Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 220

سورة البقرة

فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ؕ وَ یَسۡئَلُوۡنَکَ عَنِ الۡیَتٰمٰی ؕ قُلۡ اِصۡلَاحٌ لَّہُمۡ خَیۡرٌ ؕ وَ اِنۡ تُخَالِطُوۡہُمۡ فَاِخۡوَانُکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ الۡمُفۡسِدَ مِنَ الۡمُصۡلِحِ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَاَعۡنَتَکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۲۰﴾

To this world and the Hereafter. And they ask you about orphans. Say, "Improvement for them is best. And if you mix your affairs with theirs - they are your brothers. And Allah knows the corrupter from the amender. And if Allah had willed, He could have put you in difficulty. Indeed, Allah is Exalted in Might and Wise.

دنیا اور آخرت کے امور اور تجھ سے یتیموں کے بارے میں بھی سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ ان کی خیر خواہی بہتر ہے ، تم اگر ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں ، بدنیت اور نیک نیت ہر ایک کو اللہ خوب جانتا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا یقیناً اللہ تعالٰی غلبہ والا اور حکمت والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فِي الدُّنْيَا وَالاخِرَةِ ... Thus Allah makes clear to you His Ayat in order that you may give thought. In (to) this worldly life and in the Hereafter. meaning, just as He stated and explained these commandments for you, He also explains the rest of His Ayat regarding the commandments and His promises and warnings, so that you might give thought in this life and the Hereafter. Ali bin Abu Talhah said that Ibn Abbas commented, "Meaning about the imminent demise and the brevity of this life, and the imminent commencement of the Hereafter and its continuity." Maintaining the Orphan's Property Allah said: ... وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلَحٌ لَّهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ وَلَوْ شَاء اللّهُ لاعْنَتَكُمْ ... And they ask you concerning orphans. Say: "The best thing is to work honestly in their property, and if you mix your affairs with theirs, then they are your brothers. And Allah knows him who means mischief (e.g., to swallow their property) from him who means good (e.g., to save their property). And if Allah had wished, He could have put you into difficulties. Ibn Jarir reported that Ibn Abbas said, "When the Ayat: وَلاَ تَقْرَبُواْ مَالَ الْيَتِيمِ إِلاَّ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (And come not near to the orphan's property, except to improve it), (6:152) and إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا (Verily, those who unjustly eat up the property of orphans, they eat up only fire into their bellies, and they will be burnt in the blazing Fire!) (4:10) were revealed, those who took care of some orphans, separated their food and drink from the orphans' food and drink. When some of the orphans' food and drink remained, they would keep it for them until they eat it or otherwise get spoiled. This situation was difficult for them and they mentioned this subject to Allah's Messenger. ... وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلَحٌ لَّهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ ... And they ask you concerning orphans. Say: "The best thing is to work honestly in their property, and if you mix your affairs with theirs, then they are your brothers. Hence, they joined their food and drink with the food and drink of the orphans." This Hadith was also collected by Abu Dawud, An-Nasa'i and Al-Hakim in his Mustadrak. Several others said similarly about the circumstances surrounding the revelation of the Ayah (2:220), including Mujahid, Ata, Ash-Sha`bi, Ibn Abu Layla, Qatadah and others among the Salaf and those after them. Ibn Jarir reported that Aishah said, "I dislike that an orphan's money be under my care, unless I mix my food with his food and my drink with his drink." Allah said: ... قُلْ إِصْلَحٌ لَّهُمْ خَيْرٌ ... Say: The best thing is to work honestly in their property. meaning, on the one hand (i.e., this is required in any case). Allah then said: ... وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ ... ...and if you mix your affairs with theirs, then they are your brothers. meaning, there is no harm if you mix your food and drink with their food and drink, since they are your brothers in the religion. This is why Allah said afterwards: ... وَاللّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ... And Allah knows (the one) who means mischief (e.g., to swallow their property) from (the one) who means good (e.g., to save their property). meaning, He knows those whose intent is to cause mischief or righteousness. He also said: ... وَلَوْ شَاء اللّهُ لاعْنَتَكُمْ إِنَّ اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ And if Allah had wished, He could have put you into difficulties. Truly, Allah is All-Mighty, All-Wise. meaning, if Allah wills, He will make this matter difficult for you. But, He made it easy for you, and allowed you to mix your affairs with the orphans' affairs in a way that is better. Similarly, Allah said: وَلاَ تَقْرَبُواْ مَالَ الْيَتِيمِ إِلاَّ بِالَّتِى هِىَ أَحْسَنُ And come not near to the orphan's property, except to improve it. (6:152) Allah has thus allowed spending from the orphan's estate by its executor, in reasonable proportions, on the condition that he has the intention to compensate the orphan later on, when he can afford it. We will mention about it in detail in Surah An-Nisa by Allah's will.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

220۔ 1 جب یتیموں کا مال ظلماً کھانے والوں کے لئے سزا کی دھمکی نازل ہوئی تو صحابہ کرام (رض) ڈر گئے اور یتیموں کی ہر چیز الگ کردی حتیٰ کہ کھانے پینے کی کوئی چیز بچ جاتی تو اسے بھی استعمال نہ کرتے اور وہ خراب ہوجاتی اس ڈر سے کہ کہیں ہم بھی اس سزا کے مستحق نہ قرار پاجائیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (ابن کثیر) 220۔ 2 یعنی تمہیں بغرض اصلاح و بہتری بھی ان کا مال اپنے مال میں ملانے کی اجازت نہ دیتا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٩٣] اس سے پیشتر یتیموں کے بارے میں دو حکم نازل ہوچکے تھے۔ ایک یہ کہ && یتیموں کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ۔ && (٦: ١٥٢) اور دوسرا یہ کہ && جو لوگ یتیموں کا مال کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔ && (٤ : ١٠) لہذا مسلمان یتیموں کے بارے میں سخت محتاط ہوگئے اور ان کے مال اپنے مال سے بالکل الگ کردیئے کہ اسی سے ان کا کھانا پینا اور دوسری ضروریات پوری کی جائیں۔ مگر اس طرح بھی یتیموں کا بعض صورتوں میں نقصان ہوجاتا تھا۔ مثلاً ان کے لیے کھانا پکایا، جو کھانا بچ جاتا وہ ضائع ہوجاتا، ایسی ہی صورت حال سے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا۔ جس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ اصل میں تو یتیموں کی اصلاح اور بھلائی مقصود ہے جس صورت میں وہ میسر آئے وہ تم اختیار کرسکتے ہو۔ اگر تم ان کا مال اپنے مال میں ملانا مناسب سمجھتے ہو تو بھی کوئی حرج نہیں، آخر وہ تمہارے ہی بھائی ہیں۔ یعنی تم ان کا مال ملا بھی سکتے ہو، الگ بھی کرسکتے ہو، کچھ مال ملا لو یا بعض حالتوں میں ان کا مال الگ کردو، ہر صورت درست ہے۔ بشرطیکہ تمہاری اپنی نیت بخیر ہو اور اصل مقصود یتیم کی بھلائی ہو اور اللہ اسے خوب جانتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو کئی طرح کی پابندیاں عائد کر کے تم پر سختی کرسکتا تھا۔ یہ اس کی حکمت اور رحمت ہے کہ اس نے تمہیں ہر طرح کی صورت حال کی اجازت دے دی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ : اس کا تعلق اس سے پہلی آیت ” لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ “ کے ساتھ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے لیے شراب اور جوئے میں دنیا کے فائدے اور دنیا اور آخرت میں ان کے نقصانات اور ان کا کبیرہ گناہ ہونا اور شراب اور جوئے کے بجائے اللہ کے راستے میں اپنی بہترین چیزیں خرچ کرنا کھول کر بیان کر رہا ہے، تاکہ تم چند روزہ دنیا اور ہمیشہ رہنے والی آخرت دونوں میں خود ہی غور وفکر کرلو کہ عقل سے کام لے کر تم کس کو ترجیح دیتے ہو۔ الْيَتٰمٰي “ جس کا باپ فوت ہوگیا ہو وہ بالغ ہونے تک یتیم ہے۔ (لَاَعْنَتَكُمْ ) ” عَنَتٌ“ کا معنی مشقت ہے، جیسے سورة توبہ (١٢٨) میں ہے : (عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ ) ” اس پر بہت شاق ہے کہ تم مشقت میں پڑو۔ “ ” اَعْنَتَ “ باب افعال سے ماضی معروف ہے اور ” اِعْنَاتٌ“ اس سے مصدر ہے، جس کے معنی ہیں، آدمی کو ایسی مشقت میں ڈالنا جس میں ہلاکت کا خطرہ ہو۔ (راغب) اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ ” اِصْلَاحٌ“ کی تنوین کی وجہ سے ” کچھ نہ کچھ سنوارتے رہنا “ ترجمہ کیا ہے، یعنی ان کے مال کی حفاظت کے ساتھ ان کی تعلیم، اخلاق، صحت اور تمام معاملات کی کچھ نہ کچھ اصلاح جو تمہارے بس میں ہو، کرتے رہنا، انھیں یتیم سمجھ کر باز پرس نہ کرنے سے بہت بہتر ہے۔ وَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ : ابن عباس (رض) نے فرمایا : ” جب یہ آیت اتری : (وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بالَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ ) [ بنی إسرائیل : ٣٤ ] ” اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اس طریقے سے جو سب سے اچھا ہے “ تو لوگوں نے یتیموں کے اموال الگ کردیے، چناچہ یتیموں کا کھانا خراب اور گوشت بدبودار ہونے لگا۔ “ یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کی گئی اور اس پر یہ آیت اتری تو لوگوں نے انھیں اپنے ساتھ ملا لیا۔ [ مسند أحمد : ١؍٣٢٥، ح : ٣٠٠٤۔ مستدرک حاکم : ٢؍٣٠٦، ح : ٣١٠٣، صححہ الحاکم و وافقہ الذھبی و حسنہ الألبانی ] وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ ) مگر اللہ تعالیٰ نے تم پر مشقت نہیں ڈالی، بلکہ آسانی اور وسعت پیدا فرمائی۔ چناچہ اصلاح کی نیت سے انھیں اپنے ساتھ ملا سکتے ہو اور اگر محتاج ہو تو بقدر خدمت و ضرورت ان کے مال سے فائدہ بھی اٹھا سکتے ہو، جیسا کہ فرمایا : (وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۚ وَمَنْ كَانَ فَقِيْرًا فَلْيَاْكُلْ بالْمَعْرُوْفِ ) [ النساء : ٦ ] ” اور جو غنی ہو تو وہ بہت بچے اور جو محتاج ہو تو وہ جانے پہچانے طریقے سے کھالے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Verse 220 features yet another question in a series of several posed by the noble Companions. This question relates to the combining of the cost of maintenance of orphans. Since there was general lack of carefulness about the rights of orphans in pagan Arabia, as elsewhere, warning was given that consuming what belongs to the orphans is like filling bellies with embers of Hell. Consequently, the recipients of this warning were so scared that they, out of preventive measure, started preparing and storing meals given to orphans separately. In case the child ate less, food was left over and, naturally so, got decomposed. The reason: It was not permissible for them to use food which belonged to the orphans, nor did they have the right to give what belonged to the orphans in charity. This was a matter of sheer discomfort and a source of loss to the orphans as well. Therefore, the situation was brought to the notice of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) following which came the guidance given in this verse. It is being said here that the purpose is not to compromise the welfare of the orphaned children. Since their welfare is served better through a joint expense system, there is nothing to worry about, for they are brothers-in-faith and brothers do share. The above permission has been hemmed by a warning that Allah watches over the performance of guardians in this matter. He could have, by setting up a harder code of conduct, put them in trouble because He is All-Powerful. But, He has provided an easier code of conduct because He is All-Wise and does not obligate people with what they cannot do.

سترہواں حکم۔ مخالطت یتیم : (چونکہ ابتداء میں مثل ہندوستان کے عرب میں بھی یتیموں کا حق دینے میں پوری احتیاط نہ تھی اس لئے یہ وعید سنائی گئی کہ یتیموں کا مال کھانا ایسا ہے جیسا دوزخ کے انگار پیٹ میں بھرنا تو سننے والے ڈر کے مارے اتنی احتیاط کرنے لگے کہ ان کا کھانا بھی الگ پکواتے اور الگ رکھواتے اور اتفاقا اگر بچہ کم کھاتا تو کھانا بچتا اور سڑتا تھا کیونکہ اس کا استعمال نہ ان لوگوں کے لئے جائز تھا اور نہ یتیم کے مال کو صدقہ کردینے کا اختیار تھا اس طرح تکلیف بھی ہوتی اور یتیم کا نقصان بھی اس لئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا گیا اس کے متعلق آیت میں یہ ارشاد آیا) اور لوگ آپ سے یتیم بچوں (کے خرچ علیٰحدہ یا شامل رکھنے) کا حکم پوچھتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ (اصل مقصود ہمارا ان کے اموال کھانے کی ممانعت سے یہ ہے کہ ان کی مصلحت کو ضائع نہ کیا جائے اور جب خرچ شامل رکھنے میں ان کی مصلحت ہے تو) ان کی مصلحت کی رعایت رکھنا (علیٰحدہ خرچ رکھنے سے جو خلاف مصلحت ہے) زیادہ بہتر ہے اور تم ان کے ساتھ خرچ شامل رکھو تو (کچھ ڈر کی بات نہیں کیونکہ) وہ بچے تمہارے (دینی) بھائی ہیں (اور بھائی بھائی شامل رہا ہی کرتے ہیں) اور اللہ تعالیٰ مصلحت کے ضائع کرنے والے کو اور مصلحت کی رعایت رکھنے والے کو (الگ الگ) جانتے ہیں (اس لئے کھانے پینے میں اشتراک ایسا نہ ہونا چاہئے جس میں یتیم کی مصلحت ضائع ہوجائے اور بلا علم وبلا قصد کچھ کمی بیشی ہو بھی جائے تو چونکہ اللہ تعالیٰ کو اس کی نیک نیتی معلوم ہے اس لئے اس پر مواخذہ ہوگا) اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو (اس معاملہ میں سخت قانون مقرر کرکے) تم کو مصیبت میں ڈال دیتے (کیونکہ) اللہ تعالیٰ زبردست ہیں (مگر قانون سہل اس لئے مقرر فرمایا کہ وہ) حکمت والے (بھی) ہیں (ایسا حکم نہیں دیتے جو نہ ہوسکے)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ۝ ٠ ۭ وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْيَتٰمٰي۝ ٠ ۭ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ۝ ٠ ۭ وَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُكُمْ۝ ٠ ۭ وَاللہُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ۝ ٠ ۭ وَلَوْ شَاۗءَ اللہُ لَاَعْنَتَكُمْ۝ ٠ ۭ اِنَّ اللہَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۝ ٢٢٠ يتم اليُتْمُ : انقطاع الصَّبيِّ عن أبيه قبل بلوغه، وفي سائر الحیوانات من قِبَلِ أمّه . قال تعالی: أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوی[ الضحی/ 6] ، وَيَتِيماً وَأَسِيراً [ الإنسان/ 8] وجمعه : يَتَامَى. قال تعالی: وَآتُوا الْيَتامی أَمْوالَهُمْ [ النساء/ 2] ، إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوالَ الْيَتامی [ النساء/ 10] ، وَيَسْئَلُونَكَ عَنِ الْيَتامی [ البقرة/ 220] وكلُّ منفردٍ يَتِيمٌ ، يقال : دُرَّةٌ يَتِيمَةٌ ، تنبيها علی أنّه انقطع مادّتها التي خرجت منها، وقیل : بَيْتٌ يَتِيمٌ تشبيها بالدّرّة اليَتِيمَةِ. ( ی ت م ) الیتم کے معنی نا بالغ بچہ کے تحت شفقت پدری سے محروم ہوجانے کے ہیں ۔ انسان کے علاوہ دیگر حیوانات میں یتم کا اعتبار ماں کیطرف سے ہوتا ہے اور جانور کے چھوٹے بچے کے بن ماں کے رہ جانے کو یتم کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوی[ الضحی/ 6] بھلا اس نے تمہیں یتیم پاکر جگہ نہیں دی ۔ وَيَتِيماً وَأَسِيراً [ الإنسان/ 8] یتیموں اور قیدیوں کو یتیم کی جمع یتامیٰ ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَآتُوا الْيَتامی أَمْوالَهُمْ [ النساء/ 2] اور یتیموں کا مال ( جو تمہاری تحویل میں ہو ) ان کے حوالے کردو ۔ إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوالَ الْيَتامی [ النساء/ 10] جو لوگ یتیموں کا مال ( ناجائز طور پر ) کھاتے ہیں ۔ وَيَسْئَلُونَكَ عَنِ الْيَتامی [ البقرة/ 220] اور تم سے یتیموں کے بارے میں دریاقت کرتے ہیں ۔ مجازا ہر یکتا اور بےملي چیز کو عربی میں یتیم کہاجاتا ہے ۔ جیسا کہ گوہر یکتا درۃ یتیمۃ کہہ دیتے ہیں ۔ اور اس میں اس کے مادہ کے منقطع ہونے پر تنبیہ کرنا مقصود ہوتا ہے اور درۃ کے ساتھ تشبیہ دے کر یکتا مکان کو بھی یتیم کہہ دیا جاتا ہے ۔ صلح والصُّلْحُ يختصّ بإزالة النّفار بين الناس، يقال منه : اصْطَلَحُوا وتَصَالَحُوا، قال : أَنْ يُصْلِحا بَيْنَهُما صُلْحاً وَالصُّلْحُ خَيْرٌ [ النساء/ 128] ( ص ل ح ) الصلاح اور الصلح کا لفظ خاص کر لوگوں سے باہمی نفرت کو دورکر کے ( امن و سلامتی پیدا کرنے پر بولا جاتا ہے ) چناچہ اصطلحوا وتصالحوا کے معنی باہم امن و سلامتی سے رہنے کے ہیں قرآن میں ہے : أَنْ يُصْلِحا بَيْنَهُما صُلْحاً وَالصُّلْحُ خَيْرٌ [ النساء/ 128] کہ آپس میں کسی قرار داد پر صلح کرلیں اور صلح ہی بہتر ہے ۔ خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔ اور خیر دو قسم پر ہے ( 1 ) خیر مطلق جو ہر حال میں اور ہر ایک کے نزدیک پسندیدہ ہو جیسا کہ آنحضرت نے جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خیر نہیں ہے جس کے بعد آگ ہو اور وہ شر کچھ بھی شر نہیں سے جس کے بعد جنت حاصل ہوجائے ( 2 ) دوسری قسم خیر وشر مقید کی ہے ۔ یعنی وہ چیز جو ایک کے حق میں خیر اور دوسرے کے لئے شر ہو مثلا دولت کہ بسا اوقات یہ زید کے حق میں خیر اور عمر و کے حق میں شربن جاتی ہے ۔ اس بنا پر قرآن نے اسے خیر وشر دونوں سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] اگر وہ کچھ مال چھوڑ جاتے ۔ خلط الخَلْطُ : هو الجمع بين أجزاء الشيئين فصاعدا، سواء کانا مائعين، أو جامدین، أو أحدهما مائعا والآخر جامدا، وهو أعمّ من المزج، ويقال اختلط الشیء، قال تعالی: فَاخْتَلَطَ بِهِ نَباتُ الْأَرْضِ [يونس/ 24] ، ويقال للصّديق والمجاور والشّريك : خَلِيطٌ ، والخلیطان في الفقه من ذلك، قال تعالی: وَإِنَّ كَثِيراً مِنَ الْخُلَطاءِ لَيَبْغِي بَعْضُهُمْ عَلى بَعْضٍ [ ص/ 24] ، ( خ ل ط ) الخلط ( ن ) کے معنی دو یا دو سے زیادہ چیزوں کے اجزا کو جمع کرنے اور ملا دینے کے ہیں عام اس سے کہ وہ چیزیں سیال ہون یا جامد یا ایک مائع ہو اور دوسری جامد اور یہ مزج سے اعم ہے کہا جاتا ہے اختلط الشئی ( کسی چیز کا دوسری کے ساتھ مل جانا ) قرآن میں ہے :۔ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَباتُ الْأَرْضِ [يونس/ 24] پھر اس کے ساتھ سبزہ ۔۔ مل کر نکلا ۔ خلیط کے معنی دوست پڑوسی یا کاروبار میں شریک کے ہیں ۔ اسی سے کتب فقہ میں خلیطان کا لفظ استعمال ہوا ہے جس سے وہ لوگ مراد ہیں جن کا مال اکٹھا ہو ۔ قرآن میں ہے :۔ نَّ كَثِيراً مِنَ الْخُلَطاءِ لَيَبْغِي بَعْضُهُمْ عَلى بَعْضٍ [ ص/ 24] اور اکثر شرکاء ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں ۔ اور خلیط کا لفظ واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے ۔ أخ أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من المناسبات . قوله تعالی: لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، أي : لمشارکيهم في الکفروقوله تعالی: أَخا عادٍ [ الأحقاف/ 21] ، سمّاه أخاً تنبيهاً علی إشفاقه عليهم شفقة الأخ علی أخيه، وعلی هذا قوله تعالی: وَإِلى ثَمُودَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 73] وَإِلى عادٍ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 65] ، وَإِلى مَدْيَنَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 85] ، ( اخ و ) اخ ( بھائی ) اصل میں اخو ہے اور ہر وہ شخص جو کسی دوسرے شخص کا ولادت میں ماں باپ دونوں یا ان میں سے ایک کی طرف سے یا رضاعت میں شریک ہو وہ اس کا اخ کہلاتا ہے لیکن بطور استعارہ اس کا استعمال عام ہے اور ہر اس شخص کو جو قبیلہ دین و مذہب صنعت وحرفت دوستی یا کسی دیگر معاملہ میں دوسرے کا شریک ہو اسے اخ کہا جاتا ہے چناچہ آیت کریمہ :۔ { لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقَالُوا لِإِخْوَانِهِمْ } ( سورة آل عمران 156) ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کی نسبت کہتے ہیں ۔ میں اخوان سے ان کے ہم مشرب لوگ مراد ہیں اور آیت کریمہ :۔{ أَخَا عَادٍ } ( سورة الأَحقاف 21) میں ہود (علیہ السلام) کو قوم عاد کا بھائی کہنے سے اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ وہ ان پر بھائیوں کی طرح شفقت فرماتے تھے اسی معنی کے اعتبار سے فرمایا : ۔ { وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا } ( سورة هود 61) اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا ۔ { وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ } ( سورة هود 50) اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ( ہود ) کو بھیجا ۔ { وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا } ( سورة هود 84) اور مدین کی طرف ان کے بھائی ( شعیب ) کو بھیجا ۔ فسد الفَسَادُ : خروج الشیء عن الاعتدال، قلیلا کان الخروج عنه أو كثيرا،. قال تعالی: لَفَسَدَتِ السَّماواتُ وَالْأَرْضُ [ المؤمنون/ 71] ، ( ف س د ) الفساد یہ فسد ( ن ) الشئی فھو فاسد کا مصدر ہے اور اس کے معنی کسی چیز کے حد اعتدال سے تجاوز کر جانا کے ہیں عام اس سے کہ وہ تجاوز کم ہو یا زیادہ قرآن میں ہے : ۔ لَفَسَدَتِ السَّماواتُ وَالْأَرْضُ [ المؤمنون/ 71] تو آسمان و زمین ۔۔۔۔۔ سب درہم برہم ہوجائیں ۔ عنت الْمُعَانَتَةُ کالمعاندة لکن المُعَانَتَةُ أبلغ، لأنها معاندة فيها خوف وهلاك، ولهذا يقال : عَنَتَ فلان : إذا وقع في أمر يخاف منه التّلف، يَعْنُتُ عَنَتاً. قال تعالی: لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ [ النساء/ 25] ، وَدُّوا ما عَنِتُّمْ [ آل عمران/ 118] ، عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ [ التوبة/ 128] ، وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ أي : ذلّت وخضعت، ويقال : أَعْنَتَهُ غيرُهُ. وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَأَعْنَتَكُمْ [ البقرة/ 220] ، ويقال للعظم المجبور إذا أصابه ألم فهاضه : قد أَعْنَتَهُ. ( ع ن ت ) المعانتۃ : یہ معاندۃ کے ہم معنی ہے معنیباہم عنا داوردشمنی سے کام لینا لیکن معانتۃ اس سے بلیغ تر ہے کیونکہ معانتۃ ایسے عناد کو کہتے ہیں جس میں خوف اور ہلاکت کا پہلو بھی ہو ۔ چناچہ عنت فلان ۔ ینعت عنتا اس وقت کہتے ہیں جب کوئی شخص ایسے معاملہ میں پھنس جائے جس میں تلف ہوجانیکا اندیشہ ہو ۔ قرآن پاک میں ہے لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ [ النساء/ 25] اس شخص کو ہے جسے ہلاکت میں پڑنے کا اندیشہ ہو ۔ وَدُّوا ما عَنِتُّمْ [ آل عمران/ 118] اور چاہتے ہیں کہ ( جس طرح ہو ) تمہیں تکلیف پہنچے ۔ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ [ التوبة/ 128] تمہاری تکلیف ان کو گراں معلوم ہوتی ہے : اور آیت کریمہ : وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ «1»اور سب ( کے ) چہرے اس زندہ وقائم کے روبرو جھک جائیں گے ۔ میں عنت کے معنی ذلیل اور عاجز ہوجانے کے ہیں اور اعنتہ کے معنی تکلیف میں مبتلا کرنے کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَأَعْنَتَكُمْ [ البقرة/ 220] اور اگر خدا چاہتا تو تم کو تکلیف میں ڈال دیتا ۔ اور جس ہڈی کو جوڑا گیا ہو اگر اسے کوئی صدمہ پہنچے اور وہ دوبارہ ٹو ٹ جائے تو ایسے موقع پر بھی اعتتہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ عزیز ، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] ( ع ز ز ) العزیز العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

یتیم کے مال میں تصرف قول باری ہے ویسئلونک عن الیتامی قل اصلاح لھم خیروان تخالطوھم فاخوانکم۔ اور آپ سے پوچھتے ہیں کہ یتیموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے کہہ دیجئے جس طرز عمل میں ان کے لئے بھلائی ہو وہی اختیار کرنا بہتر ہے اور اگر تم اپنا اور ان کا خرچ اور رہنا سہنا مشترک رکھو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں آخر وہ تمہارے بھائی بند ہی تو ہیں) ۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یتیم وہ ہوتا ہے جو اپنے ماں باپ میں سے ایک سے تنہا رہ جائے چناچہ باپ کے رہتے ہوئے ماں کی وفات کی وجہ سے وہ یتیم ہوتا ہے اس کے برعکس صورت میں بھی وہ یتیم ہوتا ہے البتہ یتیم کا اطلاق زیادہ تر اس صورت میں ہوتا ہے جب باپ نہ ہو خواہ ماں زندہ ہی کیوں نہ ہو۔ باپ زندہ ہونے کی صورت میں ماں کی وفات کی وجہ سے بہت ہی کم یتیم کا اطلاق ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے سلسلے میں جتنے احکام بیان کئے ہیں ان میں وہ یتیم مراد ہیں جن کے باپ موجود نہ ہوں اور وہ نابالغ ہوں۔ بالغ ہونے کے بعد ایسے شخص پر یتیم کا اطلاق بطور مجاز ہوتا ہے کیونکہ یتیمی سے ان کا زمانہ بہت قریب ہوتا ہے۔ اس بات کی دلیل کہ تنہا رہ جانے والے کو یتیم کہا جاتا ہے۔ یہ ہے کہ عربوں کے نزدیک تنہا رہ جانے والی بیوی کو بھی یتیمہ کا نام دیا جاتا ہے خواہ وہ بڑی ہو یا چھوٹی۔ شاعر کا شعر ہے۔ ان القبور تنکح الایسامی۔۔ النسوۃ الاراصل الیتامی۔۔ بے شک قبریں بیوہ عورتوں سے نکاح کرلیتی ہیں وہ عورتیں جو بیوہ اور شوہر کی وفات کے بعد تنہا رہ جاتی ہیں۔ ٹیلے کو بھی یتیمہ کہتے ہیں اس لئے کہ وہ اپنے گرد کے ماحول میں تنہا ہوتا ہے۔ ایک شاعر نے اپنی اونٹنی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے۔۔ قوداء یملک وحلھا مثل الیتیم من الامانب۔۔ یہ اونٹنی ایسی سدھائی ہوئی ہے کہ ایک تنہا ٹیلے کی طرح خرگو ش بھی اس کے کجا وے کو اپنے قابو میں کرسکتا ہے۔ اگر سیپ میں ایک ہی موتی ہو تو اسے ” درۃ یتیمۃ “ کہا جاتا ہے کیونکہ سیپ میں وہ تنہا ہوتا ہے اور اس کی کوئی نظیر نہیں ہوتی خلیفہ ابوالعباس سفاح کی مدح اور خوارج کے مختلف مذاہب کے متعلق ابن المقفع نے کتاب لکھی ہے جس کا نام اس نے یتیمیۃ الدہر رکھا ہے۔ ابوتمام نے اس کے متعلق یہ شعر کہا ہے۔۔ وکثیر عزۃ یوم مبین ینسب وابن المقفع فی الیتیمۃ یسھب۔ مشہور شاعر اور غزہ کا عاشق کثیر جس دن تشبیب بیان کرتا ہے تو عورتوں کے حسن و خوبصورتی کی خوب شرح کرتا ہے اور ابن المقفع اپنی کتاب یتیمہ الدہر میں بھی ایک چیز کے بیان میں بہت طاولت اختیار کرتا ہے۔ اب جبکہ یتیم کا اسم تنہا رہ جانے والے کے لئے ہے تو یہ ہر اس فرد کو شامل ہوگا جس کی ماں یا باپ گزر گیا ہو خواہ وہ خود نابالغ ہو یا بالغ۔ تاہم اس کا اطلاق اس بچے پر ہوتا ہے جو نابالغ ہو اور اس کا باپ دنیا میں موجود نہ ہو۔ ہمیں جعفر بن محمد نے، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے انہیں ابوعبید نے انہیں عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے انہوں نے علی بن ابی طلحہ سے انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے قول باری ویسئلونک عن الیتامی قل اصلاح لھم خیر) کی تفسیر میں بیان کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ان الذین یا کلون اموال الیتامی ظلماً انمایاکلون فی بطونھم ناراً وسیصلون سعیراً ۔ وہ لوگ جو ظلم کے ساتھ یتیموں کے مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ جہنم کی آگ سے بھرتے ہیں انہیں جلد ہی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دیا جائے گا) ۔ تو مسلمان یتیموں کو اپنے ساتھ رکھنے کو ناپسند کرنے لگے اور اپنے ساتھ ان کے مشترک رہن سہن اور خرچ وغیرہ کو گناہ کی بات سمجھنے لگے۔ مسلمانوں نے اس کے متعلق حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استفسار بھی کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ویسئلونک عن الیتامی لوگ آپ سے یتیموں کے متعلق پوچھتے ہیں) تا قول باری ولوشاء اللہ لاعنتکم۔ اگر اللہ چاہتا تو لئے تنگی پیدا کردیتا) یعنی اگر اللہ چاہتا تو تمہیں حرج اور تنگی میں ڈال دیتا لیکن اس نے تمہارے لئے وسعت اور آسانی پیدا کردی۔ اس لئے فرمایا ومن کان غنیاً فلیستعفف ومن کان فقیراً فلیاکل بالمعروف۔ یتیم کا جو سرپرست مال دار ہو وہ پرہیز گاری سے کام لے اور جو فقیر ہو وہ معروف طریقے سے کھائے) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے۔ آپ نے فرمایا ابتغواب اموال الیتامی لاتاکلھا الصدقۃ، یتیموں کے مال میں خرید و فروخت کرو یعنی تجارت میں لگائو انہیں اس طرح پڑا نہ رہنے دو کہ زکواۃ انہیں کھاجائے یعنی زکواۃ ادا کرتے کرتے ان کا مال ختم ہوجائے۔ حضرت عمر (رض) سے یہ روایت موقوفاً بھی مروی ہے ، حضرت عمر (رض) ، حضرت عائشہ (رض) حضرت ابن عمر (رض) ، قاضی شریح اور تابعین کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ یتیم کا مال مضاربت اور تجارت کے لئے دیا جاسکتا ہے یہ آیت بہت سے احکام پر مشتمل ہے۔ قول باری قل اصلاح لھم خیر۔ اس پر دلالت کر رہا ہے کہ یتیم کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا لینا اور اس میں خرید و فروخت کے ذریعے تصرف کرنا بشرطیکہ اس میں یتیم کا فائدہ ہو۔ مضاربت کے طور پر کسی دوسرے کے حوالے کردینا اور یتیم کے سرپرست کا خود مضاربت کرنا سب جائز ہے۔ آیت میں اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ پیش آنے والے نئے واقعات کے احکام کے متعلق اجتہاد کرنا جائز ہے۔ اس لئے کہ آیت میں جس اصلاح یعنی بھلائی کے طرز عمل کا ذکر ہے وہ صرف اجتہاد اور غالب گمان کے ذریعے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ یتیم کا سرپرست یتیم کے مال میں سے اپنے لئے خرید سکتا ہے بشرطیکہ اس میں یتیم کی بہتری مقصود ہو۔ وہ اس طرح کہ یتیم کو جو کچھ ہاتھ آئے اس کی قیمت اس سے زیادہ ہو جو اس کی ملکیت سے نکل جائے۔ یہی امام ابوحنیفہ کا قول ہے نیز سرپرست اپنے مال میں سے یتیم کے ہاتھوں فروخت بھی کرسکتا ہے۔ اس لئے کہ اس میں بھی اس کی بھلائی پیش نظر ہوتی ہے۔ آیت کی اس پر بھی دلالت ہو کہ سرپرست کو اگر اس میں بھلائی نظر آئے تو وہ یتیم کا نکاح بھی کرا سکتا ہے۔ نزدیک یہ صورت اس وقت درست ہے جبکہ ولی اور یتیم کے درمیان قرابت داری نہیں کرا سکتا جس کے ساتھ یتیم کی رشتہ داری نہ ہو اس لئے کہ نفس وصیت سے حاصل نہیں ہوتی لیکن ظاہر آیت کی اس پر دلالت ہو رہی ہے کہ قاضی لاح اور بھلائی کو پیش نظر رکھتے ہیں وہ اس کا نکاح کرا دے اور ولی اسے ایسی تعلیم دلوائے جس میں دینی لحاظ سے اور سے بھی آراستہ کرے اس کے لئے گنجائش صنعت و تجارت کی تعلیم کی خاطر اسے اس کی بھلائی پیش نظر ہوتی ہے۔ اسی بنا پر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ جس شخص کی سرپرستی میں اس کا کوئی یتیم رشتہ دار پرورش پا رہا ہو تو اسے اس بات کی اجازت ہے کہ صنعت و حرفت کی تعلیم کی غرض سے اسے کسی کے پاس بٹھا دے، امام محمد کا قول ہے کہ اسے اجازت ہے کہ اس پر اس کے مال سے خرچ کرے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر یتیم کو ہبہ کے طور پر کوئی مال دیا جائے تو اس کا سرپرست اس مال کو اپنے قبضے میں لے لے اس لئے کہ اسی میں یتیم کی بہتری ہے غرض ظاہر آیت ان تمام صورتوں کے جواز کا تقاضا کرتا ہے۔ قول باری ویسئلونک عن الیتامی قل اصلاح لھم خیر۔ میں مراد یہ ہے کہ ویسئلونک القوام علی الایتام الکافلین لھم۔ (آپ سے یتیموں کے سرپرستوں کے متعلق پوچھتے ہیں جو ان کی کفالت کریں) اس میں یتیم کا ہر محرم رشتہ دار داخل ہے۔ اس لئے کہ وہی یتیم کو سنبھال سکتا ہے۔ اس کی حفاظت نگہداشت اور پرورش کرسکتا ہے اور قول باری قل اصلاح لھم خیر میں اصلاح کی خاطر وہ تمام صورتیں آجاتی ہیں جن کا ذکر ہم پچھلی سطور میں کر آئے ہیں جن میں یتیم کے مال میں تصرف اس کا نکاح، اس کی تعلیم اور تادیب سب شامل ہیں۔ قول باری خیر کئی معانی پر دلالت کر رہا ہے۔ ایک یہ کہ یتیموں پر ان طریقوں سے تصرف کی اباحت جو ہم ذکر کر آئے ہیں۔ دوم یہ کہ یتیم کی سرپرستی حصول ثواب کا ذریعہ ہے کیونکہ خیر کہا ہے اور جو چیز خیر ہوتی ہے اس کے کرنے سے ثواب کا استحقاق ہوجاتا ہے ۔ سوم یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے واجب نہیں کیا بلکہ اس پر ثواب کا وعدہ دلالت کرتا ہے یتیم کے ولی پر تجارت وغیرہ کے ذریعے اس کے مال میں تصرف نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس کی شادی کرانے پر مجبور ہے۔ اس لئے کہ ظاہر لفظ ہے کہ اس سے مراد ترغیب اور ارشاد ہے۔ قول باری وان تغالطوھم فاخوانکم۔ میں اس بات کی اباحت ہے کہ ولی ساتھ یتیم کے مال کو ملا سکتا ہے، اس میں تجارت وغیرہ کے ذریعے تصرف بھی کرسکتا یہ بھی اجازت ہے کہ ولی نکاح وغیرہ کے ذریعے یتیم کو اپنے خاندان میں داخل کرسکتا اسے اپنا واماد بنالے یا یتیم لڑکی کو اپنی بہو بنالے وغیرہ۔ اس طریقے سے وہ یتیم شامل کرے گا اور خود بھی اس کے خاندان میں شامل ہوجائے گا۔ قول باری وان تخالطوھم۔ میں اپنے مال کے ساتھ یتیم کے مال کو ملا لینے اس کرنے کی اباحت اور اپنی اولاد میں سے کسی کے ساتھ اس کا نکاح پڑھانے کا جواز ہے۔ اسی طرح اگر وہ اس کا نکاح کسی ایسے فرد کے ساتھ پڑھا دے جو اس کے زیر کفالت ہو اس کا بھی اس آیت سے جواز معلوم ہوتا ہے۔ اس طریقے سے آیت پر عمل ہوگا اور اس کے ساتھ یتیم کی مخالفت ہوجائے گی۔ اس بات کی دلیل کہ مخالطت کا لفظ ان تمام صورتوں کو شامل ہے اگر کوئی کسی کا شریک یعنی حصہ دار ہو تو اس وقت یہ کہا جاتا ہے۔” خلان خلیط فلان “ اسی طرح یہ فقرہ اس وقت بھی بولا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی کے ساتھ لین دینی یا خرید و فروخت کرتا ہو یا ایک ساتھ اٹھنا، بیٹھنا اور کھانا پینا ہو اگرچہ وہ اس کا شریک نہ بھی ہو۔ اسی طرح اگر کوئی کسی کے ساتھ شادی بیاہ کے ذریعے رشتہ داری کرے تو اس وقت یہ کہا جاتا ہے ” قداختلط فلان بفلان “ (فلاں فلاں کے ساتھ مل گیا ہے) یہ تمام معانی لفظ خلطۃ سے ماخود ہیں جس کا معنی ہے۔ حقوق میں کسی تمیز کے بغیر اشتراک۔ اس مخالطت کی صحت کے لئے اصلاح کی شرط ہے جو آیت میں دو طریقوں سے بیان ہوئی ہے۔ اول یہ کہ لوگوں کے سوال کے جواب میں یتیموں کا معاملہ بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اصلاح کے ذکر کو مقدم کیا ہے دوم یہ کہ مخالطت کے ذکر کے فوراً بعد یہ ارشاد فرمایا واللہ یعلم المفسدین من المصلح، اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ فساد کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون) ۔ اوپر کے بیان سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ آیت اس امر کے جواز پر مشتمل ہے کہ ولی اپنے مال کے ساتھ یتیم کے مال کی وہ مقدار ملا سکتا ہے جس کے متعلق اسے غالب گمان ہو کہیتیم کو اپنے ساتھ رکھنے کی صورت میں مال کی یہ مقدار یتیم پر خرچ ہوجائے گی جیسا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ اسی طرح آیت کی دلالت مناھدہ کے جواز پر بھی ہو رہی ہے جو عام طور پر لوگ سفر کے دوران کرتے ہیں۔ اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ایک ساتھ سفر کرنے والے اپنے اپنے اخراجات کا ایک متعین حصہ نکال کر اکٹھا کر کے ملا لیتے ہیں اور پھر اسے سے سب کا خرچ چلاتے ہیں۔ اس میں بعض لوگ بعض کے مقابلہ میں بسیار خور ہوتے ہیں اور بعض کم خور لیکن جب اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے مال میں اس صورت کو جائز کردیا ہے تو پھر یہ صورت ان بالغوں کے مال میں جو بطیب خاطر اپنا اپنا مال ملا لیتے ہیں بطریق اولی جائز ہونی چاہیے۔ مناھدہ کے جواز کے لئے اصحاب کہف کے واقعہ میں نظیر موجود ہے۔ ارشاد باری ہے فابعثوا احدکم بودقکم ھذہ الی المدینۃ فلینظوایھا اذ کی طعاماً ، اپنے میں سے کسی کو یہ چاندی کا سکہ دے کر شہر بھیجو پھر وہ وہاں جا کر دیکھے کہ اچھا کھانا کہاں ملتا ہے) آیت میں مذکورہ چاندی کا سکہ سب کا تھا اس لئے کہ قول باری ہے بورقکم۔ اس سکے کی نسبت پوری جماعت کی طرف کی گئی ہے اور پھر اس سے کھانے کی چیز خرید کر لانے کو کہا گیا ہے تاکہ سب مل کر اسے کھائیں۔ قول باری وان تخالطوھم فاخوانکم مشارکت اور مخالطت کے جواز پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں ساتھ ہی ساتھ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اصلاح کی جو کوشش کر رہا ہے اس میں وہ ثواب کا مستحق ٹھہرے گا۔ اس لئے کہ قول باری فاخوانکم اس پر دلالت کر رہا ہے کیونکہ بھائی کی فلاح و بہبود کے لئے کوشاں ہو کر اس کی مدد کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ قول باری ہے انما المومنون اخوۃ فاصلحوابین اخویکم، تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اس لئے تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دو ) اسی طرح قول رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے ۔ واللہ فی عون العبد مادام العبدفی عون اخیہ۔ جب تک ایک شخص اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی مدد میں لگا رہتا ہے) ۔ اس بنا پر قول باری فاخوانکم اس نیکی کی طرف ترغیب اور ارشاد پر دلالت کر رہا ہے نیز اس سلسلے میں جتنا کچھ کیا جائے اس پر ثواب کے استحقاق پر بھی دلالت ہو رہی ہے۔ قول باری ہے ولوشاء اللہ لاعنتکم۔ اور اگر اللہ چاہتا تو اس معاملے میں تم پر سختی کرتا) اس سے مراد یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمہیں اس حکم کا مکلف بنانے کے سلسلے میں تمہارے لئے تنگی پیدا کردیتا اور تمہیں وہ یتیموں کو اپنے ساتھ شامل کرلینے اور ان کے مال میں تصرف کرنے سے تمہیں روک دیتا اور تمہیں اپنے مال کو ان کے مال سے جدا رکھنے کا حکم دے دیتا یا یہ کہ تم پر ان کے مال میں تصرف واجب کردیتا اور ان کا مال تجارت میں لگا کر ان کے لئے نفع حاصل کرنا ضروری قرار دے دیتا لیکن اللہ تعالیٰ نے وسعت پیدا کردی اور آسانی مہیا کردی نیز تمہیں اصلاح کی خاطر ان کے مال میں تصرف کی اجازت دے دی اور پھر اس پر تمام سے ثواب کا بھی وعدہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ تمام واجب نہیں کیں کہ پھر تم ان کی وجہ سے تنگ ہوتے، اللہ تعالیٰ نے یہ اس لئے کیا کہ تمہیں اپنی نعمتیں یاد دلائے، بندوں کے لئے آسانی اور وسعت کا اعلان کرے اور یہ بتادے کہ وہ ہمیشہ اپنے بندوں کی بھلائی چاہتا ہے۔ قول باری فاخوانکم۔ اس پر دلالت کرتا ہے کہ مسلمانوں کے بچے بھی احکام کے لحاظ سے مومن ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ اللہ نے انہیں ” تمہارے بھائی “ کہہ کر پکارا ہے نیز اللہ کا یہ بھی فرمان ہے انما المومنون اخوۃ۔ واللہ اعلم !

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٢٠) حضرت عبداللہ بن زوار (رض) نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یتیموں کے ساتھ کھانے پینے اور رہائش کے بارے میں پوچھا تھا کہ یہ چیز ہے یا نہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی، جس میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرکے فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یتیموں کے ساتھ کھانے پینے اور رہائش میں میل جول رکھنے کے متعلق دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیجیے کہ ان کے مال کی اصلاح ان کے ساتھ اختلاط کے ترک کرنے سے بہتر ہے۔ اور اگر تم کھانے پینے اور رہایش میں ان سے کے ساتھ میل جول رکھنا چاہتے ہو سو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں، لہٰذا ان کے حقوق کی حفاظت کرو اور اللہ تعالیٰ یتیموں کے اموال میں مصلحت کے ضائع کرنے والے اور باقی رکھنے والے کو علیحدہ علیحدہ جانتے ہیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو تمہارے لیے اس میل جول کو حرام کردیں اور جو شخص یتیم کا مال ضائع کرے وہ اس سے انتقام لینے پر قادر ہیں اور یتیم کا مال ضائع کرے وہ اس سے انتقام لینے پر قادر ہیں اور یتیم کے مال کی اصلاح کے بارے میں فیصلہ فرمانے والے ہیں۔ شان نزول : ویسئلونک عن الیتمی (الخ) امام ابو داؤد (رح) ونسائی (رح) اور امام حاکم (رح) وغیرہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جس وقت (آیت) ” ولا تقربومال الیتیم “۔ اور (آیت) ” ان الذین یاکلون اموال الیتمی “۔ یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ چناچہ جس کے زیر پرورش کوئی یتیم تھا اس نے یتیم کا کھانا اپنے کھانے سے اور اس کا پینا اپنے پینے سے الگ کردیا اور اپنے کھانے سے زیادہ یتیم کے لیے کھانے کی چیز رکھنا شروع کردی، جب تک کہ وہ اس کو کھا لیتا یا ضائع کردیتا، مگر یہ چیز صحابہ کرام (رض) کے لیے مشقت کا باعث ہوئی، انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس چیز کو بیان کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ اتاری۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٢٠ (فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِط۔ تمہارا یہ غور و فکر دنیا کے بارے میں بھی ہونا چاہیے اور آخرت کے بارے میں بھی۔ دنیا میں بھی اسلام رہبانیت نہیں سکھاتا۔ اسلام کی تعلیم یہ نہیں ہے کہ نہ کھاؤ ‘ نہ پیو ‘ چلے کشی کرو ‘ جنگلوں میں نکل جاؤ ! نہیں ‘ اسلام تو متمدن زندگی کی تعلیم دیتا ہے ‘ گھر گھرہستی اور شادی بیاہ کی ترغیب دیتا ہے ‘ بیوی بچوں کے حقوق بتاتا ہے اور ان کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمہیں آخرت کی بھی فکر کرنی چاہیے ‘ اور دنیا و آخرت کے معاملات میں ایک نسبت و تناسب (ratio proportion) قائم رہنا چاہیے۔ دنیا کی کتنی قدر و قیمت ہے اور اس کے مقابلے میں آخرت کی کتنی قدر و قیمت ہے ‘ اس کا صحیح طور پر اندازہ کرنا چاہیے۔ اگر یہ اندازہ غلط ہوگیا اور کوئی غلط تناسب قائم کرلیا گیا تو ہرچیز تلپٹ ہوجائے گی۔ مثال کے طور پر ایک دوا کے نسخے میں کوئی چیز کم تھی ‘ کوئی زیادہ تھی۔ اگر آپ نے جو چیز کم تھی اسے زیادہ کردیا اور جو زیادہ تھی اسے کم کردیا تو اب ہوسکتا ہے یہ نسخۂ شفا نہ رہے ‘ نسخہ ہلاکت بن جائے۔ (وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْیَتٰمٰی ط) (قُلْ اِصْلاَحٌ لَّہُمْ خَیْرٌ ط) ان کی مصلحت کو پیش نظر رکھنا بہتر ہے ‘ نیکی ہے ‘ بھلائی ہے۔ اصل میں لوگوں کے سامنے سورة بنی اسرائیل کی یہ آیت تھی : (وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ الاَّ بالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ) (آیت ٣٤) اور مال یتیم کے قریب تک نہ پھٹکو ‘ مگر ایسے طریقے پر جو (یتیم کے حق میں) بہتر ہو۔ چناچہ وہ مال یتیم کے بارے میں انتہائی احتیاط کر رہے تھے اور انہوں نے یتامٰی کی ہنڈیاں بھی علیحدہ کردی تھیں کہ مبادا ان کے حصے کی کوئی بوٹی ہمارے پیٹ میں چلی جائے۔ لیکن اس طرح یتامٰیکی دیکھ بھال کرنے والے لوگ تکلیف اور حرج میں مبتلا ہوگئے تھے۔ کسی کے گھر میں یتیم پرورش پا رہا ہے تو اس کا خرچ الگ طور پر اس کے مال میں سے نکالا جا رہا ہے اور اس کے لیے الگ ہنڈیا پکائی جا رہی ہے۔ فرمایا کہ اس حکم سے یہ مقصد نہیں تھا ‘ مقصد یہ تھا کہ تم کہیں ان کے مال ہڑپ نہ کر جاؤ ‘ ان کے لیے اصلاح اور بھلائی کا معاملہ کرنا بہتر طرزعمل ہے۔ (وَاِنْ تُخَالِطُوْہُمْ فَاِخْوَانُکُمْ ط) (وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ط) ۔ وہ جانتا ہے کہ کون بدنیتی سے یتیم کا مال ہڑپ کرنا چاہتا ہے اور کون یتیم کی خیر خواہی چاہتا ہے۔ یہ ہنڈیا علیحدہ کر کے بھی گڑبڑ کرسکتا ہے اور یہ وہ شخص ہے جو ہنڈیا مشترک کر کے بھی حق پر رہ سکتا ہے۔ (وَلَوْ شَاء اللّٰہُ لَاَعْنَتَکُمْ ط) ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہیں مشقت اور سختی سے بچایا اور تم پر آسانی فرمائی۔ (اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ ) وہ انتہائی مشقت پر مبنی سخت سے سخت حکم بھی دے سکتا ہے ‘ اس لیے کہ وہ زبردست ہے ‘ لیکن وہ انسانوں کو مشقت میں نہیں ڈالتا ‘ بلکہ اس کے ہر حکم کے اندر حکمت ہوتی ہے۔ اور جہاں حکمت نرمی کی متقاضی ہوتی ہے وہاں وہ رعایت دیتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

236. Before this verse was revealed many severe injunctions had already been revealed regarding the protection of orphans' property. It had been ordained that ' people should not even draw near to the property of the orphan' (6: 152; 17: 34) and that 'those who wrongfully eat the properties of orphans only, fill their bellies with fire' (4: 10) . Because of these severe injunctions the orphans' guardians were so over awed that they even separated the food and drink of the orphans from their own; they felt anxious lest anything belonging to the orphans became mixed with their own. It is for this reason that they enquired of the Prophet (peace he on him) what the proper form of their dealings with orphans should be.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :236 اس آیت کے نزول سے پہلے قرآن میں یتیموں کے حقوق کے حفاظت کے متعلق بار بار سخت احکام آچکے تھے اور یہاں تک فرما دیا گیا تھا کہ ”یتیم کے مال کے پاس نہ پھٹکو“ ۔ اور یہ کہ ” جو لوگ یتیموں کا مال ظلم کے ساتھ کھاتے ہیں ، وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں ۔ “ ان شدید احکام کی بنا پر وہ لوگ ، جن کی تربیت میں یتیم بچے تھے ، اس قدر خوف زدہ ہوگئے تھے کہ انہوں نے ان کا کھانا پینا تک اپنے سے الگ کر دیا تھا اور اس احتیاط پر بھی انہیں ڈر تھا کہ کہیں یتیموں کے مال کا کوئی حصہ ان کے مال میں نہ مل جائے ۔ اسی لیے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ان بچوں کے ساتھ ہمارے معاملے کی صحیح صورت کیا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

144: جب قرآنِ کریم نے یتیموں کا مال کھانے پر سخت وعید سنائی (سورہ نسا ۴: ۱۔ ۲) تو بعض صحابہ جن کی سرپرستی میں کچھ یتیم تھے، اتنی احتیاط کرنے لگے کہ ان کا کھانا الگ پکواتے اور انہیں الگ ہی کھلاتے، یہاں تک کہ اگر ان کا کچھ کھانا بچ جاتا تو سڑ جاتا تھا، اس میں تکلیف بھی تھی اور نقصان بھی۔ اس آیت نے واضح کردیا کہ اصل مقصد یہ ہے کہ یتیموں کی مصلحت کا پورا خیال رکھا جائے، سرپرستوں کو مشکل میں ڈالنا مقصد نہیں ہے۔ لہٰذا ان کا کھانا ساتھ پکانے اور ساتھ کھلانے میں کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ معقولیت اور انصاف کے ساتھ ان کے مال سے ان کے کھانے کا خرچ وصول کیا جائے۔ پھر اگر غیر ارادی طور پر کچھ کمی بیشی ہو بھی جائے تو معاف ہے۔ ہاں جان بوجھ کر ان کو نقصان نہ پہنچایا جائے، رہی یہ بات کہ کون انصاف اور اصلاح سے کام لے رہا ہے اور کس کی نیت خراب ہے، اسے اﷲ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:220) قل اصلاح اعظم اجرا۔ یعنی یتیموں کے اموال یا کاروبار میں بغیر اجرت و عوضانہ ترقی کی کوشش کرنا۔ تمہارے لئے بہتر اجر کا باعث ہوگا۔ ان تخالطوھم۔ ان شرطیہ تخالطوا مضارع مجزام جمع مذکر حاضر، مخالطۃ (مفاعلۃ) مصدر ہم ضمیر مفعول جماع مذکر غائ۔ اگر تم ان کو ملا لو۔ ان سے مشارکت کرلو ۔ جملہ شرطیہ ہے فاخوانکم جواب شرط۔ تو وہ تمہارے بھائی ہی ہیں اس لئے مشارکت میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ المفسد۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ فساد (باب ضرب۔ نصر) مصدر۔ بگاڑنے والا۔ المصلح۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ اصلاح (افعال) مصدر، درستی کرنے والا۔ بگاڑ نہ کرنے والا۔ صالح نیک۔ درست عمل کرنے والا۔ ولو شاء اللہ لا عنتکم۔ واؤ لو حرف شرط شاء ماضی کا صیغہ واحد غائب ۔ مشیئۃ (باب سمع) سے مصدر اور اگر اللہ چاہتا۔ شاء اصل میں شیئی تھا۔ ی متحرک۔ ما قبل مفتوح اس لئے ی کو الف سے بدلا گیا ہے۔ ولو شاء اللہ جملہ شرطیہ ہے۔ لاعنتکم۔ لام تاکید کے لئے ہے یا جواب شرط کے لئے ہے۔ اعنت ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اعنات (افعال) مصدر سے۔ جس کے معنی مشقت میں ڈالنے کے ہیں۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ تو تمہیں مشکل میں ڈال دیتا یعنی اس باب میں کوئی سخت قانون بنا دیتا۔ یہ جملہ جواب شرط ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ جب یہ آیت ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما۔ نازل ہوئی تو تو جو لوگ یتیموں کے کفیل تھے وہ بہت ڈر گئے اور ان کے کھانے پینے کا نتظام بھی الگ کردیا پھر بعض اوقات یتیم کے لیے تیار کی ہوئی چیز اس کے کام نہ آتی تو ضائع ہوجاتی اس طرح کئی مشکلات پیش آنے لگیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اصل یتیموں کی بہتری اور ان کے مال کی اصلاح ہے لہذا اگر ان کے اموال کو ساتھ ملانے میں ان کی بہتری ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ آخر یہ یتیم بچے تمہارے بھائی ہیں اگر کبھی تم نے ان کا اور انہوں نے تمہارا کچھ کھا پی لیا تو بھائیوں اور رشتہ داروں کے درمیان ایسا ہوتا ہی ہے اس پر لوگوں نے یتیموں کی کھانے پینے کی چیزوں کو پھر اپنے طعام و شراب کے ساتھ جمع کرلیا۔ (ابن جریر۔ ابن کثیر) نیز دیکھئے۔ (سورت اسرائیل آیت 34، الا نعام آیت 152)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 220 یبین (بیان کرتا ہے ، واضح کرتا ہے) ۔ تتفکرون (تم غور و فکر کرو گے) ۔ اصلاح (درست کرنا ، بہتر کرنا) ۔ تخالطو (تم ملا لو) ۔ اخوانکم (تمہارے بھائے بند (اخوان، اخ، بھائی) ۔ المفسد (فساد کرنے والا، بگاڑ پیدا کرنے والا) ۔ اعنت (مشکل میں ڈال دیا) ۔ تشریح : آیت نمبر 220 اس سوال کا پس منظر یہ ہے کہ ۔ عرب میں عام طو ر پر یتیموں کے حقوق کی ادائیگی میں بڑی کوتاہیاں کی جاتی تھیں۔ فرمایا گیا کہ جو لوگ یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں جہنم کے انگارے بھرتے ہیں۔ اس حکم کے آتے ہی صحابہ کرام (رض) انتہائی محتاط ہوگئے اور انہوں نے یتیموں کا کھانا بالکل الگ تھلگ کردیا جس سے یتیموں کا بھی نقصان ہونے لگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ یتیموں کا مال نہ کھانے سے مراد یہ ہے کہ ان کی مصلحت کو ضائع نہ کیا جائے اگر خرچ ملا لینے میں یتیموں کا فائدہ ہے تو ان کی مصلحت کی رعایت کرنا خرچ علیحدہ رکھنے سے بہتر ہے۔ اگر تم ان کے خرچ کو شریک رکھو تو کوئی ڈر کی بات نہیں ہے آخر وہ تمہارے ہی تو بھائی بند ہیں۔ بلا علم و ارادہ اگر کوئی معمولی سی کمی یا لغزش ہوجائے تو چونکہ اللہ تعالیٰ کو تمام انسانوں کی نیت کا اچھی طرح علم ہے اس لئے اس پر کوئی گرفت نہیں ہوگی۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو اس معاملہ میں کوئی سخت قانون مقرر فرما دیتے۔ مگر اللہ تعالیٰ سب انونوں کی بنیادی کمزوریوں سے واقف ہیں اس لئے مشقت میں ڈالے بغیر یہ قانون مقرر فرما دیا کہ اصل چیز یتیم کے مال کی حفاظت اور نگہبانی ہے اور اس کی مصلحت اور فائدوں کی رعایت ہے اس لئے اگر بلا علم و ارادہ کوئی کوتاہی یا کمی ہوجائے جس سے یتیم کے حق پر ضرب نہ پڑتی ہو تو اس کوئی حرج نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ چونکہ ابتداء میں مثل ہندوستان کے عرب میں بھی یتیموں کا حق دینے میں پوری احتیاط نہ تھی اس لیے یہ وعید سنائی گئی تھی کہ یتیموں کا مال کھانا ایسا ہے جیسا دوزخ کے انگارے سے پیٹ بھرنا توسننے والے ڈر کے مارے اتنی احتیاط کرنے لگے کہ ان کا کھانا بھی الگ پکواتے الگ رکھواتے اور اتفاق سے اگر بچہ کم کھاتا تو کھانا بچتا اور سڑتا اور پھینکنا پڑتا اس طرح بالکل علیحدہ اٹھائے رکھنے میں تکلیف بھی ہوتی اور یتیم کے مال کا بھی نقصان ہوتا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ کلام کا تسلسل اور سوال و جواب کا سلسلہ جاری ہے۔ لہٰذا اب یتیموں کی اصلاح اور ان کے ساتھ معاشرت کے اصول بیان کیے جارہے ہیں۔ کیونکہ اس سے پہلے یتیموں کے بارے میں یہ احکامات نازل ہوچکے تھے کہ یتیموں کا مال کھانا پیٹ میں جہنم کے انگارے بھرنے کے مترادف ہے۔ اس انتباہ کی وجہ سے صحابہ کرام (رض) اس قدر خوف زدہ اور محتاط ہوئے کہ انہوں نے یتیموں کا کھانا پینا اور ان کے معاملات یکسر طور پر اپنے سے الگ کردیے۔ لیکن اس صورت حال سے نئے مسائل پیدا ہونے شروع ہوئے۔ جس کے لیے یتیموں کے بارے میں مزید وضاحت کی ضرورت پیش آئی۔ چناچہ وضاحت کی جارہی ہے کہ دراصل اللہ تعالیٰ کے احکام کا منشاء یہ ہے کہ یتیموں کے مال اور ذات کی اصلاح اور خیر خواہی ہونی چاہیے لہٰذا ان کے ساتھ مل جل کر رہنا، ایک ہی جگہ مل کر کھانا، پینا اور ترقی کے نقطۂ نظر سے ان کے مال کو اپنے کاروبار میں شامل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ پسماندہ اور والدین کی سرپرستی سے محروم ہونے اور اخوت اسلامی کی بنا پر وہ تمہارے بھائی ہیں۔ ان کے ساتھ ایک بھائی جیسی ہی خیر خواہی ہونی چاہیے۔ یہ وضاحت اور آسانی اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے ورنہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم پر سخت احکامات نازل کرسکتا تھا۔ لیکن یاد رکھنا اللہ تعالیٰ تمہاری نیّتوں اور طرز عمل کو جانتا ہے۔ اسے خوب معلوم ہے کہ کون زیادتی اور خرابی اور کون اصلاح کے ارادے سے یتیموں کے مال کو اپنے مال کے ساتھ شامل کررہا ہے۔ بیشک تم عارضی اور وقتی طور پر کمزوروں اور یتیموں پر بالا دست ہو۔ مگر زیادتی نہ کرنا اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ بالا دست اور حکمت والا ہے۔ یتیموں اور بیواؤں کی کفالت کے بارے میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمودات : (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَ ۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کَافِلُ الْیَتِیْمِ لَہٗ أَوْلِغَیْرِہٖ أَنَا وَھُوَ کَھَاتَیْنِ فِی الْجَنَّۃِ وَأَشَارَ مَالِکٌ بالسَّبَابَۃِ وَالْوُسْطیٰ ) [ رواہ مسلم : کتاب الزھد، باب الإحسان إلی الأرملۃِ والمسکین والیتیم ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) رسول گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : قریبی یا کسی دوسرے یتیم کی کفالت کرنے والا اور میں جنت میں ان دوانگلیوں کی طرح ہوں گے۔ راوی نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کا اشارہ کیا۔ “ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ (رض) أَنَّ رَجُلًا شَکَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَسْوَۃَ قَلْبِہٖ فَقَالَ لَہٗ إِنْ أَرَدْتَ تَلْیِیْنَ قَلْبِکَ فَأَطْعِمِ الْمِسْکِیْنَ وَامْسَحْ رَأْسَ الْیَتِیْمِ ) [ مسند أحمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب مسند أبی ہریرہ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دل کے سخت ہونے کی شکایت کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر چاہتا ہے کہ تیرا دل نرم ہوجائے تو پھر مسکین کو کھانا کھلا اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر۔ “ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَ ۃَ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اَلسَّاعِیْ عَلَی الْأَرْمَلَۃِ وَالْمِسْکِیْنِ کَالْمُجَاھِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوِالْقَاءِمِ اللَّیْلَ الصَّاءِمِ النَّھَارَ ) [ رواہ البخاری : کتاب النفقات بابفضل النفقۃ علی الأھل ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیوگان اور مساکین کی کفالت کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے یا دن کو روزہ اور رات بھر قیام کرنے والے کی طرح ہے۔ “ مسائل ١۔ یتیموں کی اصلاح کرنا نیکی کا کام ہے۔ ٢۔ ان کے ساتھ مل جل کر رہنے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ فساد کرنے والے اور اصلاح کرنے والے کو جانتا ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب اور حکمت والا ہے۔ تفسیر بالقرآن یتیموں کے حقوق کا تحفظ : ١۔ یتیم تمہارے بھائی ہیں۔ (البقرۃ : ٢٢٠) ٢۔ یتیموں کی اصلاح میں ہی بہتری ہے۔ (البقرۃ : ٢٢٠) ٣۔ یتیم کو جھڑکنے کی ممانعت ہے۔ (الضحیٰ : ٩) ٤۔ یتیموں کے سمجھ دار ہونے پر ان کا مال ان کے حوالے کرنا چاہیے۔ (النساء : ٦) ٥۔ مال حوالے کرتے وقت گواہ بنانے چاہییں۔ (النساء : ٦) ٦۔ یتیم کا مال کھانا بہت بڑا گناہ ہے۔ (النساء : ٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب اس اگلی آیات میں ، اسلامی اصول حیات کے بارے میں چند سوالات کا جواب دیا گیا ہے ۔ یہ سوالات مختلف لوگوں نے مسائل سمجھنے کے لئے کئے تھے : اس سے پہلے بھی انہوں نے سوال کیا تھا ، کہ وہ کیا خرچ کریں ؟ اس کے جواب میں خرچ کی نوعیت اور مصرف کی تشریح کردی گئی ۔ یہاں بھی سوال تو وہی ہے ، جواب میں خرچ کی مقدار اور اس کا درجہ بتایا گیا ہے ۔ عفو کے معنی عربی میں فاضل اور زیادہ کے ہوتے ہیں ۔ جو مال ذاتی ضروریات سے زیادہ ہو ۔ ضروریات سے مراد ایسی ضروریات جو عیاشی اور نمائشی نہ ہوں ۔ اسے خرچ کیا جاسکتا ہے اور مصرف کی ترتیب وہی ہے جو اس سے پہلے بیان ہوچکا ہے۔ قریب سے قریب تر کا حق زیادہ ہے اور اس کے بعد دوسرے لوگ درجہ بدرجہ ہیں ۔ انفاق کا حکم صرف ادائیگی زکوٰۃ ہی سے پورا نہیں ہوجاتا۔ کیونکہ اس آیت کو نہ تو زکوٰۃ نے منسوخ کیا ہے اور نہ مخصوص کیا ہے ۔ جیسا کہ میں سمجھا ہوں ۔ زکوٰۃ کی ادائیگی سے ایک فرض ادا ہوجاتا ہے لیکن اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ادا کنندہ بس دوسری معاشرتی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہوگیا بلکہ زکوٰۃ کے بعد بھی انفاق کا حکم علی حالہ باقی رہتا ہے ۔ زکوٰۃ مسلمانوں کے بیت المال کا حق ہے اور اسے وہ حکومت حاصل کرے گی جو اللہ کی شریعت نافذ کرے ۔ اور یہ حکومت بھی اسے اس کے معلوم ومعروف مصارف پر خرچ کرے گی۔ لیکن اس کے بعد بھی مسلمانوں کی جانب سے اور خود مسلمان بھائیوں کی جانب سے عائد شدہ ذمہ داریاں بدستور قائم رہتی ہیں ۔ پھر زکوٰۃ تو ایک خاص شرح سے فرض کی گئی ہے ۔ اور یہ ممکن نہیں ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی سے تمام فاضل دولت سرمایہ دار کے ہاتھ سے نکل جائے ۔ لیکن آیت زیر بحث تو واضح طور پر بتاتی ہے کہ العفو پورا کا پورا خرچ ہونا چاہئے ۔ اس سلسلے میں ایک واضح حدیث بھی موجود ہے ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں : اِنَّ فِی المَالِ حَقًّا سَوِی الزَّکوٰۃٍ ” بیشک دولت میں زکوٰۃ کے سوا بھی حق ہے۔ “ ایسا حق ، جسے صاحب ثروت اللہ کی رضا کے لئے خود مناسب جگہ خرچ کرتا ہے اور یہ خرچ کی اعلیٰ صورت ہے ، کامل صورت۔ اگر وہ خود خرچ نہیں کرتا اور اسلامی نظام کو نافذ کرنے والی حکومت کو اس کی ضرورت ہوتی ہے تو اسے اختیار ہے کہ وہ یہ دولت اس صاحب ثروت سے حاصل کرے اور اسلامی جماعت کے ان افراد پر خرچ کردے جو امداد کی مستحق ہیں ۔ تاکہ صاحب ثروت نہ اسے عیش و عشرت اور عیاشی کے کاموں میں استعمال کرسکے اور نہ ہی ذخیرہ کرکے معطل کردے۔ دولت کی گردش روک دے اور اس پر سانپ بن کر بیٹھ جائے كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ ، فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ” اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے صاف صاف احکام بیان کرتا ہے ۔ شاید کہ تم دنیا اور آخرت دونوں کی فکر کرو۔ “ اس آیت میں فرمایا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ اپنے احکام بیان کرتا ہے اور اس لئے بیان کرتا ہے کہ تم لوگ دنیا وآخرت دونوں کے بارے میں غوروفکر سے کام لو۔ اس لئے کہ صرف دنیا کے بارے میں غور وفکر کرنے سے ، وجود انسانی کی حقیقت ، انسان کی زندگی اور اس کے فرائض کے درمیان باہمی ربط کی اصل حقیقت کے بارے میں نہ عقل انسانی صحیح تجزیہ کرسکتی ہے۔ اور نہ ہی اسلام کے قلب ونظام زندگی اور اس کی قدروں کی صحیح تصویر بنائی جاسکتی ہے ۔ اس لئے کہ دنیا تو زندگی کا ایک حصہ ہے ۔ اور بہت ہی ادنیٰ اور مختصر حصہ ہے ۔ اگر انسان اپنے نظریات اور اپنے نظام کی اساس اس مختصر اور سطحی نقطہ نظر پر رکھے تو اس کے نتیجے میں کبھی انسان نہ کسی صحیح تصور حیات تک پہنچ سکتا ہے اور نہ زندگی میں کوئی صحیح طرزعمل اختیار کرسکتا ہے ۔ پھر انفاق کا ذاتی طور پر دنیا سے بھی تعلق ہے ۔ اور آخرت سے بھی تعلق ہے ۔ انفاق سے اس کی دولت میں جو کمی آتی ہے اس کے نتیجے میں اسے دل کی صفائی اور قلب ونظر کی پاکیزگی ، اس دنیا میں نصیب ہوجاتی ہے ۔ پھر انفاق کرنے والا جس معاشرے میں رہتا ہے اس معاشرے کے ساتھ اس کی آشتی ہوجاتی ہے ، صلح ہوجاتی ہے اور افراد کے درمیان تعلقات مضبوط ہوجاتے ہیں ۔ لیکن ابنائے معاشرہ کا ہر فرد ہوسکتا ہے یہ باتیں نہ سوچ سکے اس لئے ، آخرت کا عقیدہ اور شعور اور جزائے اخروی کی امید اور آخرت میں جو درجات ہیں اور جو قدریں ہیں ان کا خیال تو ہر شخص کے ذہن میں وزن رکھتا ہے اور اس سے انفاق کا پلڑا بھاری ہوجاتا ہے ۔ اس سے نفس انسانی مطمئن ہوجاتا ہے ، اسے سکون و آرام نصیب ہوتا ہے ۔ ترازو نفس انسانی کے ہاتھ میں آجاتا ہے جو ہر وقت معتدل رہتا ہے اور کسی وقت بھی کھوئی قدروں اور آنکھوں کو چکاچوند کرنے والے دنیاوی معیارات سے اس کے ترازو کو ہلکا نہیں کرسکتے ۔ اجتماعی تکافل (Social Security) اسلامی معاشرے کا سنگ اول ہے ۔ اسلامی جماعت کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے نادار اور ضعیف لوگوں کو خیال رکھے ، یتیموں کا بالخصوص ، جو نابالغ ہیں اور ماں باپ کے سائے سے محروم ہوگئے ہیں ۔ چونکہ وہ کمزور ہیں اس لئے وہ اجتماعی امداد اور اجتماعی حمایت کے مستحق ہیں ۔ اسلامی معاشرے کا یہ فرض ہے کہ وہ ان کی پرورش کرے اور ان کے اموال اور ان کی جائدادوں کی حفاظت کرے ۔ بعض اولیاء (Guardians) ایسے تھے جو یتیموں اور خود اپنے کھانے پینے کا انتظام یکجا کرتے تھے ۔ نیز انہوں نے اپنے اور یتیموں کے اموال یکجا کرکے تجارت میں لگایا ہوا تھا۔ بعض اوقات اس طرح یتیموں کو نقصان ہوتا تھا ۔ اس پر قرآن مجید کی آیات اتریں جن میں مسلمانوں کو یتیموں کا مال کھانے سے سخت ڈرایا گیا ۔ اس پر بعض نیک لوگوں نے اس قدر احتیاط شروع کردی کہ انہوں نے یتیموں کا مال کھانا بھی الگ کردیا۔ اب صورتحال یہ ہوگئی کہ کسی کے پاس اگر یتیم ہوتا تو وہ یتیم کے مال سے اس کے لئے کھانا تیار کرتے ۔ اگر کچھ بچ جاتا تو وہ دھرا رہتا اور دوسرے وقت اسے کھاتا یا ضائع ہوجاتا اور پھینک دیا جاتا۔ یہ اس قدر زیادہ تشدد تھا جسے اسلام کا مزاج گوارا نہ کرتا تھا۔ علاوہ ازیں بعض اوقات اس میں یتیم کو نقصان بھی ہوتا چناچہ ، یہ آیات نازل ہوئیں اور مسلمانوں کو تلقین کردی گئی کہ وہ اعتدال اور آسانی کا راستہ اختیار کریں ، جس میں اس کی مصلحت ہو۔ درحقیقت ان کے لئے خیر خواہی کا جذبہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں الگ تھلگ کردیا جائے ۔ اگر اکھٹا رہنے سہنے اور کھانے پینے کے انتظام میں یتیم کی بھلائی ہے تو ساتھ رکھنا چاہئے ۔ کیونکہ یتیم بھی بہرحال اولیاء کے بھائی بند ہی تو ہیں ہیں ۔ تمام مسلمان ہیں اور بھائی بھائی ہیں۔ سب کے سب ایک عظیم اسلامی خاندان کے افراد ہیں ۔ اللہ بھلائی کرنے والے اور برائی کرنے والے دونوں کے حال سے باخبر ہے۔ اللہ کے ہاں ظاہری شکل و صورت پر ہی فیصلے نہ ہوں گے ، نیت اور نتائج کو بھی دیکھاجائے گا ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تکلیف میں ڈالنا پسند نہیں کرتا نہ امر ونہی میں ان پر کوئی تکلیف لانا چاہتا ہے یا ان کو مشقت میں ڈالنا چاہتا ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو تکلیف میں ڈال دیتا ، لیکن اللہ کا یہ ارادہ نہ تھا ، وہ تو عزیز و حکیم ہے ۔ وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے لیکن وہ حکیم ہے ۔ آسان بھلائی اور اصلاح کے سوا اور کچھ نہیں چاہتا۔ یوں تمام معاملات کا ربط خدائے لایزل سے قائم ہوجاتا ہے ۔ تمام معاملات کو اس اصلی محور کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے ۔ جس کے گرد پورا نظریہ حیات گھومتا ہے ۔ جس کے گرد پوری زندگی گھومتی ہے ۔ یہ ہوتا ہے حال اس نظام قانون کا جو کسی نظریہ حیات پر مبنی ہوتا ہے۔ اس قانون کے نفاذ کی ضمانت ، انسان کے خارج ، انسان کی ذات سے علیحدہ کسی اور ذریعہ سے فراہم نہیں ہوتی ۔ بلکہ انسان کے ضمیر کے اندر گہرائیوں میں سے اس قانون پر عمل کرنے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے اور ہر شخص اس پر از خود عمل کرتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر ارشاد فرمایا : (وَ یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْیَتٰمٰی) کہ وہ لوگ آپ سے یتیموں کے بارے میں سوال کرتے ہیں پھر اس سوال کا جواب عنایت فرمایا جواب سمجھنے سے پہلے آیت کا سبب نزول سمجھ لیا جائے اس سے سوال کا مضمون بھی واضح ہوجائے گا، اور پھر جواب بھی سمجھ میں آجائے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ در منثور ص ٣٥٥ ج ١ میں بحوالہ سنن ابو داؤد اور مستدرک حاکم حضرت ابن عباس (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ جب آیت کریمہ (وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ) (اور نہ قریب جاؤ یتیم کے مال کے مگر اس طریقہ سے جو احسن ہو) اور آیت کریمہ (اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْبَتٰمٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا) (جو لوگ یتیموں کے مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ ہی بھرتے ہیں) نازل ہوئی تو وہ صحابہ جن کے پاس کوئی یتیم تھا انہوں نے یتیم کا کھانا پینا الگ کردیا (یتیم کے لیے الگ پکاتے اور اپنے لیے الگ تیار کرتے) ایسا کرنے سے یتیم کے کھانے میں سے کچھ حصہ بچ جاتا تھا اسے رکھ لیتے تھے پھر بعد میں وہ یتیم کھا لیتا تھا یا خراب ہوجاتا تھا۔ جب یہ صورت حال پیش آئی تو ان حضرات نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پوری کیفیت پیش کی اس پر اللہ تعالیٰ شانہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (در منثور ص ٥٥ ج) آیت کا مطلب یہ ہے کہ مقصود اصلی اصلاح ہے۔ یتیم بچوں کا مال اس طریقہ پر ان پر خرچ کرو کہ ان کا نقصان بھی نہ ہو اور کوئی خراب نیت بھی نہ ہو کہ اس کا مال ساتھ ملا کر پکانے میں اس کے حصہ میں سے اپنے اوپر یا اپنے بچوں پر خرچ ہوجانے کی نیت ہو ان کا مال اپنے مال میں ملا کر پکانے میں چونکہ مصلحت پیش نظر ہے کہ ان کا مال زیادہ خرچ نہ ہو اور ضائع نہ ہو تو اس میں کوئی مؤاخذہ اور محاسبہ کی بات نہیں ہے وہ تمہارے بھائی ہیں۔ بھائیوں کی طرح مل جل کر اصلاح و خیر خواہی مد نظر رکھتے ہوئے کھاؤ اور پیو، اللہ تعالیٰ شانہ مصلح کو بھی جانتا ہے۔ (جس کی نیت اصلاح کی ہو) اور مفسد کو بھی جانتا ہے جس کی نیت خراب ہو اور فساد اور بگاڑ کا ارادہ رکھتا ہو۔ پھر فرمایا کہ (وَلَوْ شَآء اللّٰہُ لَاَعْنَتَکُمْ ) اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم کو مشقت میں ڈال دیتا اور تم کو حکم دیتا کہ یتیموں کا ہر حال میں الگ پکاؤ اور ایسے انداز سے پکاؤ کہ ذرا بھی خراب نہ ہو اور یہ تمہارے لیے مشکل اور دشواری کا باعث ہوجاتا، اللہ تعالیٰ نے آسانی عطا فرما دی، آسانی پر عمل کرو، اور نیت اچھی رکھو، آخر میں فرمایا : (اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ عزیز ہے یعنی غلبہ والا ہے) وہ مؤاخذہ فرمائے تو کوئی اس سے بچ نہیں سکتا اور وہ حکیم بھی ہے اس کے تمام احکام حکمت پر مبنی ہیں کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

428 تیسرا مسئلہ قرآن مجید میں یتیموں کا مال کھانے کی سخت ممانعت وارد ہوئی تو صحابہ کرام میں سے جس جس کے زیر کفالت کوئی یتیم تھا۔ انہوں نے یتیموں کے کھانے پینے کا انتظام اپنے سے الگ کردیا۔ اگر کسی یتیم کا کچھ بچ رہتا تو وہ دوسرے وقت یتیم کو دیدیا جاتا۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ وہ کھانا خراب ہوجاتا۔ نیز ان کا کھانا علیحدہ تیار کرنے میں بہت دقت تھی۔ اس لیے صحابہ کرام نےحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کہ آیا یتیموں کے کھانے کا علیحدہ انتظام رکھا جائے یا اپنے ساتھ ملانے کی اجازت ہے ؟ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ۔ تو اس کا جواب دیا گیا کہ وہ طریقہ اختیار کرو جس میں یتیموں کی اصلاح ہو اور ان کا فائدہ ہو۔ یعنی یتیموں کو مال دینا واجب نہیں۔ البتہ ان کی خیر خواہی ضروری ہے۔ قاعدہ : قرآن مجید میں جہاں دو مسئلے بیان کرنے ہوں اور ان میں سے ایک سیاق سے معلوم ہوجائے اور ایک سیاق سے معلوم نہ ہو تو جو مسئلہ سیاق سے معلوم ہوجائے اس کی صراحت نہیں کی جاتی اور جو سیاق سے معلوم نہ ہو اسے صراحۃً بیان کیا جاتا ہے۔ یہاں بھی ایسا ہے۔ یہ بات سیاق سے معلوم تھی کہ یتامی کو مال دینا ضروری نہیں اس کا ذکر نہیں کیا گیا اور ان کی اصلاح کا ذکر کیا گیا ہے۔429 اور اگر تم ان کے کھانے پینے کا انتظام اپنے ساتھ مخلوط رکھو تو اس کی بھی اجازت ہے کیونکہ وہ بھی تمہارے بھائی ہیں اگر بھائیوں بھائیوں میں رضامندی سے تھوڑا بہت ادھر ادھر ہوجاوے تو کچھ مضائقہ نہیں۔ غرض یہ ہے کہ یتیموں کا مال ناحق نہ کھایا جائے۔ اس آیت میں بشرط اصلاح یتیموں کو ساتھ رکھنے کی ترغیب فرمائی ہے۔ 430 اللہ تعالیٰ تو جانتا ہی ہے کہ یتیموں کا خرچ اکٹھا کرنے سے کس کی نیت نیک ہے اور کس کی نیت خراب ہے۔ کون یتیموں کے مال کی اصلاح اور حفاظت چاہتا ہے۔ اور کون ان کے مال میں خیانت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ الذی یقصد بالمخالطۃ الخیانۃ وافساد مال الیتیم واکلہ بغیر حق عن الذی یقصد الاصلاح (معالم ص 179 ج 3) ۔ وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ ۔ مخالطت کی اجازت دے کر اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے سہولت پیدا کردی ہے۔ اور اگر وہ چاہتا تو اس کی اجازت نہ دیتا اور تم پر اس معاملہ میں تنگی پیدا کردیتا۔ ای لضیق علیکم ولم یجوز لکم مخالطتھم (روح ص 117) ۔ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۔ وہ جو چاہے حکم دے سکتا ہے۔ کوئی اسے روکنے والا نہیں۔ مگر وہ صرف وہی احکام صادر فرماتا ہے جو اس کی حکمت اور مصلحت کے مطابق ہوں۔ اس کی بھی دو جہتیں تھیں۔ اگر یتیموں کا مال علیحدہ رکھا جائے تو اس میں حرج ہے اور اگر ملایا جائے تو احتیاط نہیں رہتی۔ نکتہ : اگر یتامیٰ کے پاس اپنا مال موجود ہو تو ان پر اپنا مال خرچ کرنا ضروری نہیں البتہ ان کے مال کی اصلاح اور حفاظت ضروری ہے لیکن مشرکین کے مقابلہ میں شرک مٹانے کے لیے جہاد میں سب مال خرچ کرنا نہایت ضروری ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اور اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگ آپ سے شراب اور جوئے کی بابت دریافت کرتے ہیں اور آپ سے ان دونوں چیزوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ ان سے فرما دیجئے اور ان کو جواب دے دیجئے کہ شراب اور جوئے میں بڑا گناہ ہے یعنی ان دونوں کی وجہ سے انسان بڑے بڑے گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے اور ہاں ! لوگوں کے لئے ان میں کچھ فائدے اور منافع بھی ہیں مگر ان دونوں کی وجہ سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے وہ گناہ ان کے نفع اور ان کیف ائدوں سے بڑھے ہوئے ہیں اور چونکہ فوائد سے خطرات بڑے ہیں اس لئے یہ دونوں ترک کردینے کے قابل ہیں اور اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کیا کریں اور کس قدر خرچ کیا کریں آپ ان سے فرما دیجئے جو ضرورت سے فاضل ہو اور جس کا خرچ کرنا سہل اور آسان ہو اللہ تعالیٰ اپنے احکام کو تمہارے لئے اسی طرح واضح اور صاف صاف بیان فرماتا ہے کہ تم دنیا اور آخرت کے معاملات میں ان احکام کو سوچ لیا کرو اور ان پر غور کرلیا کرو اور سوچ سمجھ کر ہمارے بیان کردہ احکام کے موافق عمل کیا کرو۔ اور اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! لوگ آپ سے یتیموں یعنی بن باپ کے بچوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور ان کے مال اور ان کی نگرانی وغیرہ کا حکم دریافت کرتے ہیں آپ ان سے فرما دیجئے کہ بہرحال ان کے مال اور ان کی حالت کی سنوار اور اصلاح بہت بہتر ہے یعنی بہر صورت یتیموں کے مصالح کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے اور اگر بعض دشواریوں کی وجہ سے ان کے مال اور ان کا خرچ اپنے خرچ کے ساتھ شریک کرلو اور ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے مال کو برباد کرنے خورد برد ک رنے والے کو اور ان کی اصلاح اور درستی اور ان کے مال کی حفاظت کرنے والے کو الگ الگ جانتا اور پہچانتا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو قانون کی سختی سے تم کو مشقت اور مصیبت میں ڈال دیتا کیونکہ اللہ تعالیٰ بڑا زبردست ہے اس لئے ایسا کرسکتا ہے اور چونکہ وہ بڑا صاحب حکمت ہے اس لئے ایسا نہیں کیا اور قانون کو نرم رکھا۔ (تیسیر) شراب اور جوئے کے مفاسد لوگ روز دیکھتے تھے اور جب تک ان کی ممانعت نازل نہیں ہوئی تھی لوگ شراب پیتے اور جوا کھیلتے تھے لیکن بعض سلیم الطبع حضرات ان کی خرابیوں کو محسوس کرتے تھے چناچہ حضرت عمر (رض) دعا فرماتے تھے اللھم بین لنا فی الخمر بیانا شافیاً یعنی یا اللہ شراب کے بارے میں ایسا بیان نازل فرما جو شافی ہو پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس کے بعد بھی حضرت عمر (رض) نے یہی دعا کی اس کے بعد یا یھا الذین اٰمنو الا تقربوا الصلوۃ کی آیت نازل ہوئی پھر بھی حضرت عمر (رض) نے یہی دعا کی پھر جب ساتویں پارے کی آیت نازل ہوئی تب حضرت عمر (رض) نے فرمایا انتھینا انتھینا یعنی ہم نے ترک کردی اور ہم باز آگئے۔ بہر حال جوئے کے نقصانات اور شراب کی خرابیوں کو دیکھ کر یہ سوال مسلمانوں نے کیا تھا اس پر جو جواب دیا گیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جوا اور شراب بالذات خواہ گناہ نہ ہوں لیکن یہ دونوں بڑے بڑے جرائم اور گناہ کی بڑی بڑی باتوں کا ذریعہ بن جاتے ہیں اور انسان کے افعال ہی کو گناہ اور ثواب سے تعبیر کیا جاتا ہے اور ان ہی پر حلال و حرام کا حکم لگتا ہے ورنہ کسی شے کی ذات اور عین کو گناہ نہیں کہا جاتا اس لئے فرمایا فیھا اثم کبیر یعنی ان دونوں ک ے استعمال سے روکنے والی ہے جب عقل ہی جاتی رہی تو پھر معاصی کا کیا ٹھکانا ہے زنا اور قتل وغیرہ سب اسی شراب ہی کی پیداوار ہیں اسی طرح جوئے سے مال کی محبت اور حرص اور لالچ پیدا ہوجاتا ہے پھر انسان مال حاصل کرنے کے اور ناجائز طریقے اختیار کرلیتا ہے۔ رہے منافع تو وہ بھی ظاہر ہیں شراب میں طاقت اور سرور وغیرہ حاصل ہوتا ہے جوئے میں جیتنے کی خوشی اور حصول مال کی لذت میسر ہوتی ہے بلا مشقت مال مل جاتا ہے لیکن مفاسد زیادہ اور منافع کم ہیں جو نفع ہوتا ہے اس کے مقابلہ میں جن گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے وہ بہت زیادہ ہیں اگرچہ آیت میں صراحتہً حرمت کا حکم نہیں ہے لیکن جس پہلو سے نفع اور نقصان کا مقابلہ فرمایا اس سے یہ معلوم ہوا کہ ترک پسندیدہ ہے کیونکہ جس چیز کا نفع باقی رہنے والا نہ ہو ضرر دیرپا اور باقی رہنے والا ہو اس کا ترک ہی بہتر ہے۔ چناچہ اس آیت کو سن کر بعض مسلمانوں نے تو اسی وقت ان دونوں کو ترک کردیا اور بعض نے یہ خیال کرکے کہ حرام تو فرمایا نہیں البتہ ان کے ضرر اور مفاسد سے مطلع کیا ہے تو آئندہ احتیاط سے کام لیں گے اس خیال سے ان دونوں کو ترک نہیں کیا جوئے اور شراب کی مزید بحث انشاء اللہ آگے آجائے گی۔ سوال کرنے والوں نے جو یہ دریافت کیا کہ کیا خرچ کریں تو یہ سوال بھی اس سوال تے ملتا جلتا ہے جو اوپر کی آیت میں گذر چکا ہے لیکن یہ ہوسکتا ہے کہ پہلی آیت میں صرف جنس سے سوال ہوا ور یہاں جنس کے ساتھ کھپت اور مقدار کا بھی سوال ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پہلے سوال کے جواب میں جو فرمایا تھا کہ جو توفیق اور ہمت ہو یہاں اس ہمت اور توفیق کی تحقیق مقصود ہو جیسا کہ جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ جو اخراجات سے زائد ہو اور آسانی کے ساتھ دے سکو وہ دو کبھی ایسا نہ ہو کہ ہمت سے زائد دے بیٹھو اور پھر پریشانی میں مبتلا ہوجائو۔ کذلک کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے خیرات کا یہ مسئلہ بیان کیا ہے اسی طرح ہم اپنے اور احکام بھی صاف اور واضح کرکے بیان کرتے ہیں تاکہ تم آگے پیچھے کے تمام معاملات پر غور کرلیا کرو یا یہ مطلب ہے کہ انفاق کا تعلق دنیا اور آخرت دونوں سے ہے لہٰذا دونوں پہلوئوں پر غور کرلیا کرو۔ فی الدنیا والاخرۃ یبین سے بھی متعلق ہوسکتا ہے اب یہ مطلب ہوگا کہ ہم تمام احکام خواہ وہ دنیا کے ہوں یا آخرت کے ہوں صاف صاف بیان کرتے ہیں تاکہ تم خوب غور کرسکو اور یہ سوچ سکو کہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی ہے فانی کسقدر ضروری ہے اور باقی کہاں تک ضروری ہے تاکہ دنیا اور آخرت کے کام دنیا اور آخرت کی حیثیت کا لحاظ رکھتے ہوئے کیا کرو۔ خلاصہ یہ کہ مال دنیوی ضرورتوں کو پورا کرنے کا بھی ذریعہ ہے اور آخرت حاصل کرنے کا بھی سبب ہے اگر صدقات واجبہ ہیں جیسے زکوۃ، صدقہ، فطر اور عشر وغیرہ تو وہ تو بہرحال ادا کرتے ہیں اور اگر صدقات نافلہ ہیں تو ان پر غور کرلیا کرو یہ بھی نہ ہو کہ ضروری اخراجات کے پریشان ہوتے پھرو اور یہ بھی نہ ہو کہ آخرت کو نظر انداز کردو۔ اسی سلسلے میں یتیوں کی بارے میں جو سوا ل کیا گیا تھا اس کا جواب ہے۔ یتامیٔ کا مال کھانے والوں کے متعلق چونکہ دوسری آیت میں سخت وعید آئی تھی اور یہ فرمایا تھا کہ جو لوگ زبردستی یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں انگارے بھرتے ہیں اس پر لوگ ڈر گئے اور جو لوگ یتیموں کے نگراں تھے انہوں نے یتیموں کی ہر چیز الگ کردی ان کا آٹا، گھی، لکڑیاں سب الگ رکھتے تھے پھر اگر کوئی بچہ کم کھاتا اور کھانا بچ جاتات و اس کو ہاتھ نہ لگاتے وہ سڑجاتا تو پھینکنا پڑتا۔ غرض اس طرح احتیاط تو ہوتی لیکن اس میں تکلیف زیاد ہوتی اور بعض صورتوں میں یتیم کا مال بھی ضائع ہوتا تھا اس پر لوگوں نے سوال کیا سوال کا جو جواب دیا گیا وہ ظاہر ہے کہ اصل مقصد تو یتیم کے حال کی اصلاح اور اس کے مال کی حفاظت ہے یہ مقصد پورا ہوناچاہئے اگر مال کی علیحدگی میں یتیم کا کے حال کی اصلاح اور اس کے مال کی حفاظت ہے یہ مقصد پورا ہوناچاہئے اگر مال کی علیحدگی میں یتیم کا فائدہ ہو تو اس کو اختیار کرلو اور اگر ملانے میں فائدہ ہو تو اس کو اختیار کرلو ہم بدنیت کو بھی جانتے ہیں اور نیک نیت کو بھی پہچانتے ہیں تم کو آسانی ہوجائے اور یتیم کو نقصان نہ ہو تو کھانا پینا مشترک کرلو۔ اس اختلاط اور اشتراک میں کوئی مضائقہ نہیں اگر نیک نیتی کے ساتھ اشتراک کرنے والے سے کچھ کمی بیشی ہوجائیگی تو مواخذہ نہ ہوگا اور بدنیتی سے جو ملائے گا اور اس کی نیت فساد کی ہوگی تو اس کی گرفت ہوگی اور اس سے مواخذہ ہوجائے گا جو چیز خراب ہونے والی ہے اس کو ملا لیناچاہئے مثلاً دال، سالن ملا کر پکالو، ہاں آٹا اور لکڑیاں وغیرہ علیحدہ رکھو اشیاء کو ملانے اور اختلاط کی صورت میں خرچ اندازے ہی سے ہوگا اس میں کچھ تھوڑی بہت کمی ہوجائے گی اور یتیم کا کچھ حصہ تمہاری طرف آجائے گا اور کبھی تمہارا بھی کچھ حصہ اس کی طرف چلا جائے گا۔ بہر حال وہ تمہارے بھائی ہیں اگر مسلمان کی اولاد ہیں تو دین کے بھائی ہیں اور اگر کوئی کافر کا بچہ یتیم ہے تب بھی بنی نوع انسان سب انسانیت میں بھائی بھائی ہیں کافر کا یتیم اگر مسلمان کی پرورش میں ہو اور مسلمان کی زیر تربیت ہو تو اس کے بالغ ہونے کے بعد مسلمان کو یہ حق نہیں کہ وہ بالغ شدہ یتیم کو جبراً مسلمان بنائے۔ عنت کے معنی اصل تو مشقت کے ہیں لیکن ہلاکت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے باقی مطلب وہی ہے جو ہم نے تیسیر میں ظاہر کردیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شراب اور جوئے کے حق میں کئی آیتیں اتریں ہر ایک میں ان کی برائی ہے آخر سورة مائدہ کی آیت اتری کہ صاف حرام ہوگئی جو چیز نشہ لا دے سب حرام ہے جو شرط بدی جاویک اس پر ما ل لیا جاوے سب حرام ہے۔ فائدہ : اور پوچھا لوگوں نے مال کس قدر خرچ کریں حکم ہوا کہ اپنی حاجت سے افزود ہو تو تب خرچ کرو جیسا آخرت کا فکر ضرور ہے دنیا کا بھی فکر ضرور ہے سارا اٹھا ڈالو تو دنیا کی حاجت میں عاجز رہو۔ فائدہ : اور یتیموں کے حق میں پہلے تقید اترا کہ جو کوئی ان کا مال کھاوے وہ اپنے پیٹ میں آتش بھرے پھر جو کوئی یتیموں کے رکھنے والے تھے ان کے مال اور خرچ کھانے اور پہننے کا جدا رکھنے لگے کہ ہمارے خرچ میں کوئی چیز نہ آ جاوے پھر سخت مشکل پڑی کہ ایک چیز یتیم کے واسطے تیار کی اس کے کام نہ آئی تو ضائع ہوئی تب یہ حکم اترا کہ خرچ اپنا اور ان کا ملا کر رکھو تو مضائقہ نہیں کہ ایک وقت ان کی چیز آپ نے خرچ کی تو دوسرے وقت اپنی چیز ان کے کام لگائی لیکن نیت چاہئے سنوارنے کی اللہ نیت دیکھتا ہے۔ (موضح القرآن) اگرچہ ہر قسم کا نشہ اور شراب حرام ہے لیکن خمر صرف اس شراب کو کہتے ہیں جو انگور کے شیرے سے حاصل کی جائے خواہ پکاکر یا سڑا کر۔ امام ابوحنیفہ اور ثوری اور فقہا کوفہ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کا دوسرے آئمہ سے جو اختلاف ہے اس کو فقہ کی کتابوں میں مطالعہ کیا جائے یا مقامی علماء سے تحقیق کرلی جائے ہر وہ چیز جس میں دو طرفہ شرط بدی جائے وہ جوئے کے حکم میں ہے ہاں ایک طرفہ شرط کی چیز جوئے میں داخل نہیں جوا خواہ پانسے پھینک کر کھیلا جائے یا تاش اور شطرنج پر بازی لگائی جائے یا کسی کھیل کا میچ ہو حتیٰ کہ علماء سلف اس کھیل کو ناجائز کہتے تھے جو بچے اخروٹوں کی گیند بنا کر کھیلتے تھے اور اس میں ہار جیت ہوا کرتی تھی اگر ہار جیت کی شرط نہ ہو تو تب بھی لہو تو ضرور ہے اور اس قسم کے لہو سے احتراز اور اجتناب کرنا چاہئے۔ البتہ گھوڑے دوڑانا اور تیر اندازی کرنا اور قرعہ ڈال کر کسی چیز کا فیصلہ کرنا جائز ہے گھوڑا دوڑ اور تیر اندازی کا مطلب یہ ہے کہ جہاد کی نیت سے ان چیزوں کی مشق کی جائے اور ان میں وقت خرچ کیا جائے تو یہ جائز ہے یہ مطلب نہیں کہ گھوڑوں پر جوڑا کھیلاجائے۔ جیسا کہ ہمارے زمانے میں اس کا دستور ہے ریس یورپ کی ایک لعنت ہے اور اس ریس کے جوڑے پر کوئی پابندی نہیں ہے اگرچہ شرعاً ریس کا جو ابھی جوا ہے اور اسلامی قانون میں حرام ہے دوسرا سوال خرچ کے متعلق تھا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آکر عرض کیا یا رسول اللہ ؐ میرے پاس ایک دینار ہے فرمایا اپنی ذات پر خرچ کر اس نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک اور بھی ہے ارشاد فرمایا اولاد پر خرچ کر اس نے کہا ایک اور بھی ہے ارشاد فرمایا گھر والوں پر خرچ کر اس نے کہا ایک اور بھی ہے فرمایا خادم پر خرچ کر اس نے کہا ایک اور بھی ہے فرمایا اب تو خود سمجھ لے جہاں مناسب سمجھے وہاں خرچ کر۔ حضرت جابر (رض) کی روایت میں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص سے فرمایا خرچ کرنے میں اپنی ات اور اپنی جان سے ابتداء کر یعنی پہلے اپنے پر خرچ کر پھر اگر کچھ بڑھے تو اپنی اہل پر صرف کر اگر اہل سے زیادہ ہو تو قرابت داروں پر خرچ کر پھر بڑھے تو ادھر ُ ادھر جہاں مناسب سمجھے خرچ کر۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی دوسری روایت میں ہے بہتر صدقہ وہ ہے جو اطمینان اور آسودگی کے ساتھ کیا جائے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور خرچ کی ابتداء اپنے عیال سے کر اوپر والے ہاتھ کا مطلب یہ ہے کہ سخی کا ہاتھ سائل کے ہاتھ سے بہتر ہے ایسا خرچ نہ کر کہ مفلس بن کر بھیک مانگنے لگے۔ تیسرے سوال کی تفصیل ہم عرض کرچکے ہیں یتیم کے مال میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے اور جگہ قرآن کریم میں آیا ہے ولا تقربو امال الیتیم الا بالتیھی احسن یتیم کی بھلائی اور اس کے مال کی حفاظت بہرصورت ضروری ہے اگرچہ دشواریوں کے پیش نظر اختلاط کی اجازت ہے لیکن پھر بھی اس کا خیال رہے کہ یتیم کی طرف کچھ بڑھتی چلا جائے تو وہ اس سے بہتر ہے کہ اپنی طرف کچھ بڑھتی آجائے۔ حضرت عائشہ (رض) فرمایا کرتی تھیں میں یتیم کا مال اپنے پاس رکھنا پسند نہیں کرتی کہیں اس کا کھانا پینا میرے کھانے پینے میں شامل ہوجائے باوجود رخصت کے حضرت ام المومنین یتیم کے مال سے بہت ڈرتی اور احتیاط کرتی تھیں۔ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) (تسہیل)