muzdalifah and stay there. They said that, being the custodian of the Ka&bah کعبہ and the care-takers of the Har-am حرم ، it was not proper for them to go out of the limits of the, Haram حرم . Since Muzdalifah is located within the sacred limits of the Haram حرم and ` Arafat is out of it, they would seize upon the excuse, stay in Muzdali¬fah and it was from there that they came back. The truth was that they loved to show off their pride and arrogance and made it a point to keep common people at a distance. Their erroneous conduct thus ap¬prehended, Allah Almighty commanded them to go where everyone goes, that is, into the plain of ` Arafat, and then, return from there with everyone else (it will be noted that in the accompanying translation of the text, the Qur&anic word afidu أَفِيضُوا has been rendered into English liter-ally with the word, &flow& which succinctly suggests mingling with the multitude, something shunned by the Quraysh of Jahiliyyah جاھلیہ). To begin with, behaving special and staying disconnected from others is a standing act of arrogance which must almost always be avoided, particularly during the days of Hajj where the garment of Ihram and the homogeneity of place and purpose teach the lesson that all human beings are equal, the distinction of rich and poor, learned and ignorant, big and small does not exist here, therefore, such display of assumed distinction, and that too in a state of Ihram احرام ، further increases the degree of crime. Human equality in practice This statement of the Holy Qur&an teaches us an important principle of social living which demands that the people of a higher status should not cut off their relations with those of a lower status; they should rather behave like members of a large family in their different forms of subsistence, stay and movement. This creates mutual brotherhood, concern and love, removes the walls between the rich and the poor, the employer and the employee. It was during his last sermon of Hajj that the Holy Prophet openly declared for all times to come that no Arab is superior to non-Arab and no white person is superior to a black person. Superiority depends on Taqwa and Ita` ah اِطاعت (the fear of Allah and the obedience to His command). Therefore, those who wanted to establish a distinct status for themselves by staying at Muzdalifah, contrary to the rest, were told that this act of theirs was a sin and they must seek forgiveness for it so that Allah Almighty may forgive them and bless them with His mercy.

اس کے بعد والی آیت میں ارشاد ہے ثُمَّ اَفِيْضُوْا مِنْ حَيْثُ اَفَاض النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ یعنی پھر تم سب کو ضروری ہے کہ اس جگہ ہو کر واپس آؤ جہاں اور لوگ جاکر واپس آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کرو یقینا اللہ تعالیٰ معاف کردیں گے اور مہربانی فرمادیں گے۔ اس جملے کا شان نزول یہ ہے کہ قریش عرب جو بیت اللہ کے محافظ ومجاور تھے اور سارے عرب میں ان کا اقتدار مسلم تھا اور ان کی ایک ممتاز حیثیت تھی زمانہ جاہلیت میں وہ اپنی امتیازی شان بنانے کے لئے یہ حرکت کرتے تھے اور سب لوگ تو عرفات کو جاتے اور وہاں وقوف کرکے واپس آتے تھے یہ لوگ راستہ میں مزدلفہ کے اندر ہی ٹھہر جاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم چونکہ بیت اللہ اور حرم کے مجاور ہیں اس لئے حدودِحرم سے باہر جانا ہمارے لئے مناسب نہیں مزدلفہ حدود حرم کے اندر ہے اور عرفات اس سے خارج یہ بہانہ کرکے مزدلفہ ہی میں قیام کرلیتے اور وہیں سے واپس آجایا کرتے تھے اور درحقیقت وجہ اس حیلہ بہانہ کی اپنا فخر و غرور اور عام لوگوں سے ممتاز ہو کر رہنا تھا حق تعالیٰ کے اس فرمان نے ان کی غلط کاری واضح فرمادی اور ان کو حکم دیا کہ تم بھی وہیں جاؤ جہاں سب لوگ جاتے ہیں یعنی عرفات میں اور پھر وہیں سے سب کے ساتھ واپس آؤ۔ اول تو عام انسانوں سے اپنے آپ کو ممتاز کرکے رکھنا خود ایک متکبرانہ فعل ہے جس سے ہمیشہ ہی پرہیز لازم ہے خصوصاً حج کے ایام میں جہاں لباس احرام اور پھر قیام ومقام کی یکسانیت کے ذریعہ اسی کا سبق دینا ہے کہ انسان سب برابر ہیں امیر و غریب یا عالم و جاہل یا بڑے چھوٹے کا یہاں کوئی امتیاز نہیں حالت احرام میں یہ امتیازی شان بنانا اور بھی زیادہ جرم ہے۔ انسانی مساوات کا زریں سبق اور اس کی بہترین عملی صورت : اس ارشاد قرآنی سے اصول معاشرت کی ایک اہم بات یہ معلوم ہوئی کہ رہن سہن قیام ومقام میں بڑوں کو چاہئے کہ چھوٹوں سے الگ ممتاز ہو کر نہ رہیں بلکہ مل جل کر رہیں کہ اس میں باہمی اخوت و ہمدردی اور محبت وتعلق پیدا ہوتا ہے اور امیر و غریب کی تفریق مٹتی ہے، مزدور وسرمایہ دار کی جنگ ختم ہوجاتی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے آخری حج کے خطبہ میں اس کو خوب واضح کرکے ارشاد فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر یا گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں فضیلت کا مدار تقویٰ اور اطاعت خداوندی پر ہے اسی لئے جو لوگ ان کے خلاف مزدلفہ میں قیام کرکے اپنی ممتاز حیثیت بنانا چاہتے تھے ان کے اس فعل کو گناہ قرار دے کر ان پر لازم کیا کہ اپنے اس گناہ سے توبہ استغفار کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی خطائیں معاف فرماویں اور اپنی رحمت فرماویں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ثُمَّ اَفِيْضُوْا مِنْ حَيْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللہَ۝ ٠ ۭ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝ ١٩٩ حيث حيث عبارة عن مکان مبهم يشرح بالجملة التي بعده، نحو قوله تعالی: وَحَيْثُ ما كُنْتُمْ [ البقرة/ 144] ، وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ [ البقرة/ 149] . ( ح ی ث ) حیث ( یہ ظرف مکان مبنی برضم ہے ) اور ) مکان مبہم کے لئے آتا ہے جس کی مابعد کے جملہ سے تشریح ہوتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَحَيْثُ ما كُنْتُمْ [ البقرة/ 144] اور تم جہاں ہوا کرو استغفار الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، والاسْتِغْفَارُ : طلب ذلک بالمقال والفعال، وقوله : اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اور استغفار کے معنی قول اور عمل سے مغفرت طلب کرنے کے ہیں لہذا آیت کریمہ : ۔ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ بڑا معاف کر نیوالا ہے ۔ غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

(آیت 197 کی بقیہ تفسیر) اگر یہ کہا جائے کہ ایسا شخص اس شخص کی طرح ہوگا جس کا حج فوت ہوگیا ہو اس لئے اس پر عمرہ کے ذریعے احرام کھول دینا لازم ہوگا۔ اس کے جوا ب میں یہ کہا جائے گا کہ یہ عمرہ نہیں ہوتا یہ تو صرف عمرہ کا فعل ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ حج کے احرام سے باہر آ جاتا ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ جو شخص مکہ مکرمہ میں ہو اور اس کا حج فوت ہوجائے تو اسے لازم شدہ عمرے کے عمل کے لئے مکہ مکرمہ سے نکل کر حل کی طرف جانے کا حکم نہیں دیا جائے گا۔ کیونکہ جو شخص مکہ مکرمہ میں ہوتا ہے عمرے کے لئے اس کا میقات حل ہوتا ہے۔ اگر وہ شخص عمرے کی ابتداء کا ارادہ کرتا تو اسے حل کی طرف جانے کے لئے کہا اجتا ۔ اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ حج فوت ہونے کے بعد احرام کھولنے کے لئے اس نے جو کچھ کیا وہ عمرہ نہیں تھا بلکہ وہ عمرے کا عمل تھا جس کے ذریعے وہ حج کا احرام کھول رہا ہے۔ حج فوت ہنے کے بعد اس کا احرام باقی رہ گیا تھا۔ ایک اور پہلو سے دیکھیے جس شخص کا حج فوت ہوجائے اس کے حج کا احرام باقی رہتا ہے اور اس احرام سے باہر آنے کے لئے اسے عمرے کے عمل کی ضرورت ہوتی ہے تو کیا امام شافعی یہ کہتے ہیں کہ اشہر حج سے پہلے حج کا احرام باندھنے والے پر حج لازم ہوگیا ہے اور اب وہ حج فوت ہوجانے یک صورت میں عمرے کے عمل کے ذریعے احرام کھول رہا ہے اور اس پر قضا واجب ہوگئی ہے۔ اگر امام شافعی کے نزدیک ایسا شخص حج کا احرام باندھنے والا قرار نہیں پاتا تو اس صورت میں اسے دو باتیں لازم ہوگئیں اول اسے ایسا عمرہ لازم ہوگیا جو اس نے اپنے اوپر لازم نہیں کیا تھا اور نہ ہی اس کی نیت تھی۔ دوم امام شافعی نے اسے بمنزلہ اس کے قرار دیا جس کا احرام باندھنے کے بعد حج فوت ہوچکا ہو۔ حالانکہ ان کے نقطہ نظر سے اس شخص نے کبھی حج کا احرام باندھا ہی نہیں۔ اس طرح انہوں نے اس پر ایسا عمرہ لازم کردیا جس کا کوئی سبب نہ تھا جبکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے (انما الاعمال بالغیات و انما لا موی مانوی) اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔ اگر اس نے احرام باندھ کر حج کی نیت کرلی تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد (وانما لا مری مانوی) کی روشنی میں یہ ضروری ہے کہ جس چیز کی اس نے نیت کی ہے وہ اس پر لازم ہوجائے۔ قول باری ہے (فمن فرض فیھن الحج) پس جو شخص ان مقررہ مہینوں میں حج کی نیت کرلے) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تفسیر میں سلف کا اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے اور حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ (فمن فرض) کے معنی ” فمن احرم “ (جس نے احرام باندھا) کے ہیں۔ شریک نے ابو اسحقٰ کے واسطے سے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا (فمن فرض) کے معنی ہیں ” جس نے تلبیہ کہا “ اسی طرح کی روایت حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت ابن عمر، ابراہیم نخعی، طائوس، مجاہد اور عطاء سے بھی ہے۔ عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے حضرت عائشہ سے روای ت کی ہے کہ ’ دصرف اس شخص کا احرام ہوتا ہے جو احرام باندھا کر تلبیہ کہے۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جس نے (فمن فرض فیھن الحج) کو اس شخص پر محمول کیا ہے جس نے احرام باندھا، تو اس سے یہ دلالت نہیں ہوتی کہ اس نے احرام کو تلبیہ کے بغیر جائز سمجھا وہ اس لئے کہ یہ کہنا تو جائز ہے کہ ” اس نے احرام باندھا “ یعنی اس میں تلبیہ کا ذکر نہ کیا جائے۔ اب احرام کی شرط تلبیہ کہنا ہے اس لئے جس نے تلبیہ کا ذکر نہیں کیا اس نے بھی تلبیہ کہنا مراد لیا ہے۔ اس لئے سلف میں سے کسی سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ تلبیہ کہے بغیر احرام میں داخل ہونا جائز ہو۔ تلبیہ کہنا یا تلبیہ کے قائم مقام کوئی کام کرنا مثلاً قربانی کے جانور کے گلے میں پٹہ ڈال دینا اور اسے بانک کرلے چلنا، ضروری ہے۔ ہمارے اصحاب تلبیہ کہے بغیر یا قربانی کے جانور کے گلے میں پٹہ ڈال کر اسے ہنکائے بغیر احرام میں داخل ہونے کا جائز قرار نہیں دیتے۔ اس کی دلیل فراد بن ابی نوح کی حدیث ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں نافع نے حضرت ابن عمر سے انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی ۔ وہ فرماتی ہیں کہ حضو ر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے میں ذرا غمگین بیٹھی ہوئی تھی ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وجہ پوچھی تو میں نے عرض کیا ” میں نے ابھی عمرہ ادا نہیں کیا اور حیض کی حالت میں مجھ پر حج کا وقت آ پہنچا ہے۔ “ یہ سن کر آپ نے فرمایا :” یہ تو ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں پر لکھ دی ہے۔ کوئی حرج نہیں، تم حج کرو اور وہی کچھ کہو جو مسلمان حج کے وقت کہتے ہیں۔ “ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد تلبیہ کے وجوب پر دلالت کرتا ہے کیونکہ مسلمان احرام کے وقت تلبیہ کہتے ہیں اور حضرت عائشہ کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے تلبیہ کہنے کا حکم وجوب پر محمول ہے۔ اس پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ قول بھی دلالت کرتا ہے (خذوا عنی مناسککم، مجھ سے اپنے مناسک سیکھو) اور تلبیہ مناسک میں داخل ہے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احرام باندھتے وقت تلبیہ کہا تھا۔ اس پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ قول بھی دلالت کرتا ہے (اتافی جبریل فقانی مرامتک یوفعوا اصواتھم بالتلبیۃ فانھا من شعائر الحج میرے پاس جبریل آئے اور کہا کہ اپنی امت سے کہو کہ وہ باآواز بلند تلبیہ کہیں کیونکہ یہ شعائر حج میں سے ہے) یہ قول دو باتوں کو متضمن ہے۔ تلبیہ کہنا اور بلند آواز کے ساتھ کہنا۔ اب سب کا اتفاق ہے کہ آواز بلند کرنا واجب نہیں ہے اس لئے آپ کے ارشاد کا حکم تلبیہ کہنے میں باقی رہے گا اس پر یہ بات بھی دالات کرتی ہے کہ حج اور عمرہ ایسے افعال پر مشتمل ہیں جو ایک دوسرے کے منعایر اور ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن یہ افعال ایک ہی احرام کے تحت ادا کئے جاتے ہیں اس لئے ان کی مشابہت نماز کے ساتھ ہوگئی جس میں ایک تحریمہ کے تحت مختف اور متغایر افعال سر انجام دیئے اجتے ہیں۔ اس میں دخول کی شرط ذکر یعنی اللہ کا نام لینا ہے اس لئے یہ ضرو ری ہے کہ حج اور عمرہ میں بھی ذکر یا ایسی چیز کے ذریعے دخول ہو جو ذک رکے قائم مقام بن سکے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ جب کوئی شخص احرام کے ارادے سے قربانی کے جانور کے گلے میں قلاوہ ڈال کر اسے ہانک کرلے چلے تو وہ محرم ہوجائے گا۔ حضرت جابر کے دو بیٹوں نے اپنے والد ماجد سے یہ روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس شخص نے قربانی کے جانور کے گلے میں قلاوہ ڈال دیا وہ محرم ہوگیا۔ لیکن اس کے متعلق سلف میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عمر کا قول ہے کہ جب کوئی شخص اپنی قربانی کے جانور کے گلے میں پٹہ ڈال دے وہ محرم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح کی روایت حضرت علی، حضرت قیس بن سعد، حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس طائوس، عطاء بن ابی رباح ، مجاہد، شعبی، محمد بن سیرین، جابر، سعید بن جبیر اور ابراہیم نخعی سے بھی ہے۔ اس روایت کو اس معنی پر محمول کیا جائے گا کہ وہ احرام کے ارادے سے پٹہ ڈال کر اسے ہانک لے چلے۔ اس لئے کہ اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اگر وہ احرام کا ارادہ نہ کر رہا ہو و پٹہ ڈالنے کے باوجود محرم نہیں ہوگا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (انی قلدت الھدی فلا احل الی یوم النحر) میں نے قربانی کے جانوروں کو پٹہ ڈلا دیا ہے۔ اس لئے یوم النحر تک میں احرام نہیں کھولں گا) اس حدیث میں آپ نے یہ بتادیا کہ پٹہ ڈال کر جانور کو ہانک لے جانا آپ کے لئے احرام کھولنے سے مانع تھا۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ پٹہ ڈال کر جانور کو ہانک لے جانا احرام کے اندر اثر رکھتا ہے اور احرام میں داخل ہونے کے لحاظ سے یہ تلبیہ کے قائم مقام ہے۔ اسی طرح احرام کھولنے کی ممانعت میں بھی اس کا م کا اثر ہے۔ صرف پٹہ ڈالنا جبکہ احرام کی نیت نہ ہو احرام کو واجب نہیں کرتا اس کی دلیل وہ حدیث ہے جو حضرت عائشہ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ آپ قربانی کا جانور کسی کے ہاتھ بھیچ دیتے اور خود مقیم رہتے تو آپ پر کسی چیز کی ممانعت نہ ہوتی۔ اسی طرح حضرت عائشہ کا قول ہے کہ ” سوائے اس شخص کے کوئی محرم نہیں ہوتا جس نے احرام باندھ کر تلبیہ کہا ہو۔ “ اس قول سے حضرت عائشہ کی مراد یہ ہے کہ ایسا شخص جو اپنے جانور کو ہانک کر نہ لے جائے اور اس کے ساتھ چلا نہ جائے وہ محرم نہیں ہوتا۔ دوران حج رفث کی تفصیلات۔ قول باری ہے (فلا رفث ولا فسوق ولا جدال فی الحج، حج کے دوران کوئی شہوانی فعل، کوئی بدکاری، کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سر زد نہ ہو) سلف کا رفث کے معنی میں اختلاف ہے۔ حضرت ابن عمر کا قول ہے کہ یہ ہمبستری ہے حضرت ابن عباس سے بھی یہی روایت ہے۔ ان سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس سے مراد تعریض بالنساء یعنی عورتوں کے ساتھ شہوانی گفتگو کرنا ہے۔ حضرت عبداللہ بن الزبیر سے یہی روایت ہے ۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ آپ نے حالت احرام میں یہ شعر پڑھا۔ وھن یمشین بنا ھمیسا ان یصدق الطرینک لمیسا یہ اونٹنیاں ہمیں آہستہ رفتار سے لے کر چل رہی ہیں اگر فال درست نکلی تو ہم تمہیں سے جماع کریں گی۔ کسی نے آپ پر اعتراض کیا احرام کی حالت میں یہ شعر کیسا ؟ آپ نے جواب میں کہا :” رفث صرف یہ ہے کہ عورتوں کے پاس آتے جاتے جماع کا ذکر کیا جائے۔ “ یعنی میرا یہ شعر رفث کے ضمن میں نہیں آتا) عطاء کا قول ہے کہ رفث سے مراد جماع یا اس سے کم تر شہوانی باتیں ہیں۔ عمر و بن دینار کا قول ہے کہ اس سے مراد جماع اور اس سے کم تر کوئی حرکت یا گفتگو ہے جو عورتوں سے تعلق رکھتی ہو۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ لغت میں رفث کے اصل معنی ہیں زبان سے بری باتیں کہنا، فرج میں جنسی عمل کرنا اور ہمبستری پر اکسانے کے لئے ہاتھ سے جسم کو ٹٹولنا، حج کے اندر نہی عن الرفث کے ضمن میں یہ باتیں آتی ہیں۔ اس لئے رفث کی تاویل میں جتنے اقوال منقول ہیں ان سب کا گویا اس پر اتفاق ہوگیا کہ آیت میں رفث سے مراد جماع ہے۔ رفث بمعنی فحش گوئی پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ حدیث دلالت کرتی ہے آپ نے فرمایا (اذا کان یوم صوم احد کم فلا یوفث ولا یجھل فان جھل علیہ فلیقل انی صائم۔ ) جب تمہارے روزے کا دن ہو تو کوئی فحش گوئی نہ کرے اور نہ ہی جہالت پر اتر آئے، اگر کوئی اس کے خلاف جہالت پر اتر آئے تو وہ کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں) یہاں رفث سے مراد فحش گوئی ہے۔ اگر رفث سے مراد احرام کی حالت میں عورتوں کا ذکر چھیڑنا ہے تو پھر ہاتھ لگانا اور جماع کرنا بطریق اولیٰ ممنوع ہوگا جیسا کہ قول باری ہے (ولا تقل لھما اف ولا تنھوھما) نہ ماں باپ کو اف تک کہو اور نہ ہی انہیں جھڑکو) اس سے خود یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ گالیاں دینے اور مار پٹائی کرنے سے بطریق اولیٰ ممانعت ہ وگئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے روزے کے سلسلے میں رفث کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد ہے (احد لکم لیلۃ الصیام الرفث الی نساء کم) یہاں بالاتفاق جماع مراد ہے اور اس سے خود جماع سے کم تر باتوں مثلاً بوس و کنار اور ہم آغوشی کی اباحت خود بخود معلوم ہوگئی۔ جس طرح کہ حج میں رفث بمعنی عورتوں کا ذکر چھیڑنا ممنوع ہے۔ اس ممانعت کی وجہ سے اس سے بڑھ کر بات یعنی جماع کی ممانعت خود بخود سمجھ میں آ جاتی ہے۔ اس لئے کہ قلیل کی ممانعت کے اسی جنس کی کثیر مقدار کی ممانتع پر اور کثیر کی اباحت اسی کے جنس کی قلیل مقدار کی اباحت پر دلالت کرتی ہے۔ محمد بن راشد سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حج کرنے کے لئے نکلے ہمارا گذر رویثہ کے مقام سے ہوا۔ وہاں ہمیں ایک بوڑھا ملا جس کا نام ابوہرم تھا، اس نے کہا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ محرم کے لئے جماع کے سوا اپنی بیوی سے ہر بات کی اجازت ہے۔ یہ سن کر ہم میں سے ایک شخص نے اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا ۔ ہم مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔ میں نے عطاء سے اس بات کا تذکرہ کیا کیا انہوں نے کہا،” اس بوڑھے کا بیڑہ غرق ہو ! مسلمانوں کی گذر گاہ پر بیٹھ کر انہیں گمراہ کن فتوے دیتا ہے ! “ پھر عطاء نے اس شخص کو جس نے اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا تھا دم دینے کے لئے کہا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ بوڑھا نامعلوم ہے اور اس نے جو بات کہی ہے امت کا اس کے خلاف عمل پر اتفاق ہے۔ امت کا اس پر اتفاق ہے کہ جو شخص از راہ شہوت احرام کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے گا اس پر دم واجب ہوگا۔ یہی بات حضر تعلی، حضرت ابن عباس حضرت ابن عمر حسن بصری، عطاء عکرمہ، ابراہیم نخعی، سعید بن جبیر، سعید بن المسیب سے منقول ہے اور یہی فقہائے امصار کا قول ہے۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ حالت احرام میں آتے جاتے عورتوں کے سامنے جماع کا ذکر کرنا ممنوع ہے اور اشارہ کنایہ میں جماع کی بات کرنا اور ہاتھ لگانا دواعی جماع ہیں یعنی عمل جنسی پر ابھارنے اور آمادہ کرنے والی باتیں ہیں تو اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ حالت احرام میں جماع اور دواعی جماع سب پر پابندی ہے اس سے خوشبو لگانے کی ممانعت پر بھی دلالت ہوتی ہے کیونکہ اس سے بھی جماع کا داعیہ پیدا ہوتا ہے نیز سنت میں اس کی ممانعت وارد ہے۔ فسوق کے معنی کے متعلق حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ یہ گالی دینا ہے۔ جدال سے مراد لڑائی جھگڑے کی بات ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ جدال کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنے ساتھی سے لڑائی جھگڑے کی باتیں کرو یہاں تک کہ اسے غصہ دلا دو اور فسوق کے معنی ہیں معاصی یعنی بدکاری۔ مجاہد سے قول باری (ولا جدال فی الحج) کے سلسلے میں مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اشہر حج کے متعلق بتادیا ہے اب ان مہینوں کے بارے میں نہ کوئی شک ہے اور نہ کوئی اختلاف۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سلف سے جن تمام معانی کا ذکر ہوا ہے ممکن ہے کہ وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے مراد ہوں۔ اس بنا پر محرم پر گالی دینے اور لڑائی جھگڑے کی باتیں کرنے پر پابندی ہوگی۔ یہ پابندی اشہر حج اور غیر اشہر حج کے دوران ہوگی۔ اسی طرح محرم پر فسوق یعنی بدکاری اور معاصی کی بھی پابندی ہوگی۔ آیت زبان اور شرمگاہ کو ہر بدکاری اور معصیت سے بچانے کے حکم پر مشتمل ہے۔ بدکاری اور معاصی اگرچہ احرام سے پہلے بھی ممنوع ہیں لکین اللہ تعالیٰ نے احرام کی حرمت کی عظمت کو بیان کرنے کے لئے حالت احرام میں ان کی ممانعت کو منصوص کردیا، نیز حالت احرام میں معاصی کا ارتکاب غیر حالت احرام میں ارتکاب سے بڑھ کر سنگین اور گھنائونا ہے اور اس کی سزا بھی زیادہ سخت ہے جیسا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ (جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو وہ نہ فحش گوئی کرے نہ جہالت پر اترے اور اگر کوئی اس کے خلاف جہالت پر اتر آئے تو وہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ “) روایت ہے کہ حضرت فضل بن عباس سواری پر مزدلفہ سے منیٰ تک حضو ر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بیٹھے رہے۔ فضل کن انکھیوں سے عورتوں کی طرف دیکھتے تھے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیچھے سے ان کا چہرہ موڑ دیتے۔ آپ نے فرمایا (ان ھذا یوم من ملک سمعہ و بصرہ کا غفرلہ آج کے دن جو شخص اپنی آنکھوں کان اور اپنی عقل پر قابو رکھے گا وہ بخش اجائے گا۔ ) یہ تو معلوم ہے کہ اس دن کے علاوہ دوسرے دنوں میں بھی ان کی ممانعت ہے لیکن یہاں خصوصیت کے ساتھ ان کا ذکر اس لئے فرمایا تاکہ اس دن کی عظمت واضح ہوجائے۔ اسی طرح معاصی بدکاری، لڑائی جھگڑا اور شہوانی باتیں سب کی ممانعت ہے اور سب آیت میں مراد ہیں خواہ یہ ممانعت احرام کی وجہ سے پیدا ہوئی ہو یا عموم لفظ کی بنا پر احرام اور غیر احرام دونوں حالتوں میں ان کی ممانعت ہو۔ حالت احرام کے ساتھ ان کی ممانعت کی تخصیص احرام کی عظمت بیان کرنے کے لئے ہے۔ اگرچہ یہ غیر حالت احرام میں بھی ممنوع ہیں۔ مسعود نے مصنور سے ، انہوں نے ابی حازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (من حج فلویرفث ولم یفسق رجع کیوم ولدتہ امہ جس شخص نے اس حالت میں حج ادا کیا ہو کہ نہ شہوانی باتیں کی ہوں نہ ہی بدکاری اور فحش گوئی کی ہو تو وہ حج کے بعد اس دن کی طرح گناہوں سے پاک و صاف ہو کر لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔ ) حدیث کا یہ مضمون آیت کی دلالت کے عین مطابق ہے وہ اس طرح کہ جب اللہ تعالیٰ نے حج میں فسوق اور معاصی سے روک دیا تو یہ نہی خود اس بات کو متضمن ہوگئی کہ اسے ان معاصی اور فسوق سے توبہ کرنے کا بھی حکم دیا جا رہا ہے۔ اس لئے کہ ان گناہں پر اصرار کرنا اور ڈٹے رہنا بھی تو خود فسوق اور معاصی میں داخل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ حاجی فسوق اور معاصی سے نئے سرے سے توبہ کرے یہاں تک کہ حج کے بعد گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو کر واپس ہو جس طرح کہ وہ اپنی پیدائش کے دن پاک صاف تھا۔ جس طرح کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درج بالا حدیث میں مروی ہے۔ آیت (ولا جدال فی الحج) میں حج کے دروان اپنے رفیق اور ساتھی سے لڑنے جھگڑنے، اسے تائو دلانے اور اس کے ساتھ الجھنے کی ممانعت ہے۔ زمانہ جاہلیت میں حج کے دوران یہ تمام باتیں ہوتی تھیں اس لئے کہ اب حج کا معاملہ ایک مقام پر آ کر ٹھہر گیا ہے اور اس کے ذریعے نسی کا بطلان ہوگیا ہے جس پر زمانہ جاہلیت میں عرب کے لوگ قائم تھے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس قول (الا ان الزمان قد استدار کھیئتہ یوم تعلق السماوات والارض ) آگا ہ رہو زمانہ چکر کھا کر اپنی اصلی حالت پر آگیا ہے جس حالت پر وہ زمین اور آسمانوں کی پیدائش کے دن تھا۔ ) آپ کی مراد یہ ہے کہ حج اس وقت کی طرف لوٹ آیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مقرر کیا ہے اور یہ بات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حجتہ الوداع میں پیش آئی۔ قول باری (فلا رفث ولا فسوق ولا جدال فی الحج) اگرچہ جملہ خبر یہ ہے لیکن معنوی طور پر ان افعال کی نہی پر مشتمل ہے۔ نہی کو نفی کے الفاظ سے اس لئے بیان کیا کہ منہی عنہ (جس چیز کی نہی کی گئی ہو) کا طریقفہ یہی ہے کہ اس کی نفی ہوجائے اور سا پر عمل بھی نہ ہو۔ یہ آیت امر کے سلسلے میں اس آیت کی طرح ہے۔ (والو الدات یرضعن اولامن اور مائیں اپنی اولاد کو دودھ پلائیں گی) یا (ویتربصن بانفسھن ، وہ اپنے آپ کو انتظار میں رکھیں گی اور اسی طرح کی دوسری آیات جن کے الفاظ تو خبر یعنی جملہ خبر یہ کی صورت میں ہوں لیکن معنی میں وہ امر کے ہوں۔ حج کے لئے سفر خرچ مہیا کرنا ضروری ہے قول باری ہے (وتزودو فان خیر الزاد التقویٰ اور سفر حج کے لئے زاد راہ ساتھ لے جایا کرو اور بہترین زاد راہ پرہیز گاری ہے) مجاہد اور شعبی سے مروی ہے کہ یمن کے کچھ لوگ حج میں زاد راہ ساتھ نہیں لاتے تھے حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی ۔ سعید بن جبیر کا قول ہے کہ زاد راہ سے مراد خشک میٹھی روٹی اور زیتون کا تیل ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کچھ لوگ ایسے تھے جو اپنی اپنی زاد راہ پھینک کر اپنے آپ کو متوکلین کہلاتے۔ آیت کے ذریعے انہیں یہ فرمای اگیا کہ کھانے پینے کی اشیاء ساتھ لے کر آئو۔ اور اپنا بوجھ لوگوں پر نہ ڈالو کہ وہ تمہارے کھانے پینے کا انتظام کرتے پھریں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اعمال صالحہ کی زد راہ حاصل کرو کیونکہ پرہیز گاری بہترین توشہ ہے ۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جب آی ت میں دو باتوں کا احتمال ہے توشئہ طعام اور توشئہ پرہیز گاری کا تو ضرور ی ہے کہ اسی احتمال کو باقی رکھا جائے کیونکہ کسی خاص توشے کی تخصیص پر آیت میں کوئی دلالت موجود نہیں ہے۔ حج میں اعمال صالحہ کا توشہ حاصل کرنے کا ذکر اس لئے ہے کہ حج میں سب سے بڑھ کر جو چیز ہے وہ زیادہ سے زیادہ نیکی کمانا ہے۔ اس لئے کہ حج میں نیک کاموں پر کئی گناہ ثواب ملتا ہے جس طرح کہ دوسری طرف حج کے دوران فسوق اور معاصی کی ممانعت منصوص ہے اگرچہ غیر حج میں بھی ان کی ممانعت ہے۔ اس کے ذریعے احرام کی حرمت کی عظمت بیان کی گی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ حج میں ان کا گناہ دوسرے دنوں کی بہ نسبت بڑھ کر ہے۔ آیت صوفیوں کے مسلک کی تردید کرتی ہے جو اپنے آپ کو متوکلین کا نام دے کر زاد راہ ساتھ لانے اور معاش کے لئے جدوجہد نہ کرنے کے قائل ہیں۔ آیت میں یہ دلالت بھی موجود ہے کہ حج کی استطاعت کی شرط زاد راہ اور سواری ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات ان لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمائی ہے جنہیں حج کے سلسلے میں خطاب کیا ہے۔ اس معنی کی بنا پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ووہ قول ہے جو آپ نے اس وقت فرمایا جب آپ سے استطاعت کے متعلق دریافت کیا گیا کہ (ھی الزادوا الراحلۃ یہ توشہ اور سواری ہے) واللہ الموفق۔ آیت 197 کی تفسیر ختم ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔ تفسیر آیت 198: حج کے دوران تجارت اللہ تعالیٰ نے حج اور اس کے لئے زاد راہ کے ذکر کے بعد یہ ارشاد فرمایا (لئیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلاً من ربکم اگر حج کے ساتھ ساتھ تم اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرتے جائو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں) اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہیں آیت کی ابتدا میں مخاطب بنایا گیا تھا یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے حج کے لئے زاد راہ لانے کا حکم دیا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے حج کے دوران تجارت کو بھی مباح کردیا۔ امام ابویوسف نے علاء بن سائب سے اور انہوں نے ابوامامہ سے روایت کی ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر سے کہا کہ میں کرائے پر اونٹ مکہ مکرمہ تک لاتا ہوں کیا میرا حج درست ہوجائے گا۔ “ حضرت ابن عمر نے فرمایا :” کیا تم تلبیہ نہیں کہتے اور وقوف عرفہ نہیں کرتے۔ “ میں نے جواب دیا۔ “ میں نے جواب دیا : کیوں نہیں۔ “ اس پر حضرت ابن عمر نے فرمایا۔ ایک شخص نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہی سوال کیا تھا، آپ نے اسے جواب نہیں دیا حتیٰ کہ یہ آیت لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلاً من ربکم) نازل ہوگئی۔ اس کے بعد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص سے فرمایا کہ تو حاجی ہے۔ یعنی تیرا حج ہوگیا۔ عمرو بن دینار کا کنا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا :” زمانہ جاہلیت میں ذو المجاز اور عکاظ میں تجارتی منڈیاں لگتی تھیں۔ جب اسلام آیا تو لوگوں نے تجارت کی غضر سے ان جگہوں پر جانا چھوڑ دیا یہاں تک کہ حج کے اجتماعات کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روای ت کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں :” میرے پاس ایک شخص آ کر کہنے لگا کہ میں نے اپنے آپ کو مزدور کے طور پر فلاں لوگوں کے حوالے کردیا ہے میں نے یہ شرط رکھی ہے کہ میں ان کی خدمت کروں گا اور وہ اس کے عوض مجھے حج پر لے جائیں گے۔ کیا اس طرح میرا حج ہوجائے گا۔ “ حضرت ابن عباس نے یہ سن کر فرمایا کہ یہ شخص ان لوگوں میں سے ہے جن کے متعلق ارشاد باری ہے (لھم نصیب مما کسبوا انہیں ان کی کمائی سے حصہ ملے گا) اسی قسم کی روایت تابعین کی ایک جماعت سے ہے جس میں عطاء بن ابی رباح ، مجاہد اور قتادہ شامل ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کسی نے اس کے خلاف کوئی بھی روایت بیان کی ہے۔ البتہ سفیان ثوری نے عبدالکریم سے اور انہوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی ہے کہ ایک بدو نے اس سے پوچھا کہ میں اپنے اونٹ کرائے پر دیتا ہوں اور میرا ارادہ حج کرنے کا بھی ہے آیا میرا یہ حج درست ہوگا ؟ سعید نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی عزت کی بات نہیں ہے۔ لیکن سعید کا یہ شاذ قول ہے اور یہ جمہور کے قول کے خلاف ہے اور ظاہر کتاب کے بھی خلاف ہے کیونکہ ارشاد باری ہے (لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلاً من ربکم) یہ حاجیوں کے متعلق ہے اس لئے کہ اس کا ابتدائی حصہ بھی ان کے متعلق ہے۔ ان تمام آیات کے ظواہر جو اس قسم کی تجاتر کی اباحت پر دلالت کرتی ہیں اس آیت کے مضمون پر دلالت کر رہے ہیں۔ مثلاً یہ قوت باری (واخرون یضربون فی الارض یبتغون من فضل اللہ ) اور کچھ دوسرے ایسے لوگ ہیں جو زمین میں چل پھر کر اللہ کے فضل کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں) نیز قول باری (وازن فی الناس بالحج یا توک رجالاً علی کل ضامر اور تم لوگوں کو حج کا اذن عام دے دو لوگ تمہارے پاس پیدل اور اونٹوں پر سوار ہو کر آئیں گے) تا قول باری (لیشھدوا منافع لھم ) تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں ان کے لئے رکھے گئے ہیں) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں منافع کی تخصیص نہیں کی اس لئے یہ لفظ دنیا اور آخرت دنوں کے منافع کو عام ہے۔ اسی طرح قول باری ہے (واحل اللہ البیع وحرم الربوا ۔ اللہ تعالیٰ نے خرید و فروخت کو حلال کردیا اور ربوا کو حرام کردیا ہے) اس آی ت میں اللہ تعالیٰ نے حج کی حالت کی تخصیص نہیں کی یہ تمام آیتیں اس پر دلالت کرتی ہیں کہ حج تجارت کے لئے رکاوٹ نہیں ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبارک عہد سے لے کر ہمارے زمانے تک حج کے دنوں منیٰ اور مکہ مکرمہ کے اجتماعات میں لوگوں کا یہی دستور چلا آ رہا ہے۔ وقوف عرفہ قول باری ہے (فاذا افصتم من عرفات فاذکرو اللہ عند المشعر الحرام پھر جب تو عرفات سے چلو تو مشعر حرام یعنی مزدلفہ کے پاس ٹھہر کر اللہ کو یاد کرو۔ ) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ وقوف عرفہ مناسک حج میں سے ہے۔ آیت کا ظاہر وقوف عرفہ کے فرض ہونے پر دلالت نہیں کرتا۔ لیکن جب خطاب کے سیاق میں یہ فرما دیا گیا کہ (ثم افیضوا من حیث افاض الناس) پھر تم بھی اسی جگہ سے پلٹو جہاں سے لوگ پلٹتے ہیں) تو واضح کردیا گیا کہ وقوف عرفہ فرض اور لازم ہے۔ اس لئے کہ پلٹنے یعنی افاضہ کا امرو جوب کا متقاضی ہے اور افاضہ اس وقت تک واجب نہیں ہوسکتا جب تک کہ عرفہ میں ہونا واجب نہ ہوتا کہ وہاں سے پلٹنے کا عمل شروع ہو۔ اس لئے کہ افاضہ کے عمل تک رسائی عرفہ میں اس عمل سے پہلے موجود ہنے کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ قول باری (ثم افیضوا من حیث افاض الناس کی تفسیر میں اختلا ف ہے۔ حضرت عائشہ حضرت ابن عباس، عطاء ، مجاہد، قتادہ، حسن بصریا ور سدی سے مروی ہے کہ یہاں افاضہ سے مراد عرفات سے چل پڑنا ہے، زمانہ جاہلیت میں قریش اور ان کے ہم مشرب لوگ جنہیں الحمس (دین کے معاملے میں دلیر لوگ ) کہا جاتا تھا عرفات کی بجائے مزدلفہ میں وقوف کرتے جبکہ باقی ماندہ لوگ وقوف کے لئے عرفات تک جاتے۔ اسلام آباد کے بعد درج بالا آیت نازل ہوئی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش اور ان کے ہم مشرب لوگوں کو عرفات میں جا کر لوگوں کے ساتھ وقوف کرنے کا حکم دیا نیز انہیں اسی جگہ سے پلٹنے کے لئے کہا گیا جہاں سے لوگ پلٹتے ہیں۔ ضحاک سے مروی ہے کہ اس سے مراد مزدلفہ میں وقوف ہے اور یہ کہ لوگ اسی جگہ سے پلٹیں جہاں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پلٹے تھے۔ اس سلسلے میں کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آیت میں (الناس) ارشاد فرمایا لکین اس سے تنا حضرت ابراہیم علیہ اسللام مراد ہیں جیسا کہ قول باری ہے (الذین قال لھم الناس وہ لوگ جن سے لوگوں نے کہا) حالانکہ مسلمانوں کو کفار کے اجتماع کے متعلق آ کر خبر دینے والا ایک شخص تھا۔ نیز چونکہ حضرت ابراہیم علیہ ا لسلام امام و مقتدیٰ تھے اور اللہ تعالیٰ نے امت کے نام سے یاد کیا تھا اس لئے آپ بمنزل اس امت کے ہوگئے جو آپ کے طریقوں کی پیروی کرتی ہے اور اس لئے آپ کی اکیلی ذات پر لفظ الناس کا اطلاق درست ہوگیا ۔ لکین پہلی تاویل ہی درست ہے اس لئے کہ اس تاویل پر سلف کا اتفاق ہے اور ضحاک کا یہ قول سلف کے اتفاق کا مزاحم نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک شاذ قول ہے۔ یہاں دراصل (الناس) کا لفظ ارشاد فرما کر اور قریش کو اسی جگہ سے پلٹنے کا حکم دے کر جہاں سے لوگ پلٹتے ہیں یہ بتانا مقصود ہے کہ قریش کے لوگ اگرچہ دوسروں کے مقابلے میں عظمت کے حامل تھے لیکن تعداد میں وہ ان سے بہت کم تھے۔ لوگوں کی اکثریت قریش اور ان کے ہم مشرب قبائل سے الگ تھی۔ اسی لئے (من حیث افاض الناس) فرمایا گیا۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (فاذا افضتم عن عرفات) اور اس کے بعد یہ فرمایا (ثم افیضوا من حیث افاض الناس) اور حرف ثم ترتیب کا متقاضی ہے تو اس سے ہمیں یہ معلوم ہوگیا کہ یہ افاضہ عرفات سے افاضے سے بعد کا ہے۔ جب کہ عرفات کے بعد مزدلفہ سے ہی افاضہ ہوتا ہے جو مشعر الحرام کہلاتا ہے۔ اس لئے اس حکم کو مزدلفہ سے افاضے پر محمول کرنا عرفات سے افاضے پر محمول کرنے سے بہتر ہے۔ نیز آیت میں چونکہ عرفات سے افاضے کا ذکر پہلے گزر چکا ہے اس لئے دوبارہ اس کے ذکر کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس کے جواب میں کہ اجائے گا کہ قول باری (ثم افیضوا من حیث افاض الناس) اول کلام کی طرف راجع ہے۔ اول کلام میں لوگوں کو حج کے ذکر، اس کے مناسک اور افعال کی تعلیم کے ساتھ مخاطب بتایا گیا ہے۔ گویا یوں فرمایا : اے قریش کے وہ لوگو ! جنہیں حج کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ہم نے اس سے پہلے حج کا ذکر کردیا ہے ، تم بھی اسی جگہ سے پلٹو جہاں سے لوگ پلٹتے ہیں۔ “ اس بنا پر آیت کا یہ حصہ اول کلام جس میں مامورین کو خطاب کیا گیا ہے، کے تتمہ کی طرف راجع ہوگا۔ اس کی مثال اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمایا گیا (ثم اتینا موسیٰ الکتاب تماما علی الذی احسن پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی جو بھلائی کی روش اختیار کرنے والے انسان پر نعمت کی تکمیل کی تھی آیت کے معنی یہ ہیں۔” گزشتہ آیات میں تمام باتیں ذکر کرنے کے بعد ہم نے تمہیں خبر دی کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی۔ یہ بھی جائز ہے کہ ” ثم حرف وائو، کے معنی میں ہو اس صورت میں عبادت کی ترتیب اس طرح ہوگی ” وافیضوا من حیث افاض الناس “ جس طرح کہ ارشاد باری میں ہے (ثم کان من الذین امنوا) اس کے معنی ہیں ” وکان من الذین امنوا (اور وہ ان لوگوں میں سے ہو جو ایمان لے آئے۔ ) اسی طرح قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ماتفعلون) اس کے معنی ہیں۔ واللہ شھید علی ماتفعلون (اور اللہ دیکھ رہا ہے جو تم کر رہے ہو) جب لغت کے لحاظ سے یہ معنی درست ہے اور سلف کی مرویات بھی اس کی تائید میں ہیں تو ہمارے لئے یہ معنی چھوڑ کر کسی اور معنی کی طرف پلٹنا درست نہیں ہے۔ رہا آپ کا یہ اعتراض کہ عرفات کا ذکر قول باری (فاذا افضتم من عرفات) میں گزر چکا ہے۔ اب اگر قول باری (ثم افیضوا) میں عرفات ہی مراد لیا جائے تو اس تکرار کی بنا پر سا قول باری کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہے گا۔ دراصل بات یوں نہیں ہے اس لئے کہ قول باری (فاذا افضتم من عرفات ) میں وقوف کے ایجاب پر کوئی دلالت نہیں ہے اور قول باری (ثم افیضوا من حیث افاض الناس) ان لوگوں کے لئے حکم وقوف پر مشتمل ہے جو عرفات میں وقو ف نہیں کرتے یعنی قریش اور ان کے ہم شرب قبائل۔ اس طرح آیت میں وقوف کے ایجاب کا حکم سنایا گیا جو (فاذا افضتم من عرفات) میں موجود نہیں تھا۔ کیونکہ اس میں وقوف کی فرضیت کی کوئی دلالت نہیں ہے۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی ہے کہ اگر صرف اس آیت پر ہی اکتفا کردیا جاتا تو اس میں یہ گنجائش رہ جاتی کہ کوئی گمان کرنے والا یہ گمان کر بیٹھتا کہ یہ خطاب ان لوگوں کے لئے ہے جو عرفات میں وقوف کرتے تھے اور ان لوگوں کے لئے نہیں جو یہاں وقوف کو ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ اس صورت میں مزدلفہ میں وقوف کرنے والے حسب سابق اپنی حالت پر رہتے اور وہ عرفات میں وقوف نہ کرنے کے باوجود بھی وقوف کے تارک نہ کہلاتے اللہ تعالیٰ نے اپنے قول (ثم افیضوا من حیث افاض الناس) سے گمان کرنے والے کے اس گمان کو ختم کردیا، یعنی عرفات میں وقوف نہ کرنے والا وقوف کا تارک قرار پائے گا۔ اسی لئے امت کا اس پر اتفاق ہے کہ جس شخص نے وقوف عرفہ نہیں کیا اس کا حج نہیں ہوگا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول اور فعل سے امت نے اس بات کی روایت کی ہے بکیر بن عطاء نے عبدالرحمٰن بن یعمر الدیلی سے روایت کی ہے کہ حضو ر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حج کی کیفیت پوچھی گئی آپ نے فرمایا (الحج یوم عرفۃ من جاء عرفۃ لیلۃ جمع قبل الصبح او یوم جمع فقدتم خجہ حج یوم عرفہ میں ہوتا ہے۔ جو شخص مزدلفہ کی رات صبح سے پہلے یا یوم مزدلفہ سے پہلے عرفات میں پہنچ جائے اس کا حج مکمل ہوجائے گا۔ ) شعبی نے عروہ بن مفرس طائی سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ آپ نے مزدلفہ میں فرمایا (من صلی معنا ھذہ الصلوۃ و وقف معنا ھذا الموقف و قدو قف بعرفۃ قبل ذلک لیلاً اونھاراً فقد تم حجہ وقضی تفشہ جس نے ہمارے ساتھ یہ نماز پڑھی اور اس جگہ وقوف کیا بشرطیکہ اس نے اس سے پہلے دن یا رات کے وقت وقوف عرفہ کرلیا ہو تو اس کا حج پورا ہوجائے گا اور وہ اپنا میل کچیل دور کرلے گا۔ حضرت ابن عباس ، حضرت ابن عمر، حضرت ابن الزبیر اور حضرت جابر سے مروی ہے کہ جب کوئی شخص طلوع فجر سے پہلے پہلے وقوف عرفہ کرے گا اس کا حج پورا ہوجائے گا۔ فقہاء کا اس پر اجماع ہے۔ البتہ اس شخص کے متعلق فقہاء میں اختلاف ہے جس نے رات کے وقت بھی وقوف عرفہ نہیں کیا۔ سب کا یہ قول ہے کہ دن کے وقت وقوف عرفہ کرنے سے حج پورا ہوجاتا ہے۔ اگر غروب شمس سے پہلے کوئی شخص عرفات سے چل پڑے تو ہمارے اصحاب کے نزدیک اس پر دم واجب ہوگا بشرطیکہ امام سے پہلے اس کی واپسی نہ ہوئی ہو۔ امام مالک کا قول ہے کہ اگر عرفات سے وہ واپس نہ ہوا یہاں تک کہ طلوع فجر ہوگیا تو اس کا حج باطل ہوجائے گا۔ اصحاب مالک کا خیال یہ ہے کہ امام مالک نے یہ بات اس لئے کہی ہے کہ ان کے مسلک کے مطابق وقوف کی فرضیت رتا کے وقت ہے نہ کہ دن کے وقت۔ دن کے وقت وقوف کی فرضیت نہیں ہے بلکہ دن کے وقت وقوف مسنون ہے۔ حضرت عبداللہ بن الزبیر سے مروی ہے کہ جو شخص غروب شمس سے پہلے عرفات سے چل پڑے اور اس کا حج فاسد ہوجائے گا۔ قول اول کی صحت کی دلیل عروہ بن مفرس کی حدیث ہے جس میں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا تھا کہ جو شخص وقوف مزدلفہ سے پہلے وقوف عرفہ کر کے دن یا رات کے وقت وہاں سے پلٹ آیا ہو اس کا حج پورا ہوجائے گا اور وہ اپنا میل کچیل دور کرے گا۔ آپ نے ایسے شخص کے حج کی صحت و اتمام کا حکم صادر کردیا تھا جس نے دن یا رتا کے وقت وقوف عرفہ کرلیا ہو۔ اس پر قول باری بھی دلالت کرتا ہے (ثم افیضوا من حیث افاض الناس) حیث کا لفظ جگہ کے لئے بطور اسم اسعتمال ہوتا ہے اور وہ جگہ عرفات ہے۔ اس طرح آیت کے معنی یہ ہوئے ” عرفات سے پلٹو “ اس میں دن یا رات کی تخصیص نہیں ہے اور وقت کا بھی اس میں ذکر نہیں ہے۔ یہ عموم اس امر کا مقتضی ہے کہ جس وقت بھی وہ وقوف کرے گا اس کا وقوف جائز ہوگا۔ اس پر عقلی طور سے بھی دلالت ہو رہی ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ تمام مناسک کی ابتدا دن سے ہوتی ہے اور رات بعاً اس میں داخل ہوجاتی ہے۔ ان مناسک میں سے کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو رات کے وقت کے ساتھ مخصوص ہو اور رات کے سوا کسی اور وقت میں اس کا فعل درست نہ ہو۔ اس لئے جس نے وقوف کی فرضیت کو رات کے ساتھ خاص کردیا ہے اس کا یہ قول اصول کے خلاف اور اس سے خارج ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ طواف زیارت، وقوف مزدلفہ، رمی جمار، حلق اور ذبح یہ سب دن کے وقت سر انجام پاتے ہیں اور اگر رات کے وقت یہ کئے جاتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ اپنے وقت سے مئوخر ہو کر دن کے بالتبع رتا کو سرانجام پاتے ہیں۔ اس بنا پر یہ ضروری ہے کہ وقوف عرفہ کا بھی یہی حکم ہو، نیز امت نے آج تک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دن کے وقت وقوف عرفہ کی روایت نقل کی ہے۔ نیز یہ کہ آپ وہاں سے غروب شمس کے وقت واپس ہوئے تھے۔ یہ روایت اس پر دلالت کرتی ہے کہ وقوف کا وقت دن کا قوت ہے اور غروب شمس کے وقت واپسی ہوگی۔ اس لئے یہ بات محال ہوگئی کہ واپسی کا وقت فرضیت کا وقت ہوجائے اور وقو فکا وقت فرضیت کا وقت نہ رہے۔ نیز وقوف عرفہ کو یوم عرفہ کا نام دیا گیا ہے اور امت نے اس نام کی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت سی روایتیں نقل کی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ ان اللہ تعالیٰ یباھی ملائکتہ یوم عرفہ، اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن فرشتوں کے ساتھ اپنے بندوں پر فخر کا اظہار کرتا ہے ) یا یہ کہ (صیام یوم عرفۃ یعلل صیام سنۃ ، عرفہ کے دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے) اسی بن اپر اتم نے وقوف عرفہ پر یوم عرفہ کا اطلاق کیا ہے ۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ دن کا وقت وقوف کی فرضیت کا وقت ہے اور رات کے وقت صرف وہی شخص وقوف کرتا ہے جس سے دن کا وقوف رہ گیا ہو۔ آپ نے نہیں دیکھا کہ یوم الجمعہ، یوم الاضحیٰ یوم الفطر کے تحت کئے جانے والے افعال دن کے وقت سر انجام پاتے ہیں۔ اسی بنا پر ان افعال کی نسبت یوم یعنی دن کی طرف کی گئی ہے۔ اس لئے یہ دلالت حاصل ہوگئی کہ وقوف کی فرضیت یوم عرفہ میں ہے اور رات کے وقت وقوف صرف رہ جانے کی صورت میں قضا کے طور پر کیا جاتا ہے جس طرح کہ اگر رمی جمار دن کے وقت نہ ہو سکے تو رات کے وقت قضا کے طور پر کی جاتی ہے۔ یہی صورت حال طواف، ذبح اور حلق کی بھی ہے۔ وقوف کی جگہ کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ حضرت جبیر بن مطعم نے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (کل عرفات موقف و ارفعوا من عرفۃ و کل مزدلفۃ موقف وارفعوا عن محسر پورا عرفات وقوف کی جگہ ہے اور وادی عرفہ سے اوپر رہو، سارا مزدلفہ جائے وقوف ہے اور وادی محسر سے پرے رہو) حضرت جابر نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : سارا عرفہ وقوف کی جگہ ہے) ابن عباس نے فرمایا کہ وادی عرفہ سے پرے رہو اور منبر کو اس کے مسیل (برساتی پانی کی گزر گاہ) سے دور رکھو۔ اس سے اوپر کا جو حصہ ہے وہ سارے کا سارا جائے وقوف ہے۔ راویان احادیث کا اس میں اختلاف نہیں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غروب شمس کے بعد عرفات سے چلے تھے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ عرفات سے اس وقت نلکتے تھے جب سورج پہاڑوں پر پہنچ جاتا تھا اور اس طرح ہوجاتا تھا کہ وہ لوگوں کے چہروں پر ان کے عماموں کی طرح ڈھلک گیا ہے۔ پھر یہ لوگ مزدلفہ سے طلوع شمس کے بعد نکلتے تھے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے عرفات سے غروب شمس کے بعد اور مزدلفہ سے طلوع شمس سے قبل روانگی کی۔ سلمہ بن کہسیل نے حسن المعرنی سے، انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ حضو ر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا (یا ایھا النسا لیس البرفی ایجاف الخیل ولا فی ایصاح الابل ولکن سیراً حسناً جمیلا ولا توطئوا ضعیفاً ولا توذوا مسلماً اے لوگو ! گھوڑے دوڑانے اور اونٹوں کو بھگا لے جانے میں کوئی نیکی نہیں ہے۔ لیکن سواری کو خوش رفتاری اور عمدہ طریقے سے چلائو کسی کمزور کو اپنی سواری تلے نہ روند و اور کسی مسلمان کو ایذا نہ پہنچائو۔ ) ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت اسامہ بن زید سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عرفات سے جب واپسی ہوئی تو آپ کی معیت میں ہماری سواریوں کی رفتار تیز ہوتی اور جب گزر گاہ کشادہ ہوتی تو آپ اونٹنی کو دوڑا کرلے جاتے۔ واللہ اعلم۔ وقوف مزدلفہ قول باری ہے (فاذا فضتم من عرفات فاذکروا اللہ عمد المشعر الحرام جب تم عرفات سے واپس ہونے لگو تو مشعر حرام یعنی مزدلفہ کے پاس اللہ کو یاد کرو) اہل علم کا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ مشعر حرام سے مراد مزدلفہ ہے۔ اسے جمع کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ ذکر سے مراد مزدلفہ میں مغرب اور عشا کی نمازیں مغرب میں تاخیر کر کے اکٹھی ادا کی جائیں اور قول باری (واذکروہ کما ھدا کم اور اسے یاد کرو جس طرح اس نے تمہیں اس کی رہنمائی کی ہے) میں ذکر ثانی سے مراد وہ ذکر ہے جو مزدلفہ کی صبح وقوف مزدلفہ کے وقت کیا جاتا ہے۔ اس ذکر اول ذکر ثانی سے مختف ہوتا ہے۔ نماز کو ذکر کا نام دی اگیا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے (من نام عن صلوۃ اونسیھا فلیصلھا اذا زکرھا جو شخص کسی نماز کے وقت سوتا رہ جائے یا نماز پڑھنا بھول جائے تو جس وقت اسے یاد آ جائے نماز ادا کرے) یہ فرما کر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (واقم الصلوۃ للذکری اور میری یاد میں نماز قائم کر) اللہ تعالیٰ نے نماز کو ذکر کا نام دیا۔ اس بنا پر آیت کا اقتضاء یہ ہے کہ مزدلفہ میں مغرب کی نماز میں تاخیر کی جائے اور اسے عشاء کی نماز کے ساتھ ادا کی جائے۔ حضرت اسامہ بن زید نے جو عرفات سے مزدلفہ تک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے (آپ کے ساتھ سواری پر پیچھے سوار تھے) کہا ہے کہ میں نے مزدلفہ جاتے ہوئے راستے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ مغرب کی نماز کا وقت جا رہا ہے۔ آپ نے یہ سن کر فرمایا :” نماز تمہارے آگے ہے۔ “ یعنی آگے چل کر نماز پڑھیں گے۔ جب آپ مزدلفہ پہنچے تو مغرب کی نماز عشاء کی نماز کے ساتھ پڑھی۔ مزدلفہ میں مغرب اور عشا کی نمازیں ایک ساتھ پڑھنے کے متعلق حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایات حد تو اتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔ اس شخص کے متعقل اختلاف ہے جس نے مزدلفہ پہنچنے سے پہلے مغرب کی نماز ادا کرلی۔ امام ابوحنیفہ اور امام محمد کا قول ہے کہ نماز ادا نہیں ہوئی اور امام ابو سف کا قول ہے کہ ادا ہوگئی اگر قول باری (فاذا افضتم من عرفات فاذکروا اللہ عند المشعر الحرام) میں ذکر سے مراد نماز ہے تو ظاہر آیت مشعر حرام پہنچنے سے قبل نماز کے جواز کو مانع ہے۔ اسی طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد کو (الصلوۃ امامک) بھی اس کے جواز کو مانع ہے آی ت میں مذکور ذکر کو نماز پر محمو لکرنا وقوف مزدلفہ کے وقت کئے جانے والے ذکر پر محمول کرنے سے بہت رہے۔ اس لئے کہ قو ل باری (واذاکروہ کما ھداکم) سے مراد وہ ذکر ہے جو وقوف مزدلفہ کی حالت میں کیا جاتا ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ ہم ذکر اول کو نماز پر محمول کریں۔ تاکہ ان دونوں میں سے ہر ذکر کو اس کا حصہ دے دیں اور آیت میں ایک ہی چیز کی تکرار نہ ہو۔ قول باری (فاذکرو اللہ عند المشعر الحرام) میں امر ایجاب کا مقتضی ہے جب کہ مزدلفہ میں کیا جانے والا ذکر کسی کے نزدیک واجب نہیں ہے ۔ جب اس ذکر کو مزدلفہ میں مغرب کی نماز پر محمول کیا جائے گا تو اس صورت میں امر اپنے مقتضی یعنی وجوب پر محمول ہوگا۔ اس لئے اس ذکر کو نماز پر ہی محمول کرنا واجب ہے۔ وقوف مزدلفہ کے متعلق اہل علم کا اختلاف ہے آیا یہ حج کے فرائض میں داخل ہے یا نہیں۔ کچھ لوگ تو اس بات کے قائل ہیں کہ یہ حج کے فرائض میں شامل ہے اور جس شخص سے رہ گیا اس کا حج نہیں ہوگا جس طرح کہ وقوف عرفہ کے فوت ہونے کی صورت میں حج نہیں ہوتا۔ لیکن جمہور اہل علم کا قول ہے کہ وقوف مزدلفہ رہ جانے کی صورت میں حج پورا ہو جات ا ہے اور اس سے اس کا حج فاسد نہیں ہوتا۔ جن لوگوں نے وقوف مزدلفہ کو فرض تسلیم نہیں کیا ہے ان کی دلیل حدیث عبدالرحمٰن بن یعمر الدیلی میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ قول ہے کہ ” حج وقوف عرفہ کا نام ہے جس شخص نے طلوع فجر سے پہلے پہلے وقوف کرلیا اس کا حج مکمل ہوگیا۔ “ بعض روایات میں آپ نے فرمایا : جس شخص کو وقوف عرفہ حاصل ہوگیا اسے حج حاصل ہوگیا اور جس شخص سے وقوف عرفہ رہ گیا اس سے حج رہ گیا ” آپ نے وقوف عرفہ کرنے پر حج کی صحت کا حکم صادر فرمایا اور اس کے ساتھ وقوف مزدلفہ کی شرط نہیں لگائی۔ اس پر حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر سے منقول روایت بھی دلالت کرتی ہے ، یہ روایت اور لوگوں کے ذریعے بھی منقول ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے خاندان کے کمزوروں کو رات کے وقت ہی مزدلفہ سے آگے بھیج دیا تھا۔ بعض روایات میں ہے کہ آپ نے کمزور لوگوں کو رات کے وقت ہی مزدلفہ سے آگے چل جانے کو کہا تھا اور ان سے یہ فرمایا تھا کہ سورج طلوع ہونے سے قبل جمرہ عقبہ کو کنکریاں نہ مارنا اگر مزدلفہ میں وقوف فرض ہوتا تو آپ کمزوری کی بنا پر لوگوں کو ہرگز اس کے ترک کی اجازت نہ دیتے جس طرح کہ وقوف عرفہ کے ترک کی کمزوری کے سبب اجازت نہیں ہوتی۔ اگر یہ کہاجائے کہ کمزور لوگ رات کے وقت مزدلفہ کا وقوف کرلیتے تھے، یہی اس کے وقوف کا وقت وہتا ہے۔ سالم بن عمر جو کہ گزشتہ حدیث کے ایک راوی ہیں، جس میں کمزور لوگوں کو آگے بھیج دینے کا ذکر ہے، اپنے خاندان کے کمزور افراد کو مزدلفہ سے آگے بھیج دیتے ۔ یہ افراد رات کے وقت مشعر حرام کے نزدیک وقوف کر کے جو کچھ ذکر الٰہی میسر ہوتا کرتے اور پھر وہاں سے چل پڑتے۔ اس کے جو با میں کہاجائے گا کہ مزدلفہ کے وقوف کا وقت طلوع فجر کے بعد شروع ہوتا ہے اس لئے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طلوع فجر کے بعد وہاں وقوف کیا تھا لیکن آپ نے اپنے خاندان کے کمزور افرادم کو وقوف کا حکم نہیں دیا کیونکہ آپ نے انہیں رات کے وقت ہی آگے چلے جانے کی اجازت دے دی تھی۔ اگر رات کا وقت وقوف مزدلفہ کا وقت ہوتا تو آپ ان لوگوں کو اس کا حکم دیتے اور اس کے ترک کی رخصت نہ دیتے جبکہ بلا عذر اس کے بجا لانے کا امکان موجود تھا۔ رہی سالم بن عمر کی روایت تو یہ ان کا اپنا فعل تھا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی روایت نہیں تھی اور انہوں نے یہ بھی نہیں کہا کہ رات کا وقت وقوف مزدلفہ کا وقت ہے۔ بلکہ یہ استحباب کے طور پر تھا تاکہ منیٰ کی طرف رجوع سے پہلے اللہ کا ذکر ہوجائے۔ طلوع فجر کے بعد وقوف مزدلفہ کا وقت ہوتا ہے۔ اس پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ مناسک کے افعال کا وقت دن کو ہوتا ہے اور رات کا وقت بالتبع ان میں داخل ہوتا ہے جیسا کہ ہم پہلے اس کی وضاحت کر آئے ہیں۔ جو لوگ وقوف مزدلفہ کی فرضیت کے قائل ہیں انہوں نے ظاہر آیت (فاذا افضتم من عرفات فاذکرو اللہ عند المشعر الحرام) سے استدلال کیا ہے کہ یہ وقوف کے وجوب کا تقاضا کرتا ہے نیز وہ مطرف بن طریف کی حدیث سے استدلال کرتے ہیں جو انہوں نے شعبی سے انہوں نے عروہ بن مفرس سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : (من ادرک جمعاً والامام واقف فوقف مع الامام ثمافاض مع الناس فقد ادرک الحج ومن لوید رک فلا حج لہ جس شخص نے مزدلفہ میں امام کو وقوف کی حالت میں پاکر خود بھی وقوف کرلیا، پھر لوگوں کے ساتھ اس کی واپسی ہونی اسے حج مل گیا اور جو شخص یہ نہ پاسکا اس کا حج نہیں ہوا) ۔ اسی طرح اس روایت سے بھی انہوں نے استدلال کیا ہے جس کی روایت یعلی بن عبید نے کی ہے، انہیں سفیان بن بکیر بن عطا سے، انہوں نے عبدالرحمن بن یعمر الدیلی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عفرات میں وقوف کی حالت میں دیکھا کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور حج کے متعلق دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا (الحج یوم عرفۃ ومن ادرک جمعا قبل الصبح فقد ادرک الحج یوم عرفہ کا وقوف حج ہے اور جس شخص کو صبح سے پہلے وقوف مزدلفہ حاصل ہوجائے اسے حج حاصل ہوجاتا ہے) جہاں تک قول باری (فاذکروا اللہ عند المسجد الحرام کا تعلق ہے تو اس میں اس بات کی کوئی دللات موجود نہیں ہے جو انہوں نے اپنے استدلال سے ثابت کی ہے اس لئے کہ آیت میں اللہ کو یاد کرنے کا حکم ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ وہاں یاد الٰہی مفروض نہیں ہے اس لئے کہ اس کے ترک سے حج میں کوئی کمی پیدا نہیں ہوتی اور آیت میں وقوف کا کوئی ذکر نہیں ہے اس بنا پر ان کا استدلال ساقط ہوگیا ۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی واضح رہے کہ ہم نے یہ واضح کردیا ہے کہ مزدلفہ میں ذکر سے مراد وہاں مغرب کی نماز کی ادائیگی ہے۔ رہ گئی شعبی سے مطرف بن طریف کی حدیث تو اس کی مطرف کے علاوہ پانچ دوسرے راویوں نے بھی روایت کی ہے جن میں زکریا بن ابی زائدہ عبداللہ ابی السفر اور سیارہ شامل ہیں۔ ان سب نے شعبی سے، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ۔ اس روایت میں ان سب نے یہ کہا ہے کہ حضو ر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا تھا (من صلی معنا ھذہ الصلوۃ و وقف معنا ھذلا الموقف وافاض قبل ذلک من عرفۃ لیلاً او نھاراً فقد تم حجہ وقضی تفشہ جس شخص نے ہمارے ساتھ یہ نماز پڑھی اور ہمارے ساتھ اس جگہ وقوف کیا اور اس سے پہلے دن یا رات کے وقت عرفات سے اس کی واپسی ہوئی اس کا حج مکمل ہوگیا اور اس نے اپنا میل کچیل دور ک رلیا۔ ان میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا (فلا حج لہ اس کا حج نہیں ہوا) تاہم سب کا اس پر اتفاق ہے کہ مزدلفہ میں ترک صلوۃ سے حج فاسد نہیں ہوتا۔ حالانکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیث میں نماز کا ذکر فرمایا ہے۔ جب ترک صلوۃ سے حج فاسد نہیں ہوتا تو ترک وقوف سے بھی حج فاسد نہیں ہوا۔ اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (فلا حج لہ ) بھی ارشاد فرمایا تو اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے فضیلت کی نفی مراد ہو، اصل یعنی حج کی نفی مراد نہ ہو۔ جیسا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے (لا وضوء لمن لم یذکرا سم اللہ علیہ جس شخص نے وضو میں اللہ کا نام نہ لیا اس کا وضو نہیں ہوا) یا جس طرح حضرت عمر نے روایت کی ہے کہ (من قدم نفلہ فلاح حج لہ ، جس شخص نے نقل کو مقدم کیا اس کا حج نہیں ہوا) رہ گئی عبدالرحمٰن بن یعمر الدیلی کی حدیث تو اس کی روایت محمد بن کثیر نے سفیان سے انہوں نے بکیر بن عطاء سے، انہوں نے عبدالرحمٰن یعمر الدیلی سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کی ہے اس میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (من وقف قبل ان یطلع الفجر فقدتم حجہ، جس شخص نے طلوع فجر سے پہلے وقوف کیا اس کا حج مکمل ہوگیا) اس روایت سے ہمیں دراصل یہ بات معلوم ہوئی کہ اس سے مراد وقوف عرفہ ہے جو حج پالینے کی شرط ہے۔ جس شخص نے (من ادرک جمعا قبل الصبح) روایت کی ہے اسے الفاظ حدیث میں وہم ہوگیا ہے۔ اسے وہم کسی طرح نہیں قرار دیا جائے گا جبکہ پوری امت نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مزدلفہ میں طلوع فجر کے بعد آپ کا وقوف نقل کیا ہے اور آپ سے ایسی کوئی روایت نقل نہیں ہوئی جس میں آپ نے کسی کو رات کے وقت وقوف مزدلفہ کا حکم دیا ہو۔ تاہم اس روایت کی معارض وہ تمام صحیح روایات ہیں جن سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ قول مروی ہے (من صلی معنا ھذہ الصلوۃ ثم وقف معنا ھذا الموقف) اسی طرح عبدالرحمٰن بن یعمر سے مروی وہ تمام روایات بھی درج بالا روایت کی معارض ہیں۔ عبدالرحمٰن کی روایت کے الفاظ یہ ہیں (من ادرک کمرفۃ فقد ادرک الحج وقد تم حجہ و من فاتہ عرفۃ فقد فاتہ الحج) یہ روایت اس شخص کی روایت کی نفی کرتی ہے جس نے اس کے ساتھ وقوف مزدلفہ کی بھی شرط لگائی ہے۔ میرا خیال ہے کہ الاصم اور ابن علیہ ہیں جو اس وقوف کی فرضیت کے قائل ہیں۔ جو لوگ وقوف مزدلفہ کے قائل ہیں انہوں نے عقلی طور پر یہ استدلال کیا ہے کہ حج میں دو وقوف ہیں ایک وقوف عرفہ اور دوسرا وقوف مزدلفہ ۔ جب ہم ایک وقوف کی فرضیت پر متفق ہوگئے ہیں یعنی وقوف عرفہ تو یہ ضروری ہے کہ دوسرا وقوف بھی فرض ہو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دونوں کا ذکر کیا ہے جس طرح کہ قرآن میں رکوع اور سجود دونوں کے ذکر سے نماز میں دونوں فرض ہیں۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ آپ کا یہ کہنا کہ چونکہ قرآن میں ان دونوں کا ذکر ہوا ہے اس بنا پر یہ دونوں فرض ہیں، بڑی سنگین غلطی ہے۔ اس لئے کہ یہ قول پھر اس بات کا مقتضی ہوگا کہ ہر وہ بات جس کا ذکر قرآن میں ہو وہ فرض ہوجائے۔ اس بات کو تسلیم کرنا آپ کے لئے ممکن نہیں ہے جس سے آپ کے قول سے بننے والا کلیہ ٹوٹ جائے گا۔ نیز الہ تعالیٰ نے قرآن میں وقوف مزدلفہ کا ذکر نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ کا تو صرف یہ ارشاد ہے (فاذ کروا اللہ عند المشعر الحرام) اب جبکہ سب کا اس پر اتفاق ہے کہ مشعر حرام کے نزدیک ذکر بھی فرض نہیں ہے تو وقوف کیسے فرض ہوگا۔ اس لئے یہ استدلال بھی ساقط ہوگیا۔ اگر آپ اس وقوف کو وقوف عرفہ پر قیاس کرتے ہوئے واجب کریں گے تو آپ سے وہ دلیل طلب کی جائے گی جس کی بنا پر اس قیاس کو واجب کرنے والی علت کی صحت ثابت ہو سکے اور یہ بات معلوم ہے کہ ایسی کوئی دلالت یا عدت موجود نہیں ہے۔ آپ سے یہ بھی کہا جائے گا کہ آیا ایسا نہیں ہوا تھا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ نے طواف وسعی کی، پھر دسویں ذی الحجہ کو بھی طواف کیا اور پھر طواف صدر بھی کیا اور اس کا حکم بھی دیا تو کیا اس سے یہ واجب ہوگیا کہ ایجاب کے لحاظ سے ان تینوں طوافوں کا ایک حکم ہوجائے۔ جب یہاں یہ بات جائز ہوگئی کہ بعض طواف مستحب ہوں اور بعض واجب تو پھر یہی بات وقوف کے سلسلے میں تسلیم کرلینے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے کہ ایک وقوف مستحب ہوا اور دوسرا واجب ہوجائے۔۔۔۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٩٩) وہیں جاکر پھر لوٹو جہاں سے یمن والے لوٹ کر آتے ہیں اور اپنے گناہوں کے لیے بخشش طلب کرو جو شخص توبہ طلب کرے اور توبہ ہی پر اس کا انتقال ہو تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی بخشش فرمانے والے ہیں۔ یہ آیت کریمہ اہل حمس کے بارے میں اتری ہے جو اپنے حجوں میں حرم سے میدان عرفات کے علاوہ اور کسی جگہ نہیں جاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس چیز سے روکا اور اس بات کا حکم دیا کہ میدان عرفات جاؤ اور اسی مقام سے لوٹ کر آؤ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٩٩ (ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاض النَّاسُ ) زمانۂ جاہلیت میں قریش مکہّ عرفات تک نہ جاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری خاص حیثیت ہے ‘ لہٰذا ہم منیٰ ہی میں مقیم رہیں گے ‘ باہر سے آنے والے لوگ عرفات جائیں اور وہاں سے طواف کے لیے واپس لوٹیں ‘ یہ سارے مناسک ہمارے لیے نہیں ہیں۔ یہاں فرمایا گیا کہ یہ ایک غلط بات ہے جو تم نے ایجاد کرلی ہے۔ تم بھی وہیں سے طواف کے لیے واپس لوٹو جہاں سے دوسرے لوگ لوٹتے ہیں ‘ یعنی عرفات سے۔ (وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰہَ ط) ۔ اپنی اگلی تقصیر پر نادم ہو اور اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

220. Since the time of Abraham and Ishmael the recognized practice of the Arabs with regard to Hajj was that on the 9th, Dhu al-Hijjah, they went from Mina to 'Arafat, returning on the morning of the 10th to stay at Muzdalifah. Later, as the priestly monopoly of the Quraysh became well established, they claimed that it was below their dignity to go to 'Arafat with the ordinary people of Arabia. As a mark of what they called their distinction, they went to Muzdalifah only (without going to 'Arafat) and returned from there, leaving it to the commoners to go to 'Arafat. Subsequently Banu Khuza'ah, Banu Kananah and those tribes which were linked by marriage with the Quraysh acquired the same privilege. Eventually, the status of the tribes allied to the Quraysh came to be considered higher than that of the ordinary Arabs, and these tribes too abandoned the practice of going to 'Arafat. It is this pride and vainglory which the present verse seeks to undermine. It is addressed to the Quraysh and the tribes associated with them either through marriage or alliance, and to all those who might be inclined to claim for themselves special privileges and distinctions in the future. Such people are asked to go to the place to which all others go, to stay with them, to return with them and to seek pardon from God for the fact that they violated the way of Abraham.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :220 “حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السّلام کے زمانے سے عرب کا معروف طریقہ حج یہ تھا کہ ۹ ذی الحجہ کو مِنیٰ سے عَرَفات جاتے تھے اور رات کو وہاں سے پلٹ کر مُزْدلفہ میں ٹھیرتے تھے ۔ مگر بعد کے زمانے میں جب رفتہ رفتہ قریش کی برہمنیت قائم ہو گئی ، تو انہوں نے کہا: ہم اہل حرم ہیں ، ہمارے مرتبے سے یہ بات فروتر ہے کہ عام اہل عرب کے ساتھ عرفات تک جائیں ۔ چنانچہ انہوں نے اپنے لیے یہ شان امتیاز قائم کی کہ مزدلفہ تک جا کر ہی پلٹ آتے اور عام لوگوں کو عرفات تک جانے کے لیے چھوڑ دیتے تھے ۔ پھر یہی امتیاز بنی خزاعہ اور بنی کنانہ اور ان دوسرے قبیلوں کو بھی حاصل ہو گیا ، جن کے ساتھ قریش کے شادی بیاہ کے رشتے تھے ۔ آخر کار نوبت یہاں تک پہنچی کہ جو قبیلے قریش کے حلیف تھے ، ان کی شان بھی عام عربوں سے اونچی ہو گئی اور انہوں نے بھی عرفات جانا چھوڑ دیا ۔ اسی فخر و غرور کا بت اس آیت میں توڑا گیا ہے ۔ آیت کا خطاب خاص قریش اور ان کے رشتے دار اور حلیف قبائل کی طرف ہے اور خطاب عام ان سب کی طرف ہے ، جو آئندہ کبھی اس قسم کے امتیازات اپنے لیے مخصوص کرنا چاہیں ۔ ان کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اور سب لوگ جہاں تک جاتے ہیں ، انہیں کے ساتھ جاؤ ، انہیں کے ساتھ ٹھیرو ، انہیں کے ساتھ پلٹو ، اور اب تک جاہلیت کے فخر و غرور کی بنا پر سنت ابراہیمی کی جو خلاف ورزی تم کرتے رہے ہو ، اس پر اللہ سے معافی مانگو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

133: جاہلیت میں اہل عرب نے یہ طریقہ مقرر کر رکھا تھا کہ اور تمام انسان نو ۹ذوالحجہ کو عرفات کے میدان میں وقوف کرتے تھے، مگر قریش اور بعض دوسرے قبائل جوحرم کے قریب رہتے تھے اور ’’حُمس‘‘ کہلاتے تھے، عرفات جانے کے بجائے مزدلفہ میں رہتے تھے، اور وہیں وقوف کرتے تھے، ان کا کہنا یہ تھا کہ ہم حرم کے مجاور ہیں اور عرفات چونکہ حدود حرم سے باہر ہے اس لئے ہم وہاں نہیں جائیں گے، نتیجہ یہ کہ عام لوگوں کو نویں تاریخ کا دن عرفات میں گزارنے کے بعد رات کو مزدلفہ کے لئے روانہ ہونا پڑتا تھا، مگر قریش وغیرہ شروع ہی سے مزدلفہ میں ہوتے تھے، او ران کو عرفات سے آنا نہیں پڑتا تھا۔ اس آیت نے یہ رسم ختم کردی، اور قریش کے لوگوں کو بھی یہ حکم دیا کہ وہ عام لوگوں کے ساتھ عرفات میں وقوف کریں، اور انہی کے ساتھ روانہ ہو کر مزدلفہ آئیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:199) ثم۔ حرف عطف ہے ماقبل سے مابعد کے متؤخر ہونے پر دلدلت کرتا ہے خواہ تاخر زمانی ہو یا رتبہ کے لحاظ ہو۔ مولانا عبد الماجد دریا آبادی (رح) رقمطراز ہیں۔ ثم۔ یہاں تاخر زمانی کے لئے نہیں فصل کلام کے لئے ہے۔ یعنی ایک بات ختم ہوئی اب دوسری ہدایت سنو ! جیسے اردو میں موقع پر ” اچھا تو “ یا ” ہاں تو “ کہتے ہیں۔ جملہ ثم افیضوا ۔۔ کا عطف جملہ سابقہ فاذا افضتم پر ہے اور ثم یہاں تراخی فی التربۃ کے لئے آیا ہے مطلب یہ کہ جب تم عرفات سے وقوف عرفہ کے بعد منی کی طرف واپس مڑو تو مشعر الحرام کے پاس اللہ کا ذکر کرو۔ ہاں تو اس سے بھی بڑھ کر بات یہ ہے کہ تم وہاں سے مڑ اکرو جہاں سے لوگ واپس مڑا کرتے ہیں (یعنی عرفات سے نہ کہ مزدلفہ سے) ۔ افیضوا۔ فعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر، افاضۃ (افعال) مصدر سے۔ تم واپس مڑو، تم بہاؤ (پانی کو) یہاں اول الذکر معنی مراد ہیں۔ اس امر کے مخاطبین قریش ہیں جو حمس (شدر والے اور حیثیت والے کہلاتے تھے اور وہ اور ان کے حلیف عرفات میں دوسرے اہل عرب کے ساتھ ٹھہرنے کو عار سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اہل اللہ ہیں۔ اور اس کے حرم کے رہنے والے ہیں اس لئے ہم حرم کو نہیں چھوڑتے اور یہاں سے نہیں نکلتے۔ پھر جب لوگ عرفات سے چلتے تھے تو حمس مزدلفہ سے کوچ کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ مثل اوروں کے عرفات میں ٹھہریں اور وہاں وقوف کے بعد سب کے ساتھ مزدلفہ جائیں اور پھر وہاں سے واپس منی جائیں۔ من حیث۔ جہاں سے۔ جس جگہ سے۔ حیث اسم ظرف مکان ہے اور مبنی برضمہ ہے۔ الناس۔ سے حمس کے سوائے تمام لوگ مرا ہیں۔ المراد من الناس الجنس (روح المعانی) الناس سے مراد جنس انسان ہے۔ ضماک نے کہا ہے کہ الناس سے یہاں مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مراد ہیں جیسے ام یحسدون الناس (4:54) میں الناس سے مراد حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مراد ہیں ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 عرفات کا میدان حرم کی حدود سے باہر اس لے قریش مزدلفہ سے آگے نہ جاتے۔ ان کو حکم دیا کہ سب لوگوں کے ساتھ عرفات پہنچ کر لوٹنا ضروری ہے۔ (ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حج کے مناسک میں قریش کے خود ساختہ امتیاز اور بدعت کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ یہاں لوٹنے سے مراد عرفات پہنچ کر مزدلفہ واپس آنا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بتلائے ہوئے طریقہ کے مطابق حج کرنے والے نسل در نسل نو ذو الحجہ کو منٰی سے عرفات جاتے اور عرفات سے واپس مزدلفہ ٹھہرتے۔ مگر قریش نے اپنے مذہبی تقدس اور قومی تفاخر کے باعث یہ عقیدہ بنایا اور لوگوں میں پھیلایا ہوا تھا کہ ہم بیت اللہ کے متولّی اور مجاور ہیں اس لیے ہمارا مقام لوگوں سے ممتاز ہے لہٰذا ہمیں حدود حرم سے باہر جانے کی ضرورت نہیں۔ یاد رہے کہ عرفات حدود حرم سے باہر ہے۔ وہ مزدلفہ ہی میں قیام کرتے جب کہ لوگ عرفات سے ہو کر مزدلفہ آیا کرتے تھے۔ قریش کی دیکھا دیکھی ان کے حلیف قبائل نے بھی اپنے لیے یہ امتیاز قائم کرلیا۔ اس خود ساختہ تقدس کی نفی اور رسم کے خاتمہ کے لیے یہ حکم نازل ہوا کہ ہر کسی کے لیے عرفات جانا لازم اور حج کا حصہ ہے۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفات کو حج کارکن اعظم قرار دیا ہے۔ جو شخص دسویں ذوالحجہ کی صبح تک بھی عرفات نہیں پہنچ سکا باقی مناسک ادا کرنے کے باوجود اس کا حج اد انہیں ہوگا اور اسے دوبارہ حج کرنا پڑے گا۔ [ رواہ أبوداوٗد : کتاب المناسک، باب من لم یدرک عرفۃ ] عرفات میں سمع و اطاعت کا نقطۂ عروج عرفات میں حاضری حج کارکن اعظم ہونے کے باوجود حکم یہ ہے کہ یہاں غروب آفتاب کے فورًا بعد نماز مغرب ادا کیے بغیر مزدلفہ روانہ ہوا جائے۔ مسلمان کی سمع و اطاعت کا اندازہ کیجئے کہ وہ مومن جو نماز کے وقت کا انتظار کیا کرتا تھا اور نماز کا وقت ہوتے ہی ہر تعلق سے لا تعلق ہو کر اس کے قدم مسجد کی طرف اٹھ جایا کرتے تھے ‘ وہ نماز جس کی پابندئ وقت کا حکم ہے : (إِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِےْنَ کِتَابًا مَّوْقُوْتًا۔ ) [ النساء : ١٠٣] ” مومنوں کے لیے نماز کے اوقات مقرر کردیے گئے ہیں۔ “ لیکن مغرب کا وقت ہونے کے باوجود حکم ہوا ہے کہ یہاں نماز پڑھنے کے بجائے یونہی آگے چل دیجئے اور مزدلفہ میں دونوں نمازوں کو ادا کیا جائے۔ ایک لمحہ ٹھہر کے ذرا سوچئے ! کہ بندہ اپنے رب کے حکم کے سامنے کس طرح بےاختیار وبے بس ہے ؟ کہ پہلے بیماری یا کسی مجبوری کے بغیر اس نے ظہر اور عصر جمع کی۔ اور اب مغرب کی نماز پڑھنا تو درکنار یہاں ٹھہرنے کی بھی اجازت نہیں۔ عرفات وہی مقام مقدس ہے کہ جہاں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انسانیت کو دونوں جہاں کی کامیابی کی گارنٹی دیتے ہوئے ایک عالمگیر چارٹر سے متعارف کروایا تھا۔ جس کے چند نکات یہ ہیں : (1) جب تک قرآن وسنت کو تھامے رکھو گے دنیا کی کوئی سازش اور طاقت تمہیں گمراہ نہیں کرسکے گی۔ (2) میں آج کے بعد ہر قسم کی عصبیتوں کو اپنے پاؤں تلے روند تا ہوں۔ (3) معاشی استحاصل کو ختم کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے سود کو حرام قرار دیا اور فرمایا کہ سب سے پہلے میں اپنے چچا کا سود معاف کرتا ہوں۔ وہ اس کے بعد اصل رقم کے بغیر کسی سے ایک دمڑی بھی سود وصول نہیں کرسکتے۔ (4) سابقہ تمام قتل و غارت معاف ہے اور سب سے پہلے اپنے قبیلے کا قتل معاف کرتا ہوں۔ (5) سب انسان برابر ہیں مگر تقو ٰی و کردار کے لحاظ سے فرق برقرار رہے گا۔ اللہ کی قربتیں اسی کو حاصل ہوں گی جو اس کا تقو ٰی اختیار کرے گا۔ مسائل ١۔ اہل حرم اور سب کو عرفات پہنچنا لازم ہے۔ ٢۔ مناسک حج اخلاص اور سنت کے مطابق ادا کرنے چاہییں۔ ٣۔ مانگ کر حج کرنا جائز نہیں۔ ٤۔ اللہ سے معافی مانگنی چاہیے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا نہایت رحیم ہے۔ ٥۔ حج میں تجارت کی جاسکتی ہے۔ حج کا مختصر طریقہ میقات : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ کے چاروں جانب سمندر میں میقات مقرر فرمائے ہیں : ١۔ یلملم (سعدیہ) یہ مکہ سے ٤٥ کلو میٹر کے فاصلے پر جنو بی ایشیاء کے ممالک : پاکستان، افغانستان، بھارت بنگلہ دیش اور چین وغیرہ کا میقات ہے۔ ٢۔ قرن منا زل : مکہ سے عرفات کی طرف ٩٤ کلومیٹر پر اہل نجد اور دوسرے ممالک کے لیے ہے۔ ٣۔ جحفہ : مکہ سے شمال مغرب کی طرف ١٨٧ کلومیٹر کے فاصلے پر شام اور مصر وغیرہ کے لیے ہے۔ ٤۔ ذوالحلیفہ : مکہ معظمہ سے مدینہ کی طرف ٤٥٠ کلومیٹر پر ہے۔ یہ اہل مدینہ کا میقات ہے۔ ٥۔ ذات عرق : مکہ سے شمال مشرق کی طرف ٩٤ کلومیٹر دور ہے اسے ایران ‘ عراق اور شمال مشرق کے مما لک کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ احرام باندھنے کا طریقہ حج یا عمرہ کرنے والے کو میقات پر پہنچ کر احرام باندھنا چاہیے۔ لیکن پاکستان کا میقات یلملم سمندر میں ہے۔ ہوائی جہاز میں احرام باندھنے میں دقّت پیش آتی ہے۔ اس لیے اپنے گھر یا ایئر پورٹ سے احرام باندھ لیا جائے۔ البتہ احرام کی پابندیاں اور تلبیہ میقات پر پہنچ کر شروع کرنا ہوگا۔ احرام سے پہلے ضرورت ہو تو حجامت کروائے ورنہ غسل کے بعد خوشبو لگا کر احرام باندھنا چاہیے احرام کے دو نفل رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت نہیں کیونکہ جب آپ نے احرام باندھا تھا تو فرض نماز کا وقت تھا۔ اس لیے آپ نے مدینہ سے باہر میقات پر احرام کے بعد دو فرض ادا کیے تھے۔ تاہم احرام کے بعداکثر علماء دو نفل جائز سمجھتے ہیں۔ آدمی دو سفید چادروں میں احرام باندھے ایک تہبند اور دوسری کو سر ننگا رکھتے ہوئے اوپر لے۔ دایاں کندھا صرف پہلے طواف کے پہلے تین چکروں میں ننگا رکھنا ہے۔ یہ پہلا طواف عمرہ کا ہو یا حج کا اس سے پہلے یا بعد میں کندھا ننگا رکھنا جائز نہیں۔ کچھ علماء نے جدہ میں پہنچ کر احرام باندھنے کی اجازت دی ہے جس کا حدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔ عورت کا احرام اور مخصوص ایّام عورت اپنے روایتی لباس میں ہی احرام کی نیت کرے گی تاہم اس کے ہاتھ اور چہرہ ننگا ہونا چاہیے۔ مرد ہو یا عورت اسے ایسا جوتا پہننا چاہیے جو ٹخنوں سے نیچے ہو۔ عورت کو غیر محرم کے سامنے آنے پر چہرہ ڈھانپنا چاہیے۔ لیکن نقاب چہرے سے ہٹاہو نا چاہیے۔ اگر عورت کو مخصوص حالت پیش آجائے تو احرام باندھ کر نماز پڑھے بغیر حج کے مناسک ادا کرے۔ اگر یہی حالت رہے تو بیت اللہ کا طواف بھی بعد میں کرنا ہوگا۔ بعض ملکوں میں قومی شناخت کے طور پر عورت کو خصوصی احرام کا پابند کیا گیا ہے یہ پابندی شریعت میں موجود نہیں۔ احرام میں جائز اور ناجائزکام * احرام سے پہلے غسل اور خوشبو لگانا سنت ہے * احرام باندھ لینے کے بعد خوشبو لگانا جائز نہیں * مرد کا احرام دو سفید چادریں ہیں * عورت جس رنگ کا چاہے لباس پہن سکتی ہے مگر شوخ نہ ہو* مرد کا سر 249 چہرہ 249 ہاتھ اور پاؤں ننگے ہونے چاہییں* عورت غیر محرم کے سامنے آنے پر چہرہ ڈھانپے گی* احرام میں چپل پہننے کا رواج پڑگیا ہے ورنہ ایسا جوتا پہنا جاسکتا ہے جو ٹخنوں سے نیچے ہو* احرام میں نہانا، احرام بدلنا یا دھونا جسم یا سر کو کھجلانا بالکل جائز ہے* احرام کی حالت میں مرد کو نفل یا فرض نماز میں سر ڈھانپنے پر دم دینا پڑے گا۔* جان بوجھ کر مکھی، چیونٹی حتیٰ کہ جوئیں تک مارنا حرام ہے۔ ایسے ہی مباشرت اور نکاح جائز نہیں * البتہ سانپ اور بچھو مارا جاسکتا ہے * احرام میں چھتری استعمال کی جاسکتی ہے۔ اقسامِ حج ١۔ حجِ اَفراد : صرف حج کی نیت سے احرام باندھا جائے جس میں عمرہ شامل نہ ہو۔ ٢۔ حج قران : جس میں یہ نیت ہو کہ حج اور عمرہ اکٹھے ادا کیے جائیں گے۔ یہ شخص عمرہ مکمل ہونے کے باوجود احرام نہیں اتار سکتا اسے عمرے والے احرام کے ساتھ ہی حج کرنا ہوگا۔ چاہے حج اور عمرے کے درمیان کتنے دن کیوں نہ ہو۔ ٣۔ حجِ تَمَتُّعْ : تمتع کا معنٰی ہے فائدہ اٹھانا۔ اس میں حج اور عمرہ اکٹھے کیے جاتے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ احرام باندھنے کے مقام (میقات) پر پہنچ کر یہ نیت کی جائے کہ میں صرف عمرہ کا احرام باندھ رہا ہوں۔ عمرہ کرنے کے بعد احرام کھول دوں گا۔ اب یہ شخص آٹھ ذوالحجہ کو دوبارہ مکہ میں جہاں رہ رہا ہے۔ وہاں سے ہی حج کے لیے احرام باندھے گا اسے میقات پر جانے کی ضرورت نہیں۔ حج تمتع اہل حرم کے لیے جائز نہیں۔ حج ایک نظر میں ١۔ میقات پر احرام باندھنا اور تلبیہ کہنا۔ ٢۔ ٨ ذوالحجہ کو منٰی پہنچنا۔ ٣۔ ٩ ذوالحجہ کو عرفات میں قیام کرنا۔ اور ظہر، عصر اکٹھی پڑھنا اور قصد کرنا۔ ٤۔ مغرب و عشاء مزدلفہ میں جمع کرنا اور قصرپڑھنا ‘ رات گزارنا اور ١٠ ذوالحجہ کی صبح طلوع آفتاب کے قریب منٰی روانہ ہونا۔ ٥۔ ١٠ ذوالحجہ کو کنکریاں مارنا قربانی کرنا ‘ حجامت کروانا ‘ اور بیت اللہ کا طواف کر کے واپس منٰی پہنچنا۔ ٦۔ ایّام تشریق میں کنکریاں مارنا۔ ٧۔ ایام تشریق کے دو یا تینوں دن منیٰ میں گزارنا۔ مذکورہ 10 ذو الحجہ کے مناسک کی ادائیگی میں تقدیم و تاخیر ہوجائے تو کوئی گناہ نہیں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

حج مسلمانوں کا ایک عظیم سالانہ اجتماع ہے ۔ اس میں وہ باہم ملتے ہیں ، اسلام کے اس آسرے کے سوا کوئی آسرا نہیں ہوتا ، اسلامی نشانات کے سوا سب نشانات مٹ جاتے ہیں ۔ بدن پر غیر سلے دوکپڑے ، باقی ہر چیز سے عاری ۔ ضروری ستر کے علاوہ سرپاؤں ننگے ، فرد اور فرد کے درمیان کوئی جدائی نہیں ۔ قبیلے اور قبیلے کے درمیان کوئی اختیار نہیں ، قوم اور قوم کے درمیان کوئی جدائی نہیں ، اسلامی نظریہ حیات ہی سب کا عقیدہ ہے ، اسلامی نسب میں سب کا نسب ہے ۔ اسلامی رنگ ہی سب کا رنگ ہے ۔ قریش دور جاہلیت میں اپنے آپ کو ” حمس “ بہادر وغیور کرہتے تھے ۔ انہوں نے اپنے لئے ایسے امتیازات اختیار کئے ہوئے تھے جو انہیں تمام عربوں سے الگ کردیتے تھے ، ان امتیازات میں سے ایک یہ تھا کہ وہ عام عربوں کی طرح عرفات پر ” وقوف عرفہ “ پر ” وقوف “ نہ کیا کرتے تھے ۔ نہ وہ قیام (عرفات) سے لوٹتے تھے جہاں سے تمام لوگ واپس ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ احکام حج میں خصوصی طور پر ان کے لئے حکم نازل ہوا ، اور امتیاز ختم کرکے انہیں اس مساوات کے دائرے کے اندر لے آیا گیا ، جو اسلام پیدا کرنا چاہتا تھا ، چناچہ تمام مصنوعی امتیازات کو ختم کرکے ذی امتیاز قبیلہ قریش کو امت مسلمہ کے اندر ضم کردیا گیا ۔ حکم دیا گیا ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ” اور پھر جہاں سے سب لوگ پلٹتے ہیں وہیں سے پلٹو ، اور اللہ سے معافی چاہو ، یقیناً وہ معاف کرنے والا ہے۔ “ امام بخاری نے ہشام ، اس کے باپ کے واسطہ سے حضرت عائشہ کی یہ حدیث روایت کی ہے۔ فرماتی ہیں !” قریش اور ان کے دین کے پیروکارنہ صرف وہاں رک جاتے تھے ۔ وہ اپنے آپ کو ” حمس “ کہتے تھے جبکہ تمام عرب اقوام عرفات میں ” وقوف “ کرتیں ۔ جب اسلام ظہور پذیر ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ آپ عرفات پر جائیں اور وہاں وقوف فرمائیں اور پھر وہاں سے پلٹیں ۔ یہ ہے مراد اس آیت سے حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ ” جہاں سے لوگ پلٹیں ۔ “ جہاں اور لوگ ٹھہریں وہاں تم بھی ٹھہرو ، جہاں سے اور لوگ پلٹیں وہیں سے تم بھی پلٹو ، اسلام کی نظر میں انساب اور طبقات کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ تمام لوگ ایک ہی امت کے فرد ہیں ۔ بالکل برابر ، ہوں جس طرح کنگھی کے دندانے ۔ کسی کو کسی پر برتری نہیں ۔ سوائے تقویٰ اور خدا خوفی کے ۔ اسلام نے تو حکم دیا ہے کہ وہ عام طور پر رنگارنگ لباس پہنتے ہیں اسے اتار پھینکیں ۔ اللہ کے گھر میں بھائیوں کی طرح سادہ شکل اور عام حیثیت میں آئیں ۔ بھائی بھائی سے برابری کے ساتھ ملے ۔ جب رنگا رنگ کپڑے تک اتروالئے گئے تو قوم ونسب پر فخر کے کیا معنی ؟ چھوڑ دو ، چھوڑ دو جاہلیت کے تمام تعصبات کو ۔ یہ تو ناپاک ہیں ۔ اسلامی رنگ میں رنگ جاؤ۔ اللہ سے مغفرت کے طلب گار بنو۔ جو دوران حج تمہارے دلوں میں کھٹکے ۔ جن کا تم سے ارتکاب ہوگیا ۔ جو غصے میں تمہاری زبان پر آگئیں ۔ اگرچہ معمولی ہوں کیونکہ ان سے تمہیں روکا گیا تھا ، حکم تھا کسہ شہوانی فعل کو سوچو بھی مت۔ کسی بدفعلی ارتکاب نہ ہو اور کسی سے غصے کی بات نہ کرو۔ یوں اسلام ، دوران حج مسلمانوں کے سلوک اور طرز عمل کو درست کردیتا ہے ۔ ایک امت اور ایک ملت کی تصور پر ، جس میں کوئی طبقاتی امتیاز نہ ہو ۔ جس میں کسی قوم اور قوم کے درمیان کوئی فرق نہ ہو ، جس میں لسانی بنیادوں پر لوگوں کے درمیان امتیازات نہ ہوں ۔ جس میں وطن کی بنیاد پر قوم ، قوم سے جدا نہ ہوجاتی ہو ۔ غرض مسلمانوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ ہر چیز سے استغفار پڑھیں جو انہیں اس بلند اور پاکیزہ تصور زندگی سے دور پھینک دیتی ہو۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت عائشہ (رض) نے بیان فرمایا کہ قریش اور وہ لوگ جو ان کے دین پر تھے (بنو عامر، بنو ثقیف، بنو خزاعہ) یہ لوگ زمانہ جاہلیت میں حج کرتے تھے تو عرفات میں نہیں جاتے تھے۔ یہ لوگ مزدلفہ میں ہی ٹھہر جاتے تھے اور وہیں سے واپس ہوجاتے تھے۔ جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم فرمایا کہ عرفات میں پہنچیں، اور وہاں وقوف کریں پھر وہاں سے واپس آئیں۔ (ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاض النَّاسُ ) میں یہی حکم مذکور ہے۔ (صحیح بخاری ص ٦٤٨ ج ١) تفسیر معالم التنزیل ص ١٧٥ ج ١ میں ہے کہ قریش اور ان کے حلفاء اور جو ان کے دین پر تھے مزدلفہ ہی میں ٹھہر جاتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ ہم اللہ والے اور اس حرم کے رہنے والے ہیں۔ لہٰذا ہم حرم کو پیچھے نہ چھوڑیں گے اور حرم سے نہ نکلیں گے۔ وہ اپنے آپ کو اس سے برتر سمجھتے تھے کہ تمام لوگوں کے ساتھ عرفات میں ٹھہریں۔ جب دوسرے قبائل عرفات میں وقوف کرکے واپس آتے تھے تو قریش اور ان کے حلفاء مزدلفہ سے ان سب لوگوں کے ساتھ واپس آجاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ عرفات میں وقوف کریں پھر وہاں سے سب لوگوں کے ساتھ مزدلفہ میں آئیں۔ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی قریشی تھے اس لیے حجتہ الوداع کے موقع پر قریش کو اس میں شک نہ تھا کہ آپ ہماری طرح مزدلفہ ہی میں ٹھہر جائیں گے لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مزدلفہ کو چھوڑتے ہوئے آگے بڑھ گئے یہاں تک کہ عرفات پہنچ گئے۔ (کمافی صحیح مسلم ص ٣٩٧ ج ١) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کے فرمان پر عمل کیا اور سب صحابہ بھی آپ کے ساتھ عرفات پہنچے اور پھر وہاں سے آفتاب غروب ہونے پر واپس ہوئے۔ لفظ ثم جو اس آیت میں وارد ہوا ہے اس کی وجہ سے بعض اہل تفسیر نے یوں کہا ہے کہ مذکورہ بالا آیت میں مزدلفہ سے منیٰ کو واپس ہونے کا ذکر ہے۔ کیونکہ عرفات سے واپس ہونے کا ذکر گزشتہ آیت میں ہوچکا ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ آیت میں تقدیم و تاخیر ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ ثم واؤ کے معنی میں ہے۔ صاحب معالم التنزیل نے یہ تینوں قول لکھے ہیں بظاہر یہ تیسرا قول زیادہ مناسب ہے اور یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ثم ترتیب ذکری کے لیے ہے ترتیب عمل کے لیے نہیں ہے۔ (قال ابن کثیر ص ٢٤٢ ج ١) ثم ھھنا لعطف خبر علی خبر و ترتیبہ علیہ کانہ تعالیٰ امر الواقف بعرفات ان یدفع الی المزدلفۃ لیذکر اللّٰہ تعالیٰ عند المشعر الحرام و امرہ ان یکون وقوفہ مع جمھور الناس بعرفات الخ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

384 قریش نے زمانہ جاہلیت سے اپنے لیے ایک امتیاز قائم کیا ہوا تھا اور وہ یہ تھا کہ یہ لوگ اپنے آپ کو دوسرے لوگوں سے برتر سمجھتے تھے اور حج کے موقع پر مزدلفہ ہی سے واپس آجاتے تھے جبکہ دوسرے تمام لوگ عرفات تک جاتے۔ اور وہاں وقوف کر کے واپس آتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا پھر یہ بات بھی یاد رکھو کہ واپس وہیں سے لوٹا کرو۔ جہاں سے عام لوگ واپس آتے ہیں یعنی عرفات سے اخرج البخاری عن عائشۃ رضیا للہ عنہا قالت کانت قریش ومن دان دینھا یقفوان بالمزدلفۃ وکانوا یسمون الحمس وکانت سائر العرب یقفون بعرفات (روح ص 89 ج 2) اس آیت میں ثُمَّ تعقیب کے لیے ہے یعنی عرفات تک وہاں تک جاؤ اور وہیں سے تمہاری واپسی ہونی چاہئے۔385 اگر مناسک حج کی ادائیگی میں یا موقف کے سلسلے میں کوئی غلطی ہوجائے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ استغفار کرو کیونکہ وہ توبہ کرنے والوں سے رحمت اور مغفرت سے پیش آتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 پھر دیکھو اے قریش اس کا خیال رکھو جہاں سے سب لوگ وقوف کرکے واپس آتے ہیں یعنی عرفات سے تو تم بھی وہیں جاکر وہاں سے لوٹا کرو یہ نہ کیا کرو کہ مزدلفہ ہی میں رہ جایا کرو اور زمانہ جاہلیت میں جو کرتے رہے اس سے توبہ کرو اور آئندہ کے لئے ان رسوم کا ارادہ ترک کردو اگر ایسا کرو گے تو یقین جانو ! اللہ تعالیٰ غفور ہے تمہاری سابقہ خطائوں کو معاف کردے گا اور وہ بڑا رحیم ہے آئندہ تم پر مہربانی کرے گا اور تم کو عمل خیر کی توفیق عطا فرمائے گا۔ (تیسیر) مکہ کے قریش اپنے آپ کو مجاور حرم سمجھتے تھے اس لئے جب حج کو نکلتے تو منا سے چل کر مزدلفہ میں ٹھہر جاتے اور سب لوگوں کے ساتھ عرفات میں نہ جاتے اور کہتے ہم اللہ والے اور حرم کے رہنے والے ہیں ہم حرم سے باہر نہیں جائیں گے اور عام لوگوں کے ساتھ عرفات میں جاکر ٹھہرنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔ مزدلفہ چونکہ حرم میں ہے اور عرفات حرم سے باہر ہے اس لئے قریش عرفات میں نہ جاتے تھے اس لئے ان کو تنبیہ فرمائی کہ حج کے احکام بجا لانے میں مجاور اور غیر مجاور سب برابر ہیں۔ یہ زمانہ جاہلیت کی باتیں ہیں ان سے اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کرو وقوف عرفہ تو حج کا فرض ہے وقوف عرفہ نہ ہوگا تو حج ہی نہ ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ بھی کفر کی غلطی تھی کہ مکہ کے ساکن عرفات تک نہ جاتے کہ عرفات حرم کے باہر ہے حرم کی حد پر کھڑے رہتے سو فرمایا کہ جہاں سے سب لوگ چلیں طواف کو تم بھی چلو اور اگلی تقصیر پر نادم ہو۔ (موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب (رح) کے حاشیہ پر کچھ عرض کرنے کی ضرورت نہیں صرف اتنی بات یاد رکھنی چاہئے کہ جاہلیت اور کفر کی تمام رسوم اس قابل ہیں کہ ان کو ترک کیا جائے اور صرف شریعت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پابندی کی جائے۔