Do not delay embracing the Faith
Allah says;
هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ أَن يَأْتِيَهُمُ اللّهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَليِكَةُ
...
Do they then wait for anything other than that Allah should come to them over the shadows of the clouds and the angels,
on the Day of Resurrection to judge the early and the latter creations.
Allah shall then reward each according to his or her deeds; and whoever does good shall see it, and whoever does evil shall see it.
This is why Allah said:
...
وَقُضِيَ الاَمْرُ وَإِلَى اللّهِ تُرْجَعُ الامُورُ
(Then) the case would be already judged. And to Allah return all matters (for decision).
Similarly, Allah said:
كَلَّ إِذَا دُكَّتِ الاٌّرْضُ دَكّاً دَكّاً
وَجَأءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفّاً صَفّاً
وَجِىءَ يَوْمَيِذٍ بِجَهَنَّمَ يَوْمَيِذٍ يَتَذَكَّرُ الاِنسَـنُ وَأَنَّى لَهُ الذِّكْرَى
Nay! When the earth is ground to powder. And your Lord comes with the angels in rows. And Hell will be brought near that Day. On that Day will man remember, but how will that remembrance (then) avail him! (89:21-23)
and,
هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَ أَن تَأْتِيهُمُ الْمَلَـيِكَةُ أَوْ يَأْتِىَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِىَ بَعْضُ ءَايَـتِ رَبِّكَ
Do they then wait for anything other than that the angels should come to them, or that your Lord (Allah) should come, or that some of the signs of your Lord should come (i. e., portents of the Hour, e.g., rising of the sun from the west)! (6:158)
Abu Jafar Razi reported that Abu Al-Aliyah narrated that:
هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ أَن يَأْتِيَهُمُ اللّهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَليِكَةُ
(Do they then wait for anything other than that Allah should come to them over the shadows of the clouds and the angels) means,
the angels will descend on the shadows of clouds, while Allah comes as He wills.
Some of the reciters read it,
هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ أَن يَأْتِيَهُمُ اللّهُوَ الْمَليِكَةُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ
Do they then wait for anything other than that Allah should come to them and also the angels over the shadows of the clouds.
This is similar to Allah's other statement:
وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَأءُ بِالْغَمَـمِ وَنُزِّلَ الْمَلَـيِكَةُ تَنزِيلً
And (remember) the Day when the heaven shall be rent asunder with clouds, and the angels will be sent down, with a grand descending. (25:25)
تذکرہ شفاعت
اس آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ کفار کو دھمکا رہا ہے کہ کیا انہیں قیامت ہی کا انتظار ہے جس دن حق کے ساتھ فیصلے ہو جائیں گے اور ہر شخص اپنے کئے کو بھگت لے گا ، جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت ( كَلَّآ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّا ) 89 ۔ الفجر:21 ) یعنی جب زمین کے ریزے ریزے اور تیرا رب خود آجائے گا اور فرشتوں کی صفیں کی صفیں بندھ جائیں گی اور جہنم بھی لا کر کھڑی کر دی جائے گی اس دن یہ لوگ عبرت ونصیحت حاصل کریں گے لیکن اس سے کیا فائدہ ؟ اور جگہ فرمایا آیت ( هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ رَبُّكَ اَوْ يَاْتِيَ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ ) 6 ۔ الانعام:158 ) یعنی کیا انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود اللہ تعالیٰ آئے یا اس کی بعض نشانیان آ جائیں اگر یہ ہو گیا تو پھر انہیں نہ ایمان نفع دے نہ نیک اعمال کا وقت رہے ، امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہاں پر ایک لمبی حدیث لکھی ہے جس میں صور وغیرہ کا مفصل بیان ہے جس کے راوی حضرت ابو ہریرہ مسند وغیرہ میں یہ حدیث ہے اس میں ہے کہ جب لوگ گھبرا جائیں گے تو انبیاء علیہم السلام سے شفاعت طلب کریں گے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر ایک ایک پیغمبر کے پاس جائیں گے اور وہاں سے صاف جواب پائیں گے یہاں تک کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لے کر ایک ایک پیغمبر کے پاس جائیں گے اور وہاں سے صاف جواب پائیں گے یہاں تک کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچیں گے آپ جواب دیں گے میں تیار ہوں میں ہی اس کا اہل ہوں ، پھر آپ جائیں گے اور عرش تلے سجدے میں گر پڑیں گے اور اللہ تعالیٰ سے سفارش کریں گے کہ وہ بندوں کا فیصلہ کرنے کے لئے تشریف لائے اللہ تعالیٰ آپ کی شفاعت قبول فرمائے گا اور بادلوں کے سائبان میں آئے گا دنیا کا آسمان ٹوٹ جائے گا اور اس کے تمام فرشتے آجائیں گے پھر دوسرا بھی پھٹ جائے گا اور اس کے فرشتے بھی آجائیں گے اسی طرح ساتوں آسمان شق ہو جائیں گے اور ان کے فرشتے بھی آجائیں گے ، پھر اللہ کا عرش اترے گا اور بزرگ تر فرشتے نازل ہوں گے اور خود وہ جبار اللہ جل شانہ تشریف لائے گا فرشتے سب کے سب تسبیح خوانی میں مشغول ہوں گے ان کی تسبیح اس وقت یہ ہو گی ۔ دعا ( سبحان ذی الملک والملکوت ، سبحان ذی العزۃ والجبروت سبحان الحی الذی لا یموت ، سبحان الذی یمیت الخلائق ولا یموت ، سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح ، سبوح قدوس ، سبحان ربنا الاعلیٰ سبحان ذی السلطان والعطمۃ ، سبحانہ سبحانہ ابدا ابدا ) ، ۔ حافظ ابو بکر بن مردویہ بھی اس آیت کی تفسیر میں بہت سی احادیث لائے ہیں جن میں غراب ہے واللہ اعلم ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اگلوں پچھلوں کو اس دن جمع کرے گا جس کا وقت مقرر ہے وہ سب کے سب کھڑے ہوں گے آنکھیں پتھرائی ہوئی اور اوپر کو لگی ہوئی ہوں گی ہر ایک کو فیصلہ کا انتظار ہوگا اللہ تعالیٰ ابر کے سائبان میں عرش سے کرسی پر نزول فرمائے گا ، ابن ابی حاتم میں ہے عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ جس وقت وہ اترے گا تو مخلوق اور اس کے درمیان ستر ہزار پردے ہوں گے نور کی چکا چوند کے اور پانی کے اور پانی سے وہ آوازیں آرہی ہوں گی جس سے دل ہل جائیں ، زبیر بن محمد فرماتے ہیں کہ وہ بادل کا سائبان یاقوت کا جڑا ہوا اور جوہر وزبرجد والا ہوگا ، حضرت مجاہد فرماتے ہیں یہ بادل معمولی بادل نہیں بلکہ یہ وہ بادل ہے جو بنی اسرائیل کے سروں پر وادی تیہ میں تھا ، ابو العالیہ فرماتے ہیں فرشتے بھی بادل کے سائے میں آئیں گے اور اللہ تعالیٰ جس میں چاہے آئے گا ، چنانچہ بعض قرأتوں میں یوں بھی ہے آیت ( ھَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيَهُمُ اللّٰهُ فِيْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَقُضِيَ الْاَمْرُ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ) 2 ۔ البقرۃ:210 ) جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاۗءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰۗىِٕكَةُ تَنْزِيْلًا ) 25 ۔ الفرقان:25 ) ۔ یعنی اس دن آسمان بادل سمیت پھٹے گا اور فرشتے اتر آئیں گے ۔