Surat Tahaa

Surah: 20

Verse: 2

سورة طه

مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ لِتَشۡقٰۤی ۙ﴿۲﴾

We have not sent down to you the Qur'an that you be distressed

ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لئے نہیں اتارا کہ تو مشقت میں پڑ جائے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

We have not sent down the Qur'an unto you to cause you distress, Juwaybir reported that Ad-Dahhak said, "When Allah sent the Qur'an down to His Messenger, he and his Companions adhered to it. Thus, the idolators of the Quraysh said, `This Qur'an was only revealed to Muhammad to cause him distress.' Therefore, Allah revealed, طه مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْانَ لِتَشْقَى إِلاَّ تَذْكِرَةً لِّمَن يَخْشَى Ta Ha. We have not sent down the Qur'an unto you to cause you distress, but only as a Reminder to those who fear (Allah). The matter is not like the people of falsehood claim. Rather, whomever Allah gives knowledge to, it is because Allah wants him to have an abundance of good. This like what is confirmed in the Two Sahihs on the authority of Ibn Mas`ud, who said that the Messenger of Allah said, مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّين Whomever Allah wants good for, then He gives him the understanding of the religion. Mujahid commented on Allah's statement, مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْانَ لِتَشْقَى (We have not sent down the Qur'an unto you to cause you distress), "This is like His statement, مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ وَأَقِيمُواْ So recite as much of the Qur'an as may be easy (for you). (73:20) For, the people used to hang ropes at their chests (to hang on to when tired) in the prayer." Qatadah said, مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْانَ لِتَشْقَى (We have not sent down the Qur'an unto you to cause you distress), "No, by Allah, He did not make it a thing of distress. Rather, He made it a mercy, a light and a guide to Paradise." Allah said, إِلاَّ تَذْكِرَةً لِّمَن يَخْشَى

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

2۔ 1 اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے قرآن اس لئے نہیں اتارا کہ تو ان کے کفر پر کثرت افسوس اور ان کے عدم ایمان پر حسرت سے اپنے آپ کو مشقت میں ڈال لے اور غم میں پڑجائے جیسا کہ اس آیت میں اشارہ ہے۔ (فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا) 18 ۔ الکہف :6) پس اگر یہ لوگ اس بات پر ایمان نہ لائیں تو کیا ان کے پیچھے اسی رنج میں اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے بلکہ ہم نے تو قرآن کو نصیحت اور یاد دہانی کے لیے اتارا ہے تاکہ ہر انسان کے تحت الشعور میں ہماری توحید کا جو جذبہ چھپا ہوا ہے۔ واضح اور نمایاں ہوجائے گویا یہاں شقآء عنآء اور تعب کے معنی میں ہے یعنی تکلیف اور تھکاوٹ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢] قرآن اتنا ہی پڑھنا چاہئے جتنا کہ دل کی خوشی سے پڑھا جائے :۔ یعنی یہ قرآن اس لئے نہیں اتارا گیا کہ آپ لوگوں کے ہدایت کے سلسلہ میں سارے جہان کا درد سر مول لے لیں۔ آپ کا کام صرف یہ ہے کہ اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچا دیں۔ پھر جس کسی کے دل میں کچھ بھی اللہ تعالیٰ کا خوف ہوگا۔ وہ ضرور اس قرآن کی ہدایت کو قبول کرے گا اور اس کے لئے یاددہانی کا کام دے گا اور جو لوگ اللہ سے بےخوف ہوچکے ہیں وہ اگر اس کی ہدایت کو قبول نہیں کرتے تو آپ کو اس بارے میں پریشان نہ ہونا چاہئے اور نہ ان کے غم میں اپنے آپ کو ہلکان کردینا چاہئے۔ قرآن کے نزول کا مقصد آپ کو مشقت میں ڈالنا ہرگز نہیں۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ ان دنوں رسول اللہ اور صحابہ کرام (رض) رات کو کھڑے ہو کر بہت زیادہ قرآن پڑھا کرتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس محنت اور ریاضت کو دیکھ کر کافر کہتے تھے کہ قرآن کیا اترا ہے۔ بےچارے محمد مصیبت میں پڑگئے۔ اس وقت یہ آیت اتری۔ اور کافروں کی بات کا جواب بھی دیا گیا کہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے یہ مصیبت نہیں، بلکہ نصیحت اور یاددانی ہے۔ رحمت ہے نور ہے۔ اور جو شخص جس قدر قرآن شوق اور نشاط سے پڑھنا چاہے اتنا ہی پڑھ لے۔ اگر کوئی زیادہ پڑھتا ہے تو وہ اپنی رضا ورغبت سے پڑھتا ہے محنت اور مشقت سمجھ کر نہیں پڑھتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

مَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰٓی : ” شَقِيَ یَشْقٰی شَقَاوَۃً وَ شَقَاءً “ بروزن ” رَضِیَ یَرْضَی “ یہ سعادت کی ضد ہے۔ سعادت کی دو قسمیں ہیں، دنیوی اور اخروی۔ اسی طرح شقاوت کی بھی دو قسمیں ہیں، دنیوی اور اخروی۔ اخروی شقاوت بدبختی و بدنصیبی ہے، جیسا کہ کفار کہیں گے : ( رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا ) [ المؤمنون : ١٠٦ ] ” پروردگار ! ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی۔ “ دنیوی شقاوت ایسے کاموں میں پھنس جانا جو مشقت اور تھکاوٹ کا باعث ہوں، جیسے کہتے ہیں ” فُلاَنٌ أَشْقَی مِنْ رَاءِضِ مُھْرٍ “ ” فلاں گھوڑی کے بچھیرے کو سدھانے والے سے بھی زیادہ مشقت اور مصیبت میں پھنسا ہوا ہے۔ “ مفسرین نے اس آیت کے دو معنی بیان فرمائے ہیں اور دونوں درست ہیں۔ ایک یہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نزول وحی کے بعد ہر وقت اس فکر میں رہتے تھے کہ سب لوگ مسلمان ہوجائیں، اس کے لیے آپ دن رات دعوت و تبلیغ کے لیے اتنی مشقت اٹھاتے اور کفار کی بےرخی پر اس قدر غمزدہ ہوتے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ اتنی بھی مشقت اور فکر کیا کہ آپ مصیبت ہی میں پڑجائیں، ہم نے آپ پر یہ قرآن شقاوت کے لیے نہیں بلکہ آپ کی سعادت کے لیے اتارا ہے۔ آپ کے ذمے یہ نہیں کہ تمام لوگوں کو مسلمان کرکے چھوڑیں۔ آپ کا کام نصیحت ہے، پھر جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ قبول کرلے گا، دوسروں کے آپ ذمہ دار نہیں ہیں۔ لوگوں کے مسلمان نہ ہونے پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غم و افسوس کا اور آپ کو تسلی دینے کا ذکر بہت سی آیات میں ہے، مثلاً : (فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا ) [ الکہف : ٦ ] ” پس شاید تو اپنی جان ان کے پیچھے غم سے ہلاک کرلینے والا ہے، اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائے۔ “ اور فرمایا : (لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ ) [ الشعراء : ٣ ] ” شاید تو اپنے آپ کو ہلاک کرنے والا ہے، اس لیے کہ وہ مومن نہیں ہوتے۔ “ دوسرا معنی اس آیت کا یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عبادت خصوصاً قیام میں بہت محنت کرتے، تو اللہ تعالیٰ نے اس میں میانہ روی کا حکم دیا اور فرمایا : (فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ ) [ المزمل : ٢٠ ] یعنی اے نبی ! آپ جتنا قیام آسانی سے کرسکتے ہیں کریں۔ تفصیل کے لیے سورة مزمل کا آخری رکوع ملاحظہ فرمائیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْ‌آنَ لِتَشْقَىٰ (We did not reveal the Qur&an to you to [ make you ] face hardship - 20:2) The word لِتَشْقَىٰ is derived from شقاء which means pain and distress. In the early days of Islam when the Qur&an was first revealed, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and his Companions (رض) used to spend whole nights in prayers and in reciting the Qur&an, as a result of which his feet used to get swollen due to standing for long hours in the prayers. Whereas during day time he would worry himself on how to bring light to the infidels in order that they should accept the teachings of the Qur’ an. This verse seeks to lessen the burden of long hours of prayers by informing the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that the Qur’ an was not revealed to inflict toil and hardship on him and that it was not expected of him to stay awake the whole night reciting the Qur&an. Thereafter, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) adopted a routine by which he rested in the early hours of the night and would get up later to offer the salah of tahajjud. This verse also suggests that the duty of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is merely to convey the Message of Allah Ta` ala to the unbelievers, and thereafter he need not concern himself as to who accepted the Message and who did not.

مَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰٓي، لتشقیٰ ، شقاء سے مشتق ہے جس کے معنی تعب اور مشقت و تکلیف کے ہیں۔ نزول قرآن کی ابتداء میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام تمام رات عبادت کے لئے کھڑے رہتے اور نماز تہجد میں تلاوت قرآن میں مشغول رہتے تھے یہاں تک کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدمین مبارک پر ورم آ گیا اور دن بھر اس کی فکر میں رہتے تھے کہ کسی طرح کفار کو ہدایت ہو وہ قرآن کی دعوت کو قبول کرلیں۔ اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان دونوں قسم کی مشقت سے بچانے کے لئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے آپ پر قرآن اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت اور تکلیف میں پڑجائیں، تمام رات جاگنے اور تلاوت قرآن میں مشغول رہنے کی ضرورت نہیں۔ چناچہ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معمول یہ بن گیا کہ شروع رات میں آرام فرماتے تھے اور آخر شب میں بیدار ہو کر تہجد ادا فرماتے تھے۔ اسی طرح اس آیت میں اس کی طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ آپ کا فرض صرف تبلیغ و دعوت کا ہے جب آپ نے یہ کام کرلیا تو پھر اس کی فکر آپ کے ذمہ نہیں کہ کون ایمان لایا اور کس نے دعوت کو قبول نہیں کیا۔ (تلخیص از قرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

شان نزول : ( آیت ) ”۔ ماانزلنا علیک القران “۔ (الخ) ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جب پہلی بار اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی تو آپ کے نماز کیلیے جس وقت کھڑے ہوتے تو بہت ہی دیر تک کھڑے ہوتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی یعنی ہم نے قرآن آپ پر اس لیے نہیں اتارا کہ آپ تکلیف اٹھائیں۔ اور عبد بن حمید نے اپنی تفسیر میں ربیع بن انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے دونوں پیروں میں سے ہر ایک پیر باری باری اٹھاتے رہتے تھے تاکہ نماز میں ایک قدم مبارک پر دیر تک کھڑے رہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور نیز ابن مردویہ (رح) نے عوفی کے ذریعے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کفار نے کہا کہ اس شخص کو یعنی رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کے رب نے تکلیف میں ڈال دیا ہے اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢ (مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْآٰی ) ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذمہ داری صرف پیغام پہنچا دینے کی حد تک ہے۔ اب اگر یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پیچھے خود کو ہلکان نہ کریں۔ یہی مضمون اس سے پہلے سورة الکہف میں اس طرح آچکا ہے : (فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَآٰی اٰثَارِہِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِہٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا ) ” تو (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) آپ شاید اپنے آپ کو غم سے ہلاک کرلیں گے ان کے پیچھے ‘ اگر وہ ایمان نہ لائے اس بات (قرآن) پر “۔ سورة الشعراء میں بھی فرمایا گیا : (لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ) ” شاید کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہلاک کر ڈالیں اپنے آپ کو (اس وجہ سے) کہ وہ ایمان نہیں لا رہے “۔ بہر حال یہ تو اس آیت کا وہ ترجمہ اور مفہوم ہے جو عمومی طور پر اختیار کیا گیا ہے ‘ لیکن میرے نزدیک اس کا زیادہ بہتر مفہوم یہ ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم نے آپ پر یہ قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ناکام ہوں۔ اس لیے کہ شَقِیَ یَشْقٰی کے معنی ناکام و نامراد ہونے کے ہیں۔ عربی زبان کے بہت سے مادے ایسے ہیں جن کے حروف کی آپس میں مشابہت پائی جاتی ہے۔ مثلاً ” رب ب “ مادہ سے رَبَّ یَرُبُّ کا معنی ہے : مالک ہونا ‘ انتظام کرنا۔ اس سے لفظ ” رب “ بنا ہے۔ ” ر ب و “ سے رَبَا یَرْبُوْ رَبْوًاکا مفہوم ہے : (مال) زیادہ ہونا ‘ بڑھنا۔ اس سے ربا (سود) مستعمل ہے۔ جبکہ ” ر ب ی “ سے رَبّٰی یُرَبِّیْ تَرْبِیَۃً کا معنی و مراد ہے : پرورش کرنا ‘ نشوونما دینا۔ ان مادوں کے معنی اگرچہ الگ الگ ہیں مگر حروف کے اشتراک کی وجہ سے ان میں بہت مشابہت پائی جاتی ہے۔ اسی طرح ” ش ق ی “ اور ” ش ق ق “ بھی دو مختلف المعانی لیکن باہم مشابہ مادے ہیں۔ ایسے مشابہ مادوں سے مشتق اکثر اسماء و افعال بھی باہم مشابہ ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے بہت سے الفاظ ذو معنی بھی قرار پاتے ہیں۔ چناچہ تَشْقٰی کو اگر ” ش ق ق “ سے مشتق مانا جائے تو اس کے معنی مشقت اور محنت کے ہوں گے اور اگر اس کا تعلق ” ش ق ی “ سے تسلیم کیا جائے تو معنی ناکامی و نامرادی کے ہوں گے۔ یہاں اگر اس لفظ کا دوسرا ترجمہ مراد لیا جائے تو یہ آیت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے گویا ایک بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ قرآن قول فیصل بن کر نازل ہوا ہے ‘ لہٰذا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس مشن میں ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ عنقریب کامیابی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدم چومے گی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

2: اس تکلیف سے مراد وہ تکلیفیں بھی ہوسکتی ہیں جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفار کی طرف سے پہنچ رہی تھیں، اس صورت میں مطلب یہ ہے کہ یہ تکلیفیں ہمیشہ باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو دور فرما کر آپ کو فتح عطا فرمائے گا۔ اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شروع میں ساری ساری رات جاگ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت فرماتے تھے، یہاں تک کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے تھے۔ اس آیت نے ارشاد فرمایا کہ آپ کو اتنی تکلیف اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ چنانچہ اس آیت کے نزول کے بعد آپ نے رات کے شروع حصے میں سونا اور آخری حصے میں عبادت کرنا شروع کردیا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آسمان اور زمین پیدا کرنے والے کی طرف سے قرآن نازل ہوا ہے جو ڈرنے والوں کے لیے نصیحت ہے یہاں سے سورة طہٰ کی ابتدا ہو رہی ہے لفظ طہٰ ، الماوردیگر حروف مقطعات کی طرح متشابہات میں سے ہے اس کا معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ صاحب معالم التنزیل ج ٣ ص ٢١١ نے مفسر کلبی سے نقل کیا ہے کہ مکہ مکرمہ میں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل ہوئی تو آپ نے محنت اور مشقت کے ساتھ بہت زیادہ عبادت گزاری شروع فرمائی طویل قیام کی وجہ سے کبھی داہنے پاؤں پر اور کبھی بائیں پاؤں پر کھڑے ہوتے تھے اور ساری رات نماز پڑھتے تھے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ (ما انزلنا علیک القران لتشقی) نازل فرمائی اور ایک روایت میں یوں ہے کہ جب مشرکین نے دیکھا کہ آپ خوب زیادہ عبادت کرتے ہیں تو کہنے لگے کہ اے محمد ! یہ قرآن جو تم پر نازل ہوا ہے یہ تمہیں مشقت میں ڈالنے ہی کے لیے اترا ہے اس پر آیت کریمہ (ما انزلنا علیک القران لتشقی) نازل ہوئی یعنی ہم نے قرآن کو آپ پر اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ تکلیف اٹھائیں۔ آیت بالا کی تفسیر میں ایک دوسری وجہ بھی بعض مفسرین نے اختیار کی ہے ان حضرات کے نزدیک آیت کا مطلب یہ ہے کہ منکرین جو سرکشی کرتے ہیں اور تکذیب میں آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں آپ کو اس پر قلق اور رنج نہ ہونا چاہیے یہ قرآن آپ پر اس لیے نازل نہیں کیا گیا کہ آپ مصیبت میں پڑیں اور تکلیف اٹھائیں آپ کے ذمہ تبلیغ ہے جب آپ نے اس فریضہ کو انجام دے دیا اور برابر انجام دے رہے ہیں تو آپ کو اس فکر میں پڑنے اور رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے اس تفسیر کی بناء پر آیت شریفہ کا مضمون سورة کہف کی آیت کریمہ (فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَلآی اٰثَارِھِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِھٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا) کے موافق ہوجائے گا۔ (ذکرہ صاحب الروح ج ١٦ ص ١٤٩)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

3:۔ یہ پہلی آیت تشجیع ہے۔ یعنی ہم نے آپ پر قرآن مجید صرف اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑیں اور اس کی وجہ سے مصائب و مشکلات میں مبتلا ہوجائیں۔ اس لیے آپ لوگوں کے نہ ماننے سے غم نہ کریں اور تذکیر و تبلیغ کرتے رہیں۔ ” لِتَشْقٰی “ لتتعب لفرط تاسفک علیھم وعلی کفرھم وتحسرک علی ان لا یؤمنوا (مدارک ج 3 س 37) جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ” فَلَعَلَّکَ بَاخَعٌ نَّفْسَکَ عَلیٰ آٰثَارِھِم “ (کہف رکوع 1) ۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کثرت صلوۃ میں اس قدرتکلیف اٹھاتے کہ آپ کے پاؤں متورم ہوجاتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی یہ واقعہ اگرچہ اپنی جگہ درست ہے لیکن آیت کی تفسیر کے مناسب وہی بات ہے جو ہم پہلے بیان کی ہے۔ لیکن اس کی تبلیغ وا شاعت میں اگر کوئی مصیبت اور تکلیف آ بھی جائے۔ تو کوئی بات نہیں اسے مردانہ وار برداشت کریں۔ کیونکہ یہ حکم نامہ اس شہنشاہ کا ہے جو ساری کائنات کا خالق ومالک ہے اور ہر چیز کو جاننے والا ہے اگر اس کی راہ میں کوئی تکلیف آجائے تو کیا ہوا (شعر) ہر کہ عاشق شد اگرچہ نازنین عالم است ناز کی کے راست آید بار می باید نشید

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

2 حروف مقطعات کی ابتداء میں ہم بحث کرچکے ہیں کہ ان کے معنی اللہ تعالیٰ جانتا ہے ہم نے یہ قرآن کریم آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ محنت میں پڑجائیں اور تکلیف اٹھائیں۔