Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 208

سورة البقرة

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ادۡخُلُوۡا فِی السِّلۡمِ کَآفَّۃً ۪ وَ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۲۰۸﴾

O you who have believed, enter into Islam completely [and perfectly] and do not follow the footsteps of Satan. Indeed, he is to you a clear enemy.

ایمان والو !اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کی تابعداری نہ کرو وہ تمہارا کُھلا دشمن ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Entering Islam in its Entirety is obligated Allah says; يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُواْ ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَأفَّةً ... O you who believe! Enter Silm perfectly, Allah commands His servants who believe in Him and have faith in His Messenger to implement all of Islam's legislation and law, to adhere to all of its commandments, as much as they can, and to refrain from all of its prohibitions. Al-Awfi said that Ibn Abbas said, and also Mujahid, Tawus, Ad-Dahhak, Ikrimah, Qatadah, As-Suddi and Ibn Zayd said that Allah's statement: ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ (Enter Silm), means Islam. Allah's statement: كَأفَّةً (...perfectly) means, in its entirety. This is the Tafsir of Ibn Abbas, Mujahid, Abu Al-Aliyah, Ikrimah, Ar-Rabi bin Anas, As-Suddi, Muqatil bin Hayyan, Qatadah and Ad-Dahhak. Mujahid said that the Ayah means, `Perform all the good works and the various pious deeds, this is especially addressed to those from among the People of the Scripture who embraced the faith.' Ibn Abu Hatim reported that Ibn Abbas said that: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُواْ ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَأفَّةً (O you who believe! Enter Silm perfectly), refers to the believers among the People of the Scripture. This is because they believed in Allah; some of them still followed some parts of the Tawrah and the previous revelations. So Allah said: ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَأفَّةً (Enter Islam perfectly). Allah thus commanded them to embrace the legislation of the religion of Muhammad in its entirety and to avoid abandoning any part of it. They should no longer adhere to the Tawrah. Allah then said: ... وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ... ...and follow not the footsteps of Shaytan, meaning, perform the acts of worship and avoid what Satan commands you to do. This is because: إِنَّمَا يَأْمُرُكُم بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَأءِ وَأَن تَقُولُواْ عَلَى اللَّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ He (Shaytan) commands you only what is evil and Fahishah (sinful), and that you should say about Allah what you know not. (2:169) and: إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُواْ مِنْ أَصْحَـبِ السَّعِيرِ He only invites his Hizb (followers) that they may become the dwellers of the blazing Fire. (35:6) Hence, Allah said: ... إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ Verily, he is to you an open enemy. Allah said:

مکمل اطاعت ہی مقصود ہے اللہ تعالیٰ اپنے اوپر ایمان لانے والوں اور اپنے نبی کی تصدیق کرنے والوں سے ارشاد فرماتا ہے کہ وہ کل احکام کو بجا لائیں کل ممنوعات سے بچ جائیں کامل شریعت پر عمل کریں سلم سے مراد سلام ہے اطاعت اور صلح جوئی بھی مراد ہے کافۃ کے معنی سب کے سب پورے پورے پورے ، عکرمہ کا قول ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام اسد بن عبید ثقلیہ وغیرہ جو یہود سے مسلمان ہوئے تھے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گزارش کی ہمیں ہفتہ کے دن کی عزت اور راتوں کے وقت توراۃ پر عمل کرنے کی اجازت دی جائے جس پر یہ آیت اتری کہ اسلامی احکام پر عمل کرتے رہو ، لیکن اس میں حضرت عبداللہ کا نام کچھ ٹھیک نہیں معلوم وہ اعلیٰ عالم تھے اور پورے مسلمان تھے انہیں مکمل طور پر معلوم تھا کہ ہفتہ کے دن کی عزت منسوخ ہو چکی ہے اس کے بجائے اسلامی عید جمعہ کے دن کی مقرر ہو چکی ہے پھر ناممکن ہے کہ وہ ایسی خواہش میں اوروں کا ساتھ دیں ، بعض مفسرین نے کافۃ کو حال کہا ہے یعنی تم سب کے سب اسلام میں داخل ہو جاؤ ، لیکن پہلی بات زیادہ صحیح ہے یعنی اپنی طاقت بھر اسلام کے کل احکام کو مانو ، حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ بعض اہل کتاب باوجود ایمان لانے کے توراۃ کے بعض احکام پر جمے ہوئے تھے ان سے کہا جاتا ہے کہ محمدی دین میں پوری طرح آجاؤ اس کا کوئی عمل نہ چھوڑو توراۃ پر صرف ایمان رکھنا کافی ہے ۔ پھر فرمان ہے کہ اللہ کی اطاعت کرتے رہو شیطان کی نہ مانو وہ تو برائیوں اور بدکاریوں کو اور اللہ پر بہتان باندھنے کو اکساتا ہے اس کی اور اس کے گروہ کی تو خواہش یہ ہے کہ تم جہنمی بن جاؤ وہ تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے ۔ اگر تم دلائل معلوم کرنے کے بعد بھی حق سے ہت جاؤ تو جان رکھو کہ اللہ بھی بدلہ لینے میں غالب ہے نہ اس سے کوئی بھاگ کر بچ سکے نہ اس پر کوئی غالب ہے اپنی پکڑ میں وہ حکیم ہے اپنے امر میں وہ کفار پر غلبہ رکھتا ہے اور عذروحجت کو کاٹ دینے میں حکمت رکھتا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

208 ا۔ 1 اہل ایمان کو کہا جا رہا ہے کہ اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اس طرح نہ کرو جو باتیں تمہاری مصلحتوں اور خواہشات کے مطابق ہوں ان پر تو عمل کرلو دوسرے حکموں کو نظر انداز کردو اس طرح جو دین تم چھوڑ آئے ہو اس کی باتیں اسلام میں شامل کرنے کی کوشش مت کرو بلکہ صرف اسلام کو مکمل طور پر اپناؤ اس سے دین میں بدعات کی بھی نفی کردی گئی اور آجکل کے سیکولر ذہن کی تردید بھی جو اسلام کو مکمل طور پر اپنانے کے لئے تیار نہیں بلکہ دین کو عبادت یعنی مساجد تک محدود کرنا اور سیاست اور ایوان حکومت سے دین کو نکال دینا چاہتے ہیں۔ اس طرح عوام کو بھی سمجھایا جا رہا ہے جو رسوم و رواج اور علاقائی ثقافت و روایات کو پسند کرتے ہیں اور انہیں چھوڑنے کے لئے آمادہ نہیں ہوتے جیسے مرگ اور شادی بیاہ کی کی مسرفانہ اور ہندوانہ رسوم اور دیگر رواج وغیرہ اور یہ کہا جارہا ہے کہ شیطان کے قدموں کی پیروی مت کرو جو تمہیں مذکورہ خلاف اسلام باتوں کے لیے حسین فلسفے تراش کر پیش کرتا ہے برائیوں پر خوش نما غلاف چڑھاتا اور بدعات کو بھی نیکی باور کراتا ہے تاکہ اس کے دام ہم رنگ زمین میں پھنسے رہو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٧٦] یعنی تمہارے عقائد، تمہارے خیالات، تمہارے نظریات، تمہارے علوم، تمہارے طور طریقے تمہارے رسم و رواج اور تمہاری کاروباری زندگی سب کچھ ہی اسلام کے تابع ہونا چاہیے۔ یہ نہ ہونا چاہیے کہ دعویٰ تو اسلام کا کرو اور اپنا معاشی نظام روس سے مستعار لے لو اور سیاسی نظام انگریز سے۔ یا مسجد میں تو تم اللہ کو یاد کرو اور کاروبار کرتے وقت اللہ یاد ہی نہ رہے۔ اور ناجائز طریقوں سے کمائی کرنا شروع کردو یا ڈھنڈورا تو اطاعت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پیٹتے جاؤ اور سب بدعات میں حصے دار بنتے رہو۔ یا لا الہ الا اللہ کا ورد بھی کرتے رہو اور پیروں اور بزرگوں سے استمداد بھی طلب کرتے رہو۔ غرض یہ ہے کہ تمہاری زندگی کا ہر ہر پہلو اسلام کے تابع اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت میں گزرنا چاہیے اور اگر اپنے آپ کو پورے کا پورا اسلام کے تابع نہیں بناؤ گے تو اسی کا نام شیطان کے قدموں کی پیروی ہے جو ہر وقت تمہارے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے، تمہیں غلط اور گمراہ کن عقائد میں مبتلا اور برے کاموں کو خوشنما بنا کر ان پر آمادہ کرنے کے لیے مستعد رہتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

مخلص مومن کی مدح و ستائش کے بعد تمام مومنوں کو حکم ہوتا ہے کہ تم بھی پورے اسلام اور ساری شریعت پر چلو، یہ نہیں کہ اسلام کے کچھ احکام پر عمل کرلیا، باقی چھوڑ دیے۔ نماز روزہ کی پابندی کرلی اور عقیدے میں شرک، تجارت میں سود، عدالتوں میں غیر اللہ کا قانون، معاشرت میں ہندو، نصرانی، یہودی تہذیب اختیار کیے رکھی اور اسے زمانے کا تقاضا اور ترقی پسندی قرار دے لیا۔ یہود کی رسوائی کا باعث بھی یہی طرز عمل تھا، جیسا کہ فرمایا : (اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَتَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ۚ ) [ البقرۃ : ٨٥ ]” پھر کیا تم کتاب کے بعض پر ایمان لاتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو۔ “ اس میں وہ مسلمان بھی شامل ہیں جو کسی دوسرے دین سے نکل کر اسلام میں آئے، مگر انھوں نے اپنے سابقہ دین کی رسوم کو باقی رکھا، جیسے غیر مسلموں کی شادی و مرگ کی رسمیں اور بدعات و رسوم جو سراسر اسلام کے منافی ہیں، یا مسلمان ہو کر بھی انھوں نے اپنے روزمرہ کے پہلے طور طریقوں کو نہ چھوڑا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The previous verses ended with a word of praise for the sincere. As sincerity (ikhlas اخلاص) can sometimes touch the limits of excess inadvertently, that is, one does intend to come up with more obedience, but that obedience, when observed carefully, turns out to be exceeding the limits set by the Shari&ah and Sunnah. This is called bid&ah بدعت . This can be explained through the example of the blessed Companion ` Abdullah ibn Salam (رض) and others who were, previous to their Islam, known scholars among the Jews. Since Saturday was the sacred day of rest (the Sabbath اَسَّبت) in Judaism, and camel-meat was unlawful, they thought, once they were in Islam, to bring about some sort of a synthesis between the two faiths, through which they could continue to honour Sabbath سَبِّت as it was necessary under the law of Moses while Islam did not require dishonouring it; and similarly, they could simply avoid eating camel-meat in practice while believing that it was lawful, for it was unlawful in the law of Moses but Islam does not make it obligatory to eat it. Thus, they thought that they would stay in touch with the law of Moses and still not go against the Shari&ah of Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، something that appealed to them as a stronger demonstration of obedience to divine laws and a closer approach to matters of faith. Allah Almighty corrects this thought in the present verse which aims to establish that Islam is an obligation in its totality. It is total and perfect only when what is not necessary in Islam is not considered to be a part of it. To take such thought or practice as part of the Faith is a Satanic slip which may bring far more severe a punishment than common sins would. It is in this background of the verse&s revelation, that believers have been asked to &enter Islam completely&, not making allowances for a faith other than Islam - a divisive approach which makes one an easy target of Satan. Therefore, the prohibition &do not follow the footsteps of Satan&, an enemy who would cheat you into taking to something which obviously looks very much like your Faith, but happens to be totally contrary to it in reality. After having received clear laws and rules that lead to the straight path, there is no justification left for any deviation. Those who still slip, they must remember that Allah is Mighty, having the power to punish, and Wise too, lest one should misread any delay in punishment which comes when His Wisdom so dictates. Using an eloquent image, the text goes on to question the ultimate acceptance of truth at a time when it shall no longer remain worth accepting and al&_ matters of reward and punishment shall revert to Allah with no power existing other than Him, why then would anyone become quixotic enough to stand against a Power so obvious, the result of which could be nothing but destruction. Commentary The word, سِلم : (silm) in; ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً translated here as &enter Islam completely&, is used to convey two meanings, &peace& and &Islam&. At this place, according to the consensus of the Companions and their successors, it means Islam (Ibn xathir). The word كَافَّة : (kaffah) means &totally& and &universally&. In the structural scheme of the sentence, this word appears as hal (an adverb, qualifying the verb before it with a particular state). There are two possibilities here. Firstly, the word be taken as the hal of the pronoun in (udkhulu ادْخُلُوا) in which case the translation would be referring to the condition of the believers while entering Islam, which must be &complete&. This would mean that their entire person, hands and feet, eyes and ears, feeling and thinking, after having embraced the Faith should all be within the parameters of Islam and the obedience to Allah. This is to warn against a state of being in which one may be physically carrying out the dictates of Islam while the heart and the mind are not fully satisfied, or in case, the heart and the mind are satisfied, yet what one does physically remains outside the pale of Islam. Secondly, it is possible to take the word, silm سِلم as the hal or indicated state of the Faith in Islam, in which case, the translation would be re¬ferring to the perfect and complete state of Islam in which the believ¬ers must enter. So, &entering Islam completely& would mean that one must accept all injunctions of Islam, not that one accepts some and hesitates about others. Since Islam is the name of that particular way of life which has been given through the Qur&an and Sunnah, there-fore, it does not matter, which facet of life it concerns, it may be beliefs and acts of worship or social dealings or business transactions or gov¬ernment and politics or trade and industry or any other field; what matters is one&s entry into Islam as a complete system, an organic whole, unified, indivisible. The gist of the two approaches given above is that no Muslim shall be deserving of calling himself a Muslim unless he accepts all Islamic injunctions truly and sincerely from the deep recesses of his heart, irrespective of the department of life they belong to, irrespective of whether they concern the outward physique of the body or the heart and the mind. The background of the verse&s revelation mentioned earlier in the introductory remarks also shows that one must keep nothing but the teachings of Islam in sight, practice it in its entirety which will, in consequence, make Muslims independent of all religions and nations. Special Note The verse holds out a stern warning to those who have got Islam all tied up with Masjid and ` ibadat عبادت (mosque and the performance of acts of prescribed worship) neglecting injunctions relating to social living and business and personal dealings as if they were no part of religion. This negligence is wide-spread among the &technically& religious people who do not seem to care much about rights and dealings, especially social rights. It appears that they do not regard these injunctions to be the injunctions of Islam, neither do they make an effort to find out what they are, or try to learn them in an orderly manner, nor think of acting in accordance with these injunctions. We seek refuge with Allah. As regards the possibility of &Allah Almighty and the angels coming upon them in canopies of clouds,& this will be on Doomsday. The correct position is that such coming of Allah Almighty belongs to the Mutashabihat متاشابھا ات ، statements of hidden meaning, about which there is a standard policy practiced by the majority of the blessed Companions, the Tabi` in تابعین ، their successors, and the revered elders of the Muslim ummah, that is, one must believe in its truth and avoid worrying about as to how this would happen because it is beyond human reason to find out the reality and the nature, the whats and the hows of the &Being& and the Attributes of Allah Almighty, and this too is included therein.

ربط آیات : اوپر مخلص کی مدح تھی بعض اوقات اس اخلاص میں غلطی سے غلو اور افراط ہوجاتا ہے یعنی قصد تو ہوتا ہے زیادہ اطاعت کا مگر وہ اطاعت بنظر غائر حد شریعت وسنت سے متجاوز ہوتی ہے اس کو بدعت کہتے ہیں، چناچہ حضرت عبداللہ بن سلام وغیرہ جو پہلے علماء یہود سے تھے اور اس مذہب میں ہفتہ کا روز معظم تھا اور اونٹ کا گوشت حرام تھا ان صاحبوں کو بعد اسلام کے یہ خیال ہوا کہ شریعت موسوی میں ہفتہ کی تعظیم واجب تھی اور شریعت محمدی میں اس کی بےتعظیمی واجب نہیں اسی طرح شریعت موسویہ میں اونٹ کا گوشت کھانا حرام تھا اور شریعت محمدی میں اس کا کھانا فرض نہیں سو اگر ہم بدستور ہفتہ کی تعظیم کرتے رہیں اور اونٹ کا گوشت باوجود حلال اعتقاد رکھنے کے صرف عملاً ترک کردیں تو شریعت موسویہ کی بھی رعایت ہوجاوے اور شریعت محمدیہ کے بھی خلاف نہ ہوگا اور اس میں خدا تعالیٰ کی زیادہ اطاعت اور دین کی زیادہ رعایت معلوم ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اس خیال کی اصلاح آیت آئندہ میں کسی قدر اہتمام سے فرماتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ اسلام کامل فرض ہے اور اس کا کامل ہونا جب ہے کہ جو امر اسلام میں قابل رعایت نہ ہو اس کی رعایت دین ہونے کی حیثیت سے نہ کی جاوے اور ایسے امر کو دین سمجھنا ایک شیطانی لغزش ہے اور بہ نسبت ظاہری معاصی کے اس کا عذاب زیادہ سخت ہونے کا خطرہ ہے۔ خلاصہ تفسیر : اے ایمان والو اسلام میں پورے پورے داخل ہو (یہ نہیں کہ کچھ یہودیت کی بھی رعایت کرو) اور ایسے خیالات میں پڑکر) شیطان کے قدم بقدم مت چلو واقعی وہ تمہارا کھلا دشمن ہے (کہ ایسے پٹی پڑھا دیتا ہے کہ ظاہر میں تو سراسر دین معلوم ہو اور فی الحقیقت بالکل دین کے خلاف) پھر اگر تم بعد اس کے کہ تم کو واضح دلیلیں (احکام وشرائع اسلام کی) پہنچ چکی ہیں (پھر بھی صراط مستقیم سے) لغزش کرنے لگو تو یقین رکھو کہ حق تعالیٰ (بڑے) زبردست ہیں (سخت سزا دیں گے اور کچھ دنوں تک سزا نہ دیں تو اس سے دھوکہ مت کھانا کیونکہ وہ) یہ لوگ (جو کہ بعد وضوح دلائل حق کے کج راہی اختیار کرتے ہیں) صرف اس امر کے منتظر ہیں کہ حق تعالیٰ اور فرشتے بادل کے سائبانوں میں ان کے پاس (سزا دینے کے لئے) آویں اور سارا قصہ ہی ختم ہوجاوے (یعنی کیا اس وقت امر حق قبول کریں گے جس وقت کا قبول کرنا مقبول بھی نہ ہوگا) اور یہ سارے (جزاء وسزا کے) مقدمات اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کئے جاویں گے (کوئی دوسرا صاحب اختیار نہ ہوگا سو ایسے زبردست کے ساتھ مخالفت کرنے کا انجام بجز خرابی کے کیا ہوسکتا ہے) معارف و مسائل : اُدْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّةً سلم بالکسر والفتح دو معنی کے لئے استعمال ہوتا ہے ایک صلح دوسرے اسلام اس جگہ جمہور صحابہ وتابعین کے نزدیک اسلام مراد ہے (ابن کثیر) لفظ کافۃ جمیعا اور عامۃ کے معنی میں آتا ہے یہ لفظ اس جگہ ترکیب میں حال واقع ہوا ہے جس میں دو احتمال ہیں ایک یہ کہ ضمیر ادخلوا کا حال قرار دیا جائے دوسرے یہ کہ سلم بمعنی اسلام کا حال ہو پہلی صورت میں ترجمہ یہ ہوگا کہ تم پورے پورے اسلام میں داخل ہوجاؤ یعنی تمہارے ہاتھ پاؤں، آنکھ کان، دل اور دماغ سب کا سب دائرہ اسلام و اطاعت الہہ کے اندر داخل ہونا چاہئے ایسا نہ کہ ہاتھ پاؤں سے تو احکام اسلامیہ بجا لارہے ہو مگر دل و دماغ اس پر مطمئن نہیں یا دل دماغ سے تو اس پر مطمئن ہو مگر ہاتھ پاؤں اور اعضاء وجوارح کا عمل اس سے باہر ہے۔ اور دوسری صورت میں ترجمہ یہ ہوگا کہ تم داخل ہوجاؤ مکمل اور پورے اسلام میں یعنی ایسا نہ ہو کہ اسلام کے بعض احکام کو تو قبول کرو بعض میں پس وپیش رہے اور چونکہ اسلام نام ہے اس مکمل نظام حیات کا جو قرآن وسنت میں بیان ہوا ہے خواہ اس کا تعلق عقائد و عبادات سے ہو یا معاملات ومعاشرت سے حکومت وسیاست سے اس کا تعلق ہو یا تجارت وصنعت وغیرہ سے اسلام کا جو مکمل نظام حیات ہی تم سب اس پورے نظام میں داخل ہوجاؤ۔ خلاصہ دونوں صورتوں کا قریب قریب یہی ہے کہ احکام اسلام خواہ وہ کسی شعبہ زندگی سے متعلق ہوں اور اعضاء ظاہری سے متعلق ہوں یا قلب اور باطن سے ان کا تعلق ہو جب تک ان تمام احکام کو سچے دل سے قبول نہ کرو گے مسلمان کہلانے کے مستحق نہیں ہوگے، اس آیت کا شان نزول جو اوپر ہوا ہے اس کا بھی حاصل یہی ہے کہ صرف اسلام ہی کی تعلیمات تمہارا مطمح نظر ہونا چاہئے اس کو پورا پورا اختیار کرلو تو وہ تمہیں سارے مذاہب وملل سے بےنیاز کردے گا، تنبیہ : اس میں ان لوگوں کے لئے بڑی تنبیہ ہے جہنوں نے اسلام کو صرف مسجد اور عبادات کے ساتھ مخصوص کر رکھا ہے معاملات اور معاشرت کے احکام کو گویا دین کا جزء ہی نہیں سمجھتے اصطلاحی دینداروں میں یہ غفلت عام ہے حقوق و معاملات اور خصوصا حقوق معاشرت سے بالکل بیگانہ ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان احکام کو وہ اسلام کے احکام ہی یقین نہیں کرتے نہ ان کے معلوم کرنے یا سیکھنے کا اہتمام کرتے ہیں نہ ان پر عمل کرنے کا نعوذ باللہ کم ازکم مختصر رسالہ آداب معاشرت حضرت سیدی حکیم الامت کا ہر مسلمان مرد و عورت کو ضرور پڑھ لینا چاہئے، اور یہ واقعہ کہ اللہ تعالیٰ اور فرشتے بادل کے سائبانوں میں ان کے پاس آجائیں قیامت میں پیش آئے گا اور اللہ تعالیٰ کا اس طرح آنا متشابہات میں سے ہے جس کے متعلق جمہور صحابہ وتابعین اور اسلاف امت کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے مضمون کے حق و صحیح ہونے کا اعتقاد و یقین رکھے اور کیفیت کہ کس طرح یہ کام ہوگا اس کی دریافت کی فکر میں نہ پڑے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات اور تمام صفات کی حقیقت اور کیفیت کا معلوم کرنا انسان کی عقل سے بالاتر ہے یہ بھی اسی میں داخل ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّۃً۝ ٠ ۠ وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ۝ ٠ ۭ اِنَّہٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ۝ ٢٠٨ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ سِّلْمُ صلح والسَّلَامُ والسِّلْمُ والسَّلَمُ : الصّلح قال : وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقى إِلَيْكُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِناً [ النساء/ 94] ، وقیل : نزلت فيمن قتل بعد إقراره بالإسلام ومطالبته بالصّلح وقوله تعالی: يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً [ البقرة/ 208] ، وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ [ الأنفال/ 61] ، وقرئ لِلسَّلْمِ بالفتح، وقرئ : وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ وقال : يُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ وَهُمْ سالِمُونَ [ القلم/ 43] ، أي : مُسْتَسْلِمُونَ ، وقوله : ورجلا سالما لرجل وقرئ سلما و ( سَلَماً ) وهما مصدران، ولیسا بوصفین کحسن ونکد . يقول : سَلِمَ سَلَماً وسِلْماً ، وربح ربحا وربحا . وقیل : السِّلْمُ اسم بإزاء حرب، السلام والسلم والسلم کے معنی صلح کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا ۔ وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقى إِلَيْكُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِناً«1» [ النساء/ 94] جو شخص تم سے سلام علیک کہے اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت اس شخص کے حق میں نازل ہوئی ہے جسے باوجود اظہار اسلام اور طلب صلح کے قتل کردیا گیا تھا اور فرمایا : يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً [ البقرة/ 208] مؤمنوں اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ ۔ وَإِنْ جَنَحُوا لِلسِّلْمِ [ الأنفال/ 61] اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں ۔ اس میں ایک قرآت سلم ( بفتحہ سین ) بھی ہے ۔ وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ «4»اور اس دن خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے ۔ يُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ وَهُمْ سالِمُونَ [ القلم/ 43] ( اس وقت ) سجدے کے لئے بلائے جاتے تھے ۔ جب صحیح وسالم تھے ۔ اور آیت کریمہ :۔ ورجلا سالما لرجل «5»اور ایک آدمی خاص ایک شخص کا ( غلام ) ہے ۔ میں ایک قراءت سلما وسلم ا بھی ہے اور یہ دونوں مصدر ہیں اور حسن و نکد کی طرح صفت کے صیغے نہیں ہیں کہا جاتا ہے ۔ سلم سلما و سلما جیسے ربح ربحا و ربحا اور بعض نے کہا ہے کہ سلم اسم ہے اور اس کی ضد حرب ہے ۔ كف الْكَفُّ : كَفُّ الإنسان، وهي ما بها يقبض ويبسط، وكَفَفْتُهُ : أصبت كَفَّهُ ، وكَفَفْتُهُ : أصبته بالکفّ ودفعته بها . وتعورف الکفّ بالدّفع علی أيّ وجه کان، بالکفّ کان أو غيرها حتی قيل : رجل مَكْفُوفٌ لمن قبض بصره، وقوله تعالی: وَما أَرْسَلْناكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ [ سبأ/ 28] أي : كافّا لهم عن المعاصي، والهاء فيه للمبالغة کقولهم : راوية، وعلّامة، ونسّابة، وقوله : وَقاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَما يُقاتِلُونَكُمْ كَافَّةً [ التوبة/ 36] قيل : معناه : كَافِّينَ لهم كما يقاتلونکم کافّين «2» ، وقیل : معناه جماعة كما يقاتلونکم جماعة، وذلک أن الجماعة يقال لهم الکافّة، كما يقال لهم الوازعة لقوّتهم باجتماعهم، وعلی هذا قوله : يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً [ البقرة/ 208] ، وقوله : فَأَصْبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيْهِ عَلى ما أَنْفَقَ فِيها[ الكهف/ 42] فإشارة إلى حال النادم وما يتعاطاه في حال ندمه . وتَكَفَّفَ الرّجل : إذا مدّ يده سائلا، واسْتَكَفَّ : إذا مدّ كفّه سائلا أو دافعا، واسْتَكَفَّ الشمس : دفعها بكفّه، وهو أن يضع کفّه علی حاجبه مستظلّا من الشمس ليرى ما يطلبه، وكِفَّةُ المیزان تشبيه بالکفّ في كفّها ما يوزن بها، وکذا كِفَّةُ الحبالة، وكَفَّفْتُ الثوب : إذا خطت نواحيه بعد الخیاطة الأولی. ( ک ف ف ) الکف کے معنی ہاتھ کی ہتھیلی کے ہیں جس کے ساتھ انسان چیزوں کو اکٹھا کرتا اور پھیلا تا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَأَصْبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيْهِ عَلى ما أَنْفَقَ فِيها[ الكهف/ 42] تو جو مالی اس نے اس پر خرچ کیا تھا اس پر حسرت سے ہاتھ ملنے لگا ۔ الکف کے معنی ہاتھ کی ہتھلی کے ہیں جس کے ساتھ انسان چیزوں کو اکٹھا کرتا اور پھیلا تا ہے ۔ کففتہ کے اصل معنی کسی کی ہتھیلیپر مارنے یا کسی کو ہتھلی کے ساتھ مار کر دو ر ہٹا نے اور روکنے کے ہیں پھر عرف میں دور ہٹانے اور روکنے کے معنی میں استعمال ہونے لگانے خواہ ہتھلی سے ہو یا کسی اور چیز سے رجل مکفو ف البصر جس کی مینائی جاتی رہی ہو ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَما أَرْسَلْناكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ [ سبأ/ 28] اور ( اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) ہم نے تم کو گناہوں سے روکنے والا بنا کر بھیجا ہے ۔ میں کافۃ کے معنی لوگوں کو گناہوں سے روکنے والا کے ہیں ۔ اس میں ہا مبالغہ کے لئے ہے ۔ جیسا کہ روایۃ وعلامۃ اور نشابۃ میں ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَقاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَما يُقاتِلُونَكُمْ كَافَّةً [ التوبة/ 36] اور تم سب کے سب مشرکون سے لڑو جیسے وہسب کے سب تم سے لڑتے ہیں میں بعض نے دونوں جگہوں میں کا فۃ کے معنیکا فین یعنی روکنے والے کیے ہیں ۔ اور بعض نے یہ معنی کیا ہے ۔ کہ جماعۃ یعنی اجتماعی قوت کی وجہ سے اسے کافۃ بھی کہا جاتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً [ البقرة/ 208] مومنوں اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ میں بھی کافۃ بمعنی جماعت ہی ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَأَصْبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيْهِ عَلى ما أَنْفَقَ فِيها[ الكهف/ 42] تو جو مالی اس نے اس پر خرچ کیا تھا اس پر حسرت سے ہاتھ ملنے لگا ۔ پشمان ہونے والے کی حالت کی طرف اشارہ ہے ۔ کیونکہ انسان پشمانی کی حالت میں ہاتھ ملتا ہے ۔ تکفف الرجل سوال کے لئے ہاتھ پھیلانا استکف سوال یا مدافعت کیلئے ہاتھ پھیلانا استکف الشمس ہتھلی کے ذریعہ دھوپ کو دفع کرتا اور وہ اس طرح کہ دھوپ کی شعا عوں کو روکنے کے لئے ابرؤں پر بطور سایہ ہاتھ رکھ لے تاکہ جس چیز کو دیکھنا مطلوب ہو آسانی سے دیکھی جا سکے ۔ کفۃ المیزان ترازو کا پلڑا ۔ کیونکہ وہ بھی موزوں چیز کو روک لینے میں ہتھیلی کے مشابہ ہوتا ہے ۔ ایسے ہی کفۃ الحبالۃ ہے جس کے معنی شکاری کے پھندا کے ہیں ۔ کففت التوب ۔ کچی سلائی کے بعد کپڑے کے اطراف کو سینا ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے خطو خَطَوْتُ أَخْطُو خَطْوَةً ، أي : مرّة، والخُطْوَة ما بين القدمین قال تعالی: وَلا تَتَّبِعُوا خُطُواتِ الشَّيْطانِ [ البقرة/ 168] ، أي : لا تتّبعوه، وذلک نحو قوله : وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى [ ص/ 26] . ( ح ط و ) خطوت آخطوۃ کے معنی چلنے کے لئے قدم اٹھانے کے ہیں خطوۃ ایک بار قدم اٹھانا الخطوۃ کی جمع خطوت اتی ہے ۔ قرآن میں ہے ولا تَتَّبِعُوا خُطُواتِ الشَّيْطانِ [ البقرة/ 168] اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو ۔ یعنی شیطان کی اتباع نہ کرو ۔ اور یہ آیت کریمہ : وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى [ ص/ 26] اور خواہش کی کی طرح ہے ۔ شطن الشَّيْطَانُ النون فيه أصليّة «3» ، وهو من : شَطَنَ أي : تباعد، ومنه : بئر شَطُونٌ ، وشَطَنَتِ الدّار، وغربة شَطُونٌ ، وقیل : بل النون فيه زائدة، من : شَاطَ يَشِيطُ : احترق غضبا، فَالشَّيْطَانُ مخلوق من النار کما دلّ عليه قوله تعالی: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15]: الشّيطان اسم لكلّ عارم من الجنّ والإنس والحیوانات . قال تعالی: شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] ( ش ط ن ) الشیطان اس میں نون اصلی ہے اور یہ شطن سے مشتق ہے جس کے معنی دور ہونیکے ہیں اور بئر شطون ( بہت گہرا کنوآں ) شطنت الدار ۔ گھر کا دور ہونا غربۃ شطون ( بطن سے دوری ) وغیرہ محاوارت اسی سے مشتق ہیں بعض نے کہا ہے کہ لفظ شیطان میں نون زائدہ ہے اور یہ شاط یشیط سے مشتق ہے جس کے معنی غصہ سے سوختہ ہوجانے کے ہیں ۔ اور شیطان کو بھی شیطان اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ آگ سے پیدا ہوا ہے جیسا کہ آیت : ۔ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15] اور جنات کو آگ کے شعلہ سے پیدا کیا ۔ سے معلوم ہوتا ہے ۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ شیطان ہر سر کش کو کہتے ہیں خواہ وہ جن وانس سے ہو یا دیگر حیوانات سے ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] شیطان ( سیرت ) انسانوں اور جنوں کو عدو العَدُوُّ : التّجاوز ومنافاة الالتئام، فتارة يعتبر بالقلب، فيقال له : العَدَاوَةُ والمُعَادَاةُ ، وتارة بالمشي، فيقال له : العَدْوُ ، وتارة في الإخلال بالعدالة في المعاملة، فيقال له : العُدْوَانُ والعَدْوُ. قال تعالی: فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 108] ، وتارة بأجزاء المقرّ ، فيقال له : العَدْوَاءُ. يقال : مکان ذو عَدْوَاءَ أي : غير متلائم الأجزاء . فمن المُعَادَاةِ يقال : رجلٌ عَدُوٌّ ، وقومٌ عَدُوٌّ. قال تعالی: بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ طه/ 123] ( ع د و ) العدو کے معنی حد سے بڑھنے اور باہم ہم آہنگی نہ ہونا ہیں اگر اس کا تعلق دل کی کیفیت سے ہو تو یہ عداوۃ اور معاداۃ کہلاتی ہے اور اگر رفتار سے ہو تو اسے عدو کہا جاتا ہے اور اگر عدل و انصاف میں خلل اندازی کی صورت میں ہو تو اسے عدوان اور عدو کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 108] کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بےسمجھے برا نہ کہہ بیٹھیں ۔ اور اگر اس کا تعلق کسی جگہ کے اجزاء کے ساتھ ہو تو اسے عدواء کہہ دیتے ہیں جیسے مکان ذوعدوء ناہموار مقام چناچہ معاداۃ سے اشتقاق کے ساتھ کہا جاتا ہے رجل عدو وقوم عدو اور یہ واحد جمع دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ طه/ 123] اب سے تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٠٨) مومنو ! پورے طور پر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین میں داخل ہوجاؤ ہفتہ اور اونٹ کے گوشت کی حرمت وغیرہ میں شیطان کی جعل سازی میں مت آؤ وہ تمہارا کھلا ہوا دشنمن ہے۔ س شان نزول : (آیت) ” یا ایھا الذین امنوا “۔ (الخ) ابن جریر (رح) نے عکرمہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام (رض) اور ثعلبہ (رض) ابن یامین (رض) اسد بن کعب (رض) اسید بن کعب (رض) سعید بن عمرو (رض) اور قیس بن زید (رض) اہل کتاب میں سے ان سب حضرات نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا ! یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہفتہ کے دن کی ہم تعظیم کرتے ہیں ہمیں اس کی تعظیم کی اجازت دیجئے اور توریت بھی اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے ہمیں رات کو اس پر عمل کرنے کی اجازت دیجیے، اس پر یہ آیت مبارکہ اتری کہ ” اے ایمان والواسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ۔ “ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٠٨ (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص) اہل ایمان سے اب وہ بات کہی جا رہی ہے جس کا معکوس (converse) ہم بنی اسرائیل سے خطاب کے ذیل میں (آیت ٨٥ میں) پڑھ چکے ہیں : (اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍج فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ الاَّ خِزْیٌ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ الآی اَشَدِّ الْعَذَابِ ط) کیا تم ہماری کتاب (اور دین و شریعت) کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک کو ردّ کردیتے ہو ؟ سو جو کوئی بھی تم میں سے یہ روش اختیار کریں ان کی کوئی سزا اس کے سوا نہیں ہے کہ دنیا میں ذلت ‘ و خواری ان پر مسلط کردی جائے اور قیامت کے دن ان کو شدید ترین عذاب میں جھونک دیاجائے۔ ّ اب مثبت پیرائے میں مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ اللہ کی اطاعت میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ تحفظات (reservations) اور استثناء ات (exceptions) کے ساتھ نہیں۔ یہ طرز عمل نہ ہو کہ اللہ کی بندگی تو کرنی ہے ‘ مگر فلاں معاملے میں نہیں۔ اللہ کا حکم تو ماننا ہے لیکن یہ حکم میں نہیں مان سکتا۔ اللہ کے احکام میں سے کسی ایک کی نفی سے کل کی نفی ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ جزوی اطاعت قبول نہیں کرتا۔ (وََلاَ تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ ط) (اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ )

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

226. God demands that man should submit, without reservation, the whole of his being to His will. Man's outlook, intellectual pursuits, behaviour, interaction with other people and modes of endeavour should all be completely subordinate to Islam. God does not accept the splitting up of human life into separate compartments, some governed by the teachings of Islam and others exempt.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :226 یعنی کسی استثنا کے بغیر اپنی پوری زندگی کو اسلام کے تحت لے آؤ ۔ تمہارے خیالات ، تمہارے نظریات ، تمہارے علوم ، تمہارے طور طریقے ، تمہارے معاملات ، اور تمہاری سعی و عمل کے راستے سب کے سب بالکل تابع اسلام ہوں ۔ ایسا نہ ہو کہ تم اپنی زندگی کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے بعض حصوں میں اسلام کی پیروی کرو اور بعض حصوں کو اس کی پیروی سے مستثنیٰ کرلو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(208 ۔ 209) ۔ بعض اہل کتاب جو اسلا لے آئے تھے انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک دن عرض کیا کہ اگر آپ اجازت دے دیں تو ہمارا جی چاہتا ہے کہ جس طرح ہفتہ کے دن کی تعظیم ہم لوگ یہود ہو کر ادا کیا کرتے تھے ایک رات ہم پھر وہ رسم ادا کرلیں اور رات تورات کی چند آیتوں کے موافق عمل کرنے کا ہمارے دین میں حکم تھا وہ بھی بجا لائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ ناسخ حکم کے معلوم ہوجانے کے بعد منسوخ حکم پر عمل کرنے کا خیال دل میں لانا شیطان کی پیروی ہے اللہ کے حکم کی پیروی نہیں ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ سِلْمُ کے معنی اس آیت میں اسلام کے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:208) فی السلم۔ اسلام۔ اسم ہے مذکر مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ کافۃ۔ ادخلوا فی السلم کے فاعل سے حال ہے۔ اسم فاعل مفرد ہے۔ مؤنث منصوب ۔ کاف مذکر۔ کا فات جمع کف مادہ ومصدر۔ دفع کرنا۔ اسم فاعل مفرد مذکر منصوب بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں ۃ علامت مبالغہ ہے یہ تنقیح لفظی ساخت کی ہے۔ استعمال میں کافۃ ہمیشہ حال منصوب اور نکرہ آتا ہے جس کے معنی ہیں سب کے سب پورے کے پورے۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے۔ وقاتلوا المشرکین کافۃ (9:36) تم سب کے سب کافروں سے لڑو۔ اور وما ارسلنک الا کافۃ للناس (34:27) اور ہم نے تم کو سب لوگوں کے لئے بھیجا ہے۔ ولا تتبعوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم اتباع مت کرو۔ تم پیروی نہ کرو۔ تم نقش قدم پر مت چلو۔ خطوت الشیطن۔ مضاف مضاف الیہ۔ شیطان کے قدم۔ مبین۔ ظاہر۔ صریح۔ کھلا ہوا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 مومن مخلص کی مدح و ستائش کے بعد تمام مومنوں کو حکم ہوتا ہے کہ تم بھی پورے اسلام اور ساری شریعت پر چلو۔ اس آتی کا نزر ان اہل کتاب کے بارے میں ہوا ہے جو مسلمان ہونے کے بعد بھی خود ساختہ بد عات اومحد ثات پر عمل پیرا رہنا چاہتے تھے۔ (شوکانی۔ ترجمان) ان کو متنبہ کیا کہ اسلام قبول کرلینے کے بع اب زندگی کے دوسرے فلسفوں کو چھوڑ کر عقائد و اعمال اور اخلاق و معاشرت کے باب میں السلم یعنی اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا پڑے گا اور اس سے کسی طور انحراف بھی شیطان کے نقش قدم پر چلنا ہے۔ گمراہی کا سر چشمہ یا تو روشن خیالی اور جدت پسندی ہے اور یا پھر توہم پرستی اور اہل تصوف کی بد عات ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 208 تا 210 السلم (سلامتی ) ۔ کافۃ (پوری طرح۔ پورے پورے) ۔ زللتم (تم بھٹک گئے) ۔ ظلل (سائے (ظل، سایہ) ۔ قضی (فیصلہ کردیا) ۔ الامر (کام، حکم ) ۔ ترجع (لوٹائے جائیں گے) ۔ الامور (تمام کام (الامر، کام) ۔ تشریح : آیت نمبر 208 تا 210 دین اسلام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایک مکمل نظام زندگی ہے اور دنیا کے تمام نظاموں اور ازموں میں ایک امتیازی شان رکھتا ہے۔ قرآن کریم کے ابدی اصولوں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنتوں اور ارشادات نے زندگی کے ہر شعبہ میں کامل رہنمائی فرمائی ہے۔ عقائد، عبادات ، معاملات، معاشرت ، معیشت ، حکومت ، سیاست ، تجارت، زراعت ، صنعت و حرفت غرض یہ کہ زندگی کے ایک ایک پہلو میں مکمل رہنمائی فرمائی ہے۔ جب اسلام ایک مکمل دین اور زندگی کا مکمل نظام ہے تو اسلام اپنی امتیازی شان کی وجہ سے اپنے ماننے والوں کو ان تمام طریقوں کو چھوڑ دینے کی تاکید کرتا ہے جس سے کسی بھی طرح دوسری قوموں کی مشابہت پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔ مثلاً عبادات میں یہ امتیاز ہے کہ سورج نکلنے ڈوبنے اور استویٰ کے وقت (زوال کے وقت) دوسری قومیں سورج کو سجدہ کرتی ہیں اس لئے فرمایا کہ تم ان اوقات میں سجدہ نہ کرو۔ یہودی دس محرم کو روزہ رکھ کر خوشی مناتے تھے آپ نے فرمایا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مصر سے خروج کی خوشی میں تم بھی دس محرم کو روزے رکھو۔ یہودی عید کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں روزہ رکھنا حرام ہے۔ اسی طرح معاملات میں دوسری قومیں، حلال و حرام ، جائز و ناجائز کی پرواہ نہیں کرتیں مگر مسلمانوں کو فرمایا گیا کہ تم اپنی ایک ایک بات پر نظر رکھو کہ وہ رزق حلال ہو رزق حرام نہ ہو ورنہ تمہاری زندگی کی برکتیں اٹھالی جائیں گی بہرحال زندگی کا کوئی شعبہ ہو اس میں اس امتیاز کو قائم رکھنے کی تاکید ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی اس کا انجام بھی ان ہی لوگوں کے ساتھ ہوگا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اسلام اپنی عبادات ، معاملات اور زندگی کے ہر انداز میں یہ چاہتا ہے کہ جو شخص بھی اسلام قبول کرتا ہے تو وہ پورے طور سے اس کو قبول کرے اسی میں اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ حضرت عبد اللہ ابن سلام (رض) اسلام قبول کرنے سے پہلے یہودیوں کے ایک بڑے عالم تھے، انہوں نے اور چند صحابہ کرام (رض) نے یہ چاہا کہ اگر ہم شریعت موسویہ پر عمل کرتے ہوئے ہفتہ کے دن کی تعظیم اور اونٹ کے گوشت کو حرام سمجھتے رہیں تو اس کیا حرج ہے۔ اس پر تین آیتیں نازل ہوئیں کہ اے مومنو تم نے جب اسلام کا دامن تھام لیا ہے تو اب اس میں پورے پورے داخل ہوجاؤ سابقہ شریعتوں کی طرف نہ دیکھو ورنہ اس سے تو فتنوں کا دروازہ کھل جائے گا ۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : منافق اور سب لوگوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ اپنی سوچ اور کردار کو کلی طور پر دائرہ اسلام میں داخل کرو یہی سلامتی کا راستہ اور شیطان کی پیروی سے محفوظ رہنے کا طریقہ ہے۔ اس کے سوا گمراہی ہے۔ اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام (رض) جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت مدینہ کے معًا بعد مسلمان ہوئے تھے۔ انہوں نے ایک مجلس میں ان خیالات کا اظہار کیا کہ کیا حرج ہے اگر ہم ہفتہ کے دن کی تعظیم کریں اور اونٹ کا گوشت کھانا چھوڑ دیں ؟ اس طرح ہمارے اور یہودیوں کے درمیان مفاہمت کی فضا پید اہوسکتی ہے۔ اس صورت حال پر یہ حکم نازل ہوا کہ اے مسلمانو ! لوگوں کے دباؤ یا مفاہمت کے جذبہ کی خاطر باطل نظریات کی پاسداری کرنے کے بجائے دین اسلام میں کامل اور مکمل طور پر داخل ہوجاؤ۔ یہ تمہاری زندگی کے تمام تقاضے پورے کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور اور تمہارے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ لہٰذا تمہاری معاشرت، معیشت، سیاست ‘ جلوت و خلوت اور انفرادی اجتماعی زندگی کا ماحول اسلامی نظریۂ حیات کے مطابق ہونا چاہیے۔ اگر تم اسلام میں داخل ہو کر من مرضی اور خود غرضی کا مظاہرہ کرو اور اسلام کے ساتھ باطل نظریات کی پیوند کاری کا سوچو گے تو یہ اللہ کی تابعداری نہیں بلکہ شیطان کی اتباع تصور ہوگی۔ شیطان تمہارا ابدی، ازلی اور کھلا دشمن ہے۔ ایسے دشمن سے خیر کی توقع رکھنے والا کبھی خیر نہیں پاسکتا۔ تمہاری ہر قسم کی سلامتی اور دنیا وآخرت کی بھلائی اسلام میں مضمر ہے۔ کیونکہ اسلام کا نام اور پیغام ہر قسم کی سلامتی کا ضامن ہے۔ اگر تم واضح ہدایات کے باوجود سلامتی کے اس راستے سے ہٹ گئے تو یاد رکھو اللہ تعالیٰ اپنے دین کو غالب کرنے والا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اپنی قوت اور طاقت کے ذریعے منکروں کو حلقۂ اسلام میں داخل کرسکتا تھا۔ لیکن اس کے ہر کام میں حکمت اور دانائی پنہاں ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ ہدایت کا معاملہ جبر کی بجائے لوگوں کے فہم و شعور اور مرضی پر چھوڑ دیا جائے۔ جن لوگوں کو تم راضی کرنے کے درپے ہو ان کے پاس ہر قسم کے دلائل آچکے ہیں۔ اب تو یہ اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ بذات خود ملائکہ کا لشکر لے کر بادلوں کے سایہ میں ان کے سامنے جلوہ گر ہو اور انہیں اسلام کی دعوت دے۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب اللہ تعالیٰ فرشتوں کو کسی کام کے فیصلے کے لیے بھیجتے ہیں تو پھر نہ اس میں تاخیر ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے فیصلے کے سامنے کوئی دم مار سکتا ہے۔ قوم نوح ‘ قوم لوط اور قوم عادو ثمود کی بستیاں اور علاقے زبان حال سے بول بول کر اس حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں کہ اللہ کی نافرمانی کرنے والو ہمیں نگاہ عبرت سے دیکھو کہ ہمارا انجام کیا ہوا ؟ ایسے لوگوں کو جلد بازی کے بجائے انتظار کرنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اقتدار اختیار سے کوئی چیز باہر نہیں ہے۔ بالآخر سب کچھ اسی کے حضور پیش ہونے والا ہے۔ مسائل ١۔ اسلام میں کامل طور پر داخل ہونا چاہیے۔ ٢۔ اسلام سے باہر اٹھنے والا قدم شیطان کی اتباع تصور ہوگا۔ ٣۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ غالب اور اس کے کاموں میں حکمت پنہاں ہوتی ہے۔ ٥۔ ہدایت کے بعد گمراہ ہونے والوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ ٦۔ فیصلے کا اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور سب کچھ اسکے حضور پیش ہونے والا ہے۔ ٧۔ ملائکہ اللہ کے حکم کے مطابق کاروائی کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ ہی مختار کل ہے : ١۔ ہر کام اللہ کے سپرد کرنا چاہیے۔ (البقرۃ : ٢١٠) ٢۔ ہر کام کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے۔ (الحج : ٤١) ٣۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ (البروج : ١٦) ٤۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرہ : ٢٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اہل ایمان کو بلایا جاتا ہے ایمان کے لقب کے ساتھ جو انہیں بہت ہی پیاری ہے ، جو انہیں امتیاز بخشتی ہے ۔ انہوں اوروں سے ممتاز بناتی ہے۔ جو ان کے اور ان کے پکارنے والے ، ان کے اپنے رب کے درمیان واحد رابطہ ہے ۔ اہل ایمان کو پکار کر دعوت دی جاتی ہے کہ پورے پورے اسلام میں آجاؤ ! اس دعوت کا پہلا اور ابتدائی مفہوم یہ ہے کہ اہل ایمان کلیتاً اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردیں۔ اور ان کا پورا وجود ، اپنے چھوٹے اور بڑے سے بڑے معاملے میں ، اللہ کے لئے ہوجائے ۔ ان کے تصور اور ان کے شعور ، ان کی نیت اور ان کے عمل ، ان کی خواہش اور ان کی قناعت کا کوئی حصہ بھی آزاد نہ رہ جائے ۔ وہ پورے کے پورے اسلام میں آجائیں ۔ پورے کے پورے اللہ کے تابع ہوجائیں ۔ اور ہر معاملے میں اللہ کے ہوں اور اللہ کے فیصلے پر راضی ہوں ۔ وہ اپنی لگام اس ہاتھ میں ، مکمل یقین و اطمینان کے ساتھ تھمادیں جو ان کی قیادت کررہا ہے ۔ اور انہیں پورا یقین ہو کہ ان کا قائد بھلائی خیر خواہی اور صحیح راہنمائی کے سوا کچھ بھی نہیں چاہتا ۔ وہ اطمینان کرلیں کہ جس راہ پر وہ گامزن ہیں ، جس منزل کی طرف وہ رواں دواں ہیں وہی حق ہے اور اسی میں دنیا وآخرت کی فلاح ہے۔ اس مرحلے پر ، اہل ایمان کو مکمل تسلیم کی دعوت دینے سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ ابھی تک مسلمانوں کی صفوں میں ایسے لوگ پائے جاتے تھے جن کے دلوں میں تردد تھا ، خلجان تھا جو ابھی تک اس بات پر مطمئن نہ تھے کہ انہوں نے ظاہراً اور باطناً ہر طرح سے پوری پوری اطاعت کرنی ہے ۔ اور یہ کوئی اچھنبے کی بات بھی نہیں ہے ۔ تحریکات میں ایک طرف اگر مطمئن ، پختہ کار اور مطیع فرمان لوگ ہوتے ہیں ، تو ساتھ ساتھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن میں کمزوریاں ہوتی ہیں ۔ یہ پکار اور یہ دعوت ایسی ہے جو ہر وقت اہل ایمان کو دی جاتی رہے گی کہ وہ مخلص ہوجائیں ، یکسو ہوجائیں ۔ ان کے دل کی دھڑکنیں ، ان کے شعور اور میلانات اللہ کے حکم اور اللہ کے ارادے سے ہم آہنگ ہوجائیں ۔ وہ اللہ کے ہوجائیں جو انہیں ان کے نبی اور ان کے اپنے نظام کی طرف لے جاتا ہے ، بغیر کسی تردد ، بغیر کسی خلجان کے اور پوری یکسوئی کے ساتھ۔ اور ایک مومن جب اس دعوت کو قبول کرتا ہے ، شرح صدر کے ساتھ اور پورے طور پر ، تو وہ ایک ایسی دنیا میں قدم رکھتا ہے ، جو امن کی دنیا ہے ، جو سلامتی کی دنیا ہے۔ وہ ایک ایسے جہاں میں داخل ہوجاتا ہے جو اطمینان کا جہاں ہے ۔ جو رضا اور سکون کا جہاں ہے ، وہ ایک ایسے عالم میں جاپہنچتا ہے جس میں نہ حیرانی ہے نہ پریشانی ، جس میں فساد ہے نہ گمراہی جہاں ہر شخص اور ہر ذی روح کے ساتھ بن پڑتی ہے ۔ جہاں وجود اور موجودات کے ساتھ ہم آہنگی ہوتی ہے ۔ جہاں نفس انسانی کے خفیہ ترین اور پوشیدہ ترین گوشوں میں بھی سکون ہے اور انسان کی ظاہری اور اجتماعی زندگی میں سکون ہے ۔ ایسا عالم ، جس کی زمین میں امن و سکون اور جس کے ایمان پر بھی اطمینان وقرار۔ اس سلامتی کا قلب مومن پر پہلا اثر یہ ہوتا ہے کہ اسے اپنے اللہ اور اپنے رب کے بارے میں ایک صحیح تصور ملتا ہے ۔ یہ تصور خالص بھی ہے اور ستھرا بھی ۔ یہ کہ وہ واحد معبود ہے صرف اسی کی طرف مومن متوجہ ہوتا ہے اور وہی اس کا قبلہ ہوتا ہے۔ پھر اس پر مومن مستقلاً جم جاتا ہے اس کا دل مطمئن ہوجاتا ہے۔ نہ اب مختلف راستے رہتے ہیں نہ مختلف قبلے رہتے ہیں ۔ اب وہ حالت نہیں رہی وہ نہایت ہی اطمینان ، نہایت ہی وثوق اور نہایت صحت اور نہایت صفائی کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے۔ وہ ایک ایسا آلہ ہے جو عزیز اور طاقتور ہے ، جو غالب اور قادر ہے ۔ جب مومن اس کی طرف پھرتا ہے تو وہ سچائی کی ایک زبردست قوت کی طرف پھرتا ہے ، جو اس کائنات کی واحد قوت ہے ۔ اب یہ اطمینان واستراحت کی زندگی بسر کرے گا اور اسے کسی جھوٹی قوت کا کوئی ڈر نہ ہوگا۔ وہ کسی چیز سے خوف نہ کھائے گا وہ ایسے معبود کی بندگی کرے گا جو عزیز اور طاقتور ہے ۔ جو غالب اور صاحب قدرت ہے ۔ اس لئے اب اسے کسی چیز کی محرومی کا کوئی خوف نہ ہوگا۔ نہ وہ ایسی طاقتوں سے خوف کھائے گا نہ ایسی طاقتوں سے توقع کرے گا جن کے پاس نہ دینے کی طاقت ہے اور نہ محروم کرنے کی قوت ہے۔ وہ ایک عادل اور حکیم الٰہ ہے ۔ اس کی قوت اور اس کی قدرت ہی مظالم کے خلاف ضمانت ہے ۔ خواہشات نفسانیہ کے خلاف ضمانت ہے ، کھوٹ کے خلاف ضمانت ہے۔ وہ جاہلیت کے بتوں جیسا معبود نہین ہے ۔ جن کے تصور کے ساتھ سفلی جذبات اور شہوات کا تصور لازم ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک شخص اسلام میں داخل ہوتا ہے تو وہ باطل معبودوں کو چھوڑ کر ایک مضبوط ذات کا سہارا لیتا ہے۔ جہاں سے انصاف ملتا ہے ، امن ملتا ہے اور خصوصی رعایت واکرام حاصل ہوتا ہے۔ وہ ایک ایسا رب ہے جو نہایت مہربان ہے ۔ نہایت مشفق ہے ، منعم ہے ۔ وہاب ہے ، گناہ معاف کرنے والا ، توبہ قبول کرنے والا ہے ۔ وہ مصیبت زدہ کی پکار کو سنتا ہے اور قبول کرتا ہے۔ اس کی مصیبت کو دور کرتا ہے ، لہٰذا ایک مسلمان اس کے سایہ عطوفت میں مانوس ومامون ہوتا ہے۔ سلامتی میں اور بہرہ مندی میں ہوتا ہے۔ اگر ضعیف ہوجائے تو اس پر رحم ہوتا ہے ۔ اگر تائب ہوجائے تو معاف کردیا جاتا ہے۔ اسلام میں آنے کے بعد ایک مومن کو اسلام سب سے پہلے اپنے اس رب کی صفات سے روشناس کراتا ہے ۔ مومن ان صفات کا مطالعہ کرتا جاتا ہے۔ اس صفت میں اسے ایسا مفہوم ملتا ہے جس سے اس کا دل مانوس ہوتا جاتا ہے۔ اس کی روح مطمئن ہوتی چلی جاتی ہے اور اسے اپنے اس معبود کی طرف سے حمایت ، بچاؤ، مہربانی ، رحمت ، عزت ، شرافت و سکون اور امن کی گارنٹی ملتی ہے۔ سلامتی کے جس نظام میں یہ مومن داخل ہوتا ہے ، اس سے اسے بندے اور خدا کے مابین تعلق کے بارے میں صحیح تصور ملتا ہے۔ نیز یہ اللہ اور بندے کے تعلق ، اس کائنات کے ساتھ انسان کے تعلق کے بارے میں صحیح فکر دیتا ہے۔ مثلاً یہ کہ وہ اللہ ہی ہے جس نے سچائی کے ساتھ اس کائنات کی تخلیق کی ۔ اس کائنات میں پھر اس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ پورا پورا پیدا کیا ۔ پھر اس نے اس کائنات میں انسان کو ایک حکمت کے تحت پیدا کیا ۔ اس لئے اسے یوں ہی آزاد نہ چھوڑدیا جائے گا ۔ اللہ نے تمام کائناتی ماحول کو ایسا بنایا ہے کہ یہ سب کا سب اور اس کی ہر چیز انسانوں کے لئے ممد حیات ہے ۔ پھر زمین کے اندر جتنی چیزیں ہیں ان پر انسان کا اقتدار قائم کیا ۔ اللہ کے نزدیک بھی انسان بڑی ذی شرف مخلوق ہے ۔ اس زمین پر وہ اللہ کا خلیفہ اور نائب ہے ۔ اس منصب خلافت کے چلانے میں خود اللہ اس کا مددگار ہے۔ اور پھر اس انسان کے اردگرد پھیلی ہوئی یہ کائنات بھی اس کی ہمدم ہے ، اس کے ساتھ مانوس ہے ۔ کائنات کی روح انسان کی روح سے ہم آہنگ ہے ۔ یہ کائنات بھی اللہ کی تسبیح کرتی ہے اور انسان بھی اس کی تمجید کرتا ہے ۔ کائنات کیا ہے بلکہ ارض وسماوات میں ایک میلہ ہے جو قادر مطلق نے اس انسان کی فرحت طبع کے لئے قائم کیا ہے اور اسے دعوت دی ہے کہ وہ اس میلے میں شریک ہو۔ اس کے خلا کو بھر دے اور اس کے ساتھ مانوس ہوجائے ۔ اسے کہا گیا ہے کہ وہ اس کائنات عظیم کی ہر چیز کے ساتھ محبت کرے ، اس کے ہر انداز کے ساتھ پیار کرے ، اس کائنات میں تو بیشمار ہمدم ہیں اور وہ بھی خصوصی دعوت پر اس میلے میں وارد ہیں ، اس کے ہر انداز کے ساتھ پیار کرے ، اس کائنات میں تو بیشمار ہمدم ہیں اور وہ بھی خصوصی دعوت پر اس میلے میں وارد ہیں ، غرض کائنات کی سب چیزیں بےجان یا زندہ سب کی سب اس جشن نوبہاراں کے ارکان ہیں اور پیار کے مستحق ہیں ۔ آشتی کا یہ نظام مسلمان کو ایک نظریہ حیات عطا کرتا ہے ۔ اس نظریہ کے ساتھ وہ اگر ایک حقیر پودے کو دیکھتا ہے ، جسے پانی کی ضرورت ہے اور پھر اسے سیراب کردیتا ہے ، اس کی نشوونما میں معاون ہوتا ہے ، اس کی راہ میں حائل مشکلات کو دور کرتا ہے ، تو اس نظریہ حیات کے مطابق محض اس فعل پر بھی وہ ماجور ہوگا۔ کیا حسین نظریہ ہے ! کیا ہی قیمتی نظریہ ہے ! جو ایک ماننے والے کی روح کو امن سے بھر دیتا ہے۔ وہ اس پوری کائنات کا ہمدم بن جاتا ہے اور ہر موجود کو گلے لگاتا ہے۔ وہ اس طرح بن جاتا ہے کہ ایک قمقمے کی طرح اپنی ہر طرف امن وسلامتی اور رفق و محبت کی ضوپاشی کرتا رہتا ہے۔ پھر اس نظام میں عقیدہ آخرت ہے ۔ مومن کی روح اور مومن کی دنیا میں یہ عقیدہ بہت اہم رول ادا کرتا ہے ۔ اس پر سلامتی کا فیضان ہوجاتا ہے ۔ اس کی زندگی سے ہر قسم کی بےچینی ، پریشانی ، مایوسی اور جھنجھلاہٹ دور ہوجاتی ہے ۔ کیونکہ حساب و کتاب اس دنیا ہی میں ختم نہیں ہوجاتا ، ضروری نہیں ہے کہ پوری پوری چیز اس دنیا میں چکادی جائے ۔ اصل حساب و کتاب تو عادل مطلق کی عدالت میں ہوگا۔ اس لئے اگر وہ بھلائی کرتا ہے ، اللہ کی راہ میں جدوجہد کرتا ہے اور اس دنیا میں کامیاب نہیں ہوتا اور اسے اس کا کوئی صلہ نہیں ملتا تو اسے کوئی ندامت نہیں ہوتی ۔ اسے اس پر کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی کہ اس دنیا میں ، دنیا والوں کے معیاروں کے مطابق ، اسے کوئی صلہ نہیں ملا ، نہیں ملا تو نہ ملے ۔ عنقریب اسے اللہ کی میزان کے مطابق مل جائے گا اور پورا پورا ۔ جب اس دنیا میں حقوق کی غیر منصفانہ تقسیم ہوتی ہے ۔ اس کے منشاء کے خلاف تقسیم ہوتی ہے تو وہ ” عدل “ کے معاملے میں مایوس نہیں ہوتا ، عدالت تو لازماً لگنے والی ہے۔ جس کا افسر رب العباد ہے ، جو اپنے عباد پر ظلم و زیادتی کا ارادہ ہی نہیں کرتا چہ جائیکہ ظلم کرے ۔ اس دنیا میں ایک مجنونانہ کشمکش برپا ہے ۔ اس کشمکش میں بالعموم بلند اقدار پامال ہورہی ہیں ، آبروئیں لٹ رہی ہیں ۔ بےشرمی اور بےحیائی سے حقوق پامال ہوتے ہیں ، لیکن مومن سلامتی وآشتی کے اس نظام حیات میں داخل ہونے والا مومن اس سے دور رہتا ہے۔ یہ عقیدہ آخرت ہی ہے ، جو اسے گندگی سے دور رکھتا ہے ، وہ تو آخرت پر نظریں جمائے ہوئے ہے ۔ وہاں دادوہش ہے ، وہاں تلافی مافات ہے ۔ وہاں عطا وغنا ہے ۔ یہ دنیا باہمی مسابقت کا ایک میدان ہے ۔ باہمی حسد ومنافقت کی ایک جنگاہ ہے ۔ زندگی کا یہ تصور قلب مومن پر سکون وسلامتی اور صبر و قناعت کی بارش کردیتا ہے ۔ جب وہ اس دوڑ میں حصہ لینے والوں کی حرکات کو دیکھتا ہے تو اسے یہ بھلی معلوم نہیں ہوتیں ۔ انسان میں قدرتاً یہ شعور ہوتا ہے کہ زندگی مختصر ہے ۔ فرصت کے لمحات تھوڑے ہیں ۔ زندگی کی اس دوڑ میں پھر یہ شعور شدید سے شدید تر ہوتا چلا جاتا ہے ۔ لیکن اسلامی نظریہ حیات کا عقیدہ آخرت پیاس کی اس شدت کو کم کردیتا ہے۔ پھر امن وآشتی کے اس نظام میں ، انسان کو وجود میں لانے کی غرض وغایت اور اس کا مقصد تخلیق اللہ کی بندگی اور اللہ کی غلامی کو قرار دیا جاتا ہے ۔ وہ پیدا ہی اس لئے ہوا ہے کہ اللہ کی غلامی کرے ، حقیقت یہ ہے کہ اس طرح ، یہ انسان کی ایک بلند اور روشن افق پر ایک بلند ستارہ بن جاتا ہے ۔ اس کا خمیر اور اس کا شعور بلند ہوجاتے ہیں ۔ اس کے اعمال اور اس کی سرگرمیاں بلند ہوجاتی ہیں ۔ اس کے وسائل اور اس کے ذرائع پاک ہوجاتے ہیں ۔ وہ اپنے تمام اعمال اور تمام سرگرمیوں میں اللہ کا غلام بن جاتا ہے ۔ اس کا کمانا اور اس کا خرچ کرنا بھی عبادت بن جاتے ہیں۔ وہ دنیا میں منصب خلافت حاصل کرتا ہے اور یہاں اسلامی نظام زندگی قائم کرتا ہے تو بھی عبادت کرتا ہے۔ بندگی ، عبادت اور غلامی کے اس تصور کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک مسلم نہ غدار ہوتا ہے نہ بدکار ، وہ نہ فریب کار ہوتا ہے نہ دھوکہ باز ، نہ ظالم ہوتا اور نہ جبار ، وہ حصول مقصد کے لئے ناپاک ذرائع کام میں نہیں لاتا ، نہ وہ خسیسانہ وسائل سے کام لیتا ہے ۔ وہ منزل تک پہنچنے کے لئے بےتاب بھی نہیں ہوتا۔ وہ عجلت اور جلد بازی نہیں کرتا اور وہ اپنے آپ کو دنیاوی مشکلات میں نہیں پھنساتا ۔ وہ خالص نیت کے ساتھ ، مسلسل عمل کے ساتھ ، اپنی طاقت کے حدود میں رہتے ہوئے ، اپنے نصب العین کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔ ان سب باتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی خوف اور کوئی لالچ اس کے نفس پر اثر انداز نہیں ہوسکتا ۔ زندگی کے اس سفر کے مختلف مراحل میں کسی مرحلے میں بھی وہ بےچین نہیں ہوجاتا ۔ اس لئے کہ ہر قدم پر وہ اللہ کی عبادت میں ہوتا ہے ۔۔ وہ ہر خطرے کو انگیز کرتا ہے ۔ اس لئے کہ وہی اس کا مقصد تخلیق ہے ۔ غرض وہ ہر سرگرمی اور ہر میدان میں بلندیوں کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے ۔ اپنے اللہ رب العالمین اور اپنے خالق کی سمت میں ۔ مومن کا یہ شعور کہ وہ اللہ کی تقدیر کا ہمدم ہے ۔ شاہراہ تقدیر پر گامزن ہے ۔ وہ اللہ کی بندگی میں ہے ، وہ ارادہ الٰہی کا مظہر ہے ، اس کی روح پر طمانیت کی بارش کردیتا ہے ۔ اس کا پیمانہ دل سکون وقرار سے لبریز ہوجاتا ہے۔ کسی تحیر کے بغیر ، کسی بےچینی کے بغیر ، کسی جھنجھلاہٹ کے بغیر اور مصائب ومشکلات کو خاطر میں لائے بغیر اپنے نشان منزل کی طرف رواں دواں ہوتا ہے۔ وہ اللہ کی اعانت اور نصرت سے مایوس نہیں ہوتا ۔ اسے یہ خوف بھی نہیں رہتاق کہ اس کا نصب العین نظروں سے اوجھل ہوجائے گا یا اس کا اجر ضائع ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کے ساتھ ، اللہ کے دشمنوں کے ساتھ برسر جنگ بھی ہوتا ہے لیکن اس کی روح میں ٹھہراؤ اور سکون ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ نہ جاہ ومنصب کے لڑرہا ہوتا ہے ، نہ دولت اور غنیمت کے لڑتا ہے اور نہ اغراض دنیا میں سے کسی غرض کے لئے برسر پیکار ہے۔ قلب مومن یہ شعور لئے ہوئے ہے کہ وہ اس پوری کائنات میں سنت اللہ کا ہمقدم ہے ۔ اس کا قانون قانون فطرت ہے ۔ اس کا رخ اسی سمت ہے جو فطرت کائنات کی سمت ہے ۔ پس اس کے اور اقوائے فطرت کے درمیان کوئی تصادم نہیں ، حقائق فطرت کے ساتھ اس کی کوئی لڑائی نہیں ۔ اس لئے مومن کی فطری قوتیں اور اس کائنات کی قوتیں ہم آہنگ ہوجاتی ہیں۔ ان کے درمیان ٹکراؤ کے نتیجے میں یہ قوتیں بکھر نہیں جاتیں ۔ منتشر نہیں ہوجاتیں بلکہ اس کائنات کی تمام قوتیں ایک مسلمان کی قوتوں کے ساتھ آملتی ہیں ۔ یہ قوتیں بھی اسی روشنی کے ساتھ منزل تلاش کرتی ہیں جس کے ساتھ مرد مومن تلاش کرتا ہے ۔ غرض کائنات کی تمام قوتیں اللہ کی سمت میں رواں دواں ہیں اور مرد مومن بھی اسی طرف رواں دواں ہے ۔ اسلام نے ، مسلمانوں کے لئے جو فرائض مقرر کئے ہیں وہ فطری ہیں ۔ فطرت کی تصحیح کے لئے ہیں ۔ سب کے سب انسانی طاقت کے حدود میں ہیں ۔ ان میں انسان کے مزاج اور اس کے عناصر تکوینی کا پوراپورا لحاظ رکھا گیا ہے ۔ اسلام انسان کی قوتوں میں سے کسی قوت کو بھی مہمل نہیں رہنے دیتا ، ہر قوت کام میں لگی ہوئی ہے ۔ نشوونما اور تعمیر و ترقی میں اپنا پارٹ ادا کررہی ہوتی ہے ۔ وہ انسان کی روحانی اور جسمانی ضروریات میں سے کسی کو نظرانداز نہیں کرتا ، بلکہ وہ بڑی آسانی ، بڑی نرمی ، بڑی فراخ دلی کے ساتھ انسان کے تمام دواعی فطرت کو پورا کرتا ہے ۔ اس لئے ان عبادات پر عمل پیرا ہوتے وقت اسے کوئی پریشانی نہیں ہوتی ، بےچینی کا مقابلہ نہیں کرنا ہوتا ۔ وہ ان عبادات و فرائض پر اپنی طاقت وقدرت کے مطابق عمل پیرا ہوتا ہے ۔ اور بڑی طمانیت قلب کے ساتھ ، بڑے روحانی سکون کے ساتھ مسلسل اپنی منزل طے کرتا چلا جاتا ہے ۔ کدھر ؟ اپنے خالق معبود کی طرف۔ اسلام ، یعنی ربانی نظام زندگی جس معاشرے کو جنم دیتا ہے ، وہ معاشرہ بھی امن وسلامتی کامینار ہے ۔ یہ مینار ایک اونچے مقام سے مسلسل امن وآشتی کی ضوپاشی کررہا ہے ۔ یہ معاشرہ اس نظام کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے ۔ جس کی کونپلیں اس قیمتی اور حسین نظریہ حیات کے شجر سے پھوٹتی ہیں جو قلب مومن میں جاگزیں ہے ، یہ معاشرہ حفظ نفس ، حفظ آبرو اور حفظ مال کی خدائی تحفظات (Guaranties) کے سائے میں نشوونما پاتا ہے۔ ایسا معاشرہ ، جس کے سپوت بھائی بھائی ہوں ، ایک دوسرے کے ساتھ پیار کرنے والے ہوں ، ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوں ، ایک دوسرے کا سہارا ہوں اور ایک دوسرے کے ساتھ اجتماعی طور پر ضامن (SocialSureties) ہوں اور جس اک ہر جز دوسرے اجزاء کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ تاریخ ایک بار تو اسلام ایسے معاشرے کو عملاً وجود میں لایا ۔ بہت اعلیٰ واصفیٰ شکل میں ، اپنی ترقی یافتہ صورت میں ، اسلامی تاریخ کے بعد کے ادوار میں بھی ایسے معاشرے وجود آتے رہے جو اپنے معیار کے اعتبار سے بیشک بعض کم رہے ، بعض اچھے رہے ، لیکن اپنی کمزوریوں کے باوجود وہ ان تمام معاشروں سے اونچے رہے جو کبھی بھی وجود میں آئے ، چاہے جاہلیت قدیمہ کے دور میں ہوں ، چاہے جاہلیت جدیدہ کے دور میں ہوں بلکہ ان تمام معاشروں سے بھی جو اگرچہ جاہل نہ ہوں ۔ لیکن ان میں جاہلیت کی آمیزش آگئی ہو۔ جو جاہلیت کے ساتھ آلودہ ہوچکے ہیں اور جن کی فکر میں اور جن کے نظم اجتماعی میں صرف دنیاوی تصورات ہی کارفرما ہوں۔ یہ معاشرہ یعنی اسلامی معاشرہ ایسا ہوتا ہے جس کے افراد و اجزاء میں صرف ایک رابطہ ہوتا ہے یعنی نظریہ حیات کا رابطہ ۔ یہ بہت ہی وسیع نظریاتی معاشرہ ہوتا ہے۔ تمام قومیات ، تمام ملکی حدود ، تمام زبانیں اور تمام رنگ اس کے مقابلے میں پگھل کر فنا ہوجاتے ہیں ۔ غرض تمام غلط افکار قومیت ، لسانیت ، وطنیت اور رنگ ونسل کے تمام فکری فتنے جن کا انسان کی انسانیت کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہوتا وہ سب کے سب پگھل کر اس وسیع الاساس اسلامی معاشرے میں جذب ہوجاتے ہیں ۔ ذرا سنئے ! اس معاشرے کے بارے اللہ کی ہدایات :” بیشک مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ (سورۃ الحجرات : ١٠) “۔ اس معاشرے کی بہترین تصویر رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مشہور حدیث میں کھنچی ہے :” باہمی محبت ، باہمی رحم ، باہمی مہربانی کے لحاظ سے ، مومنین کی مثال ایک جسم واحد کی سی ہے ۔ جسم میں سے ایک عضو بھی تکلیف میں ہو تو تمام جسم بےآرام ہوجاتا ہے۔ پورا جسم جاگتا ہے اور پورے جسم میں بخار کی حالت پیدا ہوجاتی ہے۔ “ (روایت امام احمد) ذرا دیکھئے اس معاشرے کے عمومی آداب کیسے حسین ہیں اور جب کوئی احترام کے ساتھ تمہیں سلام کرے تو اس کو اس سے بہتر طریقہ کے ساتھ جواب دو یا کم ازکم (نساء : ٨٦) ۔ اسی طرح ” اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر ، نہ زمین میں اکڑ کر چل ، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا۔ (لقمان : ٨) “ بدی کو نیکی سے رفع کر جو بہترین ہو ۔ تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی ، وہ جگری دوست بن گیا۔ “ (حم سجدہ : ٣٤) ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، نہ مرد دوسرے مرد کا مذاق اڑائیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں ، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔ ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے اور جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہ ظالم ہیں (الحجرات : ٦) “۔” اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے گا ؟ دیکھو تم خود اس سے گھن کھاتے ہو ۔ اللہ سے ڈرو ، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے رحیم ہے ۔ “ (الحجرات : ١٢) یہ معاشرہ ایسا ہے جو اپنے کو یہ ضمانتیں (Securities) دیتا ہے :” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کے آئے تو تحقیق کرلیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کئے پر پریشان ہو۔ “ ” اے لوگوجو ایمان لائے ہو ، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں ۔ تجسّس نہ کرو۔ “ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک گھروالوں کی رضانہ لے لو ، اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج دو (النور : ٧٢) ۔ “ ہر مسلمان دوسرے مسلمان پر حرام ہے یعنی اس کا خون ، اس کی عزت اور اس کا مال ۔ “ یہ پاک معاشرہ ایسا ہے کہ اس میں فحاشی نہیں پھیل سکتی ۔ اس میں بےحیائی کو پسند نہیں کیا جاتا ۔ اس میں فتنے کا رواج نہیں ۔ اس میں عریانی نہیں پھیلتی ۔ آنکھیں پوشیدہ مقامات جسم کی طرف ملتفت ہی نہیں ہوتیں ۔ اس میں لوگوں کی عصمتیں آزاد شہوت رانی سے محفوظ ہوتی ہیں ۔ اس میں جنسی خواہشات اور خون اور گوشت کاملاپ اس طرح آزاد نہیں ہوتا جس طرح نظام جاہلیت میں ہوتا ہے ، خواہ جاہلیت قدیمہ ہو یا جدیدہ ۔ اس سلسلے میں اسلامی معاشرہ پر ربانی ہدایات کی حکمرانی ہوتی ہے اور وہ ہر وقت اپنے رب کی بات سنتا ہے ۔ آپ بھی سنیں :” جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحاشی پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں ۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔ (نور : ١٩) “ ” زانیہ عورت اور زانی مرد دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔ اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو۔ اگر تم اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور ان کو سزا دیتے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود رہے۔ (نور : ٤) “ ” اور جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگائیں ، پھر چار گواہ نہ لے کر آئیں ، ان کو اسی کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو ، اور وہ خود ہی فاسق ہیں ۔ (النور : ٣١) “۔” اے نبی مومنین مردوں سے کہو اپنی نظریں بچاکررکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ، یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے ، جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے ، اور اے نبی مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظربچاکر رکھیں ، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤسنگھار نہ دکھائیں بجز اس کے کہ جو خود ظاہر ہوجائے اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں ۔ وہ اپنے بناؤ سنگھارنہ ظاہر کریں مگر ان لوگوں کے سامنے شوہر ، باپ ، شوہروں کے باپ ، اپنے بیٹے ، شوہروں کے بیٹے ، بھائی بھائیوں کے بیٹے ، بہنوں کے بیٹے ، اپنے میل جول کی عورتیں ، اپنے لونڈی غلام ، وہ زیردست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں۔ وہ اپنے پاؤں پر مارتی ہوئی نہ چلاکریں کہ اپنی جو زنیت انہوں نے چھپارکھی ہو ، اس کا لوگوں کو علم ہوجائے ۔ اے مومنو ! تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو ، توقع ہے کہ فلاح پاؤگے ۔ (الاحزاب : ٣٣) “ پھر قرآن مجید خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عورتوں سے بھی خطاب کرتا ہے جو کردہ ارض پر پاکیزہ ترین عورتیں تھیں ، پاکیزہ ترین گھر ، پاکیزہ ترین خاندان میں اور پھر پاکیزہ ترین دور میں۔ ” نبی کی بیویو ! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑجائے بلکہ صاف سیدھی بات کرو۔ اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور سابق دور جاہلیت کی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔ نماز قائم کرو ، زکوٰۃ دو ، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو ، اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم اہل بیت نبی سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کردے۔ “ ایسے معاشرہ میں بیوی کو خاوند پر اعتماد ہوتا ہے ۔ خاوند کو بیوی پر اعتماد ہوتا ہے ۔ والدین و سرپرست اپنی حرمتوں اور عصمتوں کے بارے میں مطمئن ہوتے ہیں ۔ لوگوں کو اپنے دلوں اور اپنے اعصاب پر اعتماد ہوتا ہے ۔ نظروں سے فتنے اوجھل ہوتے ہیں ، اس لئے وہ دلوں کو ممنوعات کی طرف کھینچ ہی نہیں سکتے ۔ اس کے مقابلے میں آج کل مغربی ممالک حال یہ ہے کہدزیدہ نگاہوں کا تبادلہ ہر وقت ہوتا رہتا ہے۔ اس معاشرے کے افراد کو ہر وقت خواہشات کو دبانا پڑتا ہے ۔ جس کے نتیجے میں وہ کئی قسم کی نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں ۔ ان کے اعصاب میں ہر وقت تناؤہوتا ہے جبکہ اسلام کا پاکیزہ اور عفت مآب معاشرہ ہر وقت تھما ہوا ہے ۔ اس معاشرے پر ہر وقت امن ، پاکیزگی اور سلامتی کے کشادہ پردوں کا سایہ ہوتا ہے۔ اور سب سے آخر میں یہ کہ معاشرہ ہر اس شخص کو جو کام کرنے کی قدرت رکھتا ہے ، رزق حلال اور روزگار کی ضمانت دیتا ہے ۔ یہ معاشرہ ہر معذور شخص کو شریفانہ زندگی اور مناسب ضروریات زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔ جو شخص عفت اور پاکدامنی کی زندگی بسر کرنا چاہتا ہے ، اس معاشرے میں اس کے لئے جائز نکاح کی سہولتیں ہوتی ہیں ۔ اسے صالح رفیقہ حیات ملتی ہے۔ یہ ایسا معاشرہ ہوتا ہے کہ اگر اس کے کسی محلے میں کوئی بھوک سے مرجائے تو وہ تمام محلہ کو موت کا قانوناً ذمہ دار ٹھہراتا ہے ۔ اور ان پر تعزیری شرائط عائد کرتا ہے ، بعض فقہاء اور قانون دانوں نے لکھا ہے کہ اہل محلہ کو بطور تاوان اس شخص کی دیت ادا کرنی ہوگی۔ اور پھر ایک نئے پہلو سے دیکھئے ، ی معاشرہ اپنے افراد کو شہری آزادیوں کی ضمانت دیتا ہے ۔ اس میں لوگوں کی شرافت ، ان کی عزتیں اور ان کے جان ومال ازروئے قانون محفوظ ہوتے ہیں ۔ اس بات کی ضمانت خود شارع مطلق رب ذوالجلال دیتا ہے ، جو مطاع ہے اور اس معاشرے میں اس کی ہر بات قانون ہے ۔ لہٰذا اس معاشرے میں محض شک کی بنیاد پر کوئی نہ پکڑاجائے گا۔ کسی کی دیوار کو پھاند کر کوئی کسی کا حق تنہائی چھین نہ لے گا۔ کوئی شخص کسی کے خلاف تجسس نہ کرسکے گا ۔ اس معاشرے میں اگر کسی کا خون بہا تو وہ لغو نہ جائے گا بلکہ قصاص نافذ ہوگا۔ کسی کا مال چوری یا ڈاکے میں نہ جائے گا کیونکہ اس میں حدود نافذ ہیں۔ پھر اس معاشرے کا سیاسی نظام شوریٰ تعاون اور آزادی رائے اور ضمانت حق تنقید (نصح) پر قائم ہوتا ہے ۔ اس معاشرے میں انصاف اور قانون کی نظروں میں سب لوگ برابر ہوتے ہیں ۔ اس کا ہر فرد یہ شعور رکھتا ہے کہ اس کے بارے میں ہر قانونی فیصلہ اللہ کی جانب سے ہے ۔ اللہ کے قانون کا فیصلہ ہے ، اس میں نہ حاکم وقت کا دخل ہے ، نہ اس کے کسی حاشیہ نشین کا دخل ہے اور نہ ہی اہل کار ان سرکار کے رشتہ داروں کا دخل۔ الغرض پورے انسانی معاشروں میں یہ واحد معاشرہ ہے ، جس میں انسان ، انسان کے تابع نہیں ہے ، بلکہ تمام انسان حاکم ہوں یا محکوم ہر صورت میں اللہ اور اس کی شریعت کے تابع ہیں ۔ حاکم ہوں کہ محکوم دونوں اللہ کی شریعت کو نافذ کرتے ہیں ، چناچہ سب کے سب برابری اور مساوات کے ساتھ ، پورے ایمان ، پورے یقین اور پورے وثوق کے ساتھ ، اللہ رب العالمین اور احکم الحاکمین کے سامنے قدم بقدم کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ سب معانی المسلم کے مفہوم میں داخل ہوتے ہیں ، جو آیت میں استعمال ہوا ہے اور جس میں مومنین کو پورا پورا داخل ہونے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیں ۔ اس طرح کہ ان کے لئے ان کے نفس کا کچھ حصہ بھی نہ رہے ۔ سب کا سب اللہ کا ہوجائے ، اطاعت وانقیاد میں اور تسلیم ورضا میں ۔ امن وسلامتی کے اس مفہوم کا صحیح ادراک تب ہی ہوسکتا ہے جب ہم ان معاشروں مطالعہ کریں ، جو اسلام سے متعارف نہیں ہیں یا اسلام سے متعارف تو ہیں لیکن پھر بھی اس سے بیگانہ ہوگئے ہیں اور دوبارہ نظام جاہلیت کی طرف پلٹ گئے ہیں اور مختلف ادوار میں انہوں نے اپنے لئے مختلف نام اور مختلف عنوان تجویز کئے ۔ ان معاشروں کی حالت یہ ہے کہ وہ بےیقینی میں مبتلا ہیں ۔ ایمان سے خالی ہیں ۔ ان کے افراد نفیساتی اور اعصابی پریشانیوں اور بےچینیوں کا شکار ہیں ۔ یہ معاشرے تہذیبی ترقی کے اعلیٰ معیار تک پہنچے ہوئے ہیں ۔ ان میں ساری سہولتیں اپنے انتہاء کو پہنچی ہوئی ہیں اور وہ تمام سہولتیں وافر ہیں جنہیں کوئی بھی گم کردہ راہ جاہلی تہذیب ترقی کے لئے ضروری سمجھتی ہو۔ اس مثال کا مطالعہ کیجئے ۔ سویڈن دنیا کے تمام ممالک میں زیادہ ترقی یافتہ ہے جس کے ہر فرد پر قومی دولت سے پانچ سو پونڈ سالانہ خرچ کیا جاتا ہے ۔ جہاں ہر آدمی کے لئے علاج ومعالجے کی ضمانت حاصل ہے۔ جہاں علاج کے نقد رقم دی جاتی ہے ، اور ہسپتالوں میں علاج مفت ہے ۔ جہاں ہر مرحلہ تعلیم میں تعلیم بالکل مفت ہے ، جہاں ہر طالب علم کو کپڑوں کا الاؤنس دیا جاتا ہے ۔ اور لائق طالب علموں کو قرض بھی دیا جاتا ہے ، جہاں حکومت تین سو پونڈ شادی الاؤنس دیتی ہے تاکہ گھریلوسامان خریدا جاسکے ۔ غرض ان کے علاوہ متعدد سہولیات اور آسانیاں ہیں جو وہاں عوام کو میسر ہیں لیکن اس مادی ترقی اور تہذیبی سہولتوں کے نتائج کیا ہیں ؟ جبکہ ان فرزندان تہذیب کے دل ایمان سے خالی ہیں۔ اس قوم کا حال یہ ہے کہ آزادانہ جنسی اختلاط کی وجہ سے جسمانی لحاظ سے پوری قوم مسلسل روبزوال ہے ۔ آزادانہ جنسی اختلاط ، فتنہ انگیزعریانی اور آزادنہ جنسی بےراہ روی کی وجہ سے ہر چھٹی شادی طلاق پر منتج ہوتی ہے ۔ جدید نسل بری طرح منشیات کی عادی ہوچکی ہے ۔ ان منشیات کے استعمال سے یہ لوگ اس روحانی خلا کو بھرتے ہیں اور بےیقینی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عدم اطمینان کا نعم البدل تلاش کرتے ہیں ۔ نفسیاتی بیماریاں ، اعصابی بیماریاں اور جنسی بیماریاں وبا کی طرح ان کے دماغ ، ان کے اعصاب اور ان کی روح پر حملہ آور ہیں اور ہزاروں آدمی ان میں بری طرح مبتلا ہیں ۔ اس بےچینی کی انتہا اس وقت ہوتی ہے ، جب ایک شخص تنگ آکر خودکشی کا فیصلہ کرتا ہے۔ امریکہ کا حال بھی ایسا ہے بلکہ اس سے بھی بدتر ہے۔ اور روس کے حالات تو اس سے بھی بدتر ہیں ۔ یہ تلخی اور بدبختی مقدر ہے ہر اس شخص کے لئے جس کا دل فرحت ایمان سے خالی ہے ، بشاست ایمانی سے خالی ۔ ایسا شخص ہرگز امن وسلامتی سے لطف نہیں اٹھاسکتا ، جس میں پوری طرح داخل ہونے کی دعوت ، مسلمانوں کو دی جارہی ہے تاکہ وہ اس کے سائے میں امن و آرام اور قرار و سکون سے خوش وخرم رہیں ۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ (٢٠٨) ” اے ایمان والو ! تم پورے کے پورے اسلام میں ، امن میں داخل ہوجاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو ، کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ “ اس دعوت کے ساتھ ساتھ کہ تم پورے کے پورے ، اس امن وسلامی (اسلام) میں داخل ہوجاؤ، مسلمانوں کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم ہرگز شیطان کی پیروی نہ کرنا ۔ کیونکہ راستے دو ہی ہیں ۔ ایک اسلام کا ، سلامتی کا راستہ اور شیطان کے نقش قدم والا راستہ ۔ ایک طرف ہدایت کی راہ ہے ، دوسری طرف گمراہی کی راہ ہے ۔ ایک طرف اسلام ہے ، اور دوسری طرف جاہلیت ہے ۔ یا اللہ کا راستہ یا شیطان کا راستہ یا اللہ کی ہدایت اور یا شیطان کی غوایت ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے موقف کے فیصلہ کن انداز کو اچھی طرح سمجھے ، چناچہ اس سلسلے میں وہ کسی تردد ، کسی حیرانی کیو قریب نہ آنے دے اور مختلف راستوں کو دیکھ کر ایک منٹ کے لئے بھی متحیر نہ ہو ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک مومن کو یہ آزادی نہیں دی گئی کہ وہ زندگی کے متعدد نظاموں میں سے کسی ایک نظام حیات کو اپنے لئے چن لے ۔ یا ایک دونظاموں کے اجزا کو ملاکر ایک تیسرا نظام گھڑ لے۔ اس کے صرف دوراستے ہیں ، حق یا باطل ، ہدایت یا ضلالت ، اسلام یا جاہلیت ، اللہ کا نظام زندگی ہے یا شیطان کی گمراہی ہے ۔ یہاں اس آیت میں ایک تو اللہ مسلمانوں کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ پورے کے پورے سلامتی کے اس نظام میں آجائیں ۔ دوسرے انہیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ وہ شیطان کی پیروی کریں ۔ یہاں ان کے ضمیر اور شعور کو بیدار کیا جارہا ہے ۔ انہیں شیطان کی جدی عدوات یاد دلاکر چوکنا کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے شیطان کے تمہارے ساتھ جو دشمنی ہے وہ کوئی پوشیدہ اور چھپی ہوئی دشمنی نہیں ہے ۔ یہ بالکل بین اور واضح ہے ۔ اسے تو صرف وہ شخص بھول سکتا ہے جو غافل ہو ۔ اور غفلت اور ایمان ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اسلام میں پورے طور پر داخل ہونے کا حکم آیت کے شان نزول کے بارے میں لکھا ہے کہ بعض صحابہ (رض) جو پہلے یہودی تھے انہوں نے سنیچر کے دن کی تعظیم کو باقی رکھنا چاہا جو شریعت موسوی میں تھی اور اونٹ کا گوشت کھانے سے پرہیز کرنا چاہا کیونکہ یہودیت کے زمانہ میں نہیں کھاتے تھے انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ توریت بھی تو اللہ کی کتاب ہے، ہم اس کو تہجد کی نماز میں پڑھ لیا کریں (جیسا کہ قرآن مجید کی تلاوت کی جاتی ہے) اس پر آیت بالا نازل ہوئی اور حکم فرمایا کہ اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ، شریعت محمدیہ کے آنے کے بعد اب کوئی شریعت باقی نہیں رہی۔ حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ میں تمہارے پاس خوب روشن اور صاف شریعت لے کر آیا ہوں اگر موسیٰ بھی زندہ ہوتے تو ان کے لیے بھی اس کے سوا کوئی گنجائش نہ تھی کہ وہ میرا اتباع کریں۔ (معالم التنزیل ص ١٨٣ ج ١) حضرت جابر (رض) کی روایت مسند احمد اور شعب الایمان للبیہقی میں بھی ہے۔ (کمافی المشکوۃ ص ٣٠) زندگی کے تمام شعبوں میں ہر شخص اسلام کے احکام کا پابند ہے : اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ۔ اسلام کے احکام کو پورا پورا قبول کرو اور اس کے جملہ احکام پر عمل کرو، حاکم ہو یا محکوم بڑا ہو یا چھوٹا، شہری ہو یا دیہاتی، تاجر ہو یا کاری گر، کار خانہ دار ہو، مزدور ہو یا کسان، سب اسلام پر پوری طرح چلیں اور ایک دوسرے کا منہ نہ دیکھے کہ وہ چلے تو میں بھی چلوں۔ ہر ایک اپنی ذمہ داری کو سامنے رکھے۔ بہت سے لوگوں نے یہ طریقہ بنا رکھا ہے کہ نماز روزہ اور ان کے علاوہ دو چار کاموں تک ہی اسلام کو محدود رکھتے ہیں اس کے علاوہ معیشت اور معاشرت، تجارت اور سیاست اور زندگی کے دیگر تمام شعبوں میں اسلام کے احکام کی پاسداری نہیں کرتے جس طرح چاہیں تجارت کرلیں اور جو بھی چیز سامنے آجائے خرید لیں، یا بیچ دیں۔ جس محکمہ میں چاہیں ملازم ہوجائیں۔ حرام حلال کا کچھ خیال نہیں کیا جاتا۔ بیاہ شادی میں غیر شرعی طریقہ کار اختیار کرتے ہیں۔ سراسر گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ خوشی کے موقعہ پر ہم پر شرعی کوئی پابندی نہیں۔ حرام حلال کی بحثوں کو فضول سمجھتے ہیں، کوئی عالم اگر بتادے کہ تمہاری ملازمت حرام ہے یا تجارت میں سود ہے تو کہتے ہیں کہ مولوی ترقی سے روکتا ہے۔ جن قوموں کے دین میں چند تصورات اور توہمات اور چند اعمال کے علاوہ اور کوئی بھی پابندی نہیں ہے اپنے دین کو انہیں کے دین پر قیاس کرلیتے ہیں۔ (العیاذ باللہ) ہمارا دین جامع ہے، کامل ہے مکمل ہے اور زندگی کے ہر شعبہ پر حاوی ہے۔ انسانی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کے احکام تفصیل کے ساتھ اسلام نے نہ بتائے ہوں۔ بعض احکام پر عمل کرنا اور بعض کو چھوڑ دینا یہ وہی چیز ہے جس کو سورة بقرہ کے رکوع (١٠) میں یہودیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ : ” کیا کتاب کے بعض حصہ پر ایمان لاتے ہو اور بعض حصہ کے منکر ہوتے ہو “ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مسلمان ہونے کے صرف دعوے دار ہی ہیں۔ اسلام کے فرائض تک پر عمل نہیں کرتے، اور کچھ لوگوں کو دینداری کا خیال تو ہے لیکن ان کی دینداری نماز تک یا ایک دو اعمال تک محدود ہے۔ اگر توجہ دلائی جائے کہ حرام ملازمت چھوڑ دو تو تیار نہیں اگر یوں کہا جائے کہ سود کا لین دین نہ کرو تو آمادہ نہیں اگر یوں کہو کہ حرام چیزیں فروخت نہ کرو تو کہتے ہیں کہ یہ روزی کا معاملہ ہے۔ اس کو کیسے چھوڑیں ؟ ان کی جاہلانہ بات کا مطلب یہ ہے کہ روزی کمانے میں گویا پورے آزاد ہیں۔ (العیاذ باللہ) اصحاب حکومت کی بےراہی : جن ممالک میں مسلمانوں کی حکومتیں ہیں وہاں کے ذمہ دار ان ہی طریقوں پر حکومتیں چلاتے ہیں جو کافروں سے سیکھے ہیں کچہریوں میں کافرانہ اور ظالمانہ قوانین کے مطابق فیصلے ہوتے ہیں۔ اسلام کے قانون کا نام آجائے تو کانوں پر ہاتھ دھرتے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ کافرانہ اقوال اور افعال کے باوجود اس کے دعوے دار ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ اسلام پر پوری طرح عمل نہ کرنا بعض احکام کو ماننا بعض کو چھوڑنا یہ سب شیطانی حرکات ہیں۔ اسلام میں پورا پورا داخل ہونے کا حکم دینے کے بعد یہ بھی فرمایا کہ (وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ ) شیطان کے قدموں کے پیچھے نہ چلو، اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ (اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ) (کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے) لوگ شیطان کو برا بھی کہتے ہیں اور اس پر لعنت بھی بھیجتے ہیں اور اس کے بتائے ہوئے طریقوں کو بھی اختیار کرتے ہیں۔ یہ عجیب طریقہ ہے۔ پھر فرمایا :

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

396 یہ جہاد کی تیسری ترغیب ہے۔ کَافَّةً ادخلوا کی ضمیر سے حال ہے اور سلم کے معنی استسلام اور اطاعت کلی کے ہیں۔ یعنی تم سارے کے سارے مکمل طور پر اللہ کے فرمانبردار بن جاؤ اور کوئی اس اطاعت سے باہر نہ رہے۔ ای استسلموا اللہ واطیعوہ۔ کافة لا یخرج احد منکم یدہ عن طاعتہ (مدارک ص 82 ج 1) یا اس کے معنی امن اور صلح وآشتی کے ہیں اور اس سے مراد دین اسلام ہے۔ وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ۔ احکام کی جگہ جاہلانہ رسوم کی پابندی مت کرو۔ اور نہ ہی ایسا کرو کہ اسلام کے بعض احکام کو مانو اور بعض احکام کو نہ مانو۔ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ۔ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے وہ ہمیشہ تمہیں گمراہ کرنے کے متعلق ہی سوچتا رہتا ہے اور تمہارے دلوں میں نئے نئے خیالات اور نئی نئی جدتیں پیدا کرتا ہے تاکہ تمہارے عقائد و اعمال کو خراب کر ڈالے۔ بعض نومسلم جنہوں نے یہودیت ترک کر کے اسلام قبول کیا تھا انہوں نے بعض سابقہ رسموں کو ترک نہ کیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi