Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 64

سورة البقرة

ثُمَّ تَوَلَّیۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ ۚ فَلَوۡ لَا فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ رَحۡمَتُہٗ لَکُنۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۶۴﴾

Then you turned away after that. And if not for the favor of Allah upon you and His mercy, you would have been among the losers.

لیکن تم اس کے بعد بھی پھر گئے ، پھر اگر اللہ تعالٰی کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم نقصان والے ہو جاتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

ثُمَّ تَوَلَّيْتُم مِّن بَعْدِ ذَلِكَ فَلَوْلاَ فَضْلُ اللَّهِ ... Then after that you turned away. Had it not been for the grace of Allah, means, "Yet, after the firm pledge that you gave, you still deviated and broke your pledge"; ... فَلَوْلاَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ ... Had it not been for the grace and mercy of Allah upon you, meaning, by forgiving you and by sending the Prophets and Messengers to you. ... لَكُنتُم مِّنَ الْخَاسِرِينَ Indeed you would have been among the losers. meaning, in this life and the Hereafter due to their breach of the covenant.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٢] اتنے پختہ اقرار کرنے کے باوجود اے یہود ! تم نے پھر عہد شکنی کی۔ اس کے باوجود اللہ نے تم پر رحم کیا جو تمہیں زندہ رہنے دیا، ورنہ تمہارے جرائم کی فہرست اتنی طویل ہے جو تمہاری تباہی کی مقتضی تھی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اس سارے عہد و پیمان کے بعد انھوں نے بہت سی باتوں میں تورات سے کنارہ کشی اختیار کی، چناچہ انھوں نے تورات میں تحریف کی، اس کی آیات کو چھپایا، انبیاء کے احکام کی نافرمانی کی، بعض کو جھٹلایا، بعض کو قتل کیا، میدان تیہ میں عجیب و غریب نعمتوں کے مشاہدے کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) پر بار بار اعتراض کیے، ان کی حکم عدولی کی، انھیں سخت ایذا پہنچائی۔ ارض مقدس میں داخلے کا حکم ہوا تو صاف انکار کردیا، حتیٰ کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے خود کو ان نافرمانوں سے الگ کردینے کی دعا کی۔ یہ تو پہلوں کا حال تھا، بعد والوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہچاننے کے باوجود آپ پر ایمان لانے سے انکار کردیا۔ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ ) یعنی ان تمام نافرمانیوں کے باوجود فوراً عذاب کے ساتھ ہلاک کرنے کے بجائے تمہیں توبہ و استغفار کی مہلت دی گئی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The Israelites went against the Covenant they had made with Allah. The sin was so grave that one could have expected utter destruction and ruin to descend on them as a punishment. But Allah, in His mercy, spared them in so far as physical life is concerned, although they will have to pay for their treason in the other world. Allah&s mercy is of two kinds. One is general and extends to believers and disbelievers alike -- its action is to be seen in the shape of worldly well-being and prosperity. The other is special, and pertains to believers alone -- it will manifest itself particularly in the other world in the shape of salvation and closeness to Allah. It appears that the last phrase of the present verse has been addressed to the Jews who were the contemporaries of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Since having faith in him is also a part of the Covenant, these Jews too have been included among those who had been guilty of infringement. In this verse, Allah asks them to realize that it is in His mercy alone that he has not, in spite of their treason, sent down on them the kind of catastrophic punishment in this world as used to descend on the other infidels and traitors who have gone before. Since a number of authentic ahadith declare that it is the barakah of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that catastrophic punishments no longer descend on any people, some commentators have identified this particular mercy and grace of Allah with the sending down of Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as a Prophet and Messenger of Allah. In order to emphasize what the present verse has said, the next verse tells the story of another group of earlier transgressors and of the dreadful punishment which overtook them all of a sudden.

خلاصہ تفسیر : پھر تم اس قول وقرار کے بعد بھی (اس سے) پھرگئے سو اگر تم لوگوں پر خدا تعالیٰ کا فضل اور رحم نہ ہوتا (تو اس عہد شکنی کا مقتضا تو یہ تھا کہ) ضرور تم (فورا) تباہ (اور ہلاک) ہوجاتے (مگر ہماری عنایت و رحمت عامہ ہے کہ حیات مستعار کے ختم ہونے تک مہلت دے رکھی ہے لیکن کب تک ؟ آخر بعد از مرگ وبال اعمال میں مبتلا ہوگے) فائدہ : حق تعالیٰ کی رحمت عامہ دنیا میں مومن کافر سب پر ہے جس کا اثر عافیت اور دنیوی راحت ہے رحمت خاصہ کا ظہور آخرت میں ہوگا جس کا اثر نجات اور قرب خداوندی ہے، بظاہر اس آیت کے جزو آخر کے مخاطب وہ یہودی ہیں جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں موجود تھے چونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہ لانا بھی عہد شکنی میں داخل ہے اس لئے ان کو بھی عہد شکنوں میں شامل کرکے بطور مثال فرمایا گیا کہ اس پر بھی ہم نے تم پر دنیا میں کوئی عذاب ایسا نازل نہیں کیا جیسا پہلے بےایمانوں اور عہد شکونوں پر ہوتا رہا یہ محض خدا کی رحمت ہے، اور چونکہ اب از روئے احادیث ایسے عذابوں کا نہ آنا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی برکت ہے اس لئے بعض مفسرین نے فضل و رحمت کی تفسیر بعثت محمدیہ سے کی ہے، اس مضمون کی تائید کے لئے گذشتہ بےایمانوں کا ایک واقعہ اگلی آیت میں بیان ہو رہا ہے،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ۝ ٠ ۚ فَلَوْ لَا فَضْلُ اللہِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُہٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ۝ ٦٤ ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] اور جو شخص تم میں ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر سے دوستی کرے گا ۔ اور تعدیہ بعن کے متعلق فرمایا : ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے ۔ «لَوْلَا» يجيء علی وجهين : أحدهما : بمعنی امتناع الشیء لوقوع غيره، ويلزم خبره الحذف، ويستغنی بجوابه عن الخبر . نحو : لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ [ سبأ/ 31] . والثاني : بمعنی هلّا، ويتعقّبه الفعل نحو : لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنا رَسُولًا[ طه/ 134] أي : هلّا . وأمثلتهما تکثر في القرآن . ( لولا ) لو لا ( حرف ) اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے ایک شے کے پائے جانے سے دوسری شے کا ممتنع ہونا اس کی خبر ہمیشہ محذوف رہتی ہے ۔ اور لولا کا جواب قائم مقام خبر کے ہوتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ [ سبأ/ 31] اگر تم نہ ہوتے تو ہمضرور مومن ہوجاتے ۔ دو م بمعنی ھلا کے آتا ہے ۔ اور اس کے بعد متصلا فعل کا آنا ضروری ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنا رَسُولًا[ طه/ 134] تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہیں بھیجا ۔ وغیرہ ذالک من الا مثلۃ فضل الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر فعلی ثلاثة أضرب : فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات . وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله : وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] ، إلى قوله : تَفْضِيلًا وفضل من حيث الذّات، کفضل رجل علی آخر . فالأوّلان جوهريّان لا سبیل للناقص فيهما أن يزيل نقصه وأن يستفید الفضل، کالفرس والحمار لا يمكنهما أن يکتسبا الفضیلة التي خصّ بها الإنسان، والفضل الثالث قد يكون عرضيّا فيوجد السّبيل علی اکتسابه، ومن هذا النّوع التّفضیل المذکور في قوله : وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] ، لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] ، يعني : المال وما يکتسب، ( ف ض ل ) الفضل کے منعی کسی چیز کے اقتضا ( متوسط درجہ سے زیادہ ہونا کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے محمود جیسے علم وحلم وغیرہ کی زیادتی مذموم جیسے غصہ کا حد سے بڑھ جانا لیکن عام طور الفضل اچھی باتوں پر بولا جاتا ہے اور الفضول بری باتوں میں اور جب فضل کے منعی ایک چیز کے دوسری پر زیادتی کے ہوتے ہیں تو اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں ( ۔ ) بر تری بلحاظ جنس کے جیسے جنس حیوان کا جنس نباتات سے افضل ہونا ۔ ( 2 ) بر تری بلحاظ نوع کے جیسے نوع انسان کا دوسرے حیوانات سے بر تر ہونا جیسے فرمایا : ۔ وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت دی ۔ ( 3 ) فضیلت بلحاظ ذات مثلا ایک شخص کا دوسرے شخص سے بر تر ہونا اول الذکر دونوں قسم کی فضیلت بلحاظ جو ہر ہوتی ہے ۔ جن میں ادنیٰ ترقی کر کے اپنے سے اعلٰی کے درجہ کو حاصل نہیں کرسکتا مثلا گھوڑا اور گدھا کہ یہ دونوں انسان کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے ۔ البتہ تیسری قسم کی فضیلت من حیث الذات چونکہ کبھی عارضی ہوتی ہے اس لئے اس کا اکتساب عین ممکن ہے چناچہ آیات کریمہ : ۔ وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] اور خدا نے رزق ( دولت ) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ۔ لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل ( یعنی روزی تلاش کرو ۔ میں یہی تیسری قسم کی فضیلت مراد ہے جسے محنت اور سعی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے ) خسر ويستعمل ذلک في المقتنیات الخارجة کالمال والجاه في الدّنيا وهو الأكثر، وفي المقتنیات النّفسيّة کالصّحّة والسّلامة، والعقل والإيمان، والثّواب، وهو الذي جعله اللہ تعالیٰ الخسران المبین، وقال : الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَلا ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ [ الزمر/ 15] ، ( خ س ر) الخسروالخسران عام طور پر اس کا استعمال خارجی ذخائر میں نقصان اٹھانے پر ہوتا ہے ۔ جیسے مال وجاء وغیرہ لیکن کبھی معنوی ذخائر یعنی صحت وسلامتی عقل و ایمان اور ثواب کھو بیٹھنے پر بولا جاتا ہے بلکہ ان چیزوں میں نقصان اٹھانے کو اللہ تعالیٰ نے خسران مبین قرار دیا ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَلا ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ [ الزمر/ 15] جنہوں نے اپنے آپ اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈٖالا ۔ دیکھو یہی صریح نقصان ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٤) مگر تم نے اس عہد و پیمان کی ممانعت کی اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کے اترنے میں دیر نہ ہوتی اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمہاری طرف نہ بھیجا جاتا تو تم اللہ کے عذاب اور عقوبت کی وجہ سے بہت ہی گھاٹے میں ہوتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ ج) ” “ یعنی جو میثاق شریعت تم سے لیا گیا تھا اس کو توڑ ڈالا۔ (فَلَوْلاَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ لَکُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ ) “ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل تمہارے شامل حال نہ ہوتا اور اس کی رحمت تمہاری دستگیری نہ کرتی رہتی ‘ تمہیں بار بار معاف نہ کیا جاتا اور تمہیں بار بار مہلت نہ دی جاتی تو تم اسی وقت تباہ ہوجاتے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

ثم۔ پھر، ازاں بعد۔ حرف عطف ہے، ترخی فی الوقت کے لئے آیا ہے۔ تولیتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر، تولی (تفعل) تم پھرگئے۔ تم نے منہ موڑا۔ لولا۔ امتناعیہ ہے۔ اور لو حرف شرط اور لا نافیہ سے مرکب ہے۔ فضل اللہ علیکم ورحمتہ۔ فضل اللہ مضاف مضاف الیہ علیکم جار مجرور مل کر متعلق فضل ۔ فضل اپنے متعلق اور مضاف الیہ (اللہ) سے مل کر معطوف علیہ ہے اپنے معطوف ورحمتہ کا۔ معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر مبتدا جس کی خبر حاضر محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ : اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی۔ لکنتم من الخسرین ۔ لام تاکید کا ہے جواب شرط میں آیا ہے۔ یہ جملہ، جملہ فعلیہ ہوکر جواب شرط ہے۔ تو تم ضرور خسارہ پانے والوں میں سے ہوتے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب دیکھئے ان کی گا داری ، عہد شکنی اور حیلہ سازی کا ایک نیا منظر ، جس میں وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ کسی عہد کی پابندی کرنے کے سرے سے اہل ہی نہیں ۔ وہ اس عہدو پیمان کی ذمہ داریاں ادا کر ہی نہیں سکتے ، خواہشات نفس اور وقتی مفادات کو دیکھ کر وہ بےبس ہوجاتے ہیں ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

133 ۔ یہ اشارہ مذکورہ عہد و پیمان کی طرف ہے یعنی پختہ عہد و پیمان کے بعد پھر تم نے حسب عادت قدیمہ اس سے اعراض کیا۔ اور اسے پس پشت ڈال دیا من بعد اخذ ذلک المیثاق المؤکد (ابو السعود ص 55 ج 1) ای اعرضتم عن الوفاء بالمیثاق بعد اخذہ وخالفتم (روح ص 280 ج 1)134 ۔ لیکن اس عہد شکنی کے باوجود اللہ نے اپنی خاص نوازش ومہربانی سے تمہیں موقع پر فوراً ہلاک نہ کیا اور سنبھلنے کے لیے تمہیں مزید مہلت دیدی اگر وہ ایسا نہ کرتا تو دنیا سے کب کا تمہارا نام ونشان مٹ چکا ہوتا۔ ولو لا فضل اللہ تعالیٰ علیکم بالامہال وتاخیر العذاب لکنتم من الہا لیکن (ابو السعود ص 555 ج 1) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اور وہ بات یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد اور قول وقرار لیا اور تمہارے سروں پر طور پہاڑ کو اٹھا کر معلق کردیا اور حکم دیا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے اس کو پوری قوت اور کوشش کے ساتھ فوراً قبول کرو اور جو احکام اس کتاب میں مذکور ہیں ان کو یاد رکھو اور پڑھتے رہو تاکہ تم متقی ہو جائو اور عذاب الٰہی سے محفوظ رہو پھر تم اس قول وقرار کے بعد اپنے عہد سے پھرگئے، پھر اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی مہربانی تم پر نہ ہوتی تو یقینا تم بڑا نقصان اٹھانیوالوں میں سے ہوجاتے (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ جب ان کو تورایت عطا ہوئی تو اس کے احکام ان کو سخت معلوم ہوئے اور ان کے حال کے مناسب بعض احکام تھے بھی سخت تو انہوں نے پہلے تو یہ کہنا شروع کیا کہ ہم سے اللہ تعالیٰ خود فرمائے کہ یہ کتاب ہم نے عطا کی ہے اس پر حضرت موسیٰ ایک جماعت کو لیکر طور پر پہنچے وہاں جو بات پیش آئی اس کا ذکر اوپر آچکا ہے ۔ جب موسیٰ اس جماعت کو لیکر واپس آئے تو اس نے شہادت بھی دے دی اور شہادت میں اتنا فقرہ اور بڑھا دیا کہ ہاں یہ کتاب تو اللہ تعالیٰ نے ہی عطا فرمائی ہے مگر اتنا کہہ دیا ہے کہ تم سے جو عمل ہو سکے وہ کرنا اور جو نہ ہو سکے تو اس کو ہم معاف کردیں گے۔ غرض اس کے بعد قوم نے بالکل ہی صاف طور سے کہہ دیا کہ جناب اس توریت کے احکام پر عمل کرنا ہمارے بس کا کام نہیں۔ چناچہ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا اور وہ طور پہاڑ کا ایک حصہ اٹھا کرلے آئے اور ان پر اس کو معلق کردیا۔ بنی اسرائیل یہ دیکھ کر توبہ کرنے لگے اور سجدے میں گرے مگر سجدہ آدھے چہرے پر کیا اور ایک آنکھ سے اس پہاڑ کو دیکھتے رہے کہ کہیں ہم پر گرتا تو نہیں حکم ہوا اس کتاب کو مضبوطی اور قوت کے ساتھ قبول کرو اور جو احکام ا س میں ہیں ان کو پڑھتے رہو تاکہ وہ احاکم یاد رہیں۔ آخر انہوں نے تسلیم کیا اور قول وقرار کیا۔ اسی عہد کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے مگر اس میثاق کے بعد پھر اپنے عہد سے پھرگئے، اس پر بھی اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل فرمایا ورنہ اگر اس کی طرف سے گرفت ہوتی تو بالکل ہی ہی تباہ و برباد ہوجاتے، چناچہ آگے اپنی گرفت اور اپنے عذاب کا ایک واقعہ بتاتے ہیں یہاں اگر یہ شبہ کیا جائے کہ اسلام میں تو جبر نہیں ہے پھر بنی اسرائیل پر کیوں جبر کیا گیا اور پہاڑ ان پر معلق کر کے ان سے کیوں عہد لیا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک کسی کو اسلام قبول کرنے پر ابتداً مجبور نہیں کیا جاسکتا لیکن کوئی اسلام قبول کرنے کے بعد شریعت کے ماننے سے انکار کرے یا احکام الٰہی کو تسلیم نہ کرے تو اس پر جبر کیا جاسکتا ہے یہ لوگ چونکہ پہلے اپنی رغبت سے اسلسام قبول کرچکے تھے، اس لئے ان کو شریعت موسوی پر قائم رہنے اور اس پر عمل کرنے کی غرض سے مجبور کیا گیا، نزول توریت سے قبل یہ لوگ خود ہی مطالبہ کرتے تھے کہ کوئی کتاب ہم کو دی جائے جب کتاب عنایت ہوئی تو اس کے قبول کرنے سے انکار کرنے لگے، اس پر پہاڑ معلق کیا گیا، کہا جاتا ہے کہ یہود کے ہاں اب تک سجدے کا دستور یہی ہے کہ چہرے کے باتیں حصہ پر سجدہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل کا مطلب یہ ہے کہ توبہ کی توفیق عطا فرمائی یا مرتے دم تک مہلت دے دی اور اس عہد شکنی کے عوض کوئی عتاب نازل نہیں کیا۔ بعض مفسرین نے فضل اللہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت مراد لی ہے تو اس صورت میں یہ خطاب ان یہود سے ہوگا جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں موجود تھے اور اب مطلب یہ ہوگا کہ توریت میں نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا یہی عہد لیا گیا تھا، تمہارے بڑوں نے تو اس نبی کا زمانہ پایا ہی نہیں مگر تم نے پایا اور تم ایمان نہیں لائے تو جس طرح تمہارے بڑے عہد شکنی کے مرتکب ہوئے تھے تم بھی اس کے مرتکب ہو رہے ہو لیکن یہ پیغمبر اللہ تعالیٰ کا ایک انعام ہے، اس کی برکت سے اب کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوگا جیسا پہلے لوگوں پر نازل ہوتا رہا ہے، واللہ اعلم حضرت شاہ صاحب تتقون پر فرماتے ہیں جب تورات اتری تو کہنے لگے ہم سے اتنے حکم نہ ہوں گے تب پہاڑ اوپر آیا کر گرپڑے تب ڈر کر قبول کرلیا۔ موضح القرآن (تسہیل)