Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 243

سورة البقرة

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ وَ ہُمۡ اُلُوۡفٌ حَذَرَ الۡمَوۡتِ ۪ فَقَالَ لَہُمُ اللّٰہُ مُوۡتُوۡا ۟ ثُمَّ اَحۡیَاہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۲۴۳﴾

Have you not considered those who left their homes in many thousands, fearing death? Allah said to them, "Die"; then He restored them to life. And Allah is full of bounty to the people, but most of the people do not show gratitude.

کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا جو ہزاروں کی تعداد میں تھے اور موت کے ڈر کے مارے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے ، اللہ تعالٰی نے انہیں فرمایا مر جاؤ ، پھر انہیں زندہ کر دیا بیشک اللہ تعالٰی لوگوں پر بڑا فضل والا ہے ، لیکن اکثر لوگ ناشُکرے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Story of the Dead People Allah says; أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُواْ مِن دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللّهُ مُوتُواْ ثُمَّ أَحْيَاهُمْ ... Did you (O Muhammad) not think of those who went forth from their homes in the thousands, fearing death Allah said to them, "Die". And then He restored them to life. Ibn Abu Hatim related that Ibn Abbas said that; these people mentioned herein, were the residents of a village called Dawardan. Ali bin Asim said that; they were from Dawardan, a village several miles away from Wasit (in Iraq). In his Tafsir, Waki bin Jarrah said that Ibn Abbas commented, أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُواْ مِن دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ (Did you (O Muhammad) not think of those who went forth from their homes in thousands, fearing death), that they were four thousand persons who escaped the plague (that broke out in their land). They said, "We should go to a land that is free of death!" When they reached a certain area, Allah said to them: مُوتُواْ ("Die") and they all died. Afterwards, one of the Prophets passed by them and supplicated to Allah to resurrect them and Allah brought them back to life. So, Allah stated: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُواْ مِن دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ (Did you (O Muhammad) not think of those who went forth from their homes in the thousands, fearing death). Furthermore, several scholars among the Salaf said that; these people were the residents of a city during the time of the Children of Israel. The weather in their land did not suit them and an epidemic broke out. They fled their land fearing death and took refuge in the wilderness. They later arrived at a fertile valley and they filled what is between its two sides. Then Allah sent two angels to them, one from the lower side and the other from the upper side of the valley. The angels screamed once and all the people died instantly, just as the death of one man. They were later moved to a different place, where walls and graves were built around them. They all perished, and their bodies rotted and disintegrated. Long afterwards, one of the Prophets of the Children of Israel, whose name was Hizqil (Ezekiel), passed by them and asked Allah to bring them back to life by his hand. Allah accepted his supplication and commanded him to say, "O rotted bones, Allah commands you to come together." The bones of every body were brought together. Allah then commanded him to say, "O bones, Allah commands you to be covered with flesh, nerves and skin." That also happened while Hizqil was watching. Allah then commanded him to say, "O souls, Allah commands you to return, each to the body that it used to inhabit." They all came back to life, looked around and proclaimed, "All praise is due to You (O Allah!) and there is no deity worthy of worship except You." Allah brought them back to life after they had perished long ago. We should state that bringing these people back to life is a clear proof that physical resurrection shall occur on the Day of Resurrection. This is why Allah said: ... إِنَّ اللّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ ... Truly, Allah is full of bounty to mankind, meaning, in that He shows them His great signs, sound proofs and clear evidences. Yet, ... وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَشْكُرُونَ but most men thank not. as they do not thank Allah for what He has given them with in their worldly life and religious affairs. The story of the dead people (above) also indicates that no caution can ever avert destiny and that there is no refuge from Allah, but to Allah Himself. These people departed from their land fleeing the epidemic and seeking to enjoy a long life. What they earned was the opposite of what they sought, as death came quickly and instantaneously and seized them all. There is an authentic Hadith that Imam Ahmad reported that Abdullah bin Abbas said that; Umar bin Al-Khattab once went to Ash-Sham (Syria). When he reached the area of Sargh, he was met by the commanders of the army: Abu Ubaydah bin Jarrah and his companions. They told him that the plague had broken out in Ash-Sham. The Hadith then mentioned that Abdur-Rahman bin Awf, who was away attending to some of his affairs, came and said, "I have knowledge regarding this matter. I heard Allah's Messenger say: إِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَ تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْه وإِذَا سَمِعتُمْ به بأَرْضٍ فَل تَقْدمُوا عَلَيْه If it (the plague) breaks out in a land that you are in, do not leave that land to escape from it. If you hear about it in a land, do not enter it. Umar then thanked Allah and went back. This Hadith is also reported in the Sahihayn. Abandoning Jihad does not alter Destiny Allah said: وَقَاتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

موت اور زندگی: ابن عباس فرماتے ہیں یہ لوگ چار ہزار تھے اور روایت میں ہے کہ آٹھ ہزار تھے ، بعض تو ہزار کہتے ہیں ، بعض چالیس ہزار بتاتے ہیں ، بعض تیس ہزار سے کچھ اوپر بتاتے ہیں ، یہ لوگ ذرو روان نامی بستی کے تھے جو واسط کی طرف ہے ، بعض کہتے ہیں اس بستی کا نام اذرعات تھا ، یہ لوگ طاعون کے مارے اپنے شہر کو چھوڑ کر بھاگے تھے ، ایک بستی میں جب پہنچے وہیں اللہ کے حکم سے سب مر گئے ، اتفاق سے ایک نبی اللہ کا وہاں سے گزرا ، ان کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے انہیں پھر دوبارہ زندہ کر دیا ، بعض لوگ کہتے ہیں ایک چٹیل صاف ہوادار کھلے پر فضا میدان میں ٹھہرے تھے اور دو فرشتوں کی چیخ سے ہلاک کئے گئے تھے جب ایک لمبی مدت گزر چکی ان کی ہڈیوں کا بھی چونا ہو گیا ، اسی جگہ بستی بس گئی تب خرقیل نامی ایک نبی وہاں سے نکلے انہوں نے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور حکم دیا کہ تم کہو کہ اے بوسیدہ ہڈیو! اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم سب جمع ہو جاؤ ، چنانچہ ہر ہر جسم کی ہڈیوں کا ڈھانچہ کھڑا ہو گیا پھر اللہ کا حکم ہوا ندا کرو کہ اے ہڈیو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم گوشت پوست رگیں پٹھے بھی جوڑ لو ، چنانچہ اس نبی کے دیکھتے ہوئے یہ بھی ہو گیا ، پھر آواز آئی کہ اے روحو اللہ تعالیٰ کا تمہیں حکم ہو رہا ہے کہ ہر روح اپنے اپنے قدیم جسم میں آ جائے چنانچہ یہ سب جس طرح ایک ساتھ مرے تھے اسی طرح ایک ساتھ جی اٹھے اور بےساختہ انکی زبان سے نکلا ( سبحانک لا الہ الا انت ) اے اللہ تو پاک ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، یہ دلیل ہے قیامت کے دن اسی جسم کے ساتھ دوبارہ جی اُٹھنے کی ۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر بڑا بھاری فضل و کرم ہے کہ وہ زبردست ٹھوس نشانیاں اپنی قدرت قاہرہ کی دکھا رہا ہے لیکن باوجود اس کے بھی اکثر لوگ ناقدرے اور بےشکرے ہیں ، اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی جگہ بچاؤ اور پناہ نہیں یہ لوگ وبا سے بھاگے تھے اور زندگی کے حریص تھے تو اس کے خلاف عذاب آیا اور فوراً ہلاک ہو گئے ، مسند احمد کی اس حدیث میں ہے کہ جب حضرت عمر بن خطاب شام کی طرف چلے اور سرنح میں پہنچے تو ابو عبیدہ بن جراح وغیرہ سرداران لشکر ملے اور خبر دی کہ شام میں آج کل وبا ہے چنانچہ اس میں اختلاف ہوا کہ اب وہاں جائیں یا نہ جائیں ، بالآخر عبدالرحمن بن عوف جب آئے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جب وبا کسی جگہ آئے اور تم وہاں ہو تو وہاں سے اس کے ڈر سے مت بھاگو ، اور جب تم کسی جگہ وبا کی خبر سن لو تو وہاں مت جاؤ ۔ حضرت عمر فاروق نے یہ سن کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی پھر وہاں سے واپس چلے گئے ( بخاری مسلم ) ایک اور روایت میں ہے کہ یہ اللہ کا عذاب ہے جو اگلی امتوں پر ڈالا گیا تھا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

243۔ 1 یہ واقعہ سابقہ کسی امت کا ہے جس کی تفصیل کسی حدیث میں بیان نہیں کی گئی تفسیری روایات اسے بنی اسرائیل کے زمانے کا واقعہ اور اس پغمبر کا نام جس کی دعا سے انہیں اللہ تعالیٰ نے دوبارہ زندہ کیا یہ جہاد میں قتل کے ڈر سے یا وبائی بیماری طاعون کے خوف سے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے تاکہ موت کے منہ میں جانے سے بچ جائیں اللہ تعالیٰ نے انہیں مار کر ایک تو یہ بتلا دیا کہ اللہ کی تقدیر سے تم بچ کر نہیں جاسکتے دوسرا یہ کہ انسانوں کی آخری جائے پناہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے تیسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے اور وہ تمام انسانوں کو اسی طرح زندہ فرمائے گا جس طرح اللہ نے ان کو مار کر زندہ کردیا۔ اگلی آیت میں مسلمانوں کو جہاد کا حکم دیا جا رہا ہے اس سے پہلے اس واقعہ کے بیان میں یہی حکمت ہے کہ جہاد سے جی مت چراؤ موت وحیات تو اللہ کے قبضے میں ہے اور اس موت کا وقت بھی متعین ہے جسے جہاد سے گریز و فرار کر کے تم ٹال نہیں سکتے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٤٠] اس آیت سے آگے جہاد کا مضمون شروع ہو رہا ہے اور بطور تمہید اس آیت میں بتلایا جا رہا ہے کہ زندگی اور موت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ واقعہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگ کسی شہر میں رہتے تھے۔ وہاں طاعون کی وبا پھیل گئی تو یہ طاعون کی وبا کا شکار ہو کر مرجانے کے خطرہ کی بنا پر اپنا بوریا بستر لپیٹ کر ہزاروں کی تعداد میں شہر سے نکل کھڑے ہوئے اور سمجھے کہ اس طرح موت سے بچ جائیں گے، ابھی کسی منزل پر بھی نہ پہنچنے پائے تھے کہ راہ میں انہیں موت نے آلیا اور سب کے سب مرگئے۔ ممکن ہے وہ طاعون کے جراثیموں سے ہی مرے ہوں۔ انہوں نے اللہ پر بھروسہ نہ کیا اور بزدلی دکھائی، لہذا اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر ان سب کو ہی موت کی نیند سلا دیا اور اگر وہ اللہ کی تقدیر پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے شہر میں مقیم رہتے تو ممکن ہے ان میں سے اکثر بچ جاتے۔ پھر کچھ مدت بعد حزقیل پیغمبر جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تیسرے خلیفہ تھے، ادھر سے گزرے اور یہ صورت حال دیکھ کر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے انہیں دوبارہ زندگی عطاء کی اور ہر شخص (سُبْحَانَکَ لاَ اِلٰہَ الاَّ أنْتَ ) کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یہ واقعہ سابقہ کسی امت کا ہے، جس کی تفصیل کسی صحیح حدیث میں بیان نہیں کی گئی۔ یہ لوگ دشمن کے حملے کے وقت قتل ہونے کے خوف سے ہزاروں کی تعداد میں ہونے کے باوجود مقابلہ کرنے کے بجائے شہر چھوڑ کر بھاگ پڑے، یا وبا واقع ہونے پر تقدیر پر صابر رہنے کے بجائے موت سے بچنے کے لیے گھر بار چھوڑ کر نکل گئے، لیکن وہ بھاگ کر موت سے نہ بچ سکے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان سب پر موت طاری کردی، پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر کرم فرمایا اور انھیں زندہ کردیا۔ اس سے اگلی آیت ( ٢٤٤) میں اللہ کی راہ میں قتال یعنی لڑنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اس حکم سے پہلے اس واقعہ کے بیان میں یہی حکمت ہے کہ جہاد سے جی مت چراؤ، موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، جسے تم جہاد سے گریز اور فرار اختیار کرکے ٹال نہیں سکتے، نہ تقدیر سے بچ کر کہیں جاسکتے ہو۔ یہ قصہ قیامت کے دن جسموں کے دوبارہ زندہ ہونے کی قطعی دلیل ہے۔ اَلَمْ تَرَ : اس کا لفظی معنی ہے ” کیا تو نے نہیں دیکھا “ مگر مجاہد (رح) نے اس کا معنی کیا ہے : ” اَلَمْ تَعْلَمْ “ ” کیا تجھے معلوم نہیں “ [ بخاری، التفسیر، سورة ( ألم تر) ، قبل ح : ٤٩٦٤ ] مزید دیکھیے سورة فیل کے حواشی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت اترنے کے وقت ان لوگوں کا قصہ عام طور پر معروف و مشہور تھا۔ بعض اوقات کسی بات کو سننے کا شوق دلانے کے لیے بھی ” اَلَمْ تَرَ “ سے بات شروع کی جاتی ہے۔ عبدا لرحمان بن عوف (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ” جب تم سنو کہ کسی زمین میں وبا پھیلی ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی زمین میں وبا پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو اس سے فرار اختیار کرکے وہاں سے مت نکلو۔ “ [ بخاری، الطب، باب ما یذکر فی الطاعون : ٥٧٢٩ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary In a uniquely eloquent manner, the two verses (243, 244) appearing above and verse 245 which follows, present guidance that prompts the sacrifice of one&s life and possessions in the way of Allah Almighty. Consequently, before stating related injunctions, an important event of history has been taken up which makes it clear that death and life are subservient to the destiny determined by Allah. Going into a battle in jihad is not the cause of death, and running away from it, out of cowardice, is not the means to avoid death. On the authority of revered Companions (Sahabah) and their successors (Tabi&in), Tafsir ibn Kathir explains this event as follows: There was a group of Israelites in a city which was struck by plague or some other epidemic. The whole group, some ten thousand in number, panicked. Leaving the city out of fear of death, all of them went out to camp in an open plain located between two mountains. Allah Almighty, in order to impress upon other peoples of the world that no living being can escape death by running away from it, sent two angels who stood on the two ends of the plain and sent forth some sort of shrill cry which caused all of them to drop dead instantly. Not one of them was left alive. When the people living in the adjoining area heard about this event, they hurried to the site. Making arrangements to shroud and bury ten thousand human beings was no easy task. They, therefore, enclosed the whole area with a fence of boughs making a hovel-like shed for the corpses which, in due course, were decomposed leaving bare bones lying around. After a long time, one of the prophets of Bani Israel, whose name has been identified as Hizqil or Ezekiel, passed through this location. He was amazed to see human bone structures strewn all over inside an enclosed shed. The whole story of these people was related to him through revelation. Prophet Ezekiel, prayed Allah to bring these people back to life. Allah Almighty answered his prayer and he was asked to address those crumbled bones in the following manner: ایتھا العظام البالیہ ان اللہ یامرک ان تجتمعی & O bones, old and worn, Allah commands you to gather together (joint by joint, as you were).& These bones received the command of Allah Almighty through the words of the Prophet and obeyed it. Isn&t it that these very bones are considered by the whole world, devoid of reason and consciousness but they too, like every single particle of the world, are oriented to Divine commands and, possess senses and perceptive ability in proportion to their state of being, and are obedient to Allah Almighty. This is what the Holy Qur&an points to in the verse: أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ (20:50). It means that Allah Almighty created everything and then gave it (built-in) guidance in proportion to its state of being. The great poet, Maulana Ri mi has said about such phenomena: خاک و باد و آب و آتش بندہ اند بامن و تو مردہ باحق زندہ اند Dust, air, water and fire have been bonded together To me and you they are dead; to God they are alive. So, when every human bone found its proper place at the behest of a single call, the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was commanded to give yet another call to them as follows: ایتھا العظام ان اللہ یامرک ان تکتسی لحما 0 bones, Allah Almighty commands you to wear your muscles, flesh, nerves and skin. Immediately following the call, every skeleton of bones turned into a complete corpse under their very eyes. Then came the command that their souls be addressed as follows: ایتھا الارواح ان اللہ یامرک ان ترجع کل روح الی الجسد الذی کانت تعمرہ 0 souls, Allah Almighty commands you to return to your re¬spective bodies you once inhabited. As the call was given, all corpses stood up alive before their very eyes and started looking around in wonder. They were saying: سبحانک لا الہ الا انت &Sacred are You (0 Lord); there is no god but You.& This formidable event was not only a thought-provoker for the wise of the world, its philosophers and thinkers, and certainly, a decisive argument against the deniers of the Last Day, but was also a guidance for mankind pointing out that running because of the fear of death, be it from jihad or from plague or some other epidemic, is just not possible for one who believes in Allah Almighty and in the fate He has determined -- the one who is certain in his belief (&iman ایمان ) that there is a time for death; it cannot come a second earlier, and it cannot be postponed to a second later. Therefore, this effort to run from death is not only redundant and wasteful, but also goes on to become the cause of Allah Almighty&s displeasure. Now let us look at this incident through the words of the Holy Qur&an. To relate the event, it says: أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِينَ خَرَ‌جُوا مِن دِيَارِ‌هِمْ that is, &Have you not seen those who left their homes to escape death?& It must be noted here that this incident belongs to a time thousands of years before the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He just cannot be asked to see it. What then, is the purpose of saying أَلَمْ تَرَ‌ Have you not seen?& Commentators have said that, in all situations where the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been addressed with the words: أَلَمْ تَرَ‌ (Have you not seen?) -- although the incident belongs to a time earlier than him, and it cannot be &seen& by any stretch of imagination -- the act of seeing (ra yah رُویہ ) stands for seeing through the heart (ruyah al-qalb رویۃ القلب ), which means seeing through knowledge and insight. In still other words, &Have you not seen?& appears on such occasions in the sense of الم تعلم :&Did you not know?& But there is wisdom in allowing this situation to be expressed through the Qur&anic form : أَلَمْ تَرَ‌. It points out that this incident is patently known and seen and that this incident is as certain as if it is being seen today, and is worth seeing too. The addition of the word اِلی (ila: toward) after أَلَمْ تَرَ‌: &Have you not seen?& helps pointing out in this direction as based on the nuances of the language. Immediately following this, they have been identified as being fairly large in numbers وَهُمْ أُلُوفٌ (being in thousands). As to what the exact number was, there are various reports, but in accordance with the rules of Arabic language, this word ulufun أُلُوفٌ is jam& al-kathrah الکثرہ کی جمع (plural of multitude), which is not used for something less than ten. This tells us that their number was not less than ten thousand. After that, it is said: فَقَالَ لَهُمُ اللَّـهُ مُوتُوا that is, Allah Almighty said to them: &Be dead&. This command of Allah Almighty could both be direct, or indirect -- through an angel, as it is in another verse (36:82): شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ which means: When He wishes to do something, He bids it to be, so it comes to be. After that, it is said: إِنَّ اللَّـهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ that is, surely Allah Almighty is immensely graceful to human beings. This includes the grace He showed to that particular group of people from the Bani Israel by bringing them back to life, as well as the grace He has shown to the community of Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) by telling them about this incident and by making it a model lesson for them. In the end, to awaken the negligence-prone man, it was said: وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ‌ النَّاسِ لَا يَشْكُرُ‌ونَ &But most of the people are ungrateful.& It means that human beings do behold thousands of demonstrations of Divine grace and mercy, yet most of them show no gratitude. Related Injunctions and Rulings This verse helps us identify some facts and injunctions. These are as follows: Divine decree overcomes human planning: No effort can be effective against that which has been determined by Allah (Taqdir تقدیر ) and running away from jihad or plague or its likes cannot help one save his life (Tadbir تدبیر ), nor being in it can become a cause of death. The fact is that death comes at an appointed time; it can neither be earlier nor later. Rules pertaining to the place of epidemic: It is not permissible to escape out from an area affected by plague and its likes for safety elsewhere. In addition to this, as said by the noble Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، it is not correct for other people to go there. It appears in Hadith: اِن ھذا السقم عذب بہ الامم قبلکم فاِذا سمعتم بہ فی الارض فلا تدخلوھا، و اِذا وقع باَرض وانتم بھا فلا تخرجوا فرارا Allah Almighty has, through this disease (plague), punished peoples who were before you. So, when you hear about its spreading in a certain area, do not go there; and if it spreads in an area where you already are, do not go out escaping from it. (Bukhari and Muslim and Ibn Kathir) It appears in Tafsir al-Qurtubi that Sayyidna &Umar (رض) once embarked on a journey heading for Syria. When he reached Saragh, a place near Tabuk bordering Syria, he came to know that the whole of Syria was affected by a severe plague. This was regarded as a great calamity in the history of Syria. This plague is known as Amawas&, because it started from a town called &Amawas& (located near Baytul-Maqdis) and spread throughout the country. Thousands died and became shahid in this plague including many Sahabah and Tabi&in (Companions and their Successors). When Sayyidna &Umar (رض) heard about the severity of the plague, he decided to stay where he was and sought the advice of the noble Companions, (رض) عنہم whether they should go into Syria at such a time, or they should return back. There was not one blessed person present during the consultations who was aware of any guidance from the Holy Prophet g about this matter. Later, Sayyidna ` Abd al-Rahman ibn ` Awf (رض) narrated the following hadith : اِن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذکر الوجع فقال : رجز و عذاب عذب بہ الامم ثم بقی منہ بقیۃ فیذھب المرۃ و یاتی الاخری فمن سمع بہ باَرضٍ فلا یقدمنً علیہ ومن کان باَرض وقع بھا یخرج فراراً منھا The Holy Prophet referring to the disease (plague) said: This is a punishment that was inflicted on some peoples; later on some of it remained. This remainder goes away for some-time, then returns. So, one who hears that a certain area is af¬fected by it, he should not go there; and one who is already there, he should not go out running from it (the plague). (al Bukhari and others) When Sayyidna &Umar (رض) heard this hadith, he ordered his men to return. Sayyidna Abu&Ubaydah (رض) عنہ the governor of Syria was present on the occasion. Taking notice of the orders given by Sayyidna ` Umar (رض) he commented: (رض) (Do you want to run from Divine destiny?) In reply, Sayyidna ` Umar (رض) said: &0 Abu ` Ubaydah, I wish this was said by someone else& meaning thereby &a comment like this, and that too from you, is certainly surprising.& Then he said: نعم نفر من قدر اللہ إلی قدر اللہ : &Yes, we do run from Divine decree to (nothing but) Divine decree& meaning thereby -- &whatever we are doing we are doing in obedience to none else but Allah and His command which the Messenger of Allah g has explained to us.& 3. There is great wisdom in the prophetic sayings about plague: In accordance with the hadith stated above, we have been told that it is prohibited for outsiders to enter an area affected by plague or its likes; while it is equally prohibited for those who live there to run for their lives from that area. In addition to this, the basic Islamic belief is that neither going anywhere is the cause of death, nor running from anywhere is the source of deliverance from it. Keeping this cardinal belief of Islam in view, the given instruction is based on very far-sighted stances of wisdom. (1) Let&s look at the first element of wisdom in stopping outsiders from going into a plague-affected area. Isn&t it quite possible that someone may be at the far end of his years and should he die because of this disease, it might have occurred to the deceased at some stage before his death that he might have lived had he not come into that area. Not only him, others might also think that his death occurred because he came there; although, whatever happened was pre-ordained. His age was no more than that. No matter where he lived, his death had to come at that particular time. It may be noted that the belief of Muslims has been saved from indecision through this instruction lest they should fall a victim to misunderstanding. (2). The second aspect of wisdom here relates to the guidance Allah Almighty has given to man that he should not go where there is a danger of being harmed, or an apprehension of being killed; in fact, he should do his best to keep away from everything that could cause harm or death. Not only that, it has been made binding on every man to save his life. This rule demands that one should, keeping his total trust and belief in Divine decree, take all necessary precautionary measures without any negligence. One of these measures is that he should not go to a place where his life may be in danger. Similarly, the instruction, that residents of an area infected with plague should not escape out of their fearing death, has its own merits: a) The first wise counsel has a social and collective nature. For instance, should this escaping in panic become contagious, the rich and the powerful in the area would certainly run away. But, what would happen to those who are incapable of going anywhere. To begin with, left all alone, they will be terrified to their death. Then there will be sick among them -- who will take care of them? Should they die, who will manage their burial? b) The second point of wisdom here tells that there will be some among the people present in that area who would be carrying germs of this disease. If they travel in that condition, they are likely to suffer more from all sorts of hardships. If they get sick while travelling, who knows what would come upon them. Ibn al-Madini has quoted the saying of scholars: مافر احد من الوباء فسلم &One who runs from an epidemic never stays safe.& (Qurtubi) c) c) There is still a third element of wisdom here. Isn&t it that people infected by germs of the disease would be potential carriers of the epidemic wherever they go? If they elected to stay where they are, with patience and in trust, they might possibly get rid of the disease. And if, death was pre-ordained in this very disease, they will have the proud rank of shahadah شھادہ (martyrdom) because of their patience and perseverance, as has been pointed out in Hadith. Imam al-Bukhari (رح) has reported from Yahya ibn Ya&mur that Sayyidah ` A&ishah al-Siddiqah (رض) told him that she had asked the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about plague when he informed her that this disease was a punishment sent to a people who were to be punished by Allah&s will. Then, Allah made it mercy for true believers. So, a slave of Allah who stays on with patience and peace in his locality believing that no harm can touch him except that which Allah has decreed for him -- for such a person the merit in return shall be equal to that of a shahid. And this also explains the hadith in which it is said: The plague is shahadah (martyrdom) and one who dies in the plague is a shahid (martyr). (Qurtubi, vol.3, p. 235). Some Exceptions The words used in the hadith are:.;- I, If+ ly,, (You should not go out running from it) which tell us that a person who goes somewhere else, not because of the fear of death, but because of some other pressing need, will not be affected by this prohibition. Similarly, if someone has a firm belief that he cannot escape his destiny wherever he goes, but he wants to go simply for change of climate, he is also exempted from this prohibition. Similarly, if a person enters an area affected by plague because of some pressing need while he firmly believes that death will not come to him just because he is coming here -- since death is subservient to the will of Allah, it will be permissible for him to go there. (3) The third principle inferred from this verse is: that it is also not permissible to desert Jihad from fear of death. This question has been taken up elsewhere in the noble Qur&an in greater details, where some special situations have been exempted. The subject dealt with in this verse reappears in yet another verse which deals with those who run away from Jihad or do not take part in it. It is said: الَّذِينَ قَالُوا لِإِخْوَانِهِمْ وَقَعَدُوا لَوْ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُوا قُلْ فَادْرَ‌ءُوا عَنْ أَنفُسِكُمُ الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿آل عمران : ١٦٨﴾ Some people (who did not themselves take part in jihd) say (about those who do take part in jihad, and die as shahids) &These people did not listen to us, therefore, they were killed. If they had listened to us, they would have not been killed.& (The blessed Prophet was commanded to) tell them: If you have the power to escape death, why worry about others, wor¬ry about your own selves and rescue yourselves from death, (that is, whether or not you go in jihad does not matter; death will come to you even when sitting home). It is a marvel of nature that the greatest commander of the Muslim army in the early days of Islam, Sayyidna Khalid ibn Walid (رض) who was known as the &sword of Allah& and who spent his entire Islamic life in jihad, did not meet his death as a shahid on the battlefield! He died on his sick-bed, at his home. Close to his hour of death, lamenting over his dying on bed, he said to his family: &I participated in so many great battles in jihad. I do not have a single part on my body, which has no wound-mark inflicted by swords and spears; but here I am, dying like a donkey on my bed. May Allah Almighty give no rest to cowards. Let them hear my advice.& The incident relating to the Bani Israel was brought in this verse as an introduction. In the next verse appears the injunction relating to jihad and qital (fighting in the way of Allah) which was the real purpose in introducing this story, that is: Do not take going on jihad as going into the jaws of death and do not assume that running away from jihad will deliver you from your appointed time of death. Better still, obey the injunctions of Allah Almighty and achieve the best of both the worlds. Allah Almighty is the Hearer and Knower of all you say and do. The third verse (245), which follows, deals with the merits of spending in the way of Allah.

خلاصہ تفسیر : (اے مخاطب) کیا تجھ کو ان لوگوں کا قصہ تحقیق نہیں ہوا جو کہ اپنے گھروں سے نکل گئے اور وہ لوگ ہزاروں ہی تھے موت سے بچنے کے لئے سو اللہ نے ان کے لئے (حکم) فرمادیا کہ مرجاؤ (سب مرگئے) پھر ان کو جلا دیا بیشک اللہ تعالیٰ بڑا فضل کرنے والے ہیں لوگوں (کے حال) پر مگر اکثر شکر نہیں کرتے اور (اس واقعہ پر غور کرکے) اللہ کی راہ میں قتال کرو اور یقین رکھو اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ خوب سننے والے اور خوب جاننے والے ہیں (جہاد کرنے اور نہ کرنیوالوں کی باتیں سنتے اور ہر ایک کی نیت جانتے ہیں اور سب کو مناسب جزادیں گے) معارف و مسائل : یہ تین آیتیں جو اوپر مذکورہوئی ہیں ان میں ایک عجیب بلیغ انداز میں اللہ تعالیٰ کہ راہ میں جان ومال کی قربانی پیش کرنے کی ہدایت ہے کہ ان احکام کے بیان کرنے سے پہلے تاریخ کا ایک اہم واقعہ ذکر کیا گیا ہے جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ موت وحیات تقدیر الہٰی کے تابع ہے جنگ و جہاد میں جانا موت کا سبب نہیں اور بزدلی سے جان چرانا موت سے بچنے کا ذریعہ نہیں، تفسیر ابن کثیر میں سلف صحابہ کرام (رض) اجمعین اور تابعین کے حوالہ سے اس واقعہ کی تشریح یہ بیان کی ہے کہ بنی اسرائیل کی کوئی جماعت ایک شہر میں بستی تھی اور وہاں کوئی وباء طاعون وغیرہ پھیلا، یہ لوگ جو تقریباً دس ہزار کی تعداد میں تھے گھبرا اٹھے اور موت کے خوف سے اس شہر کو چھوڑ کر سب کے سب دو پہاڑوں کے درمیان ایک وسیع میدان میں جاکر مقیم ہوگئے، اللہ تعالیٰ نے ان پر اور دنیا کی دوسری قوموں پر یہ واضح کرنے کے لئے موت سے کوئی شخص بھاگ کر جان نہیں چھڑا سکتا دو فرشتے بھیج دیئے جو میدان کے دونوں سروں پر آکھڑے ہوئے اور کوئی ایسی آواز دی جس سے سب کے سب بیک وقت مرے ہوئے رہ گئے ایک بھی زندہ نہ رہا، آس پاس کے لوگوں کو جب اس واقعہ کی اطلاع ہوئی یہاں پہنچے دس ہزار انسانوں کے کفن دفن کا انتظام آسان نہ تھا اس لئے ان کے گرد ایک احاطہ کھینچ کر حظیرہ جیسا بنادیا ان کی لاشیں حسب دستور گل سڑ گئیں ہڈیاں پڑی رہ گئیں ایک زمانہ دراز کے بعد بنی اسرائیل کے ایک پیغمبر جن کا نام حزقیل بتلایا گیا ہے اس مقام پر گذرے اس حظیرہ میں جگہ جگہ انسانی ہڈیوں کے ڈھانچے بکھرے ہوئے دیکھ کر حیرت میں رہ گئے بذریعہ وحی ان کو ان لوگوں کا پورا واقعہ بتلا دیا گیا۔ حضرت حزقیل (علیہ السلام) نے دعا کہ یا اللہ ان لوگوں کو پھر زندہ فرمادے اللہ تعالیٰ نے ان کی دعاء قبول فرمائی اور انھیں حکم دیا گیا کہ آپ ان شکستہ ہڈیوں کو اس طرح خطاب فرمائیں۔ ایتہا العظام البالیۃ ان اللہ یأمرک ان تجمتعی : یعنی اے پرانی ہڈیوں اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ہر جوڑ کی ہڈی اپنی جگہ جمع ہوجائے۔ پیغمبر کی زبان سے خدا تعالیٰ کا حکم ان ہڈیوں نے سنا اور حکم کی تعمیل کی جن کو دنیا بےعقل و بےشعور سمجھتی ہے مگر دنیا کے ہر ذرہ ذرہ کی طرح وہ بھی تابع فرمان اور اپنے وجود کے مناسب عقل و ادراک رکھتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مطیع ہیں، قرآن کریم نے آیت اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى (٥٠: ٢٠) میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا فرمایا پھر اس کو اس کے مناسب حال ہدایت فرمائی۔ مولانا رومی نے ایسے ہی امور کے متعلق فرمایا : خاک وباد وآب وآتش بندہ اند بامن وتو مردہ باحق زندہ اند بہرحال ایک آواز پر ہر انسان کی ہڈیاں اپنی اپنی جگہ لگ گئیں پھر حکم ہوا کہ اب ان کو یہ آواز دو ، ایتہا ان اللہ یأمرک ان تکتسی لحماً وعصباً وجلدا، یعنی اے ہڈیو ! اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اپنا گوشت پہن لو اور پٹھے اور کھال درست کرلو۔ یہ کہنا تھا کہ ہڈیوں کا ہر ڈھانچہ ان کے دیکھتے دیکھتے ایک مکمل لاش بن گئی پھر حکم ہوا کہ اب ارواح کو یہ خطاب کیا جائے۔ ایتہا الارواح ان اللہ یأمرک ان ترجع کل روح الی الجسد الذین کانت تعمرہ : یعنی اے ارواح تمہیں اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اپنے اپنے بدنوں میں لوٹ آئیں جن کی تعمیر وحیات ان سے وابستہ تھی۔ یہ آواز دیتے ہی ان کے سامنے سارے لاشے زندہ ہو کر کھڑے ہوگئے اور حیرت سے چار طرف دیکھنے لگے سب کی زبانوں پر تھا سبحانک لا الہ الا انت۔ یہ واقعہ ہائلہ دنیا کے فلاسفروں اور عقلاء کے لئے دعوت فکر اور منکرین قیامت پر حجت قاطعہ ہونے کے ساتھ اس ہدایت پر بھی مشتمل ہے کہ موت کے خوف سے بھاگنا خواہ جہاد سے ہو یا کسی وباء وطاعون سے اللہ تعالیٰ اور ان کی تقدیر پر ایمان رکھنے والے کے لئے ممکن نہیں جس کا یہ ایمان ہے کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے نہ اس سے ایک سیکنڈ پہلے آسکتی ہے اور نہ ایک سیکنڈ مؤ خر ہوسکتی ہے اس لئے یہ حرکت فضول بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہونے کی وجہ بھی۔ اب اس واقعہ کو قرآن کے الفاظ سے دیکھئے بیان واقعہ کے لئے قرآن نے فرمایا اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِھِمْ یعنی کیا آپ نے ان لوگوں کے واقعہ کو نہیں دیکھا جو اپنے گھروں سے بخوف موت نکل کھڑے ہوئے تھے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ یہ واقعہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے سے ہزاروں برس پہلے کا ہے اس کے دیکھنے کا حضور سے سوال ہی نہیں ہوسکتا تو یہاں اَلَمْ تَرَ فرمانے کا کیا منشاء ہے، مفسرین نے فرمایا ہے کہ ایسے تمام مواقع میں جہاں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لفظ اَلَمْ تَرَ کے ساتھ خطاب کیا گیا ہے حالانکہ واقعہ آپ کے زمانے سے پہلے کا ہے جس کے دیکھنے کا کوئی تصور نہیں ہوسکتا ان سب مواقع میں رویت سے رویت قلبی مراد ہوتی ہے جس کے معنی ہیں علم و ادراک یعنی اَلَمْ تَرَ ایسے مواقع میں اَلَمْ تَرَ کے معنی میں ہوتا ہے لیکن اس کو لفظ اَلَمْ تَرَ سے تعبیر کرنے میں حکمت اس واقعہ کے مشہور ومشہود ہونے کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ یہ واقعہ ایسا یقینی ہے جیسے کوئی آج دیکھ رہا ہو اور دیکھنے کے قابل ہو اَلَمْ تَرَ کے بعد حرف الیٰ بڑھانے سے ازروئے زبان اس کی طرف اشارہ بھی ہوتا ہے۔ اس کے بعد قرآن میں ان کی ایک بڑی تعداد ہونے کا بیان فرمایا گیا وَھُمْ اُلُوْفٌ یعنی وہ لوگ ہزاروں کی تعداد میں تھے اس تعداد کی تعیین میں روایات مختلفہ ہیں لیکن عربی زبان کے قاعدہ سے یہ لفظ جمع کثرت ہے جس کا اطلاق دس سے کم پر نہیں ہوتا اس سے معلوم ہوا کہ ان کی تعداد دس ہزار سے کم نہ تھی۔ اس کے بعد ارشاد ہے فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا یعنی کہہ دیا ان کو اللہ تعالیٰ نے کہ مرجاؤ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم بلاواسطہ بھی ہوسکتا ہے اور بواسطہ کسی فرشتے کے بھی جیسے دوسری آیت میں ارشاد ہے اِذَآ اَرَادَ شَـيْـــــًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ (٨٢: ٣٦) اس کے بعد فرمایا ہے اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَي النَّاس یعنی اللہ تعالیٰ بڑا فضل کرنے والے ہیں لوگوں پر اس میں وہ فضل بھی داخل ہے جو بنی اسرائیل کی اس قوم کو دوبارہ زندہ کرکے فرمایا اور یہ فضل بھی شامل ہے جو یہ واقعہ امت محمدیہ کو بتلا کر ان کے لئے درس عبرت بنایا۔ آخر میں غفلت شعار انسان کو بیدار کرنے کے لئے فرمایا وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ یعنی اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے ہزاروں مظاہر انسان کے سامنے آتے رہتے ہیں مگر اس کے باوجود اکثر انسان شکر گذار نہیں ہوتے۔ مسائل متعلقہ : اس آیت سے چند مسائل اور احکام مستفاد ہوئے : تدبیر پر تقدیر غالب ہے : اول یہ کہ تقدیر الہٰی کے مقابلے میں کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوسکتی اور جہاد سے یا طاعون وغیرہ سے بھاگنا جان بچانے کا ذریعہ نہیں ہوسکتا اور نہ ان میں قائم رہنا موت کا باعث ہوتا ہے بلکہ موت کا ایک وقت معین ہے نہ اس میں کمی ہوسکتی ہے نہ زیادتی۔ جس بستی میں کوئی وباء طوعون وغیرہ ہو اس میں جانا یا وہاں سے بھاگ کر کہیں اور جانا دونوں ناجائز ہیں : دوسرا مسئلہ : یہ ہے کہ جس شہر میں کوئی وبائی مرض طاعون پھیل جائے وہاں سے بھاگ کر دوسری جگہ جانا جائز نہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد میں اس پر اتنا اضافہ ہے کہ دوسرے لوگوں کو وہاں جانا بھی درست نہیں حدیث میں ہے۔ ان ھذا السقم عذب بہ الامم قبلکم فاذا سمعتم بہ فی الارض فلا تدخلوہا واذا وقع بارض وانتم بہا فلا تخرجوا فراراً (بخاری ومسلم، ابن کثیر) یعنی اس بیماری (طاعون) کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلی قوموں پر عذاب نازل فرمایا ہے سو جب تم یہ سنو کہ کسی شہر میں طاعون وغیرہ وبائی مرض پھیل رہا ہے تو وہاں نہ جاؤ اور اگر کسی بستی میں یہ مرض پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے بھاگ کر نہ نکلو۔ تفسیر قرطبی میں ہے کہ حضرت فاروق اعظم نے ایک مرتبہ ملک شام کے قصد سے سفر کیا سرحد شام پر تبوک کے قریب ایک مقام سَرَغ ہے وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ ملک شام میں سخت طاعون ملک شام کی تاریخ میں ایک عظیم سانحہ تھا یہ طاعون عمواس کے نام سے مشہور ہے کیونکہ اول یہ طاعون ایک بستی عمواس نامی میں شروع ہوا جو بیت المقدس کے قریب ہے پھر سارے ملک میں پھیل گیا ہزارہا انسان جن میں بہت سے صحابہ وتابعین بھی تھے اس طاعون میں شہید ہوئے۔ فاروق اعظم نے طاعون کی شدت کی خبر سنی تو اسی مقام پر ٹھہر کر صحابہ کرام سے مشورہ کیا کہ ہمیں ملک شام میں اس وقت جانا چاہیے یا واپس ہونا مناسب ہے اس وقت جتنے حضرات مشورہ میں شریک تھے ان میں کوئی ایسا نہ تھا جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق کوئی حکم نہ سنا ہو بعد میں حضرت عبد الرحمٰن بن عوف نے اطلاع دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد اس معاملے کے متعلق یہ ہے : ان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذکر الوجع فقال رجز وعذابٌ عُذِبَ بہ الامم ثم بقی منہ بقیۃ فیذھب المرۃ ویأتی الاخرٰی فمن سمع بہ بارض فلا یقد من علیہ ومن کان بارض وقع بہا فلا یخرج فراراً منہ رواہ البخاری عن اسامۃ بن زید واخرجہ الائمۃ بمثلہ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (طاعونی گلٹی کے) درد کا ذکر کیا تو فرمایا کہ یہ ایک عذاب ہے جس سے بعض امتوں کو عذاب دیا گیا تھا پھر اس کا کچھ بقیہ رہ گیا اب اس کا یہ حال ہے کہ کبھی چلا جاتا ہے اور پھر آجاتا ہے تو جو شخص یہ سنے کہ فلاں خطہ زمین میں یہ عذاب آیا ہوا ہے تو اس کو چاہئے کہ اس خطہ زمین میں نہ جائے اور جو شخص اس خطہ میں پہلے سے موجود ہے تو طاعون سے بھاگنے کے لئے وہاں سے نہ نکلے (بخاری وغیرہ) حضرت فاروق اعظم نے جب یہ حدیث سنی تو رفقاء کو واپسی کا حکم دے دیا حضرت ابوعبیدہ ملک شام کے عامل و امیر (گورنر) بھی اس مجلس میں موجود تھے، فاروق اعظم کا یہ حکم سن کر فرمانے لگے : افراراً من قدر اللہ یعنی کیا آپ اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے بھاگنا چاہتے ہیں ؟ فاروق اعظم نے جواب میں فرمایا ا بوعبیدہ کاش یہ بات کوئی اور کہتا یعنی تمہاری زبان سے ایسی بات قابل تعجب ہے اور پھر فرمایا : نعم نفر من قدر اللہ الی قدر اللہ، بیشک ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ ہی کی تقدیر کی طرف بھاگتے ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی کے حکم کے مطابق کر رہے ہیں جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمایا ہے۔ دربارہ طاعون ارشاد نبوی کی حکمتیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد مذکور سے معلوم ہوا کہ جس شہر یا بستی میں طاعون وغیرہ امراض وبائی پھیلے ہوئے ہوں باہر والوں کو وہاں جانا ممنوع ہے اور وہاں کے رہنے والوں کو اس جگہ سے بخوف موت بھاگنا ممنوع ہے۔ اور اس کے ساتھ اسلام کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ نہ کسی جگہ جانا موت کا سبب ہے نہ کہیں سے بھاگنا نجات کا سبب، اس اہم عقیدہ کے ہوتے ہوئے حکم مذکور بڑی دور رس حکمتوں پر مبنی ہے باہر والوں کو وہاں جانے سے روکنے کی ایک حکمت تو یہ ہے کہ ممکن ہے وہاں پہنچ کر کسی کی عمر ختم ہوچکی ہو اور اس مرض میں مبتلا ہو کر انتقال ہوگیا تو مرنے والے کو کبھی یہ گمان ہوگا کہ اگر میں یہاں نہ آتا تو زندہ رہتا اور دوسروں کو بھی یہی خیال ہوگا کہ یہاں آنے سے اس کی موت واقع ہوئی حالانکہ جو کچھ ہوا وہ پہلے سے لکھا ہوا تھا اس کی عمر اتنی ہی تھی کہیں بھی رہتا اس وقت اس کی موت لازمی تھی اس حکم میں مسلمانوں کے عقیدہ کو تذبذب سے بچایا گیا کہ وہ غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ دوسری حکمت : یہ بھی ہے کہ حق تعالیٰ نے انسان کو یہ ہدایت دی ہے کہ جس جگہ تکلیف پہنچنے کا خطرہ ہو یا جہاں ہلاکت کا اندیشہ ہو وہاں نہ جائے بلکہ مقدور بھر ایسی چیزوں سے بچنے کی فکر کرے جو اس کے لئے مضر یا ہلاکت کا سبب بن سکتی ہیں اور اپنی جان کی حفاظت ہر انسان کے ذمے پر واجب قرار دی ہے اس قاعدہ کا مقتضی بھی یہی ہے کہ تقدیر الہی پر ایمان کامل رکھتے ہوئے احتیاطی تدبیروں میں کمی نہ کرے اور ایک تدبیر یہ بھی ہے کہ ایسی جگہ نہ جائے جہاں جان کا خطرہ ہو۔ اسی طرح اس بستی کے رہنے والوں کو بخوف موت وہاں سے بھاگنے کی ممانعت میں بھی بہت سی حکمتیں ہیں۔ ایک حکمت تو اجتماعی اور عوامی ہے کہ اگر یہ بھاگنے کا سلسلہ چلا تو امیر اور پیسے والے اور قدرت و طاقت والے آدمی تو بھاگ جائیں گے مگر بستی میں ایسے ضعفاء مرد و عورت کا بھی عادۃ ہونا لازمی ہے جو کہیں جانے پر قدرت نہیں رکھتے ان کا حشر کیا ہوگا، اول تو وہ تنہا رہ کر ہیبت ہی سے مرنے لگیں گے پھر ان میں جو بیمار ہیں ان کی خبرگیری کون کرے گا مرجائیں گے تو دفن کفن کا انتظام کیسے ہوگا۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ جو لوگ اس جگہ موجود ہیں بعید نہیں کہ ان میں اس مرض کے جراثیم اثر کرچکے ہوں ایسی حالت میں وہ سفر کریں گے تو اور زیادہ مصیبتوں اور مشقتوں کے شکار ہوں گے، سفر کی حالت میں بیمار ہوئے تو ظاہر ہے کہ ان پر کیا گذرے گی، ابن المدینی نے علماء کا یہ قول نقل کیا ہے کہ مافر احد من الوباء فسلم (قرطبی) یعنی جو شخص وباء سے بھاگتا ہے وہ کبھی سالم نہیں رہتا۔ تیسری حکمت یہ بھی ہے کہ اگر ان میں مرض کے جراثیم سرایت کرچکے ہیں تو یہ مختلف بستیوں میں پہنچیں گے تو وہاں جراثیم پھیلیں گے اور اگر اپنی جگہ صبر و توکل کے ساتھ ٹھہرے رہے تو بہت ممکن ہے کہ مرض سے نجات حاصل ہوجائے اور بالفرض اسی مرض میں موت مقدر تھی تو ان کو اپنے صبر وثبات کی وجہ سے درجہ شہادت کا ملے گا جیسا کہ حدیث میں ارشاد ہے : روی البخاری عن یحییٰ بن یعمر عن عائشۃ انھا اخبرتہ انھا سألت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عن الطاعون فاخبرہا النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہ کان عذاباً یبعثہ اللہ علی من یشاء فجعلہ اللہ رحمۃ للمؤ منین فلیس من عبد یقع الطاعون فیمکث فی بلدہ صابراً یعلم انہ لن یصیبہ الا ماکتب اللہ لہ الا کان لہ مثل اجر شہید وھذا تفسیر لقولہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الطاعون شہادۃ والمطعون شہید (قرطبی ص ٢٣٥ ج ٣) امام بخاری نے یحییٰ بن یعمر کی روایت سے نقل کیا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے طاعون کے متعلق سوال کیا تھا، تو آپ نے ان کو بتلایا کہ یہ بیماری اصل میں عذاب کی حیثیت سے نازل ہوئی تھی اور جس قوم کو عذاب دینا منظور ہوتا تھا اس پر بھیج دی جاتی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو مؤمنین کے لئے رحمت بنادیا تو جو اللہ کا بندہ طاعون پھیلنے کے بعد اپنی بستی میں صبر و سکون کے ساتھ ٹھرا رہے اور یہ اعتقاد رکھے کہ اس کو صرف وہی مصیبت پہنچ سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے لکھ دی ہے تو ایسے شخص کو شہید کے برابر ثواب ملے گا۔ اور یہی تشریح ہے اس حدیث کی جس میں ارشاد ہے کہ طاعون زدہ شخص شہید ہے۔ بعض خاص صورتوں کا استثناء : حدیث کے الفاظ میں فلا تخرجوا فرارا منہ آیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص موت سے فرار کے لئے نہیں بلکہ اپنی کسی دوسری ضرورت سے دوسری جگہ چلا جائے تو وہ اس ممانعت میں داخل نہیں اسی طرح اگر کسی کا عقیدہ اپنی جگہ پختہ ہو کہ یہاں سے دوسری جگہ چلا جانا مجھے موت سے نجات نہیں دے سکتا اگر میرا وقت آگیا ہے تو جہاں جاؤں گا موت لازمی ہے اور وقت نہیں آیا تو یہاں رہنے سے بھی موت نہیں آئے گی یہ عقیدہ پختہ رکھتے ہوئے محض آب وہوا کی تبدیلی کے لئے یہاں سے چلا جائے تو وہ بھی ممانعت سے مستثنے ہے۔ اسی طرح کوئی آدمی کسی ضرورت سے اس جگہ میں داخل ہو جہاں وباء پھیلی ہوئی ہے اور عقیدہ اس کا پختہ ہو کہ یہاں آنے سے موت نہیں آئے گی وہ اللہ کی مشیت کے تابع ہے تو ایسی حالت میں اس کے لئے وہاں جانا بھی جائز ہوگا۔ تیسرا مسئلہ : اس آیت سے یہ مستفاد ہوا کہ بخوف موت جہاد سے بھاگنا بھی حرام ہے، قرآن کریم میں یہ مسئلہ دوسری جگہ زیادہ تفصیل اور وضاحت سے آیا ہے جس میں بعض خاص صورتوں کو مستثنے ٰ بھی فرمایا گیا ہے، جو مضمون اس آیت کا ہے تقریباً یہی مضمون دوسری آیت میں جہاد سے بھاگنے والوں یا اس میں شامل نہ ہونے والوں کے بارے میں آیا ہے ارشاد یہ ہے : اَلَّذِيْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِھِمْ وَقَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْ آ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ (١٦٨: ٣) یعنی کچھ لوگ خود بھی جہاد میں شریک نہ ہوئے اور جہاد میں شریک ہو کر شہید ہوجانے والوں کے متعلق لوگوں سے کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے ہماری بات نہ سنی اس لئے مارے گئے اگر یہ ہماری بات مانتے تو قتل نہ ہوتے (آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ہوا کہ) آپ ان سے فرما دیں کہ اگر موت سے بچنا تمہارے اختیار میں ہے تو اوروں کی کیا فکر کرتے ہو تم خود اپنی فکر کرو اور اپنے آپ کو موت سے بچالو یعنی جہاد میں جانے پر موقوف نہیں تمہیں گھر بیٹھے ہوئے بھی آخر موت آئے گی، عجائب قدرت سے ہے کہ صحابہ کرام (رض) اجمعین کے سب سے بڑے جنگی جرنیل سیف اللہ حضرت خالد بن ولید جن کی اسلامی عمر ساری جہاد ہی میں گذری ہے وہ کسی جہاد میں شہید نہیں ہوئے بیمار ہو کر گھر میں وفات پائی وفات کے قریب اپنے بستر پر مرنے کا افسوس کرتے ہوئے گھر والوں کو خطاب کرکے فرمایا کہ میں فلاں فلاں عظیم الشان جنگوں اور جہادوں میں شریک ہوا اور میرا کوئی عضو ایسا نہیں جس میں تیر یا نیزے یا چوٹ کے زخم کا اثر ونشان نہ ہو مگر افسوس ہے کہ میں اب گدھے کی طرح بستر پر مر رہا ہوں خدا تعالیٰ بزدلوں کو آرام نہ دے ان کو میری نصیحت پہنچاؤ، اس آیت میں بنی اسرائیل کا یہ واقعہ بطور تمہید لایا گیا تھا اگلی آیت میں جہاد و قتال کا حکم دیا گیا جو اس قصہ کے ذکر کرنے سے اصل مقصود تھا کہ جہاد میں جانے کو موت یا بھاگنے کو نجات نہ سمجھو بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرکے فلاح دارین حاصل کرو اللہ تعالیٰ تمہاری سب باتیں سننے والے اور جاننے والے ہیں۔ تیسری آیت میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی فضیلت کا ذکر ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِھِمْ وَھُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ۝ ٠ ۠ فَقَالَ لَہُمُ اللہُ مُوْتُوْا۝ ٠ ۣ ثُمَّ اَحْيَاھُمْ۝ ٠ ۭ اِنَّ اللہَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَي النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ۝ ٢٤٣ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ، أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخالِدُونَ [ الأنبیاء/ 34] ، أَكانَ لِلنَّاسِ عَجَباً [يونس/ 2] ، آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ [ الأنعام/ 144] . والتسوية نحو : سَواءٌ عَلَيْنا أَجَزِعْنا أَمْ صَبَرْنا [إبراهيم/ 21] ، سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ [ البقرة/ 6] «1» ، وهذه الألف متی دخلت علی الإثبات تجعله نفیا، نحو : أخرج ؟ هذا اللفظ ينفي الخروج، فلهذا سأل عن إثباته نحو ما تقدّم . وإذا دخلت علی نفي تجعله إثباتا، لأنه يصير معها نفیا يحصل منهما إثبات، نحو : أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ [ الأعراف/ 172] «2» ، أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ [ الرعد/ 41] ، أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَةُ [ طه/ 133] أَوَلا يَرَوْنَ [ التوبة : 126] ، أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ [ فاطر/ 37] . - الثاني : ألف المخبر عن نفسه نحو : أسمع وأبصر . - الثالث : ألف الأمر، قطعا کان أو وصلا، نحو : أَنْزِلْ عَلَيْنا مائِدَةً مِنَ السَّماءِ [ المائدة/ 114] ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتاً فِي الْجَنَّةِ [ التحریم/ 11] ونحوهما . - الرابع : الألف مع لام التعریف «4» ، نحو : العالمین . - الخامس : ألف النداء، نحو : أزيد، أي : يا زيد . والنوع الذي في الوسط : الألف التي للتثنية، والألف في بعض الجموع في نحو : مسلمات ونحو مساکين . والنوع الذي في آخره : ألف التأنيث في حبلی وبیضاء «5» ، وألف الضمیر في التثنية، نحو : اذهبا . والذي في أواخر الآیات الجارية مجری أواخر الأبيات، نحو : وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا [ الأحزاب/ 10] ، فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا [ الأحزاب/ 67] ، لکن هذه الألف لا تثبت معنی، وإنما ذلک لإصلاح اللفظ . ا : الف با معنی کی تین قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جو شروع کلام میں آتا ہے ۔ دوسرا وہ جو وسط کلام میں واقع ہو ۔ تیسرا وہ جو آخر کلام میں آئے ۔ ( ا) وہ الف جو شروع کلام میں آتا ہے ۔ اس کی چند قسمیں ہیں : ۔ (1) الف الاستخبار اسے ہمزہ استفہام کہنے کے بجائے الف استخبار کہنا زیادہ صحیح ہوگا ۔ کیونکہ اس میں عمومیت ہے جو استفہام و انکار نفی تبکیت پر زجرو تو بیخ ) تسویہ سب پر حاوی ہے۔ چناچہ معنی استفہام میں فرمایا ۔ { أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ } [ البقرة : 30]( انہوں نے کہا ) کیا تو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے اور تبکیت یعنی سرزنش کبھی مخاطب کو ہوتی ہے اور کبھی غیر کو چناچہ ( قسم اول کے متعلق ) فرمایا :۔ (1){ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُم } [ الأحقاف : 20] تم اپنی لذتیں حاصل کرچکے ۔ (2) { أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدًا } [ البقرة : 80] کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے ؟ (3) { آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ } [يونس : 91] کیا اب ( ایمان لاتا ہے ) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا ؟ اور غیر مخاظب کے متعلق فرمایا :۔ (4) { أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا } [يونس : 2] کیا لوگوں کے لئے تعجب خیز ہے ؟ (5) { أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِل } [ آل عمران : 144] تو کیا اگر یہ مرجائیں یا مارے جائیں ؟ (6) { أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ } [ الأنبیاء : 34] بھلا اگر تم مرگئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے ؟ (7) { آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ } [ الأنعام : 143] بتاؤ تو ( خدا نے ) دونوں نروں کو حرام کیا ہے ۔ یا دونوں ماديؤں کو ۔ اور معنی تسویہ میں فرمایا ، { سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا } [إبراهيم : 21] اب ہم گهبرائیں یا صبر کریں ہمارے حق میں برابر ہے ۔ { سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ } ( سورة البقرة 6) تم خواہ انہیں نصیحت کردیا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے ، وہ ایمان نہیں لانے کے ۔ اور یہ الف ( استخبار ) کلام مثبت پر داخل ہو تو اسے نفی میں تبدیل کردیتا ہے ۔ جیسے اخرج ( وہ باہر نہیں نکلا ) کہ اس میں نفی خروج کے معنی پائے جائے ہیں ۔ اس لئے کہ اگر نفی کے معنی نہ ہوتے تو اس کے اثبات کے متعلق سوال نہ ہوتا ۔ اور جب کلام منفی پر داخل ہو تو اسے مثبت بنا دیتا ہے ۔ کیونکہ کلام منفی پر داخل ہونے سے نفی کی نفی ہوئی ۔ اور اس طرح اثبات پیدا ہوجاتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَلَسْتُ بِرَبِّكُم } [ الأعراف : 172] کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ( یعنی ضرور ہوں ) { أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ } [ التین : 8] کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے یعنی ضرور ہے ۔ { أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ } [ الرعد : 41] کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کا بندوبست کرتے ہیں ۔ { أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَة } [ طه : 133] کیا ان کے پاس کھلی نشانی نہیں آئی ۔ { أَوَلَا يَرَوْنَ } [ التوبة : 126] اور کیا یہ نہیں دیکھتے { أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم } [ فاطر : 37] اور کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی ۔ (2) الف جو مضارع کے صیغہ واحد متکلم کے شروع میں آتا ہے اور میں |" کے معنی رکھتا ہے جیسے اسمع و ابصر یعنی میں سنتاہوں اور میں دیکھتا ہوں (3) ہمزہ فعل امر خواہ قطعی ہو یا وصلي جیسے فرمایا :۔ { أَنْزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِنَ السَّمَاءِ } [ المائدة : 114] ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما ۔ { رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ } [ التحریم : 11] اے میرے پروردگار میرے لئے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا ۔ (4) الف جو لام کے ساتھ معرفہ بنانے کے لئے آیا ہے جیسے فرمایا { الْعَالَمِينَ } [ الفاتحة : 2] تمام جہانوں (5) الف نداء جیسے ازید ( اے زید ) ( ب) وہ الف جو وسط کلمہ میں آتا ہے اس کی پہلی قسم الف تثنیہ ہے ( مثلا رجلان ) اور دوسری وہ جو بعض اوزان جمع میں پائی جاتی ہے مثلا مسلمات و مساکین ۔ ( ج) اب رہا وہ الف جو کلمہ کے آخر میں آتا ہے ۔ وہ یا تو تانیث کے لئے ہوتا ہے جیسے حبلیٰ اور بَيْضَاءُمیں آخری الف یا پھر تثنیہ میں ضمیر کے لئے جیسا کہ { اذْهَبَا } [ الفرقان : 36] میں آخر کا الف ہے ۔ وہ الف جو آیات قرآنی کے آخر میں کہیں بڑھا دیا جاتا ہے جیسے { وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا } [ الأحزاب : 10] { فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا } [ الأحزاب : 67] تو یہ کوئی معنوی اضافہ نہیں کرتا بلکہ محض لفظی اصلاح ( اور صوتی ہم آہنگی ) کے لئے آخر میں بڑھا دیا جاتا ہے ( جیسا کہ ابیات کے اواخر میں الف |" اشباع پڑھاد یتے ہیں ) «لَمْ» وَ «لَمْ» نفي للماضي وإن کان يدخل علی الفعل المستقبل، ويدخل عليه ألف الاستفهام للتّقریر . نحو : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] ، أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوی [ الضحی/ 6] ( لم ( حرف ) لم ۔ کے بعد اگرچہ فعل مستقبل آتا ہے لیکن معنوی اعتبار سے وہ اسے ماضی منفی بنادیتا ہے ۔ اور اس پر ہمزہ استفہام تقریر کے لئے آنا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] کیا ہم نے لڑکپن میں تمہاری پرورش نہیں کی تھی ۔ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ دار الدَّار : المنزل اعتبارا بدورانها الذي لها بالحائط، وقیل : دارة، وجمعها ديار، ثم تسمّى البلدة دارا، والصّقع دارا، والدّنيا كما هي دارا، والدّار الدّنيا، والدّار الآخرة، إشارة إلى المقرّين في النّشأة الأولی، والنّشأة الأخری. وقیل : دار الدّنيا، ودار الآخرة، قال تعالی: لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ، أي : الجنة، ( د و ر ) الدار ۔ منزل مکان کو کہتے ہیں کیونکہ وہ چار دیواری سے گھرا ہوتا ہے بعض نے دراۃ بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کی جمع دیار ہے ۔ پھر دار کا لفظ شہر علاقہ بلکہ سارے جہان پر بولا جاتا ہے اور سے نشاۃ اولٰی اور نشاہ ثانیہ میں دو قرار گاہوں کی طرف اشارہ ہے بعض نے ( باضافت ) بھی کہا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ : لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ان کے لئے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے ۔ حذر الحَذَر : احتراز من مخیف، يقال : حَذِرَ حَذَراً ، وحذرته، قال عزّ وجل : يَحْذَرُ الْآخِرَةَ [ الزمر/ 9] ، وقرئ : وإنّا لجمیع حَذِرُون، وحاذِرُونَ 3» ، وقال تعالی: وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 28] ، وقال عزّ وجل : خُذُوا حِذْرَكُمْ [ النساء/ 71] ، أي : ما فيه الحذر من السلاح وغیره، وقوله تعالی: هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ [ المنافقون/ 4] ، وقال تعالی: إِنَّ مِنْ أَزْواجِكُمْ وَأَوْلادِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ [ التغابن/ 14] ، وحَذَارِ ، أي : احذر، نحو : مناع، أي : امنع . ( ح ذ ر) الحذر ( س) خوف زدہ کرنے والی چیز سے دور رہنا کہا جاتا ہے حذر حذرا وحذرتہ میں اس سے دور رہا ۔ قرآن میں ہے :۔ يَحْذَرُ الْآخِرَةَ [ الزمر/ 9] آخرت سے ڈرتا ہو ۔ وإنّا لجمیع حَذِرُون، وحاذِرُونَاور ہم سب باسازو سامان ہیں ۔ ایک قرآت میں حذرون ہے هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ [ المنافقون/ 4] یہ تمہاری دشمن میں ان سے محتاط رہنا ۔ إِنَّ مِنْ أَزْواجِكُمْ وَأَوْلادِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ [ التغابن/ 14] تمہاری عورتوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ( بھی ) ہیں سو ان سے بچتے رہو۔ حذر ۔ کسی امر سے محتاط رہنے کے لئے کہنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 28] اور خدا تم کو اپنے ( غضب ) سے محتاط رہنے کی تلقین کرنا ہے الحذر بچاؤ ۔ اور آیت کریمہ :۔ خُذُوا حِذْرَكُمْ [ النساء/ 71] جہاد کے لئے ) ہتھیار لے لیا کرو ۔ میں حذر سے مراد اسلحۃ جنگ وغیرہ ہیں جن کے ذریعہ دشمن سے بچاؤ حاصل ہوتا ہے حذار ( اسم فعل بمعنی امر ) بچو جیسے مناع بمعنی امنع خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و ف ) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] اور اس کی رحمت کے امید وار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں ۔ موت أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة : فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات . نحو قوله تعالی: يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] . الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا [ مریم/ 23] ، أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] . الثالث : زوال القوَّة العاقلة، وهي الجهالة . نحو : أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] ، وإيّاه قصد بقوله : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] . الرابع : الحزن المکدِّر للحیاة، وإيّاه قصد بقوله : وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَ بِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] . الخامس : المنامُ ، فقیل : النّوم مَوْتٌ خفیف، والموت نوم ثقیل، وعلی هذا النحو سمّاهما اللہ تعالیٰ توفِّيا . فقال : وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] ( م و ت ) الموت یہ حیات کی ضد ہے لہذا حیات کی طرح موت کی بھی کئی قسمیں ہیں ۔ اول قوت نامیہ ( جو کہ انسان حیوانات اور نباتات ( سب میں پائی جاتی ہے ) کے زوال کو موت کہتے ہیں جیسے فرمایا : ۔ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] اور اس پانی سے ہم نے شہر مردہ یعنی زمین افتادہ کو زندہ کیا ۔ دوم حس و شعور کے زائل ہوجانے کو موت کہتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا ۔ يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا[ مریم/ 23] کاش میں اس سے پہلے مر چکتی ۔ أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا زندہ کر کے نکالا جاؤں گا ۔ سوم ۔ قوت عاقلہ کا زائل ہوجانا اور اسی کا نام جہالت ہے چناچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] کچھ شک نہیں کہ تم مردوں کو بات نہیں سنا سکتے ۔ چہارم ۔ غم جو زندگی کے چشمہ صافی کو مکدر کردیتا ہے چنانچہ آیت کریمہ : ۔ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَبِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی ۔ مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا ۔ میں موت سے یہی معنی مراد ہیں ۔ پنجم ۔ موت بمعنی نیند ہوتا ہے اسی لئے کسی نے کہا ہے کہ النوم موت خفیف والموت نوم ثقیل کہ نیند کا نام ہے اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو توفی سے تعبیر فرمایا ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] اور وہی تو ہے جو ارت کو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، أي : هم متلذّذون، لما روي في الأخبار الکثيرة في أرواح الشّهداء والخامسة : الحیاة الأخرويّة الأبديّة، وذلک يتوصّل إليه بالحیاة التي هي العقل والعلم، قال اللہ تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] والسادسة : الحیاة التي يوصف بها الباري، فإنه إذا قيل فيه تعالی: هو حيّ ، فمعناه : لا يصحّ عليه الموت، ولیس ذلک إلّا لله عزّ وجلّ. ( ح ی ی ) الحیاۃ ) زندگی ، جینا یہ اصل میں حیی ( س ) یحییٰ کا مصدر ہے ) کا استعمال مختلف وجوہ پر ہوتا ہے ۔ ( 1) قوت نامیہ جو حیوانات اور نباتات دونوں میں پائی جاتی ہے ۔ اسی معنی کے لحاظ سے نوبت کو حیہ یعنی زندہ کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ ۔ ( 2 ) دوم حیاۃ کے معنی قوت احساس کے آتے ہیں اور اسی قوت کی بناء پر حیوان کو حیوان کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] اور زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں ۔ ( 3 ) قوت عاملہ کا عطا کرنا مراد ہوتا ہے چنانچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ ( 4 ) غم کا دور ہونا مراد ہوتا ہے ۔ اس معنی میں شاعر نے کہا ہے ( خفیف ) جو شخص مرکر راحت کی نیند سوگیا وہ درحقیقت مردہ نہیں ہے حقیقتا مردے بنے ہوئے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا وہ مرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں ۔ میں شہداء کو اسی معنی میں احیاء یعنی زندے کہا ہے کیونکہ وہ لذت و راحت میں ہیں جیسا کہ ارواح شہداء کے متعلق بہت سی احادیث مروی ہیں ۔ ( 5 ) حیات سے آخرت کی دائمی زندگی مراد ہوتی ہے ۔ جو کہ علم کی زندگی کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے : قرآن میں ہے : ۔ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی ( جادواں ) بخشتا ہے۔ ( 6 ) وہ حیات جس سے صرف ذات باری تعالیٰ متصف ہوتی ہے ۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کی صفت میں حی کہا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ذات اقدس ہوئی ہے جس کے متعلق موت کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ۔ پھر دنیا اور آخرت کے لحاظ بھی زندگی دو قسم پر ہے یعنی حیات دنیا اور حیات آخرت چناچہ فرمایا : ۔ فَأَمَّا مَنْ طَغى وَآثَرَ الْحَياةَ الدُّنْيا [ النازعات/ 38] تو جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھنا ۔ ذو ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع، ويقال في المؤنّث : ذات، وفي التثنية : ذواتا، وفي الجمع : ذوات، ولا يستعمل شيء منها إلّا مضافا، قال : وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] ، وقال : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ، وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] ، وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] ، ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] ، إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] ، وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 18] ، وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ [ الأنفال/ 7] ، وقال : ذَواتا أَفْنانٍ [ الرحمن/ 48] ، وقد استعار أصحاب المعاني الذّات، فجعلوها عبارة عن عين الشیء، جو هرا کان أو عرضا، واستعملوها مفردة ومضافة إلى المضمر بالألف واللام، وأجروها مجری النّفس والخاصّة، فقالوا : ذاته، ونفسه وخاصّته، ولیس ذلک من کلام العرب . والثاني في لفظ ذو : لغة لطيّئ، يستعملونه استعمال الذي، ويجعل في الرفع، والنصب والجرّ ، والجمع، والتأنيث علی لفظ واحد نحو : وبئري ذو حفرت وذو طویت ( ذ و ) ذو ( والا ۔ صاحب ) یہ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ( 1) اول یہ کہ اسماء اجناس وانوع کے ساتھ توصیف کے لئے اسے ذریعہ بنایا جاتا ہے ۔ اس صورت میں اسم ضمیر کیطرف مضاف نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ اسم ظاہر کی طرف مضاف ہوتا ہے اور اس کا تنثیہ جمع بھی آتا ہے ۔ اور مونث کے لئے ذات کا صیغہ استعمال ہوتا ہے اس کا تثنیہ ذواتا اور جمع ذوات آتی ہے ۔ اور یہ تمام الفاظ مضاف ہوکر استعمال ہوتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہرابان ہے ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ( یعنی جبرئیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے ۔ وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] اور رشتہ داروں ۔ وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] اور ہر ساحب فضل کو اسکی بزرگی ( کی داو ) دیگا ۔ ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] رشتہ داروں اور یتیموں ۔ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] تو دلوں تک کی باتوں سے آگاہ ہے ۔ وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 18] اور ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹ بدلاتے ہیں ۔ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ [ الأنفال/ 7] اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بےشان و شوکت ( یعنی بےہتھیار ) ہے وہ تمہارے ہاتھ آجائے ۔ ذَواتا أَفْنانٍ [ الرحمن/ 48] ان دونوں میں بہت سے شاخیں یعنی قسم قسم کے میووں کے درخت ہیں ۔ علمائے معانی ( منطق وفلسفہ ) ذات کے لفظ کو بطور استعارہ عین شے کے معنی میں استعمال کرتے ہیں اور یہ جو ہر اور عرض دونوں پر بولاجاتا ہے اور پھر کبھی یہ مفرد یعنی بدون اضافت کت استعمال ہوتا ہے ۔ اور کبھی اسم ضمیر کی طرف مضاف ہو کر اور کبھی معرف بلالم ہوکر ۔ اور یہ لفظ بمنزلہ نفس اور خاصہ کے بولا جاتا ہے ۔ اور نفسہ وخاصتہ کی طرح ذاتہ بھی کہاجاتا ہے ۔ مگر یہ عربی زبان کے محاورات سے نہیں ہے ( 2 ) دوم بنی طیی ذوبمعنی الذی استعمال کرتے ہیں اور یہ رفعی نصبی جری جمع اور تانیث کی صورت میں ایک ہی حالت پر رہتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ع ( الوافر ) یعنی کنواں جسے میں نے کھودا اور صاف کیا ہے ۔ فضل الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر فعلی ثلاثة أضرب : فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات . وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله : وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] ، إلى قوله : تَفْضِيلًا وفضل من حيث الذّات، کفضل رجل علی آخر . فالأوّلان جوهريّان لا سبیل للناقص فيهما أن يزيل نقصه وأن يستفید الفضل، کالفرس والحمار لا يمكنهما أن يکتسبا الفضیلة التي خصّ بها الإنسان، والفضل الثالث قد يكون عرضيّا فيوجد السّبيل علی اکتسابه، ومن هذا النّوع التّفضیل المذکور في قوله : وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] ، لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] ، يعني : المال وما يکتسب، ( ف ض ل ) الفضل کے منعی کسی چیز کے اقتضا ( متوسط درجہ سے زیادہ ہونا کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے محمود جیسے علم وحلم وغیرہ کی زیادتی مذموم جیسے غصہ کا حد سے بڑھ جانا لیکن عام طور الفضل اچھی باتوں پر بولا جاتا ہے اور الفضول بری باتوں میں اور جب فضل کے منعی ایک چیز کے دوسری پر زیادتی کے ہوتے ہیں تو اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں ( ۔ ) بر تری بلحاظ جنس کے جیسے جنس حیوان کا جنس نباتات سے افضل ہونا ۔ ( 2 ) بر تری بلحاظ نوع کے جیسے نوع انسان کا دوسرے حیوانات سے بر تر ہونا جیسے فرمایا : ۔ وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت دی ۔ ( 3 ) فضیلت بلحاظ ذات مثلا ایک شخص کا دوسرے شخص سے بر تر ہونا اول الذکر دونوں قسم کی فضیلت بلحاظ جو ہر ہوتی ہے ۔ جن میں ادنیٰ ترقی کر کے اپنے سے اعلٰی کے درجہ کو حاصل نہیں کرسکتا مثلا گھوڑا اور گدھا کہ یہ دونوں انسان کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے ۔ البتہ تیسری قسم کی فضیلت من حیث الذات چونکہ کبھی عارضی ہوتی ہے اس لئے اس کا اکتساب عین ممکن ہے چناچہ آیات کریمہ : ۔ وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] اور خدا نے رزق ( دولت ) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ۔ لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل ( یعنی روزی تلاش کرو ۔ میں یہی تیسری قسم کی فضیلت مراد ہے جسے محنت اور سعی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ كثر الْكِثْرَةَ والقلّة يستعملان في الكمّيّة المنفصلة كالأعداد قال تعالی: وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] ( ک ث ر ) کثرت اور قلت کمیت منفصل یعنی اعداد میں استعمال ہوتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کفر اور بڑ ھیگا ۔ شكر الشُّكْرُ : تصوّر النّعمة وإظهارها، قيل : وهو مقلوب عن الکشر، أي : الکشف، ويضادّه الکفر، وهو : نسیان النّعمة وسترها۔ والشُّكْرُ ثلاثة أضرب : شُكْرُ القلب، وهو تصوّر النّعمة . وشُكْرُ اللّسان، وهو الثّناء علی المنعم . وشُكْرُ سائر الجوارح، وهو مکافأة النّعمة بقدر استحقاقه . وقوله تعالی: اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] ، ( ش ک ر ) الشکر کے معنی کسی نعمت کا تصور اور اس کے اظہار کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ کشر سے مقلوب ہے جس کے معنی کشف یعنی کھولنا کے ہیں ۔ شکر کی ضد کفر ہے ۔ جس کے معنی نعمت کو بھلا دینے اور اسے چھپا رکھنے کے ہیں شکر تین قسم پر ہے شکر قلبی یعنی نعمت کا تصور کرنا شکر لسانی یعنی زبان سے منعم کی تعریف کرنا شکر بالجوارح یعنی بقدر استحقاق نعمت کی مکافات کرنا ۔ اور آیت کریمہ : اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] اسے داود کی آل میرا شکر کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

طاعون سے بھاگ نکلنے کا بیان قول باری ہے (الم تر الی الذین خرجوا من دیارھم وھم الوف حذر الموت فقال لھم اللہ موتوا ثم احیاھم، (a) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے گھروں سے موت کے خوف سے نکل پڑے حالانکہ ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا جائو۔ پھر انہیں زندہ کردیا) ۔ حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ ان کی تعداد چار ہزار تھی اور یہ لوگ طاعون سے بھاگ نکلنے کے لئے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے پھر سب کے سب مرگئے۔ ان پر اللہ کے ایک نبی کا گذر ہوا۔ انہوں نے اللہ سے انہیں انہیں زندہ کردینے کی دعا کی ، اللہ نے انہیں زندہ کردیا۔ حسن بصری سے بھی منقول ہے کہ یہ لوگ طاعون سے بھاگ نکلے تھے۔ عکرمہ کا قول ہیح کہ یہ لوگ جنگ سے بھاگے تھے۔ یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طاعون سے ان کے بھاگ نکلنے کو ناپسند فرمایا تھا۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (اینما تکونوا یدرککم الموت ولوکنتم فی بروج مشیدۃ (a) تم جہاں کبھی ہوگے موت تمہیں آلے گی خواہ تم مضبوط برجوں میں ہی کیوں نہ ہو) اسی طرح قول باری ہے (قل ان الموت الذی تفرون منہ فانہ ملاقیکم، (a) آپ کہہ دیجئے کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ ضرور ت میں آملے گی) ۔ اسی طرح قول باری ہے (قل لن ینفعکم الفرار ان فرر تم من الموت او لقتل، (a) آپ کہہ دیجئے کہ فرار سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا اگر موت یہ قتل سے فرار اختیار کروگے) نیز ارشاد ربانی ہے (فاذا جآء اجلھم لایتاخرون ساعۃ ولا یستقدمون، (a) پس جس وقت ان کی اجل آجائے گی تو نہ وہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے) ۔ جب انسانوں کے اجال موقت اور محصور ہیں کہ ان میں تقدیم و تاخیر کا کوئی امکان نہیں۔ جس کی جو اجل اللہ نے مقرر کردی ہے وہ آگے پیچھے نہیں ہوسکی۔ اب طاعون کے مقام سے جان بچانے کی خاطر بھاگ نکلنا اور اصل اس قانون خداوندی سے روگردانی کے مترادف ہے۔ بدفالی، شگون کی خاطر پرندہ اڑانے اور ستاروں کی چال پر یقین کرنے کا بھی یہی حکم ہے۔ یہ سب صورتیں دراصل اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے فرار کی شکلیں ہیں حالانکہ کسی کو اس کی قضاء و قدر سے نکلنے کا یارا نہیں ہوتا، عمرو بن جابر الحضرمی سے روایت ہے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (الفرار من الطاعون کالفرار من الزحف والصابر فیہ کالصابر فی الزحف، (a) طاعون کے مقام سے بھاگنا اسی طرح گناہ کی بات ہے جس طرح میدان جنگ اور لشکر اسلام سے فرار ہونا اور طاعون کی وبا میں صبر کرکے اپنی جگہ مقیم انسان میدان جنگ میں ڈٹ جانے والے انسان کی طرح ہے) ۔ یحییٰ بن کثیر نے سعید بن المسیب سے، انہوں نے حضرت سعد (رض) سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ (لاعدویٰ وادطیرۃ وان تکن الطیرۃ فی شیء فھی فی الفرس ولمرأۃ والدار واذا سمعتم یالطاعون بارض و لستم بھا فلاتھیلوا علیہ واذا کان وانتم بھا فلا تخرجوانوارا عنہ (a) چھوت اور بدفالی کی کوئی حیثیت نہیں۔ اگر کسی چیز میں بدشگونی ہوتی تو گھوڑے، عورت یا گھر میں ہوتی۔ اگر تمہیں کسی علاقے میں طاعون پھوٹ پڑنے کی خبر ملے اور تم اس علاقے کے اندر نہ ہو تو وہاں نہ جائو اور اگر کسی جگہ تمہارے ہوتے ہوئے یہ بیماری پھیل جائے تو اس سے بھاگنے کی خاطر وہاں سے نہ نکلو) ۔ حضرت ابامہ بن زید (رض) کے واسطیح سے طاعون کے متعلق حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی قسم کی حدیث مروی ہے۔ زہری نے عبدالحمید بن عبدالرحمن سے ہے، انہوں نے عبداللہ بن حارث بن عبداللہ بن نوفل سے، انہوںں نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر (رض) سرزمین شام کی طرف گئے جب مقام سرغ میں پہنچے تو تاجروں نے اطلاع کردی کہ وبائی بیماری پھیلی ہوئی ہے۔ آپ نے مہاجرین و انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کیا لیکن ان حضرات کی آراء میں اختلاف تھا۔ آپ نے واپسی کا عزم کرلیا تھا اس پر امیر لشکر اسلام حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے حضرت عمر (رض) سے کہا کہ ” آیا یہ اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر سے فرار نہیں ہے ؟ “ اس پر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ” ابو عبیدہ کا شکریہ بات تمہارے سوا کسی اور کی زبان سے نکلی ہوتی ! ہم اللہ کی ایک قضائو قدر سے نکل کر دوسری تضائو قدر کی طرف جارہے ہیں۔ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تمہارے اونٹ ہوتے اور انہیں لے کر تم ایک وادی میں داخل ہوجاتے جس کے دو کنارے ہوتے ایک کنارا سرسبز و شاداب اور دوسرا خشک اور قحط زدہ بنجر ہوتا اگر تم سرسبز حصے میں اپنے اونٹ چراتے تو بھی اللہ کی قضائو قدر کے مطابق چراتے اور اگر خشک حصے میں چراتے تو بھی اللہ کی قضائو قدر کے مطابق چراتے۔ “ اسی دوران حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) وہاں آگئے اور فرمایا کہ میرے پاس اس بارے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد موجود ہے۔ میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ (اذا سمعتم بہ فی الارض فلا تقدموا علیہ واذا وقع بارض وانتم بھا فلا تخرجوا فواراً منہ، (a) جب تم کسی علاقے میں وباء کے متعلق سنو تو ادھر نہ جائو اور اگر تم کسی ایسی جگہ موجود ہو اور وہاں یہ وباء پھوٹ پڑیح تو اس سے بھاگ نکلنے کی خاطر وہاں سے نہ نکلو) ۔ یہ سن کر حضرت عمر (رض) نے اللہ تعالیٰ کا شکر اور حمدو ثناء کی پھر وہیں سے مدینہ منورہ لوٹ گئے ان تمام روایات میں طاعون سے بچ نکلنے کی خاطر طاعون کی جگہ سے نکل جانے کی ممانعت ہے نیز طاعون کی جگہ میں جانے کی بھی ممانعت ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ جب بندوں کے آجال مقرر و محصور ہیں کہ ان میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی تو اس کی کیا وجہ ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسی سرزمین میں داخل ہونے سے منع فرمادیا جہاں طاعون کی وبا پھیلی ہوئی ہو جبکہ آپ نے وہاں سے اس وباء کی وجہ سے نکلنے سے بھی روک دیا حالانکہ وہاں جانے اور وہاں ٹھہرے رہنے کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ نہی کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص وہاں جائے گا تو عین ممکن ہے کہ وہ طاعون میں مبتلا ہوکر مرجائے۔ اس صورت میں کہنے والے کو یہ کہنے کا موقعہ مل جائے گا کہ اگر وہ وہاں نہ جاتا تو اس کی موت واقع نہ ہوتی۔ اس لئے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہاں جانے سے روک دیا تاکہ ایسی بات نہ کہی جائے کیونکہ یہ بات قضاء و قدر کے خلاف ہے۔ اس کی مثال یہ قوری باری ہے (یآ یھا الذین اٰمنوا لاتکونوا کالذین کفروا وقالو لاخوانھم اذا ضربوا فی الارض اوکانوا غری لوکانوا عندنا ماماتو وما قتلوا لیجعل اللہ ذٰلک حسرۃ فی قلوبھم، (a) اے ایمان لانے والو ! کافروں کی سی باتیں نہ کرو جن کے عزیز و اقارب اگر کبھی سفر پر جاتے ہیں یا جنگ میں شریک ہوتے ہیں اور وہاں کسی حادثے سے دو چار ہوجاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مارے جاتے اور نہ قتل ہوتے۔ اللہ اس قسم کی باتوں کو ان کے دلوں میں حسرت و اندوہ کا سبب بنادیتا ہے) ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے پسند نہیں کیا کہ کوئی شخص ایسی جگہ پر اپنی اجل کی بنا پر مرجائے اور پھر جاہل لوگ یہ کہتے پھریں کہ اگر وہاں نہ جاتا تو نہ مرتا۔ ایک شاعر نے اس مفہم کو بہت اچھے طریقے سے اپنے ان دو شعروں میں ادا کیا ہے۔ یقولون لی لوکان بالرمل لم تمت بثنید والانبیاء یکذب قیلھا (a) ولوانی استودع تھا الشمس لاھتدت الیھا المنا یا عینھا ودلیلھا (a) لوگ مجھے کہتے ہیں کہ اگر تم مقام رمل میں ہوتے تو بثینہ نہ مرتی حالانکہ خبریں اس بات کی تکذیب کرتی ہیں۔ اگر میں بثینہ کو سورج کے اندر بھی چھپا دیتا پھر بھی اس کی موت بعینہ وہاں تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتی۔ ہمارے اس بیان کردہ معنی پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ قول (لایورون ذوعاھۃ علی مصح، (a) کوئی آفت والا یعنی متعدی مرض والا کسی صحت مند کے پاس ہرگز نہ جائے) محمول کیا جائے گا جبکہ آپ کا یہ قول بھی موجود ہے (لاعدوی ولاطیرۃ ، (a) چھوت اور بدفالی کی کوئی حیثیت نہیں ہے) ۔ تاکہ کسی صحت مند کو متعدی مرض والے کے پاس جانے کی بنا پر بیماری لگ جانے کی صورت میں یہ نہ کہا جائے کہ اسے اس بیماری کے قرب کی وجہ سے تعدیہ ہوگیا ہے یعنی بماری لگ گئی ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک دفعہ عرض کیا گیا کہ ابتدائی خارش تو اونٹ کی تھوتھنی میں ہوتی ہے۔ لیکن دوسرے اونٹوں کو خارش کی بیماری لگ جاتی ہے۔ یعنی اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بیماری میں تعدیہ یعنی چھوت موجود ہے۔ اس پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (فما اعدی الاول (a) پھر پہلے اونٹ میں کسی چیز نے چھوت پیدا کردی) ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضرت زبیر (رض) نے ایک شہر فتح کرنا چاہا ان سے کہا گیا کہ وہاں تو طاعون کی وباء پھیلی ہوئی ہے لیکن حضرت زبیر (رض) اس میں داخل ہوگئے اور فرمایا کہ ” ہم تو طعن یعنی نیزہ بازی اور طاعون کے لئے ہی آئے ہیں۔ “ یہ بھی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے جب شام کی طرف عساکر اسلامی روانہ کئے تو آپ کچھ دوران کے ساتھ گئے اور یہ دعا کی کہ ” اے اللہ ! انہیں طعن یعنی نیزوں اور طاعون کے ذریعے فنا کر “ حضرت ابوبکر (رض) کے اس قول کی تاویل میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ کچھ کا یہ قول ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) نے لشکریوں کو ایمان پر استقامت اور صحیح بصیرت، نیز کفار سے جہاد کی بےتابی کی کیفیت میں پایا تو آپ کو خطرہ لاحق ہوگیا کہ کہیں یہ کسی آزمائش میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ دوسری طرف شام کا علاقہ طاعون کی بیماری کے لئے مشہور تھا۔ اس لئے آپ نے یہ چاہا کسان کی موت اسی حالت میں واقع ہو جس حالت میں یہ مدینے سے نکلے ہیں اور انہیں دنیا اور اس کی چمک دمک کی آزمائش میں پڑنے کا موقعہ ہی نہ آئے۔ کچھ دوسرے اہل علم کا قول ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک بار فرمایا تھا (فناء امتی بالطعن والطاعون (a) میری امت کی موت نیزی بازی اور طاعون میں لکھی ہوئی ہے۔ یہاں لفظ امتی، سے آپ کی مراد جیل القدر صحابہ کرام ہیں۔ آپ نے یہ اطلاع دے دی کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ہاتھوں ممالک فتح کرائے گا جن کی صفت یہ ہوگی۔ اس بنا پر حضرت ابوبکر (رض) نے یہ توقع ظاہر کی کہ شام کی طرف جانے والی فوجیں ہی وہی لوگ ہوں جن کا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذکر فرمایا ہے۔ اور اسی لئے آپ نے دعا کے الفاظ کے ذریعے ان کی حالت کی خبر دے دی۔ یہی وجہ ہے کہ شامی محاذ کے سپہ سالار اعظم حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض) نے شام کے علاقے سے نکلنا پسند نہیں کیا۔ حضرت معاذ (رض) شام میں تھے جب وہاں طاعون کی وباء پھیلی آپ نے دعا کی کہ اے اللہ ہمیں بھی اس وبا کا ایک حصہ عطا کر۔ جب آپ کی ہتھیلی میں نیزہ لگا تو آپ نے اس زخم کو چومنا شروع کردیا اور کہنے لگے کہ اگر میرے کف دست میں فلاں فلاں چیزیں ہوتیں تو مجھے خوشی نہ ہوتی لیکن نیزے کے زخم کی انتہائی خوشی ہے (چونکہ اس زخم کی بنا پر حضرت معاذ (رض) کو اپا تعلق حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی متذکرہ بالا حدیث سے نظر آنے لگا تھا۔ اسی بنا پر آپ اس خوشی کا اظہار کررہے تھے) ۔ آپ کہتے کہ ” کاش میں بچہ ہوتا کیونکہ بعض دفعہ بچے پر اللہ تعالیٰ کی برکت نازل ہوتی ہے “ اس قول سے آپ طاعون کے مرض میں مبتلا ہونے کی تمنا کا اظہار کرتے تاکہ آپ بھی ان لوگوں میں شامل ہوجائیں جن کی صفت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بیان کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھوں ممالک فتح کرائے گا اور ان کی وجہ سے اسلام کو غلبہ عطا کرے گا۔ آیت میں ان لوگوں کے قول کے بطلان پر دلالت موجود ہے جو عذاب قبر کے منکر ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ عذاب قبر کا اقرار دراصل تناسخ کے قول کو تسلیم کرنا ہے (تناسخ کا عقیدہ یہ ہے کہ انسانی روح فنا نہیں ہوتی بلکہ موت کے بعد وہ کوئی اور روپ دھار لیتی ہے اس کا یہ روپ اس کی پہلی زندگی کے مطابق ہوتا ہے اور پہلی زندگی میں پن یعنی نیکی غالب ہوگی تو دوسری زندگی کا یہ روپ اچھا ہوگا۔ اگر پہلی زندگی میں باپ یعنی گناہ غالب ہوگا تو دوسری زندگی کا روپ برا ہوگا۔ ہندوئوں کا یہی عقیدہ ہے) ۔ آیت میں اس قوم کا بطلان اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ اس نے اس قوم کو موت سے ہمکنار کردیا پھر انہیں زندہ کردیا اسی طرح اللہ تعالیٰ انہیں قبر میں بھی زندہ کردے گا اور اگر وہ عذاب کے سزاوار ہوں گے تو انہیں وہیں عذاب بھی دے دے گا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٤٣) اب اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کی ایک جہاد والی جماعت کا ذکر کرتے ہیں، اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن کریم میں آپ کو ان لوگوں کا واقعہ نہیں معلوم ہو اجو اپنے گھروں سے اپنے دشمنوں سے لڑائی کرنے کے لیے گئے تھے اور وہ تقریبا تعداد میں آٹھ ہزار تھے پھر موت کے ڈر سے انہوں نے قتال نہیں کیا، اللہ تعالیٰ نے ان سب کو اسی جگہ پر موت دے دی اور پھر آٹھ دن کے بعد ان کو حیات بخش دی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو زندہ کرکے ان پر بڑا فضل و احسان کیا ہے مگر یہ لوگ زندگی کی قدر نہیں کرتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

اب جو دو رکوع زیر مطالعہ آ رہے ہیں یہ اس اعتبار سے بہت اہم ہیں کہ ان میں اس جنگ کا تذکرہ ہے جس کی حیثیت گویا تاریخ بنی اسرائیل کے غزوۂ بدر کی ہے۔ قبل ازیں یہ بات ذکر کی جا چکی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل نے یوشع بن نون کی سرکردگی میں جہاد و قتال کیا تو فلسطین فتح ہوگیا۔ لیکن انہوں نے ایک مستحکم حکومت قائم کرنے کی بجائے چھوٹی چھوٹی بارہ حکومتیں بنا لیں اور آپس میں لڑتے بھی رہے۔ لیکن تین سو برس کے بعد پھر یہ صورت حال پیدا ہوئی کہ جب ان کے اوپر دنیا تنگ ہوگئی اور آس پاس کی کافر اور مشرک قوموں نے انہیں دبا لیا اور بہت سوں کو ان کے گھروں اور ان کے ملکوں سے نکال دیا تو پھر تنگ آکر انہوں نے اس وقت کے نبی سے کہا کہ ہمارے لیے کوئی بادشاہ ‘ یعنی سپہ سالار مقرر کردیجیے ‘ اب ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں گے۔ چناچہ وہ جو جنگ ہوئی ہے طالوت اور جالوت کی ‘ اس کے بعد گویا بنی اسرائیل کا دور خلافت راشدہ شروع ہوا۔ بنی اسرائیل کی تاریخ کا یہ دور جسے میں خلافت راشدہ سے تعبیر کر رہا ہوں ‘ ان کے رسول ( علیہ السلام) کے انتقال کے تین سو برس بعد شروع ہوا ‘ جبکہ اس امت مسلمہ کی خلافت راشدہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے کے ساتھّ متصل ہے۔ اس لیے کہ صحابہ کرام (رض) نے جانیں دیں ‘ خون دیا ‘ قربانیاں دیں اور اس کے نتیجے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی ہی میں دین غالب ہوگیا اور اسلامی ریاست قائم ہوگئی۔ نتیجتاً آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انتقال کے بعد خلافت کا دور شروع ہوگیا ‘ لیکن وہاں تین سو برس گزرنے کے بعد ان کا دور خلافت آیا ہے۔ اس میں بھی تین خلافتیں تو متفق علیہ ہیں۔ یعنی حضرت طالوت ‘ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خلافت۔ لیکن چوتھی خلافت پر آکر تقسیم ہوگئی۔ جیسے حضرت علی (رض) خلیفۂ رابع کے زمانے میں عالم اسلام منقسم ہوگیا کہ مصر اور شام نے حضرت علی (رض) کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا۔ اسی طرح فلسطین کی مملکت حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے دو بیٹوں میں تقسیم ہوگئی ‘ اور اسرائیل اور یہودیہ کے نام سے دو ریاستیں وجود میں آگئیں۔ قرآن حکیم میں اس مقام پر طالوت اور جالوت کی اس جنگ کا تذکرہ آ رہا ہے جس کے بعد تاریخ بنی اسرائیل میں اسلام کے غلبے اور خلافت راشدہ کا آغاز ہو رہا ہے۔ یہ درحقیقت صحابہ کرام (رض) کو ایک آئینہ دکھایا جا رہا ہے کہ اب یہی مرحلہ تمہیں درپیش ہے ‘ غزوۂ بدر پیش آیا چاہتا ہے۔ آیت ٢٤٣ (اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ ) (وَہُمْ اُلُوْفٌ) (حَذَرَ الْمَوْتِ ) یعنی جب کفار اور مشرکین نے ان پر غلبہ کرلیا اور یہ دہشت زدہ ہو کر ‘ اپنے ملک چھوڑ کر ‘ اپنے گھروں سے نکل بھاگے۔ (فَقَالَ لَہُمُ اللّٰہُ مُوْتُوْاقف) ( ثُمَّ اَحْیَاہُمْ ط) یہاں موت سے مراد خوف اور بزدلی کی موت بھی ہوسکتی ہے جو ان پر بیس برس طاری رہی ‘ پھر سیموئیل نبی کی اصلاح و تجدید کی کوششوں سے ان کی نشأۃِ ثانیہ ہوئی اور اللہ نے ان کے اندر ایک جذبہ پیدا کردیا۔ گویا یہاں پر موت اور احیاء سے مراد معنوی اور روحانی و اخلاقی موت اور احیاء ہے۔ لیکن بالفعل جسدی موت اور احیاء بھی اللہ کے اختیار سے باہر نہیں ‘ اس کی قدرت میں ہے ‘ وہ سب کو مار کر بھی دوبارہ زندہ کرسکتا ہے۔ (اِنَّ اللّٰہَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَشْکُرُوْنَ ) اکثر لوگ شکر گزاری کی روش اختیار کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ناقدری کرتے ہیں۔ اب سابقہ امت مسلمہ کے غزوۂ بدر کا حال بیان کرنے سے پہلے مسلمانوں سے گفتگو ہو رہی ہے۔ اس لیے کہ یہ سب کچھ ان کی ہدایت کے لیے بیان ہو رہا ہے ‘ تاریخ بیان کرنا قرآن کا مقصد نہیں ہے۔ یہ توٌ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انقلابیّ جدوجہدُ کی تحریک جس مرحلے سے گزر رہی تھی اور انقلابی عمل جس سٹیج پر پہنچ چکا تھا اس کی مناسبت سے سابقہ امت مسلمہ کی تاریخ سے واقعات بھی لائے جا رہے ہیں اور اسی کی مناسبت سے احکام بھی دیے جا رہے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

265. Here begins a fresh discourse, in which Muslims are urged to struggle and make financial sacrifices for God's cause. Moreover, they have been warned to avoid those forms of corruption which eventually led the Children of Israel into decline and degeneration. In order to appreciate this discourse it should be borne in mind that it was revealed when the Muslims had been driven out of Makka and had lived in Madina for year and a half. Exasperated by the wrongs to which the unbelievers subjected them, the Muslims had again and again asked the Prophet to permit them to fight. But when they were at long last asked to fight, some of them showed a degree of reluctance and disinclination (see verse 216 above) . Their attention is now drawn, therefore, to two incidents in the history of the Israelites from which the may learn their lesson. 266. This refers to the exodus of the Israelites. Surah 5 (see verse 20 ff. ) gives some details of this incident. The Israelites had left Egypt in large numbers and were wandering in the desert, eager to find a home. But when at God's command Moses ordered them to drive the Canaanites out of Palestine and conquer that land, thes showed cowardice and refused to proceed. Eventually God let them wander about for forty years till one full generation of Israelites had died and been replaced by a new one reared in the tough conditions of desert life. It was only, then that God enabled the Israelites to overcome the Canaanites. Their former condition is described as death, whereas the later development is seen as their restoration to life.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :265 یہاں سے ایک دوسرا سلسلہ تقریر شروع ہوتا ہے ، جس میں مسلمانوں کو راہ خدا میں جہاد اور مالی قربانیاں کرنے پر ابھارا گیا ہے اور انہیں ان کمزوریوں سے بچنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے ، جن کی وجہ سے آخر کار بنی اسرائیل زوال و انحطاط سے دوچار ہوئے ۔ اس مقام کو سمجھنے کے لیے یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ مسلمان اس وقت مکے سے نکالے جا چکے تھے ، سال ڈیڑھ سال سے مدینے میں پناہ گزیں تھے ، اور کفار کے مظالم سے تنگ آکر خود بار بار مطالبہ کر چکے تھے کہ ہمیں لڑنے کی اجازت دی جائے ۔ مگر جب انہیں لڑائی کا حکم دے دیا گیا ، تو اب ان میں بعض لوگ کسمسا رہے تھے ، جیسا کہ چھبیسویں رکوع کے آخر میں ارشاد ہوا ہے ۔ اس لیے یہاں بنی اسرائیل کی تاریخ کے دو اہم واقعات سے انہیں عبرت دلائی گئی ہے ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :266 یہ اشارہ بنی اسرائیل کے واقعہ خروج کی طرف ہے ۔ سورہ مائدہ کے چوتھے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کی ہے ۔ یہ لوگ بہت بڑی تعداد میں مصر سے نکلے تھے ۔ دشت و بیاباں میں بے خانماں پھر رہے تھے ۔ خود ایک ٹھکانے کے لیے بے تاب تھے ۔ مگر جب اللہ کے ایما سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو حکم دیا کہ ظالم کنعانیوں کو ارض فلسطین سے نکال دو اور اس علاقے کو فتح کر لو ، تو انہوں نے بزدلی دکھائی اور آگے بڑھنے سے انکار کر دیا ۔ آخر کار اللہ نے انہیں چالیس سال تک زمین میں سرگرداں پھرنے کے لیے چھوڑ دیا یہاں تک کہ ان کی ایک نسل ختم ہو گئی اور دوسری نسل صحراؤں کی گود میں پل کر اٹھی ۔ تب اللہ تعالیٰ نے انہیں کنعانیوں پر غلبہ عطا کیا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسی معاملے کو موت اور دوبارہ زندگی کے الفاظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

163: یہاں سے آیت نمبر : ۰۶۲ تک دو مضمون ایک ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ بنیادی مقصد جہاد کی ترغیب دینا ہے، لیکن بعض منافقین اور کمزور طبیعت کے لوگ جہاد میں جانے سے اس لئے کتراتے تھے کہ انہیں موت کا خوف تھا۔ اس لئے دوسرا مضمون ساتھ ساتھ بیان ہوا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ موت اور زندگی اﷲ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، وہ چاہے توجنگ کے بغیر بھی موت دیدے، اور چاہے تو شدید جنگ کے درمیان بھی انسانوں کی حفاظت کرلے، بلکہ اس کی قدرت میں یہ بھی ہے کہ وہ مرنے کے بعد بھی انسانوں کو زندہ کردے۔ اس قدرت کا عمومی مظاہرہ تو آخرت میں ہوگا، لیکن اﷲ تعالیٰ نے اس دنیا میں بھی چند ایسے نمونے دنیا کو دکھادئیے ہیں جن میں بعض لوگوں کو مرنے کے بعد بھی زندہ کیا گیا ہے، اس کی ایک مثال اس آیت ۳۴۲ میں دی گئی ہے، ایک اشارہ آیت نمبر : ۳۵۲ میں حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف کیا گیا ہے جن کے ہاتھوں اﷲ تعالیٰ نے کئی مردوں کو زندہ کیا، تیسرا حوالہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کے مکالمے (آیت نمبر : ۸۵۲) میں اﷲ تعالیٰ کے موت اور زندگی دینے سے متعلق ہے، چوتھا واقعہ آیت نمبر : ۹۵۲ میں حضرت عزیر (علیہ السلام) کا بیان فرمایا گیا ہے۔ اور اس سے اگلی آیت (نمبر ۰۶۲) میں پانچواں واقعہ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہے جس میں انہوں نے اﷲ تعالیٰ سے عرض کیا تھا کہ اﷲ تعالیٰ مردوں کو کیسے زندہ کرتے ہیں۔ زیر نظر آیت (243) میں جو واقعہ بیان ہوا ہے اس کی تفصیل قرآنِ کریم نے بیان نہیں فرمائی۔ صرف اتنا بتایا ہے کہ کسی زمانے میں کوئی قوم جو ہزاروں کی تعداد میں تھی، موت سے بچنے کے لئے اپنے گھروں سے نکل کھڑی ہوئی تھی، مگر اﷲ تعالیٰ نے انہیں موت دے دی، اور پھر زندہ کر کے یہ دکھا دیا کہ اگر موت سے بچنے کے لئے کوئی شخص اﷲ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی تدبیر اختیار کرے تو ضروری نہیں کہ موت سے بچ ہی جائے، اﷲ تعالیٰ اسے پھر بھی موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے۔ یہ لوگ کون تھے؟ کس زمانے میں تھے؟ وہ موت کا خوف کیا تھا جس کی بنا پر یہ بھاگ کھڑے ہوئے تھے؟ یہ تفصیل قرآنِ کریم نے بیان نہیں فرمائی، کیونکہ قرآنِ کریم کوئی تاریخ کی کتاب نہیں ہے، اس میں جو واقعات بیان ہوتے ہیں، وہ کوئی سبق دینے کے لئے ہوتے ہیں، لہٰذا اکثر ان کا صرف اتنا حصہ بیان کیا جاتا ہے جس سے وہ سبق مل جائے۔ اور اس واقعے سے مذکورہ بالا سبق لینے کے لئے اتنی بات کافی ہے جو یہاں بیان ہوئی ہے۔ البتہ جس انداز سے قرآنِ کریم نے اس واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ قصہ اس وقت لوگوں میں مشہور ومعروف تھا۔ آیت کے شروع میں یہ الفاظ کہ : کیا تمہیں ان لوگوں کا حال معلوم نہیں ہوا؟ اس قصے کی شہرت پر دلالت کر رہے ہیں۔ چنانچہ حافظ ابن جریر طبری رحمۃ اﷲ علیہ نے یہاں حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور بعض تابعین سے کئی روایتیں نقل کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ بنو اسرائیل کے لوگوں کا ہے جو ہزاروں کی تعداد میں ہونے کے باوجود یا تو کسی دُشمن کے مقابلے سے کترا کر اپنا گھر بار چھوڑ گئے تھے یا طاعون کی وبا سے گھبرا کر نکل کھڑے ہوئے تھے۔ جب یہ اس جگہ پہنچے جسے وہ پناہ گاہ سمجھتے تھے تو اللہ کے حکم سے موت نے وہیں ان کو آلیا۔ بعد میں جب وہ بوسیدہ ہڈیوں میں تبدیل ہوگئے تو حضرت حزقیل علیہ السلام کا وہاں سے گذر ہوا، اور اﷲ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ان ہڈیوں سے خطاب کریں، اور ان کے خطاب کے بعد وہ ہڈیاں پھر سے انسانی شکل میں زندہ ہو کر کھڑی ہوگئیں۔ حضرت حزقیل علیہ السلام کا یہ قصہ موجودہ بائبل میں بھی مذکور ہے (دیکھئے : حزقی ایل 1:37 تا 15) اس لئے کچھ بعید نہیں ہے کہ یہ واقعہ مدینہ منورہ کے یہودیوں کے ذریعے مشہور ہوگیا ہو۔ واقعے کی یہ تفصیلات مستند ہوں یا نہ ہوں، لیکن اتنی بات قرآنِ کریم کے صاف اور صریح الفاظ سے واضح ہے کہ ان لوگوں کو حقیقی طور پر موت کے بعد زندہ کیا گیا تھا۔ ہمارے زمانے کے بعض مصنفین نے مردوں کے زندہ ہونے کو بعید از قیاس سمجھتے ہوئے اس آیت میں یہ تأویل کی ہے کہ یہاں موت سے مراد سیاسی اور اخلاقی موت ہے، اور دوبارہ زندہ ہونے سے مراد سیاسی غلبہ ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تاویل قرآنِ کریم کے صریح الفاظ سے میل نہیں کھاتی۔ اور عربیت اور قرآنِ کریم کے اسلوب سے بھی بہت بعید ہے۔ سیدھی سی بات یہ ہے کہ اگر اﷲ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان ہے تو اس قسم کے واقعات میں تعجب کی کیا بات ہے، جس کی بنا پر یہ دور از کار تاویلیں کی جائیں؟ بالخصوص یہاں سے آیت 260 تک جو سلسلۂ کلام چل رہا ہے، اور جس کی تفصیل اوپر بیان ہوئی ہے، اس کی روشنی میں یہاں موت اور زندگی سے حقیقی معنیٰ مراد ہونا ہی قرین قیاس ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(243 ۔ 244) ۔ جہاد کے حکم کے نازل ہونے کے بعد جان کے خوف سے کچھ لوگ جہاد میں جانے سے پہلوتہی کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر جہاد کی تاکید فرمائی اور اس تاکید سے پہلے ایک قصہ فرمایا جس کا حاصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں کے ایک بستی کے آٹھ ہزار کے قریب آدمی وبا سے ڈر کر اپنی بستی چھوڑ بھاگے اور بستی کو چھوڑ کر جہاں گئے تھے وہاں اللہ کے حکم سے ایک دم میں سب مرگئے اور پھر ایک نبی کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پھر زندہ کیا ١۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ موت جب آنے والی ہوتی ہے تو وہ ہر حال میں آتی ہے موت سے ڈر کر بستی کا چھوڑنا جس طرح اس قصہ کے لوگوں کے کچھ کام نہیں آیا۔ اسی طرح موت کا وقت جب آجائے گا۔ تو جہاد کی پہلوتہی اس کو روک نہیں سکتی اس لئے اس وقت موت سے ڈرنا اور جہاد سے پہلو ہی کرنا بےفائدہ ہے۔ ٢٤٥۔ معتبر سند سے صحیح ابن حبان اور تفسیر ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جب سورة بقر کی وہ آیت اتری جس میں اللہ تعالیٰ نے خیرات کے ایک دانہ کی سات بالیں اور ہر بال میں سو دانہ کی پیدائش کی مثال فرمائی ہے تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ سے دعا مانگی کہ یا اللہ میری امت کے اجر اور ثواب کی تعداد میں کچھ اور زیادتی فرما ٢۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جہاد میں صرف کرنے کے لئے جو کوئی اللہ کو قرض دے گا اللہ تعالیٰ اس کے اجر میں بیشمار افزائش کرے گا پھر فرمایا کہ ہر طرح کے اجر کی کمی بیشی اللہ کے اختیار میں ہے اور ایک دن اس اجر کا ظہور ہوگا کیونکہ تم سب کو ایک اللہ کے سامنے جانا ہے مفسرین نے کہا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ ہم ایک ایک کے بہت بہت سے دوگنے کر دیویں گے تو ظاہر ہے کہ جس چیز کو اللہ بہت فرما دے اس کے لئے لاکھوں کی گنتی بھی تھوڑی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:243) الم تر۔ ہمزہ استفہامیہ ہے لم تر۔ مضارع مجزوم نفی جحد بلم۔ واحد مذکر حاضر۔ کیا تو نے نہیں دیکھا۔ صاحب تفسیر مظہری اس کی تشریح کرتے ہوئے رقمطراز ہیں : یہ لفظ ما بعد کا حال سنانے کے لئے شوق اور تعجب دلاتا ہے۔ پس الم تر کہنا تعجب دلانے میں ایک مثل ہوگیا۔ اور اسے سے ایک ایسے شخص کو مخاطب کیا جاتا ہے کہ جس نے اس سے پہلے یہ واقعہ نہ سنا ہو اور نہ دیکھا ہو یا یہ تقریر اور تاکید ہے ایسے شخص کے لئے جس نے ان کا قصہ اہل کتاب اور اہل تاریخ سے سن لیا ہو۔ یا اس کے معنی یہ ہیں کہ (اے مخاطب) کیا تم میرے بتانے سے بھی نہیں سمجھتا اور اس میں ایک قسم کا تعجب دلانا ہے۔ اور قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی الم تر کا لفظ آیا ہے اور اس کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں دیکھا۔ وہاں سب جگہ اسی قسم کے معنی مراد ہیں۔ الوف۔ الف کی جمع ہزاروں۔ وھم الوف۔ ضمیر خرجوا سے حال ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے اور وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے۔ حذر الموت۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول لہ خرجوا سے۔ مولوا۔ امر کا صیغہ۔ جمع مذکر حاضر موت (باب نصر) مصدر۔ تم مرجاؤ۔ ثم احیاہم۔ ثم حرف عطف ہے۔ اس جملہ کا عطف جملہ مقدرہ پر ہے ای فقال لہم اللہ موتوا فماتوا ثم احیاھم۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا مرجاؤ پس وہ مرگئے۔ پھر اس نے ان کو زندہ کیا۔ فائدہ : یہ کون لوگ تھے جن کو مرنے کا حکم دیا گیا اور پھر مرنے کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کیا گیا۔ کس زمانے کے تھے کہاں بستے تھے۔ کہاں سے نکلے کدھر کو گئے۔ کیوں گئے۔ ان سب میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ لیکن یہ امر واضح نظر آتا ہے کہ یہ قصہ اس آیت کے نزول کے وقت لوگوں کے علم میں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کسی نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بابت دریافت نہ کیا۔ ویسے بھی یہاں آیت کا مقصد کسی تاریخی واقعہ کا بیان کرنا نہیں بلکہ یہ امر ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ موت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے انسان اس سے بھاگ کر اپنی کوششوں سے بچ نہیں سکتا اس لئے اس قصہ کے تاریخی پس منظر کو کریدنے کی ضرورت نہیں۔ لذوفضل۔ لام تحقیق و تاکید کے لئے ہیں ذوفضل۔ مضاف مضاف الیہ۔ فضل کرنے والا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

۔5 یہ لوگ کون تھے اور کہاں سے نکلے تھے اس بارے میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی حدیث ثابت نہیں ہے البتہ حضرت ابن عباس (رض) اور بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ اسرائلی تھے۔ جہاد میں قتل کے خوف یا طاعون سے بچنے کے لیے اپنے شہر سے بھاگے جن ایک مقام پر پہنچے تو اللہ کے حکم سے سب مرگئے، اتفاق سے اللہ تعالیٰ کے ایک نبی وہاں سے گزر ہوا اس نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندہ کیا۔ (قرطبی۔ رازی) یو آیت کے شرو میں لفظ الم تر سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا قصہ نزول آیت کے وقت عام طور پر مشہور و معروف تھا۔ (فتح القدیر) یہ قصہ قیامت یے روز معاد جسمانی کی قطعی دلیل ہے اور جہاں ذکر کرنے سے مقصد جہاد کی ترغیب ہے۔ صحیحین میں حضرت عبدالر رحمن بن عوف سے روایت ہے کہ جس مقا پر وبا پھوٹ پڑے وہاں سے فراف کرنے سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ہے اور اس مقام پر جانے سے بھی منع فرمایا ہے۔ (ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 243 248 اسرارو معارف الم ترالی الذین………………ان کنتم مومنین۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ احکام الٰہی کی اطاعت کرنے سے زندگی مشکل ہوجائے گی یا زندہ رہنا محال ہوجائے گا۔ تو یہ اس کی بھول ہے کہ زندگی کے مصائب خود اس آدمی کے پیدا کردہ ہیں۔ اگر وہ اللہ کی نافرمانی چھوڑ دے تو اللہ قادر ہے کہ اس کے لئے ہر طرح راحت پیدا فرمائے۔ اس بات کو واضح کرنے کے لئے بطور مثال ارشاد ہوتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں کو دیکھیں جو ہزاروں کی تعداد میں تھے اور موت کے خوف سے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے۔ یہ واقعہ بنی اسرائیل کا ہے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ارشاد ہے کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں دیکھا ؟ تو مراد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وہ قطعی اور یقینی علم ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روایت اور دیکھنے کے مصداق ہے جس میں شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ واقعات گزشتہ کشفاً دیکھے جاسکتے ہیں : حدیث معراج میں ملتا ہے کہ جب کفار نے بیت المقدس کی عمارت کے بارے میں سوال کئے تو اللہ نے عمارت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کردی۔ جسے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیکھتے جاتے تھے اور جواب ارشاد فرماتے جاتے تھے۔ یہاں بھی اگر دل کی رویت مراد ہو تو درست ہے جیسے صاحب فتح القدیر نے لکھا ہے حی رویۃ القلب لارویۃ البصر……، تو یا ثابت ہوتا ہے کہ اللہ چاہے تو گزشتہ واقعات کو بھی دل کی آنکھ سے اسی طرح دیکھا جاسکتا ہے جیسے وہ آنکھوں کے سامنے ہو رہے ہوں۔ یہ لوگ وباء کے خوف سے آبادی چھوڑ کر باہر میدان میں نکل گئے الوف جمع کثرت ہے جو کم از کم دس ہزار کی تعدا کے لئے ہے ممکن ہے اس سے بھی زیادہ ہوں کہ روایات مختلف ہیں تو ظاہر ہے کہ باہمت لوگ ہی نکلے ہوں گے بیمار ، کمزور ، بوڑھے اور غرباء تو اکثر رہ گئے ہوں گے۔ تو اللہ کو ان کی یہ بات پسند نہ آئی۔ سو ارشاد ہوا کہ مرجائو اور وہ مرگئے اپنی طرف سے تو جان بچانے کو نکلے تھے مگر تدبیر انسانی کی قوت دیکھ لو ، کچھ نہ کر پائی اور الٹا تباہی کا سبب بن گئی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ اگر وباء پھیل جائے تو وہاں سے مت بھاگو اور اگر تم وہاں سے باہر ہو تو پھر وہاں مت جائو۔ اس مفہوم کی متعدد احادیث موجود ہیں۔ اس کی اصل بھی یہی ہے کہ زندگی اور موت کے اختیار میں ہے ، وہ قادر ہے ، بیماری سے بچا سکتا ہے۔ بغیر کسی مرض کے بھی موت دے سکتا ہے بستی والوں کے لئے مناسب نہیں کہ بھاگ کھڑے ہوں اور اگر کوئی باہر ہو یا محفوظ مقام پر ہو تو خواہ مخواہ وہاں جانے کی کوشش نہ کرے۔ روایات میں ملتا ہے کہ اللہ نے اس وادی پر فرشتہ مقرر فرمایا جس نے انہیں اللہ کا حکم پہنچا دیا کہ مرجائو ، اور دفعتاً سب کے سب مرگئے بلکہ تمام جانور اور مویشی جو ساتھ تھے وہ بھی مرگئے۔ جب ارد گرد کے لوگوں نے سنا تو جمع ہوئے مگر اس قدر افراد کا کفن دفن آسان نہ تھا۔ انہوں نے ان کے گرد دیوار بنادی ، جس میں پڑے گلے سڑتے رہے۔ بعد مدت بنی اسرائیل کے نبی حضرت حز قیل (علیہ السلام) کا گزر ہوا۔ انسانی ہڈیوں کے انبار دیکھ کر دعا کہ کہ اے اللہ ! انہیں معاف فرما دے اور انہیں زندگی عطا کر ، حکم ہوا کہ انہیں فرمائیے کہ بحکم الٰہی زندہ ہوجائو۔ انہوں نے کہا تو سب بیک وقت زندہ ہوگئے۔ اللہ کی ثناء بیان کرتے تھے اور کہتے تھے سبحنک لا الہ الا انت۔ اور پھر اپنی طبعی زندگی پوری کرکے فوت ہوئے کہ ان کی یہ موت غیر طبعی تھی اس لئے وہ نہ دنیا میں رہے نہ آخرت ، ان پر منکشف ہوئی۔ کہ آخرت کے منکشف ہونے کے بعد دنیا میں زندگی نہیں ہے اور نہ ایمان معتبر نہ عبادت۔ نیز اگر عمر طبعی پوری کرکے مرتے تو بطور اعجاز زندہ تو ہوجاتے مگر دنیا میں رہنے بسنے کی مہلت نہ دیئے جاتے۔ لیکن اللہ نے ان کو اپنی قدرت کاملہ پر بطور دلیل پیش فرمانا تھا کہ لوگوں کو عبرت ہو اور آخرت کو جی اٹھنے پر یقین کریں۔ برزخ کا عذاب وثواب : نیز یہ سوال بھی رفع ہوجائے کہ پس مرگ تو اجزاء پریشان ہوجائیں گے وہ کیسے دوبارہ اکٹھے ہوسکتے ہیں یا جیسے آج کل ایک نیا طبقہ یہ اعتراض کرتا ہے کہ مرنے والے کے اجزاء پریشان ہوگئے کوئی جل گیا کسی کو جانوروں نے کھالیا اور کوئی خاک پریشان ہو کر زمین پر منتشر ہوگیا۔ اب جب تک قیامت قائم ہو کر دوبارہ زندہ نہ ہوں۔ انہیں عذاب یا ثواب کیسے ہوسکتا ہے ؟ افسوس ! لوگوں نے قدرت باری کو اپنے اوپر قیاس کررکھا ہے ورنہ تو قبل پیدائش کیا یہ کم منتشر تھے۔ تمام اغذیہ وادویہ جو انسان کھاتا پیتا ہے کیا یہ سب اجزائے خاکی نہیں ہیں۔ دودھ ہو یا مکھن ، غلہ ہو یا سبزیاں سب مٹی کے مختلف روپ ہیں۔ جو دنیا کے مختلف کونوں سے کھنچے چلے آتے ہیں اور ہر ذرہ اسی وجود تک پہنچتا ہے جس کے لئے اللہ نے اسے مقرر کررکھا ہے۔ باپ کے پیٹ میں پہنچ کر صلب میں محفوظ رہتا ہے اور ماں کے شکم میں جاکر علیحدہ وجود بننا شروع ہوتا ہے۔ غذاء ماں کھاتی ہے مگر بچے کے اجزاء الگ ہو کر اسی کا جزو بدن بنتے ہیں۔ اسی طرح پس مرگ اگر پریشان بھی ہوجائیں تو ان کا ربط روح کے ساتھ رہتا ہے اور روح کی لذت یا الم سے متاثر ہوتے اور حصہ پاتے ہیں۔ اللہ قادر ہے کہ وہ ذرات کسی جانور کے پیٹ میں پہنچ جائیں تو بھی انہیں عذاب کرے یا راحت دے اور جانور کو اس کا علم تک نہ ہو۔ نیز اللہ کے سامنے ساری مخلوق کی گردن خم ہے۔ یہاں بوسیدہ ہڈیوں اور منتشر اجزاء نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی اللہ کا حکم سنا تو سب جمع ہوگئے۔ اللہ تو لوگوں پر بہت فضل کرنے والا ہے کہ ان کو عذاب کی گرفت سے نجات دی اور دوسروں کے لئے کتنی بڑی دلیل قیام قیامت پر قائم فرمادی۔ اس کے باوجود اکثر ایسے ہیں جو ناشکری کرتے ہیں اور اطاعت الٰہی میں کوتاہی کرتے ہیں۔ محض طرز حیات کو اسلامی بنانے پہ یہ عذر نہ رکھو۔ بلکہ اللہ کی راہ میں لڑو بغیر کسی ہچکچاہٹ اور جھجک کے کہ زندگی اور موت اسی کے دست قدرت میں ہے اور ہر بات کو سننے والا اور ہر شے کو جاننے والا ہے ۔ اللہ ضرورت سے پاک ہے اور احتیاج سے منزہ ہے اس کے باوجود تمہاری اطاعت ایک بہترین قرض ہے جو اللہ نے اپنے ذمہ کرلیا ہے چونکہ قرض کی واپسی ضروری ہوتی ہے۔ تمہاری عبادت کا اجر اور اطاعت کا ثواب بھی تمہیں ضرور لوٹایا جائے گا اور اللہ اپنی شان کے مطابق لوٹائے گا کہ اللہ سینکڑوں اور لاکھوں گنا بڑھا کر واپس کرے اور جس قدر خلوص کسی اطاعت میں ہوگا اسی قدر وہ اپنے اجر میں بڑھ جائے گی کہ نعمتوں کو بڑھانا یا کم کرنا اسی کے دست قدرت میں ہے اور تم سب کو لوٹ کر اسی کی بارگاہ میں جانا بھی ہے۔ یعنی اپنی رسومات اللہ کے قانون پر قربان کردو۔ اللہ کی راہ میں اپنا مال اور جان تک پیش کرو کہ اسی میں تمہاری بہتری ہے۔ ایک انصاری صحابی (رض) نے یہ آیہ کریمہ سنی تو حاضر خدمت ہو کر عرض کی ، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے اپنا ایک باغ جس میں کھجوروں کے چھ سو درخت ہیں اللہ کے راستے میں خرچ کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ، اللہ تمہیں اس کے بدلے میں جنت عطا فرمائیں گے۔ واپس آئے تو بیوی کو آواز دی کہ بچوں کو لے کر باہر آئو۔ میں نے اللہ کو قرض حسنہ دے دیا تو وہ بھی سن کر باغ باغ ہوگئیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ، کم من خذق رواح ودارفیھاح لا بی الدحاح۔ کہ کس قدر کھجوروں سے پر باغ اور کشادہ محلات ابی الدحاح (رض) کے لئے ہیں۔ اسی طرح کا دوسراواقعہ ارشاد ہوتا ہے جس سے مراد ہے کہ زندگی کو اللہ کے احکام کے مطابق ہی بسر کرنا عزت کا باعث بھی ہے اور سکون کا بھی۔ تبرکات : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنی اسرائیل کو نہیں دیکھا جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد چندے اطاعت کی اور پھر رفتہ رفتہ احکام الٰہی کو چھوڑ دیا۔ جدید تہذیب بنالی اور قدامت سے جان چھڑالی ، جیسے آج کل کا رواج ہوتا جارہا ہے اللہ نے ان پر کفار کو مسلط کردیا۔ یہ عمالقہ تھے جنہوں نے ان کے شہر چھین لئے ، بیشمار افراد کو قیدی بنالیا اور تابوت سکینہ ایک صندوق جس میں موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے تبرکات اور تورات کی ٹوٹی ہوئی تختیاں وغیرہ تھیں جو ان کے لئے باعث تسکین اور باعث نزول رحمت ہوا کرتا تھا ، چھین کرلے گئے۔ انبیائ (علیہ السلام) اور بزرگوں کے تبرکات اہل ایمان کے لئے باعث نزول برکت ہوتے ہیں اور نااہلوں کو ان سے محروم کردیا جاتا ہے جیسے آج کل کے جدید تہذیب کے دلدادہ مسلمان سے قبلہ اول چھن گیا ہے۔ اللہ ہمیں کعبۃ اللہ سے محروم نہ فرمائیں اور توبہ کی توفیق دیں اور ہمارے گناہ معاف فرما کر قبلہ اول کو واپس حاصل کرنے کی ہمت دیں ، آمین۔ علامہ ابن کثیر (رح) نے یہاں ایک حدیث نقل کی ہے۔ کہ اللہ ایک سچے مسلمان کی صلاحیت کی وجہ سے اس کی اولاد کی اولاد کو ، اس کے گھر والوں کو اور آس پاس کے گھر والوں کو سنوار دیتا ہے۔ نیز ایک اور حدیث نقل کی ہے کہ قیامت تک ہر زمانہ میں سات شخص تم میں ضرور ایسے رہیں گے جن کی وجہ سے تمہاری مدد کی جائے گی اور تمہیں روزی دی جائے گی اور تم پر بارش برسائی جائے گی۔ اسی طرح ایک اور روایت میں تیس ابدالوں کا ذکر ہے۔ غرض اہل اللہ کا نہ صرف وجود باعث برکت ہوتا ہے بلکہ ان کا لباس اور ان کے جوتے تک باعث برکت ہوتے ہیں ، لیکن صرف ان کے لئے جن کا ایمان اور عمل درست ہو اور اللہ کے بندوں سے اللہ کی معرفت کے طالب ہوں۔ نہ ان کے لئے جو انہیں اللہ کے اوصاف میں شریک مان لے ، ایسوں کے دونوں جہاں برباد ہوئے۔ عرصہ بعد ان میں ایک بچہ پیدا ہوا جو خاندان نبوت سے تھا اور لڑائی کے بعد خاندان نبوت کی ایک بی بی حاملہ بچ گئی تھی انہوں نے اللہ سے دعائیں کیں کہ اللہ ! مجھے لڑکا دے اور اسے نبی بنا ، جب لڑکا پیدا ہوا تو اس کا نام شموئیل رکھا جس کا معنی ہے میری دعا قبول ہوئی (مظہری) جب وہ بڑا ہو کر نبی مبعوث ہوا تو قوم سے فرمایا ، ” اللہ کی اطاعت کرو ، اور کفار سے مقابلہ کرو ! “ تو کہنے لگے ، ہم پر کسی کو بادشاہ مقرر فرمادیجئے ، جس کی قیادت میں ہم لڑسکیں اور کفار سے جہاد کریں۔ انہوں نے فرمایا ، تم سے کچھ امید نظر نہیں آتی ، ممکن ہے جہاد کے حکم پر عمل نہ کرسکو۔ تو کہنے لگے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہمارے شہر چھن گئے ، ہمارے لڑکے قید ہوگئے ، گھر برباد ہوئے اور ذلت الگ نصیب ہوئی۔ اس کے بعد اگر اللہ ہمیں ایک مضبوط حکومت دے تو ہم ایسے کافروں سے کیوں نہ لڑیں گے۔ لیکن ہوا وہی ، جس کا ڈر تھا کہ جب جہاد کا حکم ہوا تو اکثر بھاگ گئے اور حیلوں حوالوں سے جان چھڑانے لگے اس وقت قاعدہ یہ تھا کہ نبی الگ ہوتے تھے اور بادشاہ نبی کی اطاعت میں حکومت کا کام چلاتے تھے۔ سو اللہ کے حکم سے انہوں نے طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا۔ یہ بن یامین کی اولاد میں سے تھے اور پہلے حکومت یہودا کے خاندان میں آرہی تھی جو امیر بھی تھے تو کہنے لگے ” یہ کیسے بادشاہ ہوسکتا ہے حکومت تو ہمارا حق ہے اور پھر اس کی تو مالی حیثیت بھی نہیں ! “ اللہ کے نبی نے فرمایا کہ اسے اللہ نے چن لیا ہے ، اللہ کی مرضی جسے چاہے حکومت دے اور پھر یہ شخص علم میں اور وجاہت ذاتی میں تم سے بہت بڑھا ہوا ہے اللہ نے اسے علم سے نوازا ہے یہ سیاست وحکمرانی اللہ کے قانون کے مطابق کرسکتا ہے اور پھر وجیہہ وخوبصورت جوان ہے۔ پتہ چلتا ہے کہ حکمران کو دین کا علم ہونا چاہیے یا ایسے صاحب علم لوگوں کا ساتھ جو ہر مرحلہ پر رہنمائی کرسکیں اور سیاست وحکمرانی اللہ کے حکم کے مطابق ہو نیز صحت مند جسم ہی صحت مند ذہن بھی رکھتے ہیں کہ حکمران بعض بیماریوں اور ذہنی پریشانیوں کی وجہ سے بھی کاروبار سلطنت خراب کربیٹھتے ہیں اور پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ملک اللہ کا ہے جسے چاہے بخش دے اور تمہارا اعتراض بےجا ہے کہ وہ حکومت کی استعداد نہیں رکھتا۔ اللہ جب ذمہ داری دیتا ہے تو استعداد بھی عطا فرمادیتا ہے۔ منصب کی اہلیت : اہل اللہ میں تو ہم دیکھتے ہیں کہ مناصب یا تو ان صاحب حال لوگوں کو نصیب ہوتے ہیں جو عالم ہوں اور اگر علم ظاہر نہ رکھتے ہوں اور منصب نصیب ہوجائے تو پھر علم لدنی عطا کردیا جاتا ہے اور بڑے بڑے فضلا پھر ان سے علمی استفادہ بھی کرتے ہیں۔ صوفیاء میں ہمیں بہت سے اسمائے گرامی نظر آتے ہیں ، ان سب پر اللہ کی رحمت ہو۔ کہنے لگے ” آپ کا ارشاد بجا ! لیکن اگر کوئی ظاہری نشان بھی نصیب ہو تو تسلی ہوجائے “۔ فرمایا اس کے بادشاہ ہونے کی دلیل کے طور پر تمہیں وہ تابوت سکینہ ، جس میں حضرت موسیٰ وہارون (علیہم السلام) کی بچی ہوئی چیزیں لباس اور جوتے وغیرہ ، نیز عصائے موسوی ، تورات کی تختیوں کے ٹکڑے ، غالباً یہ وہ تختیاں ہوں گی جو طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تھیں ، موجود ہیں بغیر کسی محنت کے مل جائے گا اور اسے فرشتے اٹھا کرلے آئیں گے۔ چنانچہ اللہ نے عمالقہ پر مصیبت بھیج دی کہ جس بت خانے میں صندوق رکھتے ، بت تباہ ہوجاتے۔ اور جس شہر یا گھر میں رکھتے وہ برباد ہوجاتا۔ انہوں نے کسی جانور پر لاد کر جنگل کو بھگا دیا۔ جسے فرشتے ہنکاکر بنی اسرائیل کے پاس لے آئے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 243 تا 245 الوف (ہزاروں، (الف، ہزار) ۔ حذر الموت (موت کا خوف) ۔ موتوا (مرجاؤ) ۔ احیا (اس نے زندہ کیا) ۔ ذو فضل (فضل و کرم والا) ۔ یقرض (قرض دیتا ہے) ۔ قرضا حسنا (قرض حسن، بہترین قرض ) ۔ یضعفہ (وہ اس کو دوگنا کردیتا ہے ) ۔ اضعاف کثیر (دوگنے سے بھی زیادہ) ۔ یقبض (روکتا ہے ) ۔ یبسط (کھولتا ہے ) ۔ تشریح : آیت نمبر 243 تا 245 اب ان آیات سے جہاد پر آمادہ کرنے کے لئے احکام بیان کئے جا رہے ہیں جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ انسان لاکھ موت سے ڈر کر کہیں بھی چلا جائے۔ جہاں بھی وہ جائے گا اور اس کی موت کا وقت آجائے گا تو مضبوط قلعوں میں بھی موت پہنچ جائے گی۔ اس مضمون کی ابتداء بنی اسرائیل کے ایک واقعہ سے کی ہے۔ یہ کوئی ایک جماعت تھی جو کسی شہر میں رہا کرتی تھی وہاں طاعون کی بیماری پھوٹ پڑی اس بستی والے اپنے سامنے اپنے عزیزوں کو تڑپتا دیکھ کر ایک وسیع میدان کی طرف بھاگ نکلے تا کہ موت سے بچ سکیں۔ یہ لوگ جن کی تعداد دس ہزار کے قریب تھی دو پہاڑوں کے درمیان وسیع میدان میں جا کر ٹھہر گئے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو دکھلانے کے لئے عبرت کا یہ سامان کیا کہ ان دس ہزار بنی اسرائیلیوں پر موت طاری کردی۔ جب آس پاس کے لوگوں کو اطلاع ملی کہ دس ہزار کے قریب انسان بےگو روکفن پڑے ہیں اور ان کی لاشیں سڑ رہی ہیں۔ انہوں نے سوچا اور یہ طے کیا کہ ان کا کفن دفن تو مشکل ہے ان کے چاروں طرف ایک دیوار کھینچ دی جائے تا کہ ان کی لاشوں کی بےحرمتی نہ ہو چناچہ ان کے چاروں طرف دیواریں کھینچ دی گئیں۔ کچھ دن کے بعد ہی ان کی لاشیں گل سڑ گئیں اور لاشوں کے ڈھانچے رہ گئے ۔ بہت عرصہ کے بعد بنی اسرائیل کے ایک پیغمبر حضرت حزقیل (علیہ السلام) کا اس مقام سے گزر ہوا۔ وہاں اتنی بڑی تعداد میں انسانی ڈھانچے دیکھ کر وہ حیران رہ گئے ۔ وحی کے ذریعہ ان کو بتایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو موت کے خود سے بھاگ کر اس میدان میں پہنچ گئے تھے۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ حضرت حز قیل (علیہ السلام) نے دعا کہ اے اللہ ان کو دوبارہ زندہ کر دیجئے ! اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو دوبارہ زندگی عطا کردی اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے دلیل کے طور پر پیش کیا ہے جو جہاد سے بھاگتے اور موت کا خوف اپنے اوپر طاری رکھتے ہیں۔ ان آیتوں میں چونکہ مسلمانوں کو جہاد کی تعلیم و تربیت دی جا رہی ہے تو یہ بھی فرما دیا کہ جہاد کے لئے اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ جہاں اپنی جانیں لڑائی جائیں وہیں مال کا بھی ایثار کیا جائے اس کو اللہ تعالیٰ نے قرض حسنہ کا نام دیا یعنی جو کچھ تم خرچ کرو گے یقیناً اس کی ادائیگی اللہ کے ذمے ہے فرمایا جو اس دنیا میں ایک خرچ کرے گا اس کو ستر سے سات سو گنا تک بڑھ کر ملے گا۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک جانثار صحابی حضرت ابو الدحداح (رض) خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے ماں باپ آپ پر قربان کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض مانگتے ہیں حالانکہ وہ قرض سے بےنیاز ہیں۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ اس کے ذریعے تمہیں جنت میں داخل فرمائیں۔ ابو الدحداح (رض) نے یہ سن کر عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے کھجوروں کے دو باغ ہیں میں دونوں کو اللہ کی راہ میں بطور قرض حسنہ دیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا ایک کو وقف کر دو اور دوسرے باغ کو اپنے بال بچوں کے لئے رکھ لو۔ ابو الدحداح نے عر ض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ گواہ رہیے میں نے ان دونوں باغوں میں سے بہترین باغ جس میں کھجور کے چھ سو درخت ہیں اللہ کی راہ میں دے دیا۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی برکت سے جنت عطا فرمائیں گے آپ نے فرمایا جنت میں ابو الداحداح کے لئے کھجوروں کے سرسبز و شاداب درخت اور کشادہ محلات تیار ہیں جو ان کو ملیں گے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نیاخطاب بدر، احد سے پہلے مسلمانوں کو جہاد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے سورة البقرۃ آیت : ١٩١ تا ١٩٣ میں دفاعی جنگ کا حکم دیا گیا تھا اور یہاں بھی ایسے تناظر میں جہاد کا ذکر ہورہا ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں پر جنگ مسلط کردی جائے تو انہیں موت کی پروا کیے بغیردشمن کے مقابلے میں ڈٹ جانا چاہیے۔ کیونکہ بات کا آغاز ہی بنی اسرائیل کے اس واقعے سے کیا جارہا ہے جو ہزاروں کی تعداد میں اپنے گھروں سے صرف اس لیے نکلے تھے کہ کہیں یہاں رہتے ہوئے انہیں موت نہ دبوچ لے۔ چند اہل علم کو چھوڑ کر باقی سب نے ایک خاص واقعے اور علاقے کا ذکر کیا ہے کہ وہاں بنی اسرائیل پر طاعون کی وبا پھیلی اور وہ موت کے خوف سے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس حرکت کو ناپسند کرتے ہوئے ان پر موت وارد کی اور وہ سب کے سب موت کی آغوش میں چلے گئے۔ ایک مدت گزرنے کے بعد حضرت سموئیل (علیہ السلام) کی دعا کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندگی عطا کی۔ اس واقعہ سے بیک وقت دو نتائج لوگوں کے سامنے رکھے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ اسی طرح مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے۔ اور دوسری یہ بات بتلائی کہ جو لوگ موت سے ڈر کر اپنے گھروں سے نکلے تھے موت نے انہیں آلیا۔ یاد رکھو ہر کسی کی موت کا وقت اور مقام مقرر ہے وہ اس سے بھاگ نہیں سکتا بلکہ ان لوگوں کی طرح چل کر خود ہی موت کے مقام تک پہنچ جائے گا اس لیے بزدلوں کی طرح دشمن کے آگے بھاگنے اور بھیڑ بکریوں کی طرح اس کے ہاتھوں قتل ہونے کی بجائے دشمن کے سامنے ڈٹ جاؤ۔ موت تو اپنے وقت اور مقام پر ہی آئے گی۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اپنی قدرت کے معجزات اس لیے دکھاتا ہے تاکہ وہ ہدایت پاکر اس کا شکریہ ادا کریں لیکن اکثر لوگ شکر گزار نہیں ہوتے۔ مرنے کے بعد اٹھنا قرآن مجید کا بنیادی نظریہ ہے جس کے ثبوت میں یہ دوسراواقعہ بیان ہورہا ہے۔ اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شریعت محمدی کی طرح بنی اسرائیل کے لیے بھی یہی قانون تھا کہ اگر کسی علاقے میں طاعون یا کوئی وبا پھیل جائے تو اسے چھوڑنا نہیں چاہیے۔ حضرت اسامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اَلطَّاعُوْنُ رِجْسٌ أُرْسِلَ عَلٰی طَآءِفَۃٍ مِّنْ بَنِیْ إِسْرَآءِیْلَ أَوْ عَلٰی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِہٖ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوْا عَلَیْہِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِھَا فَلَا تَخْرُجُوْا فِرَارًا مِّنْہُ ) [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب حدیث الغار ] ” طاعون عذاب ہے جو بنی اسرائیل یا تم سے پہلے کسی قوم پر بھیجا گیا۔ جب تمہیں معلوم ہو کہ فلاں علاقے میں طاعون کی بیماری پھیل گئی ہے تو وہاں نہ جاؤ۔ اگر تمہارے علاقے میں طاعون کی وباپھوٹ پڑے تو وہاں سے فرار اختیار نہ کرو۔ “ طاعون کی بیماری کے وقت اپنا گھر بار چھوڑ کر نکلنے کا اس لیے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ موت کا وقت مقرر ہے جو کسی بنا پر بھی آگے پیچھے نہیں ہوسکتا قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے جرائم کی وجہ سے پکڑنا چاہے تو زمین میں ایک جاندار بھی باقی نہ رہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی موت تک مہلت دیتا ہے جب موت کا وقت آجاتا ہے تو لوگوں کی اجل ایک لمحہ بھی آگے پیچھے نہیں ہوا کرتی۔ سورة لقمان آیت ٣٤ میں فرمایا ” ہر کسی کی مرنے کی جگہ مقرر ہوچکی ہے کوئی شخص موت کے مقام سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتا۔ “ طاعون سے شاید اس لیے بھی فرار کی اجازت نہیں دی کہ اس طرح مخصوص علاقہ کے جراثیم دور تک پھیلنے کا خدشہ ہوسکتا ہے۔ مسائل ١۔ موت سے بھاگنے والا موت کی ہی طرف جاتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہی مارنے اور زندہ کرنے والا ہے۔ ٣۔ اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کے شکرگزار نہیں ہوتے۔ ٤۔ جہاد صرف اللہ کے لیے ہونا چاہیے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھنے والا اور ہر بات کو سننے والا ہے۔ دنیا میں مر کر دوبارہ زندہ ہونے والوں کے واقعات اور دلائل البقرہ آیت ٢٥٩ کے تحت دیکھیں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس ١٦ ایک نظر میں اس سبق کی اہمیت اور اس میں امم سابقہ کے جو واقعات بیان کئے گئے ہیں ان کی صحیح قدروقیمت تب ہی ذہن میں بیٹھ سکتی ہے ، جب ہم پہلے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ قرآن امت مسلمہ کی ایک زندہ کتاب ہے ، یہ کتاب اس کے لئے ایک رہنما ئے ناصح ہے ۔ یہ اس کی مرشد ہے ۔ یہ اس کا مدرسہ ہے جہاں وہ امن سے زندگی کا سبق حاصل کرتی ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے پہلی اسلامی جماعت کے لئے اس کتاب کو ضابطہ ترتیب قرار دیا ۔ جس نے اپنے وقت پر اس کتاب کی روشنی میں اسلامی نظام قائم کرکے دنیا کے سامنے پیش کیا اور یہ کہ پہلی اسلامی جماعت کو اس منصب پر اس وقت فائز کیا گیا ، جب اس کتاب کے مطابق اسے اچھی تیار کیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کے لئے یہ مقام متعین کیا ہے کہ وہ تحریک اسلامی کا ایک زندہ راہنما ہوگی اور یہ کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد اس تحریک کی آنے والی نسلوں کے لئے یہ کتاب زندہ قائد کا کام سرانجام دے گی ۔ ان آنے والی نسلوں کی تربیت کرے گی اور انہیں اس قائدانہ رول کے لئے تیار کرے گی ، جس کے لئے اس کتاب نے اس تحریک کی ہرنسل کے ساتھ پختہ وعدہ کررکھا ہے کہ جب بھی تحریک اسلامی اس کتاب کو اپنا ہادی اور راہنما تسلیم کرے گی ، جب بھی اس کی ہدایت کو اپنائے گی ، جب بھی تحریک اپنا یہ عہد پورا کرے گی کہ وہ مطیع فرمان ہے اور اپنا نظام زندگی اس کتاب سے اخذ کرے گی ، اس کتاب کو باعث عزت سمجھے گی ، اور تمام نظاموں پر اس کو غالب کرے گی تو تحریک اسلامی دنیا میں اعلیٰ مقام پائے گی ۔ سب سے برتر ہوگی اور یہ اللہ کا وعدہ ہے ، یہ اس کتاب کا وعدہ ہے ۔ یاد رکھو ! قرآن مجید محض ایک کتاب تلاوت ہی نہیں ہے یہ تو ایک مکمل دستور حیات ہے ۔ یہ تو دستور ترتیب ہے ۔ یہ تودستور عمل ہے اور پوری زندگی کے لئے راہ عمل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں امم سابقہ کے تجربے اور ان کے واقعات بھی بیان کئے گئے ہیں تاکہ ان سے جماعت مسلمہ عبرت حاصل کرے ، اس لئے یہ کتاب نازل ہی اس لئے ہوئی کہ اس سے اس جماعت کی ترتیب ہو ۔ اس کتاب میں آدم (علیہ السلام) سے لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور تک تمام کرہ ارض پر ان تمام ایمانی دعوتوں کے تجربات بیان کئے گئے ہیں ۔ یہ تمام دعوتی تجربات امت مسلمہ کے لئے تا قیامت زاد راہ ہیں ۔ نفس انسانی کے تجربات اور حیات انسانی کے مختلف واقعاتی تجربات اس کتاب میں ضبط ہیں تاکہ امت مسلمہ اپنی راہ ورسم سے باخبر ہوجائے ، اپنے لئے زاد راہ کا ساز و سامان تیار کرے اور اس راہ میں ان متنوع تجربات کا ذخیرہ اس کے لئے مشعل راہ ہو۔ یہی وہ مقاصد ہیں جن کی خاطر قرآن مجید میں بکثرت قصص بیان ہوئے ، یہ قصے مختلف نوعیت رکھتے ہیں اور ہر قصے میں امت کے لئے واضح اشارات پائے جاتے ہیں ۔ قرآن مجید نے اور اقوام کی نسبت ، بنی اسرائیل کے قصے زیادہ تعداد میں نقل کئے ہیں ، جس کی متعدد وجوہات ہیں ۔ ان میں سے کچھ وجوہات ہم نے فی ظلال القرآن پارہ اول کی تفسیر میں ، آغاز ذکر بنی اسرائیل کے موقع پر بیان کئے ہیں ۔ کچھ وجوہات اس بارے میں مختلف مقامات پر ہم نے بیان کی ہیں ۔ بعض وجوہات یہاں کی مناسبت سے پیش خدمت ہیں ۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کے علم میں تھی کہ امت مسلمہ کی بعض آنے والی نسلیں ان حالات سے گزریں گی ، جن سے بنی اسرائیل گزرے ۔ مسلمان اپنے دین اور اپنے نظریہ حیات کے معاملے میں وہی موقف اختیار کریں گے جو بنی اسرائیل نے اختیار کیا ۔ اس لئے قرآن مجید نے درحقیقت سرد لبراں ، قصص بنی اسرائیل کی صورت میں بیان کیا ہے تاکہ مسلمانوں کی آنے والی نسلیں ان سے نصیحت حاصل کریں اور عبرت پکڑیں ۔ گویا اللہ تعالیٰ نے آنے والی نسلوں کے ہاتھ میں ایک صاف آئینہ تھما دیا تاکہ وہ ہر وقت اس میں اپنی شکل دیکھ سکیں ، اور زندگی کی گزرگاہوں میں ، جو نشیب و فراز آتے رہتے ہیں ، ان کے بارے میں پیشگی ہدایات ان کے پاس ہوں۔ امت مسلمہ کی تمام نسلوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اس کتاب الٰہی کو خوب سمجھ بوجھ کر پڑھیں ۔ وہ اس کی ہدایات پر اس طرح غور کریں کہ گویا یہ ہدایات آج اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہورہی ہیں ، تاکہ آج کے مسائل کو ان کی روشنی میں حل کیا جائے اور انسانیت کے لئے آج کے سفر میں ، اس کے مستقبل کی تاریکیاں روشن کرے ۔ اس کتاب کو محض کلام جمیل سمجھ کر اور نہایت ہی حسن قرأت سے پڑھ کر ہی نہ بیٹھ جاؤیا اسے یہ سمجھ کر نہ پڑھو کہ یہ ایک رفتہ وگزشتہ حقیقت کی محض ایک روئیداد ہے ۔ اور اس حقیقت کو اس کرہ ارض پر اب دوبارہ نہیں دہرایا جاتا۔ ہم اس قرآن مجید سے اس وقت تک فائدہ نہیں اٹھاسکتے جب تک اس میں ہم روزمرہ کی واقعاتی زندگی کے حقائق کے بارے میں ہدایات تلاش نہ کریں ۔ آج کے مسائل کا حل اور کل کے مسائل کی منصوبہ بندی ، بعینہ اسی طرح جس طرح پہلی جماعت اسلامی اس کتاب کو اس طرح لیتی تھی ۔ وہ اپنے تمام موجودہ مسائل کا حل اس کتاب میں تلاش کرتی تھی ۔ جب بھی ہم قرآن مجید کو ، اس فہم و تدبر کے ساتھ پڑھیں گے ، ہمیں جس چیز کی تلاش ہوگی وہ ہمیں اس میں ملے گی ۔ بلکہ ہم اس میں ایسی عجیب ہدایات پائیں گے ، جن تک کسی ایسے شخص کا ذہن نہیں پہنچ سکتا ، جو اس کتاب کو غفلت سے پڑھتا ہے ، ہمیں اس کا ہر کلمہ ، اس کا ہر لفظ ، اس کی ہر عبارت اور اس کی ہر ہدایت زندہ جاوید نظر آئے گی ۔ چلتی پھرتی نظر آئے گی ، زندہ ومتحرک نظر آئے گی اور صاف صاف اشارہ کرتی نظر آئے گی وہ ہے تمہاری راہ ! وہ ہے نشان راہ ! یہ کتاب کہے گی یہ کرو اور اس سے بچو ، وہ کہے گی : یہ تمہارا دوست ہے اور یہ دشمن ہے ۔ وہ کہے گی : یہ احتیاط کرو اور یہ تیاری کرو ۔ غرض یہ کتاب ہماری زندگی کے ہر حال کے بارے میں ہم سے طویل اور مفصل گفتگو کرے گی اگر ہم اس انداز سے قرآن مجید کا مطالعہ کریں تو یقیناً ہمیں اس میں زندگی بھی ملے گی اور زندگی کا سازوسامان بھی ملے گا۔ اور تب ہم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو صحیح طرح سمجھ سکیں گے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، جب اللہ اور رسول تمہیں اس بات کی طرف بلائیں ، جو تمہیں زندہ کرتی ہے ، تو اس پر لبیک کہیں۔ “ قرآن کریم دراصل زندگی کی طرف دعوت ہے ۔ دائمی زندگی اور تازہ بتازہ زندگی کی دعوت ہے ۔ وہ تمہیں ایسی زندگی کی طرف دعوت نہیں دیتا جو گزرچکی ہے اور جو صفحات تاریخ کا ایک ورق بن چکی ہے۔ اب اس تمہید کی روشنی میں ذرا اس پورے سبق پر ایک نظر دوڑائیں ۔ اس سبق میں امم سابقہ کے تجربات میں سے دوتجربے پیش کئے گئے ہیں ۔ امت مسلمہ جن عملی تجربات سے گزری ، ان دوتجربات کو بھی اس ذخیرہ میں شامل کیا جارہا ہے ۔ امت کے سامنے یہ تجربات رکھ کر اسے ، ان حالات کے لئے تیار کیا جارہا ہے جو اس کی زندگی میں پیش آنے والے ہیں ۔ اس لئے کہ وہی ایمانی نظریہ حیات کی وارث ہے اور امم سابقہ کے تجربات کے اس ، سرسبز کھیت کی دہقانی اب اس امت کے حصے میں ہے اور اسے میدان میں ایک اہم رول ادا کرنا ہے۔ پہلا تجربہ ایسے لوگوں کا ہے جس کا نام قرآن مجید نے نہیں لیا ۔ یہ واقعہ قرآن مجید نے پورے اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے ، لیکن جس مقصد کے لئے اسے لایا گیا ہے وہ اچھی طرح پورا ہوجاتا ہے ۔ یہ ایسے لوگوں کا تجربہ ہے جو أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ ” موت کے ڈر سے اپنے گھر بار چھوڑ کرنکلے تھے اور ہزاروں کی تعدد میں تھے ۔ “ لیکن انہیں خروج وفرار اور اس خوف وہراس نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا اور وہ جس انجام سے ڈر کے بھاگ رہے تھے اور جو اللہ نے ان کے لئے مقدر کررکھا تھا ، اس نے انہیں آلیا۔ ان سے اللہ نے کہا : مُوتُوا مرجاؤ۔ ثُمَّ أَحْيَاهُمْ ” پھر اس نے ان کو زندگی بخشی “ نہ ان کی جدوجہد انہیں موت سے بچاسکی اور نہ دوبارہ زندگی حاصل کرنے کے لئے ان کو کچھ جدوجہد کرنی پڑی ۔ دونوں حالات میں اللہ کی مشیئت نے فیصلہ کیا۔ اس تجربہ کی روشنی میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے متوجہ ہوتے ہیں اور انہیں قتال فی سبیل اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب دیتے ہیں ۔ اس لئے کہ زندگی دینے والا بھی وہ ہے اور مال دینے والابھی وہ ہے ۔ وہ اس بات پر قادر ہے کہ زندگی قبض کرے اور مال واپس لے لے ۔ دوسرا تجربہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ، تاریخ بنی اسرائیل سے لیا گیا ہے ۔ اس دور میں ان کی مملکت تباہ ہوچکی تھی ۔ ان کے مقدسات لوٹ لئے گئے تھے ۔ وہ دشمنوں کے سامنے ذلیل و خوار ہوگئے تھے ۔ انہوں نے اپنے نبی کی تعلیمات اور اپنے رب کی ہدایات کو پس پشت ڈال دیا تھا ۔ اور اس وجہ سے وہ ذلت اور خواری میں مبتلا ہوگئے تھے ۔ لیکن اس گراوٹ کے بعد وہ پھر اٹھ کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے اپنے کپڑے جھاڑے اور نئے سرے سے تیار ہوئے اور ان کے دلوں میں نظریہ حیات پھر سے زندہ ہوگیا اور ان کے دلوں میں اپنے نظریہ حیات کے لئے پھر سے ولولہ جہاد پیدا ہوا اور اپنے نبی سے کہنے لگے : ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ” ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردو تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں۔ “ قرآن مجید جس الہامی انداز میں اس تجربے کا بیان کرتا ہے ، اس سے تمام حقائق کھل کر سامنے آجاتے ہیں اور اس میں دور اول کی تحریک اسلامی کے لئے جس طرح واضح اشارات پائے جاتے ہیں ، اسی طرح ہر دور کی اسلامی جماعت کے لئے واضح ہدایات موجود ہیں ۔ اس قصے سے جو عام عبرت حاصل ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ مومنین کی ایک مٹھی بھر تعداد نے ثابت قدمی کا ثبوت دیا اور اس کے نتیجے میں بنی اسرائیل کو ایک عظیم کامیابی نصیب ہوئی ، اگرچہ اس پورے واقعہ میں لشکر اسلام کو بار بار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اس مہم میں کئی نقائص تھے جو سامنے آئے ، متعدد کمزوریاں بار بار سامنے آتی رہیں ۔ لشکر کشی کے مختلف مراحل میں ، فوج در فوج لوگ الگ ہوتے رہے اور نافرمانیاں کرتے رہے ، لیکن ان سب کمزوریوں کے باجود بنی اسرائیل کا یہ اٹھنا ، آلودگیاں جھاڑ کر اٹھنا اور نظریہ حیات کو لے کر اٹھنا ، مٹھی بھر ثابت قدم مومنین کی وجہ سے کامیاب رہا ۔ اس کامیابی کے نتیجے میں بنی اسرائیل کو نصرت ، عزت اور استقرار حاصل ہوا ، حالانکہ اس سے پہلے وہ شکست فاش کھاچکے تھے ۔ انتہائی ذلت کی زندگی بسر کررہے تھے ، طویل عرصہ تک جلاوطنی کی زندگی بسر کررہے تھے اور ان پر دوسری اقوام مسلط تھیں ۔ اس کامیابی کے نتیجے میں بنی اسرائیل میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کی حکومت قائم ہوئی ، جن کے دور میں بنی اسرائیل کی حکومت اپنے عروج کو پہنچی اور ان حضرات کا دور ان کی تاریخ کا سنہرا دور قرار پایا ۔ جس کے بارے میں بنی اسرائیل فخریہ انداز میں بات کرتے ہیں اور اس مقام تک بنی اسرائیل اپنی نبوت کبریٰ کے دور میں بھی نہ پہنچے تھے ۔ یہ تمام کامیابی نتیجہ ہے اس نظریاتی قیام کا ، جبکہ انہوں نے نظریہ حیات کو جاہلیت کے ڈھیروں کے نیچے سے نکالا اور ایک قلیل جماعت اس نظریہ کو لے کر اس ثابت قدمی سے اٹھی اور جالوت کی عظیم افواج سے ٹکراگئی اور کامیاب رہی۔ اس تجربے کے دوران بعض جزوی مسائل کے بارے میں بھی ہدایات دی گئی ہیں ، جن کی اس دور میں اسلامی جماعت کو بہت ضرورت تھی اور اس کے لئے بہت اہم تھیں ۔ مثلاً یہ کہ اجتماعی جوش و خروش بعض اوقات قائد کو دھوکے میں ڈال دیتا ہے ۔ اگر وہ محض ظاہر بینی سے کام لے اور حقیقت تک پہنچنے کی کوشش نہ کرے ۔ اس لئے قائدین کا فرض ہے کہ وہ کارکنان کو کسی سخت معرکے میں ڈالنے سے پہلے انہیں آزمائے ۔ اس واقعہ میں بنی اسرائیل کے اصحاب رائے ، نبی وقت کے پاس گئے اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ کوئی بادشاہ مقرر کردیں ، جس کی قیادت میں وہ اپنے دین کے دشمنوں سے لڑیں ، اس لئے کہ ان دشمنوں نے ان سے حکومت چھین لی ہے ، ان کی دولت پر قابض ہوگئے ہیں ، وہ ان مقدسات سے بھی محروم کردیئے گئے ہیں جو آل موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کے عہد میں ان کے پاس محفوظ تھے ۔ جب نبی وقت نے ان سے ، ان کے اس ارادے کے بارے میں تسلی چاہی اور ان سے کہا : قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ أَلا تُقَاتِلُوا ” کہیں ایسا تو نہ ہوگا کہ تم کو لڑائی کا حکم دیا جائے اور تم پھر نہ لڑو۔ “ انہوں نے نبی کے اس سوال اور طلب یقین دہانی کو اچھا نہ سمجھا ۔ یہ بات ان پر ناگوار گزری اور ان کا جوش و خروش انتہا کو پہنچ گیا اور کہنے لگے قَالُوا وَمَا لَنَا أَلا نُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَأَبْنَائِنَا ” بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم راہ اللہ میں نہ لڑیں ، جبکہ ہمیں اپنے گھروں سے نکال دیا گیا ہے ۔ اور ہمارے بال بچے ہم سے جدا کردئیے گئے ہیں ؟ “ لیکن اس جوش و خروش کی آگ جلد ہی بجھ گئی ۔ جذبات کا طوفان ختم ہوگا ۔ اور اس راہ کے مختلف مراحل میں وہ بیٹھتے گئے ۔ جیسا کہ اس واقعہ میں تفصیلات آئی ہیں یا سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا إِلا قَلِيلا مِنْهُمْ ” مگر جب ان کو جنگ کا حکم دیا گیا تو ایک قلیل تعداد کے سوا ، وہ سب پیٹھ موڑ گئے ۔ “ بنی اسرائیل کی تو یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ وہ وعدہ خلافی کرتے ہیں ، اپنے عہد سے پھرجاتے ہیں اور اپنے ساتھی کو آدھی راہ میں چھوڑ دیتے ہیں ، لیکن ایسے واقعات انسانی جماعتوں میں بہرحال پائے جاتے ہیں اور خصوصاً ان جماعتوں میں جو اپنے ایمان ویقین کے اعتبار سے ، اور اپنی اعلیٰ تربیت کے اعتبار سے ابھی اعلیٰ معیار تک نہ پہنچی ہوں ۔ اس لئے جماعتی زندگی کا یہ منظر بھی ، ہر دور کی جماعت مسلمہ کے سامنے پیش کیا جانا ضروری تھا ، تاکہ ہر دور کی مسلم جماعت بنی اسرائیل کے اس تجربے سے فائدہ اٹھائے۔ اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے ظاہری جوش و خروش ، جذباتی اور فوری اقدام کی آزمائش صرف ایک مرتبہ ہی نہ ہو بلکہ بار بار کارکنوں کو آزمانا چاہئے ۔ جب بنی اسرائیل کے اپنے مطالبے پر قتال فرض ہوئی تو ان کی اکثریت نے پیٹھ پھیرلی ۔ وہی قلیل تعداد رہی جس نے اپنے نبی کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو قائم رکھا ۔ اور یہ وہی لوگ تھے جو پہلے تو نبی وقت کے طالوت کی سربراہی پر لڑتے رہے کہ وہ بادشاہت کے قابل ہی نہیں ہے ۔ لیکن جس وقت اس کی بادشاہی کی علامت ظاہر ہوگئی اور نبی اسرائیل کو اس کی قیادت میں وہ مقدسات واپس مل گئے جو دشمنوں کے قبضے میں چلے گئے تھے اور جنہیں فرشتوں نے اٹھاکر واپس کیا ، تب بنی اسرائیل قیادت پر تو راضی ہوئے لیکن ان کی اکثریت پہلے مرحلے ہی میں جہاد سے مکر گئی ۔ اور وہ پہلی آزمائش ہی میں ، جو ان کے قائد نے قائم کی ، ناکام ہوگئے۔ فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِالْجُنُودِ قَالَ إِنَّ اللَّهَ مُبْتَلِيكُمْ بِنَهَرٍ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَمَنْ لَمْ يَطْعَمْهُ فَإِنَّهُ مِنِّي إِلا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةً بِيَدِهِ فَشَرِبُوا مِنْهُ إِلا قَلِيلا مِنْهُمْ ” پھر جب طالوت لشکر لے کر چلا ، تو اس نے کہا :” ایک دریا پر اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہونے والی ہے ۔ جو اس کا پانی پئے گا وہ میرا ساتھی نہیں ۔ میرا ساتھی صرف وہ ہے ، جو اس سے پیاس نہ بجھائے ، ہاں ایک آدھ چلو کوئی پی لے ، مگر ایک گروہ قلیل کے سوا سب ہی دریا سے سیراب ہوئے ۔ “ لیکن یہ قلیل تعداد بھی آخر تک ثابت قدم نہ رہ سکی ۔ یہ قلیل تعداد ایک زندہ خطرہ کے مقابلے میں آئی ، جب انہوں نے دشمن کی کثرت اور ان کی قوت کو دیکھا تو حوصلے پست ہوگئے ۔ دل متزلزل ہوگئے فَلَمَّا جَاوَزَهُ هُوَ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ قَالُوا لا طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِهِ ” پھر جب طالوت اور اس کے ساتھی مسلمان دریا پار کرکے آگے بڑھے تو انہوں نے طالوت سے کہہ دیا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے ۔ “ اس شرمناک موقف کے مقابلے میں صرف چنے ہوئے مٹھی بھر لوگ ڈٹ گئے ۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ پر اعتماد کیا ۔ اور اس پر یقین کیا اور انہوں نے کہا : كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ ” بارہا ایسا ہوا کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے ۔ اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے ۔ “ یہ تھا وہ قلیل گروہ جس نے پلڑا بھاری کردیا ۔ اور اللہ کی امداد آگئی اور بنی اسرائیل عزت اور استقرار کے مالک بن گئے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک صالح ، دانشمند اور مومن قیادت کی شان کیا ہوتی ہے ؟ طالوت کی قیادت میں یہ تمام صفات موجود ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طالوت لوگوں کی نفسیات سے اچھی طرح واقف تھے ۔ انہوں نے بنی اسرائیل کا ظاہری جوش و خروش دیکھ کر دھوکہ نہ کھایا ۔ پھر انہوں نے صرف ایک ہی تجربہ پر اکتفا نہ کیا ۔ انہوں نے اپنے فوجیوں کے عزم اور اطاعت امر کا ، اصل معرکہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی امتحان لیا ۔ جو لوگ ان آزمائشوں میں ناپختہ پائے گئے انہیں جدا کرکے پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ پھر اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے مشکل سے مشکل حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری ۔ ایک ایک تجربہ کے بعد ان کی فوج گھٹتی ہی رہی لیکن وہ بڑھتے چلے گئے اور ہمت نہ ہاری ۔ آخر کار ان کے ساتھ مٹھی بھر لوگ ہی جمے رہے لیکن چنے ہوئے لوگ منتخب مجاہد تھے ۔ اب وہ خالص قوت ایمان اور اللہ کے بھروسہ کے بل بوتے پر معرکے میں کود پڑے اور اللہ کا وعدہ تو ایمان والوں سے سچا ہوتا ہی ہے ۔ اس معرکہ میں جو آخری عبرت ہے وہ یہ ہے کہ جو انسان اللہ سے لو لگالیتا ہے تو اس کی اقدار بدل جاتی ہیں ، اس کے تصورات کے پیمانے بدل جاتے ہیں ، کیونکہ اس کی نظر صرف اس دنیا کے اس محدود دائرے پر ہی نہیں ہوتی بلکہ وہ اس دنیا سے بہت ہی آگے ، ایک وسیع دائرے میں جاکر سوچتا ہے ۔ جو تمام معاملات کا اصل الاصول ہے ۔ یہ مٹھی بھر اہل ایمان جو ثابت قدم رہے جو معرکے میں کود پڑے ، اور جنہوں نے اللہ کی نصرت حاصل کی ، وہ بھی تو اپنی قلت دیکھ رہے تھے کہ ان کی تعداد کم ہے ۔ اور ان کے دشمن تعداد میں بہت ہی زیادہ ہیں اور جنہیں دیکھ کر ان کے دوسرے بھائی یہ پکار چکے قَالُوا لا طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِهِ ” ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں ۔ “ لیکن اس مٹھی بھر ایماندار جماعت نے اس صورت حال کے بارے میں وہ فیصلہ نہ کیا ۔ اس نے بہت ہی مختلف فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ ” بارہا ایسا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے ۔ “ اس کے بعد یہ گروہ مٹھی بھر ایمانداروں کا گروہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے : رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ” اے ہمارے رب ! ہم پر صبر کا فیضان کر ۔ ہمارے قدم جمادے اور کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب کر۔ “ یہ جماعت محسوس کرتی تھی کہ قوتوں کا ترازو کافروں کے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ وہ تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ اس لئے اس گروہ نے اللہ سے نصرت طلب کی اور اس نے وہ امداد اس ہاتھ سے وصول کرلی جس کا وہ ہاتھ مالک تھا ، اور جس کو وہ ہاتھ عطا کرسکتا تھا۔ جب اہل ایمان اللہ تک پہنچ جاتے ہیں تو ان کے پیمانے بدل جاتے ہیں ، ان کی اقدار بدل جاتی ہیں اور جب دل میں صحیح ایمان پیدا ہوجاتا ہے ۔ اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ دل کی دنیا میں اللہ کے ساتھ معاملہ کرنا زیادہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ ہم اس ظاہری اور جھوٹی دنیا کے معیاروں کے مطابق کوئی معاملہ کریں ۔ اس سطور میں ہم نے ان تمام اشارات کا احاطہ نہیں کرلیا ، جو اس قصے میں پائے جاتے ہیں ۔ اس لئے کہ قرآنی اشارات اور حکمتوں کا القاء ہر اس شخص پر اس کے حالات کے مطابق ہوتا ہے اور نیز اس مقدار کے مطابق ہوتا ہے جس قدر اس کو ضرورت ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود ہر شخص اپنا حصہ لے لیتا ہے ، پھر بھی اشارات اور حکم کا بڑ احصہ محفوظ ہوتا ہے اور مختلف حالات میں اپنی اپنی مقسوم کے مطابق ، ان اشارات کا انکشاف ہوتا رہتا ہے ۔ غرض اس عمومی تبصرے کے بعد اب مناسب ہے کہ آیات پر تفصیلاً بحث کی جائے۔ یہ لوگ کون تھے ؟ جو ہزاروں میں تھے اور جو موت کے ڈر کے مارے اپنے گھروں سے نکلے ۔ یہ کس سرزمین کے باشندے تھے ؟ تاریخ کے کس دور میں نکلے یہ لوگ ان کے بارے میں تاویلات وتوجیہات کے انبار میں اپنے آپ کو گم نہیں کرنا چاہتا ۔ اگر اللہ تعالیٰ کو ان کے بارے میں کچھ بتانامقصود ہوتا تو وہ ضرور بتا دیتا ۔ جیسا کہ قرآن مجید کے بعض دوسرے متعین قسم کے قصص کے سلسلے میں کیا گیا ہے ۔ یہاں مطلب صرف عبرت کا حصول اور مسلمانوں کو نصیحت کرنا ہے ۔ مقصد یہ نہیں کہ قصہ بذات خود مطلوب ہے تاکہ اس کے اشخاص ، مقام واقعہ اور زمان واقعہ کی تفصیلات دی جائیں ۔ یہاں اگر مکان وزمان کا تعین بھی کرلیا جائے تو بھی اس سے معنی ومطلب میں نہ اضافہ ہوتا ہے اور نہ کمی ۔ یعنی واقعہ سے عبرت لینا۔ یہاں مقصود صرف یہ ہے کہ موت وحیات کے ظاہری اسباب اور ان اسباب سے بھی آگے اس کی اصل حقیقت کے بارے میں مسلمانوں کے نقطہ نظر کو درست کردیا جائے ۔ اور یہ بتادیا جائے کہ موت وحیات کا فیصلہ اس دنیا میں نہیں ہوتا ۔ یہ فیصلے قادرمطلق اور مدبر الکون کرتا ہے۔ اور یہ کہ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے نوشتہ پر مکمل اطمینان کرلینا چاہئے ۔ اور اس دنیا میں انسان کو بغیر کسی خوف وخطر اور بغیر کسی جزع وفزع کے اپنے فرائض سر انجام دینے چاہئیں ۔ تقدیریں لکھنے والا موجود ہے اور زندگی اور موت کا آخری فیصلہ صرف اس کے ہاتھ میں ہے ۔ یہاں مقصدیہ کہنا ہے کہ موت کے ڈر سے موت ٹل نہیں جاتی اور جزع وفزع کرنے سے ، چیخنے پکارنے سے ، زندگی میں اضافہ نہیں ہوجاتا ، نہ ان سے قضائے الٰہی ٹل سکتی ہے ۔ نہ اجل ان سے ذرا بھی موخر ہوسکتی ہے۔ اللہ ہی ہے جو زندگی عطا کرتا ہے ۔ وہی زندگی کی بخشش کرتا ہے اور وہی ہے جو زندگی واپس لے لیتا ہے۔ دونوں حالات میں اس کا فضل انسان کے شامل حال ہوتا ہے ۔ لیتا ہے پھر اس کا فضل ہے اور اگر دیتا ہے پھر فضل ہے ۔ زندگی دینے کے پس منظر میں اور زندگی نہ دینے کے پس منظر میں دونوں حالات میں اس کی عظیم حکمت عملی کارفرماہوتی ہے ۔ ان دونوں حالات میں لوگوں کی مصلحت ہے ۔ دونوں صورتوں میں لینے اور دینے میں اللہ کا فضل ہمارے شامل حال ہوتا ہے : إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَشْكُرُونَ (٢٤٣) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ انسان پر بڑا فضل فرمانے والا ہے ، مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ “ ان لوگوں کا جمع ہونا ، پھر ہزاروں کی تعداد میں جمع ہونا ، پھر اپنے گھروں سے نکل پڑنا اور موت کے ڈر سے نکل پڑنا ، لازماً ایسے حالات میں جزع وفزع ، ہائے ہو کا عالم ہوگا۔ ان کا یہ بھاگنا کسی جنگجو دشمن کے ڈر سے ہو یا کسی سخت وبائی بیماری کے پھوٹ پڑنے کی وجہ سے ہو ، چاہے وجہ جو بھی ہو ، اس سے موت کا کوئی علاج نہیں ہوسکتا فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُوا ” اللہ نے فرمایا : مرجاؤ۔ “ اللہ تعالیٰ نے کس طرح انہیں کہا ؟ وہ کس طرح مرگئے ؟ کیا وہ اسی مصیبت کی وجہ سے مرگئے ، جس کی وجہ سے نکلے تھے یا وہ کسی دوسرے ایسے سبب کی وجہ سے مرگئے جس کا انہیں وہم و گمان بھی نہ تھا۔ اس کی کوئی تفصیل قرآن مجید نے نہیں دی ہے ۔ کیونکہ ان تفصیلات کی اس مقصد کے لئے کوئی ضرورت نہ تھی یعنی عبرت انگیزی ۔ بتانا یہ ہے کہ جزع وفزع اور خوف وہراس کی وجہ سے وہ اس چیز سے بچ نہ سکے جس کی وجہ سے وہ بھاگ رہے تھے ۔ وہ موت سے بچ نہ سکے اور اللہ کے فیصلے کو رد کرنے کی کوئی سبیل نہ تھی ۔ اگر وہ اللہ کی طرف لوٹ آتے اور صبر وثبات اور سنجیدہ رویہ اختیار کرتے تو یہ زیادہ بھلا ہوتا ۔ ثُمَّ أَحْيَاهُمْ ” پھر اس نے ان کو دوبارہ زندگی بخشی۔ “ کسی طرح اس نے ان لوگوں کو زندہ کردیا ؟ کیا انہی لوگوں کی موت کے بعد معجزانہ طور پر زندہ کردیا گیا۔ یا ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا کئے جو طاقتور اور بہادر تھے اور آباء و اجداد کی طرح آہ وبکا کرنے والے نہ تھے ۔ ان باتوں کی تفصیل بھی قرآن مجید نے پیش نہیں فرمائی ۔ اس لئے ہمیں بھی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ہم اس کی تشریح میں طرح طرح کی تاویلات شروع کردیں اور بےسند روایات کے انباروں میں خوامخواہ اپنے آپ کو گم کردیں ، جیسا کہ بعض تفاسیر میں ذکر ہوا ہے ۔ جو کچھ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے ، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ، بغیر کسی جدوجہد ومشقت کے ان کو دوبارہ زندگی دے دی ، حالانکہ انہوں نے موت سے بچنے کے لئے جو آہ وبکا کیا تھا ، اس سے ان کی موت رک نہ سکی۔ خلاصہ یہ ہے کہ آہ وبکا اللہ کے فیصلے کو روک نہیں سکتی ۔ جزع وفزع سے زندگی محفوظ نہیں ہوجاتی ۔ زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور یہ ایک شخص کو اس کی اپنی جدوجہد کے بغیر ہی دی جاتی ہے ۔ اگر یہ ہے حقیقت تو پھر بزدلو ! تمہاری آنکھیں نیند کے لئے ترس جائیں اور تمہیں کبھی چین نہ ملے :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

بنی اسرائیل کا ایک واقعہ علامہ بغوی (رح) معالم التنزیل ص ٢٢٣ ج ١ میں لکھتے ہیں کہ اکثر اہل علم نے یہ بیان کیا ہے کہ ایک بستی جس کا نام داور دان تھا اس میں طاعون واقع ہوگیا، اس موقعہ پر ایک جماعت وہاں سے نکل گئی اور ایک جماعت بستی میں رہ گئی۔ جو لوگ بستی میں رہ گئے تھے ان میں سے اکثر ہلاک ہوگئے اور جو لوگ بستی چھوڑ کر چلے گئے تھے وہ صحیح سلامت رہے اور پھر بستی میں آگئے، جو لوگ بستی میں رہ گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہ ساتھی ہم سے زیادہ ہوشیار رہے۔ آئندہ ہم ایسی زمین کی طرف نکل جائیں گے جہاں وباء نہ ہو چناچہ آئندہ سال طاعون واقع ہوا تو بستی کے تقریباً سب ہی لوگ چلے گئے اور ایک وسیع میدان میں قیام کرلیا، اس میں میدان میں نجات پانے کی نیت سے قیام کیا تھا لیکن ہوا یہ ایک فرشتہ نے اوپر کے حصہ سے اور ایک فرشتہ نے میدان کے نچلے والے حصہ سے پکارا اور کہا کہ مُوْتُوْا کہ تم سب مرجاؤ، چناچہ وہ سب مرگئے۔ دوسرا قول علامہ بغوی نے یہ نقل کیا ہے کہ جو لوگ گھروں سے نکلے تھے یہ لوگ جہاد سے فرار ہوئے تھے جس کا واقعہ یوں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ نے ان کو حکم دیا تھا کہ دشمن سے جنگ کے لیے نکلیں ان لوگوں نے اول تو لشکر تیار کرلیا لیکن پھر ان پر بزدلی سوار ہوگئی اور موت سے جان چھڑانے لگے، لہٰذا انہوں نے ایک حیلہ بنایا اور اپنے بادشاہ سے کہا کہ جس سر زمین میں جہاد کرنے کے لیے ہم کو جانے کا حکم ہوا ہے اس میں وبا پھیلی ہوئی ہے۔ جب وبا ختم ہوجائے گی تو ہم وہاں پہنچ جائیں گے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان پر موت بھیج دی، جب وہیں ان کی بستی میں موتیں ہونی شروع ہوئیں تو وہ موت کے ڈر سے گھروں کو چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے۔ جب بادشاہ نے یہ منظر دیکھا تو بارگاہ خداوندی میں اس نے دعا کی کہ اے اللہ ! آپ ان کو کوئی ایسی نشانی دکھا دیجیے جس سے یہ سمجھ لیں کہ موت سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں، اور فرار موت سے نہیں بچا سکتا۔ چناچہ جب وہ بستیوں سے نکلے تو اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا موتوا (مر جاؤ) اور یہ بطور عقوبت و سزا کے فرمایا۔ چناچہ وہ لوگ مرگئے، ان کے جانور بھی مرگئے اور آن واحد میں سب کو موت آگئی۔ جیسے شخص واحد کی موت ہو، وہ آٹھ دن تک اسی طرح پڑے رہے، یہاں تک کہ نعشیں ان کی پھول گئیں۔ ان کی طرف لوگ نکلے تو اتنی کثیر تعداد کو دفن کرنے سے عاجز آگئے۔ لہٰذا انہوں نے ان کے چاروں طرف احاطہ بنا دیا تاکہ درندے نہ پھاڑ ڈالیں اور ان کو اسی حالت میں چھوڑ دیا، حضرت حز قیل (علیہ السلام) جو اس زمانے کے نبی تھے وہ ان لوگوں پر گزرے تو کھڑے ہوگئے اور تعجب سے غور فرمانے لگے، اللہ جل شانہ نے ان کی طرف وحی بھیجی کیا میں تمہیں کوئی نشانی دکھاؤں عرض کیا، ہاں دکھائیے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو زندہ فرما دیا، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حضرت حز قیل (علیہ السلام) نے ان کے زندہ کرنے کے لیے دعا کی تھی جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ فرما دیا، جب وہ لوگ زندہ ہوگئے تو ان کی زبان سے یہ کلمات نکلے۔ (سُبحان اللّٰہ ربنا وبحمدک لا الٰہ الاّ اَنت) (اے اللہ اے ہمارے رب ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں) زندہ ہو کر یہ لوگ اپنی قوم میں چلے گئے، حضرت قتادہ (رح) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بطور سزا کے موت دیدی تھی۔ کیونکہ موت سے بھاگے تھے پھر باقی عمریں پوری کرنے کے لیے زندہ کردیے گئے، اگر ان کی عمریں ختم ہوچکی ہوتیں تو دوبارہ زندہ نہ کیے جاتے۔ یہ لوگ مقدار میں کتنے تھے جو موت کے بعد زندہ ہوئے اس کے بارے میں علامہ بغوی (رض) نے مختلف اقوال نقل کیے ہیں ٣ ہزار، ٤ ہزار، آٹھ ہزار، دس ہزار، تیس ہزار سے کچھ اوپر، چالیس ہزار، ستر ہزار۔ علامہ بغوی (رض) فرماتے ہیں کہ جس نے دس ہزار سے زیادہ کہا وہ قول زیادہ مناسب ہے کیونکہ لفظ ألوف جمع کثرت ہے جس کا دس ہزار سے کم پر اطلاق نہیں ہوتا۔ یہ جو کچھ معالم التنزیل سے نقل کیا گیا ہے، اس کے علاوہ بھی کتب تفسیر میں کچھ واقعات نقل کیے گئے ہیں۔ بظاہر یہ سب واقعات اسرائیلیات ہیں اور ان قصوں کے جاننے پر قرآن کا مفہوم سمجھنا موقوف بھی نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن کریم نے ایک واقعہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہزاروں انسانوں کو موت دیدی پھر ان سب کو زندہ فرما دیا، اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اسے موت دینے اور پھر زندہ کرنے پر قدرت ہے۔ ایک جان کی موت وحیات اور ہزاروں جانوں کی موت وحیات اس کے لیے سب برابر ہیں۔ آن واحد میں وہ ہزاروں افراد کو موت دے سکتا ہے اور زندہ بھی کرسکتا ہے۔ اس واقعہ میں خاص کر بنی اسرائیل کے لیے تذکیر ہے کیونکہ انہیں اپنے خاندان کے واقعات یاد تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو امّی تھے۔ آپ کو ان باتوں کا پتہ نہ تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو باتیں بتائی ہیں۔ اور یہ آپ کی نبوت کے دلائل میں سے روشن دلیل ہے۔ دوسری آیت میں یہ جو فرمایا کہ اللہ کی راہ میں قتال کرو اس کے بارے میں مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ ان لوگوں کو خطاب ہے جو موت کے بعد زندہ کیے گئے تھے۔ اور یہ بات ان مفسرین کے بیان سے جوڑ بھی کھاتی ہے جنہوں نے فرمایا کہ ان لوگوں نے جہاد سے بچنے کے لیے راہ فرار اختیار کی تھی، اور بعض حضرات نے یہ فرمایا کہ اس میں امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب فرمایا ہے اور ان کو جہاد کا حکم دیا ہے اس قول کے مطابق بنی اسرائیل کے واقعہ کو حکم جہاد کی تمہید کہا جاسکتا ہے کہ جہاد میں شریک ہونے سے موت کا خوف مانع نہ ہونا چاہیے موت کے ڈر سے بھاگنا موت سے بچا نہیں سکتا۔ بنی اسرائیل کے ہزاروں آدمی بھاگ کھڑے ہوئے تھے لیکن موت نے ان کو نہ چھوڑا، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا آخرت کے بہت بڑے اجر وثواب اور اعلائے کلمۃ اللہ کا ذریعہ ہے جو جہاد نہ کرے گا موت اس کو بھی آئے گی پھر کیوں اجر وثواب کو کھوئے۔ بعض اہل تفسیر کے قول کے مطابق وہ لوگ طاعون سے بھاگے تھے جو بنی اسرائیل کے لیے عذاب تھا اور اس امت کے لیے رحمت ہے ہمارے نبی فخر الانبیاء والمرسلین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : طاعون ایک عذاب ہے اللہ جس پر چاہتا ہے اسے بھیج دیتا ہے۔ اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اسے مومنین کے لیے رحمت بنایا ہے، جو بھی کوئی شخص کسی ایسی جگہ موجود ہو جہاں طاعون واقع ہوگیا ہو اور صبر کرتے ہوئے اور یہ جانتے ہوئے وہیں ٹھہرا رہے کہ مجھے اس کے سوا کچھ (ضرر) نہیں پہنچ سکتا جو اللہ نے میرے لیے لکھ دیا ہے، تو ایسے شخص کے لیے ایک شہید کا ثواب ہے (رواہ البخاری ص ٨٥٣ ج ٢) یہ تو اس شخص کے لیے ہے جو طاعون کی جگہ ثابت قدم رہا۔ وہاں سے گیا نہیں اور طاعون میں مبتلا نہ ہوا۔ صبر و استقامت کی وجہ سے اسے شہید کا ثواب ملے گا اور جو شخص طاعون میں مرگیا وہ بھی شہیدوں میں شمار ہے۔ (کمار واہ البخاری ص ٨٥٣ ج ٢) حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت اسامہ بن زید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب تم سنو کہ کسی سر زمین میں طاعون ہے وہاں نہ جاؤ اور جب کسی ایسی سر زمین میں طاعون آجائے جہاں تم موجود ہو تو اس سے بھاگنے کے لیے مت نکلنا۔ (رواہ البخاری ص ٨٥٣ ج ٢) حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص طاعون سے بھاگے وہ ایسے ہے، جیسے میدان جہاد سے بھاگا اور جو صبر کرتے ہوئے وہیں رہے اس کے لیے ایک شہید کا ثواب ہے۔ (رواہ احمد کما فی المشکوٰۃ ص ١٣٩ ج ١)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

476 یہاں سے پھر اصل موضوع یعنی مسئلہ جہاد کا بیان شروع کیا جارہا ہے۔ درمیان میں امور انتظامیہ اور امور مصلحہ بیان کیے گئے ہیں۔ مسئلہ جہاد کو دوبارہ ذکر کرنے سے پہلے ایک قدیم واقعہ بطور عبرت اور تخویف بیان فرمایا ہے۔ یہ واقعہ بنی اسرائیل کے کسی قبیلہ کا ہے۔ جب ان کو جہاد کا حکم ملا تو وہ گھروں سے بھاگ نکلے کہ کہیں وہ جہاد میں شریک ہو کر لقمہ اجل نہ بن جائیں تو اللہ تعالیٰ نے ان پر موت مسلط کردی اور وہ مرگئے۔ وہ نکلے تھے جان بچانے کے لیے مگر یہ تدبیر ان کے کام نہ آئی جس موت سے بھاگتے تھے۔ اسی کا لقمہ بن گئے۔ ھم قوم من بنی اسرائیل دعاھم ملکھم الی الجھاد فھربوا حذر الموت فاماتھم اللہ تعالیٰ ثمانیة ایام ثم احیاھم (ابو السعود ج 2 ص 426) ثُمَّ اَحْیَاھُمْ اللہ نے پھر انہیں زندہ کردیا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مشاہدہ کرلیں اور انہیں یقین ہوجائے کہ خدا کی قدرت کے سامنے کوئی تدبیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔ یہ واقعہ نقل کر کے مسلمانوں کو ڈر سنایا کہ وہ جہاد سے جی نہ چرائیں کیونکہ موت تو بہر حال آئے گی۔ جہاد سے بھاگ کر موت سے کوئی بچ نہیں سکتا۔477 اللہ تعالیٰ تو ہمیشہ ایسے احکام نازل فرماتا ہے جن میں لوگوں کا فائدہ ہو مگر وہ ان احکام کو پامال کرتے ہیں اور ان کی قدر نہیں کرتے۔ اب آگے حکم جہاد کا اعادہ فرمایا ہے۔ وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۔ یہ خطاب امت محمدیہ سے ہے۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرو اور ان اسرائیلیوں کی طرح بزدلی نہ دکھاؤ جو موت کے ڈر سے گھر چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری باتیں سنتا ہے۔ اس لیے اسے معلوم ہے کون تم میں سے دوسروں کو جہاد کی ترغیب دیتا ہے اور کون جہاد سے متنفر کرتا ہے اور وہ دل کے بھید جانتا ہے۔ اس لیے اسے یہ بھی معلوم ہے کہ کون دین کی خاطر جہاد کرتا ہے۔ اور کون مال غنیمت اور نیک نامی حاصل کرنے کی نیت سے جہاد میں شریک ہوتا ہے۔ ای ھو یسمع کلامکم فی ترغیب لغیر فی الجھاد وفی تنفیر الغیر عنہ وعلیم بما فی صدور کم من البواعث و الاغراض فان ذلک الجھاد لغرض الدین او لعاجل الدنیا (کبیر ص 438 ج 2) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3 ۔ اے پیغمبر ! کیا آپ نے ان لوگوں کا واقعہ ملاحظہ نہیں فرمایا اور کیا آپ کو ان لوگوں کا واقعہ معلوم نہیں ہوا ۔ جو موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل گئے تھے حالانکہ وہ ہزاروں کی تعداد تھے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ تم سب مر جائو ، چناچہ وہ مرگئے ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو جلا دیا ، ی قین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے حال پر بڑا فضل فرماتا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں بجا لاتے یعنی اللہ تعالیٰ کے فضل و انعامات پر اس کا شکر ادا نہیں کرتے ( تیسیر) الم تر میں خطاب یا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہے یا ہر مخاطب کو عام ہے اور چونکہ یہ یہ قصہ بنی اسرائیل میں بہت مشہور تھا اور ان کی کتابوں اور تاریخوں میں مذکور تھا اس لئے بجائے جاننے اور معلوم فرمانے کے دیکھنا فرمایا یعنی بجائے علم کے رویت فرمایا اور کسی ایسے قصے کے متعلق جو مشہور اور خلائق کے زبان زد ہو ۔ اہل لسان ایسے بولا کرتے ہیں ۔ دہلی والے اکثر 7581؁ء کے واقعات کا ذکر کرتے ہیں تو کہا کرتے ہیں تم نے دیکھا نہیں عذر میں کیسے کیسے مظالم مسلمانوں پر ہوئے حالانکہ وہ آنکھوں سے دیکھنے والا آج کوئی بھی موجود نہیں ۔ آئندہ بھی جہاں جہاں گزشتہ زمانے کے واقعات کو رویت سے تعبیر کریں ۔ یہی مطلب سمجھنا چاہئے۔ بہر حال پہلے لوگوں میں سے داد دان کے رہنے والوں کا واقعہ ہے یا واسط کے لوگوں کا یا اذرعات کے رہنے والوں کا ہے جن کی تعداد خواہ کچھ بھی ہو لیکن دس ہزار سے زائد تھی جیسا کہ لفظ الوف سے معلوم ہوتا ہے کیونکہ الوف الف کی جمع کثر ہے۔ یہ لوگ طاعون سے یا غنیم کے حملہ سے بچ کر بھاگے تھے اور اس خیال سے بھاگے تھے کہ موت سے بچ جائیں گے ، لیکن جب بھاگ کر نیچے کی وادی میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے موت کا حکم پہنچا اور بغیر کسی مرض کے سب مرگئے اور آٹھ دن کے بعد خدا نے ان کو زندہ کردیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ طویل مدت کے بعد زندہ ہوئے ہوں اور کسی نبی کی دعا سے زندہ ہوئے ہوں اور ان نبی کا نام حزقیل ہو۔ چونکہ مختلف اقوال ہیں اس لئے ہم نے صرف خلاصہ عرض کردیا ہے موت دنیا اور زندہ کردینا اس لئے ہوا ہوتا کہ یہ لوگ سمجھیں کہ موت اور زندگی حضرت حق کے قبضے میں ہے اور وہی موت وحیات کا مالک ہے وہ چاہے تو بلا کسی سبب کے موت دے دے اور چاہے تو ہزاروں خطرات سے بچا نکالے۔ یہ لوگ موت کے خوف سے نکلے تھے اور باوجود نکل آنے کے پھر موت سے نہ بچے سکے۔ حضرت خالد بن ولید (رض) نے بستر مر گ پر فرمایا تھا۔ میرے جسم کا کوئی حصہ ایسا جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں زخمی نہ ہوا ۔ بیشمار جنگ کے میدان میں گیا لیکن ہائے آ ج گدھے کی طرح بستر پر مر رہا ہوں یعنی اس پر افسوس کرتے تھے کہ میدان جنگ میں مر کر شہید کیوں نہ ہوا ۔ ہزارہا خطرات میں مبتلا ہو لیکن آجب بستر پر جان دے رہا ہوں ۔ ان لوگوں کا واقعہ بیان فرما کر مجاہدین کو ہمیت دلانی مقصود ہے کہ موت سے ڈر کر جہاد سے نہ بھاگو اور اسی طرح طاعون سے ڈر کر بھاگنے والوں کو بھی تنبیہ ہے کہ دیکھو ! بھاگنے والوں کو موت نے کس طرح آلیا ۔ جس طرح جہاد سے بھاگنا حرام ہے اسی طرح طاعون سے بھاگنا بھی حرام ہے اور یہ جو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر بڑا صاحب فضل ہے یہ اس لئے کہ مار کر زندہ کیا اور دونوں حالتوں کا مشاہدہ کرا دیا اس کی طرف اشارہ ہو امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اصلاح کے لئے یہ واقعہ سنایا تا کہ امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عقائد و اعمال کی اصلاح ہو یہ بڑا فضل ہے اور یہ جو فرمایا کہ اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسا شکر ادا کرنا ۔ چاہئے اس طرح شکرادا نہیں کرتے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عبرت و بصیرت سے کام نہیں لیتے کسی واقعہ کو سن کر اس سے نصیحت و عبرت حاصل کرنا یہی بڑا شکر ہ۔ مرنے کے حکم کا مطلب یہ ہے کہ فرشتے نے کہا مرجائو اور اللہ تعالیٰ کی طرف یہ حکم تخویف کی غرض سے اسناد کیا گیا ہو یا یہ مطلب ہے کہ بغیر کسی مرض اور سبب کے محض مشیت الٰہی کی بناء پر موت واقع ہوئی اس لئے حضرت حق کی جانب حکم کا اسناد کیا گیا۔ واللہ اعلم۔ آج کل کے بعض جدت پسند حضرات نے اس آیت میں بہت سی توجیہات و تاویلات کی ہیں حالانکہ ان رکیک تاویلات کی ضرورت نہیں ہے ۔ حقیقی معنی پر نہ کوئی استعباد و استحالہ لازم آتا ہے اور نہ کسی ایسے واقعہ سے جو بطورخرق عادت واقع ہوا ہو کوئی قاعدہ کلیہ ٹوٹتا ہے جو بلاوجہ مجازی معنی کو تلاش کیا جائے اور درواز افکار توجیہات کا دروازہ کھولا جائے اور قرآن کی تفسیر ملحدین یورپ سے مرعوب ہو کر کی جائے۔ نعوذ باللہ من ذلک حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ پہلی امت میں ہوا ہے کہ کئی ہزار شخص گھر بار لے کر اپنے وطن کو چوڑ نکلے ۔ ان کو ڈرا ہوا غنیم کا اور لڑنے سے جی چھپایا ڈرا ہوا وبا کا اور یقین نہ ہو تقدیر کا ایک منزل میں پہنچ کر سارے مرگئے۔ پھر سات دن کے بعد پیغمبر کی دعا سے زندہ ہوئے کہ آگے کے توبہ کریں ۔ یہاں اس واسطے فرمایا کہ جہاد سے جی چھپانا عبث ہے۔ موت نہیں چھوڑتی ( موضح القرآن) اب اس تمہید کے بعد اصل مقصد کا ذکر فرماتے ہیں وہ جہاد فی سبیل اللہ اور جہاد کے لئے مال کا خیرات کرنا ہے۔ ( تسہیل)