Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 82

سورة البقرة

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۸۲﴾٪  9

But they who believe and do righteous deeds - those are the companions of Paradise; they will abide therein eternally.

اور جو لوگ ایمان لائیں اور نیک کام کریں وہ جنتی ہیں جو جنت میں ہمیشہ رہیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَالَّذِينَ امَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ ... And those who believe and do righteous good deeds, meaning, "They believe in Allah and His Messenger and perform the good deeds that conform with the Islamic Law. They shall be among the people of Paradise." Allah said in a similar statement, لَّيْسَ بِأَمَـنِيِّكُمْ وَلا أَمَانِىِّ أَهْلِ الْكِتَـبِ مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلاَ يَجِدْ لَهُ مِن دُونِ اللَّهِ وَلِيّاً وَلاَ نَصِيراً وَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّـلِحَـتَ مِن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى وَهُوَ مُوْمِنٌ فَأُوْلَـيِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلاَ يُظْلَمُونَ نَقِيراً It will not be in accordance with your desires (Muslims), nor those of the People of the Scripture (Jews and Christians), whosoever works evil, will have the recompense thereof, and he will not find any protector or helper besides Allah. And whoever does righteous good deeds, male or female, and is a (true) believer (in the Oneness of Allah (Muslim)), such will enter Paradise and not the least injustice, even the size of a Naqira (speck on the back of a date stone), will be done to them). (4:123-124). Muhammad bin Ishaq reported that Ibn Abbas said that, وَالَّذِينَ امَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ أُولَـيِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ And those who believe and do righteous good deeds, they are dwellers of Paradise, they will dwell therein forever. "Whoever believes in what you (Jews) did not believe in and implements what you refrained from implementing of Muhammad's religion, shall acquire Paradise for eternity. Allah stated that the recompense for good or evil works shall remain with its people for eternity."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

82۔ 1 یہ یہود کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے جنت یا جہنم کا اصول بیان کیا جا رہا ہے، جس کے نامہء اعمال میں برائیاں ہی برائیاں ہونگی، یعنی کفر اور شرک، اور جو مومن گنہگار ہونگے ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہوگا وہ چاہے گا تو اپنے فضل و کرم سے ان کے گناہ معاف فرما کر بطور سزا کچھ عرصہ جہنم میں رکھنے کے بعد یا نبی کی شفاعت سے ان کو جنت میں داخل فرما دے گا جیسا کہ یہ باتیں صحیح احادیث سے ثابت ہیں اور اہل سنت کا عقیدہ ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٥] یہاں اہل ایمان کا اور جنت کا ذکر محض اس لیے کیا گیا ہے کہ قرآن کا انداز ہی یہ ہے کہ دوزخ کے ساتھ جنت کا بھی ذکر کردیا جاتا ہے۔ جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے کہ اس کے بعد پھر بنی اسرائیل کا ذکر شروع ہو رہا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ) کفر پر وعید کے بعد ایمان اور عمل صالح پر بشارت ہے اور یہ قرآن کا عام اسلوب ہے کہ بشارت و نذارت دونوں اکٹھی ذکر ہوتی ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ۝ ٠ ۚ ھُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ۝ ٨٢ ۧ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے صالح الصَّلَاحُ : ضدّ الفساد، وهما مختصّان في أكثر الاستعمال بالأفعال، وقوبل في القرآن تارة بالفساد، وتارة بالسّيّئة . قال تعالی: خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] ( ص ل ح ) الصالح ۔ ( درست ، باترتیب ) یہ فساد کی ضد ہے عام طور پر یہ دونوں لفظ افعال کے متعلق استعمال ہوتے ہیں قرآن کریم میں لفظ صلاح کبھی تو فساد کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اور کبھی سیئۃ کے چناچہ فرمایا : خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] انہوں نے اچھے اور برے عملوں کے ملا دیا تھا ۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ خلد الخُلُود : هو تبرّي الشیء من اعتراض الفساد، وبقاؤه علی الحالة التي هو عليها، والخُلُودُ في الجنّة : بقاء الأشياء علی الحالة التي عليها من غير اعتراض الفساد عليها، قال تعالی: أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ، ( خ ل د ) الخلودُ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں ۔ اور جب کسی چیز میں دراز تک تغیر و فساد پیدا نہ ہو۔ قرآن میں ہے : ۔ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ [ الشعراء/ 129] شاید تم ہمیشہ رہو گے ۔ جنت میں خلود کے معنی یہ ہیں کہ اس میں تمام چیزیں اپنی اپنی اصلی حالت پر قائم رہیں گی اور ان میں تغیر پیدا نہیں ہوگا ۔ قرآن میں ہے : ۔ أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] یہی صاحب جنت میں ہمشہ اسمیں رہیں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٢) اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا ذکر فرماتے ہیں کہ جو لوگ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن حکیم پر ایمان لائے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری بجائے ایسے لوگ جنت میں ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں ان کو موت آئے گی اور نہ ہی وہ وہاں سے باہر نکالے جا ہیں گے ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٢ (وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ) اب نیک عمل کے بارے میں ہر شخص نے اپنا ایک تصور اور نظریہ بنا رکھا ہے۔ جبکہ نیک عمل سے قرآن مجید کی مراد دین کے سارے تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔ محض کوئی خیراتی ادارہ یا کوئی یتیم خانہ کھول دینا یا بیواؤں کی فلاح و بہبود کا انتظام کردینا اور خود سودی لین دین اور دھوکہ فریب پر مبنی کاروبار ترک نہ کرنا نیکی کا مسخ شدہ تصور ہے۔ جبکہ نیکی کا جامع تصور یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ تمام فرائض کی بجاآوری ہو ‘ دین کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں ‘ اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد اور مجاہدہ کیا جائے اور اس کے دین کو قائم اور سربلند کرنے کی جدوجہد کی جائے۔ ّ ُ (اُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ج) ( ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ )

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:82) اس آیت کا عطف سابقہ آیت پر ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس فیصلے اور نتیجے کے بعد دوسرا اور مقابل صورت کا حکم بھی یہاں بیان کیا جاتا ہے ۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ” اور جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے وہی جنتی ہیں اور جنت میں ہمیشہ رہیں گے ۔ اور نیک عمل کریں گے۔ “ یعنی ایمان کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ دل سے عمل صالح کی شکل میں پھوٹ کر باہر نکل آئے ۔ جو لوگ ایمان کے دعوے دار ہیں ، انہیں چاہئے کہ اس حقیقت پر ذرا غور کرلیں نیز وہ تمام مسلمان بھی جو اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے ہیں ، اور ہم بھی ان میں شامل ہیں ، اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اس حقیقت کے بارے میں اچھی طرح تسلی کرلیں ۔ ایمان کا وجود اس وقت تک متصور نہ ہوگا جب تک اس کے نتیجے میں عمل صالح پیدا نہ ہو ، رہے وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں ، پھر زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور نیکی اور بھلائی کا مقابلہ کرتے ہیں ۔ زمین پر اسلامی نظام حیات کے قیام اور اسلامی شریعت کے نفاذ کو روکتے ہیں اور اس کا انکار کرتے ہیں ۔ اسلامی اخلاق کے خلاف برسر پیکار رہتے ہیں ۔ تو ایسے لوگوں کے لئے دولت ایمان کا ایک ذرہ بھی نہیں ہے ، ان کے لئے اللہ کے ہاں کوئی اجر نہیں ہے ۔ انہیں اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہے ۔ اگرچہ وہ ایسی خوش آئند امیدیں اور آرزوئیں اپنے دلوں کے اندر رکھتے ہیں جیسی یہود رکھتے تھے ، اور جن کا اوپر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا۔ پس سب کے لئے یہی حکم ہے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کے کچھ اور حالات مسلمانوں کے سامنے رکھے جاتے ہیں ، مختلف اوقات میں ان کے طرز عمل ، معصیت ، کجروی ، گمراہی اور عہد و پیمان کی خلاف ورزی کے مختلف واقعات بیان کئے جاتے ہیں اور یہودیوں کے یہ سیاہ کارنامے مسلمانوں کے سامنے ، ان پر کھولے جاتے ہیں ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3 اور یہودیوں نے یہ بھی کہا کہ ہم کو گنتی کے چند ایام کے سوا دوزخ کی آگ چھوئیگی بھی نہیں آپ ان سے فرمائیے کیا تم نے اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے کوئی وعدہ لے لیا ہے کہ وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا یا ویسے ہی اللہ تعالیٰ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کا تم علم نہیں رکھتے یوں نہیں بلکہ تم ہمیشہ آگ میں رہو گے کیونکہ ہمارا ضابطہ یہ ہے کہ جس نے قصداً گناہ کا ارتکاب کیا اور گناہ کرتا رہا اور اس کے گناہوں نے اس کو سب طرف سے گھیر لیا تو ایسے ہی لوگ اہل جہنم اور دوزخی ہیں اور وہ اس دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے تو یہ لوگ اہل جنت ہیں وہ اس جنت میں ہمیشہ رہیں گے ۔ (تیسیر) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ یہود کا یہ خیال تھا کہ دنیا کی کل عمر سات ہزار برس ہے ہر ہزار سال کے بدلے ایک دن ہم لوگ آگ میں رہیں گے اور سات دن کے بعد عذاب منقطع ہوجائیگا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ہم لوگوں نے چالیس دن بچھڑے کی پرستش کی ہے بس چالیس دن آگ میں رہیں گے پھر نکال لئے جائیں گے۔ ابوہریرہ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح خیبر کے روز یہود کو جمع کر کے دریافت کیا کہ دوزخی کون لوگ ہیں یہود نے جواب دیا کہ تھوڑے دن تو ہم لوگ رہیں گے اس کے بعد تم ہماری جگہ بھیج دیئے جائو گے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم جھوٹے ہو ہم تمہاری جگہ نہ جائیں گے بلکہ تم ہی اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہو گے۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ ایک دن یہود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں جمع تھے اور کچھ کہہ سن رہی تھی یہود نے کہا ہم لوگ تو جہنم میں صرف چند روز کے لئے جائیں گے پھر ہمارے جانشین اور لوگ ہوجائیں گے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف اشارہ کیا آپ ؐ نے فرمایا، خدا تمہارا منہ کالا کرے ۔ ہم انشاء اللہ تمہارے قائم مقام نہ ہوں گے بلکہ تم ہی اس میں سدا رہو گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ بعض اکابر فرماتے ہیں یہود چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان رکھے تھے اور حضرت عیسیٰ اور نبی آخر الزمان کی نبوت کے منکر تھے اور حضرت موسیٰ کی شریعت کو منسوخ نہ سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ اگر ہم اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں گئے بھی تو ایمان کی وجہ سے ہمیشہ تو اس میں رہیں گے نہیں تھوڑے دنوں میں نکل آئیں گے حالانکہ ان کے دعویٰ کی بنیاد ہی غلط ہے۔ حضرت مسیح اور نبی آخر الزماں ؐ کی نبوت کے انکار کی وجہ سے وہ کافر ہیں اور کافر کو ہمیشہ دوزخ میں رہنا ہے۔ بہرحال نزول کا واقعہ خواہ کچھ بھی ہو اور اسی طرح اس دعویٰ کے وجوہات خواہ کچھ بھی ہوں اللہ تعالیٰ نے جو جواب دیا وہ یہ ہے کہ کیا تم نے خدا سے کوئی عہد یا وعدہ لیا ہے کہ وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا پھر اگر وعدہ نہیں ہے تو اللہ پر بغیر کسی ایسی سند اور دلیل کے جس کا تم کو علم نہیں کیوں باتیں بناتے ہو۔ امام رازی نے یہاں عہد کے معنی وعدہ کئے ہیں اس جواب کے بعد ایک اصول اور ضابطہ فرمایا کہ تم ضرور ہمیشہ کے لئے آگ میں رہو گے کیونکہ ہمیشگی کا قاعدہ یہ ہے کہ کہ کافر کے لئے ہمیشہ آگ ہے اور وہ مومن جو عمل صالح کا پابند ہے اس کے لئے ہمیشہ جنت ہے چناچہ کافر کے لئے دو باتیں فرمائیں جس نے گناہ کمایا اور اس کے گناہ نے اس کو سب طرف سے گھیر لیا حتیٰ کہ کسی نیکی کا اثر ہی باقی نہ رہا اور یہ گھیرا ایسا پڑا کہ دل میں ایمان اور تصدیق بھی باقی نہ رہی تو ظاہر ہے کہ اس قسم کا احاطہ کفار ہی کے ساتھ مخصوص ہے لہٰذا اس آیت میں ان لوگوں کے لئے کوئی حجت نہیں ہے جو کبیرہ کے مرتکب پر بھی ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہنے کا حکم لگاتے ہیں کیونکہ آیت میں صرف گناہ کمانا نہیں ہے بلکہ گناہ کمانے کے ساتھ اس کے گناہ تمام اطراف و جوانب سے اس کا احاطہ بھی کرلیں اور احاطہ کی جو تقریر ہم نے کی ہے اس کے بعد صرف کافر ہی رہ جاتے ہیں جو ہمیشہ عذاب میں رہیں گے اور اگر سیئہ سے شرک یا کفر مراد لیا جائے جیسا کہ حضرت ابن عباس ، مجاہد ، قتادہ، عکرمہ اور حسن اور حضرت ابوہریرہ اور عطا وغیر ہم کا قول ہے تو پھر مطلب صاف ہے کہ جس شخ نے شرک کا یا کفر کا ارتکاب کیا اور شرک و کفر نے اس کو اور سا کے دل کو ہر طرف سے گھیر لیا تو بس ایسے لوگ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ وہ مومن جو گنہگار ہو اور بغیر توبہ کے مرجائے تو وہ اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر ایک نہ ایک دن جہنم سے نکل جائیگا لیکن کافر اور مشرک کو کبھی دوزخ سے نکلنا نصب نہ ہوگا ایک بات اور بھی ملحوظ خاطر رہے کہ اہل جہنم کے ذکر میں تو فاولئک فرمایا اور اہل جنت کے ذکر میں بغیر فا کے اولئک فرمایا تو اس فرق میں یہ اشارہ ہے کہ شرک و کفر تو خلد و نار کا سبب واقعی ہے۔ لیکن ایمان اور عمل صالح خلد و جنت کا سبب واقعی نہیں ہے۔ بلکہ خلد و جنت محض اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں۔ گھیر لیا گناہ نے یعنی گناہ کرتا ہے اور شرمندہ نہیں ہوتا۔ (موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب نے جو کچھ فرمایا ہے یہ وصف بھی کفر ہی کی علامت ہے۔ اگر یہ شبہ ہو کہ کافر بھی تو نیک کام کرتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حالت کفر میں کوئی نیکی قبول نہیں۔ نیز ان کو ان کے اچھے کاموں کا بدلہ دنیا ہی میں مل جاتا ہے۔ مان کان یریدالحیوۃ الدنیا و زینتھا الخ جس طرح دنیا میں کافر کو اس کے جرائم گھیر لیتے ہیں اسی طرح آخرت میں سب طرف سے اس کو جہنم گھیر لے گی۔ سورة عنکبوت میں ارشاد ہے۔ وان جھنم لمحیطہ بالکفرین عالم مثال میں کفر و شرک ہی کی شکل کا نام تو جہنم ہے اور جس کو یہاں گناہ کہا جاتا ہے اسی کا نام تو وہاں سانپ بچھو اور انگارے ہیں۔ (تسہیل)