Commentary When Sayyidna Musa (علیہ السلام) received the high honour of conversing with Allah Ta` ala and was granted the mission of prophethood, then, instead of relying on his own self and on his own ability, he turned to Allah Ta` ala and sought His help in the discharge of his duties without which it would be impossible for him to endure and persevere in the face of the trials and tribulations inherent in the performance of his mission. He, therefore, prayed to Allah Ta` ala to grant him five favours. The first prayer was اشْرَحْ لِي صَدْرِي ! (Put my heart at peace for me - 20:25). Meaning to expand the ability of his heart to enable him to receive all the knowledge and wisdom of prophethood, and at the same time to bear with equanimity the slander of those people who will oppose him in his mission.
خلا صہ تفسیر (جب موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم ہوا کہ مجھ کو پیغمبر بنا کر فرعون کی فہمائش کے لئے بھیجا جا رہا ہے تو اس وقت اس منصب عظیم کے مشکلات کی آسانی کے لئے درخواست کی اور) عرض کیا کہ اے میرے رب میرا حوصلہ (اور زیادہ) فراخ کر دیجئے (کہ تبلیغ میں انقباض یا تکذیب و مخالفت میں ضیق نہ ہو) اور میرا (یہ) کام (تبلیغ کا) آسان فرما دیجئے (کہ اسباب تبلیغ کے مجتمع اور موانع تبلیغ کے مرتفع ہوجاویں) اور میری زبان پر سے بستگی (لکنت کی) ہٹا دیجئے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں، اور میرے واسطے میرے کنبے میں سے ایک معاون مقرر کر دیجئے یعنی ہارون کو جو میرئے بھائی ہیں ان کے ذریعہ سے میری قوت کو مستحکم کر دیجئے اور ان کو میرے (اس تبلیغ کے) کام میں شریک کر دیجئے (یعنی ان کو بھی نبی بنا کر مامور بالتبلیغ کیجئے کہ ہم دونوں تبلیغ کریں اور میرے قلب کو قوت پہنچے) تاکہ ہم دونوں (مل کر تبلیغ و دعوت کے وقت) آپ کی خوب کثرت سے پاکی (شرک و نقائص سے) بیان کریں اور آپ (کے اوصاف و کمال) کا خوب کثرت سے ذکر کریں (کیونکہ اگر دو شخص مبلغ ہوں گے تو ہر شخص کا بیان دوسرے کی تائید سے وافر اور متکاثر ہوگا) بیشک آپ ہم کو (اور ہمارے حال کو) خوب دیکھ رہے ہیں (اس حالت سے ہماری احتیاج اس امر کی کہ ایک دوسرے کے معاون ہوں آپ کو معلوم ہے) ارشاد ہوا کہ تمہاری (ہر) درخواست (جو کہ رب اشرح لی الخ میں مذکور ہے) منظور کی گئی اے موسیٰ ۔ معارف و مسائل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جب کلام الہٰی کا شرف حاصل ہوا اور منصب نبوت و رسالت عطا ہوا تو اپنی ذات اور اپنی طاقت پر بھروسہ چھوڑ کر خود حق تعالیٰ ہی کی طرف متوجہ ہوگئے کہ اس منصب عظیم کی ذمہ داریاں اسی کی مدد سے پوری ہوسکتی ہیں اور ان پر جو مصائب اور شدائد آنا لازمی ہیں ان کی برداشت کا حوصلہ بھی حق تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوسکتا ہے اس لئے اس وقت پانچ دعائیں مانگیں، پہلی اشْرَحْ لِيْ صَدْرِيْ ، یعنی میرا سینہ کھول دے اس میں ایسی وسعت عطا فرما دے جو علوم نبوت کا متحمل ہوسکے اور دعوت ایمان لوگوں تک پہنچانے میں جو ان کی طرف سے سخت سست سننا پڑتا ہے اس کو برداشت کرنا بھی اس میں شامل ہے۔