Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 246

سورة البقرة

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الۡمَلَاِ مِنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مُوۡسٰی ۘ اِذۡ قَالُوۡا لِنَبِیٍّ لَّہُمُ ابۡعَثۡ لَنَا مَلِکًا نُّقَاتِلۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ قَالَ ہَلۡ عَسَیۡتُمۡ اِنۡ کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الۡقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوۡا ؕ قَالُوۡا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ قَدۡ اُخۡرِجۡنَا مِنۡ دِیَارِنَا وَ اَبۡنَآئِنَا ؕ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیۡہِمُ الۡقِتَالُ تَوَلَّوۡا اِلَّا قَلِیۡلًا مِّنۡہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالظّٰلِمِیۡنَ ﴿۲۴۶﴾

Have you not considered the assembly of the Children of Israel after [the time of] Moses when they said to a prophet of theirs, "Send to us a king, and we will fight in the way of Allah "? He said, "Would you perhaps refrain from fighting if fighting was prescribed for you?" They said, "And why should we not fight in the cause of Allah when we have been driven out from our homes and from our children?" But when fighting was prescribed for them, they turned away, except for a few of them. And Allah is Knowing of the wrongdoers.

کیا آپ نے ( حضرت ) موسیٰ کے بعد والی بنی اسرائیل کی جماعت کو نہیں دیکھا جب کہ انہوں نے اپنے پیغمبر سے کہا کہ کسی کو ہمارا بادشاہ بنا دیجئے تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں ۔ پیغمبر نے کہا کہ ممکن ہے جہاد فرض ہو جانے کے بعد تم جہاد نہ کرو ، انہوں نے کہا بھلا ہم اللہ کی راہ میں جہاد کیوں نہ کریں گے؟ہم تو اپنے گھروں سے اجاڑے گئے ہیں اور بچوں سے دور کر دیئے گئے ہیں ۔ پھر جب ان پر جہاد فرض ہوا تو سوائے تھوڑے سے لوگوں کے سب پھر گئے اور اللہ تعالٰی ظالموں کو خوب جانتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Story of the Jews Who sought a King to be appointed over Them Allah tells; أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلِ مِن بَنِي إِسْرَايِيلَ مِن بَعْدِ مُوسَى إِذْ قَالُواْ لِنَبِيٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللّهِ قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِن كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ أَلاَّ تُقَاتِلُواْ ... Have you not thought about the group of the Children of Israel after (the time of) Musa! When they said to a Prophet of theirs, "Appoint for us a king and we will fight in Allah's way." He said, "Would you then refrain from fighting, if fighting was prescribed for you!" Mujahid said that; the Prophet (mentioned in the Ayah) is Shamwil (Samuel). Wahb bin Munabbih said: The Children of Israel remained on the straight path for a period of time after Moses. They then innovated in the religion and some of them even worshipped the idols. Yet, there were always Prophets sent among them who would command them to work righteous deeds, refrain from doing evil and who would rule them according to the commands of the Torah. When they (Israelites) committed the evil that they committed, Allah caused their enemies to overwhelm them, and many fatalities fell among them as a consequence. Their enemies also captured a great number of them, and took over large areas of their land. Earlier, anyone who would fight the Israelites would lose, because they had the Torah and the Tabut, which they inherited generation after generation ever since the time of Moses, who spoke to Allah directly. Yet, the Israelites kept indulging in misguidance until some king took the Tabut from them during a battle. That king also took possession of the Torah, and only a few of the Israelites who memorized it remained. The Prophethood halted among their various tribes and only a pregnant woman remained of the offspring of Lavi (Levi), in whom the Prophethood still appeared. Her husband had been killed, so the Israelites kept her in a house so that Allah may give her a boy, who would be their Prophet. The woman also kept invoking Allah to grant her a boy. Allah heard her pleas and gave her a boy whom she called `Shamwil' meaning `Allah has heard my pleas.' Some people said that the boy's name was Shamun (Simeon), which also has a similar meaning. As that boy grew, Allah raised him to be a righteous person. When he reached the age of Prophethood, Allah revealed to him and commanded him to call (his people) to Him and to His Tawhid (Oneness). Shamwil called the Children of Israel (to Allah) and they asked him to appoint a king over them so that they could fight their enemies under his command. The kingship had also ended among them. Their Prophet said to them, "What if Allah appoints a king over you, would you fulfill your vow to fight under his command!" ... قَالُواْ وَمَا لَنَا أَلاَّ نُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِن دِيَارِنَا وَأَبْنَأيِنَا ... They said, "Why should we not fight in Allah's way while we have been driven out of our homes and our children!" meaning, `After our land had been confiscated and our children had been taken from us.' Allah said: ... فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْاْ إِلاَّ قَلِيلً مِّنْهُمْ وَاللّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ But when fighting was ordered for them, they turned away, all except a few of them. And Allah is All-Aware of the wrongdoers. meaning, only a few of them kept their promise, but the majority abandoned Jihad and Allah has full knowledge of them.

بنی اسرائیل پر ایک اور احسان جس نبی کا یہاں ذِکر ہے ان کا نام حضرت قتادہ نے حضرت یوشع بن نون بن افرایم بن یوسف بن یعقوب بتایا ہے ، لیکن یہ قول ٹھیک معلوم نہیں ہوتا اس لئے کہ یہ واقعہ حضرت موسیٰ کے بعد کا حضرت داؤد کے زمانے کا ہے ، جیسا کہ صراحتاً وارد ہوا ہے ، اور حضرت داؤد اور حضرت موسیٰ کے درمیان ایک ہزار سال سے زیادہ کا فاصلہ ہے واللہ اعلم ، سدی کا قول ہے کہ یہ پیغمبر حضرت شمعون ہیں ، مجاہد کہتے ہیں یہ شمویل بن یالی بن علقمہ بن صفیہ بن علقمہ با ابو ہاشف بن قارون بن یصہر بن فاحث بن لاوی بن یعقوب بن اسحق بن ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ہیں ، واقعہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کے بعد کچھ زمانہ تک تو بنی اسرائیل راہِ حق پر رہے ، پھر شرک و بدعت میں پڑ گئے مگر تاہم ان میں پے درپے انبیاء مبعوث ہوتے رہے یہاں تک کہ بنی اسرائیل کی بےباکیاں حد سے گزر گئیں ، اب اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ان پر غالب کر دیا ، خوب پٹے کٹے ، اور اجڑے گئے ، پہلے تو توراۃ کی موجودگی تابوت سکینہ کی موجودگی جو حضرت موسیٰ سے موروثی چلی آ رہی تھی ان کیلئے باعث غلبہ ہوتی تھی ، مگر ان کی سرکشی اور بدترین گناہوں کی وجہ سے اللہ جل شانہ کی یہ نعمت بھی ان کے ہاتھوں چھن گئی اور نبوت بھی ان کے گھرانے میں ختم ہوئی ، لاوی جن کی اولاد میں پیغمبری کی جل شانہ کی یہ نعمت بھی ان کے ہاتھوں سے چھن گئی اور نبوت بھی ان کے گھرانے میں ختم ہوئی ، لاوی جن کی اولاد میں پیغمبری کی نسل چل آ رہی تھی ، وہ سارے کے سارے لڑائیوں میں مر کھپ گئے ، ان میں سے صرف ایک حاملہ عورت رہ گئی تھی ، ان کے خاوند بھی قتل ہو چکے تھے اب بنی اسرائیل کی نظریں اس عورت پر تھیں ، انہیں امید تھی کہ اللہ اسے لڑکا دے گا اور وہ لڑکا نبی بنے ، خود ان بیوی صاحبہ کی بھی دن رات یہی دعا تھی جو اللہ نے قبول فرمائی اور انہیں لڑکا دیا جن کا نام شمویل یا شمعون رکھا ، اس کے لفظی معنی ہیں کہ اللہ نے میری دعا قبول فرما لی ، نبوت کی عمر کو پہنچ کر انہیں بھی نبوت ملی ، جب آپ نے دعوت نبوت دی تو قوم نے درخواست کی کہ آپ ہمارا بادشاہ مقرر کر دیجئے تاکہ ہم اس کی ماتحتی میں جہاد کریں ، بادشاہ تو ظاہر ہو ہی گیا تھا لیکن پیغمبر نے اپنا کھٹکا بیان کیا کہ تم پھر جہاد سے جی نہ چراتے؟ قوم نے جواب دیا کہ حضرت ہمارے ملک ہم سے چھین لئیے گئے ، ہمارے بال بچے گرفتار کئے گئے اور پھر بھی کیا ہم ایسے بےحمیت ہیں کہ مرنے مارنے سے ڈریں؟ اب جہاد فرض کر دیا گیا اور حکم ہوا کہ بادشاہ کے ساتھ اٹھو ، بس سنتے ہی سُن ہو گئے اور سوائے معدودے چند کے باقی سب نے منہ موڑ لیا ، ان سے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی ، جس کا اللہ کو علم نہ ہو ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

246۔ 1 ملاء کسی قوم کے ان اشراف سردار اور اہل حل و عقد کو کہا جاتا ہے جو خاص مشیر اور قائد ہوتے ہیں جن کے دیکھنے سے آنکھیں اور دل رعب سے بھر جاتے ہیں ملا کے لغوی معنی (بھرنے کے ہیں) (ایسرالتفسیر) جس پیغمبر کا یہاں ذکر ہے اس کا نام شمویل بتلایا جاتا ہے۔ ابن کثیر وغیرہ مفسرین نے جو واقعہ بیان کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ بنو اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کچھ عرصے تک تو ٹھیک رہے، پھر ان میں انحراف آگیا دین میں بدعات ایجاد کرلیں حتیٰ کہ بتوں کی پوجا بھی شروع کردی انبیاء ان کو روکتے رہے لیکن یہ معصیت اور شرک سے بعض نہ آئے اس کے نتیجے میں اللہ نے ان کے دشمنوں کو ان پر مسلط کردیا جنہوں نے ان کے علاقے بھی چھین لئے اور ان کی ایک بڑی تعداد کو قیدی بھی بنا لیا ان میں نبوت وغیرہ کا سلسلہ بھی ختم ہوگیا بلآخر بعض لوگوں کی دعاؤں سے شمویل نبی پیدا ہوئے جنہوں نے دعوت اور تبلیغ کا کام شروع کیا۔ انہوں نے پیغمبر سے یہ مطالبہ کیا کہ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیں جس کی قیادت میں ہم دشمنوں سے لڑیں پیغمبر نے ان کے سابقہ کردار کے پیش نظر کہا کہ تم مطالبہ تو کر رہے ہو لیکن میرا اندازہ یہ ہے کہ تم اپنی بات پر قائم نہیں رہو گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا جیسا قرآن نے بیان کیا ہے۔ 246۔ 2 نبی کی موجودگی میں بادشاہ کا مطالبہ بادشاہت کے جواز کی دلیل ہے کیونکہ اگر بادشاہت جائز نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس مطالبے کو رد فرما دیتا لیکن اللہ نے اس معاملے کو رد نہیں فرمایا بلکہ طالوت کو ان کے لئے بادشاہ مقرر کردیا جیسے کہ آگے آرہا ہے اس سے معلوم ہوا کہ بادشاہ اگر مطلق العنان نہیں ہے اور وہ احکام الٰہی کا پابند اور عدل و انصاف کرنے والا ہے تو اس کی بادشاہت جائز ہی نہیں بلکہ مطلوب و محبوب بھی ہے مزید دیکھئے سورة المائدہ آیت۔ 20 کا حاشیہ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٤٣] بنی اسرائیل میں یہ دستور رہا ہے کہ ان کے حکمران بھی انبیاء ہی ہوا کرتے تھے۔ انہیں کے پاس مقدمات کے فیصلے ہوتے اور انہیں کی سر کردگی میں جہاد کیا جاتا تھا۔ گویا ان لوگوں میں صحیح نظام خلافت رائج تھا اور یہی وہ سیاسی نظام ہے جو اسلام کا جزولاینفک ہے۔ مگر ان لوگوں نے دوسرے ممالک کی دیکھا دیکھی جن میں نظام ملوکیت رائج تھا۔ اپنے بوڑھے نبی سموئیل (علیہ السلام) سے مطالبہ کردیا کہ ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کردو تاکہ ہم اس کی قیادت میں جہاد کریں اور حقیقتاً ان کا یہ مطالبہ محض جہاد سے راہ فرار کی ایک صورت تھی جو ان کی بزدلی پر دلالت کرتی تھی۔ جسے انہوں نے اس رنگ میں پیش کیا کہ تم تو بوڑھے ہوگئے اور ہمیں ایک نوجوان قائد درکار ہے اور قائدان کی مادہ پرست نظروں میں وہی ہوسکتا تھا جو بادشاہوں کی طرح کا ٹھاٹھ باٹھ رکھتا ہو۔ [٣٤٤] ان کے نبی سموئیل کو چونکہ اصل مرض کا علم تھا۔ لہذا اس نے ان سے پختہ عہد لیا کہ اگر بادشاہ مقرر کردیا جائے تو پھر تو جہاد سے راہ فرار اختیار نہ کرو گے ؟ جس کے جواب میں انہوں نے یقین دلایا کہ ہم ہرگز ایسا نہیں کریں گے اور کر بھی کیسے سکتے ہیں جبکہ ہم پہلے ہی بےگھر ہوچکے ہیں۔ دشمنوں نے ہمارے ملک چھین لیے، ہمارے بیوی بچوں کو لونڈی غلام بنا رکھا ہے۔ لہذا ہم کیوں نہ ان سے لڑیں گے۔ لیکن اس کے باوجود جب ان پر جہاد فرض ہوا تو مختلف حیلوں بہانوں اور کٹ حجتیوں سے اپنے کئے ہوئے عہد سے پھرنے لگے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

الْمَلَاِ : یہ ” مَلَأَ یَمْلَأُ (ف) “ یعنی ” پُر کرنا، بھرنا “ سے ہے۔ قوم کے سردار بھی اپنی ہیبت اور رعب سے آنکھیں بھر دیتے ہیں، اس لیے ان کو ” مَلَأٌ“ کہا جاتا ہے۔ اَلَمْ تَرَ “ سے ابتدا کر کے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کا ایک عجیب قصہ ذکر کرنا مقصود ہے کہ جب ان کی بزدلی اور ترک جہاد کی وجہ سے انھیں ان کے وطن سے نکال دیا گیا، ان کے بچوں اور عورتوں کو لونڈیاں اور غلام بنا لیا گیا تو ان کے سرداروں نے وقت کے نبی سے درخواست کی کہ آپ ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کردیں، تاکہ ہم اللہ کی راہ میں لڑیں۔ نبی کو ان کے مزاج اور عادات کا اندازہ تھا، انھوں نے کہا، اچھی طرح دیکھ لو ! جب تم پر قتال فرض ہوگیا تو تم نہیں لڑو گے۔ انھوں نے کہا، ہم اللہ کی راہ میں کیوں نہیں لڑیں گے، جب کہ ہمیں ہمارے گھروں اور بیٹوں سے نکال دیا گیا۔ آخر نبی کا اندازہ درست نکلا، لڑنے کے لیے چند لوگ ہی رہ گئے، مگر اللہ تعالیٰ نے جہاد میں استقامت کی بدولت ان کو بھی فتح عطا فرما دی۔ اس سے ترک جہاد کا نقصان یعنی وطن اور سلطنت سے محرومی اور اہل و عیال کا دشمن کی غلامی میں چلا جانا بیان کرنا مقصود ہے اور اس کا علاج بھی کہ یہ کھوئی ہوئی عزت جہاد کے بغیر کسی صورت دوبارہ حاصل نہیں ہوسکتی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمان اگر اپنا وطن حاصل کرنے کے لیے لڑیں تو یہ بھی جہاد فی سبیل اللہ ہے، کیونکہ زمین پر کفار کے قبضے سے اللہ کا کلمہ نیچا اور مسلمانوں کے قبضے سے اللہ کا کلمہ بلند ہوتا ہے۔ کچھ نادان بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں لڑائی کو وطن کے لیے لڑائی قرار دے کر اس کے فی سبیل اللہ قتال ہونے سے انکار کرتے ہیں، انھیں ان آیات پر غور کرنا چاہیے۔ جب ان پر قتال فرض ہوا تو نبی کے اندیشے کے مطابق اکثر لوگ لڑائی سے پیچھے ہٹ گئے، یہ ان کا اپنی جانوں پر ظلم تھا۔ ” بِالظّٰلِمِيْنَ “ میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ” ان ظالموں کو “ کیا گیا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary 1. Verse 246: إِذْ قَالُوا لِنَبِيٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ (When they said to a prophet of theirs: |"Send us a king so that we may fight in the way of Allah).|" These people from the Bani Isra&il had abandoned the injunctions given by Allah Almighty. When the infidel Amalekites were made to rule over them, they began thinking about correcting the situation. The name of the prophet mentioned here is Samuel (Arabic: Hebrew: Shemuel). Verse 248: The story of Talut and Jalut The Bani Isra&il used to have the legacy of a wooden chest (also identified as the Ark of the Covenant). Moses and other prophets of Bani Isra&il would keep this chest in the frontline of the battlefield. Its barakah بَرَکَہ (blessing, benediction) used to give them victory. When )Jalut: Goliath) overcame Bani Isra&il, he took this chest away with him. When Allah Almighty willed the return of the chest, it so happened that the infidels were struck by some epidemic or calamity at places where they carried this chest. Five cities were turned desolate. Nonplussed, they loaded it on two bullocks and drove them off. Then, the angels took control of the bullocks and made it reach Talut&s doorsteps. (Talut is the Qur&anic name of the king known in the Bible as Saul) When the Bani Isra&il saw this sign, they believed in the kingdom of Talut, who then mounted an attack on Jalut while the weather was very hot.

خلاصہ تفسیر : ربط آیات : مقصود اس مقام میں زیادہ ترغیب قتال کی ہے اوپر کا قصہ اسی کی تمہید ہے انفاق فی سبیل اللہ کا مضمون اسی کی تائید ہے آگے طالوت و جالوت کا قصہ اسی کی تاکید ہے نیز اللہ تعالیٰ نے اس قصے میں قبض وبسط کا بھی مشاہدہ کرا دیا جس کا ذکر ماقبل کی آیت واللّٰهُ يَـقْبِضُ وَيَبْصُطُ میں آیا ہے کہ فقیر کو بادشاہ بنانا اور بادشاہ سے باداشاہت چھین لینا سب اسی کے اختیار میں ہے۔ طالوت اور جالوت کا قصہ : (اے مخاطب) کیا تجھ کو بنی اسرائیل کی جماعت کا قصہ جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ہوا ہے تحقیق نہیں ہوا (جس سے پہلے ان پر کافر جالوت غالب آچکا تھا اور ان کے کئی صوبے دبالئے تھے) جب کہ ان لوگوں نے اپنے ایک پیغمبر سے کہا کہ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیجئے کہ ہم (اس کے ساتھ ہوکر) اللہ تعالیٰ کی راہ میں (جالوت سے) قتال کریں اس پیغمبر نے فرمایا کہ کیا یہ احتمال ہے اگر تم کو جہاد کا حکم دیا جائے کہ تم (اس وقت) جہاد نہ کرو وہ لوگ کہنے لگے کہ ہمارے واسطے ایسا کونسا سبب ہوگا کہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد نہ کریں حالانکہ (جہاد کے لئے ایک محرک بھی ہے وہ یہ کہ) ہم (ان کافروں کے ہاتھوں) اپنی بستیوں اور اپنے فرزندوں سے بھی جدا کردیئے گئے ہیں (کیونکہ ان کی بعض بستیاں بھی کافروں نے دبالی تھیں اور ان کی اولاد کو بھی قید کرلیا گیا تھا) پھر جب ان لوگوں کو جہاد کا حکم ہوا تو باستثناء ایک قلیل مقدار کے (باقی) سب پھرگئے (جیسا کہ آگے جہاد کی غرض سے بادشاہ کے مقرر ہونے کا اور ان لوگوں کے پھرجانے کا تفصیلا بیان آتا ہے) اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو (یعنی خلاف حکم کرنے والوں کو) خوب جانتے ہیں (سب کو مناسب سزا دیں گے) اور ان لوگوں سے ان کے پیغمبر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا کہنے لگے ان کو ہم پر حکمرانی کا کیسے حق حاصل ہوسکتا ہے حالانکہ بہ نسبت ان کے ہم حکمرانی کے زیادہ مستحق ہیں اور ان کو کچھ مالی وسعت بھی نہیں دی گئی (کیونکہ طالوت غریب آدمی تھے) ان پیغمبر نے (جواب میں) فرمایا کہ (اول تو) اللہ تعالیٰ نے تمہارے مقابلے میں ان کو منتخب فرمایا ہے (اور انتخاب کی مصلحتوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں) اور (دوسرے) علم (سیاست وحکمرانی) اور جسامت میں اس کو زیادتی دی ہے (اور بادشاہ ہونے کے لئے اس علم کی زیادہ ضرورت ہے تاکہ ملکی انتظام پر قادر ہو اور جسامت بھی بایں معنی ہے کہ موافق و مخالف کے قلب میں وقعت وہیبت ہو) اور (تیسرے) اللہ تعالیٰ (مالک الملک ہیں) اپنا ملک جس کو چاہیں دیں (ان سے کوئی سوال کا منصب نہیں رکھتا) اور (چوتھے) اللہ تعالیٰ وسعت دینے والے ہیں (ان کو مال دیدینا کیا مشکل ہے جس کے اعتبار سے تم کو شبہ ہو اور) جاننے والے ہیں (کہ کون لیاقت سلطنت کی رکھتا ہے) اور (جب ان لوگوں نے پیغمبر سے یہ درخواست کی کہ اگر کوئی ظاہری حجت بھی ان کو منجانب اللہ بادشاہ ہونے کی ہم مشاہدہ کرلیں تو اور زیادہ اطمینان ہوجاوے اس وقت) ان سے ان کے پیغمبر نے فرمایا کہ ان کے (منجانب اللہ) بادشاہ ہونے کی یہ علامت ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق (بدون تمہارے لائے ہوئے) آجائے گا جس میں تسکین (اور برکت) کی چیز ہے تمہارے رب کی طرف سے (یعنی تورات، اور تورات کا منجانب اللہ ہونا ظاہر ہے) اور کچھ بچی ہوئی چیزیں ہیں جن کو حضرت موسیٰ و حضرت ہارون (علیہما السلام) چھوڑ گئے ہیں (یعنی ان حضرات کے کچھ ملبوسات وغیرہ، غرض) اس صندوق کو فرشتے لے آویں گے اس (طرح کے صندوق کے آجانے) میں تم لوگوں کے واسطے پوری نشانی ہے اگر تم یقین لانے والے ہو، پھر جب (بنی اسرائیل نے طالوت کو بادشاہ تسلیم کرلیا اور جالوت کے مقابلے کے لئے جمع ہوگئے اور) طالوت فوجوں کو لے کر (اپنے مقام یعنی بیت المقدس سے عمالقہ کی طرف) چلے تو انہوں نے اپنے ( ہمراہی پیغمبر کی وحی کے ذریعے دریافت کرکے ساتھیوں سے) کہا کہ اب حق تعالیٰ (استقلالی وبے استقلالی میں) تمہارا امتحان کریں گے ایک نہر کے ذریعے (جو راہ میں آوے گی اور تم شدت تشنگی کے وقت اس پر گذرو گے) سو جو شخص اس سے (افراط کے ساتھ) پانی پیوے گا وہ تو میرے ساتھیوں میں نہیں اور جو اس کو زبان پر بھی نہ رکھے (اور اصل حکم یہی ہے) وہ میرے ساتھیوں میں ہے لیکن جو شخص اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے (تو اتنی رخصت ہے غرض وہ نہر راستے میں آئی پیاس کی تھی شدت) سو سب نے اس سے (بےتحاشا) پینا شروع کردیا مگر تھوڑے سے آدمیوں نے ان میں سے (احتیاط کی کسی نے بالکل نہ پیا ہوگا کسی نے چلو سے زیادہ نہ پیا ہوگا) سو جب طالوت اور جو مؤمنین ان کے ہمراہ تھے نہر سے پار اتر گئے (اور اپنے مجمع کو دیکھا تو تھوڑے سے آدمی رہ گئے اس وقت بعضے آدمی آپس میں) کہنے لگے کہ آج تو (ہمارا مجمع اتنا کم ہے کہ اس حالت سے) ہم جالوت اور اس کے لشکر کے مقابلے کی طاقت نہیں معلوم ہوتی (یہ سن کر) ایسے لوگ جن کو یہ خیال (پیش نظر) تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش ہونے والے ہیں کہنے لگے کہ کثرت سے (ایسے واقعات ہوچکے ہیں کہ) بہت سی چھوٹی چھوٹی جماعتیں بڑی بڑی جماعتوں پر خدا کے حکم سے غالب آگئی ہیں (اصل چیز استقلال ہے) اور اللہ تعالیٰ استقلال والوں کا ساتھ دیتے ہیں اور جب (دیار عمالقہ میں پہنچے اور) جالوت اور اس کی فوجوں کے سامنے میدان میں آگئے تو (دعاء میں حق تعالیٰ سے) کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہم پر (یعنی ہمارے قلوب پر) استقلال (غیب سے) نازل فرمائیے اور (مقابلہ کے وقت) ہمارے قدم جمائے رکھئے اور ہم کو اس کافر قوم پر غالب کیجئے پھر طالوت والوں نے جالوت والوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے شکست دے دی اور داؤد (علیہ السلام) نے (جو کہ اس وقت طالوت کے لشکر میں تھے اور اس وقت تک نبوت وغیرہ نہ ملی تھی) جالوت کو قتل کر ڈالا (اور مظفر ومنصور واپس آئے) اور اس کے بعد) ان کو (یعنی داؤد (علیہ السلام) کو) اللہ تعالیٰ نے سلطنت اور حکمت (یہاں حکمت سے مراد نبوت ہے) عطاء فرمائی اور بھی جو منظور ہوا انکو تعلیم فرمایا (جیسے بغیر آلات کے زرہ بنانا اور جانوروں کی بولی سمجھنا۔ آگے اس واقعہ کی مصلحت عامہ فرماتے ہیں) اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ تعالیٰ بعض آدمیوں کو (جو کہ مفسد ہوں) بعضوں کے ذریعے سے (جو کہ مصلح ہوں وقتا فوقتا دفع کرتے رہا کرتے ہیں (یعنی اگر مصلحین کو مفسدین پر غالب نہ کرتے رہتے) تو سر زمین (تمام تر) فساد سے پر ہوجاتی لیکن اللہ تعالیٰ بڑے فضل والے ہیں جہان والوں پر (اس لئے وقتا فوقتا اصلاح فرماتے رہتے ہیں) معارف و مسائل : (١) اِذْ قَالُوْا لِنَبِىٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۔ ان بنی اسرائیل نے حق تعالیٰ کے احکام کو چھوڑ دیا تھا کفار عمالقہ پر مسلط کردئیے گئے اس وقت ان لوگوں کو اصلاح کی فکر اور جس نبی کا یہاں ذکر ہے ان کا نام شموئیل مشہور ہے۔ (٢) اَنْ يَّاْتِيَكُمُ التَّابُوْتُ بنی اسرائیل میں ایک صندوق چلا آتا تھا اس میں برکات تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وغیرہ انبیاء (علیہم السلام) کے، بنی اسرائیل اس صندوق کو لڑائی میں آگے رکھتے اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے فتح دیتا جب جالوت بنی اسرائیل پر غالب آیا تو یہ صندوق بھی وہ لے گیا تھا جب اللہ تعالیٰ کو صندوق کا پہنچانا منظور ہوا تو یہ کیا کہ وہ کافر جہاں صندوق کو رکھتے وہیں وباء اور بلاء آئی پانچ شہر ویران ہوگئے ناچار ہو کردو بیلوں پر اس کو لاد کر ہانک دیا، فرشتے بیلوں کو ہانک کر طالوت کے دروازے پر پہنچا گئے، بنی اسرائیل اس نشانی کو دیکھ کر طالوت کی بادشاہت پر یقین لائے اور طالوت نے جالوت پر فوج کشی کردی اور موسم نہایت گرم تھا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى۝ ٠ ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِىٍّ لَّہُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ۝ ٠ ۭ قَالَ ھَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا۝ ٠ ۭ قَالُوْا وَمَا لَنَآ اَلَّا نُقَاتِلَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَقَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَاَبْنَاۗىِٕنَا۝ ٠ ۭ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْہِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْہُمْ۝ ٠ ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِـمِيْنَ۝ ٢٤٦ ملأ المَلَأُ : جماعة يجتمعون علی رأي، فيملئون العیون رواء ومنظرا، والنّفوس بهاء وجلالا . قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246] ( م ل ء ) الملاء ( م ل ء ) الملاء ۔ جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہوتونظروں کو ظاہری حسن و جمال اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھردے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246] نھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا ۔ اِسْرَاۗءِيْلَ ( بني) ، جمع ابن، والألف في ابن عوض من لام الکلمة المحذوفة فأصلها بنو . (إسرائيل) ، علم أعجمي، وقد يلفظ بتخفیف الهمزة إسراييل، وقد تبقی الهمزة وتحذف الیاء أي إسرائل، وقد تحذف الهمزة والیاء معا أي : إسرال . موسی مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته . نبی النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] . فالنَّبِيُّ بغیر الهمْز أبلغُ من النَّبِيء بالهمْز، لأنه ليس كلّ مُنَبَّإ رفیعَ القَدْر والمحلِّ ، ولذلک قال عليه الصلاة والسلام لمن قال : يا نَبِيءَ اللہ فقال : «لَسْتُ بِنَبِيءِ اللہ ولكنْ نَبِيُّ اللهِ» لمّا رأى أنّ الرّجل خاطبه بالهمز ليَغُضَّ منه . والنَّبْوَة والنَّبَاوَة : الارتفاع، ومنه قيل : نَبَا بفلان مکانُهُ ، کقولهم : قَضَّ عليه مضجعه، ونَبَا السیفُ عن الضَّرِيبة : إذا ارتدَّ عنه ولم يمض فيه، ونَبَا بصرُهُ عن کذا تشبيهاً بذلک . ( ن ب و ) النبی بدون ہمزہ کے متعلق بعض علمائے نحو نے کہا ہے کہ یہ اصل میں مہموز ہے لیکن اس میں ہمزہ متروک ہوچکا ہے اور اس پر وہ مسلیمۃ بنی سوء کے محاورہ سے استدلال کرتے ہیں ۔ مگر بعض علما نے کہا ہے کہ یہ نبوۃ بمعنی رفعت سے مشتق ہے اور نبی کو نبی اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے اندر معزز اور بلند اقداد کا حامل ہوتا ہے جیسا کہ آیت کریمہ :۔ وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] اور ہم نے ان کو بلند در جات سے نوازا کے مفہوم سے سمجھاتا ہے پس معلوم ہوا کہ نبی بدوں ہمزہ ( مہموز ) سے ابلغ ہے کیونکہ ہر منبا لوگوں میں بلند قدر اور صاحب مرتبہ نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ جب ایک شخص نے آنحضرت کو ارہ بغض ا نبی اللہ کہہ کر کر پکارا تو آپ نے فرمایا لست ینبی اللہ ولکن نبی اللہ کہ میں نبی اللہ نہیں ہوں بلکہ نبی اللہ ہوں ۔ النبوۃ والنباوۃ کے معنی بلندی کے ہیں اسی سے محاورہ ہے ۔ نبا بفلان مکا نہ کہ اسے یہ جگہ راس نہ آئی جیسا کہ قض علیہ مضجعۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی بےچینی سے کروٹیں لینے کے ہیں نبا السیف عن لضربیۃ تلوار کا اچٹ جانا پھر اس کے ساتھ تشبیہ دے کر نبا بصر ہ عن کذا کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے کرا ہت کرنے کے ہیں ۔ بعث أصل البَعْث : إثارة الشیء وتوجيهه، يقال : بَعَثْتُهُ فَانْبَعَثَ ، ويختلف البعث بحسب اختلاف ما علّق به، فَبَعَثْتُ البعیر : أثرته وسيّرته، وقوله عزّ وجل : وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] ، أي : يخرجهم ويسيرهم إلى القیامة، فالبعث ضربان : - بشريّ ، کبعث البعیر، وبعث الإنسان في حاجة . - وإلهي، وذلک ضربان : - أحدهما : إيجاد الأعيان والأجناس والأنواع لا عن ليس وذلک يختص به الباري تعالی، ولم يقدر عليه أحد . والثاني : إحياء الموتی، وقد خص بذلک بعض أولیائه، كعيسى صلّى اللہ عليه وسلم وأمثاله، ومنه قوله عزّ وجل : فَهذا يَوْمُ الْبَعْثِ [ الروم/ 56] ، يعني : يوم الحشر ( ب ع ث ) البعث ( ف ) اصل میں بعث کے معنی کسی چیز کو ابھارنے اور کسی طرف بیجھنا کے ہیں اور انبعث در اصل مطاوع ہے بعث کا مگر متعلقات کے لحاظ سے اس کے معنی مختلف ہوتے رہتے ہیں مثلا بعثت البعیر کے معنی اونٹ کو اٹھانے اور آزاد چھوڑ دینا کے ہیں اور مردوں کے متعلق استعمال ہو تو قبروں سے زندہ کرکے محشر کی طرف چلانا مراد ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] اور مردوں کو تو خدا ( قیامت ہی کو ) اٹھایا جائے گا پس بعث دو قمخ پر ہے بعث بشری یعنی جس کا فاعل انسان ہوتا ہے جیسے بعث البعیر ( یعنی اونٹ کو اٹھاکر چلانا ) کسی کو کسی کام کے لئے بھیجنا ) دوم بعث الہی یعنی جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو پھر اس کی بھی دوقسمیں ہیں اول یہ کہ اعیان ، اجناس اور فواع کو عدم سے وجود میں لانا ۔ یہ قسم اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اور اس پر کبھی کسی دوسرے کو قدرت نہیں بخشی ۔ دوم مردوں کو زندہ کرنا ۔ اس صفت کے ساتھ کبھی کبھی اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو بھی سرفراز فرمادیتا ہے جیسا کہ حضرت عیسٰی (علیہ السلام) اور ان کے ہم مثل دوسری انبیاء کے متعلق مذکور ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَهذا يَوْمُ الْبَعْثِ [ الروم/ 56] اور یہ قیامت ہی کا دن ہے ۔ بھی اسی قبیل سے ہے یعنی یہ حشر کا دن ہے ملك ( فرشته) وأما المَلَكُ فالنحویون جعلوه من لفظ الملائكة، وجعل المیم فيه زائدة . وقال بعض المحقّقين : هو من المِلك، قال : والمتولّي من الملائكة شيئا من السّياسات يقال له : ملک بالفتح، ومن البشر يقال له : ملک بالکسر، فكلّ مَلَكٍ ملائكة ولیس کلّ ملائكة ملکاقال : وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] ، عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] ( م ل ک ) الملک الملک علمائے نحو اس لفظ کو ملا ئکۃ سے ماخوذ مانتے ہیں اور اس کی میم کو زائد بناتے ہیں لیکن بعض محقیقن نے اسے ملک سے مشتق مانا ہے اور کہا ہے کہ جو فرشتہ کائنات کا انتظام کرتا ہے اسے فتحہ لام کے ساتھ ملک کہا جاتا ہے اور انسان کو ملک ہیں معلوم ہوا کہ ملک تو ملا ئکۃ میں ہے لیکن کل ملا ئکۃ ملک نہیں ہو بلکہ ملک کا لفظ فرشتوں پر بولا جاتا ہے کی طرف کہ آیات ۔ وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] اور فرشتے اس کے کناروں پر اتر آئیں گے ۔ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] اور ان باتوں کے بھی پیچھے لگ گئے جو دو فرشتوں پر اتری تھیں ۔ سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔ عسی عَسَى طَمِعَ وترجّى، وكثير من المفسّرين فسّروا «لعلّ» و «عَسَى» في القرآن باللّازم، وقالوا : إنّ الطّمع والرّجاء لا يصحّ من الله، وفي هذا منهم قصورُ نظرٍ ، وذاک أن اللہ تعالیٰ إذا ذکر ذلک يذكره ليكون الإنسان منه راجیا لا لأن يكون هو تعالیٰ يرجو، فقوله : عَسى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ [ الأعراف/ 129] ، أي : کونوا راجین ( ع س ی ) عسیٰ کے معنی توقع اور امید ظاہر کرنا کے ہیں ۔ اکثر مفسرین نے قرآن پاک میں اس کی تفسیر لازم منعی یعنی یقین سے کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حق میں طمع اور جا کا استعمال صحیح نہیں ہے مگر یہ ان کی تاہ نظری ہے کیونکہ جہاں کہیں قرآن میں عسی کا لفظ آیا ہے وہاں اس کا تعلق انسان کے ساتھ ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کیساتھ لہذا آیت کریمہ : ۔ عَسى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ [ الأعراف/ 129] کے معنی یہ ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ سے امید رکھو کہ تمہارے دشمن کو ہلاک کردے كتب ( فرض) ويعبّر عن الإثبات والتّقدیر والإيجاب والفرض والعزم بِالْكِتَابَةِ ، ووجه ذلك أن الشیء يراد، ثم يقال، ثم يُكْتَبُ ، فالإرادة مبدأ، والکِتَابَةُ منتهى. ثم يعبّر عن المراد الذي هو المبدأ إذا أريد توكيده بالکتابة التي هي المنتهى، قال : كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي [ المجادلة/ 21] ، وقال تعالی: قُلْ لَنْ يُصِيبَنا إِلَّا ما كَتَبَ اللَّهُ لَنا [ التوبة/ 51] ، لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ [ آل عمران/ 154] نیز کسی چیز کے ثابت کردینے اندازہ کرنے ، فرض یا واجب کردینے اور عزم کرنے کو کتابہ سے تعبیر کرلیتے ہیں اس لئے کہ پہلے پہل تو کسی چیز کے متعلق دل میں خیال پیدا ہوتا ہے پھر زبان سے ادا کی جاتی ہے اور آخر میں لکھ جاتی ہے لہذا ارادہ کی حیثیت مبداء اور کتابت کی حیثیت منتھیٰ کی ہے پھر جس چیز کا ابھی ارادہ کیا گیا ہو تاکید کے طورپر اسے کتب س تعبیر کرلیتے ہیں جو کہ دراصل ارادہ کا منتہیٰ ہے ۔۔۔ چناچہ فرمایا : كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي[ المجادلة/ 21] خدا کا حکم ناطق ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور غالب رہیں گے ۔ قُلْ لَنْ يُصِيبَنا إِلَّا ما كَتَبَ اللَّهُ لَنا [ التوبة/ 51] کہہ دو کہ ہم کو کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی بجز اس کے کہ جو خدا نے ہمارے لئے مقدر کردی ہے ۔ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ [ آل عمران/ 154] تو جن کی تقدیر میں مار جانا لکھا تھا ۔ وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف ضرو ر نکل آتے ۔ دار الدَّار : المنزل اعتبارا بدورانها الذي لها بالحائط، وقیل : دارة، وجمعها ديار، ثم تسمّى البلدة دارا، والصّقع دارا، والدّنيا كما هي دارا، والدّار الدّنيا، والدّار الآخرة، إشارة إلى المقرّين في النّشأة الأولی، والنّشأة الأخری. وقیل : دار الدّنيا، ودار الآخرة، قال تعالی: لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ، أي : الجنة، ( د و ر ) الدار ۔ منزل مکان کو کہتے ہیں کیونکہ وہ چار دیواری سے گھرا ہوتا ہے بعض نے دراۃ بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کی جمع دیار ہے ۔ پھر دار کا لفظ شہر علاقہ بلکہ سارے جہان پر بولا جاتا ہے اور سے نشاۃ اولٰی اور نشاہ ثانیہ میں دو قرار گاہوں کی طرف اشارہ ہے بعض نے ( باضافت ) بھی کہا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ : لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ان کے لئے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے ۔ ( ابْنُ ) أصله : بنو، لقولهم في الجمع : أَبْنَاء، وفي التصغیر : بُنَيّ ، قال تعالی: يا بُنَيَّ لا تَقْصُصْ رُؤْياكَ عَلى إِخْوَتِكَ [يوسف/ 5] ، يا بُنَيَّ إِنِّي أَرى فِي الْمَنامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ [ الصافات/ 102] ، يا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ [ لقمان/ 13] ، يا بنيّ لا تعبد الشیطان، وسماه بذلک لکونه بناء للأب، فإنّ الأب هو الذي بناه وجعله اللہ بناء في إيجاده، ويقال لكلّ ما يحصل من جهة شيء أو من تربیته، أو بتفقده أو كثرة خدمته له أو قيامه بأمره : هو ابنه، نحو : فلان ابن الحرب، وابن السبیل للمسافر، وابن اللیل، وابن العلم، قال الشاعر أولاک بنو خير وشرّ كليهما وفلان ابن بطنه وابن فرجه : إذا کان همّه مصروفا إليهما، وابن يومه : إذا لم يتفكّر في غده . قال تعالی: وَقالَتِ الْيَهُودُ : عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ ، وَقالَتِ النَّصاری: الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ [ التوبة/ 30] وقال تعالی: إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي [هود/ 45] ، إِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ [يوسف/ 81] ، وجمع ابْن : أَبْنَاء وبَنُون، قال عزّ وجل : وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْواجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً [ النحل/ 72] ، وقال عزّ وجلّ : يا بَنِيَّ لا تَدْخُلُوا مِنْ بابٍ واحِدٍ [يوسف/ 67] ، يا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ [ الأعراف/ 31] ، يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] ، ويقال في مؤنث ابن : ابْنَة وبِنْت، وقوله تعالی: هؤُلاءِ بَناتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ [هود/ 78] ، وقوله : لَقَدْ عَلِمْتَ ما لَنا فِي بَناتِكَ مِنْ حَقٍّ [هود/ 79] ، فقد قيل : خاطب بذلک أکابر القوم وعرض عليهم بناته «1» لا أهل قریته كلهم، فإنه محال أن يعرض بنات له قلیلة علی الجمّ الغفیر، وقیل : بل أشار بالبنات إلى نساء أمته، وسماهنّ بنات له لکون کلّ نبيّ بمنزلة الأب لأمته، بل لکونه أكبر وأجل الأبوین لهم كما تقدّم في ذکر الأب، وقوله تعالی: وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَناتِ [ النحل/ 57] ، هو قولهم عن اللہ : إنّ الملائكة بنات اللہ . الابن ۔ یہ اصل میں بنو ہے کیونکہ اس کی جمع ابناء اور تصغیر بنی آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : يا بُنَيَّ لا تَقْصُصْ رُؤْياكَ عَلى إِخْوَتِكَ [يوسف/ 5] کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا ۔ يا بُنَيَّ إِنِّي أَرى فِي الْمَنامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ [ الصافات/ 102] کہ بیٹا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ ( گویا ) تم کو ذبح کررہاہوں ۔ يا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ [ لقمان/ 13] کہ بیٹا خدا کے ساتھ شریک نہ کرنا ۔ يا بنيّ لا تعبد الشیطانبیٹا شیطان کی عبادت نہ کرنا ۔ اور بیٹا بھی چونکہ اپنے باپ کی عمارت ہوتا ہے اس لئے اسے ابن کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ باپ کو اللہ تعالٰٰ نے اس کا بانی بنایا ہے اور بیٹے کی تکلیف میں باپ بمنزلہ معمار کے ہوتا ہے اور ہر وہ چیز جو دوسرے کے سبب اس کی تربیت دیکھ بھال اور نگرانی سے حاصل ہو اسے اس کا ابن کہا جاتا ہے ۔ نیز جسے کسی چیز سے لگاؤ ہوا است بھی اس کا بن کہا جاتا جسے : فلان ابن حرب ۔ فلان جنگ جو ہے ۔ ابن السبیل مسافر ابن اللیل چور ۔ ابن العلم پروردگار وہ علم ۔ شاعر نے کہا ہے ع ( طویل ) یہ لوگ خیر وزر یعنی ہر حالت میں اچھے ہیں ۔ فلان ابن بطنہ پیٹ پرست فلان ابن فرجہ شہوت پرست ۔ ابن یومہ جو کل کی فکر نہ کرے ۔ قرآن میں ہے : وَقالَتِ الْيَهُودُ : عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ ، وَقالَتِ النَّصاری: الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ [ التوبة/ 30] اور یہود کہتے ہیں کہ عزیز خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے میں کہ مسیح خدا کے بیٹے ہیں ۔ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي [هود/ 45] میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے ۔ إِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ [يوسف/ 81] کہ اب آپکے صاحبزادے نے ( وہاں جاکر ) چوری کی ۔ ابن کی جمع ابناء اور بنون آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْواجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً [ النحل/ 72] اور عورتوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کئے يا بَنِيَّ لا تَدْخُلُوا مِنْ بابٍ واحِدٍ [يوسف/ 67] کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا ۔ يا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ [ الأعراف/ 31] ( 3 ) اے نبی آدم ہر نماز کے وقت اپنے تیئں مزین کیا کرو ۔ يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] اے نبی آدم ( دیکھنا کہیں ) شیطان تمہیں بہکانہ دے ۔ اور ابن کی موئث ابنۃ وبنت اور ان کی جمع اور ابن کی موئث ابنۃ وبنت اور ان کی جمع بنات آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ هؤُلاءِ بَناتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ [هود/ 78] ( جو ) میری ) قوم کی ) لڑکیاں ہیں تمہارے لئے جائز اور ) پاک ہیں ۔ لَقَدْ عَلِمْتَ ما لَنا فِي بَناتِكَ مِنْ حَقٍّ [هود/ 79] تمہاری ۃ قوم کی ) بیٹیوں کی ہمیں کچھ حاجت نہیں ۔ بعض کہتے ہیں کہ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اکابر قوم خطاب کیا تھا اور ان کے سامنے اپنی بیٹیاں پیش کی تھیں ۔ مگر یہ ناممکن سی بات ہے کیونکہ نبی کی شان سے بعید ہے کہ وہ اپنی چند لڑکیاں مجمع کثیر کے سامنے پیش کرے اور بعض نے کہا ہے کہ بنات سے ان کی قوم کی عورتیں مراد ہیں اور ان کو بناتی اس لئے کہا ہے کہ ہر نبی اپنی قوم کے لئے بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے بلکہ والدین سے بھی اس کا مرتبہ بڑا ہوتا ہے جیسا کہ اب کی تشریح میں گزر چکا ہے اور آیت کریمہ : وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَناتِ [ النحل/ 57] اور یہ لوگ خدا کے لئے تو بیٹیاں تجویز کرتے ہیں ۔ کے مونی یہ ہیں کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتی ہیں ۔ ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] اور جو شخص تم میں ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر سے دوستی کرے گا ۔ اور تعدیہ بعن کے متعلق فرمایا : ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے ۔ قل القِلَّةُ والکثرة يستعملان في الأعداد، كما أنّ العظم والصّغر يستعملان في الأجسام، ثم يستعار کلّ واحد من الکثرة والعظم، ومن القلّة والصّغر للآخر . وقوله تعالی: ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] ( ق ل ل ) القلۃ والکثرۃ بلحاظ اصل وضع کے صفات عدد سے ہیں جیسا کہ عظم اور صغر صفات اجسام سے ہیں بعد کثرت وقلت اور عظم وصغڑ میں سے ہر ایک دوسرے کی جگہ بطور استعارہ استعمال ہونے لگا ہے اور آیت کریمہ ؛ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہیں رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن ۔ میں قلیلا سے عرصہ قلیل مراد ہے ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی سب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٤٦) اے مخاطب تجھے اس قوم تجھے اس قوم کا واقعہ معلوم ہے، جس وقت انہوں نے اپنے نبی شموئیل (علیہ السلام) سے کہا کہ ہمارے لشکر پر ایک بادشاہ مقرر کردیجیے کہ جس کے حکم سے ہم اپنے دشمن (جالوت) سے اللہ کی راہ میں لڑائی کریں ان کے نبی نے فرمایا کیا تم اس کی طاقت رکھتے ہو (اور اگر عسیتم “ ، سین کے زیر کے ساتھ پڑھا جائے تو مطلب یہ ہوگا کیا تم یہ سمجھتے ہو) اگر تم پر تمہارے دشمن کے ساتھ جہاد کو فرض قرار دیا جائے تو تم جہاد جہاد نہیں کرسکو گے وہ کہنے لگے ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم خدا کے راستے میں جہاد نہ کریں دراصل ہم اپنی بستیوں سے نکال دیئے گئے اور ہمارے بیٹوں کو بھی قیدی بنا لیا گیا، چناچہ جب ان پر قتال فرض ہوا تو تقریبا تین سو تیرہ آدمیوں کے علاوہ سب اپنے دشمنوں سے قتال کرنے سے منکر ہوگئے، اور جنھوں نے اپنے دشمن سے قتال نہ کیا، اللہ تعالیٰ ان کو اچھی طرح جانتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٤٦ (اَلَمْ تَرَ اِلَی الْمَلَاِ مِنْم بَنِیْ اِسْرَآءِ یْلَ مِنْم بَعْدِ مُوْسٰی ٧ ) (اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّہُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِکًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط) یہاں بادشاہ سے مراد امیر اور سپہ سالار ہے۔ ظاہر بات ہے کہ نبی کی موجودگی میں بلندترین مرتبہ تو نبی ہی کا رہے گا ‘ لیکن ایک ایسا امیر نامزد کردیجیے جو نبی کے تابع ہو کر جنگ کی سپہ سالاری کرسکے۔ میں حدیث بیان کرچکا ہوں کہ بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) تک کوئی نہ کوئی نبی ضرور موجود رہا ہے۔ اس وقت سیموئیل نبی تھے جن سے سرداران بنی اسرائیل نے یہ فرمائش کی تھی۔ (قَالَ ہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ اَلاَّ تُقَاتِلُوْا ط) یعنی ابھی تو تمہارے بڑے دعوے ہیں ‘ بڑے جوش و خروش اور بہادری کا اظہار کر رہے ہو ‘ لیکن کہیں ایسا تو نہیں ہوگا کہ میں اللہ تعالیٰ سے جنگ کی اجازت بھی لوں اور تمہارے لیے کوئی سپہ سالار یا بادشاہ بھی مقرر کر دوں اور پھر تم جنگ سے کنی کترا جاؤ ؟ (قَالُوْا وَمَا لَنَآ اَلاَّ نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ) (وَقَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَاََبْنَآءِنَا ط) دشمنوں نے ان کے بیٹوں کو غلام اور ان کی عورتوں کو باندیاں بنا لیا تھا اور یہ اپنے ملکوں سے خوف کے مارے بھاگے ہوئے تھے۔ چناچہ انہوں نے کہا کہ اب ہم جنگ نہیں کریں گے تو کیا کریں گے ؟ (فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْہِمُ الْقِتَالُ ) (تَوَلَّوْا الاَّ قَلِیْلاً مِّنْہُمْ ط) یہ گویا مسلمانوں کو تنبیہہ کی جا رہی ہے کہ تم بھی بہت کہتے رہے ہو کہ حضور ہمیں جنگ کی اجازت ملنی چاہیے ‘ لیکن ایسا نہ ہو کہ جب جنگ کا حکم آئے تو وہ تمہیں ناگوار گزرے۔ آیت ٢١٦ میں ہم یہ الفاظ پڑھ چکے ہیں : (کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَھُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ ج) تم پر جنگ فرض کی گئی ہے اور وہ تمہیں ناگوار ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

268. This took place about a thousand years before Christ. At that time the Israelites were persecuted by the Amalekites who had deprived them of the greater part of Palestine. The Prophet Samuel, who was then ruling over the Israelites, was old. The elders of Israel, therefore, felt the need to appoint as their head someone else under whose leadership they could wage wars. By that time, however, the Israelites had become so deeply infected with Ignorance, and the customs and practices of non-Muslim nations had made such inroads into their lives that the distinction between a religious state committed to serving God and secular monarchy was lost on them. They consequently asked God to appoint a king rather than a religious ruler (khalifah) over them. The information contained in the Bible is as follows: Samuel judged Israel all the days of his life. . . . Then all the elders of Israel gathered together and came to Samuel at Ramah, and said to him, 'Behold, you are old and your sons do not walk in your ways; now appoint for us a king to govern us like all the nations.' But the thing displeased Samuel when they said, 'Give us a king to govern us'. And Samuel prayed to the Lord. And the Lord said to Samuel, 'Hearken to the voice of the people in what they say to you, for they have not rejected you, but they have rejected me from being king over them. According to all the deeds which they have done to me, from the day I brought them up out of Egypt even to this day, forsaking me and serving other gods, so they are also doing to you . . . ' So Samuel told all the words of the Lord to the people who were asking a king for him. He said, 'These will be the ways of the king who will reign over you; he will take your sons and appoint them to his chariots and to be his horsemen, and to run before his chariots. And he will appoint for himself commanders of thousands and commanders of fifties, and some to plough his ground and to reap his harvest, and to make the implements of war and the equipments of his chariots. He will take your daughters to be perfumers and cooks and bakers. He will take the best of your fields and vineyards and olive orchards and give them to his servants. He will take the tenth of your grain and your vineyards and give it to his officers and to his servants. He will take you men-servants and maid-servants, and the best of your cattle and asses, and put them to his work. He will take the tenth of your flocks, and you shall be his slaves. And on that day you will cry out because of your king, whom you have chosen for yourselves, but the Lord will not answer you in that day.' But the people refused to listen to the voice of Samuel, and they said. 'No! But we will have a king over us, that we also may be like all the nations, and that our king may govern us and go out before us and fight our battles.' And when Samuel had heard all the words of the people, he repeated them in the ears of the Lord. And the Lord said to Samuel, 'Hearken to their voice, and make them a king.' Samuel then said to the men of Israel, 'Go every man to his city.' (1 Samuel 7: 15; 8: 4-22.) And Samuel said to the people ? 'And when you saw that Nahash the king of Ammonites came against you, You said to me, No, but a king shall reign over us, when the Lord your God was your king. And now behold the king whom you have chosen, for whom you have asked; behold, the Lord has set a king over you. If you will fear the Lord and serve him and hearken to his voice and not rebel against the commandment of the Lord, and if both you and the king who reigns over you will follow the Lord your God, it will be well; but if you will not hearken to the voice of the Lord, but rebel against the commandment of the Lord, then the hand of the Lord will be against you and your king. Now therefore stand still and see this great thing, which the Lord will do before your eyes. Is it not wheat harvest today? I will call upon the Lord, that he may send thunder and rain; and you shall know and see that your wickedness is great, which you have done in the sight of the Lord, in asking for yourselves a king.' So Samuel called upon the Lord, and the Lord sent thunder and rain that day; and all the people greatly feared the Lord and Samuel. And all the people said to Samuel, 'Pray for your servants to the Lord your God, that we may not die, for we have added to all our sins this evil, to ask for a king.' And Samuel said to the people, 'Fear not; you have done all this evil, yet do not turn aside front following the Lord, but serve the Lord with all your heart, and do not turn aside after vain things which cannot profit or save, for they are vain. For the Lord will not cast away his people, for his great name's sake, because it has pleased the Lord to make you a people for himself. Moreover as for me, far be it from me that I should sin against the Lord by ceasing to pray for you; and I will instruct you in the good and right way?' (1 Samuel 12: 6-23) . These statements from Samuel make it clear that the demand to appoint a king was disagreeable to God and to His Prophet. It might be asked, however, why the Qur'an does not contain any denunciation of this demand of the elders of Israel. The reason is that to the purpose for which this incident has been cited the appropriateness and otherwise of the demand is irrelevant. The purpose here is to show the extent to which cowardice and self-indulgence had become part of Israelite life, and to show how the lack of moral restraint had come to characterize their conduct. It is these which ultimately led to their decline. The aim of the Qur'anic narrative is to enable Muslims to derive a lesson from this and to ensure that these weaknesses do not creep into their own lives.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :268 یہ تقریباً ایک ہزار برس قبل مسیح کا واقعہ ہے ۔ اس وقت بنی اسرائیل پر عمالقہ چیرہ دست ہوگئے تھے اور انہوں نے اسرائیلیوں سے فلسطین کے اکثر علاقے چھین لیے تھے ۔ سموئیل نبی اس زمانے میں بنی اسرائیل کے درمیان حکومت کرتے تھے ، مگر وہ بہت بوڑھے ہو چکے تھے ۔ اس لیے سرداران بنی اسرائیل نے یہ ضرورت محسوس کی کہ کوئی اور شخص ان کا سربراہ کار ہو ، جس کی قیادت میں وہ جنگ کر سکیں ۔ لیکن اس وقت بنی اسرائیل میں اس قدر جاہلیت آچکی تھی اور وہ غیر مسلم قوموں کے طور طریقوں سے اتنے متاثر ہوچکے تھے کہ خلافت اور پادشاہی کا فرق ان کے ذہنوں سے نکل گیا تھا ۔ اس لیے انھوں نے درخواست جو کی ، وہ خلیفہ کے تقرر کی نہیں ، بلکہ ایک بادشاہ کے تقرر کی تھی ۔ اس سلسلے میں بائیبل کی کتاب سموئیل اول میں جو تفصیلات بیان ہوئی ہیں ، وہ حسب ذیل ہیں: ”سموئیل زندگی بھر اسرائیلیوں کی عدالت کرتا رہا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تب سب اسرائیلی بزرگ جمع ہو کر رامہ میں سموئیل کے پاس آئے اور اس سے کہنے لگے کہ دیکھ ، تو ضعیف ہے اور تیرے بیٹے تیری راہ پر نہیں چلتے ۔ اب تو کسی کو ہمارا بادشاہ مقرر کر دے ، جو اور قوموں کی طرح ہماری عدالت کرے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ بات سموئیل کو بری لگی اور سموئیل نے خداوند سے دعا کی اور خدا نے سموئیل سے کہا کہ جو کچھ یہ لوگ تجھ سے کہتے ہیں تو اس کو مان کیونکہ انہوں نے تیری نہیں بلکہ میری حقارت کی ہے کہ میں ان کا بادشاہ نہ رہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور سموئیل نے ان لوگوں کو ، جو اس سے بادشاہ کے طالب تھے ، خداوند کی سب باتیں کہہ سنائیں اور اس نے کہا کہ جو بادشاہ تم پر سلطنت کرے گا ، اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ وہ تمہارے بیٹوں کو لے کر اپنے رتھوں کے لیے اور اپنے رسالے میں نوکر رکھے گا اور وہ اس کے رتھوں کے آگے دوڑیں گے اور وہ ان کو ہزار ہزار کے سردار اور پچاس پچاس کے جمعدار بنائے گا اور بعض سے ہل جتوائے گا اور فصل کٹوائے گا اور اپنے لیے جنگ کے ہتھیار اور رتھوں کے ساز بنوائے گا اور تمہاری بیٹیوں کو گندھن اور باورچن اور نان پز بنائے گا اور تمہارے کھیتوں اور تاکستانوں اور زیتون کے باغوں کو ، جو اچھے سے اچھے ہوں گے ، لے کر اپنے خدمت گاروں کو عطا کرے گا اور تمہارے کھیتوں اور تاکستانوں کا دسواں حصہ لے کر اپنے خواجوں اور خادموں کو دے گا اور تمہارے نوکر چاکر اور لونڈیوں اور تمہارے شکیل جوانوں اور تمہارے گدھوں کو لے کر اپنے کام پر لگائے گا اور وہ تمہاری بھیڑ بکریوں کا بھی دسواں حصہ لے گا ۔ سو تم اس کے غلام بن جاؤ گے اور تم اس دن اس بادشاہ کے سبب سے ، جسے تم نے اپنے لیے چنا ہوگا فریاد کرو گے ، پر اس دن خداوند تم کو جواب نہ دے گا ۔ تو بھی لوگوں نے سموئیل کی بات نہ سنی اور کہنے لگے نہیں ، ہم تو بادشاہ چاہتے ہیں ، جو ہمارے اوپر ہو تاکہ ہم بھی اور قوموں کی مانند ہوں اور ہمارا بادشاہ ہماری عدالت کرے اور ہمارے آگے آگے چلے اور ہماری طرف سے لڑائی کرے ۔ ۔ ۔ ۔ خداوند نے سموئیل کو فرمایا ، تو ان کی بات مان لے اور ان کے لیے ایک بادشاہ مقرر کر ۔ “ ( باب ۷ آیت ۱۵ تا باب ۸ آیت ۲۲ ) ”پھر سموئیل لوگوں سے کہنے لگا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب تم نے دیکھا بنی عمون کا بادشاہ ناحس تم پر چڑھ آیا ، تو تم نے مجھ سے کہا کہ ہم پر کوئی بادشاہ سلطنت کرے ، حالانکہ خداوند تمہارا خدا تمہارا بادشاہ تھا ۔ سو اب اس بادشاہ کو دیکھو ، جسے تم نے چن لیا اور جس کے لیے تم نے درخواست کی تھی ۔ دیکھو خداوند نے تم پر بادشاہ مقرر کر دیا ہے ۔ اگر تم خداوند سے ڈرتے اور اس کی پرستش کرتے اور اس کی بات مانتے رہو اور خداوند کے حکم سے سرکشی نہ کرو اور تم اور وہ بادشاہ بھی ، جو تم پر سلطنت کرتا ہے ، خداوند اپنے خدا کے پیرو بنے رہو ، تو خیر ، پر اگر تم خداوند کی بات نہ مانو ، بلکہ خداوند کے حکم سے سرکشی کرو ، تو خداوند کا ہاتھ تمہارے خلاف ہو گا ، جیسے وہ تمہارے باپ داد ا کے خلاف ہوتا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور تم جان لو گے اور دیکھ بھی لو گے کہ تم نے خداوند کے حضور اپنے لیے بادشاہ مانگنے سے کتنی بڑی شرارت کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب رہا میں ، سو خدا نہ کرے کہ تمہارے لیے دعا کرنے سے باز آکر خداوند کا گنہگار ٹھیروں ، بلکہ میں وہی راہ ، جو اچھی اور سیدھی ہے ، تم کو بتاؤں گا ۔ “ ( باب ۱۲ ۔ آیت ۱۲ تا ۲۳ ) کتاب سموئیل کی ان تصریحات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بادشاہت کے قیام کا یہ مطالبہ اللہ اور اس کے نبی کو پسند نہ تھا ۔ اب رہا یہ سوال کہ قرآن مجید میں اس مقام پر سرداران بنی اسرائیل کے اس مطالبے کی مذمت کیوں نہیں کی گئی ، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں اس قصے کا ذکر جس غرض کے لیے کیا ہے ، اس سے یہ مسئلہ غیر متعلق ہے کہ ان کا مطالبہ صحیح تھا یا نہ تھا ۔ یہاں تو یہ بتانا مقصود ہے کہ بنی اسرائیل کس قدر بزدل ہو گئے تھے اور ان میں کس قدر نفسانیت آگئی تھی اور ان کے اندر اخلاقی انضباط کی کتنی کمی تھی ، جس کے سبب سے آخر کار وہ گر گئے ۔ اور اس ذکر کی غرض یہ ہے کہ مسلمان اس سے عبرت حاصل کریں اور اپنے اندر یہ کمزوریاں پرورش نہ کریں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

165: یہاں نبی سے مراد حضرت سموئیل علیہ السلام ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تقریبا ساڑھے تین سو سال بعد پیغمبر بنائے گئے تھے، سورہ مائدہ (۵: ۴۲) میں مذکور ہے کہ فرعون سے نجات پانے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو ان عمالقہ سے جہاد کرنے کی دعوت دی تھی جو بنی اسرائیل کے وطن فلسطین پر قابض ہوگئے تھے مگر بنی اسرائیل نے انکار کردیا، جس کی سزا میں انہیں صحرائے سینا میں محصور کردیا گیا، اور اسی حالت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوگئی، بعد میں حضرت یوشع علیہ السلام کی قیادت میں فلسطین کا ایک بڑا علاقہ فتح ہوا۔ حضرت یوشع علیہ السلام آخر عمر تک ان کی نگرانی کرتے رہے، اور ان کے معاملات کے تصفیے کے لئے قاضی مقررکئے۔ تقریبا تین سو سال تک نظام اسی طرح چلتا رہا کہ بنی اسرائیل کا کوئی بادشاہ یا حکمران نہیں تھا، بلکہ قبیلوں کے سردار حضرت یوشع علیہ السلام کے مقرر کئے ہوئے نظام کے تحت قاضی ہوا کرتے تھے، اسی لئے اس دور کو قاضیوں کا زمانہ کہا جاتا تھا۔ بائبل کی کتاب قضا میں اسی زمانے کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ چونکہ اس دور میں پوری قوم کا کوئی متفقہ حکمران نہیں تھا، اس لئے آس پاس کی قومیں ان پر حملہ آور ہوتی رہتی تھیں۔ آخر میں فلسطین کی بت پرست قوم نے ان پر حملہ کرکے انہیں سخت شکست دی اور وہ متبرک صندوق بھی اٹھا کرلے گئے جس میں حضرت موسی اور حضرت ہارون علیہما السلام کی کچھ یادگاریں، تورات کا نسخہ اور آسمانی غذا’’ من‘‘ کا مرتبان محفوظ تھا، اور جسے بنی اسرائیل تبرک کے لئے جنگوں کے موقع پر آگے رکھا کرتے تھے۔ حالات کے اس پس منظر میں ایک قاضی حضرت سموئیل علیہ السلام کو نبوت کا منصب عطا ہوا، ان کے دور میں بھی فلسطینیوں کا ظلم وستم جاری رہا توبنی اسرائیل نے ان سے درخواست کی کہ ان پر کوئی بادشاہ مقرر کردیاجائے۔ اس کے نتیجے میں طالوت کو بادشاہ بنایا گیا جس کا واقعہ یہاں مذکور ہے۔ بائبل میں دوکتابیں حضرت سموئیل علیہ السلام کی طرف منسوب ہیں، ان میں سے پہلی کتاب میں بنی اسرائیل کی طرف سے بادشاہ مقرر کرنے کی فرمائش بھی ذکر کی گئی ہے، مگر بادشاہ کا نام طالوت کے بجائے ساول مذکور ہے۔ نیز بعض تفصیلات میں فرق بھی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ٰ کے بعد جب تک بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور تورات کے موافق عمل پر مستعد اور قائم رہے اس وقت تک جس دشمن سے ان کا مقابلہ ہوا ہمیشہ ان کو فتح ہوتی رہی پھر جب بنی اسرائیل میں طرح طرح کی نافرمانیاں پھیل گئیں تو فتح یابی اوراقبال مندی ان میں بالکل باقی نہیں رہی۔ وہ قوم عمالقہ جس کو مغلوب کر کے انہوں نے ملک شام میں اپنا عمل دخل کیا تھا اس ملک میں کے اکثر شہر قوم عمالقہ میں کے بادشاہ جالوت نے ان سے چھین لئے وہ فتح مندی کا صندوق جس کا نام تابوت سکینہ تھا ان کے قبضہ سے نکل کر دشمن کے ہاتھ گیا سبط لادی جس میں انبیاء پیدا ہوتے تھے اس میں سوائے ایک حاملہ عورت کے اور کوئی باقی نہیں رہا۔ جب بڑی آرزو اور تمنا کے بعد حضرت شمویل پیدا ہو کر نبوت کو پہونچ گئے تو بنی اسرائیل نے دشمن سے لڑنے اور لڑائی کے انتظام کے لئے ان میں ایک شخص کو بادشاہ بنا دینے کی خواہش ظاہر کی بنی اسرائیل کے بد دین ہوجانے کے سبب سے حضرت شمویل کو بنی اسرائیل کے قول و فعل کا اعتبار نہ تھا اس واسطے حضرت شمویل نے بنی اسرائیل کی خواہش کا یہ جواب دیا کہ اگر تمہاری خواہش کے موافق اللہ تعالیٰ نے تم میں کوئی بادشاہ قائم کردیا اور تم نے بدعہدی کر کے اللہ کے دین کی حمایت میں دشمن سے جہاد نہ کیا تو پھر کیا ہوگا بنی اسرائیل نے اس کے جواب میں کہا کہ ہم کیوں کر بد عہدی کرسکتے ہیں جبکہ دشمن کے ہاتھ سے ہم پر یہ آفت آچکی ہے کہ ہمارے اکثر شہر چھین گئے اہل و عیال کے دشمن کی قید میں چلے جانے سے ہم اپنے اہل و عیال سے جدا ہوگئے اب آخر آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب ان میں بادشاہ بھی قائم ہوا اور اس بادشاہ کے ساتھ ان کو دشمن سے لڑنے کا حکم بھی ہوا تو ایک نہر کے پانی پینے کی آزمائش میں ہزارہا آدمیوں نے ان میں سے بد عہدی کی اور طالوت بادشاہ کی اطاعت چھوڑ دی اور صاف کہنے لگے کہ ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے لڑنے کی بالکل تاب و طاقت نہیں غرض ایک بڑے لشکر میں سے فقط تین سو تیرہ آدمی اپنے عہد پر قائم رہے۔ باقی سب نے بد عہدی کی پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو ایسے گنہگاروں کا حال خوب معلوم ہے ایک دن یہ اپنے کئے کی سزا پائیں گے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:246) الم تر۔ ہمزہ استفہامیہ۔ لم تر۔ مضارع نفی جحد بلم۔ کیا تو نے نہیں دیکھا۔ تر اصل میں تری تھا۔ یاء کو حذف کیا گیا ہے۔ الملا۔ سرداروں اور بڑے لوگوں کی جماعت۔ اسم جمع معرف با للام۔ مجرور۔ م ل ء مادہ۔ الملا۔ وہ جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہو تو نظروں کو ظاہری حسن و جمال سے اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھر دے ۔ اس کا مفرد کوئی نہیں ہے۔ اس کی جمع املا ہے ملا یملا (باب فتح) ملا وملاۃ مصدر بہ کے ساتھ بمعنی کسی چیز کو کسی چیز کے ساتھ بھر دینا ۔ مل۔ پیمانہ یا برتن بھرنے کی مقدار (نیز ملاحظہ ہو 11:97) الم ترالی الملائ۔ ای الم ترالی قصۃ الملا (من بنی اسرائیل) کیا تمہیں علم نہیں بنی اسرائیل میں سے بعض گروہ سرداران کے قصہ کا۔ (روح البیان) ای الم ترقصہ الملا اوحدثیہم (روح المعانی) الم تر۔ کیا تو نے نہیں دیکھا۔ کیا تو نے غور نہیں کیا ۔ کیا تجھے خبر نہیں۔ فائدہ : الم تر۔ عربی میں یہ طرز خطاب ایسے موقع پر آتا ہے کہ جب مخاطب کو کسی بڑے اہم اور معروف واقعہ کی طرف توجہ دلانا مقصود ہوتا ہے۔ رویت سے ہمیشہ چشم بصارت سے دیکھنا مراد نہیں ہوتا بلکہ وہم و تخیل اور غور و فکر اور عقل کی راہ سے بھی مطالعہ و مشاہدہ مراد ہوتا ہے اور جب اس فعل کا صلہ الی کے ساتھ آتا ہے تو کوئی مقصود کوئی نتیجہ نکالنا یا عبرت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ (تفسیر ماجدی) من بنی اسرائیل۔ میں من تبعیضیہ ہے۔ من بعد موسی۔ ای من بعد موتہ او من بعد زمانہ اذقالوا لبنی لہم۔ اذ بدل ہے من بعد سے کیونکہ دونوں زمانہ کے لئے ہیں۔ ترجمہ ہوگا۔ کیا تو نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت دیکھا جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اپنے پیغمبر سے کہا۔ یا۔ کیا تجھے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کے قصہ کی خبر نہیں جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کے بعد اپنے پیغمبر سے کہا۔ ابعث لنا ملکا نقاتل فی سبیل اللہ۔ یہ مقولہ ہے قالوا کا۔ ابعث تو بھیج۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ بعث (باب فتح) مصدر جس کے معنی ہیں کسی چیز کا اٹھانا۔ کھڑا کرنا۔ اور سامنے کرنا۔ بعث کی دو قسمیں ہیں۔ ایک بشری دوسری الٰہی ۔ اگر اس کی نسبت فاعلی انسان کی طرف ہو تو اس کو بشری کہیں گے جیسے کسی ایک شخص کا دوسرے شخص کو روانہ کرنا اور بھیجنا۔ اگر یہ نسبت خدا کی طرف ہو تو اس کو الٰہی کہا جائے گا۔ اس کی بھی دو قسمیں ہیں پہلی قسم اللہ کے ساتھ مخصوص ہے جیسے اشیاء کو عدم سے وجود میں لانا۔ دوسری مثال مردوں کو جلانا ہے۔ کبھی کبھی اللہ تعالیٰ اپنے ممتاز بندوں کو بھی سرفراز فرماتا ہے جیسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ قرآن مجید میں مذکور ہے۔ دیارنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ دیار جمع دار کی نا ضمیر جمع متکلم ۔ ہمارے گھر، ہمارے شہر، ہمارے وطن۔ وابناء نا۔ واؤ عاطفہ ابناء نا مضاف مضاف الیہ مل کر معطوف۔ دیارنا معطوف علیہ۔ تقدیر کلا یوں ہے ۔ من بین ابناء نا۔ ابناء جمع ہے ابن کی۔ نا ضمیر جمع متکلم ۔ اپنے بیٹوں یا اپنی اولاد سے دور کئے گئے۔ ( ابن کے معنی بیٹا کے ہیں لیکن جب بیٹے بیٹیاں دونوں مقصود ہوں تو اس کی تغلیب کی وجہ سے مذکر کا صیغہ بولتے ہیں) ۔ فلما۔ ف عاطفہ ہے لما بمعنی جب۔ حرف شرط ہے ماضی کے دو جملوں پر آتا ہے شرط و جزائ۔ بعض کے نزدیک حرف شرط نہیں بلکہ اسم ظرف ہے حین کا ہم معنی۔ فلما کتب علیہم القتال تولو الا قلیلا منھم اس کی جزائ۔ پھر جب قتال ان پر فرض کردیا گیا تو وہ (سب) پھرگئے ماسوائے ان میں سے قلیل تعداد کے۔ توتوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ تولی (تفعل) مصدر۔ انہوں نے پشت پھیر دی۔ انہوں نے منہ موڑا ۔ الظلمین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ ظلم کرنے والے۔ یہاں مراد اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں۔ یعنی اللہ کے نافرمان بندے۔ یعنی وہ نافرمان بندے جنہوں نے جہاد سے منہ پھیرلیا۔ فائدہ : (1) آیت ہذا میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تقریباً تین سو سال کے بعد اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت سے ہزار گیارہ سو سال پہلے کا ایک واقعہ بیان ہو رہا ہے جس کا مختصر حال یہ ہے کہ عمالقہ فلسطین کے اکثر حصوں پر قابض ہوگئے تھے۔ اور بنی اسرائیل رامہ کے علاقہ میں محصور ہو کر رہ گئے تھے اس وقت جو ان کے نبی اور حکمران تھے ان کا نام سموئل تھا اور وہ کافی بوڑھے ہوچکے تھے۔ عمالقہ کی ایذا سانیاں اور زیادتیاں دن بدن بڑھ رہی تھیں۔ نبی اسرائیل چاہتے تھے کہ عمالقہ کی سرکوبی کریں۔ اور اپنا کھویا ہوا اقتدار اور حکومت واپس لیں۔ اس لئے انہوں نے بار بار اپنے نبی حضرت سموئل (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ان کے لئے ایک ملک (سردار) کا سوال کریں۔ حضرت سموئل (علیہ السلام) ان کی عادات سے خوب واقف تھے کہ یہ دعوے تو بڑے لمبے چوڑے کرتے ہیں لیکن عمل کے وقت ان کا سارا جوش سرد پڑجاتا ہے اس لئے آپ نے فرمایا کہ ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ تم پر جہاد فرض کر دے اور تم جہاد سے منہ موڑ جاؤ۔ کہنے لگے حضرت جی ! کہیں ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم جہاد نہ کریں حالانکہ ہمیں گھروں سے نکالا گیا اور اپنے بچوں سے جدا کردیا گیا ان کی خواہش اور اصرار کے باعث اللہ تعالیٰ نے طالوت کو جب ان کا سردار اور سپہ سالار مقرر فرما دیا تو لگے اعتراض کرنے کہ یہ شخص نہ لادی بن یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے جس میں نبوت نسلاً بعد نسل چلتی آتی ہے اور نہ یہود ابن یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے جس میں حکومت و سلطنت پشت در پشت چلی آرہی ہے تو یہ نادار اور قلاش کب سردار قوم اور سالار لشکربن سکتا ہے ؟ امامت کے حقدار تو ہم ہیں جن کے پاس دولت کی فراوانی ہے۔ حضرت سموئل (علیہ السلام) نے انہیں بتایا کہ حکومت کے لئے تمہارا قائم کر وہ معیار درست نہیں بلکہ اس کا صحیح معیار تو علم و شجاعت ہے اور ان دونوں باتوں میں وہ تم سب سے ممتاز ہے۔ بائبل میں ہے کہ یہ تیس سالہ نوجوان اپنے حسن و جمال میں بےنظیر تھا۔ ان کی قامت کی بلندی کی یہ حالت تھی کہ دوسرے لوگ مشکل سے اس کے کندھوں تک پہنچ سکتے تھے۔ اور یہ بنیامین کی نسل سے تھا۔ حضرت سموئیل نے انہیں بتایا کہ طالوت کا انتخاب کوئی انسانی انتخاب نہیں بلکہ اللہ رب العزت نے خود تمہاری قیادت کے لئے منتخب فرمایا ہے۔ تمہیں اس کی عطا اور بخشش پر معترض نہیں ہونا چاہیے۔ بنی اسرائیل بھلا کب آسانی سے اپنی ضد سے باز آنے والے تھے فوراً مطالبہ کیا کہ آپ دلیل پیش کیجئے کہ طالوت کا انتخاب واقعی اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ اس وقت ان کے نبی نے فرمایا کہ اس کی حکومت کی نشانی یہ ہے کہ وہ صندوق تسکین و طمانیت کا سامان ہے اور جس میں حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کے تبرکات تھے اور جو عمالقہ تم سے چھین کرلے گئے تھے۔ وہ تمہیں فرشتے واپس کردیں گے اور اگر تم میں ایمان ہے تو اس سے بڑھ کر تمہیں مزید کسی نشانی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ جب فرشتے اس صندوق کو اٹھائے ہوئے یا اس بیل گاڑی کو ہانکتے ہوئے پر تابوت رکھا تھا بنی اسرائیل کے پاس لے آئے تو اب انہیں طالوت کے ملک (سردار) بننے کے متعلق اطمینان ہوگیا نیز انہیں ڈھارس بندھ گئی کہ اب وہ یقینا فتح یاب ہوں گے۔ کیونکہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کے تبرکات والا صندوق جس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا اور پارچات اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کا عمامہ تھا۔ انہیں واپس مل گیا ہے۔ جب طالوت عمالقہ کی سرکوبی کے لئے روانہ ہوئے تو ان کے ہمرہ بنی اسرائیل کا ایک ابنوہ کثیر تھا۔ راستے میں ایک نہر (ممکن ہے کہ دریائے اردن ہی ہو) پر سے گزر ہوا تو انہیں حکم ملا کہ اب تمہارا امتحان لیا جائے گا۔ اور وہ امتحان یہ ہے کہ اس نہر سے پانی پینے کی اجازت نہیں جس نے پانی پیا وہ میرا سپاہی نہیں ہے۔ ہاں اگر پیاس کی شدت ہو تو ایک چلو پھر کو پی لو اس سے زیادہ نہیں۔ اب کیا تھا سب ٹوٹ پڑے اور خوب سیر ہوکر پانی پیا۔ سوائے چند مخلصین کے جو اس امتحان میں کامیاب ہوئے اور جن کی تعداد صحیح روایت کے مطابق 313 تھی ۔ باقی جتنے لوگ جو ہزاروں کی تعداد میں تھے انہوں نے لشکر سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ اب طالوت اپنے مٹھی بھر جانباز سپاہیوں کو لے کر آگے بڑھے لیکن جب انہوں نے جالوت کے لشکر جرار کو دیکھاتو سہم سے گئے اور کہنے لگے کہ جالوت کے اتنے بڑے لشکر کے ساتھ جنگ کرنے کی ہم میں طاقت کہاں ؟ لیکن انہیں کے چند مخلص ترین ساتھیوں نے ہمت بندھائی اور انہیں بتایا کہ فتح و نصرت اللہ کے ہاتھ میں ہے اس سے پہلے بھی بارہا ایسے واقعات ہو گزرے ہیں جب کہ اس کی نصرت و تائید سے چھوٹی سی جماعت نے بڑی بڑی فوجیوں کو شکست فاش دی۔ اور اللہ تعالیٰ کی نصرت ان لوگوں کے ضرور شریک حال ہوتی ہے جو حق و صداقت کے لئے صبر و اثبات سے کام لیتے ہیں جب وہ جانباز سرہتھیلیوں پر رکھے میدان میں نکلے تو بارگاہ رب العزت میں دعا کے لئے ہاتھ پھیلائے اور اپنے لئے صبر و استقامت کی دعا کی اور پھر دشمن کی شکست کا سوال کیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فتح و تکالیف کے سامنے صبر اور استقامت سے کام لیتا ہے وہی کامیاب ہوتا ہے۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ مومن کے پاس سب سے زیادہ مؤثر ہتھیاردعا ہے ۔ جس کا اس کے دشمن کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت ظاہرہ بھی یہی تھی۔ ان مٹھی بھر مجاہدین نے اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت سے دشمن کے لشکر جرار کو شکست فاش دی عمالقہ کے سپہ سالار جالود کو جو بڑا بہادر اور کہنہ مشق جرنیل تھا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے پتھر مار کر ہلاک کردیا حالانکہ حضرت داؤد (علیہ السلام) اس وقت بالکل کم سن تھے۔ زرد رو اور لا غروبیمار تھے۔ فائدہ : (2) عسی۔ عنقریب ہے۔ شتاب ہے۔ ممکن ہے۔ توقع ہے۔ اندیشہ ہے۔ کھٹکا ہے علامہ جلال الدین سیوطی (رح) الاتقان فی علوم القرآن میں لکھتے ہیں :۔ عسی۔ فعل مجاہد ہے۔ غیر متصرف۔ اور اسی بنا پر ایک جماعت کا دعوی ہے کہ یہ حرف ہے۔ اس کے معنی پسندیدہ بات میں امید کے اور ناپسندیدہ میں اندیشہ اور کھٹکے کے ہیں اور یہ دونوں معنی اس آیت کریمہ میں جمع ہوگئے ہیں۔ عسی ان تکرھوا شیئا وھو خیر لکم وعسی ان تحبوا شیئا فی ھو شرلکم (2:216) اور توقع ہے کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ بہتر ہو تمہارے حق میں اور خدشہ ہے کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ بری ہو تمہارے حق میں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 اوپر کی آیتوں میں جہاد اور نفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا ہے اس کے بعد ان آیات میں بنی اسرائیل کی ایک قوم کا قصہ بنان کیا ہے جنہوں نے حکم جہاد کی مخالفت کی اس وجہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ظآلم ٹھہر۔ اس قصہ سے مقصد جہاد کی ترغیب ہے۔ الملا شاہ رفیع الدین نے اس کا ترجمہ سرداران قوم کیا ہے اور یہی انسب ہے۔ عموما مفسرین نے اس کے معنی اشراف اور ؤسا کیے ہیں۔ (ابن جریر۔ رازی۔ ) اصل میں ملاء کے معنی پر کردینے کے ہیں اور اشراف و رؤسا بھی اپنی ہیبت اور رعب سے انکھیں پھیر دیتے ہیں ہی اس یے ان کا ملا کہا جاتا ہے۔ رازی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 246 تا 251 الملاء (سردار) ۔ ابعث (اٹھا دے) ۔ ملک (بادشاہ) ۔ نقاتل (ہم جہاد کریں گے) ۔ ھل عسیتم (کیا تم سے یہی توقع نہیں ہے) ۔ الا تقاتلوا (یہ کہ تم جہاد نہ کرو گے) ۔ مالنا (ہمیں کیا ہوا) ۔ اخرجنا (ہم نکالے گئے ہیں ) ۔ نحن احق (ہم زیادہ حق دار ہیں) ۔ لم یؤت (نہیں دیا گیا) ۔ سعۃ (گنجائش، وسعت) ۔ اصطفہ (اس نے اس کو منتخب کرلیا ہے) ۔ بسطۃ (پھیلاؤ) ۔ سکینۃ (سکون) ۔ فصل (وہ جدا ہوا) ۔ مبتلی (آزمانے والا ) ۔ لم یطعمہ (جس نے نہیں چکھا ) ۔ اغترف (بھر لیا، چلو بھر لینا) ۔ تشریح : آیت نمبر 246 تا 251 اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بڑی عظمتیں عطا کی تھیں مگر انہوں نے نا شکریوں اور بد اعمالیوں کا ایسا سلسلہ شروع کیا کہ اللہ نے ان کی ساری عظمتیں چھین لیں اور ان پر کافروں کو مسلط کردیا۔ فلسطین میں ایک گرانڈیل ، دیو ہیکل اور جنگ کا ماہر شخص جاتی جو لیت تھا جو ان کا سپہ سالار تھا اور جالوت کہلاتا تھا۔ اس کا رعب بنی اسرائیل پر اس قدر چکا تھا کہ اس نے بار بار بنی اسرائیل پر چڑھائی کر کے ان کا قتل عام کیا اور ان کو گھروں سے بےگھر کیا، اور ان سے تبرکات سے بھرا ہوا صندوق بھی چھین کرلے گیا جو ان کے ہاں فتح و نصرت اور کامیابی کا نشان سمجھا جاتا تھا۔ یہ جنگ و جہاد سے جان چھڑاتے تھے اور موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا سلیقہ نہیں جانتے تھے۔ یہ خوف اور بزدلی برسوں تک اس طرح چھائی رہی کہ بنی اسرائیل کے پانچ بڑے شہر ان کے ہاتھوں سے نکل گئے مگر ان میں ان کو واپس لینے کی ہمت نہیں تھی۔ حضرت شموئیل (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کے اندر تجدید و اصلاح اور ان کی تنظیم کا کام کیا جس سے بی اسرائیل میں ایک نئی زندگی پیدا ہوگئی، اور وہ فلسطینوں کے مقابلے میں کھڑے ہونے کے قابل ہوگئے مگر حضرت شموئیل بہت بوڑھے ہوچکے تھے اس لئے انہوں نے حضرت شموئیل ہی سے ایک ایسی قیادت کی درخواست کی جس کی سربراہی میں وہ اپنے دشمنوں سے انتقام لے سکیں۔ حضرت شموئیل (علیہ السلام) ان کی ایمانی کمزوری سے اچھی طرح واقف تھے اس لئے انہوں نے پوچھا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ اگر تمہارے اوپر جہاد فرض کردیا جائے تو تم میدان سے بھاگ جاؤ۔ اس پر انہوں نے بڑے جوش اور جذبہ کے ساتھ کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ہم تو اپنے گھروں اور بچوں سے جدا کئے گئے ہیں کیا اب بھی ہم جہاد نہ کریں گے ؟ بنی اسرائیل کی خواہش پر جب طالوت کو جو بڑا وجیہ، خوبصورت اور لمبا تڑنگا آدمی تھا سردار لشکر بنا دیا گیا تو انہوں نے اپنی عادت کے مطابق اعتراضات کرنے شروع کر دئیے۔ کہنے لگے بھلا یہ ہمارا سردار کیسے ہو سکتا ہے۔ اس سے زیادہ منصب کے حق دار تو ہم ہیں۔ یہ شخص نہ تو خاندانی اعتبار سے ہم سے برتر ہے اور نہ مالی اعتبار سے۔ اس کا جواب حضرت شموئیل نے یہ دیا کہ اول تو طالوت کا انتخاب اللہ نے کیا ہے اسی نے اس کو تمہاری سرداری کے لئے چنا ہے وہ علم اور جسم میں بھی تم سے بڑھ کر ہے یہی وہ پیمانہ ہے جس سے طالوت کی عظمت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے، انہوں نے کہا ہم کیسے مان لیں کہ طالوت کو اللہ نے ہمارے لئے سردار مقرر کردیا ہے۔ حضرت شموئیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس کی نشانی یہ ہے کہ تبرکات کا وہ صندوق جسے جالوت لوٹ کرلے گیا ہے اللہ کے حکم سے خودبخود واپس آجائے گا۔ ادھر اللہ نے یہ انتظام کیا کہ جالوت والوں نے جہاں بھی اس صندوق کو رکھا وہاں بربادی اور بیماریاں پھیل گئیں۔ ایک دن سب نے طے کیا کہ یہ تمام آفتیں اسی صندوق کی وجہ سے آرہی ہیں لہٰذا اس کو واپس کردیا جائے، چناچہ انہوں نے ایک گاڑی میں رکھ کر گدھوں کو ہنکا دیا۔ اللہ تعالیٰ کے فرشتے عین اسی وقت گاڑی کو کھینچ کر بنی اسرائیل تک لے آئے۔ اس طرح بنی اسرائیل کو طالوت کی سچائی کا یقین کرنا پڑا۔ اس کے بعد نہایت گرم موس کے باوجود طالوت نے بنی اسرائیل کو لے کر سلطنت جالوت یعنی فلسطین پر چڑھائی کردی۔ راستہ میں قوم کے صبرو تحمل کا امتحان لیا گیا تا کہ وہی لوگ ساتھ رہ جائیں جو نبی کی اور اپنے سردار کی اطاعت کرنے والے ہیں۔ یہ امتحان ایک نہر سے کیا گیا۔ حضرت طالوت نے کہا کہ جو شخص بھی اس نہر میں سے خوب سیر ہو کر پانی پئے گا اور ذخیرہ کرے گا تو وہ میرے ساتھ نہیں رہے گا۔ چلو دو چلو پانی پینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جب یہ بنی اسرائیل اس نہر پر پہنچے تو جن کو نبی کی بات پر اعتماد تھا انہوں نے حکم کی تعمیل کی لیکن جنہوں نے اپنی عقل پر بھروسہ کیا انہوں نے سوچا کہ ہم صحرا سے گزر رہے ہیں، نہ جانے آگے پانی ملے نہ ملے انہوں نے پانی اپنے برتنوں میں جمع کیا اور خوب پانی پیا۔ چونکہ یہ پانی تو ایک امتحان تھا لہٰذا جو لوگ اس میں ناکام ہوئے۔ وہ دریا کے دوسرے کنارے پہنچ کر مر گئے یا بھاگ کھڑے ہوئے ۔ اب طالوت کے ساتھ بہت کم لوگ رہ گئے تھے۔ جب یہ میدان جنگ میں پہنچے تو جالوت کا زبردست لشکر اور اس کا جاہ و جلال دیکھ کر اکثر نے کہا کہ ہم اس بےسروسامانی میں اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ کیسے کرسکتے ہیں اور پھر اس کی قیادت جالوت جیسا جری اور بہادر سردار کر رہا ہے یہ تو اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈالنا ہے اس لئے بہت بڑی تعداد موت کے خوف سے بھاگ کھڑی ہوئی۔ آخر میں طالوت کے ساتھیوں کی تعداد گھٹتے گھٹتے اتنی ہی رہ گئی جتنی جنگ بدر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) کی تھی۔ اب یہ جتنے بھی تھے وہ صبر استقلال کے پیکر تھے۔ انہوں نے کہا کہ فتح و شکست سب اللہ کے ہاتھ میں ہے قلت و کثرت کا کوئی سوال نہیں ہے ہم اللہ کی راہ میں جانیں دینے کے لئے آئے ہیں اور بس ، چناچہ زبردست جنگ شروع ہوگئی یہ نہتے اور بےبس بےجگری سے جالوت کی باقاعدہ فوج کا مقابلہ کر رہے تھے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) جو اس وقت صحرا میں بکریاں چرایا کرتے تھے اپنے والد کے حکم سے اپنے بڑے بھائیوں کو جو جنگ میں شریک تھے کھانے پینے کی چیزیں دینے آئے تھے انہوں نے دیکھا کہ جالوت مقابلہ کا چیلنج کر رہا ہے مگر اس کے سامنے جانے کی ہمت کسی میں نہیں ہے ان کی غیرت ایمانی جوش میں آئی۔ وہ طالوت کے پاس پہنچے اور جالوت کے مقابلے کی اجازت مانگی اس وقت حضرت داؤد (علیہ السلام) نہایت کم عمر سرخ رو اور دراز قامت نوجوان تھے۔ طالوت نے ان کی کم عمری اور ناتجربہ کاری کو دیکھتے ہوئے کچھ تردد کیا۔ حضرت داؤد نے کہ جناب میں اپنی بکریوں پر حملہ کرنے والے شیروں اور ریچھوں کے جبڑے توڑ دیتا ہوں۔ طالوت نے ان کے عزم و ہمت کو دیکھ کر ان کی اجازت دے دی، یہ میدان جنگ میں پہنچے اور انہوں نے جالوت کو چیلنج کیا۔ کہا میں تمہارا مقابلہ کروں گا۔ جالوت نے دیکھا کہ ایک نوجوان نے اپنے کپڑے میں کچھ پتھر اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ اس کو چیلنج کر رہا ہے وہ اور اس کے ساتھی بےساختہ ہنس پڑے مگر حضرت داؤد (علیہ السلام) نے ایک پتھر ایسا مارا کہ جالوت سر کے بل گرا اور مر گیا۔ یہ دیکھ کر فلسطینیوں کے قدم اکھڑ گئے اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس طرح اللہ نے اپنے حکم سے ایک چھوٹی سی جماعت کو ایک بہت بڑی اور ظالم قوم کے مقابلے میں کامیابی اور فتح و نصرت عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد حضرت داؤد (علیہ السلام) کو علم و حکمت اور نبوت سے سرفراز کیا اور وہ حضرت طالوت کے داماد ہوگئے اور اس طرح یہ بنی اسرائیل کے بادشاہ بن گئے ان ہی کے صاحبزادے حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہیں جن کو اللہ نے ایک بہت بڑی سلطنت عطا کی تھی۔ جس وقت یہ آیتیں نازل ہو رہی تھیں اس وقت کے مسلمانوں کا بھی یہی عالم بےبسی تھا۔ ان آیات میں مسلمانوں کو بتایا گیا کہ زندگی اور موت دونوں کی راہیں کھلی ہوئی ہیں۔ اگر تم موت سے ڈر گئے تو پھر دنیا میں تمہارا کوئی ٹھکانا نہیں ہے اور اگر موت سے بےپرواہ شہادت کی راہ پر اٹھ کھڑے ہوئے تو اللہ تمہیں دنیا میں باعظمت زندگی اور آخرت کی تمام بھلائیاں اور کامیابیاں عطا فرمائے گا۔ آخر میں فرمایا گیا کہ اللہ کا یہ نظام کائنات اس کی مصلحتوں کے ساتھ چل رہا ہے اگر وہ اسی طرح ظالموں کو بعض بےبس اور کمزور لوگوں کے ذریعہ ہٹاتا نہ رہے یا اگر جہاد کا حکم نہ دے تو اس کے نیک اور صالح بندے تو سر اٹھا کر چلنے کے قابل ہی نہ رہیں گے وہ اپنی ان مصلحتوں سے شریروں اور فسادیوں کو دنیا سے مٹاتا رہتا ہے تا کہ اللہ کی زمین نیکی اور تقویٰ کے آثار سے محروم ہو کر نہ رہ جائے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ ان بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کے احکام کو چھوڑ دیا تھا کفار عمالقہ ان پر مسلط کردیے گئے اس وقت ان لوگوں کو فکر اصلاح ہوئی اور ان پیغمبر کا نام شموئیل مشہور ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ مضمون سے پیوستہ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کی بد اعمالیوں کی بنا پر ان پر قوم عمالقہ کو مسلط کردیا گیا۔ جنہوں نے بنی اسرائیل پر پے در پے حملے کیے اور ان کو بیت المقدس سے نکال دیا۔ یہ در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوئے۔ بنی اسرائیل کا شیرازہ اس طرح بکھر کر رہ گیا کہ باپ بیٹے اور بھائی بھائی کا چہرہ دیکھنے کو ترستا گیا۔ قرآن مجیدان حالات کا نقشہ انہی کی زبان سے بیان کررہا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر سے جہاد کے لیے کمانڈر کا مطالبہ کیا۔ وقت کے پیغمبر نے انہیں سمجھایا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر جہاد فرض کردیا جائے اور تم جہاد کرنے سے انکار کرنے لگو ؟ انہوں نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اللہ کے راستے میں جہاد کرنے سے جی چرائیں۔ جب کہ ہم پر اس قدر ظلم ہوا ہے کہ ہمیں ہمارے گھروں سے نکال دیا گیا اور ہم اپنے بچوں سے الگ کردیئے گئے ہیں۔ یاد رہے قوموں کے عروج وزوال کا دارومدار غرباء اور ضعفاء پر نہیں ہوا کرتا۔ یہ طبقہ تو عضو محض اور لکیر کا فقیر ہوتا ہے قوم کی ترقی وتنزل کا تعلق قوم کے کھاتے پیتے اور سربرآوردہ لوگوں پر ہوا کرتا ہے اگر یہ طبقہ باشعور اور بہتر فکر وعمل کا حامل ہو تو قوم ترقی کی منازل طے کیا کرتی ہے۔ جب یہ لوگ عیاش، بدکردار اور بےعمل ہوجائیں تو قوم کی تباہی یقینی ہوجاتی ہے۔ بنی اسرائیل کے حالات جب بہتر ہونے کو آئے تو ان کے سرداروں نے اس بات کا احساس کیا کہ ہمارا ملک چھن گیا ہے اور ہم در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ہمارے لیے بہتر ہے کہ ذلت کی موت مرنے کے بجائے شہادت کی باعزت موت مرجائیں چناچہ انہوں نے اپنے پیغمبر سے مضبوط اور جوان قیادت کا مطالبہ کیا۔ وقت کا پیغمبر بوڑھا ہوچکا تھا جس بنا پر اللہ تعالیٰ نے نبی کی دعا اور قوم کے مطالبہ پر طالوت کو ان کا کمانڈر مقرر فرمادیا کیونکہ جب تک ایک اور مضبوط قیادت نہ ہو قوم ترقی نہیں کرسکتی۔ جنگ کی تمنا نہ کیا کرو (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِيِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَاتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ فَإِذَا لَقِیْتُمُوْھُمْ فَاصْبِرُوْا) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر، باب لاتمنوا لقاء العدو ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان فرماتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دشمن سے ٹکرانے کی آرزو نہ کرو اور جب تمہارا ان سے سامنا ہوجائے تو پھر جم جاؤ۔ “ قوم کی تباہی کا باعث طبقہ (وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا فِيْ کُلِّ قَرْیَۃٍ أَکٰبِرَ مُجْرِمِیْھَا لِیَمْکُرُوْا فِیْھاَط وَمَا یَمْکُرُوْنَ إِلَّا بِأَنْفُسِھِمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ ) [ الأنعام : ١٢٣] ” اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں وہاں کے رئیسوں ہی کو جرائم کا مرتکب بنایا تاکہ وہ لوگ وہاں فریب کریں۔ اور وہ لوگ اپنے ہی ساتھ فریب کررہے ہیں اور ان کو ذرا خبر نہیں۔ “ (وَکَمْ أَھْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَھَاج فَتِلْکَ مَسٰکِنُھُمْ لَمْ تُسْکَنْ مِّنْ بَعْدِھِمْ إِلَّا قَلِیْلًا ط وَکُنَّا نَحْنُ الْوَارِثِیْنَ ) [ القصص : ٥٨] ” اور ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کردیں جو اپنی عیش و عشرت میں اترانے لگی تھیں، یہ ہیں ان کی رہنے کی جگہیں جو ان کے بعد بہت ہی کم آباد کی گئیں اور ہم ہی ہیں آخر سب کے وارث۔ “ (فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَکْبَرُوْا فِي الْأَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَقَالُوْا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃًط أَوَلَمْ یَرَوْا أَنَّ اللّٰہَ الَّذِيْ خَلَقَھُمْ ھُوَ أَشَدُّ مِنْھُمْ قُوَّۃً ط وَکَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ ) [ حمٓ السجدۃ : ١٥] ” اب عاد نے بےوجہ زمین میں سرکشی شروع کردی اور کہنے لگے کہ ہم سے زور آور کون ہے ؟ کیا انہیں یہ نظر نہ آیا کہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے وہ ان سے (بہت ہی) زیادہ زور آور ہے۔ اور وہ ہماری آیات کا انکار کرنے والے تھے۔ “ مسائل ١۔ ارباب حل و عقد ہی قوموں کے بگاڑ و سنوار کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ٢۔ مظلوم کو ظالم کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔ ٣۔ جہاد کرنے والے لوگ تھوڑے ہی ہوا کرتے ہیں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

کیا تو نہیں دیکھا ، گویا یہ ابھی ابھی کا واقعہ ہے اور دیکھا ہوا منظر ہے ۔ بنی اسرائیل کے سردار جمع ہوئے ہیں ۔ ان کے اکابرین اور اہل الرائے کا ایک عظیم اجتماع ہے ۔ وہ اپنے نبی وقت کے پاس آتے ہیں ۔ سیاق کلام میں نبی کا نام نہیں لیا جاتا ، اس لئے کہ مقصد قصہ گوئی نہیں ہے ۔ اگر نبی کا نام لیا جائے تو اس سے قصے کی مقصدیت میں کوئی اضافہ نہیں ہوجاتا۔ بنی اسرائیل میں نبیوں کی کثرت تھی ان کی طویل تاریخ میں بیشمار نبی مبعوث ہوئے ۔ غرض یہ سردار اور یہ امراء جمع ہیں ۔ وہ نبی وقت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ ان کے اوپر ایک بادشاہ مقرر فرمادیں ، جس کی کمانڈ میں وہ فی سبیل اللہ جہاد کریں ۔ اس جنگ کے لئے وہ فی سبیل اللہ کا لفظ استعمال کررہے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ جنگ کی نوعیت کا اظہار بھی کرنا چاہتے ہیں ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے دلوں میں ایمان نے کروٹ لی ہے ۔ ایمان پیدا ہوکر کھڑا ہوگیا اور اپنے آپ کو جھاڑ کر اقدام کے تیار ہوگیا ۔ ان کا یہ شعور زندہ ہوگیا کہ وہ تو ایمان اور نظریہ حیات کے حاملین ہیں ۔ وہ تو حق اور سچائی کے علمبردار ہیں ۔ ان کے دشمن ضلالت ، کفر اور باطل کے علمبردار ہیں ۔ ان کے سامنے اب ایک منزل ہے ، جہاد فی سبیل اللہ کی منزل۔ غرض مقصد کی یہ وضاحت ، مقصد کا تعین اور مقصد کی قطعیت سے کامرانی اور فتح مندی کی نصف منزل طے ہوجاتی ہے ۔ اس لئے مومن کے ذہن میں سب سے پہلے یہ بات واضح ہوکر بیٹھ جانی چاہئے کہ وہ حق پر ہے اور اس کا دشمن باطل پر ہے ۔ اس کے شعور میں مقصد متعین ہو ۔ خالص اللہ کے لئے ہو ۔ اس میں کسی دوسری چیز کی آمیزش نہ ہو اور نہ ہی اس میں کوئی التباس ہو جس کی وجہ سے اسے معلوم نہ ہو کہ وہ کدھر جارہا ہے ؟ نبی نے چاہا کہ وہ نیت کی پختگی اور عزم کی سچائی کے بارے میں تسلی کرلیں ۔ معلوم کرلیں کہ آیا وہ اس قدر عظیم ذمہ داری کے اٹھانے کا بل بوتا بھی نہیں رکھتے ہیں یا نہیں ۔ وہ اس معاملے میں سنجیدہ ہیں ۔ سوچ سمجھ کر مطالبہ کررہے ہیں : قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ أَلا تُقَاتِلُوا ” نبی نے پوچھا ! کہیں ایسا تو نہ ہوگا کہ تم کو لڑائی کا حکم دیا جائے اور پھر تم نہ لڑو۔ “ آیا ایسا ممکن ہے کہ تم پر جہاد فرض کرلیا جائے اور تم اس سے پیٹھ پھیر لو ؟ اب تم تو آزاد ہو ۔ جہاد نہ کرو۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ تمہارے اس مطالبے کو مان لیتے ہیں اور تم کو جہاد کا حکم دیا جاتا ہے تو پھر یہ تم پر فرض ہوجائے گا ۔ پھر تم انکار نہ کرسکوگے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک نبی کو ایسا ہی سوال کرنا چاہئے کہ وہ معاملہ کی تاکید و توثیق کرے ۔ انبیاء کے کلمات اور ان کی باتیں مذاق نہیں ہوا کرتیں ۔ ان کے احکام میں نہ ترددہوتا ہے اور نہ ہی ذرہ بھر تاخیر ہوسکتی ہے۔ نبی وقت کے اس استفسار پر ان کا جوش و خروش عروج تک پہنچ گیا ۔ سردار نے بتایا کہ جنگ ناگزیر ہوچکی ہے ۔ اس کے سوا کوئی چارہ کا رہی نہیں رہا ہے۔ درستی حالات کا مدار اب صرف جہاد اور جہاد فی سبیل اللہ پر ہے۔ جنگ متعین ہے اور اس میں تردد کی کوئی گنجائش نہیں قَالُوا وَمَا لَنَا أَلا نُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَأَبْنَائِنَا ” کہنے لگے : بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم راہ اللہ میں نہ لڑیں جبکہ ہمیں اپنے گھروں سے نکالا گیا ہے اور ہمارے بال بچے ہم سے جدا کردئیے گئے ہیں ؟ “ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں بات واضح ہے ۔ انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ جنگ ضروری ہے ۔ ان کے دشمن اللہ کے دشمن ہیں ۔ اللہ کے دین کے دشمن ہیں۔ انہیں گھروں سے نکال دیا گیا ہے ۔ ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنالیا گیا ہے ۔ اس لئے ان دشمنوں کے ساتھ جنگ کرنا واجب ہے ۔ بلکہ ان کے سامنے واحد راستہ ہی یہ ہے کہ وہ ان دشمنان حق کے ساتھ جنگ کریں ۔ اس لئے اس سلسلے میں ان سے بار بار پوچھنا اور تکرار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ تو عزم صمیم ہے اور ہم یہ عزم کئے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ وقتی بہادری ، اور حالات امن کی یہ جرأت مندی زیادہ دیر قائم نہیں رہتی ۔ قرآن مجید جلہد ہی تصویر کا دوسرا رخ سامنے کردیتا ہے فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا إِلا قَلِيلا مِنْهُمْ ” مگر جب ان کو جنگ کا حکم دیا گیا تو ایک قلیل تعداد کے سوا وہ سب پیٹھ موڑ گئے۔ “ یہاں آکر بنی اسرائیل کی ایک اہم خصوصیت معلوم ہوجاتی ہے ۔ اپنی تاریخ میں وہ سخت وعدہ خلاف رہے ہیں ، عہد کرکے فوراً پھرجائیں گے ۔ جب حکم دیا جائے تو اطاعت سے پہلو تہی کریں گے ۔ فرائض کی ادائیگی میں پیچھے رہتے ہیں ۔ حق سے منہ موڑتے ہیں اور باہمی اختلافات ان کا شعار ہوتا ہے ۔ لیکن یہ صفات ہر اس جماعت میں پائی جاتی ہیں جن کی ایمانی تربیت مکمل نہ ہوئی ہو ۔ جن کو دیر تک گہری اور اعلیٰ معیار کی تربیت سے نہ گزارا گیا ہو ۔ یہ ایک ایسی کمزوری ہے ، جس پر تحریک کی قیادت کو خبردار رہنا چاہئے اور اس کی فکر کرنی چاہئے ۔ مشکلات راہ میں اس کا خیال رکھنا چاہئے ۔ یہ نہ ہو کہ مشکلات میں کمزوریاں سامنے آجائیں اور معاملات مشکل ہوجائیں ۔ ایسے حالات میں ان تمام انسانی جماعتوں کو پیش آتے رہتے ہیں جن کی صفوں میں ابھی تک کمزور لوگ موجود ہوں اور جن کو پگھلا کر میل کچیل سے صاف نہ کیا گیا ہو۔ اس روگردانی پر اللہ تعالیٰ صرف یہ تبصرہ فرماتے ہیں وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ ” اللہ ان میں سے ایک ایک ظالم کو جانتا ہے۔ “ یہ بنی اسرائیل کے لئے سخت نکیر ہے ۔ ان لوگوں نے پہلے جہاد کا مطالبہ کیا ۔ جہاد فرض کیا گیا اور قبل اس کے کہ یہ لوگ میدان جہاد کو جائیں ، انہوں نے انکار کردیا ۔ حالانکہ تعداد میں یہ بہت زیادہ ہیں ۔ بہت ہی ذلیل ہیں یہ لوگ ۔ ذلت کے ساتھ ساتھ ظالم بھی ہیں ۔ اپنے نفس کے لئے ظالم ، نبی کے لئے بھی ظالم ، حق کے لئے بھی ظالم ۔ انہوں نے حق کو پہچانا اور پھر اسے اہل باطل کے ہاتھوں ذلیل ہونے دیا ۔ جو شخص سچائی اور یقین کو پہچان لے اور یقین کرے کہ وہ حق پر ہے ۔ یہ جان لے کہ اس کا دشمن باطل پر ہے ۔ جس طرح بنی اسرائیل کے سرداروں نے جان لیا تھا ، اور نبی سے مطالبہ کردیا تھا کہ وہ ان کے لئے ایک باشاہ مقرر کردے تاکہ اس کی سرکردگی میں وہ دشمنوں سے ، اللہ کی خاطر جنگ کریں اور پھر یہ شخص پیٹھ پھیر لے اور دشمن کے مقابلے میں علم جہاد بلند نہ کرے اور نہ ہی تکالیف اٹھائے ، سب کچھ جانتے ہوئے تو یہ شخص ظالم ہے ، اور اسے اس ظلم کی سزا دی جائے گی ۔ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ ” اور اللہ ایک ایک ظالم کو جانتا ہے۔ “

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

479 بنی اسرائیل کا یہ واقعہ ترغیب الی الجہاد کے لیے ذکر فرمایا ہے۔ نیز اس واقعہ سے یہ سبق دیا کہ جہاد امیر اور اطاعتِ امیر کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ یہ واقعہ حضرت مسیح (علیہ السلام) سے تقریباً ایک ہزار سال قبل کا ہے۔ اور جس نبی کا یہاں ذکر ہے اس سے مراد حضرت شموئیل (علیہ السلام) ہیں۔ قال ابو عبیدة ھو اشمویل بن حنة بن العاقر وعلیہ الاکثر (روح ص 164 ج 2) اس زمانہ میں قوم عمالقہ کا غلبہ ہوچکا تھا انہوں نے بنی اسرائیل کے کئی علاقوں پر قبضہ کر کے ان کو وہاں سے نکال دیا تو قوم کے شرفاء اور اصحاب الرائے نے حضرت شموئیل (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ آپ ہمارے لیے ایک امیر مقرر فرمائیں تاکہ ہم اس کی ماتحتی میں دشمنانِ دین سے جہاد کریں۔480 حضرت شموئیل (علیہ السلام) کو یقیناً بنی اسرائیل کی گذشتہ تاریخ اور ان کی سابقہ کج روی کی روایات معلوم تھیں اس لیے فرمایا کہ سوچ سمجھ کر بات کہو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے اصرار پر تم پر جہاد فرض کردیا جائے اور پھر تم جہاد کرنے سے پس وپیش کرنے لگو اور بزدل بن جاؤ۔ قَالُوْا وَمَا لَنَآ اَلَّا نُقَاتِلَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَقَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَاَبْنَاۗىِٕنَا۔ تو انہوں نے اس کا جواب دیا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہم جہاد نہ کریں جبکہ ہمیں اپنے گھروں سے نکال بےگھر کردیا گیا ہے اور ہمیں اپنے بیٹوں سے جدا کردیا گیا ہے۔ یعنی ایک طرف تو جہاد کے متعلق خدا کا حکم ہوگا اور دوسری طرف یہ صورت حال ہے تو اب اس سے بڑھ کر جہاد کا اور کیا محرک ہوسکتا ہے۔ 481 مگر وہی کچھ ہوا جس کا حضرت شموئیل (علیہ السلام) کو اندیشہ تھا۔ شروع میں تو ان لوگوں نے بڑی جرات اور دلیری کا مظاہرہ کیا۔ مگر دشمن کی تعداد، اس کی شان و شوکت اور اس کا لاؤ لشکر دیکھ کر ان میں سے اکثر ہمت ہار بیٹے۔ ہزاروں میں سے صرف تین سو تیرہ ثابت قدم رہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 کیا اے پیغمبر آپ کو بنی اسرائیل کی ایک جماعت کا وہ واقعہ معلوم نہیں ہوا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد پیش آیا۔ بلکہ ان لوگوں نے اپنے زمانہ کے بنی حضرت شمویل سے کہا کہ آپ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کر دیجئے اور کسی شخص کو بادشاہت کے لئے نامزد فرما دیجئے تا کہ ہم اس کے ساتھ ہو کر اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ پیغمبرنے جواب دیا کیوں جی ! کیا اس کا بھی احتمال ہے اور تم سے اس کی بھ توقع ہے کہ اگر تم پر جہاد فرض کردیا گیا تو تم جہاد نہ کرو اور اس فریضہ کے بجا لانے میں تم سے کوتاہی ہو۔ اس پر بنی اسرائیل کے ان لوگوں نے جواب دیا بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے اور ہمارے لئے کون سی گنجائش اور کون سا سبب ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد نہ کریں حالانکہ ہم اپنے گھروں سے ان کافروں کے ہاتھوں نکالے گئے اور اپنے بیٹوں سے جدا کئے گئے ۔ پھر جب ان سوال و جواب کے بعد ان پر جہاد فرض کیا گیا اور ان کو جہاد کا حکم کیا گیا تو سوائے معدود دے چند اور تھوڑے سے آدمیوں کے جن کی تعداد تین سو تیرہ تھی باقی سب پھرگئے اور اللہ تعالیٰ ظالموں اور حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اچھی طرح جانتا ہے اور ان سے خوب واقف ہے ، لہٰذا ان کو ان کے اعمال کی سزا دی جائے گی۔ ( تیسیر) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد جب بنی اسرائیل میں ابتری اور بد دینی پھیلی تو ان کے سنبھالنے کے لئے حضرت یوشع مقرر ہوئے اور حضرت یوشع کے بعد حضرت کالب آئے ، پھر حضرت الیاس آئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے الیسع کو بھیجا غرض پے در پے رسول آتے رہے ۔ مگر ان کی نافرمانی اور سرکشی بڑھتی گئی یہاں تک کہ توریت کو بھلا بیٹے اور فسق و فجور میں مبتلا ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیجا اور قوم عمالقہ جو مصر اور فلسطین کے ساحلی علاقہ میں آباد تھی ان پر حملہ آور ہوئی اور ان کو قتل کیا ۔ ان کے بہت سے صوبوں پر قبضہ کیا اور ان کی اولاد کو قید کرلیا اور اپنی بد اعمالی کے باعث کافروں کے زیر نگیں ہوگئے او جالوت کی رعایا بن گئے اور اس کے زمانے میں بڑی بڑی سختیاں برداشت کرنی پڑیں اور ان پر بھاری بھاری ٹیکس مقرر کئے گئے آخر اللہ تعالیٰ نے ان میں شمویل نبی کو مبعوث کیا ان لوگوں نے ان سے یہ مطالبہ کیا کہ اگر تم اللہ کے نبی ہو تو ہمارے لئے ایک اور امیر اور بادشاہ مقرر کرو تا کہ ہم ان کافروں سے جہاد کریں اور اپنے ملک کو ان ظالموں سے آزاد کرائیں شاید بنی اسرائیل میں یہ دستور ہوگا کہ جنگ وغیرہ کے انتظام و انصرام کے لئے ایک شخص کو امیرمقرر کیا جاتا ہوگا جو نبی کی زیر نگرانی اور نبی کے حکم کے موافق اس قسم کا انتظام کرتا ہوگا ۔ بہر حال پیغمبر نے اندیشہ ظاہر کیا کہ مبادا اگر تم پر جہاد کا حکم جاری کیا گیا اور بادشاہ مقرر ہوگیا تو تم کہیں انکار نہ کردو اس پر انہوں نے بڑے وثوق سے یقین دلایا لیکن آخر کار وہی ہوا جس خطرے کا پیغمبر نے اظہار کیا تھا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک مدت بنی اسرائیل کا کام بنا رہا ۔ پھر جب ان کی نیت بری ہوگئی تو ان پر غنیم مسلط ہوا ۔ جالوت بادشاہ کافر نے ان کے اطراف کے شہرچھین لئے اور لوٹا اور بندی پکڑلے گیا وہاں کے بھاگے لوگ شہربیت المقدس میں جمع ہوئے۔ حضرت شمولیت (علیہ السلام) پیغمبر سے چاہا کہ کوئی بادشاہ با اقبال مقرر کرو کہ بغیر سردار با اقبال ہم لڑ نہیں سکتے۔ ( موضح القرآن) الغرض اللہ تعالیٰ کی طرف سے شمویل کو ایک نشان بتایا گیا اور حسن اتفاق سے وہ نشان طالوت پر صحیح نکلا ۔ یہ طالوت حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادے بن یامین کے خاندان سے تھے اور ایک عرصے سے دستور ایسا چلا آ رہا تھا کہ نبوت حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادے لا دی کے خاندان میں جاری تھی اور مملکت و بادشاہت حضر ت یعقوب کے صاحبزادے یہودا کی اولاد میں جاری تھی ۔ بن یامین کی اولاد میں نہ نبوت تھی ، نہ بادشاہت ، حضرت شمویل کے زمانے میں طالوت کی بادشاہت کا اعلان ہوا ۔ طالوت ایک غریب چرواہے تھے یا پانی بھرنے اور پلانے کا کام کرتے تھے کسی نے کہا وباغت پیشہ کرتے تھے ۔ بہر حال شمویل نبی نے ان کے نام کا اعلان کردیا تو اس پر بنی اسرائیل نے اعتراض شروع کردیئے۔ پیغمبر نے ان کا جواب دیا اور ان کی بادشاہت کے چند نشان فرمایئے ، چناچہ آگے ان ہی امور کا ذکر ہے۔ ( تسہیل)