TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Root words of Surat ul Baqara 2:72, word 4 فَادّٰرَءْتُمْ

The root of this word, its grammatical form, and every other place in the Quran where the same root is used - with each of those verses one click away.

Verse 2:72 word by word

Open the verse
ResultVerbPersonal Pronoun

then you disputed

پھر ایک دوسرے پر ڈالنے لگے تم/ باہم الزام دھرنے لگے تم

Tap any part above to see where else it appears

Verb form 6

درا
تَدَارَأَ
Perfect
يَتَدَارَأُ
Imperfect
تَدَارَأْ
Imperative
مُتَدَارِئ
Active participle
-
Passive participle
تَدَارُء
Verbal noun

Mufradat ul Quran

Imam Raghib Isfahani

اَلدَّرْئُ: (ف) کے معنیٰ (نیزہ وغیرہ) کے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں کہا جاتا ہے۔ قَوَّمْتُ دَرْئَہٗ: میں نے اس کی کجی کو درست کردیا۔ دَرَئْتُ عَنہٗ: میں نے اس سے دفع کیا۔قرآن پاک میں ہے: (وَّ یَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ ) (۱۳۔۲۲) اور نیکی کے ذریعہ برائیوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ (وَ یَدۡرَؤُا عَنۡہَا الۡعَذَابَ ) (۲۴۔۸) اور عورت سے سزا کو یہ بات ٹال سکتی ہے۔حدیث میں ہے: (۱۲۶) اِدْرَؤٌ الْحُدُودَ بِالشُّبُھَاتِ شرعی حدود کو شبہات سے دفع کرو اس میں متنبہ کیا گیا ہے حدود کو دفع کرنے کے لئیے حیلہ کرنا چاہیئے قرآن پاک میں ہے: (فَادۡرَءُوۡا عَنۡ اَنۡفُسِکُمُ الۡمَوۡتَ ) (۳۔۱۶۸) تو اپنے اوپر سے موت کو ٹال دینا۔اور آیت کریمہ: (فَادّٰرَأتْمْ فِیْھَا) (۲۔۷۲) تو اس میں تم باہم جھگڑنے لگے۔ میں اِدَّرَأْتُمْ اصل میں تَدَارَأْتُمْ ہے تخفیف کے لئے تاء کودال سے بدل کر ادغام کردیا گیا ہے اور شروع میں ابتدائے سکون کی وجہ سے ہمزہ وصلی لایا گیا ہے لہذا یہ اِفَّاعَلْتُمْ کے وزن پر ہے۔ (1) بعض ادباء نے کہا ہے کہ اِدَّرَأْتُمْ بروزن اِفْتَعَلْتُمْ ہے مگر یہ چند وجوہ کی بنا پر صحیح نہیں ہے۔اَوَّل یہ کہ اِدَّرَأْتُمْ کے آٹھ حروف ہیں اور اِفْتَعَلْتُمْ کے صرف سات حروف ہیں۔(2) دوم یہ کہ اس میں ہمزہ وصلی کے بعد حرف تاء ہے جسے دال سے تبدیل کیا گیا ہے اور اِفْتَعَلْتُمْ (میں ایسے نہیں ہے) سوم یہ کہ اگر افْتَعَلْتُمْ کے وزن پر ہوتا ہے تو دوسرے حرف کے بعد دال کوتاء سے تبدیل کرنا چاہیئے تھا۔چہارم یہ کہ جس فعل کا عین کلمہ حروف صحیح ہو اس میں تاء افتعال کا مابعد ہمیشہ متحرک رہتا ہے مگر یہاں اسے ساکن بنالیا گیا ہے۔پنجم یہ کہ یہاں تاء اور دال کے درمیان حرف زائد لایا گیا ہے حالانکہ باب افتعال میں یہ نہیں ہوتا۔ ششم یہ کہ اسے باب افتعال سے ماننے کی صورت میں الف کو عین کلمہ ماننا پڑے گا۔حالانکہ وہ موضع عین میں نہیں ہے۔ہفتم یہ کہ دو حروف افْتَعَلَ کی تاء سے قبل ہیں اور اس کے بعد بھی دو ہی ہیں۔مگر ادَّرَأْتُمْ میں تاء کے بعد تین حروف ہیں۔

Lemma / Derivative

1 results

ادّارَأَ
2:72
پھر ایک دوسرے پر ڈالنے لگے تم/ باہم الزام دھرنے لگے تم
then you disputed
فَادّٰرَءْتُمْ