Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 286

سورة البقرة

لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَا ؕ لَہَا مَا کَسَبَتۡ وَ عَلَیۡہَا مَا اکۡتَسَبَتۡ ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَاۤ اِنۡ نَّسِیۡنَاۤ اَوۡ اَخۡطَاۡنَا ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحۡمِلۡ عَلَیۡنَاۤ اِصۡرًا کَمَا حَمَلۡتَہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِنَا ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلۡنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ ۚ وَ اعۡفُ عَنَّا ٝ وَ اغۡفِرۡ لَنَا ٝ وَ ارۡحَمۡنَا ٝ اَنۡتَ مَوۡلٰىنَا فَانۡصُرۡنَا عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۲۸۶﴾٪  8

Allah does not charge a soul except [with that within] its capacity. It will have [the consequence of] what [good] it has gained, and it will bear [the consequence of] what [evil] it has earned. "Our Lord, do not impose blame upon us if we have forgotten or erred. Our Lord, and lay not upon us a burden like that which You laid upon those before us. Our Lord, and burden us not with that which we have no ability to bear. And pardon us; and forgive us; and have mercy upon us. You are our protector, so give us victory over the disbelieving people."

اللہ تعالٰی کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ، جو نیکی وہ کرے وہ اس کے لئے اور جو برائی وہ کرے وہ اس پر ہے ، اے ہمارے رب اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا اے ہمارے رب ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا اے ہمارے رب ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر تو ہی ہمارا مالک ہے ، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لااَ يُكَلِّفُ اللّهُ نَفْسًا إِلااَّ وُسْعَهَا ... Allah burdens not a person beyond his scope, means, Allah does not ask a soul what is beyond its ability. This only demonstrates Allah's kindness, compassion and generosity towards His creation. This Ayah is the Ayah that abrogated the Ayah that worried the Companions, that is, Allah's statement, وَإِن تُبْدُواْ مَا فِي أَنفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُم بِهِ اللّهُ (And whether you disclose what is in yourselves or conceal it, Allah will call you to account for it), (2:284). This indicates that although Allah will question His servants and judge them, He will only punish for what one is able to protect himself from. As for what one cannot protect himself from, such as what one says to himself - or passing thoughts - they will not be punished for that. We should state here that to dislike the evil thoughts that cross one's mind is a part of faith. Allah said next, ... لَهَا مَا كَسَبَتْ ... He gets reward for that which he has earned, of good. ... وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ... And he is punished for that which he has earned, of evil, that is, concerning the acts that one is responsible for. Allah then said, (mentioning what the believers said) while directing His servants to supplicate to Him, all the while promising them that He will answer their supplication: ... رَبَّنَا لاَ تُوَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ... "Our Lord! Push us not if we forget or fall into error," meaning, "If we forgot an obligation or fell into a prohibition, or made an error while ignorant of its ruling." We mentioned the Hadith by Abu Hurayrah, that Muslim collected, wherein Allah said, "I shall (accept your supplication)." There is also the Hadith by Ibn Abbas that Allah said, "I did (accept your supplication)." ... رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ... Our Lord! Lay not on us a burden like that which You did lay on those before us (Jews and Christians), means, "Even if we were able to perform them, do not require us to perform the difficult deeds as You required the previous nations before us, such as the burdens that were placed on them. You sent Your Prophet Muhammad, the Prophet of mercy, to abrogate these burdens through the Law that You revealed to him, the Hanifi (Islamic Monotheism), easy religion." Muslim recorded that Abu Hurayrah said that; the Messenger of Allah said that Allah said, "I shall (accept your supplication)." Ibn Abbas narrated that the Messenger of Allah said that Allah said, "I did (accept your supplication)." There is the Hadith recorded through various chains of narration that; the Messenger of Allah said, بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَة I was sent with the easy Hanifiyyah way. ... رَبَّنَا وَلاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَةَ لَنَا بِهِ ... Our Lord! Put not on us a burden greater than we have strength to bear, of obligations, hardships and afflictions, do not make us bear what we cannot bear of this. رَبَّنَا وَلاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَةَ لَنَا بِهِ (Our Lord! Put not on us a burden greater than we have strength to bear),We mentioned that Allah said, "I shall (accept your supplication)" in one narration, and, "I did (accept your supplication)," in another narration. ... وَاعْفُ عَنَّا ... Pardon us, meaning, between us and You regarding what You know of our shortcomings and errors. ... وَاغْفِرْ لَنَا ... And grant us forgiveness, concerning what is between us and Your servants. So do not expose our errors and evil deeds to them. ... وَارْحَمْنَأ ... Have mercy on us, in what will come thereafter. Therefore, do not allow us to fall into another error. They say that those who commit error need three things: Allah's forgiveness for what is between Him and them, that He conceals these errors from His other servants, and thus does not expose them before the servants, and that He grants them immunity from further error." We mentioned before that Allah answered these pleas, "I shall," in one narration and, "I did," in another narration. ... أَنتَ مَوْلاَنَا ... You are our Mawla, meaning, You are our supporter and helper, our trust is in You, You are sought for each and every type of help and our total reliance is on You. There is no power or strength except from You. ... فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ And give us victory over the disbelieving people. those who rejected Your religion, denied Your Oneness, refused the Message of Your Prophet, worshipped other than You and associated others in Your worship. Give us victory and make us prevail above them in this and the Hereafter. Allah said, "I shall," in one narration, and, "I did," in the Hadith that Muslim collected from Ibn Abbas. Further, Ibn Jarir recorded that Abu Ishaq said that; whenever Mu`adh would finish reciting this Surah, فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ (And give us victory over the disbelieving people), he would say "Amin." This is the end of the Tafsir of Surah At-Baqarah, and all praise and thanks are due to Allah. Top

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤١٦] اس جملہ میں اللہ تعالیٰ اپنے قانون سزا و جزا کا کلیہ بیان فرما دیا۔ یعنی جو کام کسی انسان سے استطاعت سے بڑھ کر ہیں ان پر انسان سے باز پرس نہیں ہوگی، باز پرس تو صرف اسی بات پر ہوگی جو انسان کے اختیار اور استطاعت میں ہو اور جہاں انسان مجبور ہوجائے وہاں گرفت نہ ہوگی۔ مگر اس اختیار، استطاعت اور مقدرت کا فیصلہ انسان کو نہایت نیک نیتی سے کرنا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو دلوں کے راز تک جانتا ہے۔ [٤١٧] اس جملہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون جزا و سزا کا دوسرا کلیہ بیان فرمایا جو یہ ہے کہ انسان کو وہی کچھ ملے گا جو اس نے خود کمایا ہو اور وہ ضرور اسے ملے گا اور جو کوئی برا کام کیا ہو تو اس کی سزا بھی اسے ہی ملے گی اور ضرور ملے گی نہ یہاں آباؤ اجداد کی نیکی کام آسکتی ہے اور نہ اس کا نسب، یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ کرے کوئی اور بھرے کوئی۔ البتہ یہ ضرور ممکن ہے کہ کسی شخص نے کسی نیک کام کی بنیاد رکھ دی ہو جس کے اثرات اس کی موت کے بعد بھی جاری رہیں۔ تو اس میں نیکی کے کام میں اس کو بھی برابر کا حصہ ملتا رہے گا۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے کسی برے کام کی بنیاد رکھی ہو۔ اور اس کی موت کے بعد بھی اس کے اثرات جاری رہیں تو وہ اس برائی کے گناہ میں بھی برابر کا حصہ دار ہوگا اور یہ اصول قرآن کریم اور بہت سے احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ بہرحال یہ ممکن نہیں کہ جس بھلائی یا برائی میں انسان کی نیت اور سعی و عمل کو کچھ دخل نہ ہو، اس کی جزا و سزا یا اس میں سے کچھ حصہ اسے مل سکے۔ [٤١٨] اللہ تعالیٰ نے دعا کا یہ جملہ خود ہی مسلمانوں کو سکھلا کر نہ صرف ان کے سابقہ خلجان کو ختم کردیا بلکہ مزید تسلی و تشفی کا سامان بھی مہیا فرما دیا۔ ان کا خلجان یہ تھا کہ دل میں پیدا ہونے والے خیالات جو ہمارے اپنے اختیار میں نہیں ہوتے ان پر مواخذہ نہ ہو اور اس آیت کی رو سے ظاہری اعمال جو بھول چوک سے صادر ہوں ان سے بھی معافی کی درخواست سکھلائی گئی اور جب دعا قبول کرنے والا ہی یہ دعا سکھلا رہا ہو تو اس کی قبولیت میں کیا شک ہوسکتا ہے۔ چناچہ آپ نے فرمایا کہ میری امت سے خطاو نسیان کو معاف کردیا گیا ہے۔ [٤١٩] یہاں بوجھ سے مراد سخت قسم کے شرعی احکام ہیں۔ جیسے بچھڑے کی پرستش کرنے والوں کی توبہ صرف قتل سے قابل قبول ہونا، یہود میں صرف قصاص تھا، دیت یا معافی کی صورت نہ تھی۔ ان پر زکوٰۃ چوتھا حصہ تھی اور کپڑے پر اگر پیشاب لگ جاتا تو اسے کاٹ دینا پڑتا تھا، نیز غنیمت کے اموال ان پر حرام تھے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے سخت احکام میں تخفیف فرما دی۔ [٤٢٠] یہ آیات اس دور میں نازل ہوئیں جب کافروں سے شدید محاذ آرائی تھی اور بہت سے نازک موقعوں پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسی دعائیں مانگی ہیں۔ بالخصوص غزوہ بدر اور غزوہ خندق کے موقعہ پر آپ نے جو دعائیں فرمائیں ان کا ذکر کثرت سے صحیحہ احادیث میں مذکور ہے۔ [٤٢١] اس دعا کے اختتام پر بعض صحابہ (رض) سے آمین کہنا ثابت ہے اور ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان آیتوں کے بعد آمین کہنے کی ترغیب دی۔ (ابن کثیر) نیز آپ نے فرمایا &: کہ جو شخص رات کو (سوتے وقت) سورة بقرہ کی آخری دو آیات پڑھ لے تو وہ اس کو کفایت کرتی ہیں & (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب شہود الملائکۃ بدرا) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت و استعانت اس کے شامل حال رہتی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یہ اور اس سے پہلی آیت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معراج کے موقع پر سدرۃ المنتہی کے پاس عطا فرمائی گئیں۔ [ مسلم، الإیمان، باب فی ذکر سدرۃ المنتہٰی : ١٧٣ ] ان آیات کی فضیلت میں کئی احادیث آئی ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جو شخص رات کو سورة بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لے تو وہ اس کے لیے کافی ہوں گی۔ “ [ بخاری، فضائل القرآن، باب فضل سورۃ البقرۃ : ٥٠٠٩، عن أبی مسعود (رض) ] ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ایک دن جبریل (علیہ السلام) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انھوں نے اوپر سے ایک زور دار آواز سنی، انھوں نے سر اٹھایا، پھر فرمایا : ” یہ آسمان کا دروازہ ہے جو آج کھولا گیا ہے، آج سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا۔ “ پھر اس دروازے سے ایک فرشتہ اترا۔ جبریل (علیہ السلام) نے فرمایا : ” یہ ایک فرشتہ ہے جو آج زمین کی طرف نازل ہوا ہے اور آج سے پہلے کبھی نازل نہیں ہوا۔ “ پھر اس فرشتے نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا اور کہا : ” دو نوروں کی خوش خبری سنیے، یہ دونوں صرف آپ کو عطا کیے گئے ہیں، آپ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کیے گئے۔ ایک نور سورة فاتحہ ہے اور دوسرا نور سورة بقرہ کی آخری آیات ہیں، آپ جب کبھی ان دونوں میں سے کوئی کلمہ تلاوت کریں گے تو آپ کو مانگی ہوئی چیز مل جائے گی۔ “ [ مسلم، صلاۃ المسافرین، باب فضل الفاتحۃ و خواتیم سورة البقرۃ : ٨٠٦ ] نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان پیدا کرنے سے دو ہزار سال پہلے ایک کتاب لکھی، اس میں سے اس نے دو آیتیں نازل فرمائیں جن کے ساتھ سورة بقرہ کا اختتام کیا، وہ کسی گھر میں تین راتیں نہیں پڑھی جائیں کہ پھر شیطان اس کے قریب آسکے۔ “ [ ترمذی، فضائل القرآن، باب ما جاء فی آخر سورة البقرۃ، ٢٨٨٢ وصححہ الألبانی ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

After that comes the second verse where the doubt, which could have risen during the comprehension of some sentences in the previous verse, has been removed in a style that is very special. It will be recalled that the question was as to how one would escape punishment if thoughts concealed in hearts were also made subject to accounting. It was said: لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا :&Allah burdens not anyone beyond his or her capacity.& Therefore, thoughts that enter the heart without one&s intention and control and are not translated into action, stand all excused in the sight of Allah Almighty. Deeds, that are undertaken with choice and volition will be the only ones apprehended and called to account. A little detail will show that there is an outward aspect of human deeds which concerns what is done with the hand, head, eye, tongue and other parts of the body. This is further divided into two kinds. The first reflects what is done with choice and volition. This is voluntary, such as, to speak by choice or to beat somebody by choice. The second kind is involuntary, that which just issues forth without choice or volition, for instance, saying something other than what one actually intended to say, or a palsied hand moving unintentionally caused pain to somebody. Here everyone knows that accounting and retribution, reward and punishment are particularly related to voluntary deeds. As far as non-voluntary deeds are concerned man is neither obligated nor constrained therein, and certainly, there is no ثواب thawab (reward) or عذاب ` adhab (punishment) on them. Similarly, the deeds relating to one&s heart are also of two kinds. The first one is voluntary, for instance, the belief in کفر kufr and shirk شرک ، which one has. Implanted firmly in one&s heart with intention and choice, or the arrogance one assumes as a result of conscious and wilful self-pride, or the making of firm resolution to start drinking. The second kind is the non-voluntary, for instance, the entry of some evil thought in one&s heart without volition and intention. Here too, the accounting, the reckoning and the reprehensibility covers voluntary deeds only, and does not cover non-voluntary deeds. By this explanation given by the Qur&an itself, peace was restored in the hearts of the noble Companions. They were satisfied that there was no accounting, reckoning, punishment or reward on non-voluntary thoughts. The same subject has been further clarified towards the end by saying: لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ that is, man is rewarded for what he intends to do and is punished for what he elects to do. But it should be borne in mind that the drive of the meaning of this verse is that, one will initially face direct reward or punishment for what is done with intention and volition. However, the indirect coming of reward or punishment after any such deed which was not intended is not contrary to this. This provides an answer to the doubt that there are times when man faces reward or punishment even without intention and volition. In this context, several other verses of the Qur&an and many reports from ahadith prove that one who does something good which persuades others to act similarly, then its reward will continue reaching the original doer of the good deed as long as the later followers of the original deed continue with their good deeds. Similar is the case with one who gives currency to an evil way; he too will be incurring its curse as the original innovator of this evil way when later people follow him, and keep getting involved with the sin for all times to come. Similarly, narrations in hadith prove that one can transmit the reward of one&s good deeds to any other person. It is clear that in all these situations, man is receiving reward or punishment without intention and volition. Here is an answer to this doubt. It is obvious that this reward and punishment did not reach a person directly, but it reached him through the medium of another person. In addition to that, one&s own act and choice do surely play a role in making another person a medium of thawab ثواب for oneself. The reason is that whoever adopts a good or evil way initiated by someone, then in his doing, there certainly is a role played by the voluntary act of the original person, even if he did not intend to release such particular effect. Similar is the case of a person who does his isal al-thawab ایصال الثواب (the prayer for transmittal of reward) for somebody only when he has done him some favour. In view of this, the said reward and punishment of somebody else is, in reality, the reward and punishment of one&s own deeds. The noble Qur&an, towards the far end, teaches Muslims to make a special du` a or prayer in which forgiveness has been sought on commission of some act because of forgetfulness or neglect or mistake. It was said: رَ‌بَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا Our Lord, do not hold us accountable, if we forget or make a mistake. Then it was further said: رَ‌بَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرً‌ا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَ‌بَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ Our Lord, do not place on us a burden such as You have placed on those before us. And our Lord, do not make us bear that for which we have no strength. Indicated here are the severe restrictions placed on the Bani Isra&il (Israelites), such as, a piece of cloth could not be made fully pure unless cut or burnt, or that repentance could not be accepted without killing. Alternately, it could mean that punishment should not visit us as it visited the Bani Isra&il following their evil deeds. In short, Allah Almighty bestowed His best when He promised the acceptance of all these prayers through His Rasul (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، the last among the prophets, may the peace and blessings of Allah be upon him. و للہ الحمد اول و آخرہ و ظاہرہ و باطنہ و ھو المستعا

اس کے بعد دوسری آیت میں ایک خاص انداز سے وہ شبہ دور کیا گیا جو پچھلی آیت کے بعض جملوں سے پیداہو سکتا تھا کہ دل میں چھپے ہوئے خیالات پر حساب ہوا تو عذاب سے کیسے بچیں گے۔ ارشاد فرمایا لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا یعنی اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زائد کام کا حکم نہیں دیتے اس لئے غیر اختیاری طور پر جو خیالات و وسوسے دل میں آجائیں اور پھر ان پر کوئی عمل نہ ہو تو وہ سب اللہ تعالیٰ کے نزدیک معاف ہیں حساب اور مؤ اخذہ صرف ان افعال پر ہوگا جو اختیار اور ارادہ سے کئے جائیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جس طرح انسان کے اعمال و افعال جو ہاتھ، سر، آنکھ اور زبان وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں جن کو اعمال ظاہرہ کہا جاتا ہے ان کی دو قسمیں ہیں ایک اختیاری جو ارادہ اور اختیار سے کئے جائیں جیسے ارادہ سے بولنا ارادہ سے کسی کو مارنا دوسرے غیر اختیاری جو بلا ارادہ سرزد ہوجائیں جیسے زبان سے کہنا چاہتا تھا کچھ اور نکل گیا کچھ یا رعشہ سے بلا اختیار ہاتھ کی حرکت ہوئی اس سے کسی کو تکلیف پہنچ گئی ان میں سب کو معلوم ہے کہ حساب و کتاب اور جزاء وسزا افعال اختیار یہ کے ساتھ مخصوص ہیں افعال غیر اختیاریہ کا نہ انسان مکلف ہے نہ ان پر اس کو ثواب یا عذاب ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ افعال جن کا تعلق باطن یعنی دل کے ساتھ ہے ان کی بھی دو قسمیں ہیں ایک اختیاری جیسے کفر و شرک کا عقیدہ جس کو قصد واختیار کے ساتھ دل میں جمایا ہے یا سوچ سمجھ کر ارادہ کے ساتھ اپنے آپ کو بڑا سمجھنا جس کو تکبر کہا جاتا ہے یا پختہ ارادہ کرنا کہ شراب پیوں گا، اور دوسرے غیر اختیاری مثلاً بغیر قصد و ارادہ کے دل میں کسی برے خیال کا آجانا ان میں بھی حساب و کتاب اور مؤ اخذہ صرف اختیاری افعال پر ہے غیر اختیاری پر نہیں۔ اس تفسیر سے جو خود قرآن نے بیان کردی۔ صحابہ کرام (رض) اجمعین کو اطمینان ہوگیا کہ غیر اختیاری وساوس و خیالات کا حساب و کتاب اور ان پر عذاب وثواب نہ ہوگا اسی مضمون کو آخر میں اور زیادہ واضح کرنے کے لئے فرمایا ہے لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ یعنی انسان کو ثواب بھی اس کام کا ہوتا ہے جو ارادہ سے کرے اور عذاب بھی اس کام پر ہوتا ہے جو ارادہ سے کرے۔ اور مراد یہ ہے کہ ابتداءً بلاواسطہ اس عمل کا ثواب یا عذاب ہوگا جو قصد و ارادہ سے کرے کسی ایسے عمل کا ثواب و عذاب بالواسطہ ہوجانا جس کا اس نے ارادہ نہیں کیا اس کے منافی نہیں، اس سے اس شبہ کا جواب ہوگیا کہ بعض اوقات آدمی کو بلاقصد و ارادہ بھی ثواب یا عذاب ہوتا ہے جیسا کہ قرآن شریف کی دوسری آیات اور بہت سی روایات حدیث سے ثابت ہے کہ جو آدمی کوئی ایسا نیک کام کرے جس سے دوسرے لوگوں کو بھی اس نیکی کی توفیق ہوجائے تو جب تک لوگ یہ نیک کام کرتے رہیں گے اس کا ثواب اس پہلے والے کو بھی ملتا رہے اسی طرح اگر کسی شخص نے کوئی طریقہ گناہ کا جاری کیا تو آئندہ جتنے لوگ اس گناہ میں مبتلا ہوں گے اس کا وبال اس شخص کو بھی پہنچے گا جس نے اول یہ برا طریقہ جاری کیا تھا، اسی طرح روایات حدیث سے ثابت ہے کہ کوئی شخص اپنے عمل کا ثواب دوسرے آدمی کو دینا چاہے تو اس کو یہ ثواب پہنچتا ہے۔ ان سب صورتوں میں بغیر قصد و ارادہ کے انسان کو ثواب یا عذاب ہورہا ہے۔ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ یہ ظاہر ہے کہ یہ ثواب و عذاب بلاواسطہ اس کو نہیں پہنچا بلکہ دوسرے کے واسطے سے پہنچا ہے اس کے علاوہ جو واسطہ بنا ہے اس میں اس کے اپنے عمل اور اختیار کو بھی دخل ضرور ہے کیونکہ جس شخص نے کسی کا ایجاد کیا ہوا اچھا یا برا طریقہ اختیار کیا اس میں پہلے شخص کے عمل اختیاری کا دخل ضروری ہے اگرچہ اس نے اس خاص اثر کا ارادہ نہ کیا ہو اس طرح کوئی کسی کو ایصال ثواب جبھی کرتا ہے جب اس نے اس پر کوئی احسان کیا ہو اس لحاظ سے یہ دوسرے کے عمل کا ثواب و عذاب بھی درحقیقت اپنے ہی عمل کا ثواب یا عذاب ہے۔ بالکل اخیر میں قرآن کریم نے مسلمانوں کو ایک خاص دعا کی تلقین فرمائی جس میں بھول چوک اور بلاواسطہ خطاء کسی فعل کے سرزد ہونے کی معافی طلب کی گئی فرمایا رَبَّنَا لَا تُؤ َاخِذْنَآ اِنْ نَّسِيْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا اے ہمارے پروردگار بھول چوک اور خطاء پر ہم سے مؤ اخذہ نہ فرما پھر فرمایا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَارَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ یعنی اے ہمارے پروردگار ہم پر بھاری اور سخت اعمال کا بوجھ نہ ڈالئے جیسا ہم سے پہلے لوگوں (بنی اسرائیل) پر ڈالا گیا ہے اور ہم پر ایسے فرائض عائد نہ فرمائیے جن کی ہم طاقت نہیں رکھتے۔ اس سے مراد وہ سخت اعمال ہیں جو بنی اسرائیل پر عائد تھے کہ کپڑا پانی سے پاک نہ ہو بلکہ کاٹنا یا جلانا پڑے اور قتل کے بغیر توبہ قبول نہ ہو یا مراد یہ ہے کہ دنیا میں ہم پر عذاب نازل نہ کیا جائے جیسا کہ بنی اسرائیل کے اعمال بد پر کیا گیا اور یہ سب دعائیں حق تعالیٰ نے قبول فرمانے کا اظہار بھی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعہ کردیا۔ سورة بقرہ تمام ہوئی وللہ الحمد اولہ ا آخرہ وظاہرہ و باطنہ وہو المستعان، بندہ محمد شفیع عفا اللہ عنہ ٢٥ ذیقعدہ ١٣٨٨ ھ

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَا يُكَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا۝ ٠ ۭ لَہَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْہَا مَااكْتَسَبَتْ۝ ٠ ۭ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِيْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا۝ ٠ ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ اِصْرًا كَـمَا حَمَلْتَہٗ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا۝ ٠ ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ۝ ٠ ۚ وَاعْفُ عَنَّا۝ ٠ ۪ وَاغْفِرْ لَنَا۝ ٠ ۪ وَارْحَمْنَا۝ ٠ ۪ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ۝ ٢٨٦ ۧ كلف وصارت الْكُلْفَةُ في التّعارف اسما للمشقّة، والتَّكَلُّفُ : اسم لما يفعل بمشقّة، أو تصنّع، أو تشبّع، ولذلک صار التَّكَلُّفُ علی ضربین : محمود : وهو ما يتحرّاه الإنسان ليتوصّل به إلى أن يصير الفعل الذي يتعاطاه سهلا عليه، ويصير كَلِفاً به ومحبّا له، وبهذا النّظر يستعمل التَّكْلِيفُ في تكلّف العبادات . والثاني : مذموم، وهو ما يتحرّاه الإنسان مراء اة، وإياه عني بقوله تعالی: قُلْ ما أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَما أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ [ ص/ 86] وقول النبي صلّى اللہ عليه وسلم : «أنا وأتقیاء أمّتي برآء من التّكلّف» وقوله : لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْساً إِلَّا وُسْعَها[ البقرة/ 286] أي : ما يعدّونه مشقّة فهو سعة في المآل . ( ک ل ف ) التکلف ۔ کوئی کام کرتے وقت شیفتگی ظاہر کرنا باوجودیکہ اس کے کرنے میں شفقت پیش آرہی ہو اس لئے عرف میں کلفت مشقت کو کہتے ہیں اور تکلف اس کام کے کرنے کو جو مشقت تصنع یا اوپرے جی سے دکھلادے کے لئے کہا جائے اس لئے تکلیف دو قسم پر ہے محمود اور مذموم اگر کسی کا م کو اس لئے محنت سے سر انجام دے کہ وہ کام اس پر آسان اور سہل ہوجائے اور اسے اس کام کے ساتھ شیفتگی اور محبت ہوجائے تو ایسا تکلف محمود ہے چناچہ اسی معنی میں عبادات کا پابند بنانے میں تکلیف کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ اور اگر وہ تکلیف محض ریا کاری کے لئے ہو تو مذموم ہے ۔ چناچہ آیت : قُلْ ما أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَما أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ [ ص/ 86] اور اے پیغمبر ) کہہ دو کہ میں تم سے اس کا صلہ نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں ہوں ۔ میں تکلیف کے یہی معنی مراد ہیں اور حدیث میں ہے (99) انا واتقیاء امتی برآء من التکلف کہ میں اور میری امت کے پرہیز گار آدمی تکلف سے بری ہیں اور آیت ؛لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْساً إِلَّا وُسْعَها[ البقرة/ 286] خدا کسی شخص کو ان کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ۔ کے معنی یہ ہیں کہ جن احکام کو یہ مشقت سمجھتے ہیں وہ مآل کے لحاظ سے ان کے لئے وسعت کا باعث ہیں وُسْعُ : الجدةُ والطّاقةُ ، ويقال : ينفق علی قدر وُسْعِهِ. وأَوْسَعَ فلانٌ: إذا کان له الغنی، وصار ذا سَعَةٍ وسع الشئی اتسع کے معنی کسی چیز کے فراخ ہونا کے ہیں اور لواسع کے معنی تو نگر ی اور طاقت کے بھی آتے ہیں چناچہ محاورہ مشہور ہے کہ وہ اپنی طاقت کے مطابق خرچ کرتا ہے ۔ كسب ( عمل رزق) الكَسْبُ : ما يتحرّاه الإنسان مما فيه اجتلاب نفع، و تحصیل حظّ ، كَكَسْبِ المال، وقد يستعمل فيما يظنّ الإنسان أنه يجلب منفعة، ثم استجلب به مضرّة . والکَسْبُ يقال فيما أخذه لنفسه ولغیره، ولهذا قد يتعدّى إلى مفعولین، فيقال : كَسَبْتُ فلانا کذا، والِاكْتِسَابُ لا يقال إلّا فيما استفدته لنفسک، فكلّ اكْتِسَابٍ کسب، ولیس کلّ كَسْبٍ اکتسابا، وذلک نحو : خبز واختبز، وشوی واشتوی، وطبخ واطّبخ، وقوله تعالی: أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267] روي أنه قيل للنّبي صلّى اللہ عليه وسلم «4» : أيّ الکسب أطيب ؟ فقال عليه الصلاة والسلام، «عمل الرجل بيده» ، وقال : «إنّ أطيب ما يأكل الرجل من کسبه وإنّ ولده من كَسْبِهِ» «1» ، وقال تعالی: لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] وقد ورد في القرآن في فعل الصالحات والسيئات، فممّا استعمل في الصالحات قوله : أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمانِها خَيْراً [ الأنعام/ 158] ، وقوله : وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً إلى قوله : مِمَّا كَسَبُوا [ البقرة/ 201- 202] «2» . وممّا يستعمل في السّيّئات : أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِما كَسَبَتْ [ الأنعام/ 70] ، أُولئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِما كَسَبُوا[ الأنعام/ 70] ( ک س ب ) الکسب ۔ اصل میں جلب نفع یا خوش نصیبی حاصل کرنے کے لئے کسی چیز کا قصد کرنے کو کسب کہتے ہیں جیسے کسب مال وغیرہ ایسے کام کے قصد پر بولا جاتا ہ جسے انسان اس خیال پر کرے کہ اس سے نفع حاصل ہوگا لیکن الٹا اس کو نقصان اٹھا نا پڑے ۔ پس الکسب ایسا کام کرنے کو کہتے ہیں جسے انسان اپنی ذا ت اور اس کے ساتھ دوسروں کے فائدہ کے لئے کرے اسی لئے یہ کبھی دو مفعولوں کو طرف متعدی ہوتا ہے جیسے کسبت فلانا کذا میں نے فلاں کو اتنا کچھ حاصل کرکے دیا ۔ مگر الاکتساب ایسا کام کرنے کو کت ہے ہیں جس میں انسان صرف اپنے مفاد کو پیش نظر رکھے لہذا ہر اکتساب لازم نہیں ہے ۔ اور یہ خبز و اختبرزو شوٰ ی واشتویٰ ، وطبخ و طبخ کی طرف ہے ۔ اور آیت کریمہ : أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267] جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کھاتے ہو ۔۔۔۔ اس میں سے راہ خدا میں خرچ کرو ۔ کے متعلق آنحضرت سے سوال کیا گیا ای الکسب اطیب کہ کونسا کسب زیادہ پاکیزہ ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عمل الرجل بیدہ کہ انسان کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور نیز فرمایا : ان طیب مایکل الرجل من کسبہ وان ولدہ من کسبہ سب سے زیادہ پاکیزہ رزق وہ ہی جو انسان اپنے ہاتھ سے کماکر کھا اور اسکی اولاد اس کے کسب سے ہے : قرآن میں ہے : لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] اسی طرح ( یہ ریا کار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے ۔ اور قرآن میں نیک وبددونوں قسم کے اعمال کے متعلق یہ فعل استعمال ہوا ہے ۔ چناچہ اعمال صالحہ کے متعلق فرمایا : أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمانِها خَيْراً [ الأنعام/ 158] یا اپنے ایمان کی حالت میں نیک عمل نہیں کئ ہونگے اور آیت کریمہ : وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً إلى قوله : مِمَّا كَسَبُوا [ البقرة/ 201- 202] کے بعد فرمایا : انکے کاموں کا ( حصہ ) اور اعمال بدکے متعلق فرمایا : أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِما كَسَبَتْ [ الأنعام/ 70] تاکہ ( قیامت کے دن کوئی شخص اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے ۔ أُولئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِما كَسَبُوا[ الأنعام/ 70] یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ۔ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ نسی النِّسْيَانُ : تَرْكُ الإنسانِ ضبطَ ما استودِعَ ، إمَّا لضَعْفِ قلبِهِ ، وإمَّا عن غفْلةٍ ، وإمَّا عن قصْدٍ حتی يَنْحَذِفَ عن القلبِ ذِكْرُهُ ، يقال : نَسِيتُهُ نِسْيَاناً. قال تعالی: وَلَقَدْ عَهِدْنا إِلى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْماً [ طه/ 115] ( ن س ی ) النسیان یہ سنیتہ نسیانا کا مصدر ہے اور اس کے معنی کسی چیز کو ضبط میں نہ رکھنے کے ہیں خواہ یہ ترک ضبط ضعف قلب کی وجہ سے ہو یا ازارہ غفلت ہو یا قصدا کسی چیز کی یاد بھلا دی جائے حتیٰ کہ وہ دل سے محو ہوجائے قرآن میں ہے : ۔ وَلَقَدْ عَهِدْنا إِلى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْماً [ طه/ 115] ہم نے پہلے آدم (علیہ السلام) سے عہد لیا تھا مگر وہ اسے بھول گئے اور ہم نے ان میں صبر وثبات نہ دیکھا خطأ الخَطَأ : العدول عن الجهة، وذلک أضرب : أحدها : أن ترید غير ما تحسن إرادته فتفعله، وهذا هو الخطأ التامّ المأخوذ به الإنسان، يقال : خَطِئَ يَخْطَأُ ، خِطْأً ، وخِطْأَةً ، قال تعالی: إِنَّ قَتْلَهُمْ كانَ خِطْأً كَبِيراً [ الإسراء/ 31] ، وقال : وَإِنْ كُنَّا لَخاطِئِينَ [يوسف/ 91] . والثاني : أن يريد ما يحسن فعله، ولکن يقع منه خلاف ما يريد فيقال : أَخْطَأَ إِخْطَاءً فهو مُخْطِئٌ ، وهذا قد أصاب في الإرادة وأخطأ في الفعل، وهذا المعنيّ بقوله عليه السلام : «رفع عن أمّتي الخَطَأ والنسیان» «3» وبقوله : «من اجتهد فأخطأ فله أجر» «4» ، وقوله عزّ وجلّ : وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ [ النساء/ 92] . والثّالث : أن يريد ما لا يحسن فعله ويتّفق منه خلافه، فهذا مخطئ في الإرادة ومصیب في الفعل، فهو مذموم بقصده وغیر محمود علی فعله، والخَطِيئَةُ والسّيّئة يتقاربان، لکن الخطيئة أكثر ما تقال فيما لا يكون مقصودا إليه في نفسه، بل يكون القصد سببا لتولّد ذلک الفعل منه ( خ ط ء ) الخطاء والخطاء ۃ کے معنی صحیح جہت سے عدول کرنے کے ہیں اس کی مختلف صورتیں ہیں ۔ ( 1 ) کوئی ایسا کام بالا رادہ کرے جس کا ارادہ بھی مناسب نہ ہو ۔ یہ خطا تام ہے جس پر مواخزہ ہوگا ا س معنی میں فعل خطئی یخطاء خطاء وخطاء بولا جا تا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ قَتْلَهُمْ كانَ خِطْأً كَبِيراً [ الإسراء/ 31] کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت جرم ہے ۔ وَإِنْ كُنَّا لَخاطِئِينَ [يوسف/ 91] اور بلا شبہ ہم خطا کار تھے ۔ ( 2 ) ارادہ تو اچھا کام کرنے کا ہو لیکن غلطی سے برا کام سرزد ہوجائے ۔ کہا جاتا ہے : ۔ اس میں اس کا ارادہ وہ تو درست ہوتا ہے مگر اس کا فعل غلط ہوتا ہے اسی قسم کی خطا کے متعلق آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ : «رفع عن أمّتي الخَطَأ والنسیان» میری امت سے خطا سے خطا اور نسیان اٹھائے گئے ہیں ۔ نیز فرمایا : وبقوله : «من اجتهد فأخطأ فله أجر» جس نے اجتہاد کیا ۔ لیکن اس سے غلطی ہوگئی اسے پھر بھی اجر ملے گا قرآن میں ہے : ۔ اور جو غلطی سے مومن کو مار ڈالے تو ایک تو غلام کو ازاد کردے ۔ ( 3 ) غیر مستحن فعل کا ارادہ کرے لیکن اتفاق سے مستحن فعل سرزد ہوجائے ۔ اس صورت میں اس کا فعل تو درست ہے مگر ارادہ غلط ہے لہذا اس کا قصد مذموم ہوگا مگر فعل ہے لہذا اس کا قصد مذموم ہوگا مگر فعل بھی قابل ستائس نہیں ہوگا ۔ الخطیتۃ یہ قریب قریب سیئۃ کے ہم معنی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَحاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ [ البقرة/ 81] اور اسکے گناہ ہر طرف سے اس کو گھیر لیں گے ۔ لیکن زیادہ تر خطئۃ کا استعمال اس فعل کے متعلق ہوتا ہے جو بزات خود مقصود نہ ہو بلکہ کسی دوسری چیز کا ارادہ اس کے صدر کا سبب بن جائے حمل الحَمْل معنی واحد اعتبر في أشياء کثيرة، فسوّي بين لفظه في فعل، وفرّق بين كثير منها في مصادرها، فقیل في الأثقال المحمولة في الظاهر کا لشیء المحمول علی الظّهر : حِمْل . وفي الأثقال المحمولة في الباطن : حَمْل، کالولد في البطن، والماء في السحاب، والثّمرة في الشجرة تشبيها بحمل المرأة، قال تعالی: وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] ، ( ح م ل ) الحمل ( ض ) کے معنی بوجھ اٹھانے یا لادنے کے ہیں اس کا استعمال بہت سی چیزوں کے متعلق ہوتا ہے اس لئے گو صیغہ فعل یکساں رہتا ہے مگر بہت سے استعمالات میں بلحاظ مصاد رکے فرق کیا جاتا ہے ۔ چناچہ وہ بوجھ جو حسی طور پر اٹھائے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ کوئی چیز پیٹھ لادی جائے اس پر حمل ( بکسرالحا) کا لفظ بولا جاتا ہے اور جو بوجھ باطن یعنی کوئی چیز اپنے اندر اٹھا ہے ہوئے ہوتی ہے اس پر حمل کا لفظ بولا جاتا ہے جیسے پیٹ میں بچہ ۔ بادل میں پانی اور عورت کے حمل کے ساتھ تشبیہ دے کر درخت کے پھل کو بھی حمل کہہ دیاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] اور کوئی بوجھ میں دبا ہوا پنا بوجھ ہٹانے کو کسی کو بلائے تو اس میں سے کچھ نہ اٹھائے گا ۔ صر الْإِصْرَارُ : التّعقّد في الذّنب والتّشدّد فيه، والامتناع من الإقلاع عنه . وأصله من الصَّرِّ أي : الشّدّ ، والصُّرَّةُ : ما تعقد فيه الدّراهم، والصِّرَارُ : خرقة تشدّ علی أطباء الناقة لئلا ترضع . قال اللہ تعالی: وَلَمْ يُصِرُّوا عَلى ما فَعَلُوا[ آل عمران/ 135] ، ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِراً [ الجاثية/ 8] ، وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْباراً [ نوح/ 7] ، وَكانُوا يُصِرُّونَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِيمِ [ الواقعة/ 46] ، والْإِصْرَارُ : كلّ عزم شددت عليه، يقال : هذا منّي صِرِّي، وأَصِرِّي وصِرَّى وأَصِرَّى وصُرِّي وصُرَّى أي : جدّ وعزیمة، والصَّرُورَةُ من الرّجال والنساء : الذي لم يحجّ ، والّذي لا يريد التّزوّج، وقوله : رِيحاً صَرْصَراً [ فصلت/ 16] ، لفظه من الصَّرِّ ، وذلک يرجع إلى الشّدّ لما في البرودة من التّعقّد، والصَّرَّةُ : الجماعة المنضمّ بعضهم إلى بعض كأنّهم صُرُّوا، أي : جُمِعُوا في وعاء . قال تعالی: فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي صَرَّةٍ [ الذاریات/ 29] ، وقیل : الصَّرَّةُ الصّيحةُ. ( ص ر ر ) الاصرار کسی گناہ پر سختی ہے جم جانا اور اس سے باز نہ آنا اصل میں یہ صر سے ہے جس کے معنی باندھنے کے ہیں اور صرۃ اس تھیلی کو کہتے ہیں جس میں نقدی باندھ کر رکھ دی جاتی ہے اور صرار ( پستان بند ) اس لتہ کو کہتے ہیں جس سے اونٹنی کے تھن باندھ دیئے جاتے ہیں تاکہ اس کا بچہ دودھ نہ پی سکے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلى ما فَعَلُوا[ آل عمران/ 135] اور وہ اپنی غلطی پر اصرار نہیں کرتے ۔ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلى ما فَعَلُوا[ آل عمران/ 135] مگر پھر غرور سے ضد کرتا ہے ۔ وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْباراً [ نوح/ 7] اور اڑگئے اور اکڑبیٹھے ۔ وَكانُوا يُصِرُّونَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِيمِ [ الواقعة/ 46] اور گناہ عظیم پر اڑے ہوئے تھے ۔ الاصرار : پختہ عزم کو کہتے ہیں محاورہ ہے ھذا منی صری واصری وصری وصری وصری وصریٰ ۔ وہ مرد یا عورت جو جج نہ کرے وہ شخص جسے نکاح کی کو اہش نہ ہو اور آیت کریمہ : ۔ رِيحاً صَرْصَراً [ فصلت/ 16] زور کی ہوا ( چلائی ) میں صر صر کا لفظ صر سے ہے گویا سخت سرد ہونے کی وجہ سے اس میں پستگی پائی جاتی ہے الصرۃ جماعت جس کے افراد باہم ملے جلے ہوں گویا وہ کسی تھیلی میں باندھ دیئے گئے ہیں قرآن میں ہے فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي صَرَّةٍ [ الذاریات/ 29] ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی چلاتی آئی ۔ بعض نے کہا ہے کہ صرۃ کے معنی چیخ کے ہیں ۔ طاقت وقد يعبّر بنفي الطَّاقَةِ عن نفي القدرة . وقوله : وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعامُ مِسْكِينٍ [ البقرة/ 184] ، ظاهره يقتضي أنّ المُطِيقَ له يلزمه فدية أفطر أو لم يفطر، لکن أجمعوا أنه لا يلزمه إلّا مع شرط آخر وروي :( وعلی الّذين يُطَوَّقُونَهُ ) أي : يُحَمَّلُونَ أن يَتَطَوَّقُوا . اور کبھی طاقتہ کی نفی سے قدرت کا انکار مراد ہوتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعامُ مِسْكِينٍ [ البقرة/ 184] اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھیں ( لیکن رکھیں نہیں ) وہ روزے کے بدلے محتاج کو کھانا کھلا دیں ۔ کے بظاہر معنی تو یہی ہیں کہ جو شخص روزہ کی طاقت رکھتا ہو اس پر فدیہ لازم ہے خواہ روزہ رکھے یا نہ رکھے مگر اس امر پر اجماع ہوچکا ہے کہ صرف دوسری شروط کے ساتھ فدیہ یعنی جن پر ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ وہ مشقت روزہ رکھیں ۔ عفو فالعَفْوُ : هو التّجافي عن الذّنب . قال تعالی: فَمَنْ عَفا وَأَصْلَحَ [ الشوری/ 40] وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوى [ البقرة/ 237] ( ع ف و ) عفوت عنہ کے معنی ہیں میں نے اس سے درگزر کرتے ہوئے اس کا گناہ متادینے کا قصد کیا ز لہذا یہاں اصل میں اس کا مفعول ترک کردیا گیا ہے اور عن کا متعلق مخذوف ہی یا قصدت ازالتہ ذنبہ سار فا عنہ پس عفو کے معنی گناہ سے درگزر کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ فَمَنْ عَفا وَأَصْلَحَ [ الشوری/ 40] مگر جو درگزر کرے اور معاملہ کو درست کرلے وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوى [ البقرة/ 237] اور اگر تم ہی اپنا حق چھوڑ دو تو یہ پرہیز گاری کی بات ہے ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے ) نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] وَما لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 74] ، وَكَفى بِاللَّهِ وَلِيًّا وَكَفى بِاللَّهِ نَصِيراً [ النساء/ 45] ، ما لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 116] ( ن ص ر ) النصر والنصر کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ امام مالک کا قول ظاہر قرآن سے زیادہ قریب ہے۔ کیونکہ قول باری ہے (قرھان مقبوضۃ) اللہ تعالیٰ نے رہن کو گواہی کے قائمقام کردیا ہے اور اس شخص پر اعتماد نہیں کیا جس پر حق ہے کیونکہ اس سے وثیقہ لیا ہے جس طرح کہ دین کی مقدار کے متعلق اس پر بھروسہ نہیں کیا اس لئے کہ اس پر گواہی قائم کی ہے۔ دستاویز اور گواہ اس پر لازم آنے والے حق کی مقدار کا پتہ دیتے ہیں اس لئے راہن کے قول کی تصدیق نہیں کی گئی اور رہن اس حد تک گواہوں کے قائم مقام ہوگیا جس حد تک اس کی مقدار رہن کی قیمت کے اندر رہی لیکن جب یہ مقدار اس کی قیمت سے تجاوز کر جائے تو پھر وثیقہ کا کوئی کام نہیں اس صورت میں مرتہن مدعی ہوگا اور مدعی علیہ۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ درج بالا استدلال عجیب و غریب قسم کا استدلال ہے۔ وہ اس طرح کہ مستدل کا یہ کنا ہے کہ جب راہن پر اعتماد نہ کیا گیا یہاں تک کہ اس سے رہن رکھوا لیا گیا تو رہن گواہی کے قائم مقام بن گیا اور پھر یہ دعویٰ کیا کہ یہ ظاہر قرآن کے موافق ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کا قول معتبر قرار دیا جس پر حق ہے۔ کیونکہ قول باری ہے (والیملل الذی علیہ الحق والیتق اللہ ربہ ولا یبخس منہ شیئاً ) اللہ تعالیٰ نے اس حالت میں بھی اس کے قول کو معتبر قرار دیا جس میں اسے گواہی قائم کرنے اور دستاویز لکھوانے کا حکم دیا اور طالب یعنی قرض خواہ کی طرف سے مطلوب پر عدم اعتماد کو مطلوب کے قول کے اعتبار کے لئے مانع قرار نہیں دیا۔ تو پھر مرتہن کی طرف سے راہن سے رہن رکھوا کر معاملہ پختہ کرنے کے ذریعے عدم اعتماد کا اظہار مطلوب کے قول کو قبول کرنے سے کس طرح مانع ہوسکتا ہے اور یہ کس طرح طالب کے دعوے کی تصدیق کا موجب بن سکتا ہے۔ مستدل کی بیان کردہ بات ظاہر قرآن کے مخالف ہے اور مرتہن کی طرف سے عدم اعتماد کی تصدیق کے لئے اس کی قائم کردہ علت نص کتاب کی رو سے غلط ہے۔ پھر اس کا یہ دعویٰ کہ اس کی بات ظاہر قرآن کے موافق ہے۔ اتنہائی تعجب انگیز دعویٰ ہے ۔ وہ اس طرح کہ قرآن مجید نے اس کے دعوے کے بطلان کا اس وقت فیصلہ دے دیا جب کہ اس حالت میں بھی مطلوب کے قول کو تسلیم کیا جس میں اس پر اعتماد نہیں کیا گیا۔ بلکہ دستاویز اور گواہوں کے ذریعے اس سے معاملے کو پختہ کرایا گیا اور مستدل کا گمان یہ ہے کہ اس سے رہن رکھوا کر گویا اس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تو اس سے یہ ضروری ہوگیا کہ طالب کے قول کا اعتبار کیا جائے اور پھر یہ گمان کرلیا کہ اس کا قول ظاہر قرآن کے موافق ہے اور پھر اس پر اس بات کی بنیاد رکھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر اعتماد نہیں کیا اور یہ کہ رہن پختگی اور بھروسے کا ذریعہ بنا جس طرح گواہی پختگی اور اعتماد کا ذریعہ ہے اور اس طرح رہن گواہی کے قائم مقام ہوگیا۔ مستدل نے یہ جو کچھ بیان کیا ہے اس کا ظاہر قرآن سے کوئی واسطہ نہیں اور ہم نے پہلے ہی دلائل سے ثابت کردیا ہے کہ یہ قرآن کے خلاف ہے۔ دراصل یہ قیاس ہے اور اس میں رہن کے مسئلے کو گواہی کے مسئلے پر قیاس کیا گیا ہے اور علت یہ بیان کی گئی ہے کہ رہن اور گواہی دونوں صورتوں میں مقروض پر قرض کی اس مقدار کے متعلق اعتماد اور بھروسہ نہیں کیا گیا جو اس کے ذمے ہے یہ قیاس کئی وجوہ سے باطل ہے۔ اول یہ کہ ظاہر قرآن سے اس کی تردید ہو رہی ہے اس کی تفصیل ہم پچھلی سطور میں بیان کر آئے ہیں۔ دوم یہ قیاس ایک مسئلے پر سب کے اتفاق کی وجہ سے منتقض ہوجاتا ہے۔ یہ وہ یہ کہ اگر کسی پر کسی کا قرض ہو اور قرض خواہ مقروض سے کفیل یعنی ضامن لے لے اس کے بعد قرض کی مقدار میں دونوں کا اختلاف ہوجائے تو اس صورت میں سب کے نزدیک مطلوب یعنی مقروض کا قول اس پر لازم آنے والے قرض کے متعلق معتبر ہوگا۔ اور اس طرح کفیل لے کر اس پر جس عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا تھا۔ وہ طالب یعنی قرض خواہ کے قول کی تصدیق کا موجب نہیں بنا حالانکہ مستدل کی بیان کر علت یہاں موجود ہے اس طرح کفالت کے مسئلے میں آ کر اس کی علت منتقض ہوگئی۔ سوم یہ کہ ثبوت یعنی گواہی وغیرہ ملنے کی صورت میں جس سبب کی بنا پر طالب کے قول کی تصدیق نہیں کی گئی وہ یہ ہے کہ گواہوں کی اس بارے میں گواہی قابل قبول ہوتی ہے اور ان کی تصدیق کی بناء پر یہ فیصلہ کیا جاتا ہے۔ ان گواہوں نے راہن کے بیان کردہ رقم سے زائد رقم کے متعلق مرتہن کے اقرار کے خلاف اور مدعی کے دعوے کے حق میں گواہی دینی ہے اور اس طرح زائد رقم کے متعلق مرتہن کا یہ اقرار قاضی کی عدالت میں اقرار کرنے کے مترادف ہوگیا۔ دوسری طرف رہن کی قیمت کے بارے میں ایسی کوئی دلیل موجود نہیں جس سے پتہ چل سکے کہ دین کی مقدار اس قیمت کے مساوی ہے۔ اس لئے کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ قرض کی تھوڑی سی رقم کے بدلے اس سے بڑھ کر قیمت والی چیز رہن رکھی جاسکتی ہے اور اس کے برعکس بھی کیا جاسکتا ہے۔ رہن کی قیمت قرض کی مقدار کا پتہ نہیں دے سکتی اور نہ ہی اس میں اس پر دلالت ہی پائی جاتی ہے تو اب بتائیں کہ رہن کس طرح گواہی کے مساوی اور ہم پلہ ہوسکتی ہے ؟ مستدل کے قیاس کے بطلان پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ اگر راہن اور مرتہن دونوں اس پر متفق ہوجائیں کہ قرض کی مقدار رہن کی قیمت سے کم تھی تو اس سے عقد رہن کا بطلان لازم نہیں آئے گا لیکن اگر طالب اقرار کرتا اس کا قرض اس سے کم ہے جس کی گواہوں نے گواہی دی ہے تو اس صورت میں گواہوں کی گواہی باطل ہوجاتی ہے یہ وہ وجوبات ہیں جو اس مستدل کے استدلال کے بطلان پر دلالت کرتے ہیں۔ قول باری ہے (ومن یکتمھا فانہ اثم قلبہ) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قول باری (ولا تکتموا الشھادۃ) ایک خود مکتفی فقرہ ہے اگرچہ اس کا عطف بیع و شراء کے وقت گواہی قائم کرلینے کے اس امر پر ہے جو پہلے گذر چکا ہے یعنی قو ل باری (واشھدوا اذا تبایعتم) اس لئے یہ فقرہ ان تمام گواہوں کے متعلق عام ہے جن میں گواہ پر گواہ بننا اور پھر عدالت میں اس کی گواہی دینا لازم ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (واقیموا الشھادۃ للہ) نیز (یایھا الذین امنوا کونوا قوا مین بالقسط شھدآء للہ ولو علی انفسکم) اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے ذریعے گواہ کو گواہی چھپانے سے منع فرما دیا ہے کہ اس کے نتیجے میں لوگوں کے حقوق ضائع ہوتے ہیں۔ لیکن یہ گواہی فرض کفایہ ہے جیسا کہ ہم نے دستاویزوں کی تحریر کے سلسلے میں گواہی ثبت کرنے اور بعد میں یہ گواہی پیش کرنے کے ضمن میں ذکر کردیا ہے لیکن اگر ایسا موقع ہو کہ ان دو گواہوں کے سوا اور کوئی گواہی دینے والا موجود نہ ہو تو پھر گواہی کی فرضیت کا ان ہی دونوں گواہوں پر ہوجائے گا اور اگر وہ اس فرض کی ادائیگی سے پیچھے ہٹ گئے تو آیت میں مذکورہ وعید کے وہ سزا وار ہوں گے۔ آیت میں کتمان شہادت سے نہی اس کی ادائیگی کے وجوب پر دلالت کر رہی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس فرضیت کی اور تاکید فرما دی چناچہ قول باری ہے (ومن یک تھا فافہ اثم قلیہ) اللہ تعالیٰ نے گناہ کی نسبت قلب کی طرف کی اگرچہ حقیقت میں گواہی چھپانے والا گنہگار ہوتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ گناہ کا تعلق عقد قلب یعنی قلب کے اندر پیدا ہونے والے ارادے سے ہوتا ہے۔ نیز گواہی کو چھپا جانا دراصل اس نیت کے تحت ہوتا ہے کہ اس گواہی کو زبان پر نہیں لائیں گے اب نیت کا معاملہ خلاص دل کے افعال میں سے ایک ہے جس کے ساتھ اعضاء و جوارح کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس بنا پر گواہی کو چھپا جانے والا دو طرح سے گناہ کا مرتکب قرار پائے گا۔ ایک گواہی نہ دینے کے ارادے کی وجہ سے اور دوسرا اپنی زبان پر گواہی کے الفاظ نہ لانے کی وجہ سے۔ قول باری (فانہ ، ثم قلبہ) مجاز ہے، حقیقت نہیں ہے اور اس مقام پر یہ مجاز حقیقت سے زیادہ مئوکد ہے یعنی اس کی جگہ یہ فقرہ کہا جاتا کہ ” جو شخص گواہی کو چھپائے گا وہ گنہگار ہوگا۔ “ تو اس میں اتنی تاکید نہ ہوتی جتنی قرآنی فقرے میں ہے۔ نیز حقیقت کے مقابلے میں یہ زیادہ بلیغ اور وعید پر بڑھ کر دلالت کرنے والا ہے۔ اس میں بیان کی ندرت اور اچھوتا پن نیز معافی کا لطیف انداز میں اظہار پایا جاتا ہے۔ اس کلام کو نازل کرنے والی ذات بہت ہی بلند اور حکیم ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت دین میں دستاویز تیار کرنے میں احتیاط نیز پسندیدہ گواہوں کے حصول اور عقد رھن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بیان فرمایا ہے اسکے ذریعے دراصل دین اور دنیا کی فلاح و صلاح کی صورتوں کے متعلق بندوں کو آگاہ کیا گیا ہے۔ دنیاوی لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو اس کے ذریعے آپس کے تعلقات کی درستی اور باہمی تنازعات اور اختلافات کا خاتمہ ہوتا ہے کیونکہ یہی وہ چیزیں ہیں جو آپس کے تعلقات کو خراب کرتی ہیں اور دین و دنیا دونوں کے ہاتھ سے نکل جانے کا سبب بنتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (ولا تنازعوا فتفثلوا وتذھب ریحکم، آپس میں نہ لڑو ورنہ تم ناکام ہو جائو گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ ) تنازعہ ختم ہونے کی صورت یہ ہے کہ جب مطلوب یعنی مقروض کو یہ معلوم ہوگا کہ اس پر قرض ہے اور گواہ بھی موجود ہیں یا دستاویز موجود ہے یا رہن رکھا ہوا ہے جو قرض خواہ کے ہاتھ میں اس کے ذمے عائد شدہ رقم کا ایک ٹھوس ثبوت موجود ہے تو اس میں گڑ بڑ کرنے کی ہمت پیدا نہیں ہوگی۔ کیونکہ اسے اس بات کا علم ہوگا کہ اگر وہ گڑ بڑ کرے گا یا قرض کی رقم کو گھٹا کر پیش کرنے کی کوشش کرے گا تو اس سے اسے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بلکہ گواہوں کی اس کے خلاف گواہی سے الٹا اس کا جھوٹ ظاہر ہوجائے گا دوسری طرف اس انتظام میں قرض خواہ کے لئے بھی اعتماد اور احتیاط کا سامان موجود ہے اس طرح اس انتظام میں قرض خواہ اور قرض دار دونوں کے دین اور دنیاوی صلاح و فلاح کا ذریعہ موجود ہے اس لئے کہ مقروض کا قرض خواہ کے حق کو کم کر کے ظاہر نہ کرنے میں اس کے دین کی بھلائی اور اس کے برعکس عمل کرنے میں اس کے دین کا نقصان ہے کیونکہ وہ جانتے بوجھتے ایسا کر رہا ہے۔ دوسری طرف طالب یعنی قرض خواہ کے پاس اگر ثبوت اور گواہ ہوں گے تو وہ اس کے دعوے اور قرض کو ثابت کردیں گے اور اگر گواہ نہ ہوں اور مقروض انکار کر بیٹھے تو اس سے وہ اس بات پر مجبور ہوجائے گا کہ اپنا حق وصول کرنے کے لئے مقروض کا پوری طرح مقابلہ کرے اور اس کے خلاف ہر قسم کی تدبیر اور چارہ جوئی سے کام لے جس کے نتیجے میں بعض دفعہ وہ صرف اپنا حق لینے پر اکتفا نہیں کرے گا بلکہ مقروض کو پہنچانے کے لئے حتی الامکان اپنے حق سے کئی گناہ زیادہ وصول کرنے کی کوشش کرے گا۔ لوگوں کے آپس کے لین دین کے طور پر نظر رکھنے والوں کو یہ باتیں اچھی طرح معلوم ہیں۔ یہ باتیں بعینہ ان امور کی طرح ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک کے ذریعے حرام قرار دیا ہے یعنی ایسے سودے جن میں مبیع یا ثمن کی مقدار یا مدت کی مقدار نامعلوم ہو۔ ان باتوں پر لوگ زمانہ جاہلیت میں چلتے تھے جبکہ ابھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت نہیں ہوئی تھی جس کے نتیجے میں آپس میں اختلافات پیدا ہوتے ، تعلقات بگڑ جاتے ، بعض عداوت اور نفرت کے بیج بو دیئے جاتے۔ انہی برائیوں کی بیخ کنی کے لئے اللہ تعالیٰ نے قمار، جواء، شراب خوری اور منشیات کے استعمال کو حرام قرار دیا کیونکہ یہی چیزیں نفرت، عداوت، بعض اور کینہ جیسی برائیوں کا سبب بنتی ہیں۔ چنانچہ قول باری ہے (انما یرید الشیطان ان یوقع بینکم العداوۃ والغضآء فی الخمر والمیسر ویصدکم عن ذکر اللہ وعن الصلاۃ فھل انتم منتھون شیطان چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور بعض پیدا کر دے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے آیا اب تم باز آ جائو گے ؟ ) اللہ تعالیٰ نے آیت کے ذریعے یہ بتادیا کہ اس نے جوئے اور شراب سے آپس کے اختلافات اور عداوتیں ختم کرنے کے لئے تمہیں روکا ہے۔ نیز ان باتوں میں مشغولیت اللہ کی یاد اور نماز کی ادائیگی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اس لئے جو شخص اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کو اپنائے گا، اس کے اوامر کو بجا لائے گا اور اس کے زواجر سے باز رہے گا وہ دین و دنیا دونوں کی صلاح و فلاح کو سمیٹ لے گا۔ ارشاد باری ہے (ولو انھم فعلوا مایو عظون بہ لکان خیراً لھم واشد تثبیتاً واذ الاتینھم من لدنا اجراً عظیماً ولھدینا ھم صراط مستقیماً انہیں جو نصیحت کی جاتی ہے اگر وہ اس پر عمل کرتے تو یہ ان کے لئے زیادہ بہتری اور زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا اور جب یہ ایسا کرتے تو ہم انہیں اپنی طرف سے بہت بڑا اجر دیتے اور انہیں سیدھا راستہ دکھا دیتے۔ ) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دیوان اور عقود کے متعلق دستاویزات لکھنے اور گواہی قائم کرنے کا حکم دیا ہے نیز ان میں کبھی گواہی کے ذریعے اور کبھی رہن رکھ کر احتیاط کرنے کے لئے کہا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مال کی حفاظت واجب ہے اور اسے اڑانے اور ضائع کرنے سے روک دیا گیا ہے ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی اسی قسم کی روایت ہے ۔ ہمیں ایسے شخص نے روایت بیان کی جس پر روایت حدیث کے متعلق مجھے کوئی اعترا ض نہیں، انہیں معاذ بن المثنٰی نے انہیں مسدد نے انہیں بشربن الفضل نے ، انہیں عبدالرحمٰن بن اسحاق نے سعید المقبری سے، انہوںں نے حضرت ابوہریرہ سے، انہوںں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہ آپ نے فرمایا (لایحب اللہ اضاعۃ المال ولا قیل ولا قال اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ مال ضائع کرنے اور بحث و تکرار نیز سوال و جواب کو پسند نہیں کرتا۔ ) ہمیں ایسے شخص نے روایت بیان کی جس پر مجھے کوئی اعتراض نہیں، انہیں محمد بن اسحاق نے انہیں موسیٰ بن عبدالرحمٰن المسروقی نے، انہیں حسن الجعفی نے محمد بن سوقہ سے، انہوں نے وراد سے کہ حضرت معاوضہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ کو لکھا کہ مجھے وہ حدیثیں لکھ کر بھیجو جو تم نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس طرح سنی ہیں کہ تمہارے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان اور کوئی واسطہ نہ ہو۔ وراد کہتے ہیں کہ حضرت مغیرہ نے مجھے یہ لکھوایا :” میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ آپ نے فرمایا (ان اللہ حرم ثلاثا و نھی عن ثلاث فاما الثلاث التی حرم فعقوق الامھات ووأ دا البنات ولا وھات والثلاث التی تھی عنھھن فقیل وقال والحاف السوال واضاعۃ المال، اللہ تعالیٰ نے تین باتیں حرام کردی ہیں اور تین باتوں سے روکا ہے جن تین باتوں کو حرام قرار دیا وہ مائوں کی نافرمانی، ڑکیوں کو زندہ درگور کرنا، اپنے اوپر عائد شدہ حق ادا نہ کرنا اور جس پر حق نہ ہو اس کا مطالبہ کرنا، جن تین باتوں سے منع فرمایا ہے وہ یہ ہیں بحث و مباحثہ اور سوال و جواب، مال برباد کرنا اور اصرا رسے مانگنا ۔ ۔۔۔ آیت 282 اور 283 کی تفسیر ختم ہوئی۔ ۔۔۔۔۔ آیت 284 ، 285 اور 286 کی تفسیر : قول باری ہے (وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ تم اپنے دل کی بات خواہ ظاہر کردو خواہ چھپی رہنے دو اللہ اس کا تم سے حساب لے گا۔ ) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ایک روایت کے مطابق یہ آیت قول باری (لایکلف اللہ نفساً الا وسعھا ، اللہ تعالیٰ کسی متنفس پر اس کی مقدریت سے بڑھ کر ذمہ داری نہیں ڈالتے) کی وجہ سے منسوخ ہوگئی ہے۔ ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے قتادہ سے اس آیت کی تفسیر میں یہ روایت بیان کی کہ حضرت ابن عمر نے جب یہ آیت پڑھی تو رونے لگے اور فرمایا :” ہمارے دل میں جو خیالات ابھرتے ہیں ان پر بھی ہمارا مواخذہ ہوگا۔ “ یہ کہہ کر روتے ہوئے ان کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ ان کے پاس ایک شخص موجود تھا وہ اٹھا اور سیدھا حضرت ابن عباس کے پاس آیا اور حضرت ابن عمر کی حالت بیان کی۔ آپ نے یہ سن کر فرمایا :” اللہ ابن عمر پر رحم فرمائے ! اس آیت سے مسلمانوں کو بھی وہی تشویق لاحق ہوگئی تھی جو انہیں ہوئی ہے پھر سا کے بعد یہ آیت (لایکلف اللہ نفساً الا وسعھا) نازل ہوئی۔ “ شعبی سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوعبیدہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کی کہ یہ آیت اس کے بعد والی آیت (لھا ما کسبت وعلیھا مااکتسبت، ہر شخص نے جو نیکی کمائی ہے اس کا پھل اسی کے لئے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے اس کا وبال اسی پر ہے) سے منسوخ ہوگئی ہے۔ معاویہ بن صالح نے عبداللہ بن ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے قول باری (وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ) کی تفسیر میں یہ روایت کی ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ جب قیامت کے دن تمام انسانوں کو اکٹھا کرے گا تو اس سے فرمائے گا کہ میں تمہیں تمہارے دلوں کی ان باتوں کی اطلاع دیتا ہوں جن سے میرے فرشتے بھی آگاہ نہ ہو سکے۔ پھر اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ان کے دلوں میں ابھرنے والے خیالات سے آگاہ کر کے انہیں معاف کر دے گا اسی لئے فرمایا (یحاسبکم بہ اللہ فیغفرلمن یشآء و یعذب من یشآء ، اللہ تم سے اس کا حساب لے گا پھر جسے چاہے گا معاف کر دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا) قول باری ہے (لون یواخذکم بما کسبت قلوبکم، لیکن اللہ تعالیٰ تم سے ان باتوں پر مئواخذہ کرے گا جو تمہارے دلوں نے کمائے ہیں) یعنی شک اور نفاق کی کمائی۔ ربیع بن انس سے اسی قسم کی روایت ہے۔ عمرو بن عبید نے کہا کہ حسن بصری کہا کرتے تھے کہ یہ آیت محکم ہے یعنی منسوخ نہیں ہوئی۔ مجاہد سے روایت ہے کہ یہ آیت شک اور یقین کے متعلق محکم یعنی غیر منسوخ ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ دو وجوہ کی بنا پر اس آیت کو منسوخ نہیں مانا جاسکتا۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ اخبار (یعنی ایسی آیتیں جن میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو آگاہ کیا گیا ہو) میں نسخ جائز نہیں۔ اس لئے کہ ان کے تحت دی گئی خبروں کا نسخ بداء یعنی ایک چیز کے پہلے نامعلوم ہونے اور پھر معلوم ہوجانے پر دلالت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو عواقب یعنی ہر چیز کے انجام کی خبر ہے۔ اس لئے اس کی طرف اس کی نسبت جائز نہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ کسی کو ایسی بات کا مکلف بنانا اور اس پر اس کی ذمہ داری ڈالنا جائز نہیں جو اس کی طاقت سے باہر ہو یہ ایک فضول اور بے وقوفانہ حرکت ہوگی اور اللہ تعالیٰ کی ذات فضول کاموں سے بلند و برتر ہے جن حضرات سے اس آیت کے منسوخ ہونے کی روایت مقنول ہے تو اس میں راوی سے لفظی غلطی سرزد ہوئی ہے۔ انہوں نے اس آیت کے معنی بیان کرنے اور اسے کسی اور طرف موڑنے کے تو ہم کے ازالے کا ارادہ کیا تھا۔ مقسم نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ یہ آیت گواہی چھپانے کے متعلق نازل ہوئی۔ عکرمہ سے بھی اسی قسم کی روایت ہے۔ ان دونوں حضرات کے سوا دوسرے مفسرین سے منقول ہے کہ آیت تمام باتوں کے متعلق ہے۔ یہ تفسیر اولیٰ ہے کیونکہ اس میں عموم ہے اور یہ خود مکتفی بھی ہے۔ اس لئے یہ گواہی اور اس کے علاوہ تمام دوسری باتوں کے لئے عام ہے۔ کسب قلب پر مواخذہ کے متعلق اس آیت کی نظیر یہ قول باری ہے (ولکن یواخذکم بما کسبت قلوبکم) نیز ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین امنوا لھم عذاب الیم، جو لوگ یہ پسند کرتے ہیں کہ اہل ایمان میں فواحش پھیل جائیں ان کے لئے درد ناک عذاب ہے) نیز (فی قلوبھم مرض، ان کے دلوں میں بیماری ہے) یعنی شک کی بیماری۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (ان اللہ عفا لامتی عما حدثت بہ انفسھا مالم یتکلموا بہ اولعلموابہ، اللہ تعالیٰ نے میری امت کے افراد کے دلوں میں پیدا ہونے والے خیالات کو معاف کردیا ہے جب تک وہ انہیں اپنی زبان پر نہ لائیں اور انہیں عملی شکل نہ دے دیں۔ ) اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اس روایت میں بیان کردہ حکم کا تعلق ان خیالات سے ہے جن کی وجہ سے شرعی احکام لازم ہوتے ہیں۔ اس لئے کسی کی طرف اپنے غلام کو آزاد کرنے یا بیوی کو طلاق دینے یا بیع کرنے یا صدقہ یا ہبہ کا وقوع صرف ارادے اور نیت کی بنا پر نہیں ہوگا جب تک وہ انہیں الفاظ کی شکل نہ دے دے اور اپنی زبان پر نہ لائے۔ آیت میں جس مواخذہ کا ذکر ہے اس کا تعلق ان امور سے ہے جو ” مابین اللہ وبین العبد، ہیں حسن بن عطیہ نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ انہوں نے قول باری (وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ) کے سلسلے میں فرمایا : تمہارے اعلانیہ اور خفیہ اعمال کا اللہ تعالیٰ حساب لے گا اور جو بھی بندئہ مومن اپنے دل میں کسی نیکی کا ارادہ کرتا ہے اس پر عمل کرنے کی صورت میں اس کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں۔ اگر وہ اس نیکی پر عمل نہ کرسکتا ہو تو اس کے نامہ اعمال میں اس بنا پر ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے کہ وہ بندہ مومن ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے اعلانیہ اور خفیہ دونوں قسموں کے اعمال سے خوش ہوتا ہے۔ اگر بندہ مومن اپنے دل میں کسی بدکاری کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ کو اس کی خبر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اس سے آگاہ کر دے گا۔ اگر وہ اس بدی کو عملی شکل نہیں دے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر اس کا مئواخذہ نہیں کرے گا۔ اگر اس نے اسے عملی شکل دیح دی تو اللہ تعالیٰ در گذر کر دے گا۔ جیسا کہ قول باری ہے (اولئک الذین نتقبل عنھم احسن ما عملوا ونتجاوز عن سیاتھم) یہی وہ لوگ ہیں جن کے اچھے اعمال ہم قبول فرماتے اور ان کی سیآت سے درگذر کرتے ہیں) حضرت ابن عباس کی یہ وضاحت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی درج بالا حدیث کی روشنی میں ہے۔ قول باری ہے (لایکلف اللہ نفساً الا وسعھا) یہ آیت اس بارے میں نص ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ایسی ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا جسے اٹھانے کی اس کے اندر طاقت قدرت نہ ہو اگر اللہ تعالیٰ ایسا کرتا تو وہ اپنے بندے پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈالنے والا قرار پاتا۔ (تعالیٰ اللہ عن ذلک) آپ نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ” لیس فی وسعی کیت وکیت “ تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فلاں فلاں کام کرنے کی مجھ میں قدرت نہیں ہے اور نہ ہی میں اس کی طاقت رکھتا ہوں بلکہ لفظ الوسع مفہوم کے لحاظ سے لفظ الطاقۃ سے کم تر ہے۔ امت میں اس کے متعلق کوئی اختلا ف نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف یہ بات ہے کہ وہ اپاہج کو چلنے کا اور اندھے کو دیکھنے کا اور ہتھ کٹے کو پنجہ آزمائی کا مکلف بنائے۔ اس لئے کہ ان میں سے کوئی بھی متعلقہ کام کی نہ طاقت رکھتا ہے اور نہ قدرت ۔ اس کے متعلق امت میں کوئی اختلاف نہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ مروی ہے کہ جو شخص کھڑے ہو کر نماز ادا نہیں کرسکتا تو وہ نماز میں قیام کا مکلف نہیں ہے اور جو بیٹھ کر نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا وہ بیٹھ کر نماز پڑھنے کا مکلف نہیں بلکہ پہلو پر لیٹ کر اشارے سے پڑھے گا کیونکہ اسے اس صورت کے سوا اور کسی طرح نماز پڑھنے کی قدرت اور طاقت نہیں ہے۔ نص قرآنی نے ان لوگوں سے تکلف ساقط کردی ہے یعنی مکلف ہونے کی حیثیت ختم کردی ہے جو فعل پر اس کی قدرت اور اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ جاہلوں کے ایک گروہ کا جن ہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف (نعوذ باللہ) فضول اور بےوقوفانہ افعال کی نسبت کی ہے۔ … یہ خیال ہے کہ ہر وہ کام جس کے کرنے کا کسی مکلف کو حکم دی اگیا ہو یا جس سے روکا گیا ہو تو جس کام کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے ضروری نہیں کہ مکلف کو اس کے کرنے کی قدرت بھی دی گئی ہو اسی طرح منہی عنہ فعل کے لئے ضروری نہیں اس کے ترک کی اسے قدرت دی گئی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان جاہلوں کے اس قول کی تکذیب یہ فرما کردی ہے کہ (لایکلف اللہ نفساً الا وسعھا) نیز عقل انسانی بھی تکلیف مالایطاق ، (کسی پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ) کی قباحت کی گواہی دے رہی ہے جو ذات فعل قبیح سے باخبر ہو اور اسے اس فعل قبیح کو روبکار لانے کی ضرورت بھی نہ ہو اس سے اس کا صدور نہیں ہوسکتا۔ اس مسئلے کے ساتھ جن احکام کا تعلق ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ مکلفین سے ایسے افعال کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے جن کی ادائیگی کی ان کے قویٰ میں طاقت ہی نہ ہو اس لئے کہ لفظ الوسع کا مفہوم لفظ الطاقۃ کے مفہوم سے کم تر ہے۔ نیز ان کے لئے یہ ضروری نہیں کہ ایک فرض کی ادائیگی میں اپنی پوری طاقت صرف کردیں مثلاً ایک بوڑھا آدمی جس کے لئے روزہ رکھنا بڑی مشقت کی بات ہے اور جسے روزے کی وجہ سے کسی جسمانی تکلیف کے لاحق ہوجانے کا خطرہ ہو اگرچہ اسے موت کا خطرہ نہ ہو، تو اس پر روزہ رکھنا فرض نہیں ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے صرف اسی کام کا مکلف بنایا ہے جو اس کے مقدور میں ہو اور جس کی وجہ سے وہ موت کی حالت تک نہ پہنچے۔ یہی حکم اس مریض کا ہے جسے روزہ رکھنے یا پانی استعمال کرنے کی صورت میں نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا ہے کہ وہ کسی کو ایسے کام کا مکلف نہیں بناتا ہے جو اس کے مقدور سے باہر ہو اور اس کے امکان سے خارج ہو۔ اس سے اس کا مقصد کسی کو تنگی میں ڈالنا یا مشقت میں مبتلا کرنا نہیں ہوتا۔ چنانچہ ارشاد ہوا (ولو شآء اللہ لاعنتکم، اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں دشواری میں مبتلا کردیتا) اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا (عزیز علیہ ما عنتم تمہارا دشواری اور مشقت میں پڑجانا ان پر بہت بوجھل ہے ) اللہ کے تمام اوامر اور نواہی کے متعلق یہ ایک مستقل حکم اور طریق کار ہے۔ ان کے ساتھ مکلف ہونے کا انحصار بندے کی طاقت و قدرت پر ہے۔ قول باری ہے (ربنالا تواخذنا ان نسینا اواخطانا اے ہمارے پروردگار ! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کر بیٹھیں تو ہمارا مواخذہ نہ کرنا) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ نسیان کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ انسان بھول کر کوئی کام بیٹھتا ہے اس صورت میں اگر اس سے بھول کر کوئی غلطی سر زد ہوجائے تو معذرت کرلینا بہتر ہوتا ہے۔ دوسری یہ کہ جس کام کے کرنے کا حکم دیا گیا ہو اسے کسی پیدا ہونے والے شبہ یا غ لط تاویل کی بنا پر ترک کر دے۔ اگرچہ خود اس فعل کا وقوع سہو اور نسیان کی بنا پر نہ ہو اس صورت میں یہ بہتر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ایسے افعال کی معافی مانگے۔ نسیان بمعنی ترک لغت میں مصروف ہے۔ قول باری (نسو اللہ فنسیھم) وہ اللہ کو بھول گئے پھر اللہ نے انہیں بھلا دیا یعنی انہوں نے اللہ کے حکم کو ترک کردیا اور اس کے ثواب اور اجر کے مستحق نہیں ٹھہرے۔ اللہ پر نسیا ن کے اسم کا اطلاق اسم کے بالمقابل اسم کے طور پر ہوا ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے (وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا ، برائی کا بدلہ اس جیسی برائی ہے) نیز (فمن اعتدی علیکم فاعتدوا علیہ بمثل ماعتدی علیکم ، جو تم سے زیادتی کرے تو تم بھی اس پر اسی قدر زیادتی کرو جس قدر کہ اس نے تم سے کی ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ نسیان ذکر یعنی یاد کی ضد ہے اللہ اور اس کے بندے کے مابین جہاں تک مئواخذہ اور استحقاق عقاب کے معاملے کا تعلق ہے نسیان کی بنا پر اس کا حکم مرتفع ہوجاتا ہے اور اس جیسی صورت میں بندے کے مکلف ہونے کی حیثیت بھی ختم ہوجاتی ہے اور اس پر آخرت میں مواخذہ بھی درست نہیں ہوتا۔ نسیان کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندے کو جن عبادات کا مکلف بنایا ہے نسیان کی وجہ سے ان کا حکم بندے پر باقی نہیں رہتا اس لئے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نسیان کے ہوتے ہوئے بہت سی عبادتوں کے لزوم کا نصاً حکم دیا ہے اور امت کا بھی اس پر اتفاق رہا ہے۔ ان میں سے ایک حکم نماز کے متعلق ہے فرمایا (من نام عن صلوۃ اونسیھا فلیمصلھا اذا ذکرھا، جو شخص کسی نماز کے وقت سوتا رہا یا اسے ادا کرنا بھول گیا تو جب اسے یاد آئے ادا کرے) یہ فرما کر آپ نے یہ آیت تلاوت کی (واقم الصلوۃ لذکری، اور میری یاد میں نماز قائم کرو) آپ کی تلاوت سے اس بات پر دلالت حاصل ہوئی کہ قول باری (اقم الصلوۃ لذکری) میں اللہ کی مراد یہ ہے کہ بھولی ہوئی نماز یاد آ تے ہی ادا کرلی جائے۔ اسی طرح قول باری ہے ۔ واذکر ربک اذا نسیت جب تجھے نسیان لاحق ہوجائے تو اپنے رب کو یاد کرے۔ ) یہ آیت ہر بھولی ہوئی عبادت کو یاد آ جانے پر قضا کرنے کے لزوم کے لئے ایک عام حکم پر مشتمل ہے۔ فقہاء کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ روزہ، زکواۃ اور دوسری تمام فرض عبادات کو بھول جانے والا یا د آنے پر قضا کرنے کے لزوم کے اعتبار سے نماز کو بھول جانے والے کی طرح ہے۔ اسی طرح ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ نماز میں بھول کر بات کرلینے والے کا حکم عمداً بات کرنے والے کی طرح ہے۔ اس لئے کہ اصول یہ ہے فرض عبادات میں ناسی اور عامد دونوں کا حکم یکساں ہے۔ ان میں سے کسی عبادت کے اسقاط میں نسیان کا کوئی اثر نہیں ہوتا سوائے ان عبادات کے جن کے متعلق شریعت کی طرف سے ہدایات آئی ہوں اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ نمازی اگر وضو کرنا بھول گیا ہو تو اس کی نماز بھی اسی طرح باطل ہوجائے گی جس طرح جان بوجھ کر وضو نہ کرنے والے کی نماز۔ فقہاء نے رمضان میں دن کے وقت بھول کر کھا لینے کے متعلق کہا ہے کہ قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ اس کا روزہ ٹوٹ جانے اور اس پر قضاء لازم آ جائے لیکن اس سلسلے میں حدیث کی موجودگی کی بنا پر قیاس رتک کردیا گیا۔ ہم نے جو کچھ کہا ہے اس کے ساتھ سات ھیہ بات بھی ہے کہ ناسی جس طریقے پر بھی فرض کی ادائیگی کرے لے گا وہ اس بوجھ سے سبکدوش سمجھا جائے گا اور سا کا فرض ادا ہوجائے گا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے حالت نسیان میں اسے اس کے سوا اور کسی طریقے سے ادائیگی کا مکلف نہیں بنایا۔ قضاء درحقیقت ایک اور فرض ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر لازم ہوجاتا ہے۔ ہم نے اس کے متعلق دلائل کا تذکرہ پہلے کردیا ہے۔ اس لئے نسیان کا اثر صرف یہ ہے کہ اس کی وجہ سے فقط گناہ ساقط ہوجاتا ہے لیکن جہاں تک فرضیت کے لزوم کا تعلق ہے اس پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ قول کہ (رفع عن امتی) الخطائو النسیان، میری امت کو غلطی اور بھول چوک کی معافی ہے) اس کا بھی تعلق گناہ کی معافی تک ہے اس سے رفع حکم مراد نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے غلطی سے کسی کو قتل کردینے پر دیت اور کفارہ کے لحاظ سے اس کے حکم کے لزوم کو نصاً برقرار رکھا ہے۔ اسی لئے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ارشاد میں خطاء کے ذکر کے ساتھ نسیان کا بھی ذکر کیا ہے جو اسی معنی پر محمول ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ آپ کا یہ ایک اصل اور قاعدہ ہے کہ ذبیحہ پر بسم اللہ پڑھنا واجب ہے اور اگر کوئی شخص جان بوجھ کر بسم اللہ نہیں پڑھتا تو اس کے اس ذبیحے کی حیثیت مردار کی طرح ہوگی اور اگر بسم اللہ پڑھنا بھول گیا ہو تو ذبیحہ حلال ہوگا اور ذبح کا عمل مکمل ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ آپ نے اس ذبیحہ کو اس شخص کی نماز کی طرح کیوں نہیں قرار دیا جو وضو کرنا بھول گیا ہو۔ وہ تو قطعی طور پر وضو کر کے نماز لوٹانے کا پابند ہوگا۔ اسی طرح کی بات بھول کر نماز پڑھ لینے کے متعلق بھی کہی جاسکتی ہے اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ہم نے یہ بیان کردیا ہے کہ نسیان کی صورت میں اس نے فرض کی ادائیگی جس طرقیے سے کی ہے اس کے سوا کسی اور طریقے کا وہ مکلف ہی نہیں تھا۔ یاد آنے کے بعد اس پر لازم ہونے والا فرض درحقیقت وہ ایک اور فرض ہے جو نئے سرے سے عائد ہوا ہے۔ اسی طرح ہم ذبیحہ پر بسم اللہ نہ پڑھنے کی صورت کو یہ کہہ کر جائز قرار دیں گے کہ وہ نسیان کی حالت میں بسم اللہ پڑھنے کا مکلف ہی نہیں تھا۔ اس لئے ذبیحہ درست ہوگیا اور چونکہ ایک دفعہ ذبح کرنے کے بعد دوسری مرتبہ ذبح کا عمل نہیں ہوسکتا۔ اس لئے وہ اس کا مکلف نہیں ہوگا جس طرح نماز، روزہ وغیرہ کے اعادے کا مکلف تھا۔ قول باری ہے (لھا ماکسبت وعلیھا ما اکتسبت، ہر شخص نے جو نیکی کمائی ہے۔ اس کا پھل اس کے لئے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے اس کا وبال اس پر ہے) یہ قاس قول باری کی طرح ہے (ولا تکسب کل نفس الا علیھا اور جو متنفس بھی جو کچھ کماتا ہے اس کی ذمہ داری اس پر ہوتی ہے۔ ) نیز (وان لیس للانسان الا ما سعی وان سعیہ سوف یری، اور یہ کہ انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کی وہ دوڑ دھوپ کرتا ہے اور اس کی اس دوڑ دھوپ کا نتیجہ اسے عنقریب دکھا دیا جائے گا۔ ) ان آیات میں یہ دلالت موجود ہے کہ ہر مکلف کے اعمال کا اس کی ذات کے ساتھ تعلق دوسرے کسی اور کے ساتھ نہیں ہے اور یہ کہ کسی شخص کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے فعل کی ذمہ داری کسی اور پر ڈال دے اور اس کے گناہ کسی اور سے مواخذہ ہو۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ابورمثہ کو ان کے اپنے بیٹے کے ساتھ دیکھ کر یہی فرمایا تھا۔ آپ نے ان سے استفسار کیا کہ آیا یہ تمہارا بیٹا ہے، انہوں نے اثبات میں جواب دیا اس پر آپ نے فرمایا (انک لاتجنی علیہ ولایجنی علیک تم اس کے جرم کے ذمہ دار نہیں ہو گے اور وہ تمہارے جرم کا ذمہ دار نہیں ہوگا) آپ کا یہ بھی ارشاد ہے (لا یواخذ احد بجریرۃ ابیہ ولابجریرۃ اخیہ، کوئی شخص اپنے باپ یا اپنے بھائی کے جرم میں نہیں پکڑا جائے گا۔ ) یہ ہے وہ میزان عدل کہ عقل انسانی اس سے بہتر سوچ ہی نہیں سکتی۔ قول باری ہے (لھا ما کسبت و علیھا ما اکتسبت) اس آیت سے کسی شخص پر شرعی وجوہات کی بنا پر پابندی عائد کرنے کی نفی اور اس کی طرف سے قاضی یا کسی اور شخص کو اس کے مال کی خرید و فروخت کی اجازت کے امتناع پر استدلال کیا گیا ہے البتہ وہ صورتیں اس میں شامل نہیں ہیں جن کی تخصیص کے لئے دوسرے دلائل موجود ہیں۔ اس آیت سے امام مالک کے اس قول کے بطلان پر بھی استدلال کیا گیا گیا ہے کہ جو شخص کسی کی طرف سے اس کے امر کے بغیر اس کا قرض ادا کردیتا ہے تو اسے یہ اختیار ہے کہ رقم کے لئے اس کی طرف رجوع کرے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی کمائی کا اس شخص کو ہی ذمہ دار قرار دیا ہے کسی اور کو نہیں اس کا فائدہ بھی اسی کو ملے گا اور اس کا نقصان بھی اسی کو اٹھانا پڑے گا۔ قول باری ہے (ربنا ولا تحمل علینا اصراً کما حملتہ علی الذین من قبلنا، اسے ہمارے پروردگار ! ہم پر ایسا بوجھ نہ لاد دے جس طرح تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر لاد دیا تھا) الاصر کے معنی کے بارے میں ایک قول ہے کہ یہ ثقل یعنی بوجھ ہے۔ لغنت میں اس کے اصل معنی کے متعلق کہا گیا ہے کہ یہ عطف یعنی تعلق اور رشتہ داری ہے۔ اسی سے اواصر الرحم، کا محاورہ بنا ہے جس کے معنی نسبی رشتہ داری اور تعلقات کے ہیں۔ اس لئے کہ رحم یعنی نسبی تعلق ان رشتہ داریوں کو جوڑے سے رکھتا ہے۔ اس کا واحد، آمرۃ ہے ۔ لفظ الماصر کے متعلق کہا گیا ہے کہ یہ وہ رسی ہے جسے رکاوٹ کی خاطر کسی شاہراہ یادریا کے گھاٹ پر باندھ دیا جائے تاکہ لوگوں کو وہاں سے گذرنے سے روک کر ان سے چنگی اور عشر وغیرہ وصول کیا جاسکے۔ قول باری (لاتحمل علینا اصراً ) میں اصر سے مراد عہد ہے یعنی ایسا حکم جو بوجھل اور بھاری ہو۔ حضرت ابن عباس، مجاہد اور قتادہ سے اسی قسم کی روایت ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے قول (وما جعل علیکم فی الدین من حرج اللہ تعالیٰ نے دین کے معاملے میں تم پر کوئی تنگی کا سامان پیدا نہیں کیا) کے ہم معنی ہے۔ آیت میں حرج سے مراد تنگی ہے۔ نیز (یرید اللہ بکم الیسر، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے نرمی کا سامان پیدا کرنا چاہتا ہے) نیز (مایرید اللہ لیجعل علیکم من حرج ، اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ تمہارے لئے تنگی کا سامان پیدا کر دے) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث ہے۔ آپ نے فرمایا (جئتکم بالحنیفیۃ (السمعۃ، میں تمہارے پاس دین حنیف لے کر آیا ہوں جس میں بڑی وسعت اور کشادگی ہے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بھی مروی ہے کہ (ان بنی اسرائیل شددوا علی انفسھم فشدد اللہ علیھم ، بنی اسرائیل نے اپنے اوپر سختیاں کیں پھر اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی کردی۔ ) قول باری (ولا تحمل علینا اصراً ) میں مراد و امرو نواہی کا بوجھ ہے اور قو ل باری (کما حملتہ علی الذین من قلنا) اس قول باری کی طرح ہے (ویضع عنھم اصرھم والا غلال التی کانت علیھم اور ان سے ان کا بوجھ اور زنجیریں اتارتا ہے جو ان پر پڑی ہوئی تھیں۔ ) اس آیت اور اسی طرح کی دوسری آیتوں سے ہر ایسے مسئلے میں تنگی، شدت اور دبائو کی نفی پر استدلال کیا گیا ہے جس میں فقہاء کا اختلاف ہو اور فقہاء نے اس میں اجتہاد کی گنجائش نکالی ہو۔ اس لئے جو شخص مسائل میں تنگی، شدت اور سختی کو واجب سمجھتا ہے مثلاً وضو میں نیت کا وجوب، نیز اس میں ترتیب کا ایجاب اور اسی قسم کی اور باتیں آیت میں اس کے خلاف دلیل موجود ہے۔ اور ہمارے لئے ان مذکورہ آیات کے ظواہر سے تنگی اور شدت کی نفی پر استدلال کا جو ازموجود ہے۔ قول باری ہے (ربنا ولا تحملنا مالا طاقۃ لنابہ، اے ہمارے پروردگار ! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جسے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں ہے) اس کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ اول مکلف بنانے کی وہ صورت جس میں شدت اور بوجھ ہو جس طرح بنی اسرائیل کو اس کا مکلف بنادیا گیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں سے قتل کریں۔ اس میں یہ بھی جائز ہے کہ ایک شخص جس کام کی طاقت نہ رکھتا ہو اس کے اس عدم طاقت کی تعبیر سختی اور شدت جیسے الفاظ سے کی گئی ہو جس طرح کہ آپ کہیں ” مااطیق کلام فلان ولا اقدران اراہ ‘(میں فلاں سے کلام کرنے کی طاقت نہیں رکھتا نیز اسے دیکھنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ اس جملے سے نفی قدرت مراد نہیں ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ میرے لئے یہ کام بہت بھاری اور سخت ہے اس طرح اس فقرے کو بولنے والا بمنزلہ اس عاجز کے ہوتا ہے جو فلاں شخص سے گفتگو کرنے اور اسے دیکھنے کی قدرت نہیں رکھتا اس لئے کہ مذکورہ شخص دلی طور سے اس سے دور ہوتا ہے اور اس سے کلام کرنے اور اسے دیکھنے میں وہ کراہت محسوس کرتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (وکانوا لایستعطیعون سمعاً ) اور وہ لوگ سن نہیں سکتے تھے) یعنی ان کی سماعت بالکل ٹھیک ٹھاک تھی لیکن انہوں نے کلام الٰہی سننے سے اپنے کان بوجھل کر لئے تھے اور اس سے منہ پھیرلیا تھا اس طرح ان کی حیثیت اس شخص کی طرح ہوگئی تھی جو گویا سنتا ہی نہ تھا۔ ) دوسرا قول یہ ہے کہ اللہ ہم پر عذاب کا ایسا بوجھ نہ لاد دے جسے برداشت کرنے کی ہم میں طاقت نہ ہو۔ یہاں اس بارے میں گنجائش موجود ہے کہ آیت سے دونوں معنی مراد لئے جائیں۔ (واللہ اعلم بالصواب)

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٨٦) اللہ تعالیٰ احکام شرعیہ کا طاقت کے مطابق ہی مکلف بناتے ہیں، اس کا نیکیوں پر ثواب ہے مثلا حدیث نفس، بھول، اور غلطی، اور مجبور کرنے کے ترک کرنے پر ثواب ہے، اور برائیوں مثلا حدیث نفس نسیان اور زبردستی پر عذاب ہے، اب اللہ تعالیٰ دعا کے طریقہ کی تعلیم دیتا ہے، کہ اس طریقہ کے ساتھ بارگاہ الہی میں دعا کرنی چاہیے، تاکہ حدیث نفس (دل کی غلط باتیں) بھول اور غلطی یہ تمام چیزیں معاف ہوجائیں کہ یوں کہو اے ہمارے پالنے والے ! ہم پر ایسا کوئی شاق حکم نہ نازل کیجیے کہ جس کے چھوڑ دینے سے ہم پر پاکیزہ اور حلال چیزوں کو حرام کردیا جائے، جیسا کہ بنی اسرائیل کے عہد توڑنے پر تو نے ان پر اونٹ، گائے، بکریوں کے گوشت اور دیگر پاک چیزوں کو حرام کردیا تھا اور یہ بھی درخواست ہے کہ ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈالے جس میں ہمیں کسی قسم کی راحت اور نفع نہ ہو ہم سے معاف اور درگزر فرمائے، آپ ہی ہمارے کارساز ہیں۔ اور یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ ہمیں مسخ کے عذاب سے بچائیے جیسا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کو مسخ کیا گیا، اور زمین میں دھنسا دینے سے ہماری مغفرت فرمائیے، جیسا کہ قارون کو زمین میں دھنسایا گیا، اور سنگسار کردینے سے بھی ہم پر رحم فرمائیے، جیسا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو پتھروں کے ذریعہ سنگسار کیا گیا، جس انہوں نے یہ دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے دل کی غیراختیاری باتوں اور بھول چوک سے مواخذہ کو اٹھا لیا اور خسف، مسخ اور سنگسار کردینے سے بھی ان کو اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں کو محفوظ فرما دیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٨٦ (لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا الاَّ وُسْعَہَا ط) یہ آیت اللہ تعالیٰ کے بہت بڑے فضل و کرم کا مظہر ہے۔ میں نے آیت ١٨٦ کے بارے میں کہا تھا کہ یہ دنیا میں حقوق انسانی کا سب سے بڑا منشور (Magna Carta) ہے کہ اللہ اور بندے کے درمیان کوئی فصل نہیں ہے : (اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ) میں تو ہر پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب بھی (اور جہاں بھی) وہ مجھے پکارے۔ (فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ ) پس انہیں بھی چاہیے کہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان رکھیں۔ گویا دو طرفہ بات چلے گی ‘ یک طرفہ نہیں۔ میری مانو ‘ اپنی منواؤ ! تم دعائیں کرو گے ‘ ہم قبول کریں گے ! لیکن اگر تم ہماری بات نہیں مانتے تو پھر تمہاری دعا تمہارے منہ پردے ماری جائے گی ‘ خواہ قنوت نازلہ چالیس دن تو کیا اسّی دن تک پڑھتے رہو۔ یہی وجہ ہے کہ تمہاری دعاؤں کے باوجود تمہیں سقوط ڈھا کہ کا سانحہ دیکھنا پڑا ‘ تمہیں یہودیوں کے ہاتھوں شرمناک شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ اگرچہ ان مواقع پر حرمین شریفین میں قنوت نازلہ پڑھی جاتی رہی ‘ لیکن تمہاری دعائیں کیونکر قبول ہوتیں ! تمہارا جرم یہ ہے کہ تم نے اللہ کو پیٹھ دکھائی ہوئی ہے ‘ اس کے دین کو پاؤں تلے روندا ہوا ہے ‘ اللہ کے باغیوں سے دوستی رکھی ہوئی ہے۔ کسی نے ماسکو کو اپنا قبلہ بنا رکھا تھا تو کسی نے واشنگٹن کو۔ لہٰذا تمہاری دعائیں تمہارے منہ پردے ماری گئیں۔ لیکن آیت زیر مطالعہ اس اعتبار سے بہت بڑی رحمت کا مظہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اندھے کی لاٹھی والا معاملہ نہیں ہے کہ تمام انسانوں سے محاسبہ ایک ہی سطح پر ہو۔ اللہ جانتا ہے کہ کس کی کتنی وسعت ہے اور اسی کے مطابق کسی کو ذمہّ دارٹھہراتا ہے۔ اور یہ وسعت موروثی اور ماحولیاتی عوامل پر مشتمل ہوتی ہے۔ ہر شخص کو جو genes ملتے ہیں وہ دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور ان genes کی اپنی اپنی خصوصیات (properties) اور تحدیدات ‘ (limitations) ہوتی ہیں۔ اسی طرح ہر شخص کو دوسرے سے مختلف ماحول میسرّ آتا ہے۔ تو ان موروثی عوامل (hereditary factors) اور ماحولیاتی عوامل (environmental factors) کے حاصل ضرب سے انسان کی شخصیت کا ایک ہیولیٰ بنتا ہے ‘ جس کو مستری لوگ پاٹن کہتے ہیں۔ جب لوہے کی کوئی شے ڈھالنی مقصود ہو تو اس کے لیے پہلے مٹی یا لکڑی کا ایک سانچہ ( pattern) بنایا جاتا ہے۔ اس کو ہمارے ہاں کاریگر اپنی بولی میں پاٹن کہتے ہیں۔ اب آپ لوہے کو پگھلا کر اس میں ڈالیں گے تو وہ اسی صورت میں ڈھل جائے گا۔ قرآن کی اصطلاح میں یہ شاکلہ ہے جو ہر انسان کا بن جاتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : (قُلْ کُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖط فَرَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ ھُوَ اَھْدٰی سَبِیْلاً ) (بنی اسرائیل ) کہہ دیجیے کہ ہر کوئی اپنے شاکلہ کے مطابق عمل کر رہا ہے۔ پس آپ کا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون سیدھی راہ پر ہے۔ اس شاکلہ کے اندر اندر آپ کو محنت کرنی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کس کا شاکلہ وسیع تھا اور کس کا تنگ تھا ‘ کس کے genes اعلیٰ تھے اور کس کے ادنیٰ تھے ‘ کس کے ہاں ذہانت زیادہ تھی اور کس کے ہاں جسمانی قوت زیادہ تھی۔ اسے خوب معلوم ہے کہ کس کو کیسی صلاحیتیں ودیعت کی گئیں اور کیسا ماحول عطا کیا گیا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے ماحولیاتی عوامل اور موروثی عوامل کو ملحوظ رکھ کر اس کی استعدادات کے مطابق حساب لے گا۔ فرض کیجیے ایک شخص کے اندر استعداد ہی ٢٠ درجے کی ہے اور اس نے ١٨ درجے کام کر دکھایا تو وہ کامیاب ہوگیا۔ لیکن اگر کسی میں استعداد سو درجے کی تھی اور اس نے ٥٠ درجے کام کیا تو وہ ناکام ہوگیا۔ حالانکہ کمیت کے اعتبار سے ٥٠ درجے ١٨ درجے سے زیادہ ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ کا محاسبہ جو ہے وہ انفرادی سطح پر ہے۔ اس لیے فرمایا گیا : (وَکُلُّھُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا ) (مریم) اور سب لوگ قیامت کے دن اس کے حضور فرداً فرداً حاضر ہوں گے۔ وہاں ہر ایک کا حساب اکیلے اکیلے ہوگا اور وہ اس کی وسعت کے مطابق ہوگا۔ (لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا الاَّ وُسْعَہَا ط) کے الفاظ میں جو ایک اہم اصول بیان کردیا گیا ہے ‘ بعض لوگ دنیا کی زندگی میں اس کا غلط نتیجہ نکال بیٹھتے ہیں۔ وہ دنیا کے معاملات میں تو خوب بھاگ دوڑ کرتے ہیں لیکن دین کے معاملے میں کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے اندر صلاحیت اور استعداد ہی نہیں ہے۔ یہ محض خود فریبی ہے۔ استعداد و استطاعت اور ذہانت و صلاحیت کے بغیر تو دنیا میں بھی آپ محنت نہیں کرسکتے ‘ کوئی نتائج حاصل نہیں کرسکتے ‘ کچھ کما نہیں سکتے۔ لہٰذا اپنے آپ کو یہ دھوکہ نہ دیجیے اور جو کچھ کرسکتے ہوں ‘ وہ ضرور کیجیے۔ اپنی شخصیت کو کھود کھود کر اس میں سے جو کچھ نکال سکتے ہوں وہ نکالیے ! ہاں آپ نکال سکیں گے اتنا ہی جتنا آپ کے اندر ودیعت ہے۔ زیادہ کہاں سے لے آئیں گے ؟ اور اللہ نے کس میں کیا ودیعت کیا ہے ‘ وہ وہی جانتا ہے۔ تمہارا محاسبہ اسی کی بنیاد پر ہوگا جو کچھ اس نے تمہیں دیا ہے۔ اس مضمون کی اہمیت کا اندازہ کیجیے کہ یہ قرآن مجید میں پانچ مرتبہ آیا ہے۔ (لَھَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْھَا مَا اکْتَسَبَتْ ط) ۔ اس مقام پر بھی ل اور عَلٰی کے استعمال پر غور کیجیے۔ (لَھَا مَا کَسَبَتْ ) سے مراد ہے جو بھی نیکی اس نے کمائی ہوگی وہ اس کے لیے ہے ‘ اس کے حق میں ہے ‘ اس کا اجر وثواب اسے ملے گا۔ (وَعَلَیْھَا مَا اکْتَسَبَتْ ط) سے مراد ہے کہ جو بدی اس نے کمائی ہوگی اس کا وبال اسی پر آئے گا ‘ اس کی سزا اسی کو ملے گی۔ اب وہ دعا آگئی ہے جو قرآن مجید کی جامع ترین اور عظیم ترین دعا ہے : (رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَا اَوْ اَخْطَاْنَا ج) ایمان اور عمل صالح کے راستے پر چلتے ہوئے اپنی شخصیت کے کونوں کھدروں میں سے امکان بھر اپنی باقی ماندہ توانائیوں (residual energies) کو بھی نکال نکال کر اللہ کی راہ میں لگا لیں ‘ لیکن اس کے بعد بھی اپنی محنت پر ‘ اپنی نیکی ‘ اپنی کمائی اور اپنے کارناموں پر کوئی غرّہ نہ ہو ‘ کوئی غرور نہ ہو ‘ کہیں انسان دھوکہ نہ کھاجائے۔ بلکہ اس کی کیفیت تواضع ‘ عجز اور انکساری کی رہنی چاہیے۔ اور اسے یہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اے پروردگار ! ہماری بھول چوک پر ہم سے مؤاخذہ نہ فرمانا۔ انسان کے اندر خطا اور نسیان دونوں چیزیں گندھی ہوئی ہیں : (اَلْاِنْسَانُ مُرَکَّبٌ مِنَ الْخَطَاأ وَالنِّسْیَانِ ) خطا یہ ہے کہ آپ نے اپنی امکانی حد تک تو نشانہ ٹھیک لگایا تھا ‘ لیکن نشانہ خطا ہوگیا۔ اس پر آپ کی گرفت نہیں ہوگی ‘ اس لیے کہ آپ کی نیت صحیح تھی۔ ایک اجتہاد کرنے والا اجتہاد کر رہا ہے ‘ اس نے امکانی حد تک کوشش کی ہے کہ صحیح رائے تک پہنچے ‘ لیکن خطا ہوگئی۔ اللہ معاف کرے گا۔ مجتہد مخطی بھی ہو تو اس کو ثواب ملے گا اور مجتہد مصیب ہو ‘ صحیح رائے پر پہنچ جائے تو اس کو دوہرا ثواب ملے گا۔ اور نسیان یہ ہے کہ بھولے سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : (اِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ عَنْ اُمَّتِی الْخَطَأَ وَالنِّسْیَانَ ) (٣٧) اللہ تعالیٰ نے میری امتّ سے خطا اور نسیان معاف فرما دیا ہے۔ (رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہٗ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا ج) ۔ ایک حمل (بوجھ) وہ ہوتا ہے جس کو لے کر انسان چلتا ہے۔ اسی سے حمال بنا ہے جو ایک بوری کو یا بوجھ کو اٹھا کر چل رہا ہے۔ جو بوجھ آپ کی طاقت میں ہے اور جسے لے کر آپ چل سکیں وہ حمل ہے ‘ اور جس بوجھ کو آپ اٹھا نہ سکیں اور وہ آپ کو بٹھا دے اس کو اصر کہتے ہیں۔ یہ لفظ سورة الاعراف (آیت ١٥٧) میں پھر آئے گا : (وَیَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْ ط) ان الفاظ میں ٌ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ شان بیان ہوئی ہے کہ انہوں نے لوگوں کے وہ بوجھ جو ان کی طاقت سے بڑھ کر تھے ‘ ان کے کندھوں سے اتار دیے۔ ہم سے پہلے لوگوں پر بڑے بھاری بوجھ ڈالے گئے تھے۔ شریعت موسوی ہماری شریعت کی نسبت بہت بھاری تھی۔ جیسے ان کے ہاں روزہ رات ہی سے شروع ہوجاتا تھا ‘ لیکن ہمارے لیے یہ کتنا آسان کردیا گیا کہ روزے سے رات کو نکال دیا گیا اور سحری کرنے کی تاکید فرمائی گئی : (تَسَحَّرُوْا فَاِنَّ فِی السُّحُوْرِ بَرَکَۃً ) (٣٨) سحری ضرور کیا کرو ‘ اس لیے کہ سحریوں میں برکت رکھی گئی ہے۔ پھر رات میں تعلق زن و شو کی اجازت دی گئی۔ ان کے روزے میں خاموشی بھی شامل تھی۔ یعنی نہ کھانا ‘ نہ پینا ‘ نہ تعلق زن و شو اور نہ گفتگو۔ ہمارے لیے کتنی آسانی کردی گئی ہے ! ان کے ہاں یوم سبت کا حکم اتنا سخت تھا کہ پورا دن کوئی کام نہیں کرو گے۔ ہمارے ہاں جمعہ کی اذان سے لے کر نماز کے ادا ہوجانے تک ہر کاروبار دنیوی حرام ہے۔ لیکن اس سے پہلے اور اس کے بعد آپ کاروبار کرسکتے ہیں۔ (رَبَّنَا وَلاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ ج) (وَاعْفُ عَنَّاوقفۃ) ہماری لغزشوں کو معاف کرتا رہ ! (وَاغْفِرْ لَنَاوقفۃ) ہماری خطاؤں کی پردہ پوشی فرما دے ! مغفرت کے لفظ کو سمجھ لیجیے۔ اس میں ڈھانپ لینے کا مفہوم ہے۔ مِغْفَرْ ’ خود ‘ (ہیلمٹ) کو کہتے ہیں ‘ جو جنگ میں سر پر پہنا جاتا ہے۔ یہ سر کو چھپا لیتا ہے اور اسے گولی یا تلوار کے وار سے بچاتا ہے۔ تو مغفرت یہ ہے کہ گناہوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ڈھانپ دے ‘ ان کی پردہ پوشی فرما دے ۔ (وَارْحَمْنَآوقفۃ) (اَنْتَ مَوْلٰٹنَا) تو ہمارا پشت پناہ ہے ‘ ہمارا والی ہے ‘ ہمارا حامی و مددگار ہے۔ ہم یہ آیت پڑھ آئے ہیں : (اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْالا یُخْرِجُھُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ط) (آیت ٢٥٧) ۔ (فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ ) انہی الفاظ پر وہ دعا ختم ہوئی تھی جو طالوت کے ساتھیوں نے کی تھی۔ اب اہل ایمان کو یہ دعا تلقین کی جا رہی ہے ‘ اس لیے کہ مرحلہ سخت آ رہا ہے۔ گویا : ؂ تاب لاتے ہی بنے گی غالب مرحلہ سخت ہے اور جان عزیز ! اب کفار کے ساتھ مقابلے کا مرحلہ آ رہا ہے اور اس کے لیے مسلمانوں کو تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ درحقیقت غزوۂ بدر کی تمہید ہے۔ بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ونفعنی وایاکم بالآیات والذکر الحکیم ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

338. Man's answerability to God is limited by the extent of his ability. If a man does not have the ability to do a certain thing, God will not take him to task for not having performed it. In the same way, if it is really beyond a man's ability to abstain from something, God will not blame him for having failed to abstain from it. It should be noted here that man will not be the final judge as to whether he had the ability to do something or not. Such judgement will be made by God alone. 339. This is the second fundamental principle of God's law of retribution. Every man will be rewarded for the services he has rendered, none will be rewarded for services rendered by others. The same applies to punishment. It is the one who is guilty who will be punished. It is possible, however, that if a man has initiated either good or bad practices, they will continue to affect people's lives. The resulting good and bad deeds of people will be reckoned either to their credit or against them, since they are clearly related to their efforts and actions. It is impossible, however, that a map should be either rewarded for an act of goodness or punished for an act of evil in which he has had no share - neither by intent nor practical action. The requital of acts is not transferable. 340. The prayer made here is that God should not subject them to the severe tests and the terrible persecutions and hardships undergone by their predecessors. It is God's law that those who commit themselves to follow Truth and righteousness are subjected to severe tests and tribulations, and it is a believer's duty to meet them with patience and fortitude. At the same time, the believer should always pray that God may make it easy for him to follow the path of Truth and righteousness. 341. Believers pray to God not to place unon them a burden beyond their capacity of endurance, and to subject them only to those tests from which they may emerge triumphant. May it not happen that the hardships are too much for them to bear, and that their feet falter and are turned away from the path of righteousness, 342. In order to appreciate fully the spirit of this prayer, one should remember that these verses were revealed on the occasion of the ascension of the Prophet, a year before his migration to Madina. At that time the struggle between Islam and unbelief had reached its climax. Not only in Makka, but throughout the Arabian peninsula, there was no place where the lives of those who wished to follow the religion of God had not been made extremely difficult. In these circumstances the Muslims were told in what manner they ought to pray to their Lord. It is obvious that if the bestower himself tells one how to present one's request, the granting of the request becomes virtually assured. Hence, this prayer greatly strengthened the hearts of the Muslims. Moreover, this prayer implicitly taught the Muslims not to allow their feelings to flow along undesirable channels. They should instead mould them into a prayer to their Lord. Think of the heart-rending cruelties to which the Muslims were subjected merely because of their devotion to Truth, and then turn to the contents of this prayer, where there is no trace of bitterness against the enemies. Consider the physical afflictions and material losses which the Muslims suffered, then note how this prayer does not contain the slightest hint of worldly ambition. Compare the wretchedness and misery of these devotees of Truth with the pure, exalted feelings with which this prayer is overflowing. This comparison will enable us to appreciate the nature of the spiritual and moral training provided to men of faith.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :338 یعنی اللہ کے ہاں انسان کی ذمہ داری اس کی مقدرت کے لحاظ سے ہے ۔ ایسا ہرگز نہ ہوگا کہ بندہ ایک کام کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو اور اللہ اس سے باز پرس کرے کہ تو نے فلاں کام کیوں نہ کیا ۔ یا ایک چیز سے بچنا فی الحقیقت اس کی مقدرت سے باہر ہو اور اللہ اس سے مواخذہ کرے کہ تو نے اس سے پرہیز کیوں نہ کیا ۔ لیکن یہ یاد رہے کہ اپنی مقدرت کا فیصلہ کرنے والا انسان خود نہیں ہے ۔ اس کا فیصلہ اللہ ہی کر سکتا ہے کہ ایک شخص فی الحقیقت کس چیز کی قدرت رکھتا تھا اور کس چیز کی نہ رکھتا تھا ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :339 “یہ اللہ کے قانون مجازات کا دوسرا قاعدہ کلیہ ہے ۔ ہر آدمی انعام اسی خدمت پر پائے گا ۔ جو اس نے خود انجام دی ہو ۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک شخص کی خدمات پر دوسرا انعام پائے ۔ اور اسی طرح ہر شخص اسی قصور میں پکڑا جائے گا جس کا وہ خود مرتکب ہوا ہو ۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک کے قصور میں دوسرا پکڑا جائے ۔ ہاں یہ ضرور ممکن ہے کہ ایک آدمی نے کسی نیک کام کی بنا رکھی ہو اور دنیا میں ہزاروں سال تک اس کام کے اثرات چلتے رہیں اور یہ سب اس کے کارنامے میں لکھے جائیں ۔ اور ایک دوسرے شخص نے کسی برائی کی بنیاد رکھی ہو اور صدیوں تک دنیا میں اس کا اثر جاری رہے اور وہ اس ظالم اول کے حساب میں درج ہوتا رہے ۔ لیکن یہ اچھا یا برا ، جو کچھ بھی پھل ہوگا ، اسی کی سعی اور اسی کے کسب کا نتیجہ ہو گا ۔ بہرحال یہ ممکن نہیں ہے کہ جس بھلائی یا جس برائی میں آدمی کی نیت اور سعی و عمل کا کوئی حصہ نہ ہو ، اس کی جزا یا سزا اسے مل جائے ۔ مکافات عمل کوئی قابل انتقال چیز نہیں ہے ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :340 یعنی ہمارے پیش رووں کو تیری راہ میں جو آزمائشیں پیش آئیں ، جن زبردست ابتلاؤں سے وہ گزرے ، جن مشکلات سے انہیں سابقہ پڑا ، ان سے ہمیں بچا ۔ اگرچہ اللہ کی سنت یہی رہی ہے کہ جس نے بھی حق و صداقت کی پیروی کا عزم کیا ہے ، اسے سخت آزمائشوں اور فتنوں سے دوچار ہونا پڑا ہے ۔ اور جب آزمائشیں پیش آئیں تو مومن کا کام یہی ہے کہ پورے استقلال سے ان کا مقابلہ کرے ۔ لیکن بہرحال مومن کو اللہ سے دعا یہی کرنی چاہیے کہ وہ اس کے لیے حق پرستی کی راہ آسان کر دے ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :341 یعنی مشکلات کا اتنا ہی بار ہم پر ڈال ، جسے ہم سہار لے جائیں ۔ آزمائشیں بس اتنی ہی بھیج کہ ان میں ہم پورے اتر جائیں ۔ ایسا نہ ہو کہ ہماری قوت برداشت سے بڑھ کر سختیاں ہم پر نازل ہوں اور ہمارے قدم راہ حق سے ڈگمگا جائیں ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :342 اس دعا کی پوری روح کو سمجھنے کے لیے یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ یہ آیات ہجرت سے تقریباً ایک سال پہلے معراج کے موقع پر نازل ہوئی تھیں ، جبکہ مکے میں کفر و اسلام کی کشمکش اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی ، مسلمانوں پر مصائب و مشکلات کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے ، اور صرف مکہ ہی نہیں ، بلکہ سرزمین عرب پر کوئی جگہ ایسی نہ تھی جہاں کسی بندہ خدا نے دین حق کی پیروی اختیار کی ہو اور اس کے لیے خدا کی سرزمین پر سانس لینا دشوار نہ کر دیا گیا ہو ۔ ان حالات میں مسلمانوں کو تلقین کی گئی کہ اپنے مالک سے اس طرح دعا مانگا کرو ۔ ظاہر ہے کہ دینے والا خود ہی جب مانگنے کا ڈھنگ بتائے ، تو ملنے کا یقین آپ سے آپ پیدا ہوتا ہے ۔ اس لیے یہ دعا اس وقت مسلمانوں کے لیے غیر معمولی تسکین قلب کی موجب ہوئی ۔ علاوہ بریں اس دعا میں ضمنًا مسلمانوں کو یہ بھی تلقین کر دی گئی کہ وہ اپنے جذبات کو کسی نامناسب رخ پر نہ بہنے دیں ، بلکہ انہیں اس دعا کے سانچے میں ڈھال لیں ۔ ایک طرف ان روح فرسا مظالم کو دیکھیے ، جو محض حق پرستی کے جرم میں ان لوگوں پر توڑے جارہے تھے ، اور دوسری طرف اس دعا کو دیکھیے ، جس میں دشمنوں کے خلاف کسی تلخی کا شائبہ تک نہیں ۔ ایک طرف اس جسمانی تکلیفوں اور مالی نقصانات کو دیکھیے ، جن میں یہ لوگ مبتلا تھے ، اور دوسری طرف اس دعا کی دیکھیے جس میں کسی دنیوی مفاد کی طلب کا ادنٰی نشان تک نہیں ہے ۔ ایک طرف ان حق پرستوں کی انتہائی خستہ حالی کو دیکھیے ، اور دوسری طرف ان بلند اور پاکیزہ جذبات کو دیکھیے ، جن سے یہ دعا لبریز ہے ۔ اس تقابل ہی سے صحیح اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس وقت اہل ایمان کو کس طرز کی اخلاقی و روحانی تربیت دی جارہی تھی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:286) لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا۔ جملہ مستانفہ ہے لا یکلف۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب تکلیف (تفعیل) مصدر۔ اللہ تکلیف نہیں دیتا۔ نفسا اسم مفعول واحد مؤنث منصوب کسی جان کو۔ کسی شخص کو ۔ الا حرف استثناء وسعھا۔ مضاف مضاف الیہ ۔ وسع۔ طاقت سمائی ۔ قدرت ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جو نفس کی طرف راجع ہے۔ اللہ کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتا (ذمہ وار نہیں بناتا) مگر اس کی بساط کے مطابق۔ لہا ما کسبت وعلیہا ما اکتسبت۔ لہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جو نفس کی طرف راجع ہے جو (اچھی) کمائی اس نے کی (اس کا فائدہ) اسی کو ملیگا اور جو (برائی) اس نے نے (اس کا بوجھ) اسی پر ہوگا۔ فائدہ : یہاں خیر کے لئے کسب کا لفظ اور شر کے لئے اکتساب کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ سو جاننا چاہیے کہ اکتساب افتعال کے وذن پر ہے اور اس میں کوشش اور طلب کا مفہوم پایا جاتا ہے گویا نیکی کا بدلہ تو بہرحال ملے گا خواہ اس کی تحصیل میں کوشش صرف کی گئی ہو یا نہیں۔ لیکن بدی کی پاداش صرف اس صورت میں ملے گی جب اس کی تحصیل میں طلب اور کوشش شامل ہو۔ ربنا لا تؤاخذنا ۔۔ الخ اس عبارت کا عطف قالوا سمعنا واطعنا الخ (آیۃ 285) پر ہے یا اس سے قبل فعل قولوا مقدر ہے اور تقدیر کلام یوں ہے۔ قولوا ربنا لا تؤاخذنا ۔۔ الخ اللہ تعالیٰ نہایت کرم نوازی سے اپنے بندوں کو تعلیم دیتا ہے کہ مجھ سے یوں دعا کیا کرو۔ مجھ سے یوں مانگا کرو تاکہ میں تمہیں لغزشوں اور خامیوں سے درگزر کرتے ہوئے تمہاری توقعات سے بڑھ کر عطا کروں ۔ لا تؤاخذنا۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر مؤاخذۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ جس کے معنی گناہ پر پکڑنے اور گرفت کرنے کے ہیں نا ضمیر مفعول جمع متکلم تو ہمارا مؤاخذہ نہ فرما۔ تو ہمیں نہ پکڑ۔ انا نسینا۔ ان شرطیہ ہے نسینا فعل ماضی جمع متکلم (باب سمع) مصدر۔ اگر ہم بھول جائیں ۔ او اخطانا۔ او حرف عطف ہے یا کے معنی دیتا ہے۔ اخطانا ماضی جمع متکلم اخطاء (افعال) مصدر یا ہم بھول جائیں یا چوک جائیں۔ لا تحل علینا۔ لا تحمل فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ حمل (باب ضرب) مصدر۔ تو ہم پر بوجھ نہ ڈال۔ اصرا۔ بھاری بوجھ۔ اصل میں اصر کے معنی اس بوجھ کے ہیں جو اپنے اٹھانے والے کو چلنے سے روک دے۔ یہاں مراد تکلیف شاقہ اور سخت اور دشوار امور سے ہے۔ اصر اس عہد مؤکد کو بھی کہتے ہیں جو خلاف ورزی کرنے والے کو ثواب اور خیرات سے روک دے جیسے قرآن مجید میں ہے : ء اقررتم واخذتم علی ذلکم اصری (3:81) بھلا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا پختہ عہد لیا۔ لا تحملنا۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ تحمیل (تفعیل) نا ضمیر متکلم مفعول۔ تو ہم پر بھار نہ ڈال۔ تو ہم پر بوجھ نہ ڈال۔ تو ہم سے نہ اٹھوا۔ مالا طاقۃ لنا بہ۔ ما۔ موصولہ ہے اور اگلا جملہ اس کا صلہ۔ لا نفی جنس کا ہے اور اس کے عمل سے طاقۃ مبنی برفتحہ۔ بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب حمل کی طرف راجع ہے لا تحملنا ای لا تحملنا بحمل۔ واعف عنا۔ واؤ عاطفہ۔ اعف امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر عفو (باب نصر) مصدر سے عفا یعفوا عفوا اس کا استعمال جب کسی کے جرم کو معاف کرنے کے لئے ہوتا ہے تو اس کا تعدیہ بذریعہ عن ہوتا ہے (اے پروردگار ہمارے) تو ہمارے گناہ بخش دے۔ ہمارے جرم معاف کر دے۔ ہمارے گناہ مٹا دے۔ ہمیں معاف کر دے۔ عفو کے معنی بچے ہوئے مال کے بھی ہیں۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے یسئلونک ما ذا ینفقون قل العفو (2:219) اور تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں کہہ دیجئے جو بچے اپنے خرچ سے یعنی وہ خرچ کرو جو اپنے عیال کے نفقہ سے بچ رہے۔ عفو مصدر (باب نصر) بمعنی زیادہ ہونے کے بھی ہیں مثلاً جو چیز زیادہ اور گھنی ہوجاتی ہے تو بولتے ہیں عفا الشی۔ قرآن مجید میں ہے ثم بدلنا مکان السیئۃ الحسنۃ حتی عفوا (7:95) پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ (مال و اولاد میں) زیادہ ہوگئے۔ یہاں عفوا بمعنی کثروا آیا ہے۔ واغفرلنا۔ واؤ عاطفہ اغفر۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ غفر (باب ضرب) سے مصدر تو بخش دے۔ تو معاف کر دے۔ اصل میں غفر ایسے لباس پہنا دینے کو کہتے ہیں جو ہر قسم کی گندگی اور میل سے محفوظ رکھ سکے۔ مغفرت الٰہی کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو عذاب سے محفوظ رکھے۔ اسی اعتبار سے غفر کا استعمال معاف کرنے اور بخش دینے کے معنی میں ہوتا ہے۔ مغفر ڈھال کو کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی دشمن کے وار سے بچاتی ہے۔ وارحمنا۔ واؤ عاطفہ۔ ارحم امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ رحمۃ (باب سمع) مصدر۔ فا ضمیر مفعول جمع متکلم اور (اے ہمارے پروردگار) تو ہم پر رحم کر۔ مولنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہمارا مولیٰ ۔ کار ساز۔ مددگار۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 مرسل روائیوں میں ہے کہ حضرت جبر یل (علیہ السلام) نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تلقین کی کہ ان آیتوں کے خاتمہ پر آمین کہیں۔ چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آمین یارب العالمین فرمایا۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سورت کے خاتمہ پر سات مرتبہ اللھم ربنا ولک الحمد فرمایا۔ ( درمنشور) بعض صحا بہ سے بھی اس کے خاتمے پر آمین کہنا ثابت ہے اور ایک اروایت میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان آیتوں کے بعد آمین کی تر غیب دی۔ ( ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

سورة بقرہ اور چالیس اصول زندگی سورة بقرہ میں قوم بنی اسرائیل، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر کرنے کے بعد وہ چالیس اصول زندگی ارشاد فرمائے ہیں جو عبادت و بندگی، تہذیب و تمدن ، عدل و انصاف ، معاشرت اور معیشت ۔ دنیا اور آخرت کے اہم معاملات کی بہترین بنیاد ہیں۔ گویا اس میں اس طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ اگر حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت نے ان اصولوں کو سامنے رکھا اور ان پر پوری طرح عمل کیا تو بنی اسرائیل کی طرح وہ دنیا اور آخرت میں ہر طرح کے نقصانات اٹھانے سے بچ جائیں گے۔ کیونکہ بنی اسرائیل کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ بےاصول زندگی تھی وہ باتیں زیادہ کرتے اور عمل کم کرتے تھے۔ وہ چالیس اصول کون سے ہیں ؟ ان کی تفصیل عرض ہے۔ (1): صبر اور صلوٰۃ وسیلہء نجات : صبر اور نماز کے ذریعہ اللہ سے جو بھی مانگا جائے گا وہ ضرور ملے گا اس میں اللہ کی طرف سے دیر ہو سکتی ہے مگر اس کے گھر میں اندھیر نہیں ہے۔ صبر کے معنی ہیں ڈٹ جانا اور برداشت کرنا۔ ایک مومن اللہ کی رضا اور دین اسلام کی سربلندی کے لئے جب ڈٹ جاتا ہے اور اگر ضرورت ہو تو وہ اس عظیم مقصد کے لئے اپنی جان تک دے دیتا ہے تو وہ کبھی نہیں مرتا بلکہ اس کو مروہ کہنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ وہ اپنے اس صبر کے ذریعہ اللہ کی رحمت کے سائے میں اس طرح حیات جاوید انی (ہمیشہ کی عزت والی زندگی) حاصل کرلیتا ہے جہاں زندگی بھی اس پر نازل کرتی ہے۔ نماز اللہ کی افضل ترین عبادت ہے اسی لئے نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کس طرح کی شدید پریشانی ہوتی تو آپ فوراً نماز کی طرف متوجہ ہوجاتے تھے۔ درحقیقت صبر اور صلوٰۃ مسلمانوں کے وہ ہتھیار ہیں جن سے وہ دنیا اور آخرت کے ہر میدان میں فتح اور کامیابی حاصل کرسکتے ہیں اور اللہ بھی ایسے ہی بندوں کے ساتھ ہوتا ہے جو صبر و صلوٰۃ کے ذریعہ اس سے ہر طرح کی مدد مانگتے ہیں۔ (2): اللہ کے شعائر : شعائر (شعیرہ کی جمع ہے) نشانیاں۔ اصل میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے کفار مکہ نے صفا اور مروہ پر “ اساف اور نائلہ ” نام کے دو بت رکھے ہوئے تھے جنہیں وہ سعی کے دوران چومتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد جب بیت اللہ کو تمام بتوں سے پاک کردیا گیا تو کچھ مسلمان صفا اور مروہ کی سعی نہیں کرتے تھے کہ کہیں ہم گناہ گار نہ ہوجائیں کیونکہ صفا اور مروہ پر کفار بتوں کی تعظیم کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ صفا اور مروہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے تم اس کی اس طرح تعظیم اور عزت کرو اور سعی کرو جس طرح تم بیت اللہ، مقام ابراہیم، قرآن کریم اور زمزم کو اللہ کی نشانیاں سمجھ کر ان کی تعظیم کرتے ہو۔ (3): علوم ہدایت کو نہ چھپانا : یہود و نصاریٰ ان تمام باتوں کو چھپا لیتے تھے جن میں دین اسلام کی سچائی اور حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کی خوش خبریاں دی گئی تھیں اور انہوں نے تمام ان علوم کو چھپا لیا تھا جن سے قوم کی اصلاح ہو سکتی تھی۔ دین ان کے ہاتھوں کا کھلونا بن کر رہ گیا تھا ۔ ایسے لوگوں کے لئے فرمایا کہ وہ انتہائی لعنت کے قابل ہیں جو اپنی ذاتی اغراض اور دنیا کے گھٹیا سے نفع کے لئے سچائی کی باتوں کو چھپاتے ہیں۔ فرمایا کہ اگر ایسے لوگ توبہ کئے بغیر اس دنیا سے رخصت ہوگئے تو نہ صرف دنیا میں اللہ کی اور اس کے فرشتوں کی لعنت برسے گی بلکہ وہ لعنت کرنے والے تمام لوگوں کی لعنت کے مستحق بن جائیں گے اور آخرت میں اس کا قابل نہ رہیں گے کہ اللہ ان کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھے۔ (4): اللہ نے اپنی پہچان کی بیشمار نشانیاں بنائی ہیں۔ جنہیں دیکھ کر ایک آدمی اپنے پیدا کرنے والے خالق حقیقی تک آسانی سے پہنچ سکتا ہے مگر بعض بد قسمت لوگ وہ ہیں کہ جنہوں نے اپنے خالق کی پیدا کی ہوئی چیزوں ہی کو اپنا معبود اور مشکل کشا بنا لیا ہے اور وہ لوگ ان چیزوں کی محبت میں دیوانے ہوئے جا رہے ہیں۔ حالانکہ اس شوق محبت اور دیوانگی کا حق صرف اللہ رب العالمین کے لئے ہونا چاہئے تھا فرمایا وہ وقت کس قدر حسرت اور افسوس کا ہوگا جب ان کے جھوٹے معبود ان سے اپنا منہ پھیر کر ان کا ساتھ نہ دیں گے۔ شدید ترین عذاب سامنے ہوگا اور تمام سہارے ٹوٹ چکے ہوں گے۔ وہ نہایت مایوسی اور حسرت سے کہیں گے الٰہی ! اگر ہمیں ایک مرتبہ پھر دنیا میں جانے کی اجازت دے دی جائے تو ہم ان جھوٹے معبودوں سے اسی طرح نفرت اور بیزاری کا اظہار کریں گے جس طرح آج یہ ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس وقت فرمائیں گے کہ اب تمہیں دوبارہ دنیا میں جانے کی اجازت نہیں ہے اور آج تم جس حسرت اور افسوس کا اظہار کر رہے ہو وہ تمہیں جہنم کی آگ سے نہ بچا سکے گا۔ (5): حرام، حلال اور پاکیزہ چیزیں : مومن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہے اور شیطان کے مکرو فریب سے ہوشیار رہے۔ کیونکہ شیطان کی سب سے بڑی تمنا یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح ایک مومن کو برائی اور بےحیائی کی طرف لانے کے لئے مرد ار جانور بہتے ہوئے خون خنزیر کے گوشت اور غیر اللہ کے نام کی نذر و نیاز کے جال میں پھنسا دے۔ فرمایا کہ جو لوگ شیطان کے اس مکرو فریب کے جال میں پھنس جاتے ہیں اور رزق حرام کو برا نہیں سمجھتے ایسے لوگ اپنے پیٹ میں جہنم کے انگارے بھرتے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہوتا۔ (6) نیکیوں کا راستہ : سچے مومنوں کی پہچان یہ ہے کہ وہ اللہ کے دئیے ہوئے مال میں اللہ کی محبت کو بنیاد بنا کر رشتہ داروں ، یتیم بچوں، ضرورت مندوں، مسافروں، ضرورت کے تحت مانگنے والوں اور قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے لوگوں کی مدد پر اپنا مال خرچ کریں۔ نماز اور زکوٰۃ کے نظام کو قائم کریں اور پریشانیوں اور مشکلات میں صبرو تحمل اور برداشت کے دامن کو تھامے رہیں۔ یہ نیکیاں کرنے والے ہی اپنے ایمانی دعوے میں سچے ہیں اور کامیاب ہونے والے ہیں۔ (7) نظام قصاص کو قائم کرنا : عقل و دانش رکھنے والوں سے فرمایا گیا کہ ! قصاص کا نظام قائم کریں جس میں چھوٹے بڑے غلام، آزاد مرد اور عورت کا امتیاز نہیں ہوتا بلکہ جو بھی قاتل ہے اس کو قتل کی پوری پوری سزا دی جائے۔ (8) والدین اور رشتہ داریوں کا احترام : فرمایا کہ موت کے وقت اگر انسان اپنے ان رشتہ داروں کے لئے کچھ وصیت کر جائے (جن کا میراث میں حصہ نہیں ہے) تو یہ اس کے لئے صدقہ جا ریہ ہوگا۔ وصیت سننے والوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس میں کسی طرح کی تبدیلی نہ کریں اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ سخت گناہ گار ہوگا۔ البتہ اگر مرنے والا کسی گناہ کی وصیت کر گیا ہے اور اس میں مناسب تبدیلی کرلی جائے (جس سے کسی کا حق نہ مارا جائے) تو یہ تبدیلی گناہ نہیں ہے۔ اگرچہ والدین کے لئے وصیت کرنے کا حکم وصیت کے احکامات نازل ہونے سے پہلے تھا بعد میں منسوخ ہوگیا۔ بہرحال غریب ضرورت مندوں کے لئے کچھ وصیت کر جانا اور وصیت میں تبدیلی نہ کرنے کا حکم اب بھی باقی ہے۔ (9) رمضان اور نزول قرآن : قرآن کریم وہ کتاب ہدایت ہے جو قیامت تک تمام انسانیت کے لئے رہبر و رہنما ہے رمضان کی مبارک ساعتوں میں نازل کی گئی ہے۔ اسی لئے یہ مہینہ بھی بہت قابل احترام ہے۔ اس میں رمضان کے تمام احکامات کا خیال رکھنا اور زیادہ نیکی میں آگے بڑھنا ہر مومن کی ذمہ داری ہے۔ (10) رشوت لینا اور دینا حرام ہے : مومنوں کو حکم دیا گیا کہ ! وہ آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقہ سے نہ کھائیں۔ نہ اس مال کو اپنے حاکموں کی طرف رشوت کے طور پر لے کر جائیں کیوں کہ ناجائز مال اور رشوت دونوں حرام اور ناجائز ہیں۔ (11) من گھڑت رسمیں : حج کے دنوں میں مکہ کے لوگ حج کا احرام باندھنے کے بعد اپنے گھروں کے دروازوں پر تالے ڈال کر گھر کے پیچھے سے گھروں میں داخل ہوتے تھے فرمایا کہ یہ رسم کوئی نیکی نہیں ہے اپنے گھروں کے دروازے سے ہی آنا چاہئے۔ سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ حج جیسی عبادت بھی ادا کی جائے اور اللہ کے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے جہاد و قتال کیا جائے۔ کسی پر زیادتی نہ کی جائے البتہ زیادتی کا جواب اسی طرح دینا جائز ہے جتنی زیادتی کی گئی ہو۔ فرمایا کہ انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ نیکی اور بھلائی کا پہلو ہر کا م پر غالب ہونا چاہئے۔ (12) حرمت والے مہینے : رجب، ذی قعدہ، ذی الحج اور محرم یہ چار مہینے اشہر الحرم۔ (حرام اور حرمت والے مہینے) کہلاتے ہیں۔ اس میں جنگ کرنے کو مکہ کے کفار بھی برا سمجھتے تھے فرمایا کہ اگر وہ ان مہینوں کا احترام کرتے ہوئے تم سے جنگ نہیں کرتے ہوئے تو تم بھی نہ کرو لیکن اگر وہ جنگ کرتے ہیں تو تمہیں جنگ کرنے کی اجازت ہے مگر کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہئے۔ (13) حج اور تکمیل ایمان : عمرہ (سوائے حج کے چند دنوں کے) ہمیشہ کیا جاسکتا ہے حج کے لئے شوال، ذی قعدہ اور ذی الحج کے دن متعین ہیں۔ ان میں اللہ کی عبادت و بندگی اور اس کا ذکر کثرت سے کیا جائے کیونکہ حج مومنوں کے گناہوں کی معافی کا بہترین ذریعہ ہے حج کے دنوں میں لڑائی، جھگڑا اور گناہوں کے کاموں سے بچتے ہوئے تمام احکامات کی پابندی کرنا اور ہر طرح کی بری رسموں سے بچنا سب سے بڑی عبادت ہے۔ (14) زیادہ قسمیں کھانا اور خوشامد کرنا : زیادہ قسمیں کھانا اور خوشامد کرنا اللہ کو سخت ناپسند ہیں اس طرح کی باتیں کچھ لوگ اس لیے کرتے ہیں تا کہ ان کے ہاتھوں سے جو فساد پھیل رہا ہے ان پر پردہ پڑا رہے۔ ایسے لوگوں کی علامت یہ ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم ایسی حرکتیں نہ کرو جن سے دوسروں کا نقصان ہوتا ہے تو وہ اس بات کو اپنا انا اور ضد کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ اس کے برخلاف وہ لوگ قابل قدر ہیں جو اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے اپنا سب کچھ لٹا دیتے ہیں۔ فرمایا گیا کہ وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی رضا و خوشنودی چھوڑ کر دنیا کو اپنا مقصود بنا رکھا ہے۔ وہ پوری طرح اسلام میں داخل ہوجائیں اور شیطان کی پیروی چھوڑ دیں تو اللہ کی رحمتوں کے مستحق بن جائیں گے۔ (15) حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا : فرمایا کہ تم سے پہلے لوگوں کو طرح طرح سے آزما یا گیا جب وہ حالات میں ہلا مارے گئے۔ اللہ کے رسول اور ایمان والے بھی چلا اٹھے کہ اے اللہ آپ کی مدد کب آئے گی ؟ فرمایا کہ جب انسانی وسائل اور اس کی کوششیں مایوسی کی حد تک پہنچ جاتی ہیں تو اللہ کی مدد آتی ہے اسی طرح جو لوگ دین کی راہوں میں مشکلات سے نہیں گھبراتے وہی کامیاب ہوتے ہیں اور وہی جنت کے مستحق بھی بن جاتے ہیں۔ (16) اہل ایمان پر جہاد فرض ہے : اگرچہ اپنی جان دینا اور کسی کی جان لینا انسان کے لئے بہت ہی شاق اور گراں ہے لیکن جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں قتال و جہاد کرتے ہیں ان کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ممکن ہے ایک چیز تمہیں گراں گزرتی ہو لیکن وہی چیز تمہارے حق میں بہتر ہو اور اسی طرح ایک چیز تمہیں پسند ہو لیکن وہی چیز تمہارے حق میں بری ہو۔ اس بات کو اللہ بہتر جانتا ہے انسان اپنے حقیقی نفع نقصان کو نہیں جانتا۔ (17) دین اسلام سب سے بڑی نعمت : جو شخص دین اسلام جیسی نعمت کو پانے کے بعد چھوڑ دے گا یعنی مرتد ہوجائے گا ۔ اگر اس نے مرنے سے پہلے اس گناہ سے توبہ نہ کی تو دنیا و آخرت میں اس کے تمام اعمال اور نیکیاں برباد ہوجائیں گی کیونکہ دین اسلام ہی اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ (18) شراب اور جوا حرام ہے : یہ دونوں چیزیں انسان کی دنیا اور آخرت کو برباد کر کے رکھ دینے والی چیزیں ہیں۔ اگرچہ ان میں وقتی فائدے ضرور نظر آتے ہیں لیکن شراب اور جوئے کی نحوست سے دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی اس کے تمام اعمال راکھ کا ڈھیر بن جائیں گے۔ (19) یتیم بچوں سے حسن سلوک : وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا جس میں ایسے بچوں کو جن کے سروں پر باپ کا سایہ نہ ہو آزاد اور بےسہارا چھوڑ دیا جائے اور ان کی تعلیم و تربیت اور ان کے اخلاق کی نگرانی نہ کی جائے کیونکہ ایسے سر پھرے بچے کل معاشرہ کا کینسر بن جائیں گے اور اگر ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جائے گا تو وہ اسی معاشرہ کا قیمتی سرمایہ بھی بن سکتے ہیں۔ (20) مشرک عورتوں سے نکاح حرام ہے : مشرک عورتوں سے نکاح حرام ہے : مشرک عورتیں اگرچہ حسن و جمال کا پیکر ہی کیوں نہ ہوں ان سے نکاح کرنا حرام ہے۔ اسی طرح مشرک مردوں سے اس وقت تک نکاح نہیں ہو سکتا جب تک وہ ایمان قبول نہ کرلیں خواہ ایسے مرد کتنی ہی خوبیوں کے مالک کیوں نہ ہوں۔ وجہ یہ ہے کہ اگر یہ شرک پر قائم رہیں گے تو وہ اپنے ساتھ کو جہنم میں لے جائیں گے جب کہ اللہ یہ چاہتا ہے کہ اہل ایمان جنت اور اللہ کی مغفرت کے مستحق بن جائیں۔ (21) عورتوں کے مخصوص ایام : جب عورتوں کے مخصوص ایام شروع ہوتے ہیں تو وہ شرعی طور پر ناپاک شمار ہوتی ہیں لیکن یہ تصور غلط ہے کہ ان کا جسم اور کپڑے بھی ناپاک ہوگئے ہیں اس سلسلہ میں شرعی حکم یہ ہے کہ ان سے صحبت کرنا تو جائز نہیں ہے البتہ ان کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا، ان کے ساتھ لیٹنا، بیٹھنا قطعاً جائز ہے۔ ان ایام میں عورتیں شرعی طور پ ناپاک تو کہلاتی ہیں لیکن کوئی اچھوت نہیں بن جاتیں۔ جب وہ عورتیں غسل کرلیں تو ان سے صحبت نہ کرنے کی پابندی بھی ختم ہوجاتی ہے۔ فرمایا کہ عورتیں مردوں کے لئے کھیتی کی طرح ہیں جس طرح کسان اپنی زمین میں بیج اسی وقت ڈالتا ہے جب اس کو فصل اگانی ہوتی ہے لیکن بنجرزمین پر وہ اپنی صلاحیتیں برباد نہیں کرتا۔ (22) قسم ور اس کا کفارہ : قرآن کریم اور احادیث میں آتا ہے کہ پختہ قسمیں کھانے کے بعد ان کا لحاظ رکھنا ضروری ہے ان کو توڑنا نہیں چاہئے لیکن اگر کسی شدید عذر کی وجہ سے پختہ قسمیں کھانے کے بعدان کا توڑنا ضروری ہے تو اس کا کفارہ ادا کر کے زندگی بھر استغفار کیا جائے۔ قسمیں دو طرح کی ہوتی ہیں (1) لغو قسمیں جیسے تیرے سر کی قسم بچوں کی قسم وغیرہ یہ بیکار اور لغو قسمیں ہیں ان کا کوئی اعتبار نہیں ہے لیکن (2) وہ قسمیں جو دل کے پورے ارادے اور یقین سے کھائی جاتی ہیں ان کے توڑ دینے کا کفارہ یہ ہے کہ (1) دس آدمیوں کو پیٹ بھر کھانا کھلائے ۔ (2) یا دس آدمیوں کو کپڑے پہنائے (3) یا مسلسل تین روزے رکھے۔ (4) یا ایک غلام آزاد کرے۔ (23) بیوی کے قریب نہ جانے کی قسم : اگر کسی نے اپنی بیوی کے پاس جانے کی قسم کھالی ہو تو اس کی مدت چار مہینے ہے۔ اس چار مہینے کے مدت میں میں رجوع کرلیا تو قسم کا کفارہ دینا پڑے گا اور اگر چار مہینے میں رجوع نہ کیا جائے تو عورت پر طلاق بائن پڑجائے گی۔ یعنی جدائی کی طلاق۔ (24) اللہ کو طلاق سخت ناپسند ہے : دین اسلام طلاق دینے کو بہت ہی برا سمجھتا ہے لیکن اگر کسی وجہ سے طلاق ہوگئی تو عورت پر لازمی ہے کہ وہ تین خون آنے تک کسی اور سے نکا ح نہ کرے اور اس کی عدت کو پورا کرے اگر وہ حاملہ ہے تو اپنے حمل کو ضرورظاہر کردے (حاملہ عوت کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہے) ۔ (25) طلاق رجعی اور طلاق مغلظہ : طلاق رجعی دو دفعہ تک ہے اگر تیسری طلاق بھی دے دی جائے گی تو یہ عورت شوہر کے لئے اس وقت تک حلال نہ ہوگی جب تک وہ پہلے شوہر کی عدت گذار کو کسی دوسرے شخص سے نکاح اور صحبت نہ کرے پھر اگر کسی وجہ سے دوسرے شہر سے بھی طلاق ہوجائے تو دوسرے شوہر کی عدت گزار کر پھر پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔ مومنوں کو حکم دیا گیا ہے کہ عورتوں کو رکھنا ہے تو طریقہ سے رکھو۔ چھوڑنا ہے تو احسن طریقہ پر رخصت کردو البتہ عورتوں پر ظلم و زیادتی نہ کرو اور اللہ کی آیات کو کھیل نہ بناؤ (26) بچوں کو دودھ پلوانا : دودھ پیتے بچوں کے لئے حکم ہے کہ مائیں دو سال (بچہ کمزور ہو تو ڈھائی سال ) تک دودھ پلائیں لیکن اگر مرد اپنی اولاد کو کسی اور سے دودھ پلوانا چاہتا ہے تو اس کے لئے یہ بات جائز ہے مگر اس کی شرط یہ ہے کہ جس سے دودھ پلوایا جائے اس کو اس کا پورا پورا معاوضہ ادا کیا جائے ۔ عدت کے دوران مطلقہ عورتوں کا کھانا اور لباس اس کا شوہر اپنی حیثیت کے مطابق دینے کا پابند ہے۔ (27) شوہر کی وفات اور عدت : فرمایا کہ جب تم نے طلاق دے دی اور اس عورت نے اپنی عدت بھی گزار لی ہے تو اب اس پر کسی طرح کی پابندی لگانا جائز نہیں ہے جس کا شوہر مرجائے اس عورت کی عدت چار مہینے اور دس دن تک ہے۔ عدت گزارنے کے بعد وہ عورتیں اپنے لیے زندگی بسر کرنے میں معروف طریقہ پر آزاد ہیں۔ ان پر کسی قسم کی پابندی لگانا جائز نہیں ہے۔ فرمایا دوران عدت احسن طریقہ سے ڈھکے چھپے الفاظ میں پیغام نکاح تو دیا جاسکتا ہے لیکن نکاح کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔ (28) نکاح اور مہر : اگر کسی نے نکاح کیا اور مہر بھی مقرر کیا لیکن صحبت سے پہلے ہی طلاق دے دی گئی تو آدھا مہر ادا کرنا ہوگا۔ اگر شوہر چاہے تو پورا مہر دے دے۔ عورت چاہے تو پورا مہر معاف کر دے یہ معاملہ آپس کی مرضی کا ہے۔ (29) جہاد اسلامی کی ترغیب : حضرت طالوت اور ظالم بادشاہ جالوت، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت عزیر (علیہ السلام) کے واقعات بیان کر کے اللہ نے یہ بتایا ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ ہی سب سے بڑی عظمت ہے۔ اس سے بھاگنے والے بدقسمت لوگ ہیں کیونکہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے انسان موت سے کتنا ہی بھاگنے کی کوشش کرے موت اس کو مضبوط قلعوں میں نہیں چھوڑے گی۔ ان آیات میں اہل ایمان کو جہاد پر آمادہ کیا گیا ہے۔ (30) اللہ کی راہوں میں بےغرض خرچ کرنا : اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے زیادہ سے زیادہ خرچ کرنا اور دوسروں کی مدد کرنا بھی عبادت ہے لیکن شرط یہ ہے کہ جس کی مدد کی جائے اس کو کسی طرح کے طعنے نہ دئیے جائیں نہ ذہنی اذیت پہنچائی جائے ورنہ یہ سارا نیک عمل ضائع ہوکر رہ جائے گا اور کوئی ثواب نہ ملے گا۔ (31) اللہ کے راستے میں چلنے والوں کی مدد : کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی دین کی سربلندی اور خدمت خلق میں لگا رکھی ہے ان کی خاموشی سے مدد کی جانی چاہئے کیونکہ اگر وہ دنیا کمانے کی فکر کریں گے تو وہ دین کی سربلندی کے لئے جس جدو جہد میں لگے ہوئے ہیں اس کا حق کیسے ادا کرسکیں گے۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کی علامت یہ ہے کہ تم ان کو ان کے پریشان حال چہروں اور پیشانیوں سے پہچان جاؤ گے ایک علامت یہ ہے کہ وہ گر پڑکر کبھی کسی س سوال نہیں کرتے بلکہ ناواقف آدمی تو ان کے سوال نہ کرنے سے اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ شاید ان کو تو کسی چیز کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ (32) سودی لین دین معاشرہ کا کینسر ہے : اللہ تعالیٰ نے سود کے لین دین سے اس قدر سختی کے ساتھ منع کیا ہے کہ اس کو نہ چھوڑنے والوں کے لئے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ ہے۔ اگر غور کیا جائے تو آج ساری دنیا جو مہنگائی کی سولی پر چڑھی ہوئی ہے جس سے زندگیوں کا سکون برباد ہو کر رہ گیا ہے وہ سود ہی کی لعنت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس لعنت سے ہر مومن کو اور ہر اسلامی ملک کو محفوظ رکھے، آمین۔ (33) بغیر سود کے لوگوں کی مدد کرنا : سودی لین دین کے برخلاف اہل ایمان کو اس بات کی طرف رغبت دلائی گئی ہے کہ اگر کوئی ضرورت مند ہو تو اس کو بغیر کسی سود کے قرض دیا جائے اور اس قرض کی ادائیگی میں اس کا کی سہولت کا خیال بھی رکھا جائے۔ اگر وہ شخص کسی مجبوری کی وجہ سے قرض ادا نہ کرسکتا ہو تو اس کو مناسب سہولت دی جائے یا اس کو معاف کردیا جائے۔ (34) قرض لینے اور دینے کے اصول : (1) قرض دیتے وقت مدت مقرر کی جائے کہ قرض لینے والا قرض کب واپس کرے گا۔ (2) پوری طرح انصاف سے اس کو لکھا جائے ۔ لکھنے والا کوئی عذر پیش نہ کرے جیسا بھی لکھ سکتا ہو لکھ دے (3) دو مرد گواہ بنا لئے جائیں اگر دو مرد گواہ نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنا لیا جائے۔ (35) قرض کے لین دین میں لکھنا : قرض کا معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا ہر حال میں اس کو لکھا جائے کیونکہ اس میں انسان بہت سی الجھنوں سے بچ جاتا ہے اور یہ بات انصاف سے بھی قریب تر ہے اور کسی طرح کا شک و شبہ بھی پیدا نہیں ہوتا۔ (36) آپس کا لین دین : بازاروں میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ دوکاندار آپس میں لین دین کرتے ہیں ایسے لین دین کو اگر مذکورہ شرائط کے مطابق لکھا نہ جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں کسی کو گواہ بنا لینا بھی کافی ہے۔ (37) لکھنے اور گواہی دینے والوں کو نہ ستانا : کیونکہ اگر گواہی دینے والوں اور لکھنے والوں کو ستایا گیا تو پھر کوئی شخص گواہی دینے والا۔ اور لکھنے والا نہیں ہوگا اور ممکن ہے ایک سامنے پڑی ہوئی لاش اور سسکتے ہوئے انسان کو اٹھانے والا اور گواہی دینے والا بھی نہ مل سکے گا۔ (38) رہن رکھ کر قرض لینا : اگر کوئی سفر میں ہو اور لکھنے والا بھی نہ ہو تو کوئی ایسی چیز بطور رہن رکھی جاسکتی ہے جو فوری طور پر اس کے قبضے میں آجائے پھر کسی لکھت پڑھت کی ضرورت نہیں ہے۔ (39) امانت میں خیانت کرنا : جس شخص کو بھی کوئی امانت دی جائے اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس امانت کو اس کے حق دار تک پہنچائے اس میں بددیانتی نہ کرے اگر کسی کے پاس کوئی گواہی ہو تو وہ اس کو نہ چھپائے ورنہ یہ بات اس کے ضمیر کا بوجھ بن جائے گی۔ (40) تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) سب سے پہلے اللہ کے دین کی سچائی پر ایمان لاتے ہیں۔ پھر جو بھی سعادت مند ہوتا ہے وہ ایمان لا کر اس راہ پر چلتا ہے اور اللہ پر اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر بلاتفریق ایمان لاتا ہے اور اس کی زبان پر ایک ہی بات ہوتی ہے کہ اے اللہ ہم نے سنا اور ہم آپ کی اطاعت کو قبول کرتے ہیں۔ ٭ اے اللہ اگر ہم سے کوئی بھول چوک ہوگئی ہو یا ہم بھول گئے ہوں تو ہمیں معاف کر دیجئے گا۔ ٭ اے اللہ ہم پر وہ بوجھ نہ ڈالئے گا جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے گئے تھے۔ ٭ اے ہمارے رب ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈالئے گا جس کی ہمارے اندر طاقت نہ ہو۔ ٭ ہمیں معاف کر دیجئے گا۔ ٭ ہمارے گناہ بخش دیجئے گا۔ ٭ ہم پر رحم و کرم فرمائیے گا۔ ٭ آپ ہمارے مالک ہیں۔ ہمیں کافروں اور کفر کی ہر طاقت پر غلبہ نصیب فرما دیجئے گا۔ آمین یا رب العالمین

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ یہاں جو ثواب و عقاب کا مدار کسب واکتساب پر رکھامراد اس سے ثواب و عقاب ابتداء ہے نہ بواسطہ تسبب کے۔ 1۔ حدیث میں ہے کہ یہ سبب دعائیں قبول ہوئیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ایمان لانا اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنا مشکل کام نہیں یہ عین انسان کی فطرت اور اس کی وسعت ہمت کے مطابق ہے ان پر اپنی ہمت کے مطابق عمل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے بخشش، رحمت اور مدد طلب کرنی چاہیے یہی اسلام کے غلبہ اور کفار پر فتح پانے کا طریقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سورة کے اختتام میں از راہ کرم اپنے بندوں کے لیے یہ وضاحت فرماتا ہے کہ تمہارے رب نے جو احکامات نازل فرمائے ہیں۔ وہ ایسے نہیں کہ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالا گیا ہو۔ لہٰذا جو ان کے مطابق عمل کرے گا اس کا اسی کو فائدہ پہنچے گا اور جس نے ان احکامات کی مخالفت کی وہ اس کا خمیازہ بھگتے گا۔ مومن تو وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کے باوجود اس کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہیں کہ اے ہمارے خالق ومالک ! اگر ہم سے بھول یا دانستہ خطا ہوجائے تو ہمیں اپنی گرفت سے بچائے رکھنا۔ اے ہمارے پالنہار ! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالنا جس طرح پہلے لوگوں پر ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ڈالا گیا تھا۔ مومن تو اپنے رب کے حضور دست بستہ دعا کرتے ہیں کہ ہمارے رب ! ہم سے غلطی ہوجائے تو اس سے صرف نظر کرتے ہوئے ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالیو۔ جس کی ہم میں ہمت نہ ہو۔ الٰہی ! ہم سے در گزر کر، ہماری خطاؤں کو معاف فرما اور ہم پر رحم کر۔ تو ہی تو ہمارا مولا ہے اور کافروں کے مقابلے میں ہماری نصرت و حمایت فرما۔ آمین۔ (عَنْ فَرْوَۃَ بْنِ نَوْفَلِ نِ الْأَشْجَعِیِّ قَالَ سَأَلْتُ عَاءِشَۃَ عَمَّا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ یَدْعُوْ بِہِ اللّٰہَ قَالَتْ کَانَ یَقُوْلُ اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَالَمْ أَعْمَلْ ) [ رواہ مسلم : کتاب الذکر والدعاء، باب التعوّذ من شر ماعمل ومن شر ما لم یعمل ] ” حضرت فروہ بن نوفل اشجعی (رض) نے حضرت عائشہ (رض) سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعاؤں کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا آپ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ ! میں نے جو کام کیے اور جو نہیں کیے ان کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ “ (عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ (رض) قَالَ کَانَ عَآمَّۃُ دُعَاءِ نَبِیِّ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَاأَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُّ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا جَھِلْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُّ ) [ مسند احمد : کتاب اول مسند البصریین، باب حدیث عمران بن حصین ] ” حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ دعا ہوا کرتی تھی کہ اے اللہ ! میری خطاؤں کو جو میں نے جان بوجھ کر ‘ پوشیدہ ‘ ظاہری ‘ بےعلمی سے اور عمداً کی ہیں سب کو معاف فرما۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ ٢۔ ہر کسی کو اس کے عمل کے مطابق جزاء و سزا ملے گی۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ سے اپنی خطاؤں اور بھول کی معافی مانگنا اور اس کی سختی سے پناہ طلب کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن دین میں آسانیاں : ١۔ مریض ومسافر کو روزوں میں تاخیر کرنے کی اجازت۔ (البقرۃ : ١٨٥) ٢۔ نماز میں قصر۔ (النساء : ١٠١) ٣۔ رمضان کی راتوں میں مباشرت کی اجازت۔ (البقرۃ : ١٨٧) ٤۔ حج صرف صاحب استطاعت پر فرض ہے۔ (آل عمران : ٩٧) ٥۔ ہمت کے مطابق اللہ تعالیٰ کا تقو ٰی اختیار کرنے کا حکم۔ (التغابن : ١٦) تفصیل کے لیے میری کتاب ” دین تو آسان ہے “ کا مطالعہ فرمائیں

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یو ایک مسلمان کی سوچ ہی میں یہ بات ہوتی ہے کہ اس کا رب رحیم ہے ، وہ بطور خلیفہ اس پر جو فرائض وواجبات عائد کرتا ہے وہ نہایت ہی عادلانہ اور منصفانہ ہیں ۔ اس کی جانب سے ڈالی جانے والی آزمائشیں بھی عادلانہ ہیں اور آخرکار قیامت کے دن بھی اس کے ساتھ ٹھیک ٹھیک انصاف ہوگا ۔ اور وہ پوری طرح مطمئن ہوگا۔ اس لئے وہ اللہ کی جانب سے عائد کردہ فرائض پر کوئی تنگی اور دشواری محسوس نہیں کرتا ۔ وہ انہیں بوجھ نہیں سمجھتا ۔ اس لئے کہ اس کا یہ پختہ یقین ہوتا ہے کہ جس اللہ نے یہ فرائض عائد کئے ہیں وہ خوب جانتا ہے کہ میرے اندر ان کے سر انجام دینے کی استطاعت فی الواقعہ ہے ۔ اگر طاقت نہ ہوتی تو وہ فرض ہی نہ کرتا ۔ اس تصور سے ایک طرف تو دل مومن اطمینان اور انس و محبت سے بھرجاتا ہے ، دوسری جانب اس کے اندر ان فرائض وواجبات کو سر انجام دینے کے لئے عزم اور ولولہ پیدا ہوجاتا ہے ۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرائض اس پر عائد کردیئے ہیں تو لامحالہ وہ اس ڈیوٹی کا حصہ ہیں ۔ اور جب بھی وہ ضعف محسوس کرتا ہے ، کبھی تھکاوٹ محسوس کرتا ہے ، یہ فرائض بھاری ہونے لگتے ہیں تو وہ محسوس کرتا ہے کہ یہ اس کی ذاتی کمزوری ہے ۔ بوجھ زیادہ نہیں ہے ۔ چناچہ وہ اپنے عزم کو از سر نو تازہ کرتا ہے ۔ اپنی کمزوری کو دور کرتا ہے اور از سر نو فرائض پورے کرنے کا عزم صمیم کرلیتا ہے ۔ جب تک وہ ایسا کرسکتا ہے ۔ ازسر نو عزم کرنے کے لئے مومن کے لئے یہ اشارہ ہے کہ اگر راہ طویل ہوجائے تو از سر نو عزم کرو چناچہ تصور روح مومن اور اس کی ہمت مردانہ کے لئے مہمیز کا کام کرتا ہے۔ اور اس طرح اس کی ہمت اور اس کے ارادے میں پختگی آجاتی ہے ۔ اس لئے وہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ بھی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اس تصور حیات کا دوسرا اہم حصہ ہے ۔ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ................ ” ہر شخص نے جو نیکی کمائی اس کا پھل اسی کے لئے ہے اور جو برائی سمیٹی اس کا وبال اسی پر ہے۔ “ ہر فرد اپنے کئے کا ذمہ دار ہے ۔ اس لئے اسے وہی کچھ ملے گا جو اس نے خود کمایا ۔ نیز سزا بھی کسی کو صرف اس کے جرم کی ملے گی جو وہ خود کرے گا ۔ ہر کوئی اپنے کئے کا ذمہ دار خود ہوگا۔ ہر شخص اپنے رب کے سامنے خود اپنا اعمال نامہ لے کر جائے گا۔ اور اس میں وہی کچھ ہوگا جو اس نے کمایا ، جس کا اس نے ارتکاب کیا ۔ کوئی شخص وہاں حیلہ بہانہ نہ کرسکے گا ۔ نہ وہاں کسی کو کسی کی امداد یا سفارش کی امید ہوگی ۔ انسان بحیثیت فرد اپنے رب کے سامنے ہوگا۔ جب انفرادی مسئولیت کا یہ تصور کسی مومن کے قلب میں جاگزین ہوجاتا ہے ، تو ہر فرد اپنے اللہ کے جو حقوق اس کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں ۔ ان کا ذمہ دار بن جاتا ہے ۔ وہ دوسرے انسانوں کی وجہ سے کسی صورت میں بھی ان حقوق الٰہیہ سے دست بردار نہیں ہوتا الا یہ کہ شریعت کے مطابق یہ دست برداری ہو ۔ اب ہر انسان مومن کی ذات کے ساتھ جو حقوق اللہ وابستہ ہوتے ہیں وہ اس بارے میں ہر دھوکے ، ہر حدود شکنی ، ہر گمراہی اور ہر فساد کے مقابلے میں سینہ سپر ہوجاتا ہے ۔ اس لئے کہ وہ اپنے نفس اور اس کے ساتھ وابستہ حقوق اللہ کے بارے میں ذاتی طور پر خود جوابدہ ہے ۔ اور ہر نفس کے ساتھ اللہ کے جو حقوق وابستہ ہیں وہ صرف وہی ہیں جن کا اللہ نے حکم دیا ہے یا جن سے اس نے منع فرمایا ہے۔ یعنی ہر فرد اپنے طرز عمل اور اپنے شعور میں صرف اللہ وحدہ کی بندگی بجالائے ۔ اگر وہ ان حقوق میں کسی انسان کی وجہ سے کمی کرتا ہے ۔ مثلاً یوں کہ اسے کوئی گمراہ کردے ، اسے دھوکہ دیدے ، یا اسے مجبور کرے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قیامت کے دن یہ انسان اس مومن کی کوئی امداد نہ کرسکیں گے ۔ (ہاں اگر یہ نافرمانی وہ بحالت جبر کرتا ہے اور دل اس کا اسلامی فرائض حقوق پر مطمئن ہے ، تو پھر یہ معذور تصور ہوگا۔ ) غرض ایسے اشخاص قیامت کے دن نہ اس مومن کی مدافعت کرسکیں گے نہ سفارش کرسکیں گے ، نہ وہ اس پوزیشن میں ہوں گے کہ اس شخص کا بوجھ اتاردیں یا خود اٹھائیں۔ مسؤلیت کے اس ذاتی تصور کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر شخص بڑی جرأت کے ساتھ خود اپنی اور اس کے ساتھ وابستہ حقوق اللہ کی مدافعت کرتا ہے ۔ اسی لئے کہ اس کی سزاصرف اسے ہوگی ۔ اور وہ خود اپنے کئے کا ذمہ دار ہوگا ۔ یاد رہے کہ یہاں انفرادی مسؤلیت کے نظریہ سے مراد یہ خطرہ نہیں ہے کہ کوئی شخص معاشرہ کے اندر اپنی اجتماعی ذمہ داریاں پوری کرنے سے پہلوتہی کرے ۔ اس لئے کہ اجتماعی ذمہ داریاں بھی شریعت نے ایک فرد پر بحیثیت فرد ڈالی ہیں ۔ اگر معاشرہ میں اجتماعی ذمہ داریاں پوری نہ ہوں گی تو بھی فردذمہ دار ہوگا۔ کیونکہ یہ بھی اللہ کی جانب سے اس پر انفرادی طور پر ڈالی گئی ہیں ۔ مثلاً ہر فرد اللہ کی جانب سے مامور ہے کہ وہ اپنے مال اور اپنی دولت سے اجتماعی ذمہ داریہ ادا کرے ۔ نیز اسے یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ وہ دوسروں کو تواصی بالحق کرے ، معاشرہ میں عدل و انصاف قائم کرے ، اپنے معاشرے سے باطل کو مٹانے کی کوشش کرے ۔ معاشرے میں سچائی اور بھلائی کو مستحکم کرے اور شر اور منکر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے ۔ اس کے اعمال نامہ میں اجتماعی معاملات کے حوالے سے بھی اس کی تمام کارکردگیاں اور کو تاہیاں درج ہوں گی ۔ اور جزا وسزاکا وہ انفرادی طور پر ذمہ دار یا حقدار ہوگا۔ اہل ایمان نے جب انفرادی ذمہ داری کے حکم کو سن لیا اور سمجھ لیا ۔ تو اب ان کے دلوں سے یہ دعانکلی ، جو بڑی جامع اور پر از اخلاص ہے ۔ اس دعا کو قرآن کریم اپنے خاص انداز تصویر کشی میں بیان کرتا ہے ۔ یوں نظر آتا ہے کہ اہل ایمان ہاتھ اٹھائے ہمارے سامنے کھڑے ہیں ۔ صفیں باندھی ہوئی ہیں ۔ اور خشوع و خضوع کے ساتھ وہ یہ دعا پڑھ رہے ہیں ۔ (خصوصاً فرائض وذمہ داریوں کی حقیقت پاکر) یہ ایسی دعا ہے جو اہل ایمان اور ان کے رب کے ساتھ ان کے تعلق کی خوب تصویر کشی کرتی ہے ۔ وہ اپنے عجز اور ناتوانی کا گہرا دراک رکھتے ہیں ۔ وہ اپنے آپ کو اپنے رب کی رحمت اور درگزر کا محتاج پاتے ہیں ۔ وہ اس کی درگاہ میں پناہ کے خواستگار ہیں۔ وہ اپنے آپ کو صرف اللہ کے حوالے کرتے ہیں ۔ اسی سے تعلق جوڑ رہے ہیں اور ماسوا اللہ سے کٹ رہے ہیں ۔ وہ اس کی راہ میں جہاد کے لئے تیار ہیں ۔ اور اسی سے نصرت کے طلبگار ہیں ۔ اور ان کی یہ دعا ایک انتہائی دلدوز اور ملال انگیز نغمے کی صورت میں ہے ۔ جس کے صوتی زیروبم میں ان کے دل کی دھڑکن اور ان کے روح کی بےقراری صاف سنائی دیتی ہے اور صاف نظر آتی ہے۔ رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ” اے ہمارے رب ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہوجائیں ان پر گرفت نہ کر ۔ “ اگر انسان اس قدر کمزور ہوجائے اور اس سے ایسی بھول چوک ہوجائے جس میں اس کا کوئی دخل نہ ہو اور یہ بھول چوک کبھی کبھار ہو ہی جاتی ہے تو ایسی غلطیاں ، خطاء اور نسیان کے حکم میں ہون گی ۔ ان پر ایک مؤمن کے لئے صحیح طریقہ کار یہ ہے کہ وہ فوراً اللہ سے معفی مانگے ۔ اپنے رب کی طرف متوجہ ہو ۔ بھول چوک وہ ہوتی ہے کہ اس میں کوئی شخص غلطی پر مصر نہ ہو ۔ یا وہ قصداً حکم عدولی نہ کررہا ہو۔ یا وہ کبر وغرور کی وجہ سے نافرمانی نہ کررہا ہو یا بالارادہ ٹیڑھے راستے پر نہ چل رہا ہو ۔ ان حالات میں کوئی صورت حال بھی وہ نہیں ہے جو ایک مومن اپنے رب کی بارگاہ میں اختیار کرتا ہے ۔ نہ ایسے حالات میں وہ اللہ کی جانب سے عفو و درگزر کا مستحق ہوگا ۔ ہاں یہ دوسری بات ہے کہ وہ تائب ہوجائے اور ٹھیک طور پر اللہ کی طرف رجوع کرلے ۔ غرض مومنین نے بھول چوک کے بارے میں جو درخواست معافی گزاری ، اسے اللہ نے قبول فرمالیا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ” میری امت سے خطاء اور نسیان پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا جب تک انہوں نے ایسے افعال کو برا سمجھا۔ “ (طبرانی وغیرہ) رَبَّنَا وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا ” اے ہمارے رب ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تونے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے ۔ “ یہ دعا مرد مومن کی زبان پر اس احساس ذمہ داری کی وجہ سے آتی ہے جو امت مسلمہ پر تمام رسولوں کی رسالت کے سلسلے میں اٹھائی گئی ہے ، یہ امت تمام رسالتوں کے بار امانت کے نیچے آگئی ہے ۔ جیسا کہ ان کے رب نے اس قرآن کریم میں اس امت کو جابجا بتلایا کہ اس سے قبل جن امتوں کے پاس رسول بھیجے گئے انہوں نے اپنے رسولوں کے ساتھ کیا کیا سلوک کئے اور ان امتوں کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر کیا کیا بوجھ ڈالے گئے ۔ اور یہ بوجھ ان پر ان کے بعض جرائم کی وجہ سے ڈالے گئے ۔ مثلا ً بنی اسرائیل کی بعض بد اعمالیوں کی وجہ سے ان پر بعض پاکیزہ قسم کی غذائیں حرام کردی گئیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔” اور جن لوگوں نے یہودیت اختیار کی ان پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیئے تھے اور گائے اور چربی بھی بجز اس کے جو ان کی پیٹھ یا ان کی آنتوں سے لگی ہوئی ہو یا ہڈی سے لگی رہ جائے ۔ “ (١٤٦ : ٦) یا جس طرح سورة البقرہ میں ہے کہ انہوں نے بچھڑے کی عبادت شروع کردی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ ایک دوسرے کو قتل کریں ۔ اسی طرح ان کی اس بدعملی کا کفارہ ہوسکے ۔ ان پر سبت کے دن تجارت اور شکار کو حرام قرار دیا گیا ۔ اسی وجہ سے یہاں اہل ایمان کو دعا سکھائی گئی کہ وہ دست بدعا ہوں کہ ان پر اللہ تعالیٰ وہ بوجھ نہ ڈالے جو ان سے پہلے لوگوں پر ڈالے گئے ۔ اس لئے کہ نبی آخرالزماں کی بعثت کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ وہ ان کے ذریعہ اہل ایمان اور پوری انسانیت سے وہ بوجھ اتاردیں جو انسانیت پر ڈالے گئے تھے ۔ اور وہ بندھن توڑدیں جن میں بشریت خوامخواہ جکڑی ہوئی تھی اور جس کے نتیجے میں اسلامی نظریہ ٔ حیات سیدھا سادھا نظریہ بن کر آیا ، جو آسان بھی ہے اور نرم بھی ہے ۔ فطرت انسانی کے عین مطابق شاہری فطرت سے ہمقدم اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا ۔ وَنُیَسِّرُکَ لِلیُسرٰی ................” اور ہم تیری راہنمائی سہولت کے ساتھ ۔ سہل فرائض کی طرف کریں گے ۔ “ وہ عظیم بوجھ کیا ہے جو امم سابقہ کے کاندھوں پر ڈالا گیا تھا اور اس لئے ڈالا گیا تھا کہ انہوں نے خلیفۃ اللہ فی الارض ہونے کے ناطے اپنے عہد کی خلاف ورزی کی تھی اور عہد توڑ دیا تھا اور وہ عظیم بوجھ جو اب امت مسلمہ کے کاندھوں سے اتار دیا گیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ وہ کیا ہے اور اس کی ماہیت کیا ہے ؟ یہ عظیم بوجھ انسان کے انسان کی غلامی کا بوجھ ہے ۔ جس میں بندہ بندے کا غلام ہوتا ہے ، جس میں انسان کے لئے دوسرا انسان ضابطہ حیات ہوتا ہے ۔ اس طرح ایک نسل انسانی دوسرے انسان کی ذات کے تابع ہوتی ہے ، یا انسان ایک طبقے کے غلام ہوتے ہیں یا جس میں انسان ایک نسل کے غلام ہوتے ہیں ۔ یہ ہے وہ عظیم بوجھ جس سے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو رہائی دلائی ۔ اور ان تمام غلامیوں سے انہیں چھڑا کر صرف اپنی بند گی اور غلامی اور اپنی اطاعت میں داخل کردیا ۔ اس آزادی کے بعد اب اہل ایمان صرف اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے ضابطہ حیات اخذ کرنے لگے ۔ یوں انہیں ایک اللہ وحدہ کی غلامی میں داخل کرکے ، ان کی روح ، ان کی عقل اور ان کی پوری زندگی کو دوسرے انسانوں کی غلامی سے نکالا گیا ۔ اللہ جل شانہٗ کی بندگی اور غلامی بایں مفہوم کہ انسان اپنی اقدار حیات نیک وبد کا معیار اور اجتماعی زندگی کے قوانین صرف اللہ سے اخذ کرے گا ۔ پوری انسانیت کے لئے آزادی کا نقطہ آغاز ہے ۔ یوں ایک انسان دوسرے جبار وقہار انسانوں کی غلامی اور بندگی سے آزاد ہوجاتا ہے ۔ اسی طرح وہ مذہبی پروہتوں ، کاہنوں اور پیشواؤں کی غلامی سے بھی آزاد ہوجاتا ہے ۔ مزید یہ کہ ایک انسان اوہام و خرافات اور رسوم ورواجات کے بندھنوں سے آزاد ہوجاتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ ایک انسان ہوائے نفس اور جسمانی شہوات ومرغوبات کے بندھنوں سے بھی چھٹکارا پاتا ہے ۔ انسان ہر کھوئی ہوئی غلامی سے آزاد ہوجاتا ہے جو ناحق انسان کے کاندھوں پر سوار ہوتی ہے اور تاریخ شاہد ہے ایسی غلامیوں نے انسانوں کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی ۔ اور جس کی وجہ سے لوگوں کے سر اللہ واحد القہار کے مقابلے میں دوسرے جباروں کے سامنے جھکتے تھے ۔ رَبَّنَا وَلا تُحَمِّلْنَا مَا لا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ” پروردگار ، جس بوجھ کو ہم اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے وہ ہم سے نہ اٹھوا۔ “ اس دعا سے اہل ایمان کے اس شعور کا اظہار ہوتا ہے کہ اب وہ انسان کی غلامی سے آزاد ہوگئے ہیں ۔ نیز اب وہ خائف ہیں کہ کہیں وہ اپنی کوتاہیوں کے سبب دوبارہ غلامی میں واپس نہ چلے جائیں جو نہایت ہی برا دور تھا۔ ” اے ہمارے رب ، ہم سے وہ بوجھ نہ اٹھوا جس کے اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے۔ “ ایک ایسی دعا ہے جس سے مکمل طور پر سر تسلیم خم کردینے کی حقیقت کا اظہار ہوتا ہے ۔ اہل ایمان کے دل سے اب یہ ارادہ اور نیت ہی نکل گئی ہے کہ وہ احکام خداوندی کی خلاف ورزی کریں گے ۔ چاہے جو احکام بھی ہوں ، وہ صرف یہ درخواست پیش کرتے ہیں کہ وہ ضعیف ہیں ۔ یہ توقع رکھتے ہیں ۔ اجرائے احکام میں ان کی صفت کو مدنظر رکھاجائے گا۔ پروردگار ، ہم پر رحم کر اور تکلیف مالایطاق سے ہمیں بچا تاکہ ان سے تعمیل احکام میں عجز و قصور کا ارتکاب نہ ہو ، ورنہ وہ تو پختہ ارادہ کئے ہیں کہ مکمل تسلیم وانقیاد کا مظاہرہ کریں گے ۔ صرف بندہ ناتواں کی امید یہ ہے کہ مالک الملک ان کے ساتھ مہربانی کرے۔ اور جس طرح وہ اپنے بندوں کے ساتھ جودوکرم ، نرمی اور محبت کا رویہ رکھنے کے عادی ہیں وہی سلوک ہم سے جاری رکھاجائے ۔ ہم اپنی تقصیرات کا اعتراف کرتے ہیں اور وہ تقصیریں صرف اسی صورت میں معاف اور بےاثر ہوسکتی ہیں جب اللہ کا فضل شامل حال ہو۔ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ” ہمارے ساتھ نرمی کر ، ہم سے درگزر فرما ، ہم پر رحم فرما۔ “ اس لئے کہ اس امتحان میں کامیاب ہونے کی یہ واحد گارنٹی صرف اسی صورت میں اللہ کی رضامندی حاصل ہوسکتی ہے ۔ انسان جس قدر محنت سے بھی وفاداری کرے ، اس کے کام میں کوئی نہ کوئی کمی رہ جاتی ہے اور اگر اللہ کا فضل شامل حال نہ ہو وہ عفو و درگزر اور رحمت نرمی سے کام لے گا ۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے ، فرماتی ہیں ۔ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص بھی صرف اپنے عمل کے بل بوتے پر جنت میں داخل نہ ہوگا ۔ صحابہ کرام (رض) نے پوچھا ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ بھی ؟ تو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ۔” اور میں بھی ، الا یہ کہ اللہ نے مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لیا ہے۔ “ ایک صحیح مومن کے احساس میں یہی اصل بات ہے ۔ وہ حتی المقدور عمل کرتا ہے لیکن اپنی تقصیرات کا اسے پوری طرح احساس ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد اسے پوری امید ہوتی ہے کہ اللہ اس کی تقصیرات سے عفو و درگزر فرمائے گا ۔ اور اس کے ساتھ نرمی برتی جائے گی ۔ سب سے آخر میں اہل ایمان اللہ کے مضبوط سہارے کو پکڑتے ہیں ، وہ جہاد فی سبیل اللہ کے لئے تیار ہوجاتے ہیں ۔ اس لئے کہ اللہ کا ارادہ ہے کہ حق کا بول بالا ہو ، دین اسلام اور اسلامی نظام زندگی اس کرہ ارض پر غالب ہو ، اور صورت حال یہ ہو کہ ” کوئی فتنہ نہ رہے اور دین صرف اللہ کا چلے ۔ “ اب اہل ایمان اللہ کا مضبوط سہارا لیتے ہیں ۔ وہ اپنے سروں پر اسلام کے جھنڈے بلند کرتے ہیں ۔ وہ صرف انہی جھنڈوں سے اپنی پہچان کراتے ہیں ۔ جبکہ جاہلیت کی علامات اور جھنڈے بہت ہی مختلف ہیں ، اب وہ اللہ تعالیٰ کی نصرت کے طلبگار ہوتے ہیں ۔ اس لئے کہ ان کا وہی والی اور وارث ہے ۔ وہ اہل کفر کے ساتھ صرف اللہ کے لئے لڑتے ہیں ۔ جو دین اسلام سے خارج ہیں۔ أَنْتَ مَوْلانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ (٢٨٦) ” تو ہمارا مولیٰ ہے کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔ “ یہ ہے اس عظیم سورت کا خاتمہ جس میں اس پوری سورت کے مضامین کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے ۔ اس خلاصے میں اسلامی تصور حیات کا خلاصہ بیان ہوا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ایک سچے مومن کا اپنے رب کے ساتھ ہر حال میں کیا تعلق ہوتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

خطا اور نسیان کی معافی اور چند دعاؤں کی تلقین اعضاء وجوارح کے افعال دو (٢) قسم کے ہیں ایک اختیاری دوسرے وہ جو بلا اختیار صادر ہوں بلا اختیار کی صورت ایسی ہی ہے جیسے رعشہ کی وجہ سے ہاتھ ہر وقت حرکت کرتا ہو، جس کو یہ مرض ہو وہ ہاتھ کی حرکت کو روکنے پر قادر نہیں ہوتا۔ یا جیسے سوتے میں زبان سے کچھ الٹی سیدھی بات نکل جائے۔ یہ بھی اختیاری نہیں ہے۔ امور غیر اختیاری پر گرفت نہیں ہے۔ جزاسزا امور اختیاریہ سے متعلق ہیں۔ کسی کا بچہ فوت ہوگیا اس کو بےاختیار رونا آگیا تو اس پر کوئی گرفت نہیں لیکن اگر زبان سے ایسے کلمات نکال دیے جن سے اللہ تعالیٰ پر اعتراض ہوتا ہو تو ایسے کلمات کفریہ کلمات کے دائرہ میں آجاتے ہیں اور ان پر عذاب اور عتاب ہے۔ اسی طرح قلب کے اعمال بھی دو طرح کے ہوتے ہیں جو خیالات اور وسوسے غیر اختیاری طور پر آجائیں ان پر گرفت نہیں اور اپنے اختیار سے جو بات دل میں جما لے کفر کی بات ہو یا فسق کی تو اس پر گرفت ہے۔ کینہ، حسد، کسی گناہ کے کرنے کا پختہ عزم، کسی کو نقصان پہنچانے کا مضبوط ارادہ، یہ سب گرفت کی چیزیں ہیں اور محض وسوسہ اور خیال پر کوئی مواخذہ نہیں، آیت بالا میں اول تو یہ فرمایا کہ آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کی ملکیت ہے سب کچھ اس کی مخلوق بھی ہے اور مملوک بھی ہے، اسے اپنی مخلوق کے بارے میں پورا پورا اختیار ہے، ان کے اعمال و افعال کے بارے میں تکوینی یا تشریعی طور پر جو بھی حکم فرما دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اس کے بعد افعال قلبیہ کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ جو کچھ تمہارے نفسوں میں ہے اسے ظاہر کرو یا پوشیدہ رکھو اللہ تعالیٰ اس کا محاسبہ فرمائے گا۔ ان افعال قلبیہ میں جو لائق مواخذہ ہوں گے۔ جس کے لیے چاہے معاف فرما دے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا البتہ کفر و شرک کی کبھی بخشش نہ ہوگی جیسا کہ دوسری آیت میں اس کی تصریح ہے۔ آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ سب کا حساب لے سکتا ہے۔ بخش بھی سکتا ہے، اور عذاب بھی دے سکتا ہے۔ آیت میں بظاہر اختیاری اور غیر اختیاری کی تفصیل نہیں ہے۔ اس لیے مضمون آیت پر مطلع ہو کر حضرات صحابہ کرام (رض) بہت پریشان ہوئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ اب تک تو ہمیں ان اعمال کا حکم تھا جنہیں ہم کرسکتے ہیں یعنی نماز اور روزہ جہاد اور صدقہ اور اب یہ آیت نازل ہوئی ہے اس پر عمل کرنے کی تو ہمیں طاقت نہیں (کیونکہ بلا اختیار وسوسے آجاتے ہیں اگر ان پر بھی پکڑ ہوئی تو ہمارا کیا بنے گا) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم بھی وہ ہی کہنا چاہتے ہو جو اہل کتاب یعنی توریت و انجیل والوں نے کہا ان کے پاس احکام آئے تو کہنے لگے، (سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا) (کہ ہم نے سن لیا اور مانیں گے نہیں) تم یوں کہو : (سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیْکَ الْمَصِیْرُ ) (ہم نے سنا اور مان لیا، اے ہمارے رب ہم تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف جانا ہے) حضرات صحابہ دل اور زبان سے مان گئے اور بار بار ان کلمات کو دہرایا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد والی آیتیں (اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ ) آخر سورت تک نازل فرمائیں۔ جن میں اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اور مومن بندوں کی تعریف فرمائی اور انہوں نے بخوشی جو (سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیْکَ الْمَصِیْرُ ) کہا تھا قبولیت کے انداز میں نقل فرمایا اور حکم سابق کو جس میں بظاہر عموم تھا منسوخ فرما دیا اور بالتصریح فرمایا دیا کہ (لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا) (کہ اللہ تعالیٰ کسی جان کو ایسے کام کا مکلف نہیں بناتا جو اس کے بس میں نہ ہو) ۔ (صحیح مسلم ص ٧٧ ج ١) بعض حضرات نے اس پر اشکال کیا ہے کہ اخبار میں نسخ نہیں ہوتا اس کو نسخ سے کیوں تعبیر کیا گیا ہے ؟ درحقیقت یہ نسخ بالمعنی الحقیقی نہیں ہے۔ بلکہ ایضاح مجمل کو نسخ سے تعبیر فرما دیا ہے، نسخ کے قول سے احتراز کرنے کے لیے بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس کا تعلق سابق آیت سے ہے جس میں کتمان شہادت کا ذکر ہے، مطلب یہ ہے کہ عمل ظاہری طور پر کرو گے یا پوشیدہ طور پر اللہ تعالیٰ اس کا حساب فرما لے گا۔ یعنی مؤاخذہ فرمائے گا۔ صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ حضرت شعبی اور حضرت عکرمہ نے اس کو اختیار کیا ہے۔ اس قول کو لیا جائے تو نسخ لازم نہیں آتا۔ اللہ تعالیٰ نے (لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا) کے ساتھ ہی (لَھَا مَا کَسَبَتْ وَ عَلَیْھَا مَا اکْتَسَبَتْ ) بھی فرمایا ہے پہلے جملہ میں یہ بتایا ہے کہ افعال غیر اختیار یہ پر مؤاخذہ نہیں ہے اور دوسرے دونوں جملوں میں یہ بتایا کہ جو اچھا عمل اپنے اختیار سے کرو گے اس پر اجر ملے گا اور جو کوئی کام ایسا کرو گے جس کی ممانعت ہے تو وہ و بال جان ہوگا اور اس پر مؤاخذہ اور محاسبہ کا قانون جاری ہوگا۔ یہ عموم افعال قلبیہ کو بھی شامل ہوگیا جیسا کہ سورة بقرہ میں فرمایا کہ (وَ لٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوْبُکُمْ ) (لیکن اللہ تمہارا مؤاخذہ فرمائے گا ان چیزوں پر جنہیں تمہارے قلب نے کسب کیا) اور سورة بنی اسرائیل میں فرمایا (اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓءِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْءُوْلًا) (بےشک کان، آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا) ۔ آیت کی تفسیر میں جو اعمال اختیار یہ اور غیر اختیاری کی تفصیل لکھی ہے اور جو صحابہ (رض) کے فکر مند ہونے پر (لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا) کے ذریعہ عموم الفاظ سے مفہوم ہونے والے مضمون کا منسوخ ہونا مذکور ہوا اس سے واضح طور پر معلوم ہوگیا کہ بلا اختیار جو وسوسے آجاتے ہیں ان پر مؤاخذہ نہیں ہے، حضرت ابو ہریرۃ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری امت سے ان چیزوں کے بارے میں درگزر فرما دیا ہے جو ان کے نفسوں میں آجائیں جب تک کہ ان پر عمل نہ کریں یا زبان سے نہ کہیں۔ (صحیح مسلم ص ٧٥ ج ١) انسان کے دل میں بہت سے خطرات گزرتے ہیں اور وسوسے آتے ہیں۔ برے برے خیالات کا ہجوم ہوتا ہے شیطان وسوسے ڈالتا ہے چونکہ یہ چیزیں اختیاری نہیں ہیں اس لیے ان پر گرفت نہیں ہے۔ لہٰذا ان سے پریشان بھی نہ ہوں اور فکر میں بھی نہ پڑیں۔ ہاں اگر برائی کا کوئی وسوسہ آیا پھر اس پر عمل کرلیا یا اپنے اختیار سے زبان سے کوئی برا کلمہ نکال دیا تو اس پر مؤاخذہ ہوگا کیونکہ یہ چیزیں دائرہ اختیار میں آگئیں۔ جو لوگ پکے مومن ہوتے ہیں ان کے دل میں ایسے وسوسوں کا آنا ہی خالص مومن ہونے کی دلیل ہے۔ صحیح مسلم ص ٩ ٧ ج ١ میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صحابہ (رض) نے عرض کیا کہ ہم اپنے نفسوں میں ایسی بات محسوس کرتے ہیں کہ جس کو زبان پر لانا بھاری معلوم ہوتا ہے آپ نے یہ سن کر سوال فرمایا کیا واقعی تم نے ایسا محسوس کیا ہے ؟ عرض کیا ہاں محسوس کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ خالص ایمان ہے۔ سنن ابو داؤد ص ٣٤١ ج ٢ میں ہے کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کیا میں اپنے نفس میں ایسی چیز محسوس کرتا ہوں کہ مجھے اسے زبان سے نکالنے کی بہ نسبت کوئلہ ہوجانا زیادہ محبوب ہے یہ سن کر آپ نے فرمایا اللہ اکبر، اللہ اکبر، پھر فرمایا کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے شیطان کی شرارت کو وسوسہ تک ہی رہنے دیا (اگر دل سے مومن نہ ہوتے تو اس بات کو برا کیوں جانتے اور زبان پر لانے کو کیوں بھاری چیز سمجھتے، یہ بھاری سمجھنا اور کوئلہ ہوجانے کو محبوب جاننا سرا سر ایمان ہے) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ شیطان تمہارے پاس آئے گا پھر کہے گا کہ فلاں چیز کس نے پیدا کی، فلاں چیز کس نے پیدا کی، اس طرح کے کئی سوال کرتے ہوئے یوں کہے گا کہ تیرے رب کو کس نے پیدا کیا سو جب تم میں سے کسی شخص کے ساتھ اس طرح کی صورت حال پیش آجائے تو اللہ کی پناہ مانگے اور وہیں رک جائے (وسوسہ کو اور سوال و جواب کو آگے نہ بڑھائے) ۔ دوسری روایت میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ لوگ برابر آپس میں طرح طرح کے سوال کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ بھی سوال کریں گے یہ (جو کچھ موجود ہے) اللہ کی مخلوق ہے اسے اللہ نے پیدا کیا ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ جو کوئی شخص ایسے سوالات میں سے کوئی چیز ( اپنے اندر) محسوس کرے تو (اٰمَنْتُ باللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ ) (میں اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا) کہہ دے (ایضاً ) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح کے وسوسے آنے پر پڑھنے کے لیے یہ بتایا (اَللّٰہُ اَحَدٌ اَللّٰہُ الصَّمَدُ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ) اور فرمایا اس کے بعد بائیں طرف کو تین بار تھوک دے اور اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیْمِ پڑھ لے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ١٩) پھر اللہ تعالیٰ جل شانہٗ نے اپنے بندوں کو دعاء تلقین فرمائی کہ اس طرح دعا مانگا کریں، جو متعدد جملوں پر مشتمل ہے اور ان میں متعدد دعائیں ہیں پہلے یہ دعا بتائی : (رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا) (اے ہمارے رب ہماری گرفت نہ فرما۔ اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے چوک ہوجائے) صاحب جلالین فرماتے ہیں کہ حدیث شریف سے ثابت ہے کہ خطا اور نسیان پر مؤاخذہ نہیں ہے۔ لہٰذا یہ سوال کرنا اللہ تعالیٰ شانہ کی اس نعمت کا اقرار کرنا ہے کہ اس نے بھول اور خطاء پر مواخذہ نہیں رکھا، خطا اردو کے محاورہ میں گناہ کے لیے استعمال ہوتا ہے یہاں وہ معنی مراد نہیں ہیں بلکہ خطا سے وہ عمل مراد ہے جو بلا ارادہ صادر ہوجائے۔ یاد رہے کہ مؤاخذہ ہونا نہ ہونا اور بات ہے اور خطا و نسیان سے بعض احکام کا متعلق ہونا دوسری بات ہے۔ خطا اور نسیان کے بارے میں جو بعض احکام ہیں عدم مواخذہ فی الآخرۃ سے ان احکام کی نفی نہیں ہوتی مثلاً نماز میں بھول کر کوئی شخص بول پڑا تو اس سے نماز فاسد ہوجائے گی اور اگر خطاءً کسی مؤمن کو قتل کر دے گا تو دیت اور کفارہ واجب ہوگا۔ پھر ایک اور دعا تلقین فرمائی اور وہ یہ ہے (رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہٗ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا) اس میں ارشاد فرمایا ہے کہ بار گاہ خداوندی میں یوں عرض کرو کہ اے ہمارے رب ہم پر بھاری احکام کا بوجھ نہ رکھ جیسا کہ ہم سے پہلے لوگوں یعنی بنی اسرائیل پر رکھا تھا مثلاً توبہ قبول ہونے کے لیے اپنی جان کو قتل کرنا مشروط تھا اور زکوٰۃ میں چوتھائی مال نکالنا فرض تھا اور کپڑا دھو کر پاک نہیں ہوسکتا تھا اس کے لیے نجاست کی جگہ کو کاٹ دینا پڑتا تھا اور جب کوئی شخص چھپ کر رات کو گناہ کرتا تھا تو صبح کو اس کے دروازے پر لکھا ہوا ہوتا تھا کہ اس نے فلاں گناہ کیا ہے، اور بعض طیبات ان پر حرام کردی گئی تھیں۔ کما قال تَعَا لیٰ (حَرَّمْنَا عَلَیْھِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلُّتْ لَھُمْ وَ قَالَ تَعَالیٰ وَ عَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ ) (الآیۃ) اور نماز پڑھنے کے لیے یہ بھی ضروری تھا کہ مسجد ہی میں نماز پڑھیں اور مال غنیمت ان لوگوں کے لیے حلال نہیں تھا اللہ تعالیٰ شانہ نے امت محمدیہ کے لیے آسانی فرمائی اور مشکل احکام مشروع نہیں فرمائے جو بنی اسرائیل پر فرض تھے۔ سورة اعراف میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : (یُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبآءِثَ وَ یَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْ ) (وہ پاکیزہ چیزوں کو ان کے لیے حلال فرماتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں اور ان پر جو بوجھ اور طوق تھے ان کو دور کرتے ہیں۔ ) مزید دعا تلقین فرماتے ہوئے ارشاد ہے (رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ ) ۔ (اے ہمارے رب اور ہم پر کوئی ایسا بار نہ ڈالیے جس کی ہم کو طاقت نہ ہو) اس سے تکالیف شرعیہ بھی مراد ہوسکتی ہیں اور مصائب تکوینیہ بھی اور دونوں بھی مراد لے سکتے ہیں۔ صاحب جلا لین لکھتے ہیں۔ : من التکالیف و البلایا اس سے دونوں کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ آخر میں مختصر الفاظ میں چار دعائیں اکٹھی تلقین فرمائیں۔ (وَاعْفُ عَنَّا) (اور ہمیں معاف فرما) وَ اغْفِرْلَنَا (اور ہماری مغفرت فرما) وَ ارْحَمْنَا (اور ہم پر رحم فرما) (اَنْتَ مَوْلٰنَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ ) (تو ہمارا مولیٰ یعنی ولی اور مددگار ہے۔ سو ہماری مدد فرما، کافر قوم کے مقابلہ میں) صحیح مسلم ص ٧٨ ج ١ میں ہے کہ ہر دعا پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب میں نَعَمْ کا جواب ملا، دوسری روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر دعا کے جواب میں (قَدْفَعَلْتُ ) فرمایا یعنی میں نے تمہارے سوال کے مطابق کردیا، یعنی تمہاری دعائیں قبول ہوگئیں۔ صحیح مسلم ص ٩٧ ج ١ میں یہ بھی ہے کہ شب معراج میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تین چیزیں عطا کی گئیں۔ (١) پانچ نمازیں (٢) سورة البقرہ کا آخری حصہ ( آمن الرسول سے سورت کے ختم تک) (٣) آپ کی امت میں جو لوگ مشرک نہ ہوں ان کے بڑے بڑے گناہوں کی بخشش کردی گئی۔ (گناہ کبیرہ محض اللہ کی رحمت سے یا تو بہ سے یا بطور تطہیر و تمحیص عذاب بھگت کر معاف ہوجائیں گے اور اہل ایمان، ایمان کی وجہ سے جنت میں چلے جائیں گے۔ فاسق کو دائمی عذاب نہیں ہے۔ کافر و مشرک کو دائمی عذاب ہوگا) ۔ قال النووی فی شرح صحیح مسلم والمراد واللّٰہ اعلم یغفرانھا انہ لا یخلد فی النار بخلاف المشرکین ولیس المراد انہ لا یعذب اصلا الخ۔ حضرت ابن عباس (رض) نے بیان فرمایا کہ ایک مرتبہ جبریل (علیہ السلام) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں تشریف رکھتے تھے اسی اثناء میں اوپر سے ایک آواز سنی، انہوں نے اوپر کو سر اٹھایا اور بتایا کہ یہ آسمان کا ایک دروازہ آج کھولا گیا ہے۔ جو آج سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا۔ اس دروازے سے ایک فرشتہ نازل ہوا جبریل (علیہ السلام) نے بتایا کہ یہ فرشتہ زمین پر نازل ہوا ہے آج سے پہلے کبھی نازل نہیں ہوا تھا۔ اس فرشتے نے آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا اور عرض کیا کہ آپ دونوں روں کی خوشخبری سن لیں جو آپ کو عطا کئے گئے ہیں آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیئے گئے۔ اول فاتحۃ الکتاب یعنی سورة فاتحہ، دوم سورة البقرۃ کی آخری آیتیں (سورۂ فاتحہ اور یہ آیات دعاؤں پر مشتمل ہیں) ان میں سے جو بھی کوئی حصہ آپ تلاوت کریں گے ( جو سوال پر مشتمل ہوگا) تو اللہ تعالیٰ ضرور آپ کو سوال کے مطابق عطا فرمائیں گے۔ (صحیح مسلم ص ٢٧١ ج ١) مذکورہ بالا روایات سے سورة البقرہ کی آخری دونوں آیات کی اہمیت اور فضیلت معلوم ہوئی کہ یہ آیات شب معراج میں عطا ہوئیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان دعاؤں کو قبول فرما لیا۔ صحیح بخاری ص ٧٥٥ جلد ٢ اور صحیح مسلم ص ٢٧١ ج ١ میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ الاٰیتان فی اٰخر سورة البقرۃ من قرء بھما فی لیلۃ کفتاہ (یعنی جس نے کسی رات میں سورة بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لیں تو اس کے لیے کافی ہوں گی) حضرات شراح حدیث نے کافی ہونے کے کئی مطلب لکھے ہیں اول یہ کہ پڑھنے والے کو تمام انسان اور جنات کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے کافی ہوں گی، دوسرے یہ کہ ہر قسم کی آفات و مکروہات سے حفاظت رہے گی، تیسرے یہ کہ رات کو جو پڑھنے کی چیزیں ہیں وہ رہ گئیں تو ان کی جگہ کفایت کریں گی، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ قیام اللیل یعنی رات کو نفل نمازوں کے قیام کے قائم مقام ہوجائیں گی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب۔ و لقد من اللّٰہ تعالیٰ باکمال تفسیر سورة البقرۃ علی ید ھذا العبد الضعیف بالمدینۃ المنورۃ فی اواخر شعبان المعظم ١٤٠٩ ھ بحسن توفیقہ و تیسیرہ و أرجو أن یوفقنی اللّٰہ تعالیٰ لاتمام تفسیر کتابہ کلہ والحمد للّٰہ اولا و آخرا، والصلوٰۃ والسلام علی من جاء نا بکتاب اللّٰہ تعالیٰ و أرسل طیبا و طاھرا، وکانت مدۃ تالیفہ من بدء سورة الفاتحۃ اِلٰی آخر سورة البقرۃ سنۃ فصاعدا واللّٰہ ولی التوفیق وبیدہ اذمۃ التحقیق۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

564 اللہ تعالیٰ کا یہ ایک عام قانون ہے کہ وہ کسی انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا اور اس سے ایسے احکام کی تعمیل کا مطالبہ نہیں کرتا جو اس کی طاقت سے باہر ہوں۔ اس سورت کے تمام احکام انسان کے دائرہ قدرت میں داخل ہیں اور اس میں کوئی ایسا حکم نہیں جس کی تعمیل انسان کیلئے ناممکن ہو کیونکہ تمام مومنین ان احکا کو دل وجان سے قبول کر کے انہیں عملی زندگی میں اپنا معمول بنا چکے ہیں۔ لَھَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْھَا مَااکْتَسَبَتْ ۔ یہ ایک دوسرا قانون ہے کہ ہر آدمی کو اس کے اپنے ہی نیک اعمال کا نفع پہنچے گا اور ہر شخص اپنے ہی بد اعمال کی سزا پائے گا۔ ٖ 565 بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ بھی قَالُوْا کے تحت داخل ہے اور مومنین کی بقیہ دعاؤں کی حکایت ہے اور بعض کا خیال ہے کہ دعا کی تعلیم ہے اور اس سے پہلے قُوْلُوْا محذوف ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو تعلیم دے رہا ہے کہ اس طرح دعا مانگا کرو۔ اور نسیان سے یہاں ترک اور خطا سے عصیان مراد ہے۔ والمراد من الاول الترک والمراد من الثانی العصیان (روح ص 70 ج 3) والقول ؟ فی تفسیر النسیان ان یحمل علی الترک (کبیر ص 578 ج 2) کذا فی مشکل الاثار۔ یعنی اے اللہ اگر ہم سے عمداً یا خطاً تیری نافرمانی ہوجائے تو اس پر مؤاخذہ نہ فرمانا مومنین کی پہلی دعا ہے جس میں گناہوں کی مغفرت کی درخواست ہے۔ 566 اِصْراً سے مراد وہ احکام ہیں جو مشکل ہوں اور جنہیں انسان مشقت سے برداشت کرسکے والمراد بہ التکالیف الشاقۃ (روح ص 70 ج 3، ابو السعود ص 578 ج 2) جس طرح یہودیوں پر تھے مثلاً مال سے چوتھا حصہ زکوۃ دینا اور ناپاک کپڑے کا پانی سے پاک نہ ہونا وغیرہ۔ قال المفسرون ان اللہ تعالیٰ امرھم باداء ربع اموالھم فی الزکوۃ ومن اصاب ثوبہ نجاسۃ امر بقطعھا الک (کبیر ص 578 ج 2)567 یہ مومنوں کی تیسری دعا ہے اور اس میں درخواست کی گئی ہے کہ انہیں ایسی مصائب اور آزمائشوں میں نہ ڈالا جائے جو ان کی طاقت اور بساط سے بڑھ کر ہوں۔ واعف عنا واغفر لنا وارحمنا الخ۔ یہ آخری دعا ہے مومنین ایک طرف اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کا عتراف کر کے اللہ سے عفو و درگذر کی التجا کرتے ہیں اور دوسری طرف اللہ سے اس کی رحمت مانگتے ہیں مشرکوں اور کافروں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اسباب مہیا کرنے کے بعد محض اللہ کی رحمت اور اس کی مدد پر اعتماد کرتے ہیں۔ سورة بقرہ کی تفسیر ختم ہوئی والحمد للہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات والصلوۃ والسلام علی رسول الکریم وعلی جمیع عبادہ الصالحین۔ سورة بقرہ میں آیات توحید 1 ۔ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ 21۝ۙالَّذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَاۗءَ بِنَاۗءً ۠ وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 2 ۔ كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 28؀ ھُوَ الَّذِىْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۤ ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ فَسَوّٰىھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ ۭ وَھُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمٌ 3 ۔ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 106؁ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْر 4 ۔ وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ بَلْ لَّهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭكُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ 116؁ بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭوَاِذَا قَضٰٓى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ 5 ۔ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاۗءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِيْ ۭ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَاِلٰهَ اٰبَاۗىِٕكَ اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ اِلٰــهًا وَّاحِدًا ښ وَّنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ 6 ۔ صِبْغَةَ اللّٰهِ ۚ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً ۡ وَّنَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ 138؁ قُلْ اَتُحَاۗجُّوْنَـــنَا فِي اللّٰهِ وَھُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ ۚ وَلَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۚ وَنَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَ 7 ۔ وَاِلٰـهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ 163؀ۧاِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِىْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَاۗءِ مِنْ مَّاۗءٍ فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيْهَا مِنْ كُلِّ دَاۗبَّةٍ ۠ وَّتَـصْرِيْفِ الرِّيٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ 8 ۔ اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ ڬ لَا تَاْخُذُهٗ سِـنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ ۭ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۭ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ وَلَا يَـــــُٔـــوْدُهٗ حِفْظُهُمَا ۚ وَھُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ 255؁ لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ ڐ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى ۤ لَا انْفِصَامَ لَهَا ۭ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ 9 ۔ۧلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ ۭ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْر۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1۔ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتا اور کسی کو مکلف نہیں بناتا مگر اس کی بساط اس کی دعت اور اس کی طاقت و اختیار کے موافق یعنی جنتی گنجائش ہوتی ہے اتنا ہی ہر شخص کو مکلف بنایا جاتا ہے ہر شخص کو نفع اور ثواب بھی اس کا ملتا ہے جو اس نے کمایا اور ہر شخص پر وبال اور عذاب بھی اسی کا ہوتا ہے جو اس نے کوشش کر کے کمایا۔ جن مسلمانوں کا اوپر ذکر ہوا ہے وہ یوں دعا کرتے ہیں اے ہمارے پروردگار ! اگر ہم بھول جائیں یاچوک جائیں تو بھول اور چوک پر ہماری گرفت نہ کیجئے اور ہم سے مواخذہ نہ کریئے۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم پر کسی ایسے شاق اور سخت حکم کا بار نہ ڈالئے جیسا آپ نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا یعنی جس طرح ہم سے پہلوں پر ان کی نا فرمانیوں کے باعث سخت احکام بھیجے گئے ہم کو ان احکام شاقہ سے محفوظ رکھئے۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم سے ویسا بارگراں نہ اٹھوایئے اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈالئے جس کی برداشت ہم سے نہ ہو سکے اور جس کے اٹھانے کی ہم کو طاقت نہ ہو یعنی دنیا اور آخرت میں ایسے مصائب اور ایسی بلائوں سے ہم کو محفوظ رکھیئے جن کو سہار ہم سے نہ ہو سکے ہم سے در گزر کیجئے اور ہم کو بخش دیجئے یعنی ہماری پردہ پوشی کیجئے اور ہم کو رسوا نہ کیجئے اور ہم پر رحم فرمایئے آپ ہمارے آقا اور مولیٰ اور کار ساز ہیں اور جب ہم آپ کے غلام ہیں اور آپ ہمارے مولا ہیں تو کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد فرمایئے اور ہمارے دشمنوں پر ہم کو غلبہ عنایت کیجئے اور کافر لوگوں پر ہم کو غالب فرمایئے۔ ( تیسیر) لا یکلف اللہ نفسا کا مطلب یہ ہے کہ امور شرعیہ میں کس شخص کو ایسا حکم نہیں دیا جاتا جو ناقابل برداشت اور انسان کی قدرت سے باہر ہو ۔ قدرت سے مراد یہاں وہ قدرت ہے جس پر احکام شرعیہ کی بنا رکھی گئی ہے۔ جیسا ہم نے ختم اللہ علی قلوبھم اور ان الذین کفروا سواء کی آیت میں اشارہ کیا تھا اور یہی وہ قدرت ہے جو فعل سے قبل ہر شخص میں موجود ہوتی ہے اور یہی وہ قدرت ہے جس کی بناء پر ہر کافر کو ایمان کی دعوت دی جاتی ہے خواہ وہ فرعون ہو یا ابو جہل اور یا وہ ان کافروں میں سے ہو جن کے متعلق حضرت حق نے لا یومنون فرمایا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قدرت اور طاقت سے کم تکلیف دی جاتی ہے مثلاً ظہر اور عصر میں چھ رکعتیں پڑھنے کی بھی طاقت تھی مگر چار مقرر فرمائیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ احکام شرعیہ ہر انسان کی وسعت کے موافق ہوتے ہیں یا وسعت و طاقت کی حد سے بھی کم ہوتے ہیں تا کہ ان کا پورا کرنا اور بجا لانا آسان ہو اور شرعیہ کی تصریح فقیر نے اس لئے کی کہ یہاں ان کی ہی بحث ہے اور انہی سے متعلق یہ بتانا ہے کہ اگر امور شرعی طاقت سے باہر ہوتے تو انسان ان کے بجا لانے سے قاصر رہتا اور اس کو آخرت میں نقصان ہوتا اور محض ضرر و نقصان حضرت حق کے فضل و کرم کے منافی ہے ، باقی اور شرعیہ کے علاوہ دوسرے آلام و مصائب اور دکھ درد وغیرہ جو کفارہ سیات یا رفع درجات کا سبب ہوتے ہیں وہ نہ یہاں زیر بحث ہیں اور نہ وہ حضرت حق کے فضل و کرم کے منافی ہیں۔ لھا ما کسبت و علیھا ما اکتسبت کا مطلب یہ ہے کہ نفع و نقصان اور ثواب و عذاب کا تعلق ان ہی امور کے ساتھ ہے جو انسان اپنے قصد اور ارادے سے کرے اعمال خواہ اچھے ہوں یا برے قلب کے ہوں یا اعضا کے وہی اعمال لائق ثواب اور قابل عذاب ہوں گے جو اختیاری ہوں گے اور انسان نے اپنے قصد اور ارادے سے جان بوجھ کر کئے ہوں گے۔ کسب اور اکتساب میں تھوڑا سا فر ق ہے اکتساب میں ذرا مشقت اور جدوجہد زیادہ ہے چونکہ انسان برائی کو شوق سے کرتا ہے اور خواہشات نفسانی کو پورا کرنے کی غرض سے ہر قسم کی تکلیف کو برداشت کرلیتا ہے اس لئے اکتساب کے ساتھ وبال اور عذاب کو بیان کیا اور کسب کے ساتھ نفع کا ذکر فرمایا ۔ جیسا کہ لھا ما کسبت اور علیھا ما اکتسبت سے ظاہر ہے اگرچہ قرآن میں خیر کے لئے اکتساب اور شر کے لئے کسب کا بھی استعمال ہوا ہے مگر یہاں کسب سے مراد امور خیر اور اکتساب سے مراد امور شر میں جو بات ما فی انفسکم سے پیش آئی تھی اور جو شبہ افعال اختیاری اور غیر اختیاری پر دار و گیر اور محاسبہ کا پیش آتا تھا وہ قرآن کے ان دونوں جملوں سے دور ہوگیا بلکہ اس کے ساتھ بطور قاعدہ کلیہ خطا اور نسیان کا بھی استثنیٰ ہوگیا ، کیونکہ ایک شخص باوجود کوشش کے کسی چیز کو بھول گیا اور قوت حافظہ نے اس چیز کو فراموش کردیا تو یہ بھی انسانی اختیار سے باہر ہے اور اسی طرح کرنا کچھ چاہتا تھا اور بلا قصد ہوگیا کچھ مثلاً نشانہ لگایا تھا ہر ن پر یا شیر پر گولی لگ گئی کسی آدمی کو یا رمضان میں کلی کرنا چاہتا تھا اور حلق میں پانی چلا گیا تو یہ امور بھی غیر اختیاری ہیں اور لا یکلف اللہ نفسا الاوسعھا سے یہ چیزیں بھی معاف اور مستثناہو گئیں لیکن آگے ایک خاص پیرایہ کے ساتھ مزید غیر اختیاری امور کے استثنا کی وضاحت فرمائی اور ایک دعا تعلیم کی تا کہ اس امت کو جن چیزوں سے مستثنیٰ قرار دینا ہے وہ ایک عاجزانہ درخواست کے ذریعہ سے کیا جائے اور درخواست کو قبول فرما کر مسلمانوں کو مطمئن کردیا جائے اور یہ بھی قرآن کا ایک اسلوب اور طریقہ ہے کہ جو چیزیں لا یکلف اللہ میں بطور قاعدہ کلیہ داخل تھیں ان کو جزئی طور پر بھی ظاہر کردیا ، بلکہ ان کے ساتھ بعض مزید رعایتوں کا بھی اعلان فرما دیا تا کہ حضرت حق جل مجدہٗ کی معافی اور رعایت کا اعلان امور غیر اختیاریہ کی تمام انواع کو شامل ہوجائے اور تکلیف مالا یطاق کی طرف سے اس امت کو مطمئن کرایا جائے ، یہی وہ وضاحت اور تشریح ہے جس کو حضرت ابوہریرہ (رض) اور دوسرے سلف نے نسخ قرار دیا ہے۔ جیسا کہ ہم اوپر عرض کرچکے ہیں کہ یہ حقیقی نسخ نہیں ہے مگر یہ کہ اس طرح توجیہہ کی جائے اور یوں کہاں جائے کہ ما فی انفسکم اگرچہ اخبار ہے لیکن یہ جملہ دلالت کرتا ہے نفس کے خصائل رذیلہ کی تحریم پر جیسا کہ کتب علیکم الصیام کا جملہ روزے کی فرضیت اور ایجاب پر دلالت کرتا ہے۔ اور ما فی انفسکم اگرچہ خصائل رذیلہ کی تحریم پر دلالت کرتا تھا لیکن عمومیت کی وجہ سے یہ جملہ وساوس نفس اور دل کی باتوں کو بھی شامل تھا اور یہ جملہ چونکہ تحریم کے حکم میں ہے اس لئے قلب کی سب باتیں حرا م ہوئیں ، خواہ وہ خصائل رذیلہ ہوں یا خواہ وہ وساوس و خطرات ہوں اور تحریم تکلیف ہے اور لا یکلف اللہ میں اس تکلیف کی نفی ہے لہٰذا لا یکلف اللہ ناسخ ہوا۔ ما فی انفسکم کی بعض ان چیزوں کے لئے جو انسانی وسعت سے خارج ہیں اور وہ وساوس و خطرات نفس ہیں۔ ( واللہ اعلم) فقیر عرض کرتا ہے کہ اس تکلف سے یہ بہتر ہے کہ یوں کہا جائے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے اور بعض سلف نے مجازا ً نسخ فرمایا ہے ورنہ حقیقتاً نسخ نہیں ہے مزید تحقیق منظور ہو تو تفسیر مظہری ملاحظہ کی جائے۔ اصر کے معنی ہیں مفید ہوجانا ۔ بندہ بن جانا ، کسی چیز کو روک لینا ایسا بوجھ جو نہ اٹھ سکے اور جس کو لے کر انسان چل نہ سکے ۔ ایسا تنگ لباس جس کو پہن کر ہل جل نہ سکے ، پختہ عہد وغیرہ ۔ یہاں مراد تکالیف شاقہ ہیں ۔ بہر حال حاصل کلام یہ ہے۔ 1۔ کہ رکوع پہلی آیت کا ظاہری مفہوم یہ تھا کہ اعمال اختیاری اور غیر اختیاری خواہ وہ قلب کے ہوں یا اعضا کے سب پر محاسبہ ہوگا اور مواخذہ کیا جائے گا حتیٰ کہ دل میں جو کبھی وساوس و خطرات آجاتے ہیں اور بھول چوک سے جو کوئی غلطی بلا قصد ہوجاتی ہے وہ بھی قابل تعزیر اور لائق گرفت ہوگی۔ 2۔ اس ظاہری مفہوم کے اعتبار سے صحابہ کرام مضطرب اور پریشان ہوئے۔ 3۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سمع وطاعت کا حکم دیا۔ 4۔ صحابہ نے ارشاد نبوی کی تعمیل کی اور سمعنا واطعنا غفرانک ربنا کہا۔ 5۔ حضرت حق نے تکلیف با لمحال کے عدم و قوع کا اعلان فرما ک مضطرب اور بےچین طبیعتوں کو اطمینان دلایا۔ 6 ۔ اگرچہ اس آیت کے عموم میں خطا اور نسیاں بھی قاعدہ ٔ کلیہ کے طور پر داخل تھے لیکن ایک دعا تعلیم فرما کر خطا اور نسیان کی بھی صراحت فرما دی بلکہ اس سے زیادہ اور بھی بعض باتوں کو واضح فرما دیا۔ 7۔ دعا کا طریقہ شاید اس لئے اختیار کیا کہ آیت میں نسخ کا احتمال موجود تھا کیونکہ آیت کا مفہوم اور مبنی یہ ہے کہ بندہ مکلف نہیں ہے اور مکلف ہونا نہ ہونا ایک شرعی حکم ہے اور شرعی حکم میں نسخ کا احتمال ہوتا ہے ۔ اس لئے صحابہ نے دعا کی کہ الٰہی اس حکم کو منسوخ نہ فرمایئے بلکہ جس طرح عدم تکلیف مالا وسعت کا اعلان فرمایا ہے۔ اس حکم کو ہمیشہ کے لئے مقرر کر دیجئے ، یہ فائدہ تو دعا کا صحابہ کے زمانہ میں ہوا ۔ باقی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور نزول قرآن کے ختم ہوجانے اور نسخ کا اندیشہ جاتے رہنے کے بعد دعا کا یہ فائدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا احسان مسلمانوں کو یاد رہے اور جس دعا کی برکت ہے جو حکم ہمیشہ کے لئے مقرر رہا اس کو تلاوت کے وقت یاد رکھیں (واللہ اعلم) 8۔ حضرت ابن عباس (رض) سے ، ابن ماجہ ، ابن المنذر، ابن حبان ، طبرانی ، دارقطنی ، حاکم اور بیہقی نے نقل کیا ہے۔ ان اللہ تجاوز عن امتی الخطاء والنسیان وما استکرھوا علیہ ۔ بعض روایتوں میں رفع ان امتی بھی آیا ہے ۔ اس کا مطلب بھی یہ ہے کہ خطا اور نسیان اور جو کام اکراہ کے ساتھ کرایا جائے اس پر مبری امت سے مواخذہ نہیں ہوگا اور قیامت میں گرفت نہیں ہوگی اور یہی منشا قرآن کی آیت کا بھی ہے یہ مطلب نہیں کہ دنیا میں بھی ان چیزوں پر کوئی حکم مرتب نہیں ہوگا ۔ جیسا کہ قتل خطاء ً پر وجوب کفارہ اور جرمان ۔ میراث نماز میں نسیانا بات کرلینے سے نماز کا فاسد ہوجانا ۔ روزے میں خطاء کھانے پینے سے روزے کی قضا کا لزوم اکراہ سے طلاق کا واقع ہوجانا وغیرہ ان مسائل میں ائمہ کا جو اخلاق ہے وہ کتب فقہ سے معلوم ہوسکتا ہے۔ بہر حال ! دنیا میں نسیان و خطا وغیرہ پر احکام مرتب ہوتے ہیں آخرت کا مواخذہ معاف ہے۔ 9۔ بعض حضرات نسیان اور خطا کا فرق نہیں جانتے۔ نسیان میں تو چیز یاد ہی نہیں ہوتی ۔ جیسے کوئی نماز کو بھول جائے اور نماز کا وقت نکل جائے یا روزے کو بالکل بھول جائے اور کچھ کھالے ۔ لیکن خطا میں چیز تو یاد ہوتی ہے مگر ہاتھ کی لغزش سے بےاختیار فعل سر زد ہوجاتا ہے اردو میں چوکنا بولتے ہیں ، کہا کرتے ہیں میں ذرا چوک گیا ۔ 01۔ لھا ما کسبت کی جو شرح ہم نے کی ہے اس پر یہ شبہ نہ کیا جائے کہ جب صرف کا سب اور مکتسب اپنے اپنے فعل کے ذمہ دار ہیں تو اگر کوئی شخص کسی نیک کام کا باقی ہو یا کوئی کسی برے کام کا موجد ہو تو اس پر دوسرے لوگوں کے نیک اور بد کا کوئی اثر نہ ہونا چاہئے مثلاً کسی نے مسجد بنائی تو جو لوگ اس مسجد میں نماز پڑھیں ان نمازیوں کی نماز پڑھنے کا کوئی ثواب مسجد بنانے والے کو نہ ملے اور اسی طرح جب کوئی ناچ گھر تعمیر کرے تو جو لوگ اس ناچ گھر میں ناچ کرائیں ان کا کوئی گناہ اس بانی کو نہ ہو ۔ اگرچہ نصوص سے یہ ثابت ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے جس نے کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کو خود بھی اس کا ثواب ملتا ہے اور جو لوگ اس اچھے طریقہ پر عمل کریں گے تو اس کا ثواب بھی اس شخص کو ملے گا اور جو شخص کوئی ۔۔۔۔ بری رسم جاری کرے گا تو اس پر عمل کرنے والوں کے گناہ میں سے اس رسم کے جاری کرنے والے کو بھی حصہ ملے گا ۔ تو کسی کو اگر ایسا شبہ ہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ لھا ما کسبت کے منافی نہیں ہے کیونکہ یہ شخص بہر حال اس اچھے یا برے کام کا سبب تو یقینا ہے اور یہ خود اپنے ارادے سے اس اچھے یا برے کام کا سب بنا ہے لہٰذا اس سبب سے جو نتائج ہوں گے ان کا یہ بھی ذمہ دار ہوگا کیونکہ اس کا کسب یا اکتساب کو اور اس کے ارادے کو اس میں دخل ہے اور یہی ہماری تشریح کا مقصد ہے کہ خود اس کا م کو کیا ہو یا دوسروں کے لئے کوئی راستہ قائم کیا ہو۔ اگر اچھی راہ ڈالی ہے تو اچھوں کے کام کا اس کو بھی فائدہ پہنچے گا اور اگر بری رسم ڈالی ہے تو بروں کے کام کا ضرر بھی اس کو حاصل ہوگا ، اگرچہ اچھوں کے ثواب میں اور بروں کے عقاب میں کچھ کمی نہ ہوگی۔ 11۔ لھا ما کسبت پر بعض لوگوں کو یہ بھی شبہ ہوتا ہے کہ ایصال ثواب بھی اس تقدیر پر بیکار ہوجاتا ہے کیونکہ جب اپنے اپنے کسب اور اکتساب کا نفع اور نقصان ملتا ہے تو اگر کوئی دوسرا شخص اپنے کسی کا م کا ثواب دوسرے کو پہنچایئے یا اپنا ثواب کسی کو ہبہ کرے تو موہوب لٰہ کو اس واہب کے کسی ثواب سے ۔۔۔۔ کوئی فائدہ نہ پہنچنا چاہئے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ثواب اصل میں تو کا سب ہی کو ہوتا ہے اور ابتداء ً اچھے کام کا ثواب کرنیوالے ہی کو ہوتا ہے لیکن واہب کے واسطے سے موہوب لٰہ کو ملتا ہے اور یہ لھا ما کسبت کے منافی نہیں ہے ثواب ابتداء ً تو اسی کو ہوا جو کا سب ہے مگر کا سب کے ہبہ کردینے سے موہوب لٰہ کو پہنچا ۔ معتزلہ نے جو ایصال ثواب کے منکر ہیں ۔ وان لیس للانسان الا ما سعی سے یہی استدلال کیا ہے اس کا جواب بھی یہ ہے کہ اجر توسعی کرنے والے ہی کو ابتداء ً مگر صاحب اجر نے اپنا دوسرے کی طرف منتقل کردیا ، لہٰذا جس طرح لھا ما کسبت سے استدلال کرنا غلط ہے ۔ اسی طرح وان لیس للانسان سے بھی معتزلہ کا استدلال صحیح نہیں ہے۔ موہوب لٰہ کو بغیر کسب کے ثواب کا حصول اور چیز ہے اور کا سب کو ثواب سے محروم کردینا اور چیز ہے۔ فاقھم۔ 21۔ پہلی دعا میں خطا اور نسیان پر مواخذہ نہ کرنا ہے جو بوبہ غیر اختیاری ہونے کے ضمناً لا یکلف اللہ نفسا ً میں داخل ہے دوسری درخواست میں یہ عرض کیا گیا ہے کہ جو تکالفی شاقہ پہلی امتوں پر واقع ہوتی تھیں ان سے ہم کو محفوظ رکھئے۔ مثلاً توبہ کے لئے قتل کی شرط یا نا پاک کپڑے کو قطع کرنا یا کوٰۃ کے لئے چوتھائی مال کا ادا کرنا یا رات کے گناہ کا صبح کو دروازے پر لکھ دیا جانا ۔ وغیرہ۔ تیسری درخواست میں یہ عرض کیا گیا ہے کہ ہم کو دنیا اور آخرت میں ایسی تکالیف اور بلائوں سے محفوظ رکھئے جن کی ہم کو سہار نہ ہو ۔ ان ہی تین دعائوں کی رعایت سے آگے واعف عنا واغفرلنا واحمنا فرمایا واعف عنا کا تعلق خطا و نسیان کی کوتاہی سے ہے اور واغفرلنا کا تعلق ان تکالیف شاقہ سے ہے جن کا تعلق امم سابقہ سے تھا اور وارحمنا کا تعلق دنیا اور آخرت کی بلائوں اور مصائب سے ہے۔ 31۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ واعف عنا کا مطلب یہ ہو کہ ہمارے گناہوں پر مواخذہ نہ کیجئے اور ہماری تقصیرات کو در گزر فرمایئے اور واغفرلنا کا مطلب یہ ہو کہ ہمارے گناہ مٹا دیجئے اور ہماری عیوب کی پردہ پوشی فرمایئے ۔ اور وارحمنا کا مطلب یہ ہو کہ چونکہ طاعت کا بجا لانا اور سیئات سے بچنا آپ کی رحمت اور آپ کے فضل پر موقوف ہے اس لئے ہم پر رحم فرمایئے۔ 41۔ یہ بات سمجھ میں آگئی ہوگی کہ تکلیف مالا یطاق عقلا ً ممتنع نہیں ہے بلکہ حضرت حق تعالیٰ مختار اور قادر مالک ہے جو چاہے حکم دے ، البتہ شرع نے اس کے عدم و قوع کی اطلاع دی ہے اس لئے شرعا ً ممتنع ہے اور یہ حضرت حق تعالیٰ کا فضل ہے۔ 51۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان آیتوں کی تلاوت فرمائی تو تینوں دعائوں میں سے ہر دعا پر ارشاد ہوا ۔ میں نے قبول کی اور اسی طرح فانصرنا علی القوم الکفرین پر فرمایا ۔ میں نے فرمایا کہ کسی روایت میں نعم اور کسی میں فعلت آیا ہے اور کسی میں عفرت و غفرت ورحمت و نصرت آیا ہے۔ 61۔ دعا اور اس کی قبولیت کے متعلق ہم سیقول کے پارے میں مفصل بحث کرچکے ہیں اگر کسی مصلحت کی بنا پر دعا کی قبولیت ظاہر نہ ہو تو یہ بھی قبول ہی ہونا ہے ۔ حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان آیات کی تلاوت فرماتے تھے تو فانصرنا علی القوم الکفرین کے بعد آمین فرماتے تھے۔ 71۔ کفار پر غلبہ حاصل کرنے کی دعا پر ان دعائوں کا سلسلہ ختم فرمایا یہ اس لئے کہ جب سب کام حسب منشا ہوگیا یعنی گناہوں کی معافی اور تکالیف شاقہ اور مصائب و آلام کا تحفظ کردیا گیا ۔ تو اب سوال پیدا ہوا ، عمل کا کیونکر اطمینان حاصل کرنے کے بعد اس امر کی ضرورت ہے کہ احکام شرع پر عمل کیا جائے اور حضرت حق کے حکم کی تعمیل کی جائے اور احکام کی بجا آوری کے لئے اس امر کی ضرورت ہے کہ کوئی طاقت مقابلہ میں مزاحمت کرنے والی نہ ہو خواہ وہ نفس امارہ ہو خواہ وہ شیطان ہو جو سب سے بڑا کافر ہے یا وہ اسکے متبع انسان ہوں جو اسی کی فوج ہیں اور یہ سب قوم کافرین میں شامل ہیں۔ اس لئے دین کے کاموں میں رکاوٹ پیدا کرنے والی طاقتوں کے مغلوب ہونے کی دعا کی گئی دعا سے پہلے حضرت حق کے آقا اور مولیٰ ہونے کا اعتراف کیا گیا اور بندوں نے عرض کیا ۔ آپ ہمارے مولا ہیں ہم آپ کے غلام ہیں اور آقا اور مولا اپنے غلاموں کو ان کے دشمنوں سے بچاتا ہے اور ان کی مدد فرما کر اپنے غلاموں کو ان کے دشمنوں پر غالب فرماتا ہے اور دشمنوں کو مغلوب کرتا ہے ۔ لہٰذا آپ ہماری مدد فرمایئے تا کہ ہم ان دشمنوں پر جو آپ کے بھی دشمن ہیں اور آپ کی محبت و لفت کی وجہ سے ہمارے بھی دشمن ہیں کیونکہ ان کے دشمن ہونے کی وجہ ہی صرف آپ کی ذات ہے اگر ہم آپ کو چھوڑ دیں تو سب کافر ہمارے دوست ہوجائیں ، لہٰذا ایسے بدبخت دشمنوں پر اپنے غلاموں کو فتح مند فرما اور اپنے غلاموں کی مدد فرما ۔ سبحان اللہ ! کیا ترتیب ہے اور کیسا اچھا اسلوب ہے۔ 81۔ حضرت ابن عباس (رض) کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت جل مجدہٗ نے غفر انک کے بعد ارشاد فرمایا ۔ میں نے بخش دیا اور اخطانا کے بعد فرمایا لا اوا خذکم یعنی میں گرفت نہیں کروں گا ۔ ولا تحمل کے بعد لا احمل علیکم یعنی تم پر امم سابقہ کی طرح بھاری وزنت نہیں ڈالوں گا اور لا تحملنا کے بعد فرمایا لا احملکم یعنی دنیوی و آخروی مصائب و آلام کے بار جو تمہاری استطاعت سے باہر ہوں تم سے ۔۔۔۔۔ نہیں اٹھوائوں گا ۔ 91۔ یہ بات یاد کھنی چاہئے کہ گناہ کی مثال ایسی ہے کہ جیسے زہر جس طرح زہر کا قاعدہ ہے کہ خواہ دانستہ کھائو یا بھول کر کھائو یا چوک کر کھائو اپنا اثر کرتا ہے ۔ اسی طرح گناہ کا قاعدہ ہے کہ جس طرح بھی واقع ہو اس کا اثر ضرور ہوتا ہے ۔ خواہ خطا اور نسیان کی وجہ سے قیامت میں مواخذہ نہ ہو ۔ لیکن یہ مطلب نہیں کہ قلب پر بھی اس گناہ کا اثر مرتب نہیں ہوتا ۔ مثلاً قلب پر زنگ کا آجانا ۔ سینہ میں تنگی کا پیدا ہوجانا ۔ عبادت کا ذوق کم ہوجاتا ۔ دین سے بےپروائی کا پیدا ہوجانا ، شریعت کی وقعت کا کم ہوجانا ، چونکہ ان خطرات کا اندیشہ ہے اور گناہ کے یہ اثرات ہیں ۔ اس لئے گناہ کے معاملہ میں انسان کو بہت ہوشیار اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے خواہ دو گناہ کبیرہ ہو یا صغیرہ اور خواہ وہ گناہ عمدا ً ہو یا خطاء ً ہو یا بھول کر ہو ۔ سورۂ بقرہ کی یہ آخری آیات اس قدر جامع ہیں کہ ابھی بہت کچھ کہنے کی ضرورت ہے جو کچھ ہم نے عرض کیا ہے یہ ایک بحرنا پیدا کنار میں سے ایک قطرہ بلکہ قطرہ کی نمی بھی نہیں ہے۔ مگر تطویل کے خوف سے ترک کیا جاتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس بےغایت و بےنہایت ہے۔ اسی طرح اس کے کلام کی خوبیاں اور لطافتیں بھی بےغایت و بےنہایت ہیں ۔ ( واللہ اعلم بمرادہ) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ دعا اللہ تعالیٰ نے پسند فرمائی تو قبول کی حکم بھی ہم پر بھاری نہیں رکھے اور دل کا خیال بھی نہیں پکڑا اور بھول چوک بھی معاف کی۔ ( موضح القرآن) دل کے خیال سے وہی خیال مراد ہے جو آئے اور نکل جائے اور اگر آ کر جم جائے اور گناہ پر آمادہ کردے جس کو عزم کہتے ہیں تو اس پر مواخدہ ہوگا، جیسا کہ ہم عرض کرچکے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) سے مرفوعاً منقول ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معراج کی رات آسمانوں پر تشریف لے گئے تو آپ ؐ فرماتے ہیں مجھے تین چیزیں اللہ تعالیٰ نے عنایت فرمائیں ۔ 1۔ پانچ وقت کی نماز ۔ 2 سورة بقرہ کی آخری آیتیں 3۔ میری امت میں سے جو شخص شرک نہ کرے اس کی مغفرت ، مطلب یہ ہے کہ یہ مغفرت توبہ سے ہو یا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہو یا گناہوں کی سزا بھگتنے کے بعد ہو۔ بہر حال جو شرک سے محفوظ ہو اس کی نجات ایک دن یقینی ہے۔ ابو مسعود (رض) انصاری سے مرفوعا ً مروی ہے۔ سورة بقرۂ کی آخری دو آیتیں جو شخص رات کو پڑھ لے گا تو یہ دونوں آیتیں اس کے لئے کافی ہوں گی۔ نعمان بن بشیر سے مروی ہے ۔ فرمایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زمین و آسمان کی پیدائش سے دو ہزار سال قبل اللہ تعالیٰ نے قضا قدر کے جو حالات مرتب فرمائے تھے اس میں سے سورة بقرہ ٔ کی آخری دو آیتیں نازل فرمائی ہیں ۔ یہ دونوں آیتیں جس گھر میں تین راتوں میں پڑھی جاتی ہیں اس گھر کے قریب شیطان نہیں پھٹکنے پاتا۔ حضرت ابو مسعود انصاری (رض) کی روایت میں ہے سورة بقرہ کی یہ دونوں آیتیں اللہ تعالیٰ نے جنت کے خزانوں میں سے نازل فرمائی ہیں۔ جو شخص ان دونوں آیتوں کو عشاء کی نماز کے بعد پڑھ لیتا ہے تو یہ دونوں آیتیں قیام لیل سے اس کے لئے کافی ہوجاتی ہیں ، یعنی رات کو اٹھنا نہ ہو تب بھی تہجد کی نماز کا ثواب ملتا ہے۔ ابو سعید خدری کی روایت میں ہے کہ سورة بقرہ قرآن کی ترازو ہے اس کا سیکھنا موجب برکت ہے اور اس کو چھوڑ دینا موجب حسرت ہے اور اس سورت پر بطلہ یعنی جادوگروں کا کوئی قابو نہیں چل سکتا۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے پڑھنے والے جادو کے اثر سے محفوظ رہتے ہیں ۔ بیہقی نے ایک ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ سورة بقرہ کی تلاوت کرنے والوں کو قیامت میں تاج پہنایا جائے گا ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت میں ہے۔ دو آیتیں قرآن کی ایسی ہیں کہ وہ دونوں شفاعت کرنے والی ہیں اور وہ دونوں اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں اور اللہ تعالیٰ ان آیتوں سے محبت کرتا ہے وہ دونوں آیتیں سورة بقرہ کی آخری آیتیں ہیں۔ ابو عبید (رض) نے روایت کیا ہے جس گھر میں سورة بقرہ ٔکی تلاوت کی جاتی ہے تو اس گھر سے اس سورت کو سنتے ہی شیطان نکل جاتا ہے۔ مسند احمد میں مرفوعا ً روایت ہے کہ سورة بقرہ اور آل عمران کو سیکھو یہ دونوں صورتیں قیامت میں سائبان کی طرح سایہ فگن ہوں گی سہل بن سعد کی روایت میں ہے۔ ہر شے کا ایک ہاں اور ہر شے کا ایک بلند مقام ہوتا ہے اور قرآن کا کو ہاں اور قرآن کی بلند جگہ سورة بقرہ ہے جس شخص نے دن کے وقت اس صورت کو کسی گھر میں پڑھا ۔ تو تین دن تک اور کسی نے رات میں پڑھا تو تین رات تک شیطان اس گھر میں داخل نہیں ہوسکتا۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) سے مرفوعا ً ابو عبید نے نقل کیا ہے جس شخص نے سورة بقرہ اور آل عمران کی کسی رات میں تلاوت کی تو وہ اس رات قانتین میں لکھا جاتا ہے یعنی پرہیز گار اور با ادب لوگوں میں اس کا نام درج کرلیا جاتا ہے ۔ دارمی نے مغیرہ بن شفیع سے روایت کیا ہے کہ جو شخص سوتے وقت سورة بقرہ کی دس آیتیں تلاوت کر کے سوتا ہے تو ایسا شخص قرآن نہیں بھولے گا ۔ چار آیتیں تو ابتدائی بقرہ کی یعنی الم سے مفلحون تک اور تین آیتیں آیت الکرسی سے خالدون تک اور تین آیتیں آخر کی یعنی للہ ما فی السموات سے قوم الکافرین تک ۔ فقیر نے یہ احادیث خازن ، در منثور اور تفسیر مظہری سے نقل کی ہیں ۔ ابن کثیر نے اور بھی بعض روایات نقل کی ہیں مگر ہم نے تطویل کے خوف سے ان کو چھوڑ دیا ہے ۔ صرف ایک روایت ابن کثیر کی نقل کردیتے ہیں ۔ جو ابن کثیر نے ابن مردویہ سے نقل کی ہے کہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خواتیم سورة بقرہ کو پڑھتے تو ہنس دیتے اور خوش ہو کر فرماتے کہ یہ آیتیں عرش الٰہی کے نیچے جو خزانہ ہے اس میں سے دی گئی ہیں اور جب آیت من یعمل سوا یجزبہ اور آیت وان لیس للانسان الاما سعیٰ وان سعید سوف یری ثم یجزم الجزاء الاوفی پڑھتے تو آپ کے منہ سے انا للہ وانا الیہ راجعون نکل جاتا آپ سست ہوجاتے ۔ مطلب یہ ہے کہ سورة بقرۂ کی آیتوں میں چونکہ رعایت اور آسانی کی بشارت ہے تو ان کو پڑھ کر خوش ہوتے اور چونکہ ان آیتوں میں مواخذے کا ذکر ہے اور ہر برائی پر بدلہ ملنے کا ذکر ہے اور پورا پورا بدلہ کا تذکرہ ہے تو ان کو پڑھ کر رحمتہ اللعالمین کی طبیعت سست ہوجاتی اور آپ چپ چپ ہوجاتے اور کبھی منہ سے امت کی محبت میں انا اللہ بھی نکل جاتا ہے۔ اللھم صلی علی سیدنا محمد وعلی آل سیدنا محمد وبارک وسلم ۔ ( تسہیل) الحمد للہ کہ آج 7 ذی الحجہ 5631؁ھ شنبہ کے روز دن کے گیارہ بجے سورة بقرہ کی تفسیر اپنے علم کو کوتاہی اور بےبضاعتی کے اعتراف کے ساتھ ختم کر رہا ہوں ۔ واقعہ یہ ہے کہ جو کچھ عرض کیا گیا ہے وہ قرآنی مطالب اور مفاہیم کی وسعت کے لحاظ سے کالعدم ہے اور ایک سمندر میں سے ذرا سی نمی کے برابر بھی نہیں ہے۔ جو کچھ اپنے بزرگوں سے سنا اور جو کچھ ان کی تفسیروں سے سمجھ میں آیا اس کا خلاصہ کردیا ہے مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے امید ہے کہ یہ تفسیر مسلمانوں کے لئے نافع ہوگی ۔ میں اللہ تعالیٰ کی جناب میں دست بدعا ہوں کہ وہ ترجمہ تیسیر تسہیل کو قبول فرمائے اور فقیر کا خاتمہ اسلام پر ہو اور وہ اپنی رحمت سے اس فقیر کو رمرہ ٔ صالحین میں داخل کر دے۔ اب آگے سورة عمران کی تفسیر شروع ہوتی ہے۔