Surat Tahaa

Surah: 20

Verse: 36

سورة طه

قَالَ قَدۡ اُوۡتِیۡتَ سُؤۡلَکَ یٰمُوۡسٰی ﴿۳۶﴾

[ Allah ] said, "You have been granted your request, O Moses.

جناب باری تعالٰی نے فرمایا موسیٰ تیرے تمام سوالات پورے کر دیے گئے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Glad Tidings of the acceptance of Musa's Supplication and the Reminder of the Previous Blessings Allah tells, قَالَ قَدْ أُوتِيتَ سُوْلَكَ يَا مُوسَى وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَيْكَ مَرَّةً أُخْرَى

موسیٰ علیہ السلام کا بچپن ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تمام دعائیں قبول ہوئیں اور فرما دیا گیا کہ تمہاری درخواست منظور ہے ۔ اس احسان کے ساتھ ہی اور احسان کا بھی ذکر کر دیا گیا کہ ہم نے تجھ پر ایک مرتبہ اور بھی بڑا احسان کیا ہے ۔ پھر اس واقعہ کو مختصر طور پر یاد دلایا کہ ہم نے تیرے بچپن کے وقت تیری ماں کی طرف وحی بھیجی جس کا ذکر اب تم سے ہو رہا ہے ۔ تم اس وقت دودھ پیتے بچے تھے تمہاری والدہ کو فرعون اور فرعونیوں کا کھٹکا تھا کیونکہ اس سال وہ بنو اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کر رہا تھا ۔ اس خوف کے مارے وہ ہر وقت کانپتی رہتی تھیں تو ہم نے وحی کی کہ ایک صندوق بنا لو دودھ پلا کر بچے کو اس میں لٹا کر دریائے نیل میں اس صندوق کو چھوڑ دو چنانچہ وہ یہی کرتی رہیں ایک رسی اس میں باندھ رکھی تھی جس کا ایک سرا اپنے مکان سے باندھ لیتی تھیں ایک مرتبہ باندھ رہی تھیں جو رسی ہاتھ سے چھوٹ گئی اور صندوق کو پانی کی موجیں بہا لے چلیں اب تو کلیجہ تھام کر رہ گئیں اس قدر غمزدہ ہوئیں کہ صبر ناممکن تھا ، شاید راز فاش کر دیتیں لیکن ہم نے دل مضبوط کر دیا صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس سے گزرا آل فرعون نے اسے اٹھا لیا کہ جس غم سے وہ بچنا چاہتے تھے جس صدمے سے وہ محفوظ رہنا چاہتے تھے وہ ان کے سامنے آ جائے ۔ جسکی شمع حیات کو بجھانے کے لئے وہ بےگناہ معصوموں کا قتل عام کر رہے تھے وہ انہی کے تیل سے انہی کے ہاں روشن ہو اور اللہ کے ارادے بےروک پورے ہو جائیں ان کا دشمن انہی کے ہاتھوں پلے انہی کا کھائے ان کے ہاں تربیت پائے ۔ خود فرعون اور اس کی اہلیہ محترمہ نے جب بچے کو دیکھا رگ رگ میں محبت سما گئی لے کر پرورش کرنے لگے ۔ آنکھوں کا تارا سمجھنے لگے شاہزادوں کی طرح ناز و نعمت سے پلنے لگے شاہی دربار میں رہنے لگے ۔ اللہ نے اپنی محبت تجھ پر ڈال دی گو فرعون تیرا دشمن تھا لیکن رب کی بات کون بدلے؟ اللہ کے ارادے کو کون ٹالے فرعون پر ہی کیا منحصر ہے جو دیکھتا آپ کا والہ وشیدا بن جاتا یہ اس لئے تھا کہ تیری پرورش میری نگاہ کے سامنے ہو شاہی خوراکیں کھا عزت و وقعت کے ساتھ رہ ۔ فرعون والوں نے صندوقچہ اٹھا لیا کھولا بچے کو دیکھا پالنے کا ارادہ کیا لیکن آپ کسی دایہ کا دودھ دباتے ہی نہیں بلکہ منہ میں ہی نہیں لیتے ۔ بہن جو صندوق کو دیکھتی بھالتی کنارے کنارے آ رہی تھی وہ بھی موقعہ پر پہنچ گئیں کہنے لگیں کہ آپ اگر اسکی پرورش کی تمنا کرتے ہیں اور معقول اجرت بھی دیتے ہیں تو میں ایک گھرانہ بتاؤں جو اسے محبت سے پالے اور خیر خواہانہ برتاؤ کرے ۔ سب نے کہا ہم تیار ہیں آپ انہیں لئے ہوئے اپنی والدہ کے پاس پہنچیں جب بچہ ان کی گود میں ڈال دیا گیا ۔ آپ نے جھٹ سے منہ لگا دودھ پینا شروع کیا جس سے فرعون کے ہاں بڑی خوشیاں منائی گئیں اور بہت کچھ انعام و اکرام دیا گیا ۔ تنخواہ مقرر ہو گئی اپنے ہی بچے کو دودھ پلائیں اور تنخواہ اور انعام بھی اور عزت و اکرام بھی پائیں دنیا بھی ملے دین بھی بڑھے ۔ اسی لئے حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص اپنے کام کرے اور نیک نیتی سے کرے اس کی مثال ام موسیٰ کی مثال ہے کہ اپنے ہی بچے کو دودھ پلائے اور اجرت بھی لے ۔ پس یہ بھی ہماری کرم فرمائی ہے کہ ہم نے تجھے تیری ماں کی گود میں واپس کیا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور غم و رنج جاتا رہے ۔ پھر تمہارے ہاتھ سے ایک فرعونی قطبی مار ڈالا گیا تو بھی ہم نے تمہیں بچا لیا فرعونیوں نے تمہارے قتل کا ارادہ کر لیا تھا راز فاش ہو چکا تھا تمہیں یہاں سے نجات دی تم بھاگ کھڑے ہوئے مدین کے کنوئں پر جا کر تم نے دم لیا ۔ وہاں ہمارے ایک نیک بندے نے تمہیں بشارت سنائی کہ اب کوئی خوف نہیں ان ظالموں سے تم نے نجات پا لی ۔ تجھے ہم نے بطور آزمائش اور بھی بہت سے فتنوں میں ڈالا ۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس سے اس کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا اب تو دن ڈوبنے کو ہے واقعات زیادہ ہیں پھر سہی چنانچہ میں نے دوسری صبح پھر سوال کیا تو آپ نے فرمایا سنو! فرعون کے دربار میں ایک دن اس بات کا ذکر چھڑا کہ اللہ کا وعدہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام سے یہ تھا کہ ان کی اولاد میں انبیاء اور بادشاہ ہو گے چنانچہ بنو اسرائیل اس کے آج تک منتظر ہیں اور انہیں یقین ہے کہ مصر کی سلطنت پھر ان میں جائے گی ۔ پہلے تو ان کا خیال تھا کہ یہ وعدہ حضرت یوسف علیہ السلام کی بابت تھا لیکن ان کی وفات تک جب کہ یہ وعدہ پورا نہیں ہوا تو وہ اب عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ ان میں اپنے ایک پیغمبر کو بھیجے گا جن کے ہاتھوں انہیں سلطنت بھی ملے گی اور ان کی قومی و مذہبی ترقی ہو گی یہ باتیں کر کے انہوں نے مجلس مشاورت قائم کی کہ اب کیا کیا جائے جس سے آئندہ کے اس خطرے سے محفوظ رہ سکیں ۔ آخر اس جلسے میں قرار داد منظور ہوئی کہ پولیس کا ایک محکمہ قائم کیا جائے جو شہر کا گشت لگاتا رہے اور بنی اسرائیل میں جو نرینہ اولاد ہو اسے اسی وقت سرکار میں پیش کیا جائے اور ذبح کر دیا جائے ۔ لیکن جب ایک مدت گزر گئی تو انہیں خیال پیدا ہوا کہ اس طرح تو بنی اسرائیل بالکل فنا ہو جائیں گے اور جو ذلیل خدمتیں ان سے لی جاتی ہیں جو بیگاریں ان سے وصول ہو رہی ہیں سب موقوف ہو جائیں گی اس لئے اب تجویز ہوا کہ ایک سال ان کے بچوں کو چھوڑ دیا جائے اور ایک سال ان کے لڑکے قتل کر دیئے جائیں ۔ اس طرح موجودہ بنی اسرائیلیوں کی تعداد بھی نہ بڑھے گی اور نہ اتنی کم ہو جائے گی کہ ہمیں اپنی خدمت گزاری کے لئے بھی نہ مل سکیں جتنے بڈھے دو سال میں مریں گے اتنے بچے ایک سال میں پیدا ہو جائیں گے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

36۔ 1 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ، اللہ تعالیٰ نے زبان کی لکنت کو بھی دور فرما دیا ہوگا۔ اس لئے یہ کہنا صحیح نہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے چونکہ پوری لکنت دور کرنے کی دعا نہیں کی تھی، اس لئے کچھ باقی رہ گئی تھی۔ باقی رہا فرعون کا یہ کہنا (وَّلَایَکَادُ یُبِیْنُ ) ' یہ تو صاف بول بھی نہیں سکتا ' یہ ان کی تحقیق گزشتہ کیفیت کے اعتبار سے ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يٰمُوْسٰى ۔۔ : یعنی تم نے منہ مانگی مراد پالی اور ہم نے تمہاری ہر درخواست کو منظور فرما لیا۔ سینہ کھل گیا، کام آسان ہوگیا، زبان کی گرہ بھی مکمل یا بقدر ضرورت کھل گئی۔ چناچہ اس کے بعد ہر جگہ موسیٰ (علیہ السلام) نے خود ہی فرعون اور جادوگروں سے بحث کی ہے، کہیں ہارون (علیہ السلام) کا ذکر نہیں آیا اور ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبی بنا کر وزیر بنادیا گیا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Here Sayyidna Musa (علیہ السلام) ended his petition, and he was rewarded with the good news that Allah Ta` ala, the Almighty, had granted all his requests قَالَ قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يَا مُوسَىٰ (you have been granted your request 0 Musa - 20:36).

دعائیں یہاں ختم ہوگئیں آخر میں حق تعالیٰ کی طرف سے ان سب دعاؤں کے قبول ہوجانے کی بشارت دے دی گئی قَالَ قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤ ْلَكَ يٰمُوْسٰى، یعنی آپ کی مانگی ہوئی سب چیزیں آپ کو دے دی گئیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٦) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تمہاری منظور کی گئی یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کا حوصلہ بڑھا دیا اور ان کے کام کو آسان کردیا اور زبان کی لکنت دور کردی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو ان کا مددگار اور رسول بنا دیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٦ (قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَکَ یٰمُوْسٰی ) ” تمہاری درخواست ہم نے من و عن قبول کرلی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(20:36) اوتیت۔ ایتاء (باب افعال) سے ماضی مجہول واحد مذکر حاضر۔ تجھ کو دیا گیا تجھ کو عطا کیا گیا۔ اور جگہ ارشاد ہے ولم یؤت سعۃ من المال (2:247) اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی۔ قد اوتیت سؤلک۔ تمہاری درخواست منظور کی گئی۔ تمہارا سوال منظور کیا گیا یعنی جس کا تم نے سوال کیا تھا وہ تمہیں عطا کیا گیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 12 یعنی تم نے منہ مانگی مراد پا لی اور ہم نے تمہاری ہر درخواست کو منظور فرما لیا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ جو کہ رب اشرح الخ میں مذکور ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دونوں دعائیں قبول ہونے کا اعلان اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے دونوں مطالبے منظور کرلیے جس کے صلہ میں ان کی زبان کی گرہ کھل گئی اور وہ پیغمبرانہ شان کے ساتھ کلام اور خطاب کرنے لگے۔ اس کے ساتھ ان کے بھائی حضرت ہارون کو نبوت کے منصب سے سرفراز کیا گیا جو ہر کام میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی اور تائید کرتے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے دونوں سوال پورے کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ ہم نے یہ دوسری مرتبہ تجھ پر احسان فرمایا ہے پہلا احسان یہ تھا کہ جب تیری والدہ کو ہم نے الہام کیا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کی جان کا خطرہ محسوس ہو تو اسے صندوق میں ڈال کر دریا کے حوالے کر دے تاکہ اسے میرا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا دشمن پکڑ لے دشمن سے مراد فرعون ہے جو سرکشی اور بغاوت کی انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔ یہ پہلا شخص تھا جس نے اپنے آپ کو ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی “ سمجھا اور لوگوں سے کہلوایا اور اس نے محض نجومیوں کے کہنے پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وجہ سے بنی اسرائیل کے ہزاروں بچوں کو قتل کروا دیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ہاتھوں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش کروائی۔ موسیٰ (علیہ السلام) ناصرف فرعون کے گھر پر ورش پاتے ہیں بلکہ ان کی والدہ ہی ان کی داعیہ اور مربیہ ٹھہرتی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں صندوق دریا کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اے اُمِّ موسیٰ فکر نہ کرنا ہم اسے تیرے پاس لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم جان کر اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا کے حوالے کردیا۔ لیکن جب ماں کی مامتا تڑپ اٹھی تو ماں نے اپنی بیٹی یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کو بھیجا کہ بیٹی دریا کے کنارے کنارے جاؤ اور دیکھو تیرے بھائی کا صندوق کہاں پہنچتا ہے اور اسے کون پکڑتا ہے۔ دریا کی لہریں موسیٰ (علیہ السلام) کو لوریاں دیتے ہوئے فرعون کے محل تک پہنچا دیتی ہیں۔ دریا میں اٹکیلیاں کھاتا ہوا صندوق دیکھ کر فرعون کے خدام نے اسے پکڑلیا۔ جب صندوق کھولا تو اس میں موسیٰ (علیہ السلام) اپنے معصوم اور پر نور چہرے کے ساتھ مسکراتے ہوئے پائے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر اپنی رحمت کا پرتو اس طرح ڈال رکھا تھا کہ جو بھی انھیں دیکھتا فریفتہ ہوجاتا۔ یہی حالت فرعون اور اس کی بیوی آسیہ کی تھی۔ جو نہی فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے چہرے پر نظر ڈالی تو دل ہار بیٹھا۔ اسے یہ احساس اور خیال تک نہ رہا کہ اس طرح دریا میں تیرتا ہوا۔ جو بچہ میں نے پکڑا ہے ہوسکتا ہے کہ یہ وہی بچہ ہو جس کی وجہ سے میں نے ہزاروں بچوں کو قتل کیا ہے۔ وہ ایسا کیوں نہ سوچ سکا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے موسیٰ میں نے تجھ پر اپنی محبت ڈال دی تاکہ تو میری آنکھوں کے سامنے پرورش پائے۔ حضرت موسیٰ کی والدہ کے بارے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد : (عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَثَلُ الَّذِیْنِ یَغْزُوْنَ مَنْ اُمَّتِیْ وَیَأْخُذُوْنَ الْجُعْلَ یَتََقَوَّوْنَ عَلٰی عَدُوِّہِمْ مِثْلَ اُمِّ مُوْسٰی تُرْضِعُ وَلَدَہَا وَتَاأخُذُ اَجََرَہَا ) [ سنن الکبری للبیہقی ] ” حضرت عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری امت کے غازیوں کی مثال جو مال غنیمت لیتے ہیں اور اپنے دشمن پہ جھپٹتے ہیں موسیٰ کی ماں کی طرح ہے جس نے اپنے بچے کو دودھ پلایا اور اجرت حاصل کی۔ “ موسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کا دوسرا احسان عظیم : بیسویں پارہ میں ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جب بڑے ہوئے تو ایک دن دوپہر کے وقت انھوں نے دو آدمیوں کو باہم جھگڑتے ہوئے پایا جن میں ایک کا تعلق موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سے تھا اور دوسرا موسیٰ (علیہ السلام) کے دشمن فرعون کی قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی نے اپنے دشمن کے مقابلے میں ان سے مدد چاہی موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے دشمن کو پیچھے دھکیلنے کے لیے دھکا دیا تو اس کے ساتھ ہی اس کی جان نکل گئی۔ اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے انتہائی افسوس اور غم کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا یہ تو شیطان کی طرف سے ایسا ہوا ہے۔ بلاشبہ شیطان انسان کا کھلا دشمن اور گمراہ کرنے والا ہے۔ اس کے ساتھ ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے میرے رب میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے تو مجھے معاف کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو معاف کردیا کیونکہ وہ بخشنے اور رحم کرنے والا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عرض کی اے اللہ تو نے مجھ پر بہت کرم فرمایا ہے۔ آئندہ میں کسی مجرم کی مدد نہیں کروں گا۔ (القصص : ١٤ تا ١٧) اسی واقعہ کو یہاں مختصریوں بیان فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) تجھ پر اللہ تعالیٰ نے اس وقت بھی احسان فرمایا جب تو نے ایک شخص کو قتل کیا تھا ہم نے تجھے اس کے ساتھ اچھی طرح آزمایا اور نجات دی پھر تو کئی سال تک مدین میں ٹھہرا رہا پھر ہم اپنے فیصلہ کے مطابق تجھے بروقت مصرلے آئے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اپنی محبت ڈال دی۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی والدہ کے ہاں لوٹا دیا۔ ٣۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آٹھ سے دس سال تک مدین میں قیام پذیر رہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے لیے منتخب فرمالیا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قال قد اوتیت سولک یمٰوسیٰ (٦٣) ” فرمایا “ دیا گیا جو تو نے مانگا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! “۔ ایک ہی فقرہ میں تمام سوالات منظور ‘ ایک ہی اجمالی آرڈر کردیا گیا۔ تفصیلات دینے کی ضرورت ہی نہیں۔ وعدہ بھی نہیں بلکہ فائنل منظوری بلکہ دستی تعمیل۔ جو مانگا وہی دے دیا گیا۔ نہ دیر اور نہ بار بار کا مطالبہ۔ درخواست کی منظوری کے ساتھ ساتھ لطف و کرم کا اظہار بھی ہے ‘ تعظیم و تکریم بھی ہے ‘ پھر محبت کا اظہار یوں نام لے کر (اے موسیٰ ) اس سے بڑھ کر تکریم اور کیس ہو سکتی ہے۔ کہ پوری کائنات کی مجلس میں اللہ ایک بندے کا نام لے کر اس کے مطالبے منظور کرے۔ یہاں تک آپ نے دیکھا کہ اللہ کے فضل وکرم کی تکمیل کس قدر ہوچکی ہے ‘ محبت اور بےتکلفی کی باتیں ہو چکیں۔ طویل عر صے تک بھی قائم رہی ‘ مناجات ہوتی رہی ‘ تمام درخواستیں منظور اور فوراً تعمیل ہوگئی ‘ لیکن ان کے فضل پر کوئی داروغہ نہیں ہے۔ اور اللہ کی رحمتوں پر کوئی کنٹرول کرنے والا نہیں ہے۔ اللہ اس بندے پر مزید فضل کرنا چاہتے ہیں ‘ اپنی رضا مندی کا یہ فیض ان پر طویل تر کرتے جاتے ہیں۔ اس دربار میں ان کی حاضری کا وقت مزید بڑھا دیا جاتا ہے۔ اللہ اب موسیٰ (علیہ السلام) پر اپنی سابقہ مہربانیاں گنوا کر ان کے ساتھ مزید ہمکلام ہونا چاہتے ہیں کہ ان کو مزید اطمینان ہو ‘ وہ مزید بےتکلف ہوجائیں ‘ اللہ اپنی رحمتوں اور قدیم مہربانیوں کا ذکر شروع کردیتے ہیں۔ اس دربار علیہ میں ان کے لقاء کے وقت میں جس قدر اضافہ ہوتا ہے وہ ان کے لئے سرمایہ زندگی ہے اور باعث افتخار ہے۔ وہ ایک نہایت ہی روشن اور مقدس مقام پر کھڑے ہیں سنئے :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

20:۔ اس میں موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی دعا قبول ہونے کی خوشخبری سنائی اور ان کی پانچ درخواستوں کے جواب میں پانچ انعامات کا ذکر فرمایا جو ان پر اللہ تعالیٰ نے پہلے کیے تھے۔ ” اِذْ اَوْحَیْنَا الخ “ یہ پہلا انعام ہے۔ فرعون نے حکم دے رکھا تھا کہ اسرائیلیوں کے یہاں جو بھی لڑکا پیدا ہو اسے قتل کردیا جائے۔ اسی دوران میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی۔ آپ کی والدہ متفکر تھیں کہ اگر فرعون کے آدمیوں کو میرے بچے کا پتہ چل گیا تو اسے قتل کردیا جائے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں یہ تدبیر ڈال دی کہ وہ بچے کو صندوق میں بند کر کے دریا میں پھینک دے۔ ” اوحینا “ یعنی ہم نے اس کے دل میں یہ بات ڈال دی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے ایسا ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے محل کے قریب وہ صندوق کنارے لگا دیا۔ اور ملازموں نے صندوق پکڑ کر فرعون کے سامنے پیش کردیا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

36 اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اے موسیٰ ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہاری درخواستیں اور تمہاری سب مانگیں پوری کردی گئیں۔ یعنی تم نے جو کچھ مانگا وہ تم کو عطا کردیا گیا اور رب اشرح لی صدی سے لیکر حضرت ہارون (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی بنانے تک کی سب مانگیں تجھ کو دیدی گئیں اور ان درخواستوں کی قبولیت پر ہی کیا موقوف ہے ہم تو تم کو اپنے کر ہائے بےکراں سے نوازتے ہی رہے ہیں۔