The root of this word, its grammatical form, and every other place in the Quran where the same root is used - with each of those verses one click away.
اَلْقِسْط (اسم) نَصْفٌ وَنَصَفَۃٌ کی طرح قَسْط بھی مبنی برعدل حصہ کو کہتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا: (لِیَجۡزِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالۡقِسۡطِ) (۱۰:۴) تاکہ ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے۔ (وَ اَقِیۡمُوا الۡوَزۡنَ بِالۡقِسۡطِ ) (۵۵:۹) اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تولو۔ اور قسط کے معنی دوسرے کا حق مارنا بھی آتے ہیں اس لیے یہ ظلم اور جور کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اَلْقَسْطُ: پاؤں میں ٹیڑھاپن یہ اَفْجَحُ کی ضد ہے جس کے معنی پاؤں کے اگلے حصہ کی جانب سے ان کے نزدیک اور ایڑیوں کی جانب سے دور ہونے کے ہیں اَلْاِقْسَاطُ: اس کے اصل معنی کسی کو اس کا حق دینے کے ہیں اسی چیز کا نام انصاف ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے کہ قَسَطَ الرَّجُلُ (فَھُوَ قَاسِط) کے معنی ظلم کرنے اور اَقْسَطَ کے معنی انصاف کرنے کے ہیں۔(1) قرآن پاک میں ہے: (وَ اَمَّا الۡقٰسِطُوۡنَ فَکَانُوۡا لِجَہَنَّمَ حَطَبًا) (۷۲:۱۵) اور گنہگار ہوئے وہ دوزخ کا ایندھن بنے۔ (وَ اَقۡسِطُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ) (۴۹:۹) اور انصاف سے کام لوکہ خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ تَقَسَّطْنَا بَیْنَنَا: ہم نے (کسی چیز کو) آپس میں برابر تقسیم کرلیا۔ چنانچہ اَلْقِسْطَاس: ترازو کو کہتے ہیں اور لفظ میزان کی طرح اس سے بھی عدل و انصاف کے معنی مراد لیے جاتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا: (وَ زِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِیۡمِ) (۱۷:۳۵) اور جب تول کردو۔ تو ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔