Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 217

سورة البقرة

یَسۡئَلُوۡنَکَ عَنِ الشَّہۡرِ الۡحَرَامِ قِتَالٍ فِیۡہِ ؕ قُلۡ قِتَالٌ فِیۡہِ کَبِیۡرٌ ؕ وَ صَدٌّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ کُفۡرٌۢ بِہٖ وَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ٭ وَ اِخۡرَاجُ اَہۡلِہٖ مِنۡہُ اَکۡبَرُ عِنۡدَ اللّٰہِ ۚ وَ الۡفِتۡنَۃُ اَکۡبَرُ مِنَ الۡقَتۡلِ ؕ وَ لَا یَزَالُوۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ حَتّٰی یَرُدُّوۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِکُمۡ اِنِ اسۡتَطَاعُوۡا ؕ وَ مَنۡ یَّرۡتَدِدۡ مِنۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِہٖ فَیَمُتۡ وَ ہُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۱۷﴾

They ask you about the sacred month - about fighting therein. Say, "Fighting therein is great [sin], but averting [people] from the way of Allah and disbelief in Him and [preventing access to] al-Masjid al-Haram and the expulsion of its people therefrom are greater [evil] in the sight of Allah . And fitnah is greater than killing." And they will continue to fight you until they turn you back from your religion if they are able. And whoever of you reverts from his religion [to disbelief] and dies while he is a disbeliever - for those, their deeds have become worthless in this world and the Hereafter, and those are the companions of the Fire, they will abide therein eternally.

لوگ آپ سے حرمت والے مہینوں میں لڑائی کی بابت سوال کرتے ہیں ، آپ کہہ دیجیئے کہ ان میں لڑائی کرنا بڑاگناہ ہے ، لیکن اللہ کی راہ سے روکنا اس کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور وہاں کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا ، اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑا گناہ ہے یہ فتنہ قتل سے بھی بڑا گناہ ہے یہ لوگ تم سے لڑائی بھڑائی کرتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ اگر ان سے ہو سکے تو تمہیں تمہارے دین سے مرتد کر دیں اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے پلٹ جائیں اور اسی کفر کی حالت میں مریں ، ان کے اعمال دنیاوی اور اخروی سب غارت ہوجائیں گے ۔ یہ لوگ جہنمی ہوں گے اور ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں ہی رہیں گے ۔

Word by Word by

Dr Farhat Hashmi

یَسۡئَلُوۡنَکَ
وہ سوال کرتے ہیں آپ سے
عَنِ الشَّہۡرِ الۡحَرَامِ
حرام مہینوں کے بارے میں
قِتَالٍ
جنگ کرنا
فِیۡہِ
اس میں (کیسا ہے)
قُلۡ
کہہ دیجیے
قِتَالٌ
جنگ کرنا
فِیۡہِ
اس میں
کَبِیۡرٌ
بڑا (گناہ ہے)
وَصَدٌّ
اور روکنا
عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ
اللہ کے راستے سے
وَکُفۡرٌۢ
اور کفر کرنا
بِہٖ
اس کا
وَالۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ
اور(روکنا) مسجد ِحرام سے
وَاِخۡرَاجُ
اور نکالنا
اَہۡلِہٖ
اس کے رہنے والوں کو
مِنۡہُ
اس سے
اَکۡبَرُ
زیادہ بڑا (گناہ) ہے
عِنۡدَ اللّٰہِ
اللہ کے نزدیک
وَالۡفِتۡنَۃُ
اور فتنہ
اَکۡبَرُ
زیادہ بڑا ہے
مِنَ الۡقَتۡلِ
قتل سے
وَلَا یَزَالُوۡنَ
اور وہ ہمیشہ رہیں گے
یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ
جنگ کرتے تم سے
حَتّٰی
یہاں تک کہ
یَرُدُّوۡکُمۡ
وہ پھیر دیں تمہیں
عَنۡ دِیۡنِکُمۡ
تمہارے دین سے
اِنِ
اگر
اسۡتَطَاعُوۡا
وہ استطاعت رکھیں
وَمَنۡ
اور جو کوئی
یَّرۡتَدِدۡ
پھر جائے
مِنۡکُمۡ
تم میں سے
عَنۡ دِیۡنِہٖ
اپنے دین سے
فَیَمُتۡ
پھر وہ مرجائے
وَہُوَ
اس حال میں کہ وہ
کَافِرٌ
کافر ہو
فَاُولٰٓئِکَ
تو یہی لوگ ہیں
حَبِطَتۡ
ضائع ہوگئے
اَعۡمَالُہُمۡ
اعمال ان کے
فِی الدُّنۡیَا
دنیا میں
وَالۡاٰخِرَۃِ
اور آخرت میں
وَاُولٰٓئِکَ
اور یہی لوگ ہیں
اَصۡحٰبُ
ساتھی
النَّارِ
آگ کے
ہُمۡ
وہ
فِیۡہَا
اس میں
خٰلِدُوۡنَ
ہمیشہ رہنے والے ہیں
Word by Word by

Nighat Hashmi

یَسۡئَلُوۡنَکَ
وہ سوال کرتے ہیں آپ سے
عَنِ الشَّہۡرِ
مہینےکے بارے میں
الۡحَرَامِ
حرمت والے
قِتَالٍ
قتا ل کرنا
فِیۡہِ
اس میں
قُلۡ
آپ کہہ دیں
قِتَالٌ
قتال کرنا
فِیۡہِ
اس میں
کَبِیۡرٌ
بہت بڑا (گناہ) ہے
وَصَدٌّ
اور روکنا
عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ
اللہ تعا لی کی راہ سے
وَکُفۡرٌۢ
اور کفر کرنا
بِہٖ
اس کے سا تھ
وَالۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ
اور مسجد حرام سے
وَاِخۡرَاجُ
اور نکالنا
اَہۡلِہٖ
اس کے رہنے والوں کو
مِنۡہُ
اس سے
اَکۡبَرُ
بہت بڑا (گناہ )ہے
عِنۡدَ
نزدیک
اللّٰہِ
اللہ تعا لٰی کے
وَالۡفِتۡنَۃُ
اور فتنہ
اَکۡبَرُ
زیادہ بڑا ہے
مِنَ الۡقَتۡلِ
قتل سے
وَلَا یَزَالُوۡنَ
اوروہ ہمیشہ رہیں گے
یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ
لڑتے ر ہیں گے تم سے
حَتّٰی
حتیٰ کہ
یَرُدُّوۡکُمۡ
وہ پھیر دیں تمہیں
عَنۡ دِیۡنِکُمۡ
تمہارے دین سے
اِنِ
اگر
اسۡتَطَاعُوۡا
وہ استطاعت پائیں
وَمَنۡ
اور جو کوئی
یَّرۡتَدِدۡ
پھر جائے گا
مِنۡکُمۡ
تم میں سے
عَنۡ دِیۡنِہٖ
اپنے دین سے
فَیَمُتۡ
پھر وہ مرجائے
وَہُوَ
اس حال میں کہ وہ
کَافِرٌ
کافر ہو
فَاُولٰٓئِکَ
تو یہی لوگ ہیں
حَبِطَتۡ
ضائع ہوگئے
اَعۡمَالُہُمۡ
اعمال ان کے
فِی الدُّنۡیَا
دنیا میں
وَالۡاٰخِرَۃِ
اور آخرت میں
وَاُولٰٓئِکَ
اور یہی لوگ
اَصۡحٰبُ النَّارِ
آگ والے ہیں
ہُمۡ
وہ
فِیۡہَا
اس میں
خٰلِدُوۡنَ
ہمیشہ رہنے والے ہیں
Translated by

Juna Garhi

They ask you about the sacred month - about fighting therein. Say, "Fighting therein is great [sin], but averting [people] from the way of Allah and disbelief in Him and [preventing access to] al-Masjid al-Haram and the expulsion of its people therefrom are greater [evil] in the sight of Allah . And fitnah is greater than killing." And they will continue to fight you until they turn you back from your religion if they are able. And whoever of you reverts from his religion [to disbelief] and dies while he is a disbeliever - for those, their deeds have become worthless in this world and the Hereafter, and those are the companions of the Fire, they will abide therein eternally.

لوگ آپ سے حرمت والے مہینوں میں لڑائی کی بابت سوال کرتے ہیں ، آپ کہہ دیجیئے کہ ان میں لڑائی کرنا بڑاگناہ ہے ، لیکن اللہ کی راہ سے روکنا اس کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور وہاں کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا ، اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑا گناہ ہے یہ فتنہ قتل سے بھی بڑا گناہ ہے یہ لوگ تم سے لڑائی بھڑائی کرتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ اگر ان سے ہو سکے تو تمہیں تمہارے دین سے مرتد کر دیں اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے پلٹ جائیں اور اسی کفر کی حالت میں مریں ، ان کے اعمال دنیاوی اور اخروی سب غارت ہوجائیں گے ۔ یہ لوگ جہنمی ہوں گے اور ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں ہی رہیں گے ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

لوگ آپ سے حرمت والے مہینہ میں لڑائی کرنے سے متعلق پوچھتے ہیں۔ آپ ان سے کہیے کہ حرمت والے مہینہ میں جنگ کرنا (فی الواقعہ) بہت بڑا گناہ ہے۔ مگر اللہ کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور وہاں کے باشندوں کو وہاں سے نکال دینا اس سے بھی بڑے گناہ ہیں اور فتنہ انگیزی قتل سے بھی بڑا گناہ ہے۔ (اور یہ سب کام تم کرتے ہو) اور یہ لوگ تو ہمیشہ تم سے لڑتے ہی رہیں گے۔ حتیٰ کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں تمہارے دین سے برگشتہ کردیں۔ اور تم میں سے اگر کوئی اپنے دین سے برگشتہ ہوجائے پھر اس حالت میں مرے کہ وہ کافر ہی ہو تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہوگئے۔ اور یہی لوگ اہل دوزخ ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وہ آپ سے حُرمت والے مہینے میں قتال کرنے کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیں اس میں قتال کرناکبیرہ گناہ ہے ا وراﷲ تعالیٰ کی راہ سے روکنااوراس کے ساتھ کفر کرنااور مسجدحرام سے روکنا اور اس کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اﷲ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ بڑا (گناہ) ہے اورفتنہ قتل سے زیادہ بڑاہے۔ اوروہ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے حتیٰ کہ اگر وہ استطاعت پائیں توتمہیں تمہارے دین ہی سے پھیردیں،اورتم میں سے جواپنے دین سے پھرجائے پھروہ مر جائے اس حال میں کہ وہ کافر ہوتویہی لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے اوریہی لوگ آگ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

They ask you about the sacred month, that is, about fighting in it. Say, &Fighting in it is something grave but, in the sight of Allah it is far more grave to prevent from the path of Allah, to disbelieve in Him, and al-Masjid al-Ilaram, and to expel its people from there and Fitnah فتنہ (to create disorder) is more grave than to kill.|" And they will go on fighting you until they turn you away from your faith if they could. And whoever of you turns away from his faith and dies infidel, then they are those whose deeds have gone waste in this world and in the Hereafter. And they are people of the Fire. They shall be there forever.

تجھ سے پوچھتے ہیں مہینہ حرام کو کہ اس میں لڑنا کیسا، کہہ دے اس میں لڑائی بڑا گناہ ہے، اور روکنا اللہ کی راہ سے اور اس کو نہ ماننا اور مسجد الحرام سے روکنا اور نکال دینا ا کے لوگوں کو وہاں سے اس سے بھی زیادہ گناہ ہے اللہ کے نزدیک، اور لوگوں کو دین سے بچلانا قتل سے بھی بڑھ کر ہے اور کفار تو ہمیشہ تم سے لڑتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ تم کو پھیر دیں تمہارے دین سے اگر قابو پا دیں، اور جو کوئی پھرے تم میں سے اپنے دین سے پھر مر جاوے حالت کفر ہی میں تو ایسوں کے ضائع ہوئے عمل دنیا اور آخرت میں، اور وہ لوگ رہنے والے ہیں دوزخ میں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) یہ آپ سے پوچھتے ہیں حرمت والے مہینے میں جنگ کے بارے میں کہہ دیجیے کہ اس میں جنگ کرنا بہت بڑی (گناہ کی) بات ہے لیکن اللہ کے راستے سے روکنا اس کا کفر کرنا مسجد حرام سے روکنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے کہیں بڑا گناہ ہے اور فتنہ قتل سے بھی بڑا گناہ ہے اور یہ لوگ تم سے جنگ کرتے رہیں گے یہاں تک کہ لوٹا دیں تمہیں اپنے دین سے اگر وہ ایسا کرسکتے ہوں اور (سن لو) جو کوئی بھی تم میں سے اپنے دین سے پھر گیا تو یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے تمام اعمال دنیا اور آخرت میں اکارت جائیں گے اور وہ ہوں گے جہنمّ والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

لوگ پوچھتے ہیں ماہِ حرام میں لڑنا کیسا ہے؟ کہو: اس میں لڑنا بہت برا ہے ، مگر راہِ خدا سے لوگوں کو روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد حرام کا راستہ خدا پرستوں پر بند کرنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ برا ہے اور فتنہ خونریزی سے شدیدتر ہے ۔ 232 وہ تو تم سے لڑے ہی جائیں گےحتٰی کہ اگر ان کا بس چلے ، تو تمہیں اس دین سے پھیر لے جائیں ۔ ﴿اور یہ خوب سمجھ لو کہ ﴾ تم میں سے جو کوئی اس دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں جان دے گا ، اس کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہو جائیں گے ۔ ایسے سب لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے ۔ 233

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

لوگ آپ سے حرمت والے مہینے کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس میں جنگ کرنا کیسا ہے ؟ ( ١٤١ ) آپ کہہ دیجیے کہ اس میں جنگ کرنا بڑا گناہ ہے ، مگر لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنا ، اس کے خلاف کفر کی روش اختیار کرنا ، مسجد حرام پر بندش لگانا اور اس کے باسیوں کو وہاں سے نکال باہر کرنا اللہ کے نزدیک زیادہ بڑا گناہ ہے ، اور فتنہ قتل سے بھی زیادہ سنگین چیز ہے ، اور یہ ( کافر ) تم لوگوں سے برابر جنگ کرتے رہیں گے ، یہاں تک کہ اگر ان کا بس چلے تو یہ تم کو تمہارا دین چھوڑنے پر آمادہ کردیں ، اور اگر تم میں سے کوئی شخص اپنا دین چھوڑ دے ، اور کافر ہونے کی حالت ہی میں مرے تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں اکارت ہوجائیں گے ، ایسے لوگ دوزخ والے ہیں ، وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

( سے پیمبر) تجھ سے ( مسلمان یا مشر ک) پو چھتے ہیں ماہ حرام میں لڑ نا کیسا ہے تو کہہ ماہ حرام میں لڑ نا بڑا گناہ ہے اور اللہ کی راہ سے روکنا اور خدا کو نہ ماننا ( یا حج اور عمرے کو) اور ادب والی مسجد سے روکنا وہاں کے لوگوں کو اس میں سے نکال دینا اس سے بھی بڑھ کر اللہ کے نزیک گنا ہے او دین کی خرابی کرنا قتل سے بھی زیادی ہے 1 اور یہ کافرتو ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں کے اس غرض سے کہ اگر ان کا بس چلے تو تم کو تمہارے دین سے پھر الیں ( یعنی پھر کافربنالیں) اور جو کوئی تم میں اپنے دین (اسلام) سے پھرجائے اور کافر بن جائے) اور کفر ہی میں مرے تو ایسے لوگوں کا کیا کرایا دنیا اور آخرت دونوں میں برباد 2 اور وہ دوزخی ہیں ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آپ سے پوچھتے کہ حرمت والے مہینے میں لڑنا کیسا ہے فرما دیجئے کہ اس میں لڑنا بڑا (گناہ) ہے اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام (سے روکنا) اور اس کے رہنے والوں کو اس سے نکال دینا اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑا (گناہ) ہے اور فساد ڈالنا قتل سے بڑا (گناہ) ہے اور یہ تم لوگوں سے لڑائی سے باز نہ آئیں گے یہاں تک کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں۔ اور تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر گیا پھر کفر پر مرگیا تو ایسے ہی لوگ کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع جاتے ہیں اور یہ دوزخ کے رہنے والے ہیں اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

وہ آپ سے حرمت والے مہینے میں لڑائی کے متعلق پوچھتے ہیں کہ وہ کیسی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے کہ اس میں لڑنا بہت بڑا گناہ ہے۔ لیکن کسی کو اللہ کی راہ سے روکنا، اللہ کا انکار کرنا اور لوگوں کو مسجد حرام سے روکنا، حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑا گناہ ہے۔ اور فتنہ پیدا کرنا قتل و غارت گری سے بھی زیادہ بڑا گناہ ہے ۔ اے مومنو ! وہ تم سے ہمیشہ جنگ کرتے رہیں گے تا کہ جب بھی ان کا بس تم پر چل جائے تو وہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں۔ (یاد رکھو) جو کوئی تم میں سے دین سے پھرجائے گا پھر وہ کفر ہی کی حالت میں مرجائے گا تو دنیا و آخرت میں اس کے تمام اعمال برباد ہوجائیں گے۔ ایسے لوگ جہنمی ہیں اور وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے

Translated by

Fateh Muhammad Jalandhari

(اے محمدﷺ) لوگ تم سے عزت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان میں لڑنا بڑا (گناہ) ہےاور خدا کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام (یعنی خانہ کعبہ میں جانے) سے (بند کرنا) ۔ اور اہل مسجد کو اس میں سے نکال دینا (جو یہ کفار کرتے ہیں) خدا کے نزدیک اس سے بھی زیادہ (گناہ) ہے۔ اور فتنہ انگیزی خونریزی سے بھی بڑھ کر ہے۔ اور یہ لوگ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ اگر مقدور رکھیں تو تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں۔ اور جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر کر (کافر ہو) جائے گا اور کافر ہی مرے گا تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہوجائیں گے اور یہی لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں جس میں ہمیشہ رہیں گے

Translated by

Abdul Majid Daryabadi

They ask thee of the sacred month, of fighting therein. Say thou; fighting therein is grievous; and hindering people from the way of Allah and unbelief in Him and in the sanctity of the Sacred Mosque and driving out its dwellers therefrom are more grievous with Allah, and such temptation is far more grievous than that slaughter. And they will not cease fighting you so that they might make you apostatize from your religion, if they can. And whosoever of you apostatizeth from his faith and dieth an Infidel, then these it is whose works shall be of none effect in this world and the Hereafter, and they shall be the fellows of the Fire; therein they shall be abiders.

اور آپ سے حرمت والے مہینے کی بابت (یعنی) اس میں قتال کی بابت دریافت کرتے ہیں ۔ آپ کہہ دیجئے کہ اس میں قتال کرنا بڑا (گناہ) ہے ۔ اور اس سے کہیں بڑے (جرم) اللہ کے نزدیک اللہ کی راہ سے روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد حرام سے روک دینا اور اس سے اس کے رہنے والوں کو نکال دینا ہیں۔ ۔ اور فتنہ سے (کہیں) بڑھ کر ہے ۔ اور یہ لوگ تم سے جنگ جاری ہی رکھیں گے تاآنکہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں تمہارے دین سے پھیر ہی کر ہیں ۔ اور جو کوئی بھی تم میں سے اپنے دین سے پھرجائے اور اس حال میں کہ وہ کافر ہے مرجائے تو یہی وہ لوگ ہیں کہ ان کے اعمال دنیا اور آخرت میں اکارت گئے ۔ اور یہ اہل دوزخ ہیں اسی میں (ہمیشہ) پڑے رہنے والے ۔

Translated by

Amin Ahsan Islahi

وہ تم سے شہر حرام میں جنگ کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ کہہ دو: اس میں جنگ بڑی سنگین بات ہے ۔ لیکن اللہ کے راستہ سے روکنا ، اس کا کفر کرنا ، مسجدِ حرام سے روکنا اور اس کے لوگوں کو اس سے نکالنا اللہ کے نزدیک ( اس جنگ سے بھی ) زیادہ سنگین ہے اور جبر وظلم کے ذریعہ سے لوگوں کو دین سے پھیرنا قتل سے بھی بڑا گناہ ہے اور یہ لوگ تم سے برابر جنگ کرتے رہیں گے ، یہاں تک کہ تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں ، اگر پھیر سکیں اور تم میں سے جو اپنے دین سے پھر جائے گا اور حالتِ کفر میں مرے گا تو یہی لوگ ہیں ، جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں اکارت گئے اور یہی لوگ دوزخ میں پڑنے والے ہیں ، اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔

Translated by

Mufti Naeem

( اے محبوب ﷺ! ) یہ لوگ آپ سے حرمت والے مہینوں میں لڑائی کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ، آپ فرمادیجیے: اس میں لڑائی بہت بڑا ( گناہ کا ) کام ہے ، اور اﷲ ( تعالیٰ ) کے راستے اور مسجدحرام سے روکنا اور اﷲ ( تعالیٰ ) کا انکار کرنا اور اس ( بیت اﷲ ) کے رہنے والوں کو اس سے نکالنے اﷲ ( تعالیٰ ) کے ہاں ( اس سے بھی ) بڑا ( گناہ کاکام ) ہے اور فتنہ برپا کرنا قتل سے بڑا ( گناہ ) ہے اور ( اے ایمان والو! ) یہ تم سے ہمیشہ لڑائی کرتے رہیں گے یہاں تک کہ اگر ان کا بس چلے تو یہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں ، اور تم سے جو شخص اپنے دین سے پھرجائے اور کفر کی حالت میں مَر جائے تو یہی لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں برباد ہوگئے ، یہ آگ ( میں جانے ) والے لوگ ہیں ، یہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے

Translated by

Muhtrama Riffat Ijaz

لوگ پوچھتے ہیں ماہ حرام میں لڑناکیسا ہے۔ کہو اس میں لڑنا بہت برا ہے مگر اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور اللہ والوں پر مسجد حرام کا راستہ بند کرنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی برا ہے اور فتنہ خونریزی سے شدید تر ہے اور وہ تو تم سے لڑے ہی جائیں گے حتیٰ کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں اس دین سے پھیرلے جائیں تم میں سے جو کوئی اس دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں مرجائے گا اس کے اعمال دنیا و آخرت دونوں میں ضائع ہوجائیں گے۔ ایسے سب لوگ جہنمی ہونگے اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے۔

Translated by

Mulana Ishaq Madni

پوچھتے ہو یہ لوگ آپ سے اے پیغمبر حرمت والے مہینے میں لڑائی کے بارے میں تو ان سے کہو کی اس میں لڑنا بہت برا ہے مگر اللہ کی راہ سے روکنا اور اس کے ساتھ کفر و شرک کا ارتکاب کرنا مسجد حرام کا راستہ خدا پرستوں پر بند کرنا اور جو لوگ مسجد حرام کے حقیقی اہل اور حق دار ہیں ان کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی کہیں بڑھ کر برا ہے اور فتنہ و فساد تو قتل سے بھی بڑھ کر جرم ہے اور یہ لوگ تم سے لڑتے ہی رہیں گے اے مسلمانو یہاں تک کے تم کو تمہارے دین سے ہی پھیر دیں اگر ان کا بس چلے مگر اچھی طرح یاد رکھنا کہ تم میں سے جو بھی خدانخواستہ پھر گیا اپنے دین سے اور اس نے کفر ہی کی حالت میں جان دے دی تو اکارت چلے گئے ایسے لوگوں کے سب اعمال دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور یہ لوگ یار ہیں دوزخ کے جہاں انہیں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا

Translated by

Noor ul Amin

وہ آپ سے حرمت والے مہینہ میں لڑائی کرنے سے متعلق پوچھتے ہیں آپ ان سے کہیے کہ حرمت والے مہینہ میں جنگ کرنا ( فی الواقعہ ) بہت بڑاگناہ ہے مگر اللہ کی راہ سے روکنا ، اوراس سے کفرکرنا اور مسجدحرام سے روکنا اور وہاں کے باشندوں کو وہاں سے نکال دینااس سے بھی بڑے گناہ ہیں اور فتنہ انگیزی قتل سے بھی بڑا گناہ ہے ( اور یہ سب کام تم کرتے ہو ) اور یہ لوگ ہمیشہ تم سے لڑتے ہی رہیں گے حتیٰ کہ اگران کا بس چلے توتمہیں تمہارے دین سے مرتد کر دیں اور تم میں سے جو اپنے دین سے مرتد ہو جائے پھر ( اس حالت میں ) مرے کہ وہ کافر ہی ہوتوایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہوگئے ، اور یہی لوگ اہل جہنم ہیں وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے

Kanzul Eman by

Ahmad Raza Khan

تم سے پوچھتے ہیں ماہ حرام میں لڑنے کا حکم ( ف٤۱۹ ) تم فرماؤ اس میں لڑنا بڑا گناہ ہے ( ف٤۲۰ ) اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس پر ایمان نہ لانا اور مسجد حرام سے روکنا ، اور اس کے بسنے والوں کو نکال دینا ( ف٤۲۱ ) اللہ کے نزدیک یہ گناہ اس سے بھی بڑے ہیں اور ان کا فساد ( ف٤۲۲ ) قتل سے سخت تر ہے ( ف٤۲۳ ) اور ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیردیں اگر بن پڑے ( ف۳۲٤ ) اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے پھر کافر ہو کر مرے تو ان لوگوں کا کیا اکارت گیا دنیا میں اور آخرت میں ( ف٤۲۵ ) اور وہ دوزخ والے ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا ،

Translated by

Tahir ul Qadri

لوگ آپ سے حرمت والے مہینے میں جنگ کا حکم دریافت کرتے ہیں ، فرما دیں: اس میں جنگ بڑا گناہ ہے اور اﷲ کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجدِ حرام ( خانہ کعبہ ) سے روکنا اور وہاں کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اﷲ کے نزدیک ( اس سے بھی ) بڑا گناہ ہے ، اور یہ فتنہ انگیزی قتل و خون سے بھی بڑھ کر ہے اور ( یہ کافر ) تم سے ہمیشہ جنگ جاری رکھیں گے یہاں تک کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں اگر ( وہ اتنی ) طاقت پاسکیں ، اور تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے اور پھر وہ کافر ہی مرے تو ایسے لوگوں کے دنیا و آخرت میں ( سب ) اعمال برباد ہو جائیں گے ، اور یہی لوگ جہنمی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

Translated by

Hussain Najfi

۔ ( مشرک ) لوگ آپ سے حرمت والے مہینے میں جنگ کرنے کے متعلق سوال کرتے ہیں ۔ کہہ دیجیے اس میں جنگ کرنا بڑا جرم ہے ( مگر ) خدا کی راہ سے روکنا ، اور اس کا انکار کرنا اور مسجد ( کی حرمت ) کا انکار کرنا ( اور لوگوں کو اس سے روکنا ) اور اس کے باشندوں کو وہاں سے نکالنا ۔ خدا کے نزدیک اس ( جنگ ) سے بھی بڑا جرم ہے ۔ اور فتنہ گری قتل سے بھی زیادہ سنگین گناہ ہے ۔ اور وہ لوگ برابر تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ اگر ان کا بس چلے تو وہ تمہیں تمہارے دین سے ہی پلٹا دیں ۔ ( مگر یاد رکھو ) کہ تم میں سے جو بھی اپنے دین سے پھر کر کفر کی حالت میں مرے گا ۔ تو یہ وہ بدنصیب لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا و آخرت میں رائیگاں ہو جائیں گے ۔ یہی لوگ دوزخی ہیں جو ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے ۔

Translated by

Abdullah Yousuf Ali

They ask thee concerning fighting in the Prohibited Month. Say: "Fighting therein is a grave (offence); but graver is it in the sight of Allah to prevent access to the path of Allah, to deny Him, to prevent access to the Sacred Mosque, and drive out its members." Tumult and oppression are worse than slaughter. Nor will they cease fighting you until they turn you back from your faith if they can. And if any of you Turn back from their faith and die in unbelief, their works will bear no fruit in this life and in the Hereafter; they will be companions of the Fire and will abide therein.

Translated by

Muhammad Sarwar

(Muhammad), they ask you about fighting in the sacred month. Tell them that it is a great sin. However, creating an obstacle in the way of God, disbelief in Him and the Sacred Mosque, and driving away the neighbors of the Sacred Mosque is an even greater sin in the sight of God: Disbelief in God is worse than committing murder. (The pagans) still try to fight you to make you give up your religion. The deeds in this life of those of you who give up their religion and who die disbelievers will be made void and in the life hereafter. These people will be the dwellers of Hell wherein they will remain forever.

Translated by

Safi ur Rehman Mubarakpuri

They ask you concerning fighting in the Sacred Months. Say, "Fighting therein is a great (transgression) but a greater (transgression) with Allah is to prevent mankind from following the way of Allah, to disbelieve in Him, to prevent access to Al-Masjid Al-Haram (at Makkah), and to drive out its inhabitants, and Al-Fitnah is worse than killing." And they will never cease fighting you until they turn you back from your religion (Islamic Monotheism) if they can. And whosoever of you turns back from his religion and dies as a disbeliever, then his deeds will be lost in this life and in the Hereafter, and they will be the dwellers of the Fire. They will abide therein forever.

Translated by

Muhammad Habib Shakir

They ask you concerning the sacred month about fighting in it. Say: Fighting in it is a grave matter, and hindering (men) from Allah's way and denying Him, and (hindering men from) the Sacred Mosque and turning its people out of it, are still graver with Allah, and persecution is graver than slaughter; and they will not cease fighting with you until they turn you back from your religion, if they can; and whoever of you turns back from his religion, then he dies while an unbeliever-- these it is whose works shall go for nothing in this world and the hereafter, and they are the inmates of the fire; therein they shall abide.

Translated by

William Pickthall

They question thee (O Muhammad) with regard to warfare in the sacred month. Say: Warfare therein is a great (transgression), but to turn (men) from the way of Allah, and to disbelieve in Him and in the Inviolable Place of Worship, and to expel His people thence, is a greater with Allah; for persecution is worse than killing. And they will not cease from fighting against you till they have made you renegades from your religion, if they can. And whoso becometh a renegade and dieth in his disbelief: such are they whose works have fallen both in the world and the Hereafter. Such are rightful owners of the Fire: they will abide therein.

Translated by

Moulana Younas Palanpuri

लोग आपसे हुरमत वाले महीने के बारे में पूछते हैं कि उसमें लड़ना कैसा है? (ऐ नबी) कह दीजिए कि उसमें लड़ना बहुत बुरा है, मगर अल्लाह के रास्ते से रोकना, और उसका इनकार करना, और मस्जिदे-हराम से रोकना और उसके लोगों को वहाँ से निकालना अल्लाह के नज़दीक उससे भी ज़्यादा बुरा है, और फ़ित्ना क़त्ल से भी ज़्यादा बड़ी बुराई है, और ये लोग तुमसे बराबर लड़ते रहेंगे यहाँ तक कि तुमको तुम्हारे दीन से फेर दें अगर क़ाबू पा जाएं, और तुम में से जो कोई अपने दीन से फिर जाए और कुफ़्र की हालत में मरे तो ऐसे लोगों के अमल ज़ाया हो गए दुनिया में और आख़िरत में और वे आग में पड़ने वाले हैं, वे उसमें हमेशा रहेंगे।

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

لوگ آپ سے شہر حرام میں قتال کرنے کے متعلق سوال کرتے ہیں آپ فرمادیجیے کہ اس میں ( خاص طور پر) قتال کرنا (یعنی عمدا) جرم عظیم ہے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں روک ٹوک کرنا اور اللہ کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام (یعنی کعبہ) کے ساتھ اور جو لوگ (مسجد حرام) کے اہل تھے ان کو اس سے خارج کردینا جرم عظیم ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور فتنہ پروازی کرنا (اس) قتل (خاص) سے بدرجہا بڑھ کر ہے (1) اور یہ کفار تمہارے ساتھ ہمیشہ جنگ جاری ہی رکھیں گے۔ اس غرض سے کہ اگر (خدا نہ کرے) قابو پاویں تو تم کو تمہارے دین (اسلام) سے پھیر دیں۔ اور جو شخص تم میں سے اپنے دین سے پھر جاوے پھر کافر ہی ہونے کی حالت میں مرجائے تو ایسے لوگوں کے (نیک) اعمال دنیا اور آخرت میں سب غارت ہوجاتے ہیں (2) اور ایسے لوگ دوزخی ہوتے ہیں۔ ( اور) یہ لوگ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔ (217)

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

لوگ آپ سے حرمت والے مہینے میں لڑنے کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ آپ فرمائیں کہ ان میں لڑائی کرنا بہت بڑا گناہ ہے لیکن اللہ کی راہ سے روکنا، اس کے ساتھ کفر کرنا ‘ مسجد حرام سے منع کرنا اور وہاں کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے بھی بڑا گناہ ہے۔ فتنہ قتل سے بھی بڑا گناہ ہے۔ یہ لوگ تم سے لڑائی کرتے رہیں گے یہاں تک کہ اگر ان سے ہوسکے تو تمہارے دین سے تمہیں پھیر دیں اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے پھرجائیں اور کفر کی حالت میں مریں ان کے اعمال دنیوی اور اخروی سب غارت ہوجائیں گے۔ یہ لوگ جہنمی ہیں اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

لوگ پوچھتے ہیں کہ ماہ حرام میں لڑنا کیسا ہے ؟ کہو اس میں لڑنا بہت برا ہے ، مگر راہ خدا سے لوگوں کو روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد حرام کا راستہ اللہ پرستوں پر بند کرنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ برا ہے اور فتنہ خونریزی سے شدید تر ہے ۔ وہ تو تم سے لڑتے ہی جائیں گے حتیٰ کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہارے دین سے تم کو پھیر لے جائیں (اور یہ خوب سمجھ لو کہ ) تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں جان دے گا ، اس کے اعمال دنیا وآخرت میں ضائع ہوجائیں گے ۔ ایسے سب لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم میں رہیں گے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آپ سے شہر حرام کے بارے میں سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیجیے کہ ان میں جنگ کرنا بڑا جرم ہے، اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام کے ساتھ کفر کرنا اور اہل مسجد حرام کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بڑا گناہ ہے۔ اور فتنہ پر دازی قتل کرنے سے بڑا جرم ہے اور کافر لوگ برابر تم سے جنگ کرتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں پھیر دیں تمہارے دین سے اگر ان سے ہو سکے، اور جو شخص تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے پھر حالت کفر میں مرجائے، سو دنیا و آخرت میں ایسے لوگوں کے اعمال اکارت ہوجائیں گے اور یہ لوگ دوزخ والے ہیں، اور اس میں ہمیشہ رہیں گے،

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

تجھ سے پوچھتے ہیں مہینہ حرام کو کہ اس میں لڑنا کیسا ہے کہدے لڑائی اس میں بڑا گناہ ہے اور روکنا اللہ کی راہ سے اور اس کو نہ ماننا اور مسجدالحرام سے روکنا اور نکال دینا اس کے لوگوں کو وہاں سے اس سے بھی زیادہ گناہ ہے اللہ کے نزدیک اور لوگوں کو دین سے بچلانا قتل سے بھی بڑھ کر ہے اور کفار تو ہمیشہ تم سے لڑتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ تم کو پھیر دیں تمہارے دین سے اگر قابو پاویں اور جو کوئی پھرے تم میں سے اپنے دین سے پھر مرجاوے حالت کفر ہی میں تو ایسوں کے ضائع ہوئے عمل دنیا اور آخرت میں اور وہ لوگ رہنے والے ہیں دوزخ میں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

لوگ آپ سے حرمت والے مہنیے میں جنگ کرنے کو دریافت کرتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ اس مہینے میں جنگ کرنا بڑے گناہ کی بات ہے لیکن اللہ کی راہ سے روکنا اور اللہ تعالیٰ کا انکار کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور مسجد حرام سے اس کے اہل یعنی مسلمانوں کو نکال دینا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس لڑائی سے بھی بڑا گناہ ہے اور ایسی فتنہ انگیزی خون ریزی سے بدر جہا بڑھ کر ہے اور کفار تم سے ہمیشہ جنگ کرتے رہیں گے تاکہ اگر ان کا بس چل جائے تو تم کو تمہارے دین سے برگشتہ کردیں اور جو شخص تم میں سے اپنے دین سے پھر جائیگا اور پھر حالت کفر ہی میں مرجائے گا تو ایسے لوگوں کے دنیا اور آخرت میں سب اعمال ضائع ہوجاتے ہیں اور یہی لوگ دوزخی ہیں اور وہ اس دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے