Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 210

سورة البقرة

ہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّاۡتِیَہُمُ اللّٰہُ فِیۡ ظُلَلٍ مِّنَ الۡغَمَامِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ قُضِیَ الۡاَمۡرُ ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴿۲۱۰﴾٪  9

Do they await but that Allah should come to them in covers of clouds and the angels [as well] and the matter is [then] decided? And to Allah [all] matters are returned.

کیا لوگوں کو اس بات کا انتظار ہے کہ ان کے پاس خود اللہ تعالٰی ابر کے سائبانوں میں آجائے اور فرشتے بھی اور کام انتہا تک پہنچا دیا جائے ، اللہ ہی کی طرف تمام کام لوٹائے جاتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Do not delay embracing the Faith Allah says; هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ أَن يَأْتِيَهُمُ اللّهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَليِكَةُ ... Do they then wait for anything other than that Allah should come to them over the shadows of the clouds and the angels, on the Day of Resurrection to judge the early and the latter creations. Allah shall then reward each according to his or her deeds; and whoever does good shall see it, and whoever does evil shall see it. This is why Allah said: ... وَقُضِيَ الاَمْرُ وَإِلَى اللّهِ تُرْجَعُ الامُورُ (Then) the case would be already judged. And to Allah return all matters (for decision). Similarly, Allah said: كَلَّ إِذَا دُكَّتِ الاٌّرْضُ دَكّاً دَكّاً وَجَأءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفّاً صَفّاً وَجِىءَ يَوْمَيِذٍ بِجَهَنَّمَ يَوْمَيِذٍ يَتَذَكَّرُ الاِنسَـنُ وَأَنَّى لَهُ الذِّكْرَى Nay! When the earth is ground to powder. And your Lord comes with the angels in rows. And Hell will be brought near that Day. On that Day will man remember, but how will that remembrance (then) avail him! (89:21-23) and, هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَ أَن تَأْتِيهُمُ الْمَلَـيِكَةُ أَوْ يَأْتِىَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِىَ بَعْضُ ءَايَـتِ رَبِّكَ Do they then wait for anything other than that the angels should come to them, or that your Lord (Allah) should come, or that some of the signs of your Lord should come (i. e., portents of the Hour, e.g., rising of the sun from the west)! (6:158) Abu Jafar Razi reported that Abu Al-Aliyah narrated that: هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ أَن يَأْتِيَهُمُ اللّهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَليِكَةُ (Do they then wait for anything other than that Allah should come to them over the shadows of the clouds and the angels) means, the angels will descend on the shadows of clouds, while Allah comes as He wills. Some of the reciters read it, هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ أَن يَأْتِيَهُمُ اللّهُوَ الْمَليِكَةُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ Do they then wait for anything other than that Allah should come to them and also the angels over the shadows of the clouds. This is similar to Allah's other statement: وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَأءُ بِالْغَمَـمِ وَنُزِّلَ الْمَلَـيِكَةُ تَنزِيلً And (remember) the Day when the heaven shall be rent asunder with clouds, and the angels will be sent down, with a grand descending. (25:25)

تذکرہ شفاعت اس آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ کفار کو دھمکا رہا ہے کہ کیا انہیں قیامت ہی کا انتظار ہے جس دن حق کے ساتھ فیصلے ہو جائیں گے اور ہر شخص اپنے کئے کو بھگت لے گا ، جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت ( كَلَّآ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّا ) 89 ۔ الفجر:21 ) یعنی جب زمین کے ریزے ریزے اور تیرا رب خود آجائے گا اور فرشتوں کی صفیں کی صفیں بندھ جائیں گی اور جہنم بھی لا کر کھڑی کر دی جائے گی اس دن یہ لوگ عبرت ونصیحت حاصل کریں گے لیکن اس سے کیا فائدہ ؟ اور جگہ فرمایا آیت ( هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ رَبُّكَ اَوْ يَاْتِيَ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ ) 6 ۔ الانعام:158 ) یعنی کیا انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود اللہ تعالیٰ آئے یا اس کی بعض نشانیان آ جائیں اگر یہ ہو گیا تو پھر انہیں نہ ایمان نفع دے نہ نیک اعمال کا وقت رہے ، امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہاں پر ایک لمبی حدیث لکھی ہے جس میں صور وغیرہ کا مفصل بیان ہے جس کے راوی حضرت ابو ہریرہ مسند وغیرہ میں یہ حدیث ہے اس میں ہے کہ جب لوگ گھبرا جائیں گے تو انبیاء علیہم السلام سے شفاعت طلب کریں گے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر ایک ایک پیغمبر کے پاس جائیں گے اور وہاں سے صاف جواب پائیں گے یہاں تک کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لے کر ایک ایک پیغمبر کے پاس جائیں گے اور وہاں سے صاف جواب پائیں گے یہاں تک کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچیں گے آپ جواب دیں گے میں تیار ہوں میں ہی اس کا اہل ہوں ، پھر آپ جائیں گے اور عرش تلے سجدے میں گر پڑیں گے اور اللہ تعالیٰ سے سفارش کریں گے کہ وہ بندوں کا فیصلہ کرنے کے لئے تشریف لائے اللہ تعالیٰ آپ کی شفاعت قبول فرمائے گا اور بادلوں کے سائبان میں آئے گا دنیا کا آسمان ٹوٹ جائے گا اور اس کے تمام فرشتے آجائیں گے پھر دوسرا بھی پھٹ جائے گا اور اس کے فرشتے بھی آجائیں گے اسی طرح ساتوں آسمان شق ہو جائیں گے اور ان کے فرشتے بھی آجائیں گے ، پھر اللہ کا عرش اترے گا اور بزرگ تر فرشتے نازل ہوں گے اور خود وہ جبار اللہ جل شانہ تشریف لائے گا فرشتے سب کے سب تسبیح خوانی میں مشغول ہوں گے ان کی تسبیح اس وقت یہ ہو گی ۔ دعا ( سبحان ذی الملک والملکوت ، سبحان ذی العزۃ والجبروت سبحان الحی الذی لا یموت ، سبحان الذی یمیت الخلائق ولا یموت ، سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح ، سبوح قدوس ، سبحان ربنا الاعلیٰ سبحان ذی السلطان والعطمۃ ، سبحانہ سبحانہ ابدا ابدا ) ، ۔ حافظ ابو بکر بن مردویہ بھی اس آیت کی تفسیر میں بہت سی احادیث لائے ہیں جن میں غراب ہے واللہ اعلم ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اگلوں پچھلوں کو اس دن جمع کرے گا جس کا وقت مقرر ہے وہ سب کے سب کھڑے ہوں گے آنکھیں پتھرائی ہوئی اور اوپر کو لگی ہوئی ہوں گی ہر ایک کو فیصلہ کا انتظار ہوگا اللہ تعالیٰ ابر کے سائبان میں عرش سے کرسی پر نزول فرمائے گا ، ابن ابی حاتم میں ہے عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ جس وقت وہ اترے گا تو مخلوق اور اس کے درمیان ستر ہزار پردے ہوں گے نور کی چکا چوند کے اور پانی کے اور پانی سے وہ آوازیں آرہی ہوں گی جس سے دل ہل جائیں ، زبیر بن محمد فرماتے ہیں کہ وہ بادل کا سائبان یاقوت کا جڑا ہوا اور جوہر وزبرجد والا ہوگا ، حضرت مجاہد فرماتے ہیں یہ بادل معمولی بادل نہیں بلکہ یہ وہ بادل ہے جو بنی اسرائیل کے سروں پر وادی تیہ میں تھا ، ابو العالیہ فرماتے ہیں فرشتے بھی بادل کے سائے میں آئیں گے اور اللہ تعالیٰ جس میں چاہے آئے گا ، چنانچہ بعض قرأتوں میں یوں بھی ہے آیت ( ھَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيَهُمُ اللّٰهُ فِيْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَقُضِيَ الْاَمْرُ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ) 2 ۔ البقرۃ:210 ) جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاۗءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰۗىِٕكَةُ تَنْزِيْلًا ) 25 ۔ الفرقان:25 ) ۔ یعنی اس دن آسمان بادل سمیت پھٹے گا اور فرشتے اتر آئیں گے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

210۔ 1 یہ تو قیامت کا منظر ہے (جیسا کہ بعض تفسیری روایات میں ہے (ابن کثیر) یعنی کیا یہ قیامت برپا ہونے کا انتظار کر رہے ہیں ؟ یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے جلوے اور بادلوں کے سایہ میں ان کے سامنے آئیں اور فیصلہ چکائیں تب وہ ایمان لائیں گے۔ لیکن ایسا اسلام قابل قبول نہیں اس لئے قبول اسلام میں تاخیر مت کرو اور فوراً اسلام قبول کر کے اپنی آخرت سنوار لو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٧٨] یعنی ایسی نشانی کے انتظار میں جس سے انہیں قطعی اور حتمی طور پر ہر بات کا یقین آجائے۔ ایسا یقین جیسے ہر انسان کو یہ یقین ہے کہ اسے موت آ کے رہے گی تو اسے خوب سمجھ لینا چاہیے کہ جب ایسی نشانی آجائے گی تو پھر ایمان لانے کی کچھ قدر و قیمت نہ ہوگی۔ ایمان لانے کی قدر و قیمت تو صرف اس وقت تک ہے جب تک کہ امور غیب حواس ظاہری سے پوشیدہ ہیں۔ اگرچہ ان کے لیے بیشمار دلائل موجود ہیں اور اسی بات میں انسان کی آزمائش کی جا رہی ہے، اور یہ دنیا آزمائش گاہ بنی ہوئی ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے اور جب کوئی حتمی علامت جیسے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا یا وقت موت یا قیامت آگئی تو پھر یہ معاملہ ہی ختم ہوجائے گا۔ علاوہ ازیں اللہ کی آمد تو درکنار اس کا دیدار تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسے اولوالعزم پیغمبر بھی نہ سہار سکے تھے۔ پھر یہ بےچارے کس کھیت کی مولی ہیں اور فرشتے انسانوں کے پاس آتے تو ہیں مگر وہ یا عذاب الٰہی لے کر آتے ہیں یا پھر موت کا پیغام لے کر، تو پھر ان باتوں کا انہیں کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ھَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيَہُمُ اللہُ فِيْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰۗىِٕكَۃُ وَقُضِيَ الْاَمْرُ۝ ٠ ۭ وَاِلَى اللہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۝ ٢١٠ ۧ نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، وقال : إِلى طَعامٍ غَيْرَ ناظِرِينَ إِناهُ [ الأحزاب/ 53] أي : منتظرین، ( ن ظ ر ) النظر کے معنی کسی چیز کو دیکھنے یا اس کا ادراک کرنے کے لئے آنکھ یا فکر کو جو لانی دینے کے ہیں ۔ پھر کبھی اس سے محض غو ر وفکر کرنے کا معنی مراد لیا جاتا ہے اور کبھی اس معرفت کو کہتے ہیں جو غور وفکر کے بعد حاصل ہوتی ہے ۔ چناچہ محاور ہ ہے ۔ نظرت فلم تنظر۔ تونے دیکھا لیکن غور نہیں کیا ۔ چناچہ آیت کریمہ : قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] ان کفار سے کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے ۔ اور النظر بمعنی انتظار بھی آجاتا ہے ۔ چناچہ نظرتہ وانتظرتہ دونوں کے معنی انتظار کرنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] اور نتیجہ اعمال کا ) تم بھی انتظار کرو ۔ ہم بھی انتظار کرتے ہیں أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو۔ ظلل الظِّلُّ : ضدُّ الضَّحِّ ، وهو أعمُّ من الفیء، فإنه يقال : ظِلُّ اللّيلِ ، وظِلُّ الجنّةِ ، ويقال لكلّ موضع لم تصل إليه الشّمس : ظِلٌّ ، ولا يقال الفیءُ إلّا لما زال عنه الشمس، ويعبّر بِالظِّلِّ عن العزّة والمنعة، وعن الرّفاهة، قال تعالی: إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلالٍ [ المرسلات/ 41] ، أي : في عزّة ومناع، ( ظ ل ل ) الظل ۔ سایہ یہ الضح ( دهوپ ) کی ضد ہے اور فیی سے زیادہ عام ہے کیونکہ ( مجازا الظل کا لفظ تورات کی تاریکی اور باغات کے سایہ پر بھی بولا جاتا ہے نیز ہر وہ جگہ جہاں دہوپ نہ پہنچنے اسے ظل کہہ دیا جاتا ہے مگر فییء صرف اس سے سایہ کو کہتے ہیں جوز وال آفتاب سے ظاہر ہو ہے اور عزت و حفاظت اور ہر قسم کی خش حالی کو ظل سے تعبیر کرلیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلالٍ [ المرسلات/ 41] کے معنی یہ ہیں کہ پرہیز گار ہر طرح سے عزت و حفاظت میں ہوں گے ۔ غم الغَمُّ : ستر الشیء، ومنه : الغَمَامُ لکونه ساترا لضوء الشمس . قال تعالی: يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمامِ [ البقرة/ 210] . والغَمَّى مثله، ومنه : غُمَّ الهلالُ ، ويوم غَمٌّ ، ولیلة غَمَّةٌ وغُمَّى، قال : ليلة غمّى طامس هلالها وغُمَّةُ الأمر . قال : ثُمَّ لا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً [يونس/ 71] ، أي : كربة . يقال : غَمٌ وغُمَّةٌ. أي : كرب وکربة، والغَمَامَةُ : خرقة تشدّ علی أنف النّاقة وعینها، وناصية غَمَّاءُ : تستر الوجه . ( غ م م ) الغم ( ن ) کے بنیادی معنی کسی چیز کو چھپا لینے کی ہیں اسی سے الغمیٰ ہے جس کے معنی غبار اور تاریکی کے ہیں ۔ نیز الغمیٰ جنگ کی شدت الغمام کہتے ہیں کیونکہ وہ سورج کی روشنی کو ڈھانپ لیتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمامِ [ البقرة/ 210] کہ خدا کا عذاب بادلوں کے سائبانوں میں آنازل ہوا ۔ اسی سے غم الھلال ( چاند ابر کے نیچے آگیا اور دیکھا نہ جاسکا ۔ ویوم غم ( سخت گرم دن ولیلۃ غمۃ وغمی ٰ ( تاریک اور سخت گرم رات ) وغیرہ ہا محاورات ہیں کسی شاعر نے کہا ہے ( جز ) ( 329) لیلۃ غمی ٰ طامس ھلالھا تاریک رات جس کا چاند بےنور ہو ۔ اور غمۃ الامر کے معنی کسی معاملہ کا پیچدہ اور مشتبہ ہونا ہیں ، قرآن پاک میں ہے : ۔ ثُمَّ لا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً [يونس/ 71] پھر تمہارا معاملہ تم پر مشتبہ نہ رہے ۔ یعنی پھر وہ معاملہ تمہارے لئے قلق و اضطراب کا موجب نہ ہو اور غم وغمۃ کے ایک ہی معنی ہیں یعنی حزن وکرب جیسے کرب وکربۃ اور غمامۃ اس چیتھڑے کو کہتے ہیں جو اونٹنی کی ناک اور آنکھوں پر باندھ دیا جاتا ہے تاکہ کسی چیز کو دیکھ یاسونگھ نہ سکے ) اور ناصیۃ غماء پیشانی کے لمبے بال جو چہرے کو چھالیں ۔ ملك ( فرشته) وأما المَلَكُ فالنحویون جعلوه من لفظ الملائكة، وجعل المیم فيه زائدة . وقال بعض المحقّقين : هو من المِلك، قال : والمتولّي من الملائكة شيئا من السّياسات يقال له : ملک بالفتح، ومن البشر يقال له : ملک بالکسر، فكلّ مَلَكٍ ملائكة ولیس کلّ ملائكة ملکاقال : وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] ، عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] ( م ل ک ) الملک الملک علمائے نحو اس لفظ کو ملا ئکۃ سے ماخوذ مانتے ہیں اور اس کی میم کو زائد بناتے ہیں لیکن بعض محقیقن نے اسے ملک سے مشتق مانا ہے اور کہا ہے کہ جو فرشتہ کائنات کا انتظام کرتا ہے اسے فتحہ لام کے ساتھ ملک کہا جاتا ہے اور انسان کو ملک ہیں معلوم ہوا کہ ملک تو ملا ئکۃ میں ہے لیکن کل ملا ئکۃ ملک نہیں ہو بلکہ ملک کا لفظ فرشتوں پر بولا جاتا ہے کی طرف کہ آیات ۔ وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] اور فرشتے اس کے کناروں پر اتر آئیں گے ۔ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] اور ان باتوں کے بھی پیچھے لگ گئے جو دو فرشتوں پر اتری تھیں ۔ أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته : إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے ھل ینظرون الا ان یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام والملئکۃ ان ساری نصیحتوں اور ہدایتوں کے بعد بھی لوگ سیدھے نہ ہوں تو) کیا اب وہ اس کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کا چتر لگائے فرشتوں کے پرے ساتھ لیے خود سامنے آ موجود ہو) یہ آیت متشابہات میں سے ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ان کو محکمات کی طرف لوٹایا جائے۔ قول باری ہے (ھو الذی انزل علیک الکتب منہ ایات محکمات ھن ام الکتاب واخرمتشابھات، فاما الذین فی قلوبھم ذیغ فیتبعون ماتشابہ منہ وہی خدا ہے جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے۔ اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں۔ ایک محکمات جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ ہمیشہ متشابہات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں) ایسی آیت کو متشابہ اس لئے کہا گیا ہے کہ اس میں یہ احتمال ہے کہ لفظ اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہو اور اللہ سچ مچ آ جائے اور یہ احتمال کہ اس سے مراد اللہ کا امر اور اس کی نشانیاں ہیں جو اس کی ذات اور قدرت پر دلالت کرتی ہیں جس طرح کہ ایک اور جگہ ارشاد ہوا (ھل ینظرون الا ان تاتیھم الملائکۃ اویاتی امر ربک اویاتی بعض آیات ربک کیا وہ اب اس کے منتظر ہیں کہ فرشتے ان کے پاس آ اجئیں یا تیرے رب کا امر آ جائے یا تیرے رب کی بعض نشانیاں آ جائیں) ۔ یہ تمام آیات متشابہات اس معنی پر محمول ہیں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول (ائو یاتی ربک ) میں کیا ہے۔ سا لئے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے آنا جانا، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا اور زوال ان تمام باتوں کا ثبوت جائز نہیں ہے اس لئے کہ یہ تمام باتیں اجسام کی صفات اور حدوث کی نشانیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محکم قول میں یہ فرما دیا ہے (لیس کمثلہ شیء اس جیسی کوئی چیز نہیں ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ستاروں کی حرکات، ان کی منتقلی اور ان کے زوال کو ان کے حدوث کی دلیل قرار دیا اور اپنی قوم کے خلاف اس سے استدلال کیا چناچہ قول باری ہے (وتلک ججتنا اتینا ھا ابراھیم علی قومہ یہ ہماری وہ حجت ہے جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلے میں عطا کیا) یعنی کواکب اور اجسام کے حدوث کے متعلق، اللہ تعالیٰ تجیم و تشبیہ کے قائلین کے قول سے بہت بلند ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ آیا یہ جائز ہے کہ جاء ربک (تیرا پروردگار آیا) جاء کتابہ یا جاء رسولہ ( اس کی کتاب آئی یا اس کا رسول آیا) یا اسی قسم کے کسی اور فقرے کے معنی میں ہو ؟ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ مجاز ہے اور مجاز کا استعمال صرف اس جگہ ہوتا ہے جہاں مجازی معنی مراد لینے کی دلیل موجود ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (واسئلک القریۃ گائوں سے پوچھو) اور اس سے مرا دلیا گائوں والوں سے پوچھو۔ اسی طرح فرمایا (والذین یوذون اللہ و رسولہ اور وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں) یہاں مراد ہے کہ اللہ کے دوستوں کو ایذا پہنچاتے ہیں۔ مجاز تو صرف اسی جگہ استعمال ہوتا ہے جہاں اس کے استعمال کے لئے دلیل موجود ہو یا سننے والے کے لئے اس کے معنی میں کوئی اشتباہ نہ ہو۔ قول باری ہے (والی اللہ ترجع الامور، اور آخر کار سارے معاملات پیش تو اللہ ہی کے حضور ہونے والے ہیں ۔ اس کی دو طرح سے تفسیر کی گئی ہے اول یہ کہ پیشتر اس سے کہ بندے کسی امر کے مالک ہوتے تمام معاملات اللہ ہی کے ہاتھ میں تھے پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت سے معاملات کا مالک بنادیا اب آخرت میں پھر سے تمام معاملات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوں گے۔ مخلوق کے ہاتھ میں کچھ نہ ہوگا ۔ اس لئے یہ کہنا درست ہوگیا کہ تمام معاملات اسی کی طرف لوٹا دیئے جائیں گے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس فقرے کے وہی معنی ہیں جو قول باری (الا الی اللہ تصیر الامور آگاہ رہو تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ ان تمام معاملات کا مالک ہے اس کے سوا اور کوئی مالک نہیں ہے ان معاملات پر اس کی ملکیت اس طرح نہیں ہے کہ پہلے یہ معاملات اس کے قبضہ قدرت میں نہیں تھے پھر ہوگئے بلکہ اس طرح کہ اس کے سوا ان کا کوئی اور مالک نہیں ہے۔ لبید کا ایک شعر : وما المرء الا کا لشھاب وضوء لا یحوردماداً بعد از ھوسا طع انسان کی حقیقت ایک چنگاری اور اس کی روشنی کی طرح ہے کہ چمکنے کے بعد وہ راکھ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ شاعر کی مراد یہ ہے کہ وہ راکھ ہوجائے گا اس طریقے پر نہیں کہ پہلے وہ راکھ تھا اب پھر اپنی اصلیت کی طرف لوٹ گیا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢١٠) کیا اہل مکہ اس چیز کا انتظار کررہے ہیں کہ بغیر کسی کیفیت کے قیامت کا دن آجائے اور اللہ تعالیٰ اس کام سے فارغ ہوجائے، اہل جنت کو جنت میں اور اہل دوزخ کو دوزخ میں داخل کردے اور آخرت میں تمام کاموں کا انجام اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢١٠ (ہَلْ یَنْظُرُوْنَ الاَّ اَنْ یَّاْتِیَہُمُ اللّٰہُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلآءِکَۃُ وَقُضِیَ الْاَمْرُ ط) یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح احکامات اور تنبیہات آجانے کے بعد بھی کج روی سے باز نہیں آتے تو کیا وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنا جلال دکھائے اور فرشتوں کی افواج قاہرہ کے ساتھ ظاہر ہو کر ان کا حساب چکا دے ؟ انسان کا نفس اسے ایک تو یہ پٹی پڑھاتا ہے کہ دین کے اس حصے پر تو آرام سے عمل کرتے رہوجو آسان ہے ‘ باقی پھر دیکھا جائے گا۔ گویا میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو۔ دوسری پٹی یہ پڑھاتا ہے کہ ٹھیک ہے یہ بھی اللہ کا حکم ہے اور دین کا بھی تقاضا ہے ‘ لیکن ابھی ذرا ذمہ داریوں سے فارغ ہوجائیں ‘ ابھی ذرا بچوں کے معاملات ہیں ‘ بچے برسر روزگار ہوجائیں ‘ بچیوں کے ہاتھ پیلے ہوجائیں ‘ میں ریٹائرمنٹ لے لوں اور اپنا مکان بنا لوں ‘ پھر میں اپنے آپ کو دین کے لیے خالص کرلوں گا۔ یہ نفس کا سب سے بڑا دھوکہ ہے۔ اس طرح وقت گزرتے گزرتے انسان موت کی وادی میں چلا جاتا ہے۔ کیا معلوم موت کی گھڑی کب آجائے ! یہ مہلت عمر تو اچانک ختم ہوسکتی ہے۔ پوری دنیا کی قیامت بھی جب آئے گی اچانک آئے گی اور ہر شخص کی ذاتی قیامت تو اس کے سر پر تلوار کی طرح لٹکی ہوئی ہے۔ ازروئے حدیث نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : (مَنْ مَّاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُہٗ ) (٢٥) جو مرگیا تو اس کی قیامت تو آگئی ! تو کیا تمہارے پاس کوئی گارنٹی ہے کہ یہ سارے کام کرلو گے اور یہ سارے کام کر چکنے کے بعد زندہ رہو گے اور تمہارے جسم میں توانائی کی کوئی رمق بھی باقی رہ جائے گی کہ دین کا کوئی کام کرسکو ؟ تو پھر تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو ؟ ہوسکتا ہے اچانک اللہ کی طرف سے مہلت ختم ہوجائے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

228. These words are indicative of an important fact. Man's test lies in showing whether he accepts reality even though he cannot perceive it directly through his senses; and whether, after having accepted it, he has the required moral stamina to obey God even though he is endowed with the capacity to disobey Him. In sending the Prophets, in revealing the Scriptures, indeed, even in performing miracles, God has always taken care to leave scope for testing man's power of judgement and his moral stamina. He has never disclosed reality to such a degree that man would be inevitably compelled to accept it. For if that were done, nothing would remain to be tested and the very idea of man's success or failure would be meaningless. It is pointed out, therefore, that people should not keep waiting for God and the angels - the devoted servants of His realm - to appear before them. If that were to happen, it would mark the end of everything and there would be no occasion left for man to decide anything. To believe and to bow in submission and obedience to God are of value only so long as the reality is presented in such a way as to make its rejection possible. For, if the Truth were to be fully disclosed and if men were to see with their own eyes God on His Throne of Majesty with the entire universe acting according to His command, what would be the worth of their faith and obedience? If all these things were physically observable not even the most stubborn unbelievers and the worst sinners would dare either to disbelieve or disobey. Acceptance of faith and obedience has value only as long as there remains a veil over reality. The moment when reality is totally unveiled would mark the end of the period granted to man to decide, and of the testing period for him. It would, in fact, be the Day of Judgement.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :228 یہ الفاظ قابل غور ہیں ۔ ان سے ایک اہم حقیقت پر روشنی پڑتی ہے ۔ اس دنیا میں انسان کی ساری آزمائش صرف اس بات کی ہے کہ وہ حقیقت کو دیکھے بغیر مانتا ہے یا نہیں اور ماننے کے بعد اتنی اخلاقی طاقت رکھتا ہے یا نہیں کہ نافرمانی کا اختیار رکھنے کے باوجود فرماں برداری اختیار کرے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انبیا کی بعثت میں ، کتابوں کی تنزیل میں ، حتّٰی کہ معجزات تک میں عقل کے امتحان اور اخلاقی قوت کی آزمائش کا ضرور لحاظ رکھا ہے اور کبھی حقیقت کو اس طرح بے پردہ نہیں کر دیا ہے کہ آدمی کے لیے مانے بغیر چارہ نہ رہے ۔ کیونکہ اس کے بعد تو آزمائش بالکل بے معنی ہو جاتی ہے اور امتحان میں کامیابی و ناکامی کا کوئی مفہوم ہی باقی نہیں رہتا ۔ اسی بنا پر یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ اس وقت کا انتظار نہ کرو ، جب اللہ اور اس کی سلطنت کے کارکن فرشتے خود سامنے آ جائیں گے ، کیونکہ پھر تو فیصلہ ہی کر ڈالا جائے گا ۔ ایمان لانے اور اطاعت میں سر جھکا دینے کی ساری قدر و قیمت اسی وقت تک ہے ، جب تک حقیقت تمہارے حواس سے پوشیدہ ہے اور تم محض دلیل سے اس کو تسلیم کر کے اپنی دانشمندی کا اور محض فہمائش سے اس کی پیروی و اطاعت اختیار کر کے اپنی اخلاقی طاقت کا ثبوت دیتے ہو ۔ ورنہ جب حقیقت بے نقاب سامنے آجائے اور تم بچشم سر دیکھ لو کہ یہ خدا اپنے تخت جلال پر متمکن ہے ، اور یہ ساری کائنات کی سلطنت اس کے فرمان پر چل رہی ہے ، اور یہ فرشتے زمین و آسمان کے انتظام میں لگے ہوئے ہیں ، اور یہ تمہاری ہستی اس کے قبضہ قدرت میں پوری بے بسی کے ساتھ جکڑی ہوئی ہے ، اس وقت تم ایمان لائے اور اطاعت پر آمادہ ہوئے ، تو اس ایمان اور اطاعت کی قیمت ہی کیا ہے؟ اس وقت تو کوئی کٹّے سے کٹّا کافر اور بدتر سے بدتر مجرم و فاجر بھی انکار و نافرمانی کی جرأت نہیں کر سکتا ۔ ایمان لانے اور اطاعت قبول کرنے کی مہلت بس اسی وقت تک ہے جب تک کہ پردہ کشائی کی وہ ساعت نہیں آتی ۔ جب وہ ساعت آگئی ، تو پھر نہ مہلت ہے نہ آزمائش ، بلکہ وہ فیصلے کا وقت ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

139: مختلف کفار اور خاص طور پر یہود مدینہ، اس قسم کے مطالبات کرتے تھے کہ اﷲ تعالیٰ براہ راست ہمیں نظر آکر ہمیں ایمان لانے کا حکم کیوں نہیں دیتا ؟ یہ آیت اس قسم کے مطالبات کا جواب دے رہی ہے، اور وہ یہ کہ یہ دنیا آزمائش کے لئے بنائی گئی ہے کہ انسان اپنی عقل استعمال کرے اور کائنات میں پھیلے ہوئے واضح دلائل کی روشنی میں اللہ کی توحید اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اسی لئے اس آزمائش میں اصل قیمت ایمان بالغیب کی ہے۔ اگر اﷲ تعالیٰ براہ راست نظر آجائیں تو آزمائش کیا ہوئی؟ اور اﷲ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جب غیب کی چیزیں انسان کو آنکھوں سے نظر آجائیں تو پھر ایمان معتبر نہیں ہوتا اور ایسا اسی وقت ہوگا جب یہ کائنات ختم کرکے سزا اور جزا کا مرحلہ آجائے گا۔ معاملہ چکانے سے یہاں یہی مراد ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

اس قسم کی آیات اور احادیث میں دو مذہب ہیں ایک مذہب تو زمانہ سلف کے متقدمین کا ہے کہ اس طرح کی آیا اور احادیث میں وہ کسی طرح کی تاویل نہیں کرتے بلکہ ان کو ظاہر معنوں میں چھوڑ کر ان کی تلاوت کرتے ہیں۔ اور ان کی پوری کیفیت اور حالت کو اللہ کے علم پر سونپ دیتے ہیں اور ایک مذہب متاخرین کا ہے جن میں اکثر متاخرین کے فرقہ کے لوگ ہیں اب جن علماء مفسرین نے اپنی تفسیروں کا مدار سلف کے مذہب پر رکھا ہے انہوں نے اس قسم کی آیات کے تحت میں اس مضمون کی حدیثیں بھی نقل کیں ہیں اور بلا کیفیت کے ظاہر معنی پر آیت کو زیادہ واضح کردیا ہے۔ ١۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

ہل۔ حرف استفہام ہے۔ یہاں استفہام انکاری کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ہل ینظرون۔ ای ما ینظرون۔ ینظرون بمعنی ینتظرون۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ نظر (باب نصر) مصدر سے ضمیر فاعل، ان لوگوں کے لئے ہے جو اسلام میں پورے پورے داخل نہیں ہوئے۔ ای من یترک الدخول فی السلم کافۃ۔ ہل ینظرون ای ما ینتظرون۔ الا۔ حرف استثنائ۔ ظلل۔ سائبان۔ بدلیاں۔ ظللۃ کی جمع ہے جیسے غرفۃ کی جمع غرف ہے۔ الغمام۔ ابر۔ سفیدابر۔ غمامۃ کی جمع۔ ہل ینظرون الا ان یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام والملئکۃ۔ یہ انتظار نہیں کر رہے مگر (اس بات کی) کہ اللہ اور اس کے فرشتے (ان کے اعتقاد کے موافق) سفید بادلوں کے سائبانوں کے سایہ تلے۔ ان کے اوپر آویں (جیسا کہ کوہ طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں بادلوں میں سے دھواں اور خڑک اور شعلہ معلوم ہوا اور خدا وند تعالیٰ کا جلوہ دکھائی دیا) تفسیر حقانی۔ وقضی الامر۔ قضی۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ اور معاملہ کا فیصلہ کیا جائے۔ اور معاملہ نپٹا دیا جائے (یعنی وہ امور جو ابھی تک نو مسلم یہودیوں اور نصاری کے دلوں میں جاگزیں تھے اور ون کا کافۃ اسلام میں داخل ہونے سے مانع تھے ان کو رو برو فیصلہ ہوجاویں) نیز ملاحظہ ہو نوٹ نمبر 764 سورة البقرۃ تفسیر ماجدی) ۔ والی اللہ ترجمع الامور۔ اور اللہ کی ہی طرف تمام امور (قطعی فیصلہ کے لئے) لوٹائے جاتے ہیں ۔ ترجع۔ مضارع مجہول واحد مؤنث غائب۔ رجع مصدر سے۔ (باب ضرب) باب ضرب سے ہی مصدر رجع سے بطور فعل لازم بمعنی لوٹنا آتا ہے۔ آیت ہذا میں بصورت اول مستعمل ہے۔ آیت ہذا کی مزید تشریح کے لئے عبد اللہ یوسف علی کی تفسیر نوٹ نمبر 231 بھی ملاحظہ ہو) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 رجز وتہدید ہے یعنی یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟ یہی تاکہ جو کچھ قیامت میں ہونے والا ہے وہ آج ہی ہوجائے۔ (قرطبی) قیامت کے دن مذکورہ صورت میں اللہ تعالیٰ کا نزول احادیث سے ثابت ہوتا ہے لہذا اللہ تعالیٰ کے دوسرے صفات و افعال اور شوؤن کی طرح اس پر بھی بلا کیف اور بغیر تاویل کے ایمان لانا ضروری ہے۔ سلف صالح کا یہی مسلک ہے متکلمین اور عقل پر ستوں کی تاویلات مذہب اہل حدیث اور سلف امت کے خلاف میں۔ (روح۔ ترجمان) اور بقول اما رازی اگر یہ کہہ دیا جائے کہ اس آیت میں یہود کے عقیدہ کی حکایت اور ان کے خیال کی ترجمانی ہے قطع نظر اس سے کہ ان کا یہ خیال غلط ہے یا صحیح اور یہود چونکہ تشبیہ کے قائل تھے لہذا آیت سے اپنے ظاہر معنی پر محمول ہے اور تاویل کی ضرورت نہیں تو بالکل بجا ہے۔ (کبیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ روح المعانی میں بسند ابن مردویہ بروایت ابن مسعود پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حدیث نقل کی ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تمام اولین وآخرین کو جمع فرمائیں گے اور سب منتظر حساب و کتاب کے ہوں گے اللہ تعالیٰ ابر کے سائبانوں میں عرش پر تجلی فرمائیں گے اور ابن عباس کی روایت نقل کی ہے کہ ان سائبانوں کے گرد ملائکہ ہوں گے سو آیت میں اس قصہ کی طرف اشارہ ہے مطلب یہ ہوا کہ قیامت کے منتظر ہیں پھر اس وقت کیا ہوسکتا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ھل ، کے لفظ کے ساتھ عربی میں ایسا سوال ہوتا ہے جس میں ناپسندیدگی کا اظہار بھی ہو۔ اس کے جواب میں وہ وجوہات بیان کی گئیں ہیں جن کی وجہ سے بعض مخالفین ، اسلام کو قبول کرنے میں پش وپیش کررہے ہیں اور پورے کے پورے اسلام میں داخل نہیں ہوتے ۔ وہ کیا وجہ ہے جس کی وجہ سے وہ اسلام کی اس دعوت کو قبول نہیں کرتے ؟ وہ کس چیز کا انتطار کررہے ہیں ۔ یہ اسی طرح بغیر کسی وجہ کے انتظار کرتے رہیں گے ، اور اللہ تعالیٰ بادلوں کا کا چتر لگائے آجائے گا۔ فرشتے آجائیں گے ؟ بالفاظ دیگر کیا یہ لوگ اس خوفناک دن کا انتظارکر رہے ہیں ۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اللہ بادلوں کا چتر لگائے ہوئے آئیں گے اور فرشتے صفیں باندھے ہوئے ہوں گے کوئی بات نہ کرے گا ۔ مگر وہ شخص جسے بات کی اجازت ہوگی اور وہ بات بھی درست کررہا ہوگا۔ اچانک ........ ہم اس تہدید آمیز سوال کے بارے میں سوچ ہی رہے تھے کہ اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ گویا وہ دن پہنچ ہی گیا اور فیصلہ ہو ہی گیا ۔ معاملہ ختم ہی ہوگیا ۔ لوگوں کے سامنے اچانک وہ منظر آجاتا ہے ، جس سے انہیں ڈرایا جارہا تھا۔ جس کی طرف اشارہ ہورہا تھا۔ قُضِيَ الأمْرُ (” اور فیصلہ ہو ہی گیا) “ وقت کا دفتر لپیٹ کر رکھ دیا گیا ۔ فرصت کے اوقات ختم ہوگئے ۔ نجات مشکل ہوگئی ۔ اب تو گویا لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہیں۔ اس اللہ کے سامنے جس کے آگے سارے معاملات کو پیش ہونا ہے : وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الأمُورُ ” تمام امور نے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے ۔ “ یہ قرآن مجید کا انوکھا انداز ہے ۔ تمام دوسری تقاریر اور تحریروں سے یہ انداز اسے امتیازی حیثیت دیتا ہے ۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ قرآن مجید ، چند لمحوں کے اندر اندر کسی بھی منظر کو زندہ ومتحرک صورت میں پیش کرتا ہے ۔ انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ گویا وہ اس منظر کے سامنے کھڑا ہے اور وہ دیکھتا ہے ، سنتا ہے ، اور اپنی آنکھوں سے گویا اس منظر کا معائنہ کررہا ہے۔ کب تک یہ لوگ پیچھے رہیں گے اور اس سلامتی میں داخل نہ ہوں گے ۔ خوفناک دن ان کے انتظار میں ہے ۔ بلکہ وہ اچانک ان پر آنے ہی والا ہے ۔ اور سلامتی ان کے قریب ہے ۔ دنیا کی سلامتی اور آخرت کی سلامتی ، جس دن آسمان پر بادل پھٹے پھٹے ہوں گے اور فرشتے اتر رہے ہوں گے ۔ جس دن روح اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہوں گے ، کوئی نہ بولے گا سوائے اس کے جسے رحمان اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے ، وہ دن جب فیصلہ اللہ کرے گا ۔ وہ دیکھو گویا اس نے معاملات چکا دئیے اور سب معاملات کو آخر کار اللہ کے حضور پیش ہونا ہی ہے ۔ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الأمُورُ اب اس اندازکلام میں اچانک ایک اور تبدیلی آتی ہے ۔ روئے سخن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جاتا ہے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا جاتا ہے کہ ذرا بنی اسرائیل سے تو پوچھئے ، بنی اسرائیل ان لوگوں کے سرخیل تھے جو دعوت اسلامی کو قبول کرنے میں متردد تھے اور پس وپیش کرتے تھے ۔ اسی صورت میں ان کے بارے میں کہا گیا ہے ” اللہ نے بیشمار واضح نشانیاں انہیں دکھائیں لیکن پھر بھی انہوں نے دعوت کو قبول نہ کیا۔ لیکن انہوں نے ایمان کی نعمت اور سلامتی کے مقابلے میں کفر کو اختیار کیا ۔ حالانکہ یہ انعامات بذریعہ رسول خود ان کے ہاں بھیجی گئیں تھیں۔ “

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حق قبول نہ کرنے پر وعید جو لوگ واضح دلائل کے بعد بھی دین اسلام میں داخل نہیں ہوتے انہیں کیا انتظار ہے ان کے طور طریق سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بس اسی کا انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ اور اس کے فرشتے بادلوں کے سائبانوں میں آجائیں اور ان کو ان کے کفر کی سزا مل جائے، اور سارا فیصلہ ہوجائے، پھر آگے اسلام قبول کرنے کا موقعہ ہی نہیں ہے۔ کیونکہ عذاب سامنے آنے کے بعد اسلام قبول نہیں ہوتا، پھر فرمایا کہ تمام امور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ وہ قاضی روز جزا ہے۔ اس دن مجازی صاحب اختیار بھی کوئی نہ ہوگا۔ وہ حق کے ساتھ فیصلے فرمائے گا، اھل کفر کے بارے میں دائمی عذاب کا فیصلہ ہوگا۔ لہٰذا اپنا انجام سوچ لیں۔ فائدہ : لفظ یاتیھم اللّٰہ میں جو اللہ تعالیٰ کی طرف اتیان (یعنی آنے) کی نسبت کی ہے اس پر ایمان لائیں۔ مفہوم کے سمجھنے اور معنی کریدنے میں نہ لگیں۔ سلف کا یہی طریقہ ہے، اور بعض حضرات نے مضاف مقدر مانا ہے۔ قال القرطبی ص ٢٥ ج ٣ و قیل لیس الکلام علی ظاھرہ فی حقہ سبحانہ وانما المعنیٰ یأتیھم امر اللّٰہ و حکمہ، و قیل ای بما وعدھم من الحساب والعذاب۔ مطلب یہ ہے کہ (یَأْتِیَھُمُ اللّٰہُ ) سے اللہ کا أمر اور اس کا حکم اور عذاب آنا مراد ہے۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

398 یہ تخویف دنیوی ہے۔ وہ شریر لوگ جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہر وقت شرارتوں میں مصروف رہتے ہیں اور جن کی شرارتیں اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اب وہ قیامت سے پہلے شروفساد سے باز نہیں آئیں گے۔ ان سے کیوں جہاد نہیں کرتے ہو۔ یُنْظَرُوْنَ کی ضمیر یہود کی طرف راجع ہے (روح ص 98 ج 2) یہودی اللہ تعالیٰ کے جسم کے قائل تھے اور ان کا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ جب ٹھاٹھ اور شان و شوکت سے آتا ہے تو بادلوں پر سواری کر کے آتا ہے۔ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ نے کوہ طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تجلی ڈالی تھی وہ بادلوں ہی سے ڈالی تھی۔ تو یہاں اللہ تعالیٰ نے انہیں کے خیال کے مطابق فرمایا کہ یہ یہودی جو اسلام کو قبول نہیں کر رہے یہ اس انتظار میں ہیں کہ اللہ اور اس کے فرشتے بادلوں پر سوار ہو کر آئیں اور قیامت قائم ہوجائے تو پھر انہیں اسلام کی صداقت کا یقین ہوجائے گا۔ اور وہ اسلام قبول کرلیں گے۔ وذلک لان الیھود کانوا علی مذھب التشبیہ وکانوا یجوزون علی اللہ لمجئ ولذھاب وکانوا یقولون انہ تعالیٰ تجلی لموسی (علیہ السلام) علی الطور فی ظلل من الغمام (کبیر ص 293 ج 2) اور تورات میں ہے۔ " دیکھو خداوند ایک تیز رو بادل پر سوار ہو کر مصر میں آتا ہے اور مصر کے بت اس کے حضور لرزاں ہوں گے "۔ (کتاب یسعیاہ باب 19 فقر 1) تنبیہ :۔ اہل سنت کے نزیک اللہ تعالیٰ نہ جسم ہے اور نہ کسی جسم کے مشابہ ہے۔ اور آنا جانا جسم کی صفات میں سے ہے اس لیے اللہ تعالیٰ آمدورفت سے منزہ اور پاک ہے۔ اس لیے بہت سے مفسرین نے اس آیت کو متشابہات میں قرار دیا ہے اور اس کی تفسیر سے سکوت اختیار کیا ہے۔ اور بعض نے یہاں مضاف محذوف مانا ہے یعنی امر اللہ یا عذاب اللہ۔ جو توجیہہ ہم نے اوپر لکھی ہے اسے امام رازی (رح) نے ترجیح دی ہے۔ وَقُضِيَ الْاَمْرُ ۔ اور بندوں کے حساب و کتاب کا معاملہ طے ہوجائے اور نیک وبد اپنے اپنے انجام کو پہنچ جائیں۔ ای اتم امرالعباد وحسابھم فاثیب الطائع وعوقب العاصی (روح ص 99 ج 2) وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ۔ اور تمام کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 اے ایمان والو ! تم اسلام میں پوری طرح داخل ہوجائو اور اسلام کے تمام احکام مانو ! اور شیطان کے قدم بہ قدم نہ چلو اور اس امر کا یقین کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے پھر اگر اس کے بعد بھی کہ تم کو صاف صاف احکام اور واضح اور روشن دلائل پہونچ چکے ہیں تم سیدھی راہ سے ڈگمگا جائو گے اور پھسل جائو گے تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ بڑا زبردست اور بڑی رحمت کا مالک ہے کیا یہ لوگ جو دلائل کی روشنی حاصل ہونے کے بعد بھی راہ مستقیم سے ہٹتے ہیں صرف اس بات کی راہ دیکھ رہے ہیں اور صرف اس امر کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور فرشتے بادل کے سائبانوں میں ان کے پاس آئیں اور تمام کاموں کا فیصلہ ہی کردیاجائے اور تمام فیصلہ ہی چکا دیاجائے حالانکہ بندوں کے تمام کاموں کا مرجع تو اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور تمام امور اس کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ (تیسیر) شریعت موسویہ میں بعض باتیں ناجائز تھیں اور بعض کی تعظیم ضروری تھیں مثلاً ہفتہ کے دن کی تعظیم ضروری تھی اور اونٹ کا گوشت اور دودھ حرام تھا اب بعض یہود نے اسلام قبول کرنے کے بعد یہ خیال کیا کہ اسلام میں ہفتہ کے دن کی توہین اور تذلیل ضروری نہیں اور شریعت موسویہ میں تعظیم واجب ہے اسی طرح اونٹ کا گوشت کھانا اور دودھ پینا اسلامی شریعت میں فرض نہیں اور شریعت موسویہ میں حرام ہے اس لئے اگر ہم لوگ ہفتہ کے دن کی تعظیم کا اعتقاد رکھیں مگر علماً تعظیم نہ کریں اور اونٹ کا گوشت اور دودھ ترک کردیں اگرچہ حرام ہونے کا اعتقاد نہ رکھیں تو اس میں شریعت موسویہ کی رعایت بھی ہوجائے گی اور اسلا میں بھی ہم کسی بدعت کے مرتکب نہ ہوں گے بعض نومسلم یہودنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ دریافت کیا یا رسول اللہ ! اگر ہم رات کو تہجد کی نماز میں بجائے قرآن شریف کے توریت پڑھ لیا کریں تو اس میں کوئی خرابی تو نہیں۔ اس قسم کے شکوک و شبہات کو دور کرنے کی غرض سے فرمایا کہ اسلام میں پوری طرح داخل ہو یہ نہ کرو کہ کچھ یہودیت اختیار کرو اور کچھ اسلام کی باتیں مانو۔ اسلام ایک کامل مذہب ہے اس کا کامل ہونا جب ہی ہے کہ جس چیز کی رعایت اسلام میں نہیں ہے اس کی رعایت نہ کی جائے اور کسی ایسے کام کو جو اسلام نے دین نہیں بتایا اس کو دین سمجھ کر نہ کیا جائے ایسا کرنا ایک شیطانی لغزش ہے اور اسی حکم سے بدعات اور رسومات کفر یہ کو لازم سمجھ کر کرنا اور بدعات کو دین سمجھ کر بجا لانے کی خرابی اور مردود ہونا معلوم ہوتا ہے۔ بعض حضرات نے اس آیت کو بھی عام رکھا ہے اور ان اہل کتاب کے ساتھ خاص نہیں رکھا جو مسلمان ہوچکے تھے لیکن آگے کی آیتوں کے ربط کا لحظ رکھتے ہوئے پہلا ہی قول بہتر معلوم ہوتا ہے اگرچہ عموم کی گنجائش بھی ہے اور یہ معنی ہوسکتے ہیں کہ سب کے سب اسلام میں داخل ہوجائو۔ سلم خواہ فتح سین کے ساتھ ہو یا کسرئہ سین کے ساتھ ہو دونوں کے معنی انقیاد اور اطاعت اور اسلام کے ہیں صحیح تحقیق یہی ہے کافۃ کے معنی پور سے کے ہیں یعنی پورے پورے اسلام میں داخل ہو جائو اور پوری طرح شریعت اسلامیہ کے فرمانبردار بن جائو۔ الزلل کے اصلی معنی تو پائوں پھسل جانے کے ہیں مگر یہاں مراد یہ ہے کہ دین حق سے عدول کر جائو اور راہ حق کو چھوڑ دو بیتنۃ کے معنی روشن دلیل اور واضح حجت ہیں چونکہ بعض نے یہاں اس لفظ سے احکام مراد لئے تھے اس لئے ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں دونوں کا لحاظ رکھا ہے۔ عزیز حکیم کا مطلب یہ ہے کہ بےپناہ قوت کے مالک ہیں چاہیں تو ابھی سزا دے دیں لیکن چونکہ حکیم ہیں اس لئے بعض مصالح کے اعتبار سے مجرم کی فوری گرفت نہیں کرتے۔ ھل ینظرون کے لفظی معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ نہیں انتظار کر گے مگر اس بات کا ہم نے محاورے کی رعایت سے یوں ترجمہ کیا ہے کہ یہ لوگ صرف اس امر کے منتظر ہیں۔ ظلۃ کہتے ہیں سائبان کو یا وہ چیز جو سایہ کرے حتیٰ کہ آج کل چھتری کو بھی ظلہ کہہ دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی تشریف آوری کی حقیقت تو معلوم نہیں ہوسکتی۔ ابن جریر (رض) نے ایک روایت ابوہریرہ (رض) سے نقل کی ہے حدیث طویل ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جب لو گ حشر کے میدان میں کھڑے ہوں گے اور گرمی اور پسینوں سے پریشان ہورہے ہوں گے تو سب انبیائ (علیہ السلام) کی خدمت میں شفاعت کی غرض سے حاضر ہوں گے اور آخر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سفارش پر آمادہ ہوجائیں گے کہ مخلوق کا حساب کتاب لے کر ان کو جنت اور دوزخ میں بھیجاجائے۔ چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدے میں خدا کی حمد وثناء بیان کرنے کے بعد دعا فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سفارش قبول فرمائے گا اور ابر کے سائبانوں میں اس کی تجلی مخلوق کی جانب متوجہ ہوگی اور یکے بعد دیگرے آسمان پھٹ جائیں گے اور تمام فرشتے اتر آئیں گے اور تسبیح و تقدیس بیان کرتے ہوئے اس بادل کے ہمراہ ہوں گے۔ ابن مسعود (رض) کی روایت میں مرفوعاً آیا ہے کہ لوگ اس دن آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر آسمان کی طرف دیکھ رہے ہوں گے اور ہر شخص حساب و کتاب اور آخری فیصلہ کا منتظر ہوگا کہ اتنے میں اللہ تعالیٰ ابر کے سائے میں عرش سے کرسی پر جلوہ فرما ہوگا۔ ابن عمرو (رض) نے کہا جب اللہ تعالیٰ نازل ہوگا تو خالق و مخلوق کے درمیان کے ستر ہزار پردے ہوں گے یعنی پردے نور کے ہوں گے بعضے پردے تاریکیوں کے ہوں گے بعضے پردے پانی کے ہوں گے اس تاریکی میں پانی کی آواز اتنی ہولناک ہوگی کہ لوگوں کے دل دہل جائیں گے۔ کفار کے جمود اور بےپروائی کو ان الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے کہ گویا یہ لوگ ایمان لانے کے لئے اس دن کا انتظار کر رہے ہیں جس دن اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوجائے گا اور حساب و کتاب ہوکر جزا و سزا کا آخری فیصلہ ہوجائے گا۔ اسی مضمون کو آٹھویں سپارے میں ان الفاظ کے ساتھ ارشاد فرمایا ہے۔ ھل ینظرون الا ان تاتیھم الملکہ ادیاتی ربک ادیاتی بعض ایات ربک یعنی کیا یہ لوگ صرف اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ فرشتے ان کے پاس آئیں یا آپ کا پروردگار تشریف لائے یا آپ کے پروردگار کی بعض نشانیاں آجائیں۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن کا انتظار کر رہے ہیں کیونکہ یہ سب کچھ فرشتوں کا آنا، آخری فیصلوں کا ہونا۔ اللہ تعالیٰ کا متوجہ ہونا اس دن ہوگا حالانکہ اس کا ایمان لانا ان کے حق میں کچھ مفید نہ ہوگا اللہ تعالیٰ کی تشریف آوری اور فرشتوں کے اترنے کو انیسویں پارے میں اس طرح ارشاد فرمایا ہے۔ ویوم تشقق السمآء بالغمام ونزل المکۃ تنزیلا۔ یعنی جس دن بادل کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں اور فرشتے بکثرت اتارے جائیں جس بادل کے واسطے سے حق تعالیٰ کی توجہ مخلوق کی جانب جلوہ فرما ہوگی اس کی حقیقت بھی معلوم نہیں ہوسکتی۔ اتنا کہا جاسکتا ہے کہ عالم بالا بلکہ عالم عرش و کرسی کے سلسلے میں بادل کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے غمام رقیق اور سفید رنگ کے بادل کو کہتے ہیں لیکن اوپر تلے اس کے ٹکڑے جمع ہوکر وہی غلیظ ابر بن جاتا ہے۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عالم مجر دات سے اوپر والے عالم کے لئے جس ابر کا استعمال ہوتا ہے اس کا رنگ ہلکا زرد ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معراج میں جس اخرف کا ذکر آتا ہے وہ بھی اسی قسم کا کوئی بادل تھا۔ بہر حال اس قسم کی آیتوں میں جو طریقہ سلف کا رہا ہے وہ صحیح اور بہتر ہے یعنی ان کی حقیقت کے درپے نہ ہوناچاہئے جس طرح اس کی ذات عقل و فہم سے بالاتر ہے اسی طرح حضرت حق جل مجدۂ کی صفات اور ان صفات کی کنبہ بھی معلوم نہیں ہوسکتی البتہ ان باتوں کے وجود اور وقوع پر ایمان لاناچاہئے اور حقیقت کے معلوم کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اسلام کے تمام احکام کو ت سلیم کرو اور اسلام میں پوری طرح داخل ہو اور اپنی طرف سے کچھ گھٹائو بڑھائو نہیں۔ حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھو واجب کو واجب ، مستحب کو مستحب اور مباح کو مباح سمجھو اورش یطان کی پیروی نہ کرو کہ بدعات میں مبتلا ہوجائو اور غیر شرعی چیزوں کو شرعی سمجھنے لگو پھر اگر اس کے بعد بھی کہ تم کو اسلام کے صاف احکام اور روشن دلائل حاصل ہوچکے ہیں تم جادئہ حق سے ہٹو گے تو عذاب الٰہی کے مستحق ہو گے کیا یہ لوگ اپنی حرکات سے باز آنے کے لئے صرف اس امر کا انتظار کررہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے پاس آئے اور بادل میں تجلی فرمائے اور فرشتے نازل ہوں اور حساب و کتاب کے تمام معاملات ختم کردئیے جائیں اور تمام قصے چکا دئیے جائیں یعنی قیامت آجائے اور اس قسم کے تمام معاملات تو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کئے جائیں گے یہ اگر انتظار کر رہے ہیں تو کرنے دو اس دن کا آنا اور ان امورکا فیصلہ ہونا یہ سب باتیں تو خدا ہی کے قبضے میں ہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ اس دن کے آجانے کے بعد پھر توبہ کرنا یا ایمان لانا بالکل بےسود اور بےکار ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی پیغمبروں اور قرآن پر یقین نہیں لائے تو اب منتظر ہیں کہ خدا آپ آوے اور ہر کسی کو اس کے عمل کے موافق جزا دیوے۔ (موضح القرآن) اب آگے نعمت کی ناشکری اور ناشکری کی سزا پر بنی اسرائیل کے واقعات کی طرف اشارہ فرماتے ہیں تاکہ امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تنبیہ ہو کہ اگر قرآن اور پیغمبر جیسی نعمت پر ناشکری کی تو بنی اسرائیل کا سا حال نہ ہو (تسہیل)